Majma al-Zawaid #6770
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: «جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبِي أَخَذَ مَالِي فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" اذْهَبْ فَأْتِنِي بِأَبِيكَ "". فَنَزَلَ جِبْرِيلُ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُقْرِئُكَ السَّلَامَ وَيَقُولُ لَكَ: إِذَا جَاءَكَ الشَّيْخُ فَسَلْهُ عَنْ شَيْءٍ قَالَهُ فِي نَفْسِهِ، مَا سَمِعَتْهُ أُذُنَاهُ "". فَلَمَّا جَاءَ الشَّيْخُ قَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" مَا بَالُ ابْنِكَ يَشْكُوكَ أَتُرِيدُ أَنْ تَأْخُذَ مَالَهُ؟ "". فَقَالَ: سَلْهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ أَنْفَقْتُهُ إِلَّا عَلَى إِحْدَى عَمَّاتِهِ أَوْ خَالَاتِهِ أَوْ عَلَى نَفْسِي؟ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" إِيهْ دَعْنَا مِنْ هَذَا، أَخْبِرْنِي عَنْ شَيْءٍ قُلْتَهُ فِي نَفْسِكَ مَا سَمِعَتْهُ أُذُنَاكَ "". فَقَالَ الشَّيْخُ: وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا يَزَالُ اللَّهُ يَزِيدُنَا بِكَ يَقِينًا، لَقَدْ قُلْتُ شَيْئًا فِي نَفْسِي مَا سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ، فَقَالَ: "" قُلْ، وَأَنَا أَسْمَعُ "". قَالَ: قُلْتُ: غَذَوْتُكَ مَوْلُودًا وَمُنْتُكَ يَافِعًا ... تُعِلُّ بِمَا أَجْنِي عَلَيْكَ وَتَنْهَلُ. إِذَا لَيْلَةٌ ضَاَفَتْكَ بِالسَّقْمِ لَمْ أَبِتْ ... لِسَقْمِكَ إِلَّا سَاهِرًا أَتَمَلْمَلُ. كَأَنِّي أَنَا الْمَطْرُوقُ دُونَكَ بِالَّذِي ... طُرِقْتَ بِهِ دُونِي فَعَيْنِي تَهْمِلُ. تَخَافُ الرَّدَى نَفْسِي عَلَيْكَ وَإِنَّهَا ... لَتَعْلَمُ أَنَّ الْمَوْتَ وَقْتٌ مُؤَجَّلُ. فَلَمَّا بَلَغْتَ السِّنَّ وَالْغَايَةَ الَّتِي ... إِلَيْهَا مَدَى مَا كُنْتُ فِيكَ أُؤَمِّلُ. جَعَلْتَ جَزَائِي غِلْظَةً وَفَظَاظَةً ... كَأَنَّكَ أَنْتَ الْمُنْعِمُ الْمُتَفَضِّلُ. فَلَيْتَكَ إِذْ لَمْ تَرْعَ حَقَّ أُبُوَّتِي ... فَعَلْتَ كَمَا الْجَارُ الْمُجَاوِرُ يَفْعَلُ. تَرَاهُ مُعِدٍّا لِلْخِلَافِ كَأَنَّهُ ... بَرَدٍّ عَلَى أَهْلِ الصَّوَابِ مُوَكَّلُ. قَالَ: حِينَئِذٍ أَخَذَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِتَلَابِيبِ ابْنِهِ فَقَالَ: "" أَنْتَ وَمَالُكَ لِأَبِيكَ». قُلْتُ: رَوَى ابْنُ مَاجَهْ طَرَفًا مِنْهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ، وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ. وَالْمُنْكَدِرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ضَعِيفٌ، وَقَدْ وَثَّقَهُ أَحْمَدُ، وَالْحَدِيثُ بِهَذَا التَّمَامِ مُنْكَرٌ، وَقَدْ تَقَدَّمَتْ لَهُ طَرِيقٌ مُخْتَصَرَةٌ رِجَالُ إِسْنَادِهَا رِجَالُ الصَّحِيحِ.
EnglishUnverified translation
Jabir ibn Abdullah (رضي الله عنهما) said: A man came to the Prophet ﷺ and said: O Messenger of Allah, my father has taken my wealth. So the Prophet ﷺ said: Go and bring me your father. Then Jibril (عليه السلام) descended upon the Prophet ﷺ and said: Allah the Exalted conveys Salam to you and says to you: When the old man comes to you, ask him about something he said within himself which his ears have not heard. When the old man came, the Prophet ﷺ said to him: What is it with your son complaining of you, do you wish to take his wealth? He said: Ask him, O Messenger of Allah, whether I spent it except upon one of his aunts paternal or maternal, or upon myself? So the Prophet ﷺ said: Leave this aside; inform me about something you said within yourself which your ears have not heard. So the old man said: By Allah, O Messenger of Allah, Allah keeps increasing us in certainty through you; I did say something within myself which my ears have not heard. He said: Say, and I am listening. He said: I said: I nourished you as a newborn and sustained you as a youth, you drank from what I earn for you and you drink deeply. When a night brought you sickness I did not sleep for your sickness but wakeful, tossing about. As though I were the one struck instead of you with what you were struck with, apart from me, while my eye sheds tears. My soul fears death for you, though it knows that death is a time appointed. Then when you reached the age and the goal to which the extent of my hope in you aimed, you made my recompense harshness and sternness, as though you are the bestower, the bounteous. Would that, when you did not observe the right of fatherhood, you had done as the neighbouring neighbour does. You appear devoted to opposition as though charged with answering the people of right with refusal. The narrator said: Thereupon the Prophet ﷺ took the son by his garment and said: > **"You and your wealth belong to your father."**
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
حضرت جابر بن عبدالله رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ‘ اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے والد نے میرا مال لے لیا ہے ‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم جاؤ اور اپنے والد کو میرے پاس لے کے آؤ ‘ حضرت جبرائیل نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے ‘ اور بولے : اللہ تعالیٰ نے آپ کو سلام کہا ہے اور اس نے آپ سے یہ فرمایا ہے کہ جب وہ بوڑھا شخص آپ کے پاس آئے ‘ تو آپ اس سے اس چیز کے بارے میں دریافت کریں ‘ جو اس نے دل میں سوچی ہے ‘ اس کے کانوں نے اسے نہیں سنا ‘ جب وہ بوڑھا شخص آیا ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے اس سے فرمایا : تمہارے بیٹے کا کیا معاملہ ہے کہ وہ تمہاری شکایت کر رہا ہے ؟ کیا تم یہ چاہتے ہو کہ تم اس کا مال حاصل کر لو ؟ اس شخص نے کہا : یا رسول اللہ ! آپ اس سے پوچھ لیں ، میں وہ مال ‘ یا تو اس کی کسی پھوپھی پر ‘ یا اس کی خالہ پر ‘ یا اپنے اوپر خرچ کرتا ہوں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : چلو اس بات کو رہنے دو ‘ تم مجھے اس چیز کے بارے میں بتاؤ ‘ جو تم نے صرف دل میں سوچی ہے اور تمہارے کانوں نے بھی اسے نہیں سنا ‘ تو اس بوڑھے نے کہا : اللہ کی قسم یا رسول اللہ ! اللہ تعالیٰ مسلسل آپ پر ہمارے یقین میں اضافہ کرتا رہے گا ‘ میں نے دل میں ایک بات سوچی تھی ‘ جسے میرے کانوں نے بھی نہیں سنا ‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم سناؤ ! میں سن رہا ہوں ‘ اس نے کہا : میں نے یہ سوچا تھا ( یعنی یہ اشعار موزوں کیے تھے : ) ’’ جب تم نومولود تھے ‘ میں تمہیں غذا فراہم کرتا رہا ‘ اور تمہارے بڑے ہونے تک میں تمہاری دیکھ بھال کرتا رہا ‘ اور جب کبھی رات کے وقت تمہیں تکلیف لاحق ہوئی تو میں نے تمہاری بیماری کی وجہ سے رات بے خوابی میں بے چین ہو کر گزار دی ‘ اور اب جب میں بیمار ہوا ہوں ‘ تو تم میرا خیال نہیں کرتے اور میری آنکھیں آنسو بہاتی ہیں ، مجھے تو تمہارے بارے میں یہ اندیشہ ہوتا تھا کہ کہیں تم ہلاک نہ ہو جاؤ ‘ حالانکہ میں یہ بھی جانتا تھا ، موت کا ایک حتمی وقت مقرر ہے ‘ اور پھر جب تم عمر کی اس حد تک پہنچ گئے جس کی مجھے خواہش تھی ‘ تو تم نے مجھے بدلے میں ناگوار صورتحال اور سختی دی ‘ گویا تم نعمت دینے والے اور فضل کرنے والے ہو ‘ جب تم نے میرے باپ ہونے کے حق کا لحاظ نہیں کیا ‘ تو اے کاش ! تم ویسا سلوک کر لیتے ، جو ایک پڑوسی دوسرے پڑوسی کے ساتھ کرتا ہے ‘ تم اس کو ( یعنی میرے بیٹے کو ) اختلاف کے لیے ہر وقت تیار دیکھو گے ، گویا اس کو درست موقف والوں کے خلاف وکیل مقرر کیا گیا ہے ‘‘۔ راوی بیان کرتے ہیں : اس وقت نبی اکرم ﷺ نے اس کے بیٹے کے گریبان کو پکڑا اور ارشاد فرمایا : ’’ تم اور تمہارا مال ‘ تمہارے باپ کا ہے “۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابن ماجہ نے اس روایت کا ایک حصہ نقل کیا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسا شخص ہے ‘ جس سے میں واقف نہیں ہوں منکدر بن محمد نامی راوی ضعیف ہے ‘ امام احمد نے اسے ثقہ قرار دیا ہے اور اس حوالے سے یہ روایت منکر ہے ‘ اس سے پہلے یہ ایک اور سند کے ساتھ مختصر روایت کے طور پر گزر چکی ہے اور اس کی سند کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔