Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 13 · Chapter 18

Book of Sales and Transactions

Hadith 6890–6894

5 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

6890

Majma al-Zawaid #6890

وَعَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: «مَنْ أَخَذَ شِبْرًا مِنَ الْأَرْضِ قُلِّدَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ عِمْرَانُ بْنُ أَبَانٍ الْوَاسِطِيُّ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Miswar ibn Makhramah (رضي الله عنه) said: I heard the Prophet ﷺ say, concerning taking land without right. > **"Whoever takes a span of land will be collared with it on the Day of Resurrection from seven earths."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جو شخص بالشت بھر زمین ( ناجائز طور پر ) لے گا ‘ اُسے قیامت کے دن سات زمینوں کا ( طوق ) پہنایا جائے گا “۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عمران بن ابان واسطی ہے ‘ جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا ہے ۔

6891

Majma al-Zawaid #6891

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ غَصَبَ رَجُلًا أَرْضًا ظُلْمًا لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ عَبْدُ الْحَمِيدِ الْحِمَّانِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَقَدْ وُثِّقَ، وَالْكَلَامُ فِيهِ كَثِيرٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah (رضي الله عنه) reported that the Messenger of Allah ﷺ said, concerning usurping another man's land wrongfully. > **"Whoever usurps a man's land wrongfully will meet Allah while He is angry with him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص ظلم کے طور پر کسی کی زمین غصب کر لے گا ‘ جب وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو گا ‘ تو اللہ تعالی اس پر غضب ناک ہو گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عبدالحمید حمانی ہے وہ ضعیف ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے اور اس کے بارے میں بہت زیادہ کلام کیا گیا ہے ۔

6892

Majma al-Zawaid #6892

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ ظَلَمَ شِبْرًا مِنَ الْأَرْضِ جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُطَوَّقًا مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ فِي عُنُقِهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ الْمَكِّيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Malik (رضي الله عنه) reported that the Messenger of Allah ﷺ said, concerning wrongfully taking land. > **"Whoever wrongs a span of land will come on the Day of Resurrection collared with it from seven earths upon his neck."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص بالشت بھر زمین ظلم کے طور پر لے گا ‘ جب وہ قیامت کے دن آئے گا ‘ تو سات زمینیں طوق کے طور پر اس کی گردن میں ڈالی گئی ہوں گی ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہیں اور اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن مسلم مکی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

6893

Majma al-Zawaid #6893

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَحِمَهُ اللَّهُ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «أَفَرَى الْفِرَى: مَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ، وَأَفْرَى الْفِرَى: مَنْ أَرَى عَيْنَيْهِ [فِي النَّوْمِ] مَا لَمْ تَرَ، وَمَنْ غَيَّرَ تُخُومَ الْأَرْضِ». قُلْتُ: فِي الصَّحِيحِ مِنْهُ: «مَنْ أَرَى عَيْنَيْهِ مَا لَمْ تَرَ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ أَبُو عُثْمَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Umar (رضي الله عنهما) reported that the Messenger of Allah ﷺ said, concerning the gravest lies and changing the boundaries of land, while part of it concerning the false dream is established in the Sahih. > **"The gravest of lies: one who claims himself for other than his father, and the gravest of lies: one who shows his two eyes in sleep what they did not see, and one who changes the landmarks of the earth."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ سب سے بڑا جھوٹ یہ ہے کہ کوئی شخص اپنے باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف خود کو منسوب کرے ‘ اور سب سے بڑا جھوٹ یہ ہے کہ کوئی شخص اپنی آنکھوں کو نیند میں وہ چیز دکھائے جو انہوں نے نہ دیکھی ہو ( یعنی جھوٹا خواب بیان کرے ) اور جو شخص زمین کے ( حد بندی کے ) نشانات تبدیل کر دے “۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :’’ صحیح ‘‘ میں اس کا یہ حصہ منقول ہے : ” جو شخص اپنی آنکھوں کو وہ چیز دکھائے ‘ جو انہوں نے نہ دیکھی ہو “۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں یہ بات مذکور ہے : ابوعثمان نے اسے عبداللہ بن دینار سے روایت کیا ہے ‘ میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

6894

Majma al-Zawaid #6894

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ غَيَّرَ تُخُومَ الْأَرْضِ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَغَضَبُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَا يَقْبَلُ اللَّهُ صَرْفًا، وَلَا عَدْلًا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا، وَقَدْ حَسَّنَ التِّرْمِذِيُّ حَدِيثَهُ.

EnglishUnverified translation

Amr ibn Awf (رضي الله عنه) reported that the Messenger of Allah ﷺ said, concerning changing the landmarks of the earth. > **"Whoever changes the landmarks of the earth, upon him is the curse of Allah and His anger on the Day of Resurrection; Allah will accept from him neither sarf nor 'adl."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمرو بن عوف رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ جو شخص زمین کے ( حد بندی کے ) نشان تبدیل کرتا ہے ‘ اس پر قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی لعنت اور اس کا غضب ہو گا ‘ اللہ تعالیٰ اس کی کوئی فرض یا نفل عبادت قبول نہیں کرے گا “۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی کثیر بن عبداللہ ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے امام ترمذی نے اس کی نقل کردہ حدیث کو حسن قرار دیا ہے ۔