«وَعَنْ مِخْوَلٍ النَّهْدَيِّ، ثُمَّ السُّلَمِيِّ، وَكَانَ قَدْ أَدْرَكَ الْجَاهِلِيَّةَ وَالْإِسْلَامَ قَالَ: نَصَبْتُ حَبَائِلَ لِي بِالْأَبْوَاءِ فَوَقَعَ فِي حَبْلٍ مِنْهَا ظَبْيٌ، فَانْقَلَبَ بِالْحَبْلِ، فَخَرَجْتُ فِي أَثَرِهِ أَقَفُوهُ، فَوَجَدْتُ رَجُلًا قَدْ أَخَذَهُ، فَتَنَازَعْنَا فِيهِ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَوَجَدْنَاهُ نَازِلًا بِالْأَبْوَاءِ تَحْتَ شَجَرَةٍ قَدِ اسْتَظَلَّ بِنِطْعٍ، فَقَضَى بِهِ بَيْنَنَا شَطْرَيْنِ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذِهِ حَبَائِلِي فِي رِجْلِهِ قَالَ: "" هُوَ ذَاكَ "" قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا كُنَّا نَأْتِي الْمَاءَ فَتَرِدُ عَلَيْنَا الْإِبِلُ وَهِيَ عِطَاشٌ، فَنَسْقِيهَا مِنَ الْمَاءِ هَلْ لَنَا فِي ذَلِكَ أَجْرٌ؟ قَالَ: "" نَعَمْ؛ لَكَ فِي كُلِّ ذَاتِ كَبِدٍ حَرَّى أَجْرٌ "". قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الْإِبِلُ الضَّوَالُ نَلْقَاهَا وَهِيَ مُصَرَّاةٌ وَنَحْنُ جِيَاعٌ؟ قَالَ: "" قُلْ: يَا صَاحِبَ الْإِبِلِ. فَإِنْ جَاءَ وَإِلَّا فَحُلَّ صِرَارَهَا، احْلُبْ وَاشْرَبْ، وَأَعِدْ صِرَارَهَا، وَأَبْقِ لِلَبَنِ دَوَاعِيَهُ "". ثُمَّ أَنْشَأَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يَكُونُ خَيْرَ الْمَالِ فِيهِ غَنَمٌ بَيْنَ الْمَسْجِدَيْنِ - يَعْنِي مَسْجِدَ الْمَدِينَةِ وَمَسْجِدَ مَكَّةَ - تَأْكُلُ الشَّجَرَ، وَتَرِدُ الْمِيَاهَ، يَأْكُلُ صَاحِبُهَا مِنْ سِلَائِهَا، وَيَلْبَسُ مِنْ أَصْوَافِهَا - أَوْ قَالَ: مِنْ أَشْعَارِهَا - وَالْفِتَنُ تَرْتَهِشُ بَيْنَ جَرَاثِيمِ الْعَرَبِ، وَالدِّمَاءُ تُسْفَكُ "". يَقُولُهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثَلَاثًا. قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَوْصِنِي. قَالَ: "" اتَّقِ اللَّهَ، وَأَقِمِ الصَّلَاةَ، وَآتِ الزَّكَاةَ، وَحُجَّ وَاعْتَمِرْ وَبِرَّ وَالِدَيْكَ، وَصِلْ رَحِمَكَ وَأَقْرِ الضَّيْفَ، وَأْمُرْ بِالْمَعْرُوفِ، وَانْهَ عَنِ الْمُنْكَرِ، وَزُلْ مَعَ الْحَقِّ حَيْثُ مَا زَالَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ مَسْمُولٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
EnglishUnverified translation
Mikhwal al-Nahdi, then al-Sulami, who had reached both Jahiliyyah and Islam (رضي الله عنه), said: I set my snares at al-Abwa, and a gazelle fell into one rope and carried off the rope. I went out in its tracks following it, and I found a man who had taken it. We disputed concerning it to the Prophet ﷺ, and we found him encamped at al-Abwa beneath a tree, shaded by leather. So he judged it between us in two halves. I said: O Messenger of Allah, this is my rope upon its leg. He said: I said: O Messenger of Allah, we come to water and thirsty camels come upon us; we give them water from the water — is there reward for us in that? He said: I said: O Messenger of Allah, the stray camels we meet, tied up, while we are hungry? He said: Then the Prophet ﷺ began to say: — or he said: from its hairs — The Messenger of Allah ﷺ said it three times. I said: O Messenger of Allah, advise me. He said: > **"It is that."** > **"Yes; for you in every living moist liver is reward."** > **"Call: O owner of the camels. If he comes, well, otherwise untie its binding, milk and drink, then restore its binding, and leave for the milk its callers."** > **"There will come upon people a time when the best property therein will be sheep between the two mosques — meaning the mosque of Madinah and the mosque of Makkah — eating trees and coming to waters. Its owner will eat from its fats and wear from its wools"** > **"while tribulations tremble among the hordes of the Arabs, and blood is shed."** > **"Fear Allah, establish prayer, give zakah, perform Hajj and Umrah, be dutiful to your parents, join your kin, honour the guest, command the good, forbid the evil, and remain with the truth wherever it remains."**
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
مخول نہدی ثم سلمی ، جنہیں زمانہ جاہلیت اور زمانہ اسلام ‘ دونوں نصیب ہوئے ہیں ‘ وہ بیان کرتے ہیں : میں نے ’’ ابواء ‘‘ کے مقام پر جال لگایا ‘ ایک رسی میں ایک ہرن کا بچہ پھنس گیا ‘ وہ اس رسی کو لے کے چل پڑا ‘ میں اس کے پیچھے پیچھے چل پڑا ‘ تو میں نے ایک شخص کو پایا کہ اس نے اسے پکڑ لیا تھا ‘ اس ہرن کے بارے میں ہم دونوں کے درمیان اختلاف ہوا ‘ ہم نے اپنا مقدمہ نبی اکرم ﷺ کے سامنے پیش کیا ، ہم نے آپ کو پایا کہ ’’ ابواء ‘‘ کے مقام میں ایک درخت کے نیچے پڑاؤ کیا ہوا تھا اور چمڑے کے ذریعے آپ پر سایہ کیا گیا تھا ، نبی اکرم ﷺ نے اس کے بارے میں یہ فیصلہ دیا کہ وہ ہم دونوں کے درمیان دو حصوں میں تقسیم ہو جائے گا ‘ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ میری رسی ہے ‘ جو اس جانور کے پاؤں میں موجود ہے ‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : یہ اسی طرح ہے میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم کسی پانی پر آتے ہیں ‘ وہاں ہمارے پاس اونٹ آ جاتے ہیں ‘ جو پیاسے ہوتے ہیں ، تو کیا ہم انہیں پانی پلا دیں ‘ اور کیا ہمیں اس کا اجر ملے گا ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! تمہیں ہر جاندار کے ساتھ بھلائی کرنے کا اجر ملے گا ‘ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اگر گم شدہ اونٹ ہمیں ملتے ہیں اور ان کے دودھ نہیں نکالا گیا ہوتا اور ہم بھوکے ہوتے ہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم یہ کہو : اے اونٹوں کے مالک ! اگر کوئی شخص آ جائے ‘ تو ٹھیک ہے ‘ ورنہ تم اس کے تھن کے اوپر سے کپڑا ہٹا دو ‘ دودھ دوہ کر اسے پی لو ‘ اور پھر وہاں کپڑا لگا دو ‘ اور دودھ کے لئے اس کے دوائی کو باقی رہنے دو ‘ پھر نبی اکرم ﷺ نے یہ ارشاد فرمانا شروع کیا : ’’ عنقریب لوگوں پر ایسا زمانہ آئے گا کہ اس زمانے میں سب سے بہتر مال وہ بکریاں ہوں گی ، جو دو مسجدوں کے درمیان ہوں گی ‘ راوی کہتے ہیں : یعنی مدینہ اور مسجد مکہ کے درمیان ہوں گی ‘ وہ درخت کے پتے کھا لیں گی ‘ پانی پر آ جائیں گی ‘ ان کا مالک ان کے گوشت کو کھائے گا ‘ اور ان کی اون سے ( بنا ہوا لباس ) پہن لے گا ( راوی کو شک ہے ‘ شاید یہ الفاظ ہیں : ) ان کے بالوں سے ( بنا ہوا لباس پہن لے گا ) اور عربوں کے درمیان فتنے گھوم رہے ہوں گے ‘ خون بہایا جا رہا ہو گا ‘ یہ بات نبی اکرم ﷺ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی ‘ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے کوئی نصیحت کیجئے ‘ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم اللہ تعالیٰ سے ڈرو ! تم نماز قائم کرو ‘ تم زکوۃ ادا کرو ‘ تم حج اور عمرہ کرو ‘ اپنے والدین کے ساتھ نیک سلوک کرو ‘ صلہ رحمی کرو ‘ مہمان نوازی کرو ‘ نیکی کا حکم دو ‘ اور برائی سے منع کرو اور حق کے ساتھ رہو ‘ جہاں بھی وہ ہو ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن سلیمان بن مسمول ہے اور وہ ضعیف ہے ۔