Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 13 · Chapter 16

Book of Sales and Transactions

Hadith 6810–6849

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

6810

Majma al-Zawaid #6810

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: أَهْلُ أَسْفَلِ الشُّرْبِ أُمَرَاءُ عَلَى أَهْلِ أَعْلَاهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَإِسْنَادُهُ مُنْقَطِعٌ. قُلْتُ: وَيَأْتِي حَدِيثُ عُبَادَةَ رَوَاهُ أَحْمَدُ فِي الْأَحْكَامِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى.

EnglishUnverified translation

Ibn Masud (رضي الله عنه) said concerning water that passes by gardens: the people below the stream are in authority over the people above it.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : پانی میں نیچے والے لوگ ‘ اوپر والوں پر امیر ہوں گے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند منقطع ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث احکام سے متعلق باب میں آئے گی ‘ جسے امام احمد نے روایت کیا ہے ‘ اگر اللہ نے چاہا ۔

6811

Majma al-Zawaid #6811

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «كَانَ الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدُ الْمُطَّلِبِ إِذَا دَفَعَ مَالًا مُضَارَبَةً اشْتَرَطَ عَلَى صَاحِبِهِ أَنْ لَا يَسْلُكَ بِهِ بَحْرًا، وَلَا يَنْزِلَ بِهِ وَادِيًا، وَلَا يَشْتَرِيَ بِهِ ذَاتَ كَبِدٍ رَطْبَةٍ، فَإِنْ فَعَلَ فَهُوَ ضَامِنٌ، فَرُفِعَ شَرْطُهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَجَازَهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ أَبُو الْجَارُودِ الْأَعْمَى، وَهُوَ مَتْرُوكٌ كَذَّابٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas (رضي الله عنهما) reported that Abbas ibn Abd al-Muttalib (رضي الله عنه), when he handed over property as mudarabah, stipulated upon his partner that he would not travel with it by sea, nor encamp with it in a valley, nor purchase with it a living creature with a moist liver, and if he did so he would be liable. His stipulation was raised to the Messenger of Allah ﷺ and he permitted it.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ اپنا مال مضاربت کے طور پر دیتے تھے تو دوسرے فریق پر یہ شرط عائد کرتے تھے کہ وہ اسے لے کر سمندری سفر پر نہیں جائے گا ‘ اسے لے کر کسی وادی پر پڑاؤ نہیں کرے گا ‘ اس کے ذریعے کسی جاندار چیز کو نہیں خریدے گا ‘ اگر وہ ایسا کرے گا ‘ تو پھر وہ ( نقصان کی صورت میں ) ضامن ہو گا ‘ یہ شرط نبی اکرم ﷺ کے سامنے پیش کی گئی ‘ تو آپ نے اسے درست قرار دیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابوجارود نابینا ہے اور متروک اور کذاب ہے ۔

6812

Majma al-Zawaid #6812

عَنْ عَمْرِو بْنِ وَاثِلَةَ أَوْ عَامِرِ بْنِ وَاثِلَةَ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَعْطَى حَكِيمَ بْنَ حِزَامٍ دِينَارًا وَأَمَرَهُ أَنْ يَشْتَرِيَ بِهِ أُضْحِيَةً، فَاشْتَرَى فَجَاءَهُ مَنْ أَرْبَحَهُ فَبَاعَ، ثُمَّ اشْتَرَى، ثُمَّ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِدِينَارٍ وَشَاةٍ، فَقَالَ: "" مَا هَذَا؟ "" فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ اشْتَرَيْتُ وَبِعْتُ وَرَبِحْتُ. فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" بَارَكَ اللَّهُ لَكَ فِي تِجَارَتِكَ "". وَأَخَذَ الدِّينَارَ فَتَصَدَّقَ بِهِ، وَأَخَذَ الشَّاةَ فَضَحَّى بِهَا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عُمَيْرُ بْنُ عِمْرَانَ قَالَ ابْنُ عَدِيٍّ: حَدَّثَ بِالْبَوَاطِيلِ.

EnglishUnverified translation

Amr ibn Wathilah or Amir ibn Wathilah (رضي الله عنه) reported that the Messenger of Allah ﷺ gave Hakim ibn Hizam (رضي الله عنه) a dinar and commanded him to buy with it a sacrificial animal. He bought, then one came who offered him profit, so he sold, then he bought again, then he came to the Prophet ﷺ with a dinar and a sheep. He said: He said: O Messenger of Allah, I bought and sold and profited. So the Prophet ﷺ said to him: And he took the dinar and gave it in charity, and took the sheep and sacrificed it. > **"What is this?"** > **"May Allah bless for you in your trade."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمرو بن واثلہ ‘ یا حضرت عامر بن واثلہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کو ایک دینار دیا اور انہیں یہ ہدایت کی کہ وہ اس کے ذریعے قربانی کا جانور خرید لیں ‘ انہوں نے وہ جانور خرید لیا ‘ پھر ان کے پاس ایک شخص آیا ‘ جو انہیں اس جانور پر منافع دے رہا تھا ، تھوڑی دیر بعد وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک دینار اور ایک بکری لے کے آ گئے ‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : یہ کیا معاملہ ہے ؟ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! پہلے میں نے جانور خریدا ‘ پھر اسے میں نے فروخت کیا اور مجھے منافع ہو گیا ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالی تمہاری تجارت میں ، تمہارے لئے برکت رکھے ‘ پھر نبی اکرم ﷺ نے وہ دینار لے کر اسے صدقہ کر دیا اور بکری لے کر اس کی قربانی کر لی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عمیر بن عمران ہے ابن عدی کہتے ہیں : یہ باطل روایات نقل کرتا ہے ۔

6813

Majma al-Zawaid #6813

«عَنْ سَلْمَانَ قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِطَعَامٍ، وَأَنَا مَمْلُوكٌ فَقُلْتُ: هَذِهِ صَدَقَةٌ. فَأَمَرَ أَصْحَابَهُ فَأَكَلُوا، وَلَمْ يَأْكُلْ. ثُمَّ أَتَيْتُهُ بِطَعَامٍ فَقُلْتُ: هَذِهِ هَدِيَّةٌ أَهْدَيْتُهَا لَكَ أُكْرِمُكَ بِهَا، فَإِنِّي رَأَيْتُكَ لَا تَأْكُلُ الصَّدَقَةَ. فَأَمَرَ أَصْحَابَهُ فَأَكَلُوا وَأَكَلَ مَعَهُمْ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ ابْنُ إِسْحَاقَ، وَهُوَ ثِقَةٌ، وَلَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Salman (رضي الله عنه) said: I came to the Prophet ﷺ with food while I was a slave, and I said: This is charity. So he commanded his Companions and they ate, and he did not eat. Then I came to him with food and said: This is a gift I present to you honouring you, for I have seen that you do not eat charity. So he commanded his Companions and they ate, and he ate with them.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں کھانا لے کر حاضر ہوا ‘ میں اس وقت کسی کا غلام تھا ‘ میں نے عرض کی : یہ صدقہ ہے ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے اپنے اصحاب کو حکم دیا ‘ انہوں نے اسے کھا لیا ‘ نبی اکرم ﷺ نے خود اسے نہیں کھایا ‘ پھر میں کھانا لے کر نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ‘ میں نے عرض کی : یہ تحفہ ہے ‘ جو میں نے آپ کو پیش کیا ہے ‘ تاکہ اس طرح میں آپ کی عزت کا اعتراف کروں ‘ کیونکہ میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ صدقہ نہیں کھاتے ہیں ، تو نبی اکرم ﷺ نے اپنے اصحاب کو حکم دیا ‘ تو انہوں نے اسے کھایا اور ان کے ساتھ نبی اکرم ﷺ نے بھی اسے کھا لیا ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ابن اسحاق ہے اور وہ ثقہ ہے اور وہ تدلیس کرنے والا ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

6814

Majma al-Zawaid #6814

وَعَنْ سَلْمَانَ قَالَ: كُنْتُ اسْتَأْذَنْتُ مَوْلَاتِي فِي ذَلِكَ فَطَيَّبَتْ لِي فَاحْتَطَبْتُ حَطَبًا فَبِعْتُهُ وَاشْتَرَيْتُ ذَلِكَ الطَّعَامَ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ أَبُو قُرَّةَ سَلَمَةُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ.

EnglishUnverified translation

Salman (رضي الله عنه) said: I had sought permission of my mistress concerning that, and she made it lawful for me. So I gathered firewood and sold it, and I bought that food with it.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے اپنی مالکن سے اس بارے میں اجازت مانگی ‘ تو اس نے مجھے اجازت دے دی میں نے لکڑیاں اکھٹی کیں ‘ پھر میں نے اس کے ذریعے وہ کھانا خریدا ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابوقرہ سلمہ بن معاویہ ہے ‘ میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔

6815

Majma al-Zawaid #6815

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ «أَنَّ عَبْدًا أَسْوَدَ أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَمُرُّ بِي ابْنُ السَّبِيلِ، وَأَنَا فِي مَاشِيَةٍ لِسَيِّدِي أَفَأَسْقِي مِنْ أَلْبَانِهَا بِغَيْرِ إِذْنِهِ؟ قَالَ: "" لَا "" قَالَ: فَإِنِّي أَرْمِي فَأُصْمِي، وَأُنْمِي. قَالَ: "" كُلْ مَا أَصْمَيْتَ، وَدَعْ مَا أَنْمَيْتَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبَّادُ بْنُ زِيَادٍ - بِفَتْحِ الْعَيْنِ - وَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ وَغَيْرُهُ، وَضَعَّفَهُ مُوسَى بْنُ هَارُونَ وَغَيْرُهُ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas (رضي الله عنهما) reported that a black slave came to the Prophet ﷺ and said: A wayfarer passes by me while I am among the livestock of my master; shall I give him to drink from its milk without his permission? He said: He said: I shoot and the game disappears from sight or does not disappear. He said: > **"No."** > **"Eat what does not disappear from you, and leave what disappears."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک سیاہ فام غلام نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا اور بولا : ایک مسافر میرے پاس سے گزرا ‘ اس وقت میں اپنے آقا کے جانوروں کے درمیان موجود تھا ‘ کیا میں اسے آقا کی اجازت کے بغیر ان جانوروں کا دودھ پینے کے لئے دے سکتا ہوں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جی نہیں ! اس نے عرض کی : اگر میں تیر مارتا ہوں تو شکار میری نگاہ سے اوجھل ہو جاتا ہے ‘ یا اوجھل نہیں ہوتا ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جو اوجھل نہیں ہوتا اسے تم کھا لو اور جو اوجھل ہو جاتا ہے ‘ اسے چھوڑ دو ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عباد ہے ، جس میں ’ ع ‘ پر زبر ہے ‘ ابوحاتم اور دیگر حضرات نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ‘ جبکہ موسیٰ بن ہارون اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا ہے ۔

6816

Majma al-Zawaid #6816

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَحِلُّ لِأَحَدٍ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ يَحُلَّ صِرَارَ نَاقَةٍ بِغَيْرِ إِذْنِ أَهْلِهَا، فَإِنَّهُ خَاتَمُهُمْ عَلَيْهَا، فَإِذَا كُنْتُمْ بِقَفْرٍ فَرَأَيْتُمُ الْوَطْبَ أَوِ الرَّاوِيَةَ أَوِ السِّقَاءَ مِنَ اللَّبَنِ، فَنَادُوا أَصْحَابَ الْإِبِلِ ثَلَاثًا، فَإِنْ سَقَوْكُمْ فَاشْرَبُوا وَإِلَّا فَلَا، فَإِنْ كُنْتُمْ مُرْمِلِينَ - قَالَ أَبُو النَّضْرِ: وَلَمْ يَكُنْ مَعَكُمْ طَعَامٌ - فَلْيُمْسِكْهُ رَجُلَانِ مِنْكُمْ، ثُمَّ اشْرَبُوا». قُلْتُ: رَوَى ابْنُ مَاجَهْ بَعْضَهُ بِغَيْرِ سِيَاقِهِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Said al-Khudri (رضي الله عنه) said: The Messenger of Allah ﷺ said: > **"It is not lawful for one who believes in Allah and the Last Day to untie the bound udder of a she-camel without permission of its owners, for it is their seal upon it. When you are in a barren land and you see the milk-skin or waterskin or vessel of milk, then call the owners of the camels three times; if they give you to drink, then drink, and if not, then do not. If you are destitute and have no food with you, then let two men of you hold it, then drink."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھنے والے کسی بھی شخص کے لئے یہ بات جائز نہیں ہے کہ وہ کسی اونٹنی کے مالک کی اجازت کے بغیر اس کے تھن کو کھولے ‘ کیونکہ اس پر ان لوگوں کی مہر لگی ہوئی ہے ‘ اور جب تم کسی ویرانے میں ہو اور پھر تم دودھ کا کوئی مشکیزہ دیکھو ( یہاں لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ‘ لیکن مفہوم یہی ہے ) تو اونٹوں والے افراد کو تین مرتبہ پکارو ‘ اگر وہ تمہیں پلا دیتے ہیں ، تو تم پی لو ! ورنہ نہیں ‘ اور اگر تم مرمل ہو ۔ ابونضر کہتے ہیں : یعنی تمہارے پاس کھانا نہ ہو ۔ تو تم میں سے دو آدمی اسے پکڑ لیں اور پھر تم پی لو ‘‘۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابن ماجہ نے اس روایت کا کچھ حصہ اس سیاق کے بغیر نقل کیا ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

6817

Majma al-Zawaid #6817

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: «كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي سَفَرٍ فَأَرْمَلْنَا، وَأَنْفَضْنَا فَأَتَيْنَا عَلَى إِبِلٍ مَصْرُورَةٍ بِلِحَاءِ الشَّجَرِ فَابْتَدَرَهَا الْقَوْمُ لِيَحْلِبُوهَا، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" إِنَّ هَذِهِ عَسَى أَنْ يَكُونَ فِيهَا قُوتٌ لِأَهْلِ بَيْتٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ أَتُحِبُّونَ لَوْ أَنَّهُمْ أَتَوْا عَلَى مَا فِي أَزْوَادِكُمْ فَأَخَذُوهُ "" ثُمَّ قَالَ: "" إِنْ كُنْتُمْ لَا بُدَّ فَاعِلِينَ فَاشْرَبُوا، وَلَا تَحْمِلُوا». قُلْتُ: رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ بِاخْتِصَارٍ. رَوَاهُ أَحْمَدُ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah (رضي الله عنه) said: We were with the Messenger of Allah ﷺ on a journey and our provisions ran out. We came upon camels whose udders were tied with bark of trees, and the people hastened to milk them. So the Messenger of Allah ﷺ said to them: Then he said: > **"Perhaps there is in this the provision of a Muslim household. Would you like it if they came upon what is in your provision bags and took it?"** > **"If you must do so, then drink, but do not carry away."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ سفر کر رہے تھے ‘ ہمارے پاس کھانے کے لئے کچھ نہیں تھا ‘ ہم ایک اونٹ کے پاس آئے ‘ جسے درخت کی چھال کے ذریعے مصرور کیا گیا ‘ لوگ اس کی طرف لپکے تاکہ اس کا دودھ نکالیں ، تو نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا : ہو سکتا ہے اس جانور میں مسلمانوں کے کسی گھرانے کی خوراک ہو ‘ کیا تم اس بات کو پسند کرتے ہو کہ یہ لوگ اس جگہ کے پاس آئیں ، جہاں تمہارا کھانا پینا رکھا ہوا ہو اور اسے حاصل کر لیں ؟ پھر آپ نے ارشاد فرمایا : اگر تم مجبور ہو جاؤ ‘ تو صرف پی لو ‘ اپنے ساتھ لاد کر نہ لے جانا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابن ماجہ نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔

6818

Majma al-Zawaid #6818

وَلِأَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قُلْتُ: «يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا يَحِلُّ لِأَحَدِنَا مِنْ مَالِ أَخِيهِ؟ قَالَ: "" يَأْكُلُ وَلَا يَحْمِلُ، وَيَشْرَبُ وَلَا يَحْمِلُ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِي الْإِسْنَادَيْنِ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، وَهُوَ ثِقَةٌ، وَلَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ، وَفِيهِ كَلَامٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah (رضي الله عنه) said: I said: O Messenger of Allah, what is lawful for one of us from the property of his brother? He said: > **"Let him eat and not carry away, and let him drink and not carry away."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات منقول ہے : وہ بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اپنے بھائی کے مال میں سے ہم میں سے کسی ایک کے لئے کیا چیز حلال ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : وہ خود اس میں سے کھا لے ‘ لیکن وہ ساتھ رکھ کر نہ لے جائے ‘ اور وہ پی لے ‘ لیکن ساتھ رکھ کر نہ لے جائے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے دونوں کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے ‘ وہ ثقہ ہے ‘ لیکن وہ تدلیس کرنے والا ہے اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔

6819

Majma al-Zawaid #6819

«وَعَنْ عُمَيْرٍ مَوْلَى آبِي اللَّحْمِ قَالَ: أَقْبَلْتُ مَعَ سَادَتِي نُرِيدُ الْهِجْرَةَ حَتَّى إِذَا دَنَوْنَا مِنَ الْمَدِينَةِ وَخَلَّفُونِي فِي ظَهْرِهِمْ قَالَ: أَصَابَتْنِي مَجَاعَةٌ شَدِيدَةٌ. قَالَ: فَمَرَّ بِي بَعْضُ مَنْ يَخْرُجُ مِنَ الْمَدِينَةِ فَقَالُوا: لَوْ دَخَلْتَ الْمَدِينَةَ فَأَصَبْتَ مِنْ تَمْرِ حَوَائِطِهَا قَالَ: فَدَخَلْتُ حَائِطًا فَقَطَعْتُ مِنْهُ قِنْوَيْنِ، فَأَتَانِي صَاحِبُ الْحَائِطِ فَأَتَى بِيَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرَهُ خَبَرِي وَعَلَيَّ ثَوْبَانِ فَقَالَ: "" أَيُّهُمَا أَفْضَلُ؟ "" فَأَشَرْتُ لَهُ إِلَى أَحَدِهِمَا قَالَ: "" خُذْهُ "" وَأَعْطِ صَاحِبَ الْحَائِطِ الْآخَرَ، وَخَلَّ سَبِيلِي». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: «فَاقْتَطَعْتُ قِنْوَيْنِ مِنْ نَخْلَةٍ. وَقَالَ فِي آخِرِهِ: فَقُلْ لِي: "" أَيُّهُمَا أَفْضَلُ؟ "". فَأَشَرْتُ إِلَى أَحَدِهِمَا فَأَمَرَنِي فَأَخَذْتُهُ وَأَعْطَى صَاحِبَ الْحَائِطِ الْآخَرَ».

EnglishUnverified translation

Umayr, freedman of Abi al-Lahm (رضي الله عنه), said: I came with my masters intending emigration until, when we neared Madinah, they left me behind with their mounts. Severe hunger struck me. One who came out from Madinah passed by me and said: If you entered Madinah you would obtain dates from its gardens. So I entered a garden and cut two clusters. The owner of the garden came to me and brought me to the Messenger of Allah ﷺ and informed him of my affair, while upon me were two garments. He said: So I pointed to one of them. He said: And he let me go free. > **"Which of them is better?"** > **"Take it, and give the other to the owner of the garden."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمیر رضی اللہ عنہ ‘ جو حضرت آبی اللحم کے غلام ہیں ‘ وہ بیان کرتے ہیں : میں اپنے آقا کے ساتھ آیا ‘ ہمارا ہجرت کرنے کا ارادہ تھا ‘ جب ہم مدینہ کے قریب پہنچے ‘ تو ان لوگوں نے مجھے اپنے جانوروں میں پیچھے چھوڑ دیا ‘ راوی کہتے ہیں : مجھے شدید بھوک لگی میرے پاس سے ایک ایسا شخص گزرا ‘ جو مدینہ سے نکل کے آیا تھا ‘ اس نے کہا : اگر تم مدینہ میں چلے جاؤ اور وہاں کی باغ کی کھجوریں حاصل کر لو تو یہ مناسب ہو گا ‘ راوی کہتے ہیں : میں ایک باغ میں داخل ہوا ‘ میں نے وہاں سے دو گچھے توڑ لیے ‘ باغ کا مالک میرے پاس آیا اور مجھے ساتھ لے کر نبی اکرم ﷺ کے پاس چلا گیا ‘ اس نے میرے بارے میں نبی اکرم ﷺ کو بتایا ‘ میرے جسم پر دو کپڑے تھے ‘ آپ نے دریافت کیا : ان دونوں میں سے کون سا زیادہ فضیلت رکھتا ہے ( یعنی کون سا بہتر ہے ؟ ) میں نے ان دونوں میں سے ایک کی طرف سے اشارہ کر کے بتایا کہ یہ ہے ‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم یہ لے لو اور دوسرا کپڑا باغ کے مالک کو دے دو اور تم اس کا راستہ چھوڑ دو ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : میں نے کھجور کے درخت کے دو گچھے کاٹ لیے ۔ اور اس روایت کے آخر میں یہ الفاظ ہیں : آپ نے مجھ سے دریافت کیا : ان دونوں میں کون سا زیادہ بہتر ہے ؟ تو میں نے ان دونوں میں سے ایک کی طرف اشارہ کیا ، تو آپ نے مجھے یہ حکم دیا کہ وہ میں لے لوں اور دوسرے والا باغ کے مالک کو دے دوں ۔

6820

Majma al-Zawaid #6820

وَفِي رِوَايَةٍ عِنْدَ أَحْمَدَ: عَنْ عُمَيْرٍ أَيْضًا قَالَ: «كُنْتُ أَرْعَى بِذَاتِ الْجَيْشِ فَأَصَابَتْنِي خَصَاصَةٌ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِبَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَدَلُّونِي عَلَى حَائِطٍ لِبَعْضِ الْأَنْصَارِ، فَقَطَعْتُ مِنْهُ أَقْنَاءً، فَأَخَذُونِي فَذَهَبُوا بِي إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرْتُهُ بِحَاجَتِي، فَأَعْطَانِي قِنْوًا وَاحِدًا، وَرَدَّ سَائِرَهَا إِلَى أَهْلِهِ». وَإِسْنَادُ الثَّانِي فِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ. وَإِسْنَادُ الْأَوَّلِ فِيهِ أَبُو بَكْرِ بْنُ الْمُهَاجِرِ ذَكَرَهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ جَرْحًا وَلَا تَعْدِيلًا، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Umayr (رضي الله عنه) also said in a narration with Ahmad: I was herding at Dhat al-Jaysh and need befell me. I mentioned that to some of the Companions of the Prophet ﷺ and they directed me to a garden of one of the Ansar. So I cut some clusters, and they seized me and took me to the Prophet ﷺ. I informed him of my need, so he gave me one cluster and returned the rest to its owners.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام احمد کی نقل کردہ ایک روایت ‘ جو حضرت عمیر رضی اللہ عنہ ہی سے منقول ہے ‘ اس میں یہ الفاظ ہیں : وہ بیان کرتے ہیں : میں ذات الجیش کے مقام پر جانوروں کو چرا رہا تھا ‘ مجھے بھوک لاحق ہو گئی ‘ نبی اکرم ﷺ کے بعض اصحاب سے میں نے یہ بات ذکر کی ‘ تو انہوں نے مجھے ایک انصاری کے باغ کے بارے میں بتایا ‘ میں نے اس میں سے کچھ گچھے توڑ لئے ‘ انہوں نے مجھے پکڑ لیا اور مجھے لے کر نبی اکرم ﷺ کے پاس چلے گئے ‘ میں نے نبی اکرم ﷺ کو اپنے حاجت مند ہونے کے بارے میں بتایا ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے ایک گچھہ مجھے عطا کر دیا اور باقی سب اس کے مالک کو واپس کر دیے ۔ دوسری روایت کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ۔ پہلی روایت کی سند میں ‘ ایک راوی ابوبکر بن مہاجر ہے ‘ جس کا ذکر ابن ابوحاتم نے کیا ہے ‘ انہوں نے اس کے بارے میں کوئی جرح یا تعدیل نقل نہیں کی ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

6821

Majma al-Zawaid #6821

وَعَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَأْمُرُ بِالضِّيَافَةِ، وَيَنْهَى أَنْ تُحْتَلَبَ مَاشِيَةُ الرَّجُلِ إِلَّا بِإِذْنِهِ، وَيَقُولُ: "" إِنَّمَا أَلْبَانُهَا كَمَا فِي حِقَابِكُمْ "". أَوْ كَلِمَةً نَحْوَهَا». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَقَالَ: «كَمَا فِي حُقُبِكُمْ لَيْسَ أَحَدُهُمَا بِأَحَلَّ مِنَ الْآخَرِ». وَإِسْنَادُ الطَّبَرَانِيِّ فِيهِ مَسْتُورٌ، وَإِسْنَادُ الطَّبَرَانِيِّ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Samurah ibn Jundub (رضي الله عنه) reported that the Messenger of Allah ﷺ used to command hospitality, and he forbade that the livestock of a man be milked except by his permission, saying: > **"Its milk is only like what is in your purses; neither is more lawful than the other."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ ضیافت ( مہمان نوازی ) کا حکم دیتے تھے ‘ لیکن آپ اس بات سے منع کرتے تھے کہ آدمی کی اجازت کے بغیر اس کے جانور کا دودھ دوہ لیا جائے ، آپ ﷺ ارشاد فرماتے تھے : ’’ ان کے دودھ کی مثال اسی طرح ہے ‘ جیسے تمہاری تھیلی میں ہو ‘‘۔ یا اس کی مانند کوئی کلمہ آپ نے ارشاد فرمایا ۔ یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ’’ جس طرح تمہاری تھیلی میں ہو ‘ ان میں سے کوئی ایک دوسرے سے زیادہ حلال نہیں ہے “۔ امام طبرانی کی سند میں مستور راوی ہے اور امام طبرانی کی سند ضعیف ہے ۔

6822

Majma al-Zawaid #6822

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كُلُّ سَارِحَةٍ وَرَائِحَةٍ عَلَى قَوْمٍ حَرَامٌ عَلَى غَيْرِهِمْ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ سَلَمَةَ الْخَبَائِرِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Umamah (رضي الله عنه) said: The Messenger of Allah ﷺ said: > **"Every pasturing and returning animal belonging to a people is forbidden to others."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ لوگوں کا ہر قسم کا جانور ‘ ان کے علاوہ کے لئے حرام ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن سلمہ خبائری ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

6823

Majma al-Zawaid #6823

وَعَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ «عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: إِنَّهُ أَتَاهُ رَجُلٌ مِنَ الْأَعْرَابِ يَسْتَفْتِيهِ فِي الَّذِي يَحْرُمُ عَلَيْهِ، وَفِي الَّذِي يَحِلُّ لَهُ، وَفِي نَتَجِهِ وَمَاشِيَتِهِ، وَفِي عَنْزِهِ وَفَرْعِهِ مِنْ نَتَجِ إِبِلِهِ وَغَنَمِهِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" تَحِلُّ لَكَ الطَّيِّبَاتُ وَتَحْرُمُ عَلَيْكَ الْخَبَائِثُ، إِلَّا أَنْ تَفْتَقِرَ إِلَى طَعَامٍ لَا يَحِلُّ لَكَ فَتَأْكُلَ مِنْهُ حَتَّى تَسْتَغْنِيَ عَنْهُ "". وَإِنَّهُ سَأَلَهُ رَجُلٌ حِينَئِذٍ: مَا فَقْرِي؟ وَمَا الَّذِي آكُلُ مِنْ ذَلِكَ إِذَا بَلَغْتُهُ؟ وَمَا غِنَايَ الَّذِي يُغْنِينِي عَنْهُ؟ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" إِذَا كُنْتَ تَرْجُو نَتَجًا فَتَبَلَّغْ بِلُحُومِ مَاشِيَتِكَ إِلَى نَتَجِكَ، أَوْ كُنْتَ تَرْجُو غَيْثًا مَدَرًا لَكَ فَتَبَلَّغْ إِلَيْهَا مِنْ لُحُومِ مَاشِيَتِكَ، أَوْ كُنْتَ تَرْجُو مِيرَةً تَنَالُهَا فَتَبَلَّغْ مِنْ لُحُومِ مَاشِيَتِكَ، وَإِنْ كُنْتَ لَا تَرْجُو مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا فَأَطْعِمْ أَهْلَكَ فِيمَا بَدَا لَكَ حَتَّى تَسْتَغْنِيَ عَنْهُ "". قَالَ الْأَعْرَابِيُّ: مَا غِنَايَ الَّذِي أَدَعُهُ إِذَا وَجَدْتُهُ؟ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" إِذَا رَوَيْتَ أَهْلَكَ غَبُوقًا مِنَ اللَّبَنِ فَاجْتَنِبْ مَا حُرِّمَ عَلَيْكَ مِنَ الطَّعَامِ. وَأَمَّا مَالُكَ فَإِنَّهُ مَيْسُورٌ كُلُّهُ لَيْسَ فِيهِ حَرَامٌ غَيْرَ أَنَّ فِي نَتَجِكَ مِنْ إِبِلِكَ فَرَعًا، وَفِي نَتَجِكَ مِنْ غَنَمِكَ فَرَعًا تَغْدُوهُ مَاشِيَتَكَ حَتَّى تَسْتَغْنِيَ، ثُمَّ إِنْ شِئْتَ أَطْعَمْتَهُ أَهْلَكَ، وَإِنْ شِئْتَ تَصَدَّقْتَ بِلَحْمِهِ "". وَأَمَرَهُ بِعِتْرٍ مِنَ الْغَنَمِ مِنْ كُلِّ مِائَةٍ عَتِيرَةً». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَالْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ كَثِيرٍ، وَفِي إِسْنَادِ الطَّبَرَانِيِّ مَسَاتِيرُ، وَإِسْنَادُ الْبَزَّارِ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Samurah ibn Jundub (رضي الله عنه) reported from the Messenger of Allah ﷺ that a Bedouin came asking him concerning what is forbidden to him and what is lawful for him, concerning his offspring and his livestock, concerning his goat and the fara from the newborn of his camels and sheep. So the Messenger of Allah ﷺ said to him: And a man then asked him: What is my poverty, and what shall I eat thereof when I reach it, and what is my sufficiency that suffices me from it? So the Messenger of Allah ﷺ said to him: The Bedouin said: What is my sufficiency that I leave it when I find it? So the Messenger of Allah ﷺ said to him: And he commanded him with an atirah of sheep, one atirah from every hundred. > **"Lawful for you are the good things, and forbidden to you are the foul, except that you become in need of food not lawful to you, then eat thereof until you are sufficed by it."** > **"When you expect newborn young, then sustain yourself with the meat of your livestock until your newborn, or you expect rain bringing herbage for you, then sustain yourself thereuntil from the meat of your livestock, or you expect provision reaching you, then sustain yourself from the meat of your livestock. If you expect nothing of that, then feed your family as seems fit to you until you are sufficed."** > **"When you have quenched your family with an evening drink of milk, then avoid what is forbidden to you of food. As for your property, all of it is eased, with no unlawful therein, except that in your newborn camels is a fara and in your newborn sheep is a fara which your livestock nourishes until it is sufficed, then if you wish feed it to your family, and if you wish give its meat in charity."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سمرہ بن جندب ‘ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں : ایک دیہاتی شخص آپ کے پاس آپ سے اس بارے میں دریافت کیا : اس نے اپنے مال ‘ اپنی قربانی ‘ اپنی جانوروں اور اپنی اونٹنیوں کے ہاں پیدا ہونے والے بچوں ، جنہیں فرع اور عتیرہ قرار دیا جاتا ہے اور ان جانوروں ‘ جو بانجھ ہوتے ہیں ‘ ان کے بارے میں دریافت کیا کہ اس میں سے کیا چیز اس کے لئے حلال ہے اور کیا اس پر حرام ہے ۔ تو نبی اکرم ﷺ نے اس سے فرمایا : تمہارے لئے پاکیزہ چیزیں حلال ہیں اور خبیث چیزیں تم پر حرام ہیں ‘ البتہ اگر تم کھانے کے محتاج ہو جاؤ ‘ تو معاملہ مختلف ہے ‘ وہ تمہارے لئے اس حد تک حلال ہو گا کہ تم اس میں سے کھا لو ‘ یہاں تک کہ اس سے بے نیاز ہو جاؤ ۔ اس وقت اس شخص نے آپ سے دریافت کیا : میری غربت سے مراد کیا ہے ؟ اور وہ کیا چیز ہے کہ جب میں اس تک پہنچ جاؤں گا ‘ تو میں ایسا کھانا کھا سکتا ہوں اور میری وہ خوشحالی کیا ہو گی ؟ جو مجھے اس سے بے نیاز کر دے ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جب تمہیں جانور کے ہاں بچہ پیدا ہونے کی امید ہو تو تم اپنے جانور کے گوشت کے ذریعے اس کی پیدائش تک پہنچ جاؤ یا تمہیں ایسے بادل کی امید ہو جو برسنے والا ہو ‘ تو تم اپنے جانور کے گوشت کے ذریعے اس تک پہنچ جاؤ یا تمہیں مال کے فائدے کی امید ہو تو تم اپنے جانور کے گوشت کے ذریعے اس تک پہنچ جاؤ اور اگر تمہیں اس میں سے کسی چیز کی امید نہیں ہوتی تو تمہیں جو مناسب لگے تو تم اپنے گھر والوں کو وہ کھلا دو یہاں تک کہ تم اس سے بے نیاز ہو جاؤ ۔ اس دیہاتی نے دریافت کیا : میری وہ خوشحالی کیا ہے ؟ جب میں اسے پاؤں گا تو اس کو ترک کر دوں گا ‘ نبی اکرم ﷺ نے اس سے فرمایا : جب تم اپنے گھر والوں کو اچھی طرح دودھ پلا دو ‘ تو اس کھانے سے اجتناب کرو ‘ جو تم پر حرام قرار دیا گیا ہے ، جہاں تک تمہارے مال کا تعلق ہے ، تو اس پورے میں سہولت پائی جاتی ہے ‘ جبکہ اس میں کوئی حرام چیز موجود نہ ہو ‘ البتہ اگر تمہارے اونٹنی کے ہاں کوئی بچہ پیدا ہوتا ہے یا تمہاری بکری کا بچہ پیدا ہوتا ہے تو تمہارا جانور اس بچے کو خوراک فراہم کرے گا ‘ یہاں تک کہ وہ بچہ بے نیاز ہو جائے ‘ پھر اگر تم چاہو تو اس بچے کا گوشت اپنے گھر والوں کو کھلاؤ اور اگر تم چاہو تو اس کا گوشت صدقہ کر دو ۔ نبی اکرم ﷺ نے بکریوں میں سے ” عتر ‘‘ کے بارے میں اسے یہ حکم دیا کہ ہر سو میں ایک عتیرہ ہو گی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور امام بزار نے بہت زیادہ اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ‘ امام طبرانی کی سند میں مستور راوی ہیں اور امام بزار کی سند ضعیف ہے ۔

6824

Majma al-Zawaid #6824

وَعَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَضُرُّ أَحَدَكُمْ مَا يَسُدُّ بِهِ الْجُوعَ إِذَا أَصَابَ حَلَالًا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ الْحَسَنُ بْنُ دِينَارٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Samurah ibn Jundub (رضي الله عنه) said: The Messenger of Allah ﷺ said: > **"It will not harm one of you what he repels hunger with, when he obtains it from the lawful."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تم میں سے کسی شخص کو یہ چیز نقصان نہیں دے گی ‘ جس کے ذریعے وہ بھوک کو ختم کر دے ‘ جبکہ اس نے حلال چیز کو حاصل کیا ہو ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی حسن بن دینار ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

6825

Majma al-Zawaid #6825

«وَعَنْ مِخْوَلٍ النَّهْدَيِّ، ثُمَّ السُّلَمِيِّ، وَكَانَ قَدْ أَدْرَكَ الْجَاهِلِيَّةَ وَالْإِسْلَامَ قَالَ: نَصَبْتُ حَبَائِلَ لِي بِالْأَبْوَاءِ فَوَقَعَ فِي حَبْلٍ مِنْهَا ظَبْيٌ، فَانْقَلَبَ بِالْحَبْلِ، فَخَرَجْتُ فِي أَثَرِهِ أَقَفُوهُ، فَوَجَدْتُ رَجُلًا قَدْ أَخَذَهُ، فَتَنَازَعْنَا فِيهِ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَوَجَدْنَاهُ نَازِلًا بِالْأَبْوَاءِ تَحْتَ شَجَرَةٍ قَدِ اسْتَظَلَّ بِنِطْعٍ، فَقَضَى بِهِ بَيْنَنَا شَطْرَيْنِ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذِهِ حَبَائِلِي فِي رِجْلِهِ قَالَ: "" هُوَ ذَاكَ "" قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا كُنَّا نَأْتِي الْمَاءَ فَتَرِدُ عَلَيْنَا الْإِبِلُ وَهِيَ عِطَاشٌ، فَنَسْقِيهَا مِنَ الْمَاءِ هَلْ لَنَا فِي ذَلِكَ أَجْرٌ؟ قَالَ: "" نَعَمْ؛ لَكَ فِي كُلِّ ذَاتِ كَبِدٍ حَرَّى أَجْرٌ "". قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الْإِبِلُ الضَّوَالُ نَلْقَاهَا وَهِيَ مُصَرَّاةٌ وَنَحْنُ جِيَاعٌ؟ قَالَ: "" قُلْ: يَا صَاحِبَ الْإِبِلِ. فَإِنْ جَاءَ وَإِلَّا فَحُلَّ صِرَارَهَا، احْلُبْ وَاشْرَبْ، وَأَعِدْ صِرَارَهَا، وَأَبْقِ لِلَبَنِ دَوَاعِيَهُ "". ثُمَّ أَنْشَأَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يَكُونُ خَيْرَ الْمَالِ فِيهِ غَنَمٌ بَيْنَ الْمَسْجِدَيْنِ - يَعْنِي مَسْجِدَ الْمَدِينَةِ وَمَسْجِدَ مَكَّةَ - تَأْكُلُ الشَّجَرَ، وَتَرِدُ الْمِيَاهَ، يَأْكُلُ صَاحِبُهَا مِنْ سِلَائِهَا، وَيَلْبَسُ مِنْ أَصْوَافِهَا - أَوْ قَالَ: مِنْ أَشْعَارِهَا - وَالْفِتَنُ تَرْتَهِشُ بَيْنَ جَرَاثِيمِ الْعَرَبِ، وَالدِّمَاءُ تُسْفَكُ "". يَقُولُهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثَلَاثًا. قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَوْصِنِي. قَالَ: "" اتَّقِ اللَّهَ، وَأَقِمِ الصَّلَاةَ، وَآتِ الزَّكَاةَ، وَحُجَّ وَاعْتَمِرْ وَبِرَّ وَالِدَيْكَ، وَصِلْ رَحِمَكَ وَأَقْرِ الضَّيْفَ، وَأْمُرْ بِالْمَعْرُوفِ، وَانْهَ عَنِ الْمُنْكَرِ، وَزُلْ مَعَ الْحَقِّ حَيْثُ مَا زَالَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ مَسْمُولٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Mikhwal al-Nahdi, then al-Sulami, who had reached both Jahiliyyah and Islam (رضي الله عنه), said: I set my snares at al-Abwa, and a gazelle fell into one rope and carried off the rope. I went out in its tracks following it, and I found a man who had taken it. We disputed concerning it to the Prophet ﷺ, and we found him encamped at al-Abwa beneath a tree, shaded by leather. So he judged it between us in two halves. I said: O Messenger of Allah, this is my rope upon its leg. He said: I said: O Messenger of Allah, we come to water and thirsty camels come upon us; we give them water from the water — is there reward for us in that? He said: I said: O Messenger of Allah, the stray camels we meet, tied up, while we are hungry? He said: Then the Prophet ﷺ began to say: — or he said: from its hairs — The Messenger of Allah ﷺ said it three times. I said: O Messenger of Allah, advise me. He said: > **"It is that."** > **"Yes; for you in every living moist liver is reward."** > **"Call: O owner of the camels. If he comes, well, otherwise untie its binding, milk and drink, then restore its binding, and leave for the milk its callers."** > **"There will come upon people a time when the best property therein will be sheep between the two mosques — meaning the mosque of Madinah and the mosque of Makkah — eating trees and coming to waters. Its owner will eat from its fats and wear from its wools"** > **"while tribulations tremble among the hordes of the Arabs, and blood is shed."** > **"Fear Allah, establish prayer, give zakah, perform Hajj and Umrah, be dutiful to your parents, join your kin, honour the guest, command the good, forbid the evil, and remain with the truth wherever it remains."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

مخول نہدی ثم سلمی ، جنہیں زمانہ جاہلیت اور زمانہ اسلام ‘ دونوں نصیب ہوئے ہیں ‘ وہ بیان کرتے ہیں : میں نے ’’ ابواء ‘‘ کے مقام پر جال لگایا ‘ ایک رسی میں ایک ہرن کا بچہ پھنس گیا ‘ وہ اس رسی کو لے کے چل پڑا ‘ میں اس کے پیچھے پیچھے چل پڑا ‘ تو میں نے ایک شخص کو پایا کہ اس نے اسے پکڑ لیا تھا ‘ اس ہرن کے بارے میں ہم دونوں کے درمیان اختلاف ہوا ‘ ہم نے اپنا مقدمہ نبی اکرم ﷺ کے سامنے پیش کیا ، ہم نے آپ کو پایا کہ ’’ ابواء ‘‘ کے مقام میں ایک درخت کے نیچے پڑاؤ کیا ہوا تھا اور چمڑے کے ذریعے آپ پر سایہ کیا گیا تھا ، نبی اکرم ﷺ نے اس کے بارے میں یہ فیصلہ دیا کہ وہ ہم دونوں کے درمیان دو حصوں میں تقسیم ہو جائے گا ‘ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ میری رسی ہے ‘ جو اس جانور کے پاؤں میں موجود ہے ‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : یہ اسی طرح ہے میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم کسی پانی پر آتے ہیں ‘ وہاں ہمارے پاس اونٹ آ جاتے ہیں ‘ جو پیاسے ہوتے ہیں ، تو کیا ہم انہیں پانی پلا دیں ‘ اور کیا ہمیں اس کا اجر ملے گا ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! تمہیں ہر جاندار کے ساتھ بھلائی کرنے کا اجر ملے گا ‘ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اگر گم شدہ اونٹ ہمیں ملتے ہیں اور ان کے دودھ نہیں نکالا گیا ہوتا اور ہم بھوکے ہوتے ہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم یہ کہو : اے اونٹوں کے مالک ! اگر کوئی شخص آ جائے ‘ تو ٹھیک ہے ‘ ورنہ تم اس کے تھن کے اوپر سے کپڑا ہٹا دو ‘ دودھ دوہ کر اسے پی لو ‘ اور پھر وہاں کپڑا لگا دو ‘ اور دودھ کے لئے اس کے دوائی کو باقی رہنے دو ‘ پھر نبی اکرم ﷺ نے یہ ارشاد فرمانا شروع کیا : ’’ عنقریب لوگوں پر ایسا زمانہ آئے گا کہ اس زمانے میں سب سے بہتر مال وہ بکریاں ہوں گی ، جو دو مسجدوں کے درمیان ہوں گی ‘ راوی کہتے ہیں : یعنی مدینہ اور مسجد مکہ کے درمیان ہوں گی ‘ وہ درخت کے پتے کھا لیں گی ‘ پانی پر آ جائیں گی ‘ ان کا مالک ان کے گوشت کو کھائے گا ‘ اور ان کی اون سے ( بنا ہوا لباس ) پہن لے گا ( راوی کو شک ہے ‘ شاید یہ الفاظ ہیں : ) ان کے بالوں سے ( بنا ہوا لباس پہن لے گا ) اور عربوں کے درمیان فتنے گھوم رہے ہوں گے ‘ خون بہایا جا رہا ہو گا ‘ یہ بات نبی اکرم ﷺ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی ‘ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے کوئی نصیحت کیجئے ‘ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم اللہ تعالیٰ سے ڈرو ! تم نماز قائم کرو ‘ تم زکوۃ ادا کرو ‘ تم حج اور عمرہ کرو ‘ اپنے والدین کے ساتھ نیک سلوک کرو ‘ صلہ رحمی کرو ‘ مہمان نوازی کرو ‘ نیکی کا حکم دو ‘ اور برائی سے منع کرو اور حق کے ساتھ رہو ‘ جہاں بھی وہ ہو ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن سلیمان بن مسمول ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

6826

Majma al-Zawaid #6826

«وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ أَنَّ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَصَابَتْهُمْ مَخْمَصَةٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَقْبَلَ رَجُلَانِ حَتَّى أَشْرَفَا عَلَى حَوَائِطَ، فَإِذَا هُمْ بِتَمْرٍ فِي حَائِطٍ، فَنَزَلَ أَحَدُهُمَا وَفَرِقَ الْآخَرُ، فَأَكَلَ حَتَّى إِذَا شَبِعَ جَعَلَ يَحْثِي فِي ثِيَابِهِ، وَجَاءَ صَاحِبُ الْحَائِطِ فَانْتَزَعَ ثَوْبَهُ وَأَوْثَقَهُ إِلَى نَخْلَةٍ، وَأَخَذَ شَظِيَّةً فَأَوْجَعَهُ ضَرْبًا، ثُمَّ انْطَلَقَ بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَالَ: وَجَدْتُ هَذَا فِي حَائِطِي أَكَلَ حَتَّى إِذَا شَبِعَ جَعَلَ يَحْثِي فِي ثِيَابِهِ. فَقَالَ الْآخَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَقْبَلْتُ أَنَا وَصَاحِبِي، وَنَحْنُ جَائِعَانِ، فَأَمَّا أَنَا فَنَزَلْتُ، وَأَمَّا صَاحِبِي فَفَرِقَ، فَأَكَلْتُ وَأَخَذْتُ لِصَاحِبِي، فَجَاءَ هَذَا فَفَعَلَ بِي كَذَا وَكَذَا. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" انْطَلِقْ فَأَعْطِهِ ثَوْبَهُ، وَكِلْ لَهُ وَسْقًا مَكَانَ مَا ضَرَبْتَهُ». قُلْتُ: لَهُ عِنْدَ ابْنِ مَاجَهْ حَدِيثٌ غَيْرُ هَذَا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَرَادَةَ وَثَّقَهُ أَبُو دَاوُدَ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Said (رضي الله عنه) reported that the Companions of the Messenger of Allah ﷺ were struck by hunger in the time of the Messenger of Allah ﷺ. Two men came until they overlooked gardens, and there were dates in a garden. One of them descended and the other held back. He ate until, when he was full, he began gathering into his clothes. The owner of the garden came, seized his garment, bound him to a palm, took a splinter and beat him painfully, then brought him to the Messenger of Allah ﷺ saying: I found this one in my garden eating until, when full, he gathered into his clothes. The other said: O Messenger of Allah, I and my companion came hungry; as for me I descended, and as for my companion he held back. I ate and took for my companion. So this one came and did such and such to me. So the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Go, give him his garment, and measure for him a wasq in place of what you struck him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے اصحاب کو نبی اکرم ﷺ کے زمانہ اقدس میں بھوک لاحق ہو گئی دو آدمی آئے ‘ انہوں نے ایک باغ کی دیوار سے جھانک کر دیکھا ‘ وہاں باغ میں کھجوروں کے درخت موجود تھے ‘ ان میں سے ایک شخص دیوار پھیلانگ کر اندر آ گیا اور دوسرا ڈر گیا ‘ اندر آنے والے شخص نے کھجوریں کھانا شروع کیں ، جب وہ سیر ہو گیا ‘ تو اس نے اپنے کپڑے میں اکٹھا کرنا شروع کر دیں ‘ باغ کا مالک آیا ‘ اس نے اس کا کپڑا اس سے چھین لیا اور اسے کھجور کے درخت کے ساتھ باندھ دیا اس نے ایک چھڑی لی اور اس نے اس کے ذریعے اس شخص کی پٹائی کی ‘ پھر وہ اسے لے کر نبی اکرم ﷺ کے پاس گیا ‘ اس نے بتایا کہ میں نے اس شخص کو اپنے باغ میں پایا کہ یہ کھا رہا تھا ‘ جب یہ سیر ہو گیا ‘ تو اس نے اپنے کپڑے میں کھجوریں انھی کرنی شروع کر دیں ‘ اس شخص نے کہا : یا رسول اللہ ! میں اور میرا ساتھی آئے تھے ‘ اور ہم دونوں بھوکے تھے ‘ میں تو باغ کے اندر اتر گیا تھا اور میرا ساتھی ڈر گیا تھا ‘ میں نے کھجوریں کھا لیں اور اپنے ساتھی کے لئے لی تھیں ، لیکن پھر یہ شخص آیا اور اس نے میرے ساتھ یہ ‘ یہ سلوک کیا ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم جاؤ ! اور اس کا کپڑا اسے دو اور اسے ایک وسق ماپ کر دو ‘ اس چیز کی جگہ جو تم نے اس کی پٹائی کی ہے ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ان صحابی کے حوالے سے امام ابن ماجہ نے بھی ایک حدیث نقل کی ہے ‘ جو اس کے علاوہ ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن عرادہ ہے ‘ جسے ابوداؤد نے ثقہ قرار دیا ہے اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا ہے ۔

6827

Majma al-Zawaid #6827

«عَنْ أَبِي وَاقِدٍ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا بِأَرْضٍ يُصِيبُنَا فِيهَا مَخْمَصَةٌ، فَمَا يَحِلُّ لَنَا مِنَ الْمَيْتَةِ؟ قَالَ: "" إِذَا لَمْ تَصْطَبِحُوا أَوْ لَمْ تَغْتَبِقُوا، وَلَمْ تَحْتَفِئُوا بَقْلًا فَشَأْنُكُمْ بِهَا». رَوَاهُ أَحْمَدُ بِإِسْنَادَيْنِ رِجَالُ أَحَدِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ، إِلَّا الْمِزِّيُّ قَالَ: لَمْ يَسْمَعْ حَسَّانُ بْنُ عَطِيَّةَ مِنْ أَبِي وَاقِدٍ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.

EnglishUnverified translation

Abu Waqid (رضي الله عنه) said: I said: O Messenger of Allah, we are in a land where hunger strikes us; what is lawful for us of carrion? He said: > **"When you have not taken morning drink, nor evening drink, and have not gathered greens, then it is yours."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوواقد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم ایسی جگہ پر رہتے ہیں ‘ جہاں ہمیں بھوک لاحق ہو جاتی ہے ‘ تو مردار میں سے ہمارے لئے کیا چیز حلال ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جب تم کوئی چیز پکا نہ سکو ‘ اور تمہیں دودھ بھی نہ مل سکے اور تمہیں سبزیاں بھی نہ مل سکیں ، تو پھر تمہیں اسے استعمال کر سکتے ہو ۔ یہ روایت امام احمد نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ‘ جن میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ‘ البتہ امام مزی نے یہ کہا ہے کہ حسان بن عطیہ نے حضرت ابوواقد سے سماع نہیں کیا ہے ‘ باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔

6828

Majma al-Zawaid #6828

وَعَنْ أَبِي وَاقِدٍ: أَنَّ قَوْمًا مَاتَ لَهُمْ بَغْلٌ، وَلَمْ يَكُنْ لَهُمْ شَيْءٌ يَأْكُلُونَهُ فَجَاءُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَرَخَّصَ لَهُمْ فِيهِ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abu Waqid (رضي الله عنه) reported that a people lost a mule by death and had nothing to eat. They came to the Messenger of Allah ﷺ and he permitted them concerning it.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوواقد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : کچھ لوگوں کا خچر مر گیا ‘ ان لوگوں کے پاس کوئی ایسی چیز نہیں تھی ‘ جسے وہ کھاتے ‘ وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے انہیں اس ( جانور کا گوشت کھانے ) کی رخصت دی ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

6829

Majma al-Zawaid #6829

عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ رَبَطَ دَابَّةً عَلَى طَرِيقِ الْمُسْلِمِينَ فَهُوَ ضَامِنٌ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ مِنْ طَرِيقِ بَقِيَّةَ، عَنْ عِيسَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، وَلَمْ أَعْرِفْ عِيسَى هَذَا، وَبَقِيَّةُ مُدَلِّسٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Numan ibn Bashir (رضي الله عنه) said: The Messenger of Allah ﷺ said: > **"Whoever ties a beast upon the road of the Muslims is liable."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ جو شخص مسلمانوں کے راستے پر جانور باندھ دیتا ہے ( اور وہ جانور کوئی نقصان کرتا ہے ) تو وہ شخص ضامن ہو گا “۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں بقیہ کے حوالے سے عیسیٰ بن عبداللہ سے نقل کی ہے ‘ عیسیٰ نامی اس راوی سے میں واقف نہیں ہوں ‘ بقیہ نامی راوی تدلیس کرنے والا ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

6830

Majma al-Zawaid #6830

عَنْ أَبِي عُفَيْرٍ عَرِيفِ بْنِ سَرِيعٍ «أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ فَقَالَ: رَجُلٌ كَانَ فِي حِجْرِي تَصَدَّقْتُ عَلَيْهِ بِجَارِيَةٍ، ثُمَّ مَاتَ، وَأَنَا وَارِثُهُ؟ فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو: سَأُخْبِرُكَ بِمَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: حَمَلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ عَلَى فَرَسٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، ثُمَّ وَجَدَ صَاحِبَهُ قَدْ أَوْقَفَهُ يَبِيعُهُ فَأَرَادَ أَنْ يَشْتَرِيَهُ، فَسَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ فَنَهَاهُ [عَنْهُ]. وَقَالَ: "" إِذَا تَصَدَّقْتَ بِصَدَقَةٍ فَأَمْضِهَا». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَقَدْ وُثِّقَ.

EnglishUnverified translation

Abu Ufayr Arif ibn Sari reported that a man asked Amr ibn al-As (رضي الله عنه), saying: A man in my care — I gave him a slave-girl in charity, then he died and I am his heir? Abdullah ibn Amr (رضي الله عنهما) said to him: I shall inform you of what I heard from the Messenger of Allah ﷺ. Umar ibn al-Khattab (رضي الله عنه) carried upon a horse in the path of Allah, then he found its owner had put it up for sale and wanted to buy it, so he asked the Messenger of Allah ﷺ. He forbade him from it and said: > **"When you give charity, then let it proceed."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوعفیر عریف بن سریع بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے سوال کیا ، اس نے کہا : ایک شخص جو میرے زیر پرورش ہے ‘ میں نے اسے ایک کنیز صدقے کے طور پر دی ‘ پھر وہ شخص مر گیا ، میں اس کا وارث بنا ، تو حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا : میں تمہیں اس بارے میں بتاتا ہوں ‘ جو میں نے نبی اکرم ﷺ کی زبانی سنا ہے ‘ ایک مرتبہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ایک گھوڑا ‘ اللہ کی راہ میں دیا ‘ پھر انہوں نے گھوڑے کے مالک کو پایا کہ اس نے اس گھوڑے کو فروخت کرنے کے لئے پیش کیا ہوا تھا ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس گھوڑے کو خریدنے کا ارادہ کیا ‘ انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے اس بارے میں دریافت کیا ، تو نبی اکرم ﷺ نے انہیں ایسا کرنے سے منع کر دیا اور فرمایا : جب تم نے کوئی چیز صدقہ کر دی ہو ‘ تو اسے ایسے ہی رہنے دو ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی رشدین سعد ہے اور وہ ضعیف ہے ‘ ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔

6831

Majma al-Zawaid #6831

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: «أَنَّ الزُّبَيْرَ حَمَلَ عَلَى فَرَسٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَأَضَاعَهُ صَاحِبُهُ، فَأَرَادَ الزُّبَيْرُ أَنْ يَشْتَرِيَهُ فَنَهَاهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يَعُودَ فِي صَدَقَتِهِ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ. وَقَدْ تَقَدَّمَتْ أَحَادِيثُ فِي هَذَا الْمَعْنَى فِي الزَّكَاةِ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas (رضي الله عنهما) reported that al-Zubayr (رضي الله عنه) carried upon a horse in the path of Allah, and its owner wasted it. Al-Zubayr wanted to buy it, so the Prophet ﷺ forbade him from returning to his charity.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے اللہ کی راہ میں ایک گھوڑا دیا ‘ اس کے مالک نے اسے ضائع کر دیا ، حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے اسے خریدنے کا ارادہ کیا ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے انہیں صدقہ واپس لینے سے منع کر دیا ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔ اس مفہوم کی دیگر احادیث اس سے پہلے زکوۃ سے متعلق باب میں گزر چکی ہیں ۔

6832

Majma al-Zawaid #6832

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو «أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَعْطَيْتُ أُمِّي حَدِيقَةً فِي حَيَاتِهَا، وَإِنَّهَا تُوُفِّيَتْ، وَلَمْ تَدَعْ وَارِثًا غَيْرِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَحْسَبُهُ قَالَ: "" إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى رَدَّ عَلَيْكَ حَدِيقَتَكَ، وَقَبِلَ صَدَقَتَكَ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ. وَقَدْ تَقَدَّمَ حَدِيثٌ فِي الْعُمْرَى، وَتَأْتِي أَحَادِيثُ فِي الْفَرَائِضِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Amr (رضي الله عنهما) reported that a man said: O Messenger of Allah, I gave my mother a garden in her lifetime, and she died leaving no heir but me. So the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Indeed Allah, Blessed and Exalted, has returned your garden to you and accepted your charity."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے اپنی والدہ کو ان کی زندگی میں ایک باغ دیا ‘ ان کا انتقال ہو گیا ، انہوں نے میرے علاوہ کوئی اور وارث نہیں چھوڑا ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے یہ ارشاد فرمایا : ’’ اللہ تعالیٰ نے تمہارا باغ ، تمہیں واپس کر دیا ہے اور تمہارے صدقے کو قبول کر لیا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔ اس سے پہلے عمری کے بارے میں حدیث گزر چکی ہے اور کچھ احادیث فرائض سے متعلق باب میں آگے آئیں گی ‘ اگر اللہ نے چاہا ۔

6833

Majma al-Zawaid #6833

عَنْ عَلِيٍّ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «الْعِدَةُ دَيْنٌ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالصَّغِيرِ، وَزَادَ فِيهِ عَنْ عَلِيٍّ وَحْدَهُ: «وَيْلٌ لِمَنْ وَعَدَ، ثُمَّ أَخْلَفَ "" يَقُولُهَا ثَلَاثًا». وَفِيهِ حَمْزَةُ بْنُ دَاوُدَ ضَعَّفَهُ الدَّارَقُطْنِيُّ.

EnglishUnverified translation

Ali and Abdullah ibn Masud (رضي الله عنهما) reported that the Prophet ﷺ said: And in addition from Ali alone: > **"The promise is a debt."** > **"Woe to one who promises then breaks, woe to one who promises then breaks, woe to one who promises then breaks."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ کسی کے ساتھ ‘ کسی قسم کی ادائیگی کے بارے میں کیا گیا ) وعدہ ‘ قرض ہوتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم صغیر میں نقل کی ہے اور اس میں ۔ انہوں نے صرف حضرت علی رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ’’ اس شخص کے لیے بربادی ہے ‘ جو وعدہ کرے اور پھر اس کی خلاف ورزی کرے ‘‘ یہ بات آپ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی حمزہ بن ابوداؤد ہے ‘ جسے امام دارقطنی نے ضعیف قرار دیا ہے ۔

6834

Majma al-Zawaid #6834

وَعَنْ قَبَاثِ بْنِ أَشْيَمَ اللَّيْثِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْعِدَةُ عَطِيَّةٌ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ أَصْبَغُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ اللَّيْثِيُّ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: مَجْهُولٌ.

EnglishUnverified translation

Qabath ibn Ashyam al-Laythi (رضي الله عنه) said: The Messenger of Allah ﷺ said: > **"The promise is a gift."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت قباث بن اشیم لیثی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ وعدہ ‘ عطیہ ہوتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی اصبغ بن عبدالعزیز لیثی ہے ‘ ابوحاتم کہتے ہیں : یہ مجہول ہے ۔

6835

Majma al-Zawaid #6835

عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو فَسَأَلَنِي، وَهُوَ يَظُنُّ أَنِّي لِأُمِّ كُلْثُومٍ بِنْتِ عُقْبَةَ، فَقُلْتُ: إِنَّمَا أَنَا الْكَلْبِيَّةُ. فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -[بَيْتِي] فَقَالَ: «أَلَمْ أُخْبَرْ أَنَّكَ تَقْرَأُ الْقُرْآنَ فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ؟ ["" فَاقْرَأَهْ فِي كُلِّ شَهْرٍ "" قَالَ: قُلْتُ: إِنِّي أَقْوَى عَلَى أَكَثَرَ مِنْ ذَلِكَ، قَالَ: "" فَاقْرَأَهُ فِي كُلِّ نِصْفِ شَهْرٍ "" قَالَ: قُلْتُ: إِنِّي أَقْوَى عَلَى أَكَثَرَ مِنْ ذَلِكَ، قَالَ: "" فَاقْرَأَهُ فِي كُلِّ سَبْعٍ، لَا تَزِيدَنَّ، وَبَلَغَنِي أَنَّكَ تَصُومُ الدَّهْرَ "" قَالَ: قُلْتُ: إِنِّي لَأَصُومُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: "" فَصُمْ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ "" قَالَ: قُلْتُ: إِنِّي أَقْوَى عَلَى أَكَثَرَ مِنْ ذَلِكَ، قَالَ: "" فَصُمْ مِنْ كُلِّ جُمْعَةٍ يَوْمَيْنِ "" قَالَ قُلْتُ إِنِّي أَقْوَى عَلَى أَكَثَرَ مِنْ ذَلِكَ قَالَ] فَصُمْ صَوْمَ دَاوُدَ يَوْمًا وَأَفْطِرْ يَوْمًا، فَإِنَّهُ أَعْدَلُ الصِّيَامِ عِنْدَ اللَّهِ، وَكَانَ لَا يُخْلِفُ إِذَا وَعَدَ [وَلَا يُخْلِفُ إِذَا لَاقَى]». قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ خَلَا قَوْلِهِ: "" وَكَانَ لَا يُخْلِفُ إِذَا وَعَدَ "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، وَهُوَ ثِقَةٌ، وَلَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abu Salamah ibn Abd al-Rahman (رحمه الله) said: I entered upon Abdullah ibn Amr (رضي الله عنهما) and he asked me, thinking I belonged to Umm Kulthum bint Uqbah, so I said: I am only of Kalbiyyah. Abdullah said: The Messenger of Allah ﷺ entered upon me in my house and said: I said: I am stronger than that. He said: I said: I am stronger than that. He said: I said: I do fast it, O Messenger of Allah. He said: I said: I am stronger than that. He said: I said: I am stronger than that. He said: > **"Have I not been informed that you recite the Quran every day and night? Recite it in every month."** > **"Then recite it in every half month."** > **"Then recite it in every seven, and do not increase. And it has reached me that you fast perpetually."** > **"Then fast three days of every month."** > **"Then fast two days of every week."** > **"Then fast the fast of Dawud, a day and break a day, for it is the most just fasting with Allah. And he would not break when he promised, nor flee when he met."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوسلمہ بن عبدالرحمن بیان کرتے ہیں : میں حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا ‘ میں نے ان سے دریافت کیا : وہ یہ گمان کر رہے تھے کہ میں اُم کلثوم بنت عقبہ کا بیٹا ہوں ، میں نے کہا : میں کلبیہ ہوں ‘ تو حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ میرے پاس میرے گھر تشریف لائے ‘ آپ نے فرمایا : مجھے یہ بات پتہ چلی ہے کہ تم روزانہ ایک دن اور ایک رات میں پورا قرآن پڑھ لیتے ہو ؟ تم مہینے میں ایک مرتبہ پورا قرآن پڑھا کرو ‘ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نے عرض کی : میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم نصف مہینے میں پورا پڑھ لیا کرو ‘ میں نے عرض کی : میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم ایک ہفتے میں پورا پڑھ لیا کرو ‘ اس سے زیادہ نہیں ‘ اور مجھے یہ بات پتہ چلی ہے کہ تم روزانہ روزہ رکھ لیتے ہو ‘ میں نے عرض کی : جی ہاں ! میں روزہ رکھتا ہوں ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم ہر مہینے میں تین روزے رکھا کرو ‘ میں نے عرض کی : میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں ‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم ہر ہفتے میں دو دن روزہ رکھ لیا کرو ‘ میں نے عرض کی : میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : پھر تم حضرت داؤد علیہ السلام کے طریقے کے مطابق ایک دن روزہ رکھا کرو اور ایک دن نہ رکھا کرو ‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک یہ روزہ رکھنے کا سب سے مناسب طریقہ ہے اور حضرت داؤد علیہ السلام جب کوئی وعدہ کرتے تھے ‘ تو اس کی خلاف ورزی نہیں کرتے تھے ‘ اور جب دشمن کا سامنا کرتے تھے ‘ تو پیچھے نہیں ہٹتے تھے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ’’ صحیح ‘‘ میں مذکور ہے ‘ تاہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں : ” جب وہ وعدہ کرتے تھے ‘ تو اس کی خلاف ورزی نہیں کرتے تھے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن اسحاق ہے اور وہ ثقہ ہے ‘ لیکن وہ تدلیس کرنے والا ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

6836

Majma al-Zawaid #6836

وَعَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: «مَنْ شَرَطَ لِأَخِيهِ شَرْطًا لَا يُرِيدُ أَنْ يَفِيَ لَهُ بِهِ فَهُوَ كَالْمُدْلِي جَارَهُ إِلَى غَيْرِ مَنَعَةٍ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ ثِقَةٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Hudhayfah (رضي الله عنه) said: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: > **"Whoever stipulates for his brother a condition he does not intend to fulfil for him is like one who lets his neighbour down to no protection."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جو شخص اپنے بھائی کے ساتھ کوئی ایسی شرط طے کرے ‘ جسے پورا کرنے کا اس کا ارادہ نہ ہو ‘ تو وہ ایسے شخص کی مانند ہے ‘ جو اپنے پڑوی کو کسی ایسے ضرر میں مبتلا کر دے ‘ جس کو وہ ( پڑوی اپنے آپ سے ) نہ روک سکے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے ‘ وہ تدلیس کرنے والا ہے ‘ لیکن ثقہ ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

6837

Majma al-Zawaid #6837

«عَنِ الْجَارُودِ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ - أَوْ قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ - اللُّقَطَةُ نَجِدُهَا؟ قَالَ: " انْشُدْهَا، وَلَا تَكْتُمْ، وَلَا تُغَيِّبْ، فَإِنْ وَجَدْتَ رَبَّهَا فَادْفَعْهَا إِلَيْهِ وَإِلَّا فَمَالُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ».

EnglishUnverified translation

Al-Jarud (رضي الله عنه) said: I said — or a man said — O Messenger of Allah, a find we find? He said: > **"Announce it, do not conceal nor hide. If you find its owner, then hand it to him; otherwise it is the property of Allah which He gives to whom He wills."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جارود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ( راوی کو شک ہے ) یا کسی شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اگر ہمیں کوئی گمشدہ چیز مل جاتی ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا :’’ تم اس کا اعلان کرو ‘ تم اسے چھپاؤ نہیں ، تم اسے پوشیدہ نہ رکھو ‘ اگر اس کا مالک مل جاتا ہے ‘ تو وہ اس کے سپرد کر دو ‘ ورنہ یہ وہ مال ہے ‘ جسے اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے ‘ دے دیتا ہے ‘‘۔

6838

Majma al-Zawaid #6838

وَفِي رِوَايَةٍ عَنِ الْجَارُودِ أَيْضًا قَالَ: «بَيْنَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ، وَفِي الظَّهْرِ قِلَّةٌ. إِذَا تَذَكَّرَ الْقَوْمُ الظَّهْرَ. فَقُلْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَدْ عَلِمْتَ مَا تَلَقَّيْنَاهُ مِنَ الظَّهْرِ. قَالَ: "" وَمَا يَكْفِينَا؟ "". قُلْتُ: ذُودٌ نَأْتِي عَلَيْهِ فِي جَرْفٍ فَنَسْتَمْتِعُ بِظُهُورِهِنَّ. قَالَ: "" لَا؛ ضَالَّةُ الْمُسْلِمِ حَرَقُ النَّارِ فَلَا يَقْرَبَنَّهَا ضَالَّةُ الْمُسْلِمِ حَرَقُ النَّارِ فَلَا يَقْرَبَنَّهَا». فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ بِأَسَانِيدَ رِجَالُ بَعْضِهَا رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Al-Jarud (رضي الله عنه) also said in a narration: While we were with the Messenger of Allah ﷺ on one of his journeys, with few mounts, the people recalled mounts. So I said to the Messenger of Allah ﷺ: You know what we suffer of mounts. He said: I said: Camels we shall come upon at Jurf, so we may benefit by their backs. He said: Then he mentioned the hadith. > **"And what suffices us?"** > **"No; the stray of the Muslim is a brand of Fire, let him not approach it. The stray of the Muslim is a brand of Fire, let him not approach it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جارود رضی اللہ عنہ ہی کے حوالے سے ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : وہ یہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ہم نبی اکرم ﷺ کے ساتھ سفر کر رہے تھے ‘ سواری کے جانور کم تھے ‘ اسی دوران لوگوں نے سواری کے جانوروں کا ذکر کیا ، تو میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! جانوروں کے حوالے سے ہمیں جو صورت حال لاحق ہے ‘ وہ آپ کے علم میں ہے ‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کیا چیز ہمارے لئے کفایت کر سکتی ہے ؟ میں نے عرض کی : جرف کے مقام پر جب ہم آئیں گے تو کچھ اونٹ ملیں گے ‘ اگر ہم ان کی پشتوں کے ذریعے نفع حاصل کر لیں ( یعنی سواری کے استعمال میں لے آئیں ‘ تو یہ مناسب ہو گا ) نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جی نہیں ! مسلمان کی گمشدہ چیز آگ کا الاؤ ہے ‘ اس کے ہرگز قریب نہیں جانا ‘ مسلمان کی گمشدہ چیز آگ کا الاؤ ہے ‘ اس کے ہرگز قریب نہیں جانا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ‘ جس میں سے بعض کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

6839

Majma al-Zawaid #6839

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سُئِلَ عَنِ اللُّقَطَةِ فَقَالَ: "" تُعَرَّفُ، وَلَا تُغَيَّبُ، وَلَا تُكْتَمُ، فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا وَإِلَّا فَهُوَ مَالُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah (رضي الله عنه) reported that the Messenger of Allah ﷺ was asked about the find, and he said: > **"It is announced, not hidden nor concealed. If its owner comes, well, otherwise it is the property of Allah which He gives to whom He wills."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ سے گمشدہ ملنے والی چیز کے بارے میں دریافت کیا گیا ‘ تو آپ نے فرمایا : اس کا اعلان کیا جائے گا ‘ اسے پوشیدہ نہیں رکھا جائے گا ‘ اسے چھپایا نہیں جائے گا ‘ اگر اس کا مالک آ جاتا ہے ‘ تو ٹھیک ہے ‘ ورنہ یہ اللہ کا مال ہے ‘ وہ یہ مال جسے چاہے دیدیتا ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

6840

Majma al-Zawaid #6840

وَعَنْ عِصْمَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ضَالَّةُ الْمُسْلِمِ حَرَقُ النَّارِ "" ثَلَاثَ مَرَّاتٍ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ أَحْمَدُ بْنُ رَاشِدٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ismah (رضي الله عنه) said: The Messenger of Allah ﷺ said, three times: > **"The stray of the Muslim is a brand of Fire."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عصمہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ مسلمان کی گمشدہ چیز آگ کا الاؤ ہے ‘‘ یہ بات آپ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی احمد بن راشد ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

6841

Majma al-Zawaid #6841

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَسُئِلَ عَنْ ضَالَّةِ الْغَنَمِ فَقَالَ: "" هِيَ لَكَ أَوْ لِأَخِيكَ أَوْ لِلذِّئْبِ "". وَسُئِلَ عَنْ ضَالَّةِ الْإِبِلِ فَقَالَ: "" مَا لَكَ وَلَهَا؟ مَعَهَا سِقَاؤُهَا - أَوْ سِقَاؤُهُ - وَحِذَاؤُهُ، دَعْهُ حَتَّى يَجِدَهُ رَبُّهُ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah (رضي الله عنه) said: The Messenger of Allah ﷺ was asked about the stray sheep and said: And he was asked about the stray camel and said: > **"It is for you or for your brother or for the wolf."** > **"What have you to do with it? With it are its water-vessel and its shoes. Leave it until its owner finds it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ سے گمشدہ بکری کے بارے میں دریافت کیا گیا ، تو آپ نے ارشاد فرمایا : وہ تمہیں ملے گی ‘ یا تمہارے بھائی کو ملے گی ‘ یا بھیڑیئے کو مل جائے گی ‘ آپ سے گمشدہ اونٹ کے بارے میں دریافت کیا گیا ، تو آپ نے فرمایا : تمہارا اُس کے ساتھ کیا واسطہ ہے ؟ اس کا پیٹ اس کے ساتھ ہے ‘ اس کے پاؤں اس کے ساتھ ہیں ، تم اسے ایسے ہی رہنے دو ‘ یہاں تک کہ اس کا مالک اُس کو پا لے ۔ یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

6842

Majma al-Zawaid #6842

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَحِلُّ اللُّقَطَةُ. مَنِ الْتَقَطَ شَيْئًا فَلْيُعَرِّفْهُ، فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا فَلْيَرُدَّهَا إِلَيْهِ، فَإِنْ لَمْ يَأْتِ فَلْيَتَصَدَّقْ بِهَا، فَإِنْ جَاءَ فَلْيُخَيِّرْهُ بَيْنَ الْأَجْرِ وَبَيْنَ الَّذِي لَهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ، وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ يُوسُفُ بْنُ خَالِدٍ السَّمْتِيُّ، وَهُوَ كَذَّابٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah (رضي الله عنه) said: The Messenger of Allah ﷺ said: > **"The find is not lawful. Whoever picks up anything, let him announce it. If its owner comes, let him return it to him. If he does not come, let him give it in charity. If he then comes, let him give him choice between the reward and what belongs to him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ گمشدہ ملنے والی چیز حلال نہیں ہے ‘ جو شخص ایسی کوئی چیز اٹھاتا ہے وہ اس کا اعلان کرے گا ‘ اگر اس کا مالک آ جاتا ہے ‘ تو وہ اس چیز کو اس کے حوالے کر دے گا اور اگر اس کا مالک نہیں آتا ‘ تو پھر وہ اس چیز کو صدقہ کر دے گا ، پھر اگر اس کا مالک آ جاتا ہے ‘ تو وہ اس مالک کو اجر ‘ یا اس چیز کو واپس کیے جانے کے درمیان اختیار دیدے گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی یوسف بن خالد سمتی ہے اور وہ کذاب ہے ۔

6843

Majma al-Zawaid #6843

وَعَنْ أَبِي وَائِلٍ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ قَالَ: اشْتَرَى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ جَارِيَةً مِنْ رَجُلٍ بِسِتِّمِائَةٍ أَوْ بِسَبْعِمِائَةِ دِرْهَمٍ فَنَشَدَهُ سَنَةً لَا يَجِدُهُ، ثُمَّ خَرَجَ بِهَا إِلَى الشِّدَّةِ فَتَصَدَّقَ بِهَا مِنْ دِرْهَمٍ وَدِرْهَمَيْنِ عَنْ رَبِّهَا، فَإِنْ جَاءَ [صَاحِبُهَا] خَيَّرَهُ، فَإِنِ اخْتَارَ الْأَجْرَ كَانَ لَهُ، وَإِنِ اخْتَارَ مَالَهُ كَانَ لَهُ مَالُهُ. ثُمَّ قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: هَكَذَا فَافْعَلُوا بِاللُّقَطَةِ .. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ عَامِرُ بْنُ شَقِيقٍ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَالنَّسَائِيُّ، وَضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ.

EnglishUnverified translation

Abu Wail Shaqiq ibn Salamah (رحمه الله) said: Abdullah ibn Masud (رضي الله عنه) bought a slave-girl from a man for six hundred or seven hundred dirhams, then sought him for a year and did not find him. Then he went out with her to hardship and gave her in charity, dirham by dirham, on behalf of her owner. If her owner comes he will give him choice: if he chooses the reward it is his, and if he chooses his property it is his. Then Ibn Masud said: Do thus with the find.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابووائل شقیق بن سلمہ بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ایک شخص سے چھ سو ‘ یا شاید سات سو درہم کے عوض میں ایک کنیز خریدی ‘ پھر وہ ایک سال تک اس کا اعلان کرتے رہے ‘ لیکن وہ مالک انہیں نہیں ملا ‘ پھر وہ اس کنیز کو لے کر شدت کی طرف گئے اور ایک یا دو درہم کے عوض میں اس کے مالک کی طرف سے اسے صدقہ کر دیا ‘ اگر اس کا مالک آیا ‘ تو وہ اس کو اختیار دے دیں گے ‘ اگر وہ اجر کو اختیار کر لے گا ‘ تو وہ اسے مل جائے گا اور اگر وہ مال کو اختیار کرے گا ‘ تو وہ مال اسے ملے گا ‘ پھر حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : گمشدہ ملنے والی چیز کے ساتھ تمہیں اس طرح کرو ! ( یہاں مطبوعہ عربی متن میں بھی اسی طرح مذکور ہے ‘ لیکن شاید ناسخ یا کاتب سے سہو ہوا ہے ‘ کیونکہ روایت مکمل اور مربوط نہیں ہے ) ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی عامر بن شقیق ہے ‘ جسے ابن حبان نے اور امام نسائی نے ثقہ قرار دیا ہے ‘ جبکہ یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا ہے ۔

6844

Majma al-Zawaid #6844

«وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ الشَّاةِ قَالَ: "" لَكَ أَوْ لِأَخِيكَ أَوْ لِلذِّئْبِ "". وَسَأَلْتُهُ عَنِ الْبَعِيرِ، وَكَانَ إِذَا غَضِبَ عُرِفَ ذَلِكَ فِي حُمْرَةِ وَجْنَتِهِ، قَالَ: "" مَا لَكَ وَلَهُ؟ مَعَهُ سِقَاؤُهُ وَحِذَاؤُهُ يَرِدُ الْمَاءَ وَيَصْدُرُ الْكَلَأَ، خَلِّ سَبِيلَهُ حَتَّى يَلْقَاهُ رَبُّهُ "". وَسَأَلْتُهُ عَنِ اللُّقَطَةِ فَقَالَ: "" عَرِّفْهَا، ثُمَّ أَوْثِقْ وِكَاءَهَا وَصِرَارَهَا، فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا فَأَدِّهَا إِلَيْهِ، وَإِلَّا فَشَأْنُكَ بِهَا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ. وَعُقْبَةُ بْنُ سُوَيْدٍ مَسْتُورٌ لَمْ يُضَعِّفْهُ أَحَدٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Uqbah ibn Suwayd, from his father (رضي الله عنه), said: I asked the Messenger of Allah ﷺ about the sheep. He said: And I asked him about the camel — and when he grew angry it was known by redness of his cheeks — he said: And I asked him about the find, and he said: > **"For you or for your brother or for the wolf."** > **"What have you to do with it? With it are its water-vessel and its shoes; it comes to water and goes to herbage. Leave its way until its owner meets it."** > **"Announce it, then bind its knot and its bag. If its owner comes, hand it to him; otherwise it is yours."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عقبہ بن سوید ‘ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ سے بکری کے بارے میں دریافت کیا ‘ تو آپ نے فرمایا : وہ یا تمہیں ملے گی ‘ یا تمہارے کسی بھائی کو ملے گی ‘ یا بھیڑیے کو ملے گی ‘ میں نے آپ سے اونٹ کے بارے میں دریافت کیا ، تو آپ غصے میں آ گئے ‘ جب آپ غصے میں آتے تھے ‘ تو آپ کے کنپٹیوں پر سرخی سے اس کا پتہ چل جاتا تھا ‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تمہارا اس کے ساتھ کیا واسطہ ہے ؟ اس کا پیٹ اور اس کے پاؤں اس کے ساتھ ہیں ‘ وہ پانی تک چلا جائے گا ‘ گھاس تک پہنچ جائے گا ‘ تم اس کا راستہ چھوڑ دو ‘ یہاں تک کہ اس کا مالک آ جائے ۔ میں نے آپ سے گمشدہ چیز کے ملنے کے بارے میں دریافت کیا ، تو آپ نے فرمایا : تم اس کی پہچان کر کے ‘ اُس کے منہ اور تھیلی کو باندھ دو ‘ اگر اس کا مالک آ جائے ‘ تو وہ اسے ادا کر دینا ‘ ورنہ تم اسے استعمال کر لینا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ عقبہ بن سوید نامی راوی مستور ہے ، کسی نے اسے ضعیف قرار نہیں دیا ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

6845

Majma al-Zawaid #6845

«وَعَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ: "" نُوَيْبِتَةٌ "" قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، نُوَيْبِتَةُ خَيْرٍ أَوْ نُوَيْبِتَةُ شَرٍّ؟. قَالَ: "" لَا بَلْ نُوَيْبِتَةُ خَيْرٍ "". قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، خَرَجْتُ مَعَ عَمٍّ لِي فِي سَفَرٍ فَأَدْرَكَهُ الْحَفَاءُ، فَقَالَ: أَعِرْنِي حِذَاءَكَ. قُلْتُ: أُعِيرُكُهَا أَوْ تُزَوِّجُنِي ابْنَتَكَ. قَالَ: قَدْ زَوَّجْتُكَهَا. فَلَمَّا أَتَيْنَا أَهْلَهَا بَعَثَ إِلَيَّ بِحِذَائِي وَقَالَ: لَا امْرَأَةَ لَكَ عِنْدَنَا. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" لَا خَيْرَ لَكَ فِيهَا "". قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ نَذَرْتُ نَذْرًا أَنْ أَنْحَرَ ذُودًا لِي عَلَى صَنَمٍ لِي مِنْ أَصْنَامِ الْجَاهِلِيَّةِ. قَالَ: "" أَوْفِ بِنَذْرِكَ، وَلَا تَأْثَمْ بِرَبِّكَ "". ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" لَا وَفَاءَ لِنَذْرٍ فِي مَعْصِيَةٍ، وَلَا قَطِيعَةِ رَحِمٍ، وَلَا فِيمَا لَا يَمْلِكُ "". قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الْوَرَقُ يُوجَدُ عِنْدَ الْقَرْيَةِ الْعَامِرَةِ أَوِ الطَّرِيقِ الْمَأْتِيِّ؟ قَالَ: "" عَرِّفْهَا حَوْلًا، فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا فَادْفَعْهَا إِلَيْهِ، وَإِلَّا فَأَحْصِ وِكَاءَهَا وَوِعَاءَهَا وَعَدَدَهَا، ثُمَّ اسْتَمْتَعَ بِهَا "". قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ الشَّاةُ نَجِدُهَا بِأَرْضِ الْفَلَاةِ؟ قَالَ: "" كُلْهَا، فَإِنَّمَا هِيَ لَكَ أَوْ لِأَخِيكَ أَوْ لِلذِّئْبِ "". قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ النَّاقَةُ أَوِ الْبَعِيرُ تُوجَدُ بِأَرْضِ الْفَلَاةِ عَلَيْهَا الْوِعَاءُ وَالسِّقَاءُ. قَالَ: "" خَلِّ عَنْهَا مَا لَكَ وَلَهَا» فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. وَبَعْضُهُ فِي السُّنَنِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ أَبُو فَرْوَةَ يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ وَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ وَغَيْرُهُ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Thalabah (رضي الله عنه) said: I came to the Messenger of Allah ﷺ and asked him, and he said: I said: O Messenger of Allah, a sprout of good or a sprout of evil? He said: I said: O Messenger of Allah, I went out with an uncle of mine on a journey and he suffered barefootedness. He said: Lend me your shoes. I said: I shall lend them on condition you marry me to your daughter. He said: I have married her to you. When we came to his family he sent me my shoes and said: You have no wife with us. So the Messenger of Allah ﷺ said: I said: O Prophet of Allah, I vowed to slaughter camels of mine upon an idol of mine from the idols of Jahiliyyah. He said: Then the Messenger of Allah ﷺ said: I said: O Messenger of Allah, silver found near an inhabited village or a frequented road? He said: I said: O Prophet of Allah, a sheep we find in desert land? He said: I said: O Prophet of Allah, a she-camel or camel found in desert land with vessel and water-skin upon it? He said: And he mentioned the hadith, some of it in the Sunan. > **"A small sprout."** > **"No, rather a sprout of good."** > **"There is no good for you in her."** > **"Fulfil your vow, and do not sin against your Lord."** > **"There is no fulfilment of a vow in disobedience, nor severing of kin, nor in what one does not own."** > **"Announce it a year. If its owner comes, hand it to him; otherwise count its knot, its vessel and its number, then enjoy it."** > **"Eat it, for it is only for you or for your brother or for the wolf."** > **"Leave it alone; what have you to do with it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوثعلبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ‘ میں نے آپ سے سوال کیا ‘ تو آپ نے فرمایا : چھوٹا معاملہ ‘ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ معاملہ بھلائی والا ہے ‘ یا برائی والا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جی نہیں ! بلکہ بھلائی والا ہے ۔ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں اپنے چچا کے ساتھ سفر پر نکلا ‘ انہیں جوتوں کی ضرورت پڑ گئی ‘ انہوں نے مجھ سے کہا : تم مجھے جوتے عاریت کے طور پر دے دو ‘ میں نے کہا : اس شرط پر میں آپ کو عاریت کے طور پر دوں گا کہ آپ میری شادی اپنی بیٹی کے ساتھ کر دیں گے ‘ انہوں نے کہا : میں نے اس کے ساتھ تمہاری شادی کر دی ‘ جب ہم گھر پہنچ گئے ، تو انہوں نے میرے جوتے مجھے بھجوا دیے اور بولے : تمہارے لیے ہمارے پاس کوئی عورت نہیں ہے ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تمہارے لئے اس ( عورت ) میں کوئی بھلائی نہیں ہے ۔ میں نے عرض کی : اے اللہ ! کے نبی ! زمانہ جاہلیت میں ‘ میں نے یہ نذر مانی تھی کہ میں اپنے اونٹ کو اپنے بت پر قربان کروں گا ‘ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم اپنی نذر پوری کر لو لیکن تم اپنے پروردگار کی نافرمانی نہ کرو ‘ پھر آپ نے ارشاد فرمایا : معصیت کے بارے میں ، قطع رحمی کے بارے میں ‘ اور آدمی جس چیز کا مالک نہ ہو ‘ اُس کے بارے میں نذر کو پورا کرنا لازم نہیں ہوتا ۔ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ایک چاندی ‘ جو آباد بستی کے پاس یا عام گزرگاہ میں ملتی ہے ‘ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم ایک سال تک اس کا اعلان کرو ‘ اس کا مالک آ جاتا ہے ‘ تو وہ تم اس کے سپرد کر دو گے ‘ ورنہ تم اس کے بندھن ‘ اس کی تھیلی اور اس کی تعداد کو شمار کر لو گے اور پھر اس کو استعمال کر لو گے ۔ میں نے عرض کی : اے اللہ ! کے نبی ! اگر بے آب و گیاہ جگہ پر ایک بکری مل جاتی ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم اسے کھا لینا ‘ کیونکہ وہ ‘ یا تو تمہیں ملے گی ‘ یا تمہارے کسی بھائی کو ملے گی ‘ یا بھیڑیے کو ملے گی ۔ میں نے عرض کی : اے اللہ ! کے نبی ! کوئی اونٹنی یا اونٹ بے آب و گیاہ جگہ پر مل جاتے ہیں اور اس جانور پر مشکیزہ اور دیگر سامان موجود ہوتا ہے ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم اسے ویسے ہی رہنے دینا ‘ تمہارا اس کے ساتھ کوئی واسطہ نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ‘ جس کا کچھ حصہ ’’ سنن ‘‘ میں منقول ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ابوفروہ سنان بن یزید ہے ‘ جسے ابوحاتم اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا ہے ۔

6846

Majma al-Zawaid #6846

وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا مِنْ كِتَابٍ يُلْقَى بِمَضْيَعَةٍ مِنَ الْأَرْضِ إِلَّا بَعَثَ اللَّهُ إِلَيْهِ مَلَائِكَةً يَحُفُّونَهُ بِأَجْنِحَتِهِمْ وَيُقَدِّسُونَهُ حَتَّى يَبْعَثَ اللَّهُ إِلَيْهِ وَلِيًّا مِنْ أَوْلِيَائِهِ يَرْفَعُهُ مِنَ الْأَرْضِ وَمَنْ رَفَعَ كِتَابًا فِيهِ اسْمٌ مِنْ أَسْمَاءِ اللَّهِ رَفَعَ اللَّهُ اسْمَهُ فِي عِلِّيِّينَ وَخَفَّفَ عَنْ وَالِدَيْهِ الْعَذَابَ، وَإِنْ كَانَا كَافِرَيْنِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ، وَفِيهِ الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ الْغَفَّارِ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Ali ibn Abi Talib (رضي الله عنه) said: The Messenger of Allah ﷺ said: > **"There is no writing cast in a waste place of the earth except Allah sends to it angels sheltering it with their wings and sanctifying it, until Allah sends to it a wali from His awliya who lifts it from the earth. Whoever lifts a writing wherein is a Name from the Names of Allah, Allah lifts his name in Illiyyun and lightens the punishment from his parents, even if they are disbelievers."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ جو بھی تحریر زمین پر گر جاتی ہے ‘ تو اللہ تعالیٰ اس کی طرف فرشتوں کو بھیج دیتا ہے ‘ تو وہ اپنے پروں کے ذریعے اسے ڈھانپ دیتے ہیں اور اسے پاک و صاف کر دیتے ہیں ، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنے ولیوں میں سے ایک ولی اس کی طرف بھیج دیتا ہے ‘ جو اسے زمین سے اٹھاتا ہے ‘ اور جو شخص بھی ایسی تحریر اٹھاتا ہے ، جس میں اللہ تعالیٰ کا کوئی اسم موجود ہو تو اللہ تعالیٰ ’’ علیین ‘‘ میں اس کا نام بلند کرتا ہے ‘ اور اس کے ماں باپ سے عذاب میں تخفیف کر دیتا ہے ‘ اگرچہ اس کے ماں باپ کافر ہی کیوں نہ ہوں ۔“ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی حسین بن عبدالغفار ہے اور وہ متروک ہے ۔

6847

Majma al-Zawaid #6847

وَعَنْ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنِ الْتَقَطَ لُقَطَةً يَسِيرَةً دِرْهَمًا أَوْ حَبْلًا أَوْ شِبْهَ ذَلِكَ فَلْيُعَرِّفْهُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، فَإِنْ كَانَ فَوْقَ ذَلِكَ فَلْيُعَرِّفْهُ سِتَّةَ أَيَّامٍ». رَوَاهُ أَحْمَدُ مِنْ طَرِيقِ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَعْلَى، فَإِنْ كَانَ عَمْرًا فَلَا أَعْرِفُهُ، وَإِنْ كَانَ عُمَرَ فَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Yala ibn Murrah (رضي الله عنه) said: The Messenger of Allah ﷺ said: > **"Whoever picks up a small find, a dirham or a rope or the like, let him announce it three days. If more than that, let him announce it six days."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت یعلی بن مرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص معمولی سی گمشدہ چیز اٹھا لیتا ہے ‘ جو ایک درہم ہو ‘ یا رسی ہو ‘ یا اس کی مانند کوئی ہو ‘ تو وہ تین دن تک اس کا اعلان کرے گا ‘ اور اگر اس سے اوپر کوئی چیز ہو ‘ تو پھر وہ چھ دن تک اس کا اعلان کرے گا “۔ یہ روایت امام احمد نے عمرو بن عبداللہ بن یعلی کے حوالے سے نقل کی ہے اگر تو یہ عمرو ہے ‘ تو پھر میں اس سے واقف نہیں ہوں اور اگر یہ عمر ہے ‘ تو پھر یہ ضعیف ہے ۔

6848

Majma al-Zawaid #6848

وَعَنْ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «مَنِ الْتَقَطَ لُقَطَةً يَسِيرَةً ثَوْبًا أَوْ شَبْهَهُ فَلْيُعَرِّفْهُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَمَنِ الْتَقَطَ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ سِتَّةَ أَيَّامٍ، فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا وَإِلَّا فَلْيَتَصَدَّقْ بِهَا، فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا فَلْيُخَيِّرْهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَعْلَى، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Yala ibn Murrah (رضي الله عنه) reported from the Prophet ﷺ who said: > **"Whoever picks up a small find, a garment or the like, let him announce it three days. Whoever picks up more than that, six days. If its owner comes, well, otherwise let him give it in charity. If its owner comes, let him give him choice."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت یعلی بن مرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جو شخص کسی معمولی سی گمشدہ چیز کو پاتا ہے جیسے کپڑا یا اس کی مانند کوئی چیز ہے ‘ تو پھر وہ تین دن تک اس کا اعلان کرے گا اور جو اس سے زیادہ قیمت والی کوئی گمشدہ چیز پاتا ہے ‘ تو وہ چھ دن تک اعلان کرے گا اگر اس کا مالک آ جاتا ہے ‘ تو ٹھیک ہے ورنہ وہ اس کو صدقہ کر دے گا پھر اگر اس کا مالک آ جاتا ہے ‘ تو وہ شخص اس کو اختیار دے گا “۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عمر بن عبداللہ بن یعلی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

6849

Majma al-Zawaid #6849

«وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ وَجَدَ دِينَارًا فِي السُّوقِ فَأَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" عَرِّفْهُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ "". قَالَ: فَعَرَّفَهُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ فَلَمْ يَجِدْ مَنْ يَعْرِفُهُ فَرَجَعَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرَهُ فَقَالَ: "" شَأْنُكَ "". قَالَ: فَبَاعَهُ عَلِيٌّ فَابْتَاعَ مِنْهُ بِثَلَاثَةِ دَرَاهِمَ شَعِيرًا وَبِثَلَاثَةِ دَرَاهِمَ تَمْرًا، وَقَضَى ثَلَاثَةَ دَرَاهِمَ، وَابْتَاعَ بِدِرْهَمٍ لَحْمًا، وَابْتَاعَ بِدِرْهَمٍ زَيْتًا. وَكَانَ الدِّينَارُ بِأَحَدَ عَشَرَ دِرْهَمًا. فَلَمَّا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ جَاءَ صَاحِبُهُ فَعَرَفَهُ فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ: قَدْ أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. فَانْطَلَقَ صَاحِبُ الدِّينَارِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ لِعَلِيٍّ: "" رُدَّهُ "". قَالَ: قَدْ أَكَلْتُهُ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِلرَّجُلِ: "" إِذَا جَاءَنَا شَيْءٌ أَدَّيْنَاهُ إِلَيْكَ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَأَبُو يَعْلَى بِنَحْوِهِ، وَقَدْ رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ بِغَيْرِ سِيَاقِهِ بِاخْتِصَارٍ أَيْضًا، وَفِيهِ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي سَبْرَةَ، وَهُوَ وَضَّاعٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Said al-Khudri (رضي الله عنه) reported that Ali ibn Abi Talib (رضي الله عنه) found a dinar in the market and came to the Prophet ﷺ, who said: So he announced it three days and found none who knew it. He returned to the Messenger of Allah ﷺ and informed him, and he said: So Ali sold it and bought with it barley for three dirhams and dates for three dirhams, settled three dirhams of debt, bought meat for a dirham and oil for a dirham; and the dinar was eleven dirhams. After that its owner came and knew it, so Ali said to him: The Messenger of Allah ﷺ commanded me. The owner of the dinar went to the Messenger of Allah ﷺ and mentioned that to him, so he said to Ali: He said: I have consumed it. So the Messenger of Allah ﷺ said to the man: > **"Announce it three days."** > **"It is yours."** > **"Return it."** > **"When anything comes to us, we shall pay you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نے بازار میں ایک دینار پایا ‘ وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم تین دن تک اس کا اعلان کرو راوی بیان کرتے ہیں : حضرت علی رضی اللہ عنہ نے تین دن تک اس کا اعلان کیا لیکن انہیں کوئی ایسا شخص نہیں ملا جو اس کی شناخت کر لیتا وہ واپس نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے اور آپ کو اس بارے میں بتایا تو آپ نے فرمایا : تم اسے استعمال کر لو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اسے فروخت کر دیا اور اس میں سے تین درہم کے جو خرید لئے تین درہم کی کھجوریں خرید لیں تین درہم کا قرض ادا کر دیا ایک درہم کا گوشت خرید لیا ایک درہم کا زیتون کا تیل خرید لیا ان دنوں ایک دینار گیارہ درہم کا ہوتا ہے اس کے بعد اس دینار کا مالک آ گیا اور اس نے اس دینار کی شناخت بیان کر دی ‘ تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا اللہ کے رسول نے مجھے حکم دیا تھا ( تو میں نے اسے خرچ کر لیا ) دینار کا مالک نبی اکرم ﷺ کے پاس گیا اور آپ کے سامنے یہ بات ذکر کی کہ تو آپ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا تم اسے واپس کرو انہوں نے عرض کی : میں نے تو وہ خرچ کر لیا ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے اس شخص سے فرمایا جب ہمارے پاس کوئی چیز آے گی تو ہم تمہیں ادائیگی کر دیں گے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور امام ابویعلیٰ نے اس کی مانند نقل کی ہے امام ابوداؤد نے اس سے اختصار کے ساتھ اس سیاق کے بغیر نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابوبکر بن ابوسبرہ ہے اور وہ روایت ایجاد کرنے والا ہے ۔