Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 13 · Chapter 17

Book of Sales and Transactions

Hadith 6850–6889

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

6850

Majma al-Zawaid #6850

وَعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ: «خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَوَجَدَ تَمْرَتَيْنِ فَأَخَذَ تَمْرَةً وَأَعْطَانِي» الْأُخْرَى. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَأَبُو يَعْلَى وَلَفْظُهُ: «كُنْتُ أَمْشِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَوَجَدَ ثُفْرُوقَةً فِيهَا تَمْرَتَانِ فَأَخَذَ تَمْرَةً وَأَعْطَانِي تَمْرَةً». وَفِيهِ عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطَّرَائِفِيُّ، وَهُوَ ثِقَةٌ، وَفِيهِ ضَعْفٌ.

EnglishUnverified translation

Sad ibn Abi Waqqas (رضي الله عنه) said: We went out with the Messenger of Allah ﷺ and he found two dates; he took one date and gave me the other. And in the wording of Abu Yala: I was walking with the Messenger of Allah ﷺ and he found a cluster-stalk wherein were two dates; he took a date and gave me a date.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ نکلے نبی اکرم ﷺ نے دو کھجوریں پائیں آپ نے ایک کھجور لے لی اور دوسری مجھے دے دی ۔ یہ روایت امام بزار نے اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ان کی روایت کے یہ الفاظ ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ چلتا ہوا جا رہا تھا نبی اکرم ﷺ نے ایک ’’ ثقروفہ ‘‘ پایا ( ثقروفہ سے مراد کھجور کا ایسا گچھا ہے ‘ جس میں سے کھجوریں کھا لی گئی ہوں اور کچھ باقی رہ گئی ہوں ) جس میں دو کھجوریں تھیں ، تو ایک کھجور آپ نے لے لی اور ایک مجھے عطا کر دی ۔ اس کی سند میں ایک راوی عثمان بن عبدالرحمن طائفی ہے اور وہ ثقہ ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔

6851

Majma al-Zawaid #6851

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" إِنِّي لِأَجِدُ التَّمْرَةَ سَاقِطَةً فَآخُذُهَا فَآكُلُهَا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ وَقَالَ الطَّبَرَانِيُّ: تَفَرَّدَ بِهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ النَّبْقِيُّ عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُمَا.

EnglishUnverified translation

Abd al-Rahman ibn Awf (رضي الله عنه) reported that the Prophet ﷺ said: > **"Indeed I find a date fallen and take it and eat it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ بعض اوقات میں کوئی گری ہوئی کھجور پاتا ہوں تو اسے کھا لیتا ہوں ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے امام طبرانی فرماتے ہیں : محمد بن علاء نبقی ‘ ولید بن ابراہیم بن عبدالرحمن بن عوف کے حوالے سے اسے نقل کرنے میں منفرد ہیں میں نے کسی کو ان دونوں کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔

6852

Majma al-Zawaid #6852

عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَأَى رَجُلًا يَنْشُدُ ضَالَّةً فِي الْمَسْجِدِ، فَقَالَ: "" لَا وَجَدْتَ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ أَبُو سَعِيدٍ الْأَعْسَمُ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ. وَالْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ.

EnglishUnverified translation

Sad ibn Abi Waqqas (رضي الله عنه) reported that the Messenger of Allah ﷺ saw a man announcing a stray in the mosque and said: > **"May you not find."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ایک شخص کو مسجد میں گمشدہ چیز کا اعلان کرتے ہوئے ملاحظہ فرمایا تو ارشاد فرمایا : وہ تمہیں نہ ملے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابوسعید اعسم ہے ‘ میں اس سے واقف نہیں ہوں اور ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے اور وہ تدلیس کرنے والا ہے ۔

6853

Majma al-Zawaid #6853

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: «دَخَلَ رَجُلٌ يَنْشُدُ ضَالَّةً فِي الْمَسْجِدِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" لَا وَجَدْتَ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ الرَّبَذِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Malik (رضي الله عنه) said: A man entered announcing a stray in the mosque, so the Messenger of Allah ﷺ said: > **"May you not find."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص مسجد میں گمشدہ چیز کا اعلان کرنے کے لئے داخل ہوا تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم اس کو نہ پاؤ ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ربذی ہے اور وہ ضعیف ہے ‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

6854

Majma al-Zawaid #6854

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ: «أُمِرْنَا إِذَا رَأَيْنَا مَنْ يَنْشُدُ ضَالَّةً فِي الْمَسْجِدِ أَنْ نَقُولَ لَهُ: لَا وَجَدْتَ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيلَ بْنِ سَمُرَةَ، وَهُوَ ثِقَةٌ. وَقَدْ تَقَدَّمَتْ أَحَادِيثُ مِنْ هَذَا النَّحْوِ فِي الصَّلَاةِ.

EnglishUnverified translation

Abdullah, meaning Ibn Masud (رضي الله عنه), said: We were commanded, when we see one announcing a stray in the mosque, to say to him: May you not find.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہمیں یہ حکم دیا گیا تھا کہ جب ہم کسی شخص کو کسی گمشدہ چیز کا اعلان مسجد میں کرتے ہوئے سنیں ، تو ہم یہ کہیں : تم نہ پاؤ ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف محمد بن اسماعیل بن سمرہ کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔ اس سے پہلے اس نوعیت کی کچھ احادیث نماز سے متعلق باب میں گزر چکی ہیں ۔

6855

Majma al-Zawaid #6855

عَنْ أَبِي جَمِيلَةَ أَنَّهُ وَجَدَ مَنْبُوذًا عَلَى عَهْدِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَأَتَاهُ بِهِ، فَاتَّهَمَهُ، فَأُثْنِيَ عَلَيْهِ خَيْرًا فَقَالَ عُمَرُ: هُوَ حُرٌّ، وَوَلَاؤُهُ لَكَ، وَنَفَقَتُهُ عَلَيْنَا مِنْ بَيْتِ الْمَالِ ..

EnglishUnverified translation

Abu Jamilah (رحمه الله) reported that he found a foundling in the time of Umar ibn al-Khattab (رضي الله عنه) and brought him to him. He suspected him, then he was praised with good, so Umar said: He is free, his wala is yours, and his maintenance is upon us from the Bayt al-Mal.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوجمیلہ بیان کرتے ہیں : حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں انہیں ایک گمشدہ بچہ ملا ‘ وہ اسے لے کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان پر الزام عائد کیا جب ان کی تحقیق کی گئی ) تو ان کی تعریف بیان کی گئی ‘ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : یہ بچہ آزاد شمار ہو گا اس کی ولاء تمہیں ملے گی اور اس کے خرچ کی ادائیگی ہم پر ‘ بیت المال میں سے لازم ہو گی ۔

6856

Majma al-Zawaid #6856

وَفِي رِوَايَةٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ: أَنَّ رَجُلًا أَخْبَرَهُ أَنَّهُ الْتَقَطَ وَلَدَ زِنًا

EnglishUnverified translation

Al-Zuhri (رحمه الله) reported in a narration that a man informed him that he picked up a child of zina.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

زہری کے حوالے سے منقول ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ایک شخص نے انہیں بتایا کہ اس نے زنا کے نتیجے میں پیدا ہونے والا بچہ اٹھایا ہے ۔

6857

Majma al-Zawaid #6857

وَفِي رِوَايَةٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ: أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى أَهْلِهِ، وَقَدِ الْتَقَطَ مَنْبُوذًا فَذَهَبَ إِلَى عُمَرَ فَذَكَرَهُ لَهُ، فَقَالَ عُمَرُ: عَسَى الْغُوَيْرُ أَبْؤُسًا، فَقَالَ الرَّجُلُ: مَا الْتُقِطَ إِلَّا وَأَنَا غَائِبٌ. فَسَأَلَ عَنْهُ عُمَرُ فَأُثْنِيَ عَلَيْهِ. فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: فَوَلَاؤُهُ لَكَ، وَنَفَقَتُهُ عَلَيْنَا مِنْ بَيْتِ الْمَالِ. وَرِجَالُ هَذِهِ الطُّرُقِ كُلِّهَا رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا هَذِهِ الرَّاوِيَةَ الْأَخِيرَةَ، فَإِنَّهَا مُرْسَلَةٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Zuhri (رحمه الله) reported in a narration that a man came to his family having picked up a foundling, then went to Umar (رضي الله عنه) and mentioned it to him. So Umar said: Perhaps the little cave is a calamity. The man said: It was only picked up while I was absent. So Umar asked about him and he was praised. Umar said to him: His wala is yours, and his maintenance is upon us from the Bayt al-Mal.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں زہری کے حوالے سے یہ بات منقول ہے : ایک شخص اپنے گھر والوں کے پاس آیا اس نے ایک گمشدہ ملا ہوا بچہ اٹھایا تھا ‘ وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور ان کے سامنے یہ بات ذکر کی ‘ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : دال میں کچھ کالا لگتا ہے اس شخص نے کہا : جب اسے اٹھایا گیا تو اس وقت میں موجود نہیں تھا ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس شخص کے بارے میں تحقیق کی ‘ تو اس کی تعریف بیان کی گئی ‘ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس شخص سے فرمایا : اس کی ولاء تمہیں ملے گی اور اس کا خرچ بیت المال میں سے خرچ کرنا ‘ ہم پر لازم ہو گا ۔ اس روایت کے تمام طرق کے رجال صحیح کے رجال ہیں ‘ البتہ آخری روایت کا معاملہ مختلف ہے کیونکہ وہ روایت ’’ مرسل ‘‘ ہے ۔

6858

Majma al-Zawaid #6858

عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ قَالَ: أَتَيْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ بِأَبَاقٍ مِنْ عَبِيدِ الْيَمَنِ فَقَالَ: الْأَجْرُ وَالْغَنِيمَةُ. قَالَ: قُلْتُ: أَمَّا الْأَجْرُ، فَقَدْ عَرَفْنَاهُ فَمَا الْغَنِيمَةُ؟ قَالَ: أَرْبَعِينَ دِرْهَمًا عَنْ كُلِّ رَأْسٍ .. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ أَبُو رِيَاحٍ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abu Amr al-Shaybani (رحمه الله) said: I came to Ibn Masud (رضي الله عنه) with runaways from the slaves of Yemen, and he said: Reward and booty. I said: As for reward, we know it; what is booty? He said: Forty dirhams for every head.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوعمرو شیبانی بیان کرتے ہیں : میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس یمن سے مفرور غلام لے کے آیا ، تو انہوں نے فرمایا : اجر بھی ملے گا اور غنیمت بھی ملے گی ‘ راوی کہتے ہیں : میں نے کہا جہاں تک اجر کا معاملہ ہے ‘ تو اس کا تو ہمیں پتہ ہے ‘ غنیمت سے کیا مراد ہے ؟ انہوں نے فرمایا : ہر ایک غلام کی طرف سے چالیس درہم ( انعام ملے گا ) ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابوریاح ہے میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

6859

Majma al-Zawaid #6859

عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «لَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَأْخُذَ مَالَ أَخِيهِ بِغَيْرِ حَقٍّ، وَذَلِكَ لِمَا حَرَّمَ اللَّهُ مَالَ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ».

EnglishUnverified translation

Abu Humayd al-Saidi (رضي الله عنه) reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"It is not lawful for a Muslim to take the property of his brother without right, and that is because Allah has made the property of the Muslim forbidden to the Muslim."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ مسلمان کے لئے یہ بات جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے بھائی کا مال ناحق طور پر حاصل کرے اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالی نے مسلمان کے مال کو دوسرے مسلمان پر حرام قرار دیا ہے ‘‘۔

6860

Majma al-Zawaid #6860

وَفِي رِوَايَةٍ: «لَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَأْخُذَ عَصَا أَخِيهِ بِغَيْرِ طِيبِ نَفْسٍ»

EnglishUnverified translation

And in a narration: > **"It is not lawful for a Muslim to take the staff of his brother without goodwill."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ’’ مسلمان کے لئے یہ بات حلال نہیں ہے ‘ کہ وہ اپنے بھائی کا عصا اس کی مرضی کے بغیر حاصل کرے ‘‘۔

6861

Majma al-Zawaid #6861

وَفِي رِوَايَةٍ "" «لَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَأْخُذَ عَصَا». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالْبَزَّارُ، وَرِجَالُ الْجَمِيعِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

And in a narration: > **"It is not lawful for a Muslim to take the staff."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ’’ مسلمان کے لئے یہ حلال نہیں ہے کہ وہ عصا حاصل کرے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ان تمام روایات کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

6862

Majma al-Zawaid #6862

«وَعَنْ عَمْرِو بْنِ يَثْرِبِيٍّ قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" أَلَا، وَلَا يَحِلُّ لِامْرِئٍ مِنْ مَالِ أَخِيهِ شَيْءٌ إِلَّا بِطِيبِ نَفْسٍ مِنْهُ "". فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ إِنْ رَأَيْتُ غَنَمَ ابْنِ عَمِّي أَجْتَزِرُ مِنْهَا شَاةً؟ قَالَ: "" إِنْ لَقِيتَهَا نَعْجَةً تَحْمِلُ شَفْرَةً وَزِنَادًا بِخَبْتِ الْجَمِيشِ فَلَا تَهْجِهَا». قَالَ: - يَعْنِي: بِخَبْتِ الْجَمِيشِ: أَرْضًا بَيْنَ مَكَّةَ وَالْجَارِ لَيْسَ بِهَا أَنِيسٌ. كَذَا عِنْدَهُ بِجَنْبِ، وَلَمْ يَقُلْ بِخَبْتٍ.

EnglishUnverified translation

Amr ibn Yathribi (رضي الله عنه) said: The Messenger of Allah ﷺ addressed us and said: So I said: O Messenger of Allah, what if I see the sheep of my cousin, shall I take a sheep thereof? He said: > **"Lo, nothing of the property of one's brother is lawful except with goodwill from him."** > **"If you met it as a ewe carrying a knife and flint in the desolate land of al-Jamish — a land between Makkah and al-Jar wherein is no companion — then do not disturb it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمرو بن یثربی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا : ’’ خبردار ! کسی شخص کے لئے اس کے بھائی کے مال میں سے کوئی چیز حلال نہیں ہے ‘ البتہ جو اس کی رضامندی سے ہو ‘ اس کا حکم مختلف ہے ‘ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے کہ اگر میں اپنے چچازاد کی بکریاں دیکھتا ہوں ‘ تو کیا میں ان میں سے ایک بکری لے سکتا ہوں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اگر تم اسے ایسی حالت میں ملتے ہو کہ وہ بھیڑ ہو اور تم نے ’’ خبط الجمیش ‘‘ میں چھری اور لکڑی ( یا پتھر ) اٹھایا ہوا ہو ‘ تو پھر بھی تم اس کا قصد نہ کرو ! راوی کہتے ہیں : اس سے مراد ’’ خبط الجمیش ‘‘ ہے ‘ جو مکہ اور جار کے درمیان ایک جگہ ہے ‘ وہاں کوئی نہیں ہوتا ‘ اسی طرح اس کے پہلو میں بھی کوئی نہیں ہوتا ‘ انہوں نے لفظ ’’ حبت ‘‘ استعمال نہیں کیا ۔

6863

Majma al-Zawaid #6863

وَفِي رِوَايَةٍ: «عَنْ عَمْرِو بْنِ يَثْرِبِيٍّ قَالَ: سَمِعْتُ خُطْبَةَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِمِنًى فَكَانَ فِيمَا خَطَبَ بِهِ أَنْ قَالَ: "" لَا يَحِلُّ لِامْرِئٍ مِنْ مَالِ أَخِيهِ إِلَّا مَا طَابَتْ بِهِ نَفْسُهُ "". قَالَ: فَلَمَّا سَمِعْتُ ذَلِكَ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ إِنْ لَقِيتُ غَنَمَ ابْنَ عَمِّي -» فَذَكَرَ نَحْوَهُ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَابْنُهُ مِنْ زِيَادَاتِهِ أَيْضًا، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَالْأَوْسَطِ وَقَالَ: بِخَبْتٍ عَلَى الصَّوَابِ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Amr ibn Yathribi (رضي الله عنه) said in a narration: I heard the sermon of the Prophet ﷺ at Mina, and among what he addressed was that he said: When I heard that I said: O Messenger of Allah, what if I meet the sheep of my cousin — and he mentioned the like. > **"Nothing of the property of one's brother is lawful except what his soul is generous with."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں حضرت عمرو بن یثربی رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات منقول ہے : وہ بیان کرتے ہیں : میں نے منی میں نبی اکرم ﷺ کو خطبہ دیتے ہوئے سنا آپ نے خطبہ میں یہ بات ارشاد فرمائی : کسی مسلمان کے لئے اس کے بھائی کے مال میں سے کوئی چیز حلال نہیں ہے ‘ البتہ اس چیز کا معاملہ مختلف ہے ‘ جو وہ اپنی خوشی سے دے ‘ راوی کہتے ہیں : جب میں نے یہ بات سنی ‘ تو میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اگر میں اپنے چچازاد کی بکریوں سے ملتا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے اور ان کے صاحبزادے اپنی ’’ زیادات ‘‘ میں نقل کی ہے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ انہوں نے لفظ ’’ حبت ‘‘ نقل کیا ہے ‘ جو درست ہے ‘ امام احمد کے رجال ثقہ ہیں ۔

6864

Majma al-Zawaid #6864

وَعَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: «الْمُسْلِمُ عَلَى الْمُسْلِمِ حَرَامٌ دَمُهُ وَعِرْضُهُ وَمَالُهُ. الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ لَا يَظْلِمُهُ، وَلَا يَخْذُلُهُ. التَّقْوَى هَاهُنَا "" وَأَوْمَأَ بِيَدِهِ إِلَى الْقَلْبِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Wathilah ibn al-Asqa (رضي الله عنه) said: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: — and he gestured with his hand to the heart. > **"The Muslim is forbidden to the Muslim: his blood, his honour and his property. The Muslim is the brother of the Muslim; he does not wrong him nor forsake him. Taqwa is here"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ایک مسلمان کی جان عزت اور مال دوسرے مسلمان کے لئے قابل احترام ہیں ، مسلمان مسلمان کا بھائی ہوتا ہے وہ اس پر ظلم نہیں کرتا ‘ وہ اسے رسوا نہیں کرتا تقویٰ یہاں ہوتا ہے ‘‘ نبی اکرم ﷺ نے ہاتھ کے ذریعے دل کی طرف اشارہ کر کے یہ بات ارشاد فرمائی ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

6865

Majma al-Zawaid #6865

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «حُرْمَةُ مَالِ الْمُسْلِمِ كَحُرْمَةِ دَمِهِ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَأَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ دِينَارٍ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَجَمَاعَةٌ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَبِي يَعْلَى ثِقَاتٌ، وَلَكِنَّهُ رَوَاهُ فِي حَدِيثٍ: «سُبَابُ الْمُسْلِمِ فُسُوقٌ، وَقِتَالُهُ كُفْرٌ». وَرِجَالُ الْبَزَّارِ فِيهِمْ عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ الْكِلَابِيُّ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَقَالَ الْأَزْدِيُّ: مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah (رضي الله عنه) reported from the Prophet ﷺ who said: > **"The sanctity of the property of the Muslim is like the sanctity of his blood."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبدالله رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ مسلمان کے مال کی حرمت ‘ اس کی جان کی حرمت کی مانند ہے ‘‘۔ یہ روایت امام بزار اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن دینار ہے ‘ جسے ابن حبان اور ایک جماعت نے ثقہ قرار دیا ہے ‘ جبکہ ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا ہے امام ابویعلیٰ کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ، تاہم انہوں نے یہ ایک حدیث کے ضمن میں نقل کیا ہے :’’ مسلمان کو برا کہنا فسق ہے ‘ اور اس سے قتال کفر ہے “۔ امام بزار کے رجال میں عمرو بن عثمان کلابی ہے ‘ جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ‘ ازدی کہتے ہیں : یہ متروک ہے ۔

6866

Majma al-Zawaid #6866

وَعَنْ أَبِي حُرَّةَ الرَّقَاشِيِّ عَنْ عَمِّهِ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «لَا يَحِلُّ مَالُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ إِلَّا بِطِيبِ نَفْسٍ مِنْهُ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى. وَأَبُو حُرَّةَ وَثَّقَهُ أَبُو دَاوُدَ، وَضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurrah al-Raqashi, from his uncle (رضي الله عنه), reported that the Prophet ﷺ said: > **"The property of a Muslim man is not lawful except with goodwill from him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوحرہ رقاشی ‘ اپنے چچا کے حوالے سے نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں :’’ مسلمان شخص کا مال ‘ اس کی رضا مندی کے بغیر حلال نہیں ہے ‘‘۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ‘ ابوحرہ کو امام ابوداؤد نے ثقہ قرار دیا ہے اور یحیی بن معین نے انہیں ضعیف کہا ہے ۔

6867

Majma al-Zawaid #6867

وَعَنْ طَالِبِ بْنِ سُلْمَى بْنِ عَاصِمِ بْنِ الْحَكَمِ، قَالَ: حَدَّثَنِي بَعْضُ أَهْلِي أَنَّ جَدِّي حَدَّثَهُمْ أَنَّهُ شَهِدَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي خُطْبَةٍ، فَقَالَ: «أَلَا إِنَّ أَمْوَالَكُمْ وَدِمَاءَكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ كَحُرْمَةِ هَذَا الْبَلَدِ فِي هَذَا الْيَوْمِ. أَلَا فَلَا أَعْرِفَنَّكُمْ تَرْجِعُونَ بِعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ. أَلَا لِيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ مِنْكُمُ الْغَائِبَ، وَإِنِّي لَا أَدْرِي أَنْ أَلْقَاكُمْ أَبَدًا بَعْدَ الْيَوْمِ اللَّهُمَّ اشْهَدْ عَلَيْهِمْ، اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَطَالِبٌ وَشَيْخُهُ لَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُمْ. وَتَأْتِي أَحَادِيثُ مِنْ نَحْوِ هَذَا فِي الْفِتَنِ، وَغَيْرِهَا إِنْ شَاءَ اللَّهُ.

EnglishUnverified translation

Talib ibn Salma ibn Asim ibn al-Hakam (رحمه الله) said: One of my family related to me that my grandfather related to them that he witnessed the Messenger of Allah ﷺ in a sermon, saying: > **"Lo, your properties and your bloods are forbidden to you as the sanctity of this land on this day. Lo, let me not find you returning after me disbelievers striking the necks of one another. Lo, let the present of you convey to the absent. I do not know whether I shall ever meet you after this day. O Allah, bear witness over them. O Allah, have I conveyed."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

طالب بن سلمیٰ بن عاصم بن حکم بیان کرتے ہیں : میرے اہل خانہ میں سے کسی نے مجھے یہ بات بتائی کہ میرے دادا نے ان لوگوں کو یہ بات بتائی تھی کہ وہ نبی اکرم ﷺ کے خطبہ میں موجود تھے ‘ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ خبردار ! تمہارے اموال ‘ تمہاری جانیں ایک دوسرے کے لئے قابل احترام ہیں ، جس طرح اس دن میں ‘ یہ شہر قابل احترام ہے ‘ خبردار ! میں تم لوگوں کو ایسی حالت میں نہ پاؤں ‘ کہ تم میرے بعد دوبارہ کافر بن جاؤ اور ایک دوسرے کی گردنیں اڑانے لگو خبردار ! تم میں سے موجود شخص غیر موجود تک تبلیغ کر دے ، مجھے نہیں معلوم ہو سکتا ہے آج کے دن کے بعد میری تم سے ملاقات نہ ہو ‘ اے اللہ ! ان لوگوں پر گواہ ہو جا ‘ اے اللہ ! کیا میں نے تبلیغ کر دی ہے ‘‘۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ‘ طالب نامی راوی اور اس کے استاد کے حالات بیان کرتے ہوئے میں نے کسی کو نہیں پایا ہے ‘ اس نوعیت کی دیگر احادیث ‘ فتنوں سے متعلق باب میں اور دیگر ابواب میں آگے آئیں گی ‘ اگر اللہ نے چاہا ۔

6868

Majma al-Zawaid #6868

وَعَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: «لَا يَأْخُذْ أَحَدُكُمْ مَتَاعَ صَاحِبِهِ لَاعِبًا، وَلَا جَادًّا. وَإِذَا أَخَذَ أَحَدُكُمْ مَتَاعَ صَاحِبِهِ فَلْيَرُدَّهَا إِلَيْهِ». قُلْتُ: هُوَ فِي السُّنَنِ مِنْ رِوَايَةِ السَّائِبِ عَنْ أَبِيهِ. وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ مِنْ رِوَايَتِهِ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ السَّائِبِ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Al-Saib ibn Yazid (رضي الله عنه) reported that he heard the Prophet ﷺ say: > **"Let none of you take the belongings of his companion in play nor in earnest. When one of you has taken the belongings of his companion, let him return it to him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سائب بن یزید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا :’’ تم میں سے کوئی ایک اپنے ساتھی کا سامان مذاق یا سنجیدگی کے طور پر حاصل نہ کرے ‘ اور جب کسی نے اپنے ساتھی کی کوئی چیز لے لی ہو ‘ تو وہ اُسے واپس کر دے “۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ’’ سنن ‘‘ میں سائب کی اپنے والد کے حوالے سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی گئی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں ان کی نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے ‘ جو انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے ‘ اس روایت کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن یزید بن سائب ہے ‘ میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ‘ اس کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

6869

Majma al-Zawaid #6869

عَنْ جَابِرٍ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَرَّ وَأَصْحَابُهُ بِامْرَأَةٍ ذَبَحَتْ لَهُمْ شَاةً وَاتَّخَذَتْ لَهُمْ طَعَامًا فَلَمَّا رَجَعَ قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا ذَبَحْنَا لَكُمْ شَاةً، وَاتَّخَذْنَا لَكُمْ طَعَامًا، فَادْخُلُوا فَكُلُوا. فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَصْحَابُهُ، وَكَانُوا لَا يَبْدَءُونَ حَتَّى يَبْدَأَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخَذَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لُقْمَةً فَلَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يُسِيغَهَا، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" هَذِهِ الشَّاةُ ذُبِحَتْ بِغَيْرِ إِذْنِ أَهْلِهَا "". فَقَالَتِ الْمَرْأَةُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا لَا نَحْتَشِمُ مِنْ آلِ مُعَاذٍ نَأْخُذُ مِنْهُمْ وَيَأْخُذُونَ مِنَّا». قُلْتُ: رَوَى النَّسَائِيُّ بَعْضَهُ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Jabir (رضي الله عنه) reported that the Messenger of Allah ﷺ and his Companions passed by a woman who had slaughtered for them a sheep and prepared food for them. When he returned she said: O Messenger of Allah, we slaughtered for you a sheep and prepared food for you, so enter and eat. So the Messenger of Allah ﷺ and his Companions entered, and they would not begin until the Prophet ﷺ began. The Prophet ﷺ took a morsel but could not swallow it. So the Prophet ﷺ said: The woman said: O Messenger of Allah, we are not formal with the family of Muadh; we take from them and they take from us. > **"This sheep was slaughtered without permission of its owners."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ اور آپ کے اصحاب کا گزر ‘ ایک خاتون کے پاس سے ہوا ‘ جس نے ان لوگوں کے لئے بکری ذبح کی تھی اور ان کے لئے کھانا تیار کیا تھا ‘ جب نبی اکرم ﷺ واپس تشریف لائے تو اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم نے آپ کے لئے بکری ذبح کی ہے اور آپ کے لئے کھانا تیار کیا ہے ‘ آپ لوگ اندر آ جائیں اور کھانا کھا لیں ‘ نبی اکرم ﷺ اور اصحاب اندر آ گئے ‘ لوگ اس وقت تک کھانا شروع نہیں کرتے تھے ‘ جب تک نبی اکرم ﷺ شروع نہیں کرتے تھے ‘ نبی اکرم ﷺ نے ایک لقمہ لیا ، لیکن آپ اسے نگل نہیں سکے ‘ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : یہ بکری ‘ اس کے مالکان کی اجازت کے بغیر ذبح کی گئی ہے ‘ اس عورت نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہمارے اور آل معاذ کے درمیان کوئی تکلف نہیں ہے ‘ ہم ان سے چیز لے لیتے ہیں اور وہ ہم سے لے لیتے ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام نسائی نے اس روایت کا کچھ نقل کیا ہے ‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

6870

Majma al-Zawaid #6870

وَعَنْ أَبِي مُوسَى «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - زَارَ قَوْمًا مِنَ الْأَنْصَارِ فِي دَارِهِمْ فَذَبَحُوا لَهُ شَاةً فَصَنَعُوا لَهُ مِنْهَا طَعَامًا فَأَخَذَ مِنَ اللَّحْمِ شَيْئًا لِيَأْكُلَهُ فَمَضَغَهُ سَاعَةً لَا يُسِيغُهُ فَقَالَ: "" مَا شَأْنُ هَذَا اللَّحْمِ؟ "" فَقَالُوا: شَاةٌ لِفُلَانٍ ذَبَحْنَاهَا حَتَّى يَجِيءَ [صَاحِبُهَا] نُرْضِيهِ مِنْ ثَمَنِهَا. فَقَالَ: "" أَعْطُوهَا الْأَسَارَى». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ بِشْرٌ الْمَرِيسِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Musa (رضي الله عنه) reported that the Messenger of Allah ﷺ visited a people of the Ansar in their abode, and they slaughtered for him a sheep and made food for him from it. He took some meat to eat it and chewed it a while without swallowing. He said: They said: It is the sheep of so-and-so; we slaughtered it until its owner comes that we may please him with its price. He said: > **"What is the affair of this meat?"** > **"Give it to the captives."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ انصار سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگوں سے ملنے ان کے محلے تشریف لے گئے ‘ ان لوگوں نے آپ کے لئے بکری ذبح کی اور آپ کے لئے کھانا تیار کیا ‘ نبی اکرم ﷺ نے گوشت لیا تاکہ اسے کھائیں آپ نے تھوڑی دیر اسے چبایا لیکن آپ اسے نگل نہیں سکے ‘ آپ نے دریافت کیا : اس گوشت کا کیا معاملہ ہے ؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ فلاں کی بکری ہے ‘ جسے ہم نے ذبح کر دیا ہے ‘ جب اس کا مالک آئے گا تو ہم اس کی قیمت کے حوالے سے اُسے راضی کر دیں گے ‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : یہ گوشت قیدیوں کو دے دو ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی بشر مریسی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

6871

Majma al-Zawaid #6871

وَعَنْ رَافِعِ بْنِ خُدَيْجٍ قَالَ: «دَخَلْتُ يَوْمًا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، وَعِنْدَهُمْ قِدْرٌ تَفُورُ لَحْمًا فَأَعْجَبَتْنِي شَحْمَةٌ فَأَخَذْتُهَا فَازْدَرْتُهَا فَاشْتَكَيْتُ عَلَيْهَا سَنَةً، ثُمَّ إِنِّي ذَكَرْتُهُ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" إِنَّهُ كَانَ فِيهَا نَفَسُ سَبْعَةِ أَنَاسِيٍّ "" ثُمَّ مَسَحَ بَطْنِي فَأَلْقَيْتُهَا خَضْرَاءَ، فَوَالَّذِي بَعَثَهُ بِالْحَقِّ مَا اشْتَكَيْتُ بَطْنِي حَتَّى السَّاعَةَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ أَبُو أُمَيَّةَ الْأَنْصَارِيُّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا.

EnglishUnverified translation

Rafi ibn Khadij (رضي الله عنه) said: One day I entered upon the Messenger of Allah ﷺ, and with them was a pot boiling with meat. A piece of fat pleased me, so I took it and swallowed it lightly, and I complained thereof for a year. Then I mentioned it to the Messenger of Allah ﷺ, and he said: Then he wiped my belly and I cast it up green. By Him Who sent him with the truth, I have not complained of my belly until this hour. > **"Indeed therein was the breath of seven persons."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دن میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ‘ ان لوگوں کے پاس ایک ہنڈیا موجود تھی ، جس میں گوشت پک رہا تھا ‘ اس کی چربی مجھے اچھی لگی ‘ میں نے وہ لے لی ‘ اور اسے ہلکا گمان کیا ‘ مجھے اس سے ( بیماری کی ) شکایت لاحق ہو گئی ‘ میں نے اس بات کا ذکر نبی اکرم ﷺ سے کیا ، تو آپ نے ارشاد فرمایا : اس میں سات افراد کا حصہ تھا ، پھر نبی اکرم ﷺ نے میرے پیٹ پر ہاتھ پھیرا ‘ تو میں نے سبزے کی شکل میں اسے نکال دیا ‘ اس ذات کی قسم ! جس نے نبی اکرم ﷺ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے ‘ اس کے بعد آج تک میرے پیٹ میں کبھی تکلیف نہیں ہوئی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابوامیہ انصاری ہے میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

6872

Majma al-Zawaid #6872

عَنْ ذُؤَيْبٍ «أَنْ وَفْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَرُّوا بِأُمِّ زَبِيبٍ، فَأَخَذُوا زَرْبِيَّتَهَا، فَرَكِبَ زَبِيبٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَخَذَ الْوَفْدَ زَرْبِيَّةَ أُمِّي. فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" رُدُّوا عَلَيْهِ زَرْبِيَّةَ أُمِّهِ "" فَأَخَذَ مِنَ الَّذِي أَخَذَ زَرْبِيَّةَ أُمِّهِ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ وَسَيْفَهُ وَمِنْطَقَتَهُ. ثُمَّ رَفَعَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَدَهُ فَمَسَحَ بِهَا رَأْسَ زَبِيبٍ، ثُمَّ قَالَ: "" بَارَكَ اللَّهُ فِيكَ يَا غُلَامُ، وَبَارَكَ أُمَّكَ فِيكَ». قَالَ مُوسَى بْنُ هَارُونَ: الزَّرْبِيَّةُ: مِفْرَشٌ أَثْقَلُ مِنَ الرَّيْلُوكَةِ. قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: وَزَرَابِيُّ مَبْثُوثَةٌ يَعْنِي: مَبْسُوطَةً .. قُلْتُ: رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ مِنْ حَدِيثِ زَبِيبٍ نَفْسِهِ، وَهَذَا حَدِيثُ ذُؤَيْبٍ، وَقَدْ بَيَّنَهُ صَاحِبُ الْأَطْرَافِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Dhuayb (رضي الله عنه) reported that the delegation of the Messenger of Allah ﷺ passed by Umm Zubayb and took her carpet. So Zubayb rode to the Messenger of Allah ﷺ and said: O Messenger of Allah, the delegation took my mother's carpet. So the Prophet ﷺ said: Then he who took his mother's carpet took from him a sa of barley, his sword and his belt in exchange. Then the Prophet ﷺ raised his hand and wiped with it the head of Zubayb, then said: > **"Return to him his mother's carpet."** > **"May Allah bless you, O boy, and bless your mother through you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ذؤیب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کا وفد أم زبیب کے پاس سے گزرا ‘ ان لوگوں نے اس خاتون کا بچھونا لے لیا ‘ حضرت زبیب رضی اللہ عنہ سوار ہو کر نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں گئے اور عرض کی : یا رسول اللہ ! وفد نے میری والدہ کا بچھونا لے لیا ہے ‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اس کی ماں کا بچھونا اسے واپس کرو ‘ پھر اس شخص نے ‘ جس نے ان کی والدہ کا بچھونا لیا تھا ‘ اس نے وہ بچھونا کھجور کے ایک صاع اور اپنی تلوار اور پٹکے کے عوض میں خرید لیا ‘ پھر نبی اکرم ﷺ نے اپنا دست مبارک بلند کیا اور اسے حضرت زبیب رضی اللہ عنہ کے سر پر پھیرا اور فرمایا : اسے لڑکے ! اللہ تعالیٰ تمہارے اندر برکت رکھے اور تمہاری ماں کو تمہارے حوالے سے برکت نصیب کرے ‘‘۔ موسیٰ بن ہارون کہتے ہیں :’’ زربیہ ‘‘ بچھونے کو کہتے ہیں ‘ یہ ’’ ریلو کہ ‘‘ سے زیادہ وزنی ہوتا ہے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ پھیلے ہوئے بچھونے ہیں ‘‘۔ یعنی بچھے ہوئے ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابوداؤد نے حضرت زبیب رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نقل کی ہے اور یہ روایت ذؤیب کی نقل کردہ ہے ’’ اطراف ‘‘ کے مصنف نے یہ بات بیان کی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے ‘ جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

6873

Majma al-Zawaid #6873

عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: «أَصَابَ الْعَدُوُّ نَاقَةً لِرَجُلٍ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ، ثُمَّ اشْتَرَاهَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ فَعَرَفَهَا صَاحِبُهَا فَأَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يَأْخُذَهَا بِالثَّمَنِ الَّذِي اشْتَرَاهَا مِنَ الْعَدُوِّ وَإِلَّا خَلَّى بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Jabir ibn Samurah (رضي الله عنه) said: The enemy seized a she-camel of a man of Banu Sulaym, then a Muslim bought it from them. Its owner recognized it and came to the Prophet ﷺ, so the Prophet ﷺ commanded him to take it for the price for which he bought it from the enemy, otherwise leave it between him and it.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : دشمن نے بنوسلیم سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کی اونٹنی پکڑ لی ‘ پھر اس اونٹنی کو ایک مسلمان نے خرید لیا ‘ اس کے مالک نے اس اونٹنی کو پہچان لیا ‘ وہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے اس شخص کو یہ ہدایت کی وہ اس کی قیمت کے بدلے میں اسے حاصل کرے ‘ جس قیمت کے عوض میں ‘ دوسرے شخص نے دشمن سے خریدا تھا ‘ ورنہ وہ اونٹنی اس شخص کے پاس ہی رہنے دے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

6874

Majma al-Zawaid #6874

«وَعَنْ أَبِي لُبَابَةَ الْأَسْلَمِيِّ: أَنَّ نَاقَةً مِنْ تِلَادِهِ سُرِقَتْ، فَوَجَدْتُهَا عِنْدَ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ فَقُلْتُ لَهُ: نَاقَتِي، وَأَنَا أُقِيمُ عَلَيْهَا الْبَيِّنَةَ. فَأَقَمْتُ عَلَيْهَا الْبَيِّنَةَ عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَقَامَ الْأَنْصَارِيُّ أَنَّهُ اشْتَرَاهَا بِثَمَانِيَةَ عَشَرَ مِنْ مُشْرِكٍ مِنْ أَهْلِ الطَّائِفِ. فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، ثُمَّ قَالَ: "" مَا شِئْتَ يَا أَبَا لُبَابَةَ إِنْ شِئْتَ دَفَعْتَ إِلَيْهِ ثَمَانِيَةَ عَشَرَ وَأَخَذْتَ الرَّاحِلَةَ، وَإِنْ شِئْتَ خَلَّيْتَ عَنْهَا "". قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا عِنْدِي مَا أُعْطِيهِ الْيَوْمَ، وَلَكِنْ سَيَأْتِينِي تَمْرٌ إِلَى الصِّرَامِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" ذَاكَ إِلَيْهِ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ عَبْدُ الْغَفَّارِ بْنُ الْقَاسِمِ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ. وَيَأْتِي حَدِيثُ زَبِيبٍ فِي هَذَا فِي الْقَضَاءِ بِالشَّاهِدِ وَالْيَمِينِ.

EnglishUnverified translation

Abu Lubabah al-Aslami (رضي الله عنه) reported that a she-camel of his herd was stolen, and he found it with a man of the Ansar. He said to him: My she-camel, and I establish proof upon it. So he established proof upon it before the Prophet ﷺ, while the Ansari established that he bought it for eighteen from a polytheist of Taif. So the Messenger of Allah ﷺ smiled, then said: I said: O Messenger of Allah, I have not with me what to give him today, but dates will come to me at harvest. So the Messenger of Allah ﷺ said: > **"What you wish, O Abu Lubabah. If you wish, pay him eighteen and take the mount, and if you wish, leave it."** > **"That is to him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابولبابہ اسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ان کے جانوروں میں سے ایک اونٹنی چوری ہو گئی ، میں نے اسے انصار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کے پاس پایا ‘ میں نے اسے کہا : یہ میری اونٹنی ہے اور میں نے اس پر ثبوت بھی پیش کر دیا ‘ میں نے نبی اکرم ﷺ کی موجودگی میں اس اونٹنی پر ثبوت پیش کیا ، تو انصاری نے یہ ثبوت پیش کیا کہ اس نے طائف سے تعلق رکھنے والے ایک مشرک سے اس اونٹنی کو اٹھارہ ( درہم یا دینار ) کے عوض میں خریدا ہے ‘ تو نبی اکرم ﷺ مسکرا دیے ‘ پھر آپ نے ارشاد فرمایا : اے ابولبابہ ! تم کیا چاہتے ہو ؟ اگر تم چاہو ‘ تو اٹھارہ ( درہم یا دینار ) اسے دے دو اور اونٹنی لے لو ‘ اور اگر چاہو ‘ تو اونٹنی اس کے پاس رہنے دو ‘ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے پاس اتنی رقم نہیں ہے ‘ کہ میں اسے آج ادائیگی کروں ، البتہ جب کھجوریں اتارنے کا موسم آئے گا ‘ اس وقت میرے پاس کھجوریں آئیں گی ( تو میں اس وقت اسے ادائیگی کر دوں گا ) تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ایسے کر لو ! یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالغفار بن قاسم ہے اور وہ متروک ہے ۔ حضرت زبیب میں نور سے منقول حدیث جو اس بارے میں ہے وہ ایک گواہ اور قسم کی بنیاد پر فیصلہ دینے سے متعلق باب میں آگے آئے گی ۔

6875

Majma al-Zawaid #6875

وَعَنْ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «مَنْ أَدْرَكَ مَالَهُ مِنَ الْفَيْءِ قَبْلَ أَنْ يُقْسَمَ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ. وَمَنْ أَدْرَكَهُ بَعْدَ أَنْ يُقْسَمَ فَلَيْسَ لَهُ شَيْءٌ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ يَاسِينُ الزَّيَّاتُ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Umar (رضي الله عنه) reported from the Prophet ﷺ who said: > **"Whoever finds his property in the fay before it is divided is more entitled to it. Whoever finds it after it is divided has nothing."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمر رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جو شخص مال فئے ( یعنی غنیمت ) میں سے اپنے مال کو تقسیم سے پہلے پا لے ‘ تو وہ اس کا زیادہ حق دار ہو گا اور جو شخص تقسیم کے بعد اسے پائے گا ‘ تو اسے کچھ نہیں ملے گا ’’ ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی یسین زیات ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

6876

Majma al-Zawaid #6876

عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ أَنَّ أَبَا الدَّرْدَاءِ أَتَى رَجُلَيْنِ يَخْتَصِمَانِ بِمِصْرَ يَخْتَصِمَانِ فِي أَرْضٍ. فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: «إِذَا رَأَيْتَ الْأَخَوَيْنِ الْمُسْلِمَيْنِ يَخْتَصِمَانِ فِي شِبْرٍ مِنْ أَرْضٍ فَاخْرُجْ مِنْ تِلْكَ الْأَرْضِ». فَخَرَجَ أَبُو الدَّرْدَاءِ عِنْدَ ذَلِكَ إِلَى الشَّامِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّ يَزِيدَ بْنَ أَبِي حَبِيبٍ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ.

EnglishUnverified translation

Yazid ibn Abi Habib (رحمه الله) reported that Abu al-Darda (رضي الله عنه) came to two men disputing in Egypt concerning land. So Abu al-Darda said: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: So Abu al-Darda thereupon left for Sham. > **"When you see two Muslim brothers disputing over a handspan of land, then leave that land."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

یزید بن ابوحبیب بیان کرتے ہیں : حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ دو افراد کے پاس آئے ‘ جو مصر میں ایک زمین کے بارے میں جھگڑا کر رہے تھے ‘ حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جب تم دو مسلمان بھائیوں کو دیکھو ‘ کہ وہ زمین کے ایک بالشت کے بارے میں ایک دوسرے سے جھگڑا کر رہے ہیں ’ تو تم اس علاقے سے نکل جانا “۔ راوی بیان کرتے ہیں : تو اس موقع پر حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ وہاں سے نکل کر شام چلے گئے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ‘ البتہ یزید بن ابوحبیب نامی راوی نے حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔

6877

Majma al-Zawaid #6877

عَنْ عُبَادَةَ قَالَ «إِنَّ مِنْ قَضَاءِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" أَنَّهُ لَيْسَ لِعِرْقٍ ظَالِمٍ حَقٌّ». رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ. وَإِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى لَمْ يُدْرِكْ عُبَادَةَ.

EnglishUnverified translation

Ubadah (رضي الله عنه) said: Indeed among the decree of the Messenger of Allah ﷺ is: > **"There is no right for an unjust vein."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے فیصلے میں یہ بات بھی شامل ہے : کسی ظالم کو ( زمین غصب کر کے ) پودا لگانے کا حق نہیں ہے ۔ یہ روایت عبداللہ بن احمد نے ایک طویل حدیث میں نقل کی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اسحاق بن یحیی نامی راوی نے حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔

6878

Majma al-Zawaid #6878

«عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ الظُّلْمِ أَظْلَمُ؟ فَقَالَ: "" ذِرَاعٌ مِنَ الْأَرْضِ يَنْتَقِصُهَا الْمَرْءُ الْمُسْلِمُ مِنْ حَقِّ أَخِيهِ إِلَّا طُوِّقَهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَى قَعْرِ الْأَرْضِ، وَلَا يَعْلَمُ قَعْرَهَا إِلَّا اللَّهُ تَعَالَى الَّذِي خَلَقَهَا». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَإِسْنَادُ أَحْمَدَ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Masud (رضي الله عنه) said: I said: O Messenger of Allah, which wrong is most wrongful? He said: > **"A cubit of land which a Muslim man diminishes from the right of his brother, except he will be collared with it on the Day of Resurrection to the bottom of the earth, whose bottom none knows but Allah Exalted Who created it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کون سا ظلم زیادہ بڑا ظلم ہے ؟ آپ نے فرمایا : زمین کا ایک ذراع ‘ جسے کوئی مسلمان شخص اپنے بھائی کے حق میں سے ہتھیا لیتا ہے ‘ تو قیامت کے دن زمین کی گہرائی تک ( وزنی ) طوق اس کے گلے میں ڈال دیا جائے گا اور اس کی گہرائی کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے ‘ جس نے اُسے پیدا کیا ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ امام احمد کی سند حسن ہے ۔

6879

Majma al-Zawaid #6879

وَعَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «أَعْظَمُ الْغُلُولِ عِنْدَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ذِرَاعٌ مِنَ الْأَرْضِ تَجِدُونَ الرَّجُلَيْنِ جَارَيْنِ فِي الْأَرْضِ أَوْ فِي الدَّارِ فَيَقْتَطِعُ أَحَدُهُمَا مِنْ حَظِّ صَاحِبِهِ ذِرَاعًا. إِذَا اقْتَطَعَهُ طُوِّقَهُ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Malik al-Ashari (رضي الله عنه) reported from the Prophet ﷺ who said: > **"The greatest misappropriation with Allah, Mighty and Majestic, is a cubit of land. You find two men neighbours in land or in a house, and one of them cuts off a cubit from the share of his companion. When he cuts it off, he will be collared with it from seven earths until the Day of Resurrection."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابومالک اشعری رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے بڑی خیانت ‘ زمین کا ایک ذراع ہے ‘ تم دو آدمیوں کو پاؤ گے ‘ جو کسی زمین یا گھر میں ایک دوسرے کے پڑوسی ہوں گے ‘ اور ان دو میں سے ایک اپنے ساتھی کے حصے میں سے ایک ذراع ہتھیا لے گا ‘ جب وہ اسے ہتھیا لے گا ‘ تو قیامت کے دن تک کے لئے تو اُسے سات زمینوں کا طوق پہنا دیا جائے گا “۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

6880

Majma al-Zawaid #6880

وَعَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. قُلْتُ: فَذَكَرَ أَحْمَدُ الْحَدِيثَ بِإِسْنَادِهِ وَالْمَتْنَ بِنَحْوِهِ.

EnglishUnverified translation

Abu Malik al-Ashjai (رضي الله عنه) reported from the Prophet ﷺ the like of it.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابومالک اشجعی رضی اللہ عنہ نے ‘ نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام احمد نے یہ حدیث اسی سند اور اسی متن کے ساتھ اس کی مانند نقل کی ہے ۔

6881

Majma al-Zawaid #6881

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «مَنْ أَخَذَ شِبْرًا مِنَ الْأَرْضِ بِغَيْرِ حَقِّهِ طُوِّقَهُ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ». رَوَاهُ أَحْمَدُ بِإِسْنَادَيْنِ، وَرِجَالُ أَحَدِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ، وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah (رضي الله عنه) reported from the Prophet ﷺ who said: > **"Whoever takes a handspan of land without his right will be collared with it from seven earths."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جو شخص ایک بالشت زمین ناحق طور پر حاصل کرے گا ‘ اُسے سات زمینوں کا طوق پہنایا جائے گا ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، جن دو میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔

6882

Majma al-Zawaid #6882

وَعَنْ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: «أَيَّمَا رَجُلٍ ظَلَمَ شِبْرًا مِنَ الْأَرْضِ كَلَّفَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يَحْفِرَهُ حَتَّى يَبْلُغَ آخِرَ سَبْعِ أَرَضِينَ، ثُمَّ يُطَوَّقُهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ حَتَّى يُقْضَى بَيْنَ النَّاسِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالصَّغِيرِ بِنَحْوِهِ بِأَسَانِيدَ، وَرِجَالُ بَعْضِهَا رِجَالُ الصَّحِيحِ وَقَالَ: «ثُمَّ يُطَوَّقُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ».

EnglishUnverified translation

Yala ibn Murrah (رضي الله عنه) said: I heard the Prophet ﷺ say: > **"Whatever man wrongs a handspan of land, Allah, Mighty and Majestic, charges him to dig it until he reaches the last of seven earths, then He collars him with it until the Day of Resurrection, until judgment is passed among people."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت یعلی بن مرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جو شخص ظلم کے طور پر ‘ ایک بالشت زمین ہتھیا لے گا ‘ اللہ تعالیٰ اسے اس بات کا پابند کرے گا کہ وہ زمین کو کھودے ‘ یہاں تک کہ ساتویں زمین کی آخری حد تک پہنچ جائے ‘ اور پھر اس زمین کا طوق قیامت کے دن تک کے لئے اس کے گلے میں ڈال دیا جائے گا جب تک لوگوں کے درمیان فیصلہ نہیں ہو جاتا ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم صغیر میں اس کی مانند نقل کی ہے ‘ جو مختلف اسانید کے ساتھ منقول ہے اس میں سے بعض کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔ انہوں نے یہ بات بیان کی ہے : ’’ پھر قیامت کے دن اسے طوق پہنا دیا جائے گا ‘‘۔

6883

Majma al-Zawaid #6883

وَعَنْ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ الثَّقَفِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: «مَنْ أَخَذَ أَرْضًا بِغَيْرِ حَقِّهَا كُلِّفَ أَنْ يَحْمِلَ تُرَابَهَا إِلَى الْمَحْشَرِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ.

EnglishUnverified translation

Yala ibn Murrah al-Thaqafi (رضي الله عنه) said: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: > **"Whoever takes land without its right will be charged to carry its dust to the Gathering."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت یعلی بن مرہ ثقفی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جو شخص نا حق طور پر زمین لے گا ‘ اُسے اس بات کا پابند کیا جائے گا کہ وہ ( میدان ) محشر تک اس کی مٹی لاد کر لے جائے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔

6884

Majma al-Zawaid #6884

وَلِيَعْلَى عِنْدَ الطَّبَرَانِيِّ قَالَ أَيْضًا: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: «مَنْ ظَلَمَ مِنَ الْأَرْضِ شِبْرًا [فَمَا فَوْقَهُ] كُلِّفَ أَنْ يَحْفِرَهُ حَتَّى يَبْلُغَ الْمَاءَ، ثُمَّ يَحْمِلُهُ إِلَى الْمَحْشَرِ». وَفِيهِ جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَقَدْ وُثِّقَ.

EnglishUnverified translation

Yala (رضي الله عنه) reported with al-Tabarani also: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: > **"Whoever wrongs a handspan of land or more will be charged to dig it until he reaches water, then carry it to the Gathering."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت یعلی رضی اللہ عنہ کے حوالے سے امام طبرانی نے ایک روایت یہ نقل کی ہے ‘ وہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جو شخص ایک بالشت ‘ یا اس سے زیادہ زمین ظلم کے طور پر لے گا ‘ اُسے اس بات پر پابند کیا جائے گا کہ وہ اسے کھودے ‘ یہاں تک کہ پانی تک پہنچ جائے اور پھر وہ اس مٹی کو لاد کر میدان محشر تک لے کے جائے ‘‘۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے اور وہ ضعیف ہے ‘ ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔

6885

Majma al-Zawaid #6885

وَعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَخَذَ شَيْئًا مِنَ الْأَرْضِ بِغَيْرِ حِلِّهِ طُوِّقَهُ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ لَا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ، وَلَا عَدْلٌ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَالْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ حَمْزَةُ بْنُ أَبِي مُحَمَّدٍ ضَعَّفَهُ أَبُو حَاتِمٍ وَأَبُو زُرْعَةَ، وَحَسَّنَ التِّرْمِذِيُّ حَدِيثَهُ.

EnglishUnverified translation

Sa'd ibn Abi Waqqas (رضي الله عنه) reported that the Messenger of Allah ﷺ said, warning against taking anything from the earth without lawful right. > **"Whoever takes anything from the earth without its lawful due will be collared with it from seven earths; neither sarf nor 'adl will be accepted from him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ جو شخص زمین میں سے ناجائز طور پر کچھ بھی حاصل کرے گا ‘ تو اسے سات زمینوں کا طوق پہنایا جائے گا ‘ اس کی کوئی فرض یا نفل عبادت قبول نہیں ہو گی ‘‘۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ ‘ امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی حمزہ بن ابومحمد ہے ‘ جسے ابوحاتم اور ابوزرعہ نے ضعیف قرار دیا ہے ‘ امام ترمذی نے اس کی نقل کردہ حدیث کو حسن کہا ہے ۔

6886

Majma al-Zawaid #6886

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَخَذَ شِبْرًا مِنْ مَكَّةَ فَكَأَنَّمَا أَخَذَهُ مِنْ تَحْتِ قَدَمِ الرَّحْمَنِ وَمَنْ أَخَذَ مِنْ سَائِرِ الْأَرْضِ شَيْئًا بِغَيْرِ حَقِّهِ جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُطَوَّقًا عُنُقُهُ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ عَطِيَّةَ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ كَذَّابٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Abbas (رضي الله عنهما) reported that the Messenger of Allah ﷺ said, concerning taking land in Makkah and elsewhere without right. > **"Whoever takes a span from Makkah, it is as if he took it from beneath the Foot of the Most Merciful; and whoever takes anything from the rest of the earth without its right will come on the Day of Resurrection with his neck collared from seven earths."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص مکہ میں سے ‘ بالشت بھر ( زمین ناحق طور پر ) لے گا ‘ تو گویا اس نے رحمان کے پاؤں کے نیچے سے اُسے لیا اور جو شخص باقی ساری زمین میں سے کچھ بھی ناحق طور پر لے گا ‘ جب وہ قیامت کے دن آئے گا ‘ تو سات زمینوں کا طوق اس کی گردن میں ڈالا گیا ہو گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن فضل بن عطیہ ہے اور وہ متروک ہے اور کذاب ہے ۔

6887

Majma al-Zawaid #6887

وَعَنِ الْحَكَمِ بْنِ الْحَارِثِ السُّلَمِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَخَذَ مِنْ طَرِيقِ الْمُسْلِمِينَ شِبْرًا جَاءَ بِهِ يَحْمِلُهُ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالصَّغِيرِ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عُقْبَةَ السَّدُوسِيُّ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ، وَضَعَّفَهُ أَبُو حَاتِمٍ، وَتَرَكَهُ أَبُو زُرْعَةَ.

EnglishUnverified translation

Al-Hakam ibn al-Harith al-Sulami (رضي الله عنه) reported that the Messenger of Allah ﷺ said, concerning taking from the road of the Muslims. > **"Whoever takes a span from the road of the Muslims will come carrying it from seven earths."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت حکم بن حارث سلمی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ جو شخص مسلمانوں کے راستے میں سے ایک بالشت جگہ لے گا ‘ جب وہ ( قیامت کے دن ) آئے گا ‘ تو اس نے سات زمینیں اٹھائی ہوئی ہوں گی ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم صغیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عقبہ سدوسی ہے ‘ جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے اور ابوحاتم نے اسے ضعیف کہا ہے ‘ جبکہ ابوزرعہ نے اسے متروک کہا ہے ۔

6888

Majma al-Zawaid #6888

وَعَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَخَذَ شِبْرًا مِنَ الْأَرْضِ طُوِّقَهُ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ. وَمَنْ قُتِلَ دُونَ مَالِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ قَزَعَةُ بْنُ سُوَيْدٍ وَثَّقَهُ ابْنُ عَدِيٍّ وَغَيْرُهُ، وَضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَجَمَاعَةٌ.

EnglishUnverified translation

Shaddad ibn Aws (رضي الله عنه) reported that the Messenger of Allah ﷺ said, concerning usurping land and being killed defending one's wealth. > **"Whoever takes a span of land will be collared with it from seven earths. And whoever is killed defending his wealth is a martyr."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت شداد بن اوس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص ایک بالشت زمین ( ناجائز ) طور پر لے گا ‘ اُسے سات زمینوں کا طوق پہنایا جائے گا اور جو شخص اپنے مال کی حفاظت کرتے ہوئے مارا جائے ‘ وہ شہید شمار ہو گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی قزعہ بن سوید ہے ‘ جسے ابن عدی اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ‘ جبکہ امام احمد اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا ہے ۔

6889

Majma al-Zawaid #6889

وَعَنِ أَبِي شُرَيْحٍ الْخُزَاعِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَخَذَ شِبْرًا مِنَ الْأَرْضِ ظُلْمًا طُوِّقَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَبِيبٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا.

EnglishUnverified translation

Abu Shurayh al-Khuza'i (رضي الله عنه) reported that the Messenger of Allah ﷺ said, concerning wrongfully taking land. > **"Whoever takes a span of land wrongfully will be collared with it on the Day of Resurrection from seven earths."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوشریح خزاعی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص زمین میں سے ایک بالشت ظلم کے طور پر لے گا ‘ قیامت کے دن اُسے سات زمینوں کا طوق پہنایا جائے گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن شبیب ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔