Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 13 · Chapter 15

Book of Sales and Transactions

Hadith 6770–6809

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

6770

Majma al-Zawaid #6770

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: «جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبِي أَخَذَ مَالِي فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" اذْهَبْ فَأْتِنِي بِأَبِيكَ "". فَنَزَلَ جِبْرِيلُ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُقْرِئُكَ السَّلَامَ وَيَقُولُ لَكَ: إِذَا جَاءَكَ الشَّيْخُ فَسَلْهُ عَنْ شَيْءٍ قَالَهُ فِي نَفْسِهِ، مَا سَمِعَتْهُ أُذُنَاهُ "". فَلَمَّا جَاءَ الشَّيْخُ قَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" مَا بَالُ ابْنِكَ يَشْكُوكَ أَتُرِيدُ أَنْ تَأْخُذَ مَالَهُ؟ "". فَقَالَ: سَلْهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ أَنْفَقْتُهُ إِلَّا عَلَى إِحْدَى عَمَّاتِهِ أَوْ خَالَاتِهِ أَوْ عَلَى نَفْسِي؟ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" إِيهْ دَعْنَا مِنْ هَذَا، أَخْبِرْنِي عَنْ شَيْءٍ قُلْتَهُ فِي نَفْسِكَ مَا سَمِعَتْهُ أُذُنَاكَ "". فَقَالَ الشَّيْخُ: وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا يَزَالُ اللَّهُ يَزِيدُنَا بِكَ يَقِينًا، لَقَدْ قُلْتُ شَيْئًا فِي نَفْسِي مَا سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ، فَقَالَ: "" قُلْ، وَأَنَا أَسْمَعُ "". قَالَ: قُلْتُ: غَذَوْتُكَ مَوْلُودًا وَمُنْتُكَ يَافِعًا ... تُعِلُّ بِمَا أَجْنِي عَلَيْكَ وَتَنْهَلُ. إِذَا لَيْلَةٌ ضَاَفَتْكَ بِالسَّقْمِ لَمْ أَبِتْ ... لِسَقْمِكَ إِلَّا سَاهِرًا أَتَمَلْمَلُ. كَأَنِّي أَنَا الْمَطْرُوقُ دُونَكَ بِالَّذِي ... طُرِقْتَ بِهِ دُونِي فَعَيْنِي تَهْمِلُ. تَخَافُ الرَّدَى نَفْسِي عَلَيْكَ وَإِنَّهَا ... لَتَعْلَمُ أَنَّ الْمَوْتَ وَقْتٌ مُؤَجَّلُ. فَلَمَّا بَلَغْتَ السِّنَّ وَالْغَايَةَ الَّتِي ... إِلَيْهَا مَدَى مَا كُنْتُ فِيكَ أُؤَمِّلُ. جَعَلْتَ جَزَائِي غِلْظَةً وَفَظَاظَةً ... كَأَنَّكَ أَنْتَ الْمُنْعِمُ الْمُتَفَضِّلُ. فَلَيْتَكَ إِذْ لَمْ تَرْعَ حَقَّ أُبُوَّتِي ... فَعَلْتَ كَمَا الْجَارُ الْمُجَاوِرُ يَفْعَلُ. تَرَاهُ مُعِدٍّا لِلْخِلَافِ كَأَنَّهُ ... بَرَدٍّ عَلَى أَهْلِ الصَّوَابِ مُوَكَّلُ. قَالَ: حِينَئِذٍ أَخَذَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِتَلَابِيبِ ابْنِهِ فَقَالَ: "" أَنْتَ وَمَالُكَ لِأَبِيكَ». قُلْتُ: رَوَى ابْنُ مَاجَهْ طَرَفًا مِنْهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ، وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ. وَالْمُنْكَدِرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ضَعِيفٌ، وَقَدْ وَثَّقَهُ أَحْمَدُ، وَالْحَدِيثُ بِهَذَا التَّمَامِ مُنْكَرٌ، وَقَدْ تَقَدَّمَتْ لَهُ طَرِيقٌ مُخْتَصَرَةٌ رِجَالُ إِسْنَادِهَا رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Jabir ibn Abdullah (رضي الله عنهما) said: A man came to the Prophet ﷺ and said: O Messenger of Allah, my father has taken my wealth. So the Prophet ﷺ said: Go and bring me your father. Then Jibril (عليه السلام) descended upon the Prophet ﷺ and said: Allah the Exalted conveys Salam to you and says to you: When the old man comes to you, ask him about something he said within himself which his ears have not heard. When the old man came, the Prophet ﷺ said to him: What is it with your son complaining of you, do you wish to take his wealth? He said: Ask him, O Messenger of Allah, whether I spent it except upon one of his aunts paternal or maternal, or upon myself? So the Prophet ﷺ said: Leave this aside; inform me about something you said within yourself which your ears have not heard. So the old man said: By Allah, O Messenger of Allah, Allah keeps increasing us in certainty through you; I did say something within myself which my ears have not heard. He said: Say, and I am listening. He said: I said: I nourished you as a newborn and sustained you as a youth, you drank from what I earn for you and you drink deeply. When a night brought you sickness I did not sleep for your sickness but wakeful, tossing about. As though I were the one struck instead of you with what you were struck with, apart from me, while my eye sheds tears. My soul fears death for you, though it knows that death is a time appointed. Then when you reached the age and the goal to which the extent of my hope in you aimed, you made my recompense harshness and sternness, as though you are the bestower, the bounteous. Would that, when you did not observe the right of fatherhood, you had done as the neighbouring neighbour does. You appear devoted to opposition as though charged with answering the people of right with refusal. The narrator said: Thereupon the Prophet ﷺ took the son by his garment and said: > **"You and your wealth belong to your father."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن عبدالله رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ‘ اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے والد نے میرا مال لے لیا ہے ‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم جاؤ اور اپنے والد کو میرے پاس لے کے آؤ ‘ حضرت جبرائیل نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے ‘ اور بولے : اللہ تعالیٰ نے آپ کو سلام کہا ہے اور اس نے آپ سے یہ فرمایا ہے کہ جب وہ بوڑھا شخص آپ کے پاس آئے ‘ تو آپ اس سے اس چیز کے بارے میں دریافت کریں ‘ جو اس نے دل میں سوچی ہے ‘ اس کے کانوں نے اسے نہیں سنا ‘ جب وہ بوڑھا شخص آیا ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے اس سے فرمایا : تمہارے بیٹے کا کیا معاملہ ہے کہ وہ تمہاری شکایت کر رہا ہے ؟ کیا تم یہ چاہتے ہو کہ تم اس کا مال حاصل کر لو ؟ اس شخص نے کہا : یا رسول اللہ ! آپ اس سے پوچھ لیں ، میں وہ مال ‘ یا تو اس کی کسی پھوپھی پر ‘ یا اس کی خالہ پر ‘ یا اپنے اوپر خرچ کرتا ہوں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : چلو اس بات کو رہنے دو ‘ تم مجھے اس چیز کے بارے میں بتاؤ ‘ جو تم نے صرف دل میں سوچی ہے اور تمہارے کانوں نے بھی اسے نہیں سنا ‘ تو اس بوڑھے نے کہا : اللہ کی قسم یا رسول اللہ ! اللہ تعالیٰ مسلسل آپ پر ہمارے یقین میں اضافہ کرتا رہے گا ‘ میں نے دل میں ایک بات سوچی تھی ‘ جسے میرے کانوں نے بھی نہیں سنا ‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم سناؤ ! میں سن رہا ہوں ‘ اس نے کہا : میں نے یہ سوچا تھا ( یعنی یہ اشعار موزوں کیے تھے : ) ’’ جب تم نومولود تھے ‘ میں تمہیں غذا فراہم کرتا رہا ‘ اور تمہارے بڑے ہونے تک میں تمہاری دیکھ بھال کرتا رہا ‘ اور جب کبھی رات کے وقت تمہیں تکلیف لاحق ہوئی تو میں نے تمہاری بیماری کی وجہ سے رات بے خوابی میں بے چین ہو کر گزار دی ‘ اور اب جب میں بیمار ہوا ہوں ‘ تو تم میرا خیال نہیں کرتے اور میری آنکھیں آنسو بہاتی ہیں ، مجھے تو تمہارے بارے میں یہ اندیشہ ہوتا تھا کہ کہیں تم ہلاک نہ ہو جاؤ ‘ حالانکہ میں یہ بھی جانتا تھا ، موت کا ایک حتمی وقت مقرر ہے ‘ اور پھر جب تم عمر کی اس حد تک پہنچ گئے جس کی مجھے خواہش تھی ‘ تو تم نے مجھے بدلے میں ناگوار صورتحال اور سختی دی ‘ گویا تم نعمت دینے والے اور فضل کرنے والے ہو ‘ جب تم نے میرے باپ ہونے کے حق کا لحاظ نہیں کیا ‘ تو اے کاش ! تم ویسا سلوک کر لیتے ، جو ایک پڑوسی دوسرے پڑوسی کے ساتھ کرتا ہے ‘ تم اس کو ( یعنی میرے بیٹے کو ) اختلاف کے لیے ہر وقت تیار دیکھو گے ، گویا اس کو درست موقف والوں کے خلاف وکیل مقرر کیا گیا ہے ‘‘۔ راوی بیان کرتے ہیں : اس وقت نبی اکرم ﷺ نے اس کے بیٹے کے گریبان کو پکڑا اور ارشاد فرمایا : ’’ تم اور تمہارا مال ‘ تمہارے باپ کا ہے “۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابن ماجہ نے اس روایت کا ایک حصہ نقل کیا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسا شخص ہے ‘ جس سے میں واقف نہیں ہوں منکدر بن محمد نامی راوی ضعیف ہے ‘ امام احمد نے اسے ثقہ قرار دیا ہے اور اس حوالے سے یہ روایت منکر ہے ‘ اس سے پہلے یہ ایک اور سند کے ساتھ مختصر روایت کے طور پر گزر چکی ہے اور اس کی سند کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

6771

Majma al-Zawaid #6771

وَعَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ قَالَ: حَضَرْتُ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ أَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا خَلِيفَةَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِنَّ هَذَا يُرِيدُ أَنْ يَأْخُذَ مَالِي كُلَّهُ فَيَجْتَاحَهُ. فَقَالَ لَهُ أَبُو بَكْرٍ: مَا تَقُولُ؟ قَالَ: نَعَمْ. فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: إِنَّمَا لَكَ مِنْ مَالِهِ مَا يَكْفِيكَ. فَقَالَ: يَا خَلِيفَةَ رَسُولِ اللَّهِ، أَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنْتَ وَمَالُكَ لِأَبِيكَ»؟ فَقَالَ لَهُ أَبُو بَكْرٍ: ارْضَ بِمَا رَضِيَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ الْمُنْذِرُ بْنُ زِيَادٍ الطَّائِيُّ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Qays ibn Abi Hazim (رحمه الله) said: I was present with Abu Bakr al-Siddiq (رضي الله عنه) when a man came to him and said: O Khalifah of the Messenger of Allah ﷺ, this one wishes to take all my wealth and consume it. So Abu Bakr said to him: What do you say? He said: Yes. So Abu Bakr said: You have from his wealth only what suffices you. He said: O Khalifah of the Messenger of Allah, did not the Messenger of Allah ﷺ say: So Abu Bakr said to him: Be content with what Allah the Exalted is content with. > **"You and your wealth belong to your father."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

قیس بن ابوحازم بیان کرتے ہیں : میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھا ‘ ایک شخص ان کے پاس آیا اور بولا : اے اللہ ! کے رسول کے خلیفہ ! یہ شخص ( یعنی میرا والد ) میرا پورا مال حاصل کر کے اسے ضائع کرنا چاہتا ہے ‘ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس سے دریافت کیا : تم کیا کہتے ہو ؟ اس نے جواب دیا : جی ہاں ! حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اس کے مال میں سے تمہیں صرف اتنا ملے گا جو تمہارے لئے کفایت کر جائے اس نے کہا : اے اللہ ! کے رسول کے خلیفہ ! کیا نبی اکرم ﷺ نے یہ بات ارشاد نہیں فرمائی ہے : ’’ تم اور تمہارا مال ‘ تمہارے باپ کا ہے “ تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا : تم اس چیز کے ذریعے راضی ہو جاؤ ‘ جس سے اللہ تعالیٰ راضی ہوتا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی منذر بن زیاد طائی ہے اور وہ متروک ہے ۔

6772

Majma al-Zawaid #6772

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَيَّمَا رَجُلٍ نَحَلَ ابْنَهُ نَحْلًا فَبَانَ بِهِ الِابْنُ فَاحْتَاجَ الْأَبُ فَالِابْنُ أَحَقُّ بِهِ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ بَانَ بِهِ الِابْنُ فَالْأَبُ أَحَقُّ بِهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ رِشْدِينُ بْنُ كُرَيْبٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas (رضي الله عنهما) said: The Messenger of Allah ﷺ said: > **"Any man who grants his son a grant and the son separates it, then the father becomes needy, the son has more right to it; but if the son has not separated it, the father has more right to it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص اپنے بیٹے کو کوئی چیز عطیہ کے طور پر دے ‘ اور وہ بیٹا اس چیز کو لے کر الگ ہو جائے ‘ پھر اگر باپ محتاج ہو جائے تو بیٹا اس چیز کے بارے میں زیادہ حق رکھتا ہو گا ، لیکن اگر بیٹا اسے لے کر الگ نہیں ہوا تھا ‘ تو پھر باپ اس چیز کا زیادہ حق دار ہو گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی رشدین بن کریب ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

6773

Majma al-Zawaid #6773

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّهُ أَعْتَقَ غُلَامًا لَهُ، فَقَالَ: أَمَا إِنَّ مَالَكَ لِي، وَلَكِنِّي قَدْ تَرَكْتُهُ لَكَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ أَبُو نَعِيمٍ النَّخَعِيُّ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ، وَأَبُو حَاتِمٍ، وَنَسَبَهُ أَحْمَدُ إِلَى الْكَذِبِ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Masud (رضي الله عنه) freed a slave of his and said: Indeed your wealth is mine, but I have left it for you.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : انہوں نے اپنے ایک غلام کو آزاد کیا اور پھر فرمایا : اگرچہ تمہارا مال میری ملکیت ہے ‘ لیکن میں اسے تمہارے لئے چھوڑتا ہوں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ابونعیم نخعی ہے ‘ جسے ابن حبان اور ابوحاتم نے ثقہ قرار دیا ہے ‘ امام احمد نے اس کی نسبت جھوٹ کی طرف کی ہے ‘ ایک جماعت نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔

6774

Majma al-Zawaid #6774

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا «- أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ أَعْطَى أُمَّهُ حَدِيقَةً مِنْ نَخْلٍ حَيَاتَهَا فَمَاتَتْ، فَجَاءَ إِخْوَتُهُ، فَقَالُوا: نَحْنُ فِيهَا شَرَعٌ سَوَاءٌ. فَأَبَى، فَاخْتَصَمُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَسَّمَهُ بَيْنَهُمْ مِيرَاثًا». قُلْتُ: رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ، وَغَيْرُهُ بِغَيْرِ سِيَاقِهِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Jabir ibn Abdullah (رضي الله عنهما) reported that a man of the Ansar gave his mother a garden of palms for her lifetime, then she died, so his brothers came and said: We share in it equally. He refused, so they disputed to the Messenger of Allah ﷺ, and he divided it among them as inheritance.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انصار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے اپنی والدہ کو کھجوروں کا ایک باغ زندگی بھر کے لئے دے دیا ‘ اس خاتون کا انتقال ہو گیا ‘ اس شخص کے بھائی آئے اور بولے : ہم اس باغ میں برابر کے حصہ دار ہیں ، تو اس شخص نے انکار کر دیا ‘ ان لوگوں نے اپنا مقدمہ نبی اکرم ﷺ کے سامنے پیش کیا ، تو نبی اکرم ﷺ نے اس باغ کو ان لوگوں کے درمیان وراثت کے اصولوں کے مطابق تقسیم کر دیا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابوداؤد نے اور دیگر حضرات نے اس سیاق کے بغیر نقل کی ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

6775

Majma al-Zawaid #6775

وَعَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «الْعُمْرَى جَائِزَةٌ لِأَهْلِهَا». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ.

EnglishUnverified translation

Muawiyah ibn Abi Sufyan (رضي الله عنهما) reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Umra is permissible for its people."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ ‘ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں :’’ عمری ‘ اُس کے متعلقہ فرد کے لئے جائز ہے ‘‘۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔

6776

Majma al-Zawaid #6776

وَلَهُ فِي رِوَايَةِ: «الْعُمْرَى بِمَنْزِلَةِ الْمِيرَاثِ». وَرِجَالُ أَبِي يَعْلَى رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

In a narration from him: Umra is like inheritance. > **"Umra is like inheritance."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اُن کے حوالے سے منقول ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ’’ عمری ‘ وراثت کے حکم میں ہے ‘‘۔ امام ابویعلیٰ کے رجال صحیح کے رجال ہیں ‘ صرف عبداللہ بن محمد بن عقیل کا معاملہ مختلف ہے ‘ اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ۔

6777

Majma al-Zawaid #6777

وَعَنْ أَنَسٍ «أَنَّ رَجُلًا أَعْمَرَ رَجُلًا فَسَأَلَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" هِيَ لِوَرَثَتِهِ "" - أَوْ كَمَا قَالَ» -. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا الْحَسَنَ بْنَ قَزْعَةَ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Anas (رضي الله عنه) reported that a man granted another umra, then asked the Prophet ﷺ, whereupon he said, or as he said: > **"It belongs to his heirs."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے دوسرے شخص کو عمری کے طور پر یہ کوئی چیز دی ‘ اس نے نبی اکرام ﷺ سے دریافت کیا : تو آپ نے فرمایا : یہ اس کے ورثاء کو ملے گی ‘ یا جیسے بھی آپ نے فرمایا : ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں اور صحیح کے رجال ہیں ، البتہ حسن بن قزعہ کا معاملہ مختلف ہے اور ویسے وہ ثقہ ہے ۔

6778

Majma al-Zawaid #6778

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَيَّمَا رَجُلٍ أُعْمِرَ عُمْرَى فَهِيَ لَهُ وَلِعَقِبِهِ مِنْ بَعْدِهِ - يُرِيدُ بِهَا مَنْ يَرِثُهُ مِنْ عَقِبِهِ - أَوْ أُرْقِبَ رُقْبَى فَهِيَ بِمَنْزِلَةِ الْعُمْرَى». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn al-Zubayr (رضي الله عنهما) said: The Messenger of Allah ﷺ said: > **"Any man who is granted umra, it is for him and for his posterity after him, intending thereby whoever inherits him of his posterity; and whoever is granted ruqba, it is like umra."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جس شخص کو عمری کے طور پر کوئی چیز دی جائے ‘ تو وہ اس کو اور اس کے بعد اس کے پسماندگان کو ملے گی ‘‘۔ ( راوی کہتے ہیں : ) نبی اکرم ﷺ کی مراد یہ تھی کہ جو لوگ اُس کے پسماندگان میں شامل ہیں ‘ وہ وراثت کے طور پر اسے حاصل کر لیں گے ( نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ) اور جب رقبی کے طور پر کوئی چیز دی گئی ہو ‘ تو وہ بھی عمری کے حکم میں ہو گی ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

6779

Majma al-Zawaid #6779

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَرْقُبُوا، أَوْ لَا تَعْمُرُوا، فَإِنْ فَعَلْتُمْ فَهِيَ الْعُمْرَى وَالْمَرْقَبُ "". قُلْتُ: وَكَيْفَ يَكُونُ ذَلِكَ؟ قَالَ: الْعُمْرَى: أَنْ تَقُولَ: هِيَ لَكَ حَيَاتَكَ. وَالرُّقْبَى: أَنْ تَقُولَ: هِيَ لِلْآخِرِ مِنِّي وَمِنْكَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ الْمُثَنَّى بْنُ الصَّبَّاحِ، وَقَدْ ضَعَّفَهُ جُمْهُورُ الْأَئِمَّةِ وَقَالَ بَعْضُهُمْ: مَتْرُوكٌ. وَوَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ فِي رِوَايَةٍ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Amr (رضي الله عنهما) said: The Messenger of Allah ﷺ said: Do not give ruqba, or do not give umra, for if you do then it is umra and marqab. The narrator said: I said: How is that? He said: Umra is that you say: It is yours for your lifetime. And ruqba is that you say: It is for the survivor of me and you. > **"Do not give ruqba, and do not give umra, for if you do then it is umra and marqab."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ رقبی کے طور پر کوئی چیز نہ دو ‘ عمری کے طور پر کوئی چیز نہ دو ‘ اگر تم ایسا کرتے ہو ‘ تو پھر وہ عمری اور مرقب شمار ہو گی “۔ راوی بیان کرتے ہیں : میں نے دریافت کیا : یہ کیسے ہو گا ؟ تو انہوں نے جواب دیا : عمری سے مراد یہ ہے کہ تم یہ کہو کہ یہ تمہاری زندگی بھر کے لئے تمہاری ہے اور رقبی سے مراد یہ ہے کہ تم یہ کہو کہ میرے اور تم میں سے جو بعد میں فوت ہو گا ‘ یہ اس کو ملے گی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی مثنی بن صباح ہے ‘ جسے جمہور ائمہ نے ضعیف کہا ہے بعض حضرات نے یہ کہا ہے : یہ متروک ہے ‘ یحیی بن معین نے ایک روایت کے مطابق اسے ثقہ کہا ہے ۔

6780

Majma al-Zawaid #6780

عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ مَنَحَهُ الْمُشْرِكُونَ أَرْضًا فَلَا أَرْضَ لَهُ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ الْوَزِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْخَوْلَانِيُّ ضَعَّفَهُ قَالَ ابْنُ حَزْمٍ: مُنْكَرُ الْحَدِيثِ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Umar ibn al-Khattab (رضي الله عنه) said: The Messenger of Allah ﷺ said: > **"Whoever the polytheists grant land, there is no land for him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ جس شخص کو مشرکین عطیہ کے طور پر زمین دے دیں ‘ تو وہ زمین اُس کی نہیں ہو گی ‘‘۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی وزیر بن عبداللہ خولانی ہے ‘ جسے ۔ انہوں نے ضعیف قرار دیا ہے ‘ ابن حزم کہتے ہیں : یہ منکر الحدیث ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

6781

Majma al-Zawaid #6781

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «مَنْ أَحْيَا أَرْضًا وَعِرَةً مِنَ الْمِصْرِ أَوْ مَيْتَةً مِنَ الْمِصْرِ فَهِيَ لَهُ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ.

EnglishUnverified translation

Jabir ibn Abdullah (رضي الله عنهما) reported from the Prophet ﷺ: > **"Whoever revives rugged land of the town or dead land of the town, it is his."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں :’’ جو شخص شہر کی سخت یعنی پتھریلی اور دشوار ) زمین کو آباد کرتا ہے ‘ یا شہر کی مردار ( یعنی بنجر ) زمین کو آباد کرتا ہے ‘ تو وہ زمین اس کی ہو گی ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے اور وہ تدلیس کرنے والا ہے ۔

6782

Majma al-Zawaid #6782

وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: «مَا مِنِ امْرِئٍ يُحْيِي أَرْضًا فَتَشْرَبُ مِنْهَا كَبِدٌ حَرَّى أَوْ تُصِيبُ مِنْهَا عَافِيَةٌ إِلَّا كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِهِ أَجْرًا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ يَعْقُوبَ الزَّمْعِيُّ وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَابْنُ حِبَّانَ، وَضَعَّفَهُ ابْنُ الْمَدِينِيِّ، وَتَفَرَّدَ عَنْ قُرَيْبَةَ شَيْخَتِهِ.

EnglishUnverified translation

Umm Salamah (رضي الله عنها) heard the Messenger of Allah ﷺ say: > **"There is no man who revives land so that a thirsty liver drinks from it, or one seeking well-being takes from it, except Allah writes for him reward thereby."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جو شخص ( بنجر ) زمین کو آباد کرتا ہے ( یعنی وہاں کھیتی باڑی کرتا ہے ) تو وہاں سے جو بھی جاندار چیز کچھ پیتی ہے ‘ یا رزق کا متلاشی جو کوئی ( جاندار ) وہاں سے کچھ حاصل کرتا ہے ‘ تو اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اس شخص کے لئے اجر نوٹ کرتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن یعقوب زمعی ہے ‘ جسے یحییٰ بن معین اور ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ‘ ابن مدینی نے اسے ضعیف کہا ہے ‘ وہ اپنی استانی قریبہ سے روایت نقل کرنے میں منفرد ہے ۔

6783

Majma al-Zawaid #6783

وَعَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْأَرْضُ أَرْضُ اللَّهِ، وَالْعِبَادُ عِبَادُ اللَّهِ، مَنْ أَحْيَا مَوَاتًا فَهِيَ لَهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Fadalah ibn Ubayd (رضي الله عنه) said: The Messenger of Allah ﷺ said: > **"The land is Allah's land, and the servants are Allah's servants; whoever revives dead land, it is his."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ ساری زمین ‘ اللہ کی زمین ہے اور سارے بندے ‘ اللہ کے بندے ہیں ، جو شخص بنجر زمین کو آباد کرتا ہے ‘ وہ اس کی ہو گی ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

6784

Majma al-Zawaid #6784

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «مَنْ أَحْيَا مَوَاتًا مِنَ الْأَرْضِ فِي غَيْرِ حَقِّ مُسْلِمٍ فَهُوَ لَهُ وَلَيْسَ لِعِرْقٍ ظَالِمٍ حَقٌّ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Amr ibn Awf (رضي الله عنه) reported from the Prophet ﷺ: > **"Whoever revives dead land that is not the right of a Muslim, it is his, and there is no right for an unjust root."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمرو بن عوف رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جو شخص زمین میں سے بنجر حصے کو آباد کرتا ہے ‘ جو کسی مسلمان کا حق نہ ہو ‘ تو وہ زمین اس کی ہو گی اور کسی کو ظلم کے طور پر وہاں پودا لگانے ( یا زمین غصب کرنے ) کا حق نہیں ہو گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی کثیر بن عبداللہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

6785

Majma al-Zawaid #6785

وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: «مَنْ أَحْيَا أَرْضًا مَوَاتًا فَهِيَ لَهُ، وَلَيْسَ لِعِرْقٍ ظَالِمٍ حَقٌّ "". وَزَادَ فِي رِوَايَةٍ: فَقَالَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ - يَعْنِي لِعُرْوَةَ - تَشْهَدُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ هَذَا؟ قَالَ: أَشْهَدُ أَنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْنِي بِهَذَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَشْهَدُ أَنَّ عَائِشَةَ مَا كَذَبَتْنِي». رَوَاهُ كُلُّهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِإِسْنَادَيْنِ فِي أَحَدِهِمَا عِصَامُ بْنُ رَوَّادِ بْنِ الْجَرَّاحِ، قَالَ الذَّهَبِيُّ: لَيَّنَهُ أَبُو أَحْمَدَ الْحَاكِمُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ، وَفِي إِسْنَادِ الْآخَرِ: رَاوٍ كَذَّابٌ.

EnglishUnverified translation

Aishah (رضي الله عنها) heard the Messenger of Allah ﷺ say: And in a narration Umar ibn Abd al-Aziz (رحمه الله) said to Urwah (رحمه الله): Do you testify that the Messenger of Allah ﷺ said this? He said: I testify that Aishah narrated this to me from the Messenger of Allah ﷺ, and I testify that Aishah did not lie to me. > **"Whoever revives dead land, it is his, and there is no right for an unjust root."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جو شخص بنجر زمین کو آباد کرتا ہے ‘ وہ اس کی ہو گی اور کسی کو ظلم کے طور پر وہاں پودا لگانے ( یا زمین غصب کرنے ) کا حق نہیں ہو گا ‘‘۔ ایک روایت میں یہ الفاظ زائد ہیں : ایک مرتبہ حضرت عمر بن عبدالعزیز نے عروہ سے کہا : کیا آپ اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ آپ نے اسی طرح ارشاد فرمایا ہے ‘ انہوں نے فرمایا : میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ حدیث مجھے نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے بیان کی ہے ‘ اور میں اس بات کی بھی گواہی دیتا ہوں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے میرے ساتھ غلط بیانی نہیں کی ہے ۔ یہ تمام روایات امام طبرانی نے معجم اوسط میں دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہیں ، جن میں سے ایک سند میں ایک راوی عصام بن رواد بن جراح ہے ‘ امام ذہبی کہتے ہیں : ابواحمد حاکم نے اسے کمزور قرار دیا ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔ دوسری روایت کی سند میں ایک کذاب راوی ہے ۔

6786

Majma al-Zawaid #6786

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَحْيَا أَرْضًا مَيْتَةً فَهِيَ لَهُ وَلَيْسَ لِعِرْقٍ ظَالِمٍ حَقٌّ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ الزَّنْجِيُّ وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ، وَضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Amr (رضي الله عنهما) said: The Messenger of Allah ﷺ said: > **"Whoever revives dead land, it is his, and there is no right for an unjust root."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص بنجر زمین کو آباد کرتا ہے ‘ تو وہ اس کی ہو گی ‘ اور کسی کو ظلم کے طور پر وہاں پودا لگانے ( یا زمین غصب کرنے ) کا حق نہیں ہو گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی مسلم بن خالد زنگی ہے ‘ جسے یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ‘ امام احمد اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا ہے ۔

6787

Majma al-Zawaid #6787

«وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّهَا كَانَتْ تُفَلِّي رَأْسَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَاءَتْ زَيْنَبُ امْرَأَةُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ فَجَعَلَتْ تُكَلِّمُنِي وَأُكَلِّمُهَا وَرَفَعْتُ بَصَرِي إِلَيْهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" أَقْبِلِي عَلَيْهَا بِأُذُنَيْكِ، فَإِنَّكِ لَسْتِ تُكَلِّمِيهَا بِعَيْنَيْكِ "". قَالَتْ زَيْنَبُ: فَجَعَلْتُ أَشْكُو ضِيقَ الْمَسْكَنِ فَقَالَ: "" هَذَا كَمَا صَنَعَتِ امْرَأَةُ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ لَمْ يَسَعْهَا مَا نَزَلَتْ حَتَّى نَزَلَ عَلَى رَأْسِهَا "". فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" كَذَاكَ مَنِ اخْتَطَّ خُطَّةً بِالْمَدِينَةِ مِنَ الْمُهَاجِرَاتِ فَلَهَا خُطَّتُهَا "". فَوَرِثَتْ نَصِيبَهَا مِنْ دَارِ عَبْدِ اللَّهِ وَأَحْرَزَتْ دَارَهَا بِالْمَدِينَةِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ وَثَّقَهُ شُعْبَةُ وَغَيْرُهُ، وَضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ، وَغَيْرُهُ.

EnglishUnverified translation

Umm Salamah (رضي الله عنها) reported that she used to delouse the head of the Messenger of Allah ﷺ when Zaynab, wife of Abdullah ibn Masud (رضي الله عنها), came and began speaking to me while I spoke to her, and I raised my sight to her. So the Messenger of Allah ﷺ said: Turn to her with your ears, for you do not speak to her with your eyes. Zaynab said: I began complaining of the narrowness of the dwelling, whereupon he said: This is as the wife of Uthman ibn Mazun did; what descended upon her did not suffice her until it descended upon her head. Then the Messenger of Allah ﷺ said: So she inherited her share of the house of Abdullah and secured her house in Madinah. > **"Likewise, whoever of the migrant women marks a plot in Madinah, her plot is hers."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : وہ نبی اکرم ﷺ کے سر سے جوئیں نکال رہی تھیں کہ اسی دوران حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی اہلیہ زینب آ گئیں ‘ وہ میرے ساتھ بات چیت کرنے لگیں ‘ اور میں ان کے ساتھ بات چیت کرنے لگی ‘ میں نے نگاہ اٹھا کر ان کی طرف دیکھا ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم صرف کانوں کے ساتھ اس کی طرف متوجہ رہو ‘ تم آنکھوں کے ساتھ اس کے ساتھ بات نہیں کر رہی ہو ‘ زینب نے کہا : میں گھر کی تنگی کی شکایت کرنا چاہ رہی تھی ‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : عثمان بن مظعون کی اہلیہ نے بھی اسی طرح کیا تھا ، جو صورت حال اس پر نازل ہوئی تھی وہ اس کی برداشت میں نہیں تھی ، یہاں تک کہ وہ اس کے سر پر نازل ہو گئی ‘ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اسی طرح مہاجر خواتین میں سے جو بھی ‘ مدینہ میں نشان زد کرے گی ، تو اس کے لگائے ہوئے نشان کے مطابق اُسے ملے گا ۔ راوی بیان کرتے ہیں : تو وہ خاتون ‘ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے گھر میں اپنے حصے کی وارث بنی تھیں ، اور انہوں نے مدینہ منورہ میں اپنا گھر محفوظ رکھا تھا ( یعنی وہ بھی ان کے پاس رہا تھا ) ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی قیس بن ربیع ہے ‘ جسے شعبہ اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا ہے ۔

6788

Majma al-Zawaid #6788

عَنِ ابْنِ عُمَرَ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَمَى الْبَقِيعَ لِلْخَيْلِ، فَقُلْتُ لَهُ: لِخَيْلِهِ؟ قَالَ: لَا، إِلَّا لِخَيْلِ الْمُسْلِمِينَ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ الْعُمَرِيُّ، وَهُوَ ثِقَةٌ، وَقَدْ ضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Umar (رضي الله عنهما) reported that the Prophet ﷺ reserved al-Baqi for horses. The narrator said: I said to him: For his horses? He said: No, except for the horses of the Muslims.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے بقیع کو گھوڑوں کے لئے چراگاہ قرار دیا ہے ۔ ( راوی بیان کرتے ہیں : ) میں نے دریافت کیا : اپنے گھوڑوں کے لئے ؟ انہوں نے جواب دیا : جی نہیں ! صرف مسلمانوں کے گھوڑوں کے لئے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ عمری ہے وہ ثقہ ہے ‘ ایک جماعت نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔

6789

Majma al-Zawaid #6789

وَعَنْهُ قَالَ: «حَمَى النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الرَّبْذَةَ لِإِبِلِ الصَّدَقَةِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn Umar (رضي الله عنهما) said: The Prophet ﷺ reserved al-Rabadhah for the camels of charity.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ان کے حوالے سے یہ بات منقول ہے : وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ’’ ربذہ ‘‘ کو صدقہ کے اونٹوں کے لئے چراگاہ قرار دیا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

6790

Majma al-Zawaid #6790

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا حِمَى إِلَّا لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ، وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ وَقَالَ: لَا يُرْوَى عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah (رضي الله عنه) said: The Messenger of Allah ﷺ said: > **"There is no reservation except for Allah and for His Messenger."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ چراگاہ ‘ صرف اللہ اور اس کے رسول کی ملکیت ہو گی ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ وہ فرماتے ہیں : حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ روایت صرف اسی سند کے ساتھ نقل کی گئی ہے ۔

6791

Majma al-Zawaid #6791

عَنْ سَعْدِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «الْجَارُ أَحَقُّ بِسَقَبِهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبْدُ الْكَرِيمِ أَبُو أُمَيَّةَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Sad ibn Malik (رضي الله عنه) said: The Messenger of Allah ﷺ said: > **"The neighbour has more right to his saqab."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سعد بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ پڑوسی ‘ اپنے قرب ( یعنی پڑوس ) کا زیادہ حق دار ہوتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی عبدالکریم ابوامیہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

6792

Majma al-Zawaid #6792

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «الْجَارُ أَحَقُّ بِسَقَبِهِ مَا كَانَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عُبَيْدُ بْنُ كَثِيرٍ التَّمَّارُ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Umar (رضي الله عنهما) reported from the Prophet ﷺ: > **"The neighbour has more right to his saqab, whatever it be."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ پڑوسی ‘ اپنے قرب ( یعنی پڑوس ) کا زیادہ حق رکھتا ہے ‘ خواہ وہ جو بھی ہو ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبید بن کثیر تمار ہے اور وہ متروک ہے ۔

6793

Majma al-Zawaid #6793

وَعَنْ أَبِي رَافِعٍ أَنَّهُ بَاعَ قِطْعَةً أَقْطَعُهُ إِيَّاهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عِنْدَ دَارِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ بِثَمَانِيَةِ آلَافِ دِرْهَمٍ قَالَ: وَكَانَ رَجُلٌ قَدْ سَبَقَهُ بِهَا قَبْلُ، فَأَعْطَاهُ بِهَا عَشَرَةَ آلَافِ دِرْهَمٍ، فَأَبَيْتُ أَنْ يَبْتَعَ مِنْهُ، فَقَالَ أَبُو رَافِعٍ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: «أَهْلُ الرَّكْحِ أَحَقُّ بِرَكْحِهِمْ». وَكَانَ سَعْدٌ أَسْقَبَ. قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِغَيْرِ لَفْظِهِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ حَسَنِ الرَّافِعِيِّ وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ، وَضَعَّفَهُ الْبُخَارِيُّ وَجَمَاعَةٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Rafi (رضي الله عنه) sold a portion that the Messenger of Allah ﷺ had granted him, by the house of Sad ibn Abi Waqqas (رضي الله عنه), for eight thousand dirhams. A man had preceded offering ten thousand dirhams for it, but he refused to sell from him. Abu Rafi said: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: And Sad was the nearest in proximity. > **"The people of the courtyard have more right to their courtyard."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابورافع رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : انہوں نے ایک قطعہ اراضی فروخت کیا ‘ جو انہیں نبی اکرم ﷺ نے جاگیر کے طور پر عطا کیا تھا ‘ وہ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے گھر کے پاس تھا ‘ وہ انہوں نے آٹھ ہزار درہم کے عوض میں فروخت کیا انہوں نے یہ بات بیان کی کہ اس سے پہلے ایک شخص انہیں پیش کش کر چکا تھا ‘ وہ انہیں اس کے دس ہزار درہم دے رہا تھا ، لیکن میں نے اس کو اسے فروخت کرنے سے انکار کر دیا ‘ حضرت ابورافع رضی اللہ عنہ نے یہ بتایا کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ گھر کے پچھلے کنارے کی طرف کے لوگ اپنے پچھلے کنارے کے بارے میں زیادہ حق رکھتے ہیں ‘‘۔ ( راوی بیان کرتے ہیں : ) تو حضرت سعد رضی اللہ عنہ ( اُن کے سب سے زیادہ ) قریبی ( پڑوسی ) تھے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ’’ صحیح ‘‘ میں ان الفاظ کے علاوہ منقول ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن علی بن حسن رافعی ہے ‘ جسے یحیی بن معین نے ثقہ قرار دیا ہے ‘ امام بخاری اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا ہے ۔

6794

Majma al-Zawaid #6794

«وَعَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَسْوَدِ قَالَ: أَنْشَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ شِعْرِ أُمَيَّةَ بْنِ أَبِي الصَّلْتِ مِائَةَ قَافِيَةٍ كُلَمَّا مَرَرْتُ بِبَيْتٍ قَالَ: "" هِيهِ "". وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ فِي مَجْلِسِهِ ذَلِكَ: "" الْجَارُ أَحَقُّ بِسَقَبِهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ الْأُمَوِيُّ (*)، وَهُوَ مَتْرُوكٌ، وَنُسِبَ إِلَى الْكَذِبِ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَذَكَرَهُ فِي الضُّعَفَاءِ وَقَالَ: يَنْفَرِدُ عَنِ الثِّقَاتِ بِالْمَوْضُوعَاتِ. عَلَى أَنَّ هَذَا الْحَدِيثَ قَدْ صَحَّ مِنْ غَيْرِ طَرِيقِهِ.

EnglishUnverified translation

Yazid ibn al-Aswad (رضي الله عنه) said: I recited to the Messenger of Allah ﷺ one hundred rhymes from the poetry of Umayyah ibn Abi al-Salt; whenever I passed a verse he said: More. And I heard him say in that gathering: > **"The neighbour has more right to his saqab."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت یزید بن اسود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو امیہ بن ابوصلت کے ایک سو اشعار سنائے ‘ جب بھی میں آپ کو کوئی شعر سناتا ‘ تو آپ فرماتے : اور سناؤ ! آپ نے اسی محفل میں یہ بات ارشاد فرمائی : ’’ پڑوسی ‘ اپنے قرب ( یعنی پڑوس ) کا زیادہ حق دار ہوتا ہے ‘‘ اس کی سند میں ایک راوی خالد بن یزید اموی ہے اور وہ متروک ہے ‘ اس کی نسبت جھوٹ کی طرف کی گئی ہے ‘ ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے اور اس کا ذکر کتاب ’’ الضعفاء ‘‘ میں کیا ہے وہ یہ کہتے ہیں : یہ ثقہ راویوں سے موضوع روایت نقل کرنے میں منفرد ہے ‘ اگرچہ یہ حدیث دوسرے حوالوں سے مستند طور پر منقول ہے ۔

6795

Majma al-Zawaid #6795

وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ: «قَضَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالشُّفْعَةِ بَيْنَ الشُّرَكَاءِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ. وَإِسْحَاقُ لَمْ يُدْرِكْ عُبَادَةَ.

EnglishUnverified translation

Ubadah ibn al-Samit (رضي الله عنه) said: The Messenger of Allah ﷺ decreed preemption among partners.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے شراکت داروں کے درمیان شفعہ ہونے کا فیصلہ دیا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اسحاق نامی راوی نے حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔

6796

Majma al-Zawaid #6796

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «الشُّفْعَةُ فِي كُلِّ مَا لَمْ تَقَعِ الْحُدُودُ، فَإِذَا وَقَعَتِ الْحُدُودُ فَلَا شُفْعَةَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْعُمَرِيُّ، وَكَانَ كَذَّابًا.

EnglishUnverified translation

Ibn Umar (رضي الله عنهما) reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Preemption is in all that boundaries have not fallen; when boundaries fall there is no preemption."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ شفعہ ‘ ہر اس چیز میں واقع ہو گا ، جس میں حدود واقع نہ ہوئی ہوں ‘ جب حدود واقع ہو جائیں ‘ تو پھر شفعہ نہیں رہے گا “۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن عبداللہ عمری اور وہ کذاب ہے ۔

6797

Majma al-Zawaid #6797

وَعَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا وَقَعَتِ الْحُدُودُ فَلَا شُفْعَةَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَقَدْ وُثِّقَ.

EnglishUnverified translation

Zayd ibn Thabit (رضي الله عنه) said: The Messenger of Allah ﷺ said: > **"When boundaries fall there is no preemption."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جب حدود واقع ہو جائیں ‘ تو پھر شفعہ نہیں رہے گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن ابوزناد ہے اور وہ ضعیف ہے ‘ ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔

6798

Majma al-Zawaid #6798

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الصَّبِيُّ عَلَى شُفْعَتِهِ حَتَّى يُدْرِكَ فَإِذَا أَدْرَكَ إِنْ شَاءَ أَخَذَ، وَإِنْ شَاءَ تَرَكَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَزِيعٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Jabir ibn Abdullah (رضي الله عنهما) said: The Messenger of Allah ﷺ said: > **"The child retains his preemption until he attains maturity; when he attains maturity, if he wishes he takes, and if he wishes he leaves."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ بچے کو شفعہ کا حق حاصل رہے گا ‘ یہاں تک کہ جب وہ بالغ ہو جائے ‘ جب وہ بالغ ہو جائے گا ‘ تو اگر چاہے گا ‘ تو اسے حاصل کر لے اور اگر چاہے گا ‘ تو ترک کر دے گا “۔

6799

Majma al-Zawaid #6799

وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «لَا شُفْعَةَ لِنَصْرَانِيٍّ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ، وَفِيهِ نَايِلُ بْنُ نَجِيحٍ وَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ، وَضَعَّفَهُ غَيْرُهُ.

EnglishUnverified translation

Anas (رضي الله عنه) reported that the Prophet ﷺ said: > **"There is no preemption for a Christian."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ عیسائی کو شفعہ کا حق نہیں ہو گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی نایل بن نجیح ہے ‘ جسے ابوحاتم نے ثقہ قرار دیا ہے اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا ہے ۔

6800

Majma al-Zawaid #6800

عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «حَدُّ الطَّرِيقِ سَبْعَةُ أَذْرُعٍ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ سُوَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَثَّقَهُ دُحَيْمٌ، وَضَعَّفَهُ جُمْهُورُ الْأَئِمَّةِ.

EnglishUnverified translation

Jabir (رضي الله عنه) said: The Messenger of Allah ﷺ said: > **"The limit of the road is seven cubits."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ راستے کی حد سات ذراع ( یعنی کہنی سے درمیانی سب سے بڑی انگلی کے کنارے جتنی مقدار ) ہو گی ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی سوید بن عبدالعزیز ہے ‘ جسے دحیم نے ثقہ قرار دیا ہے اور جمہور ائمہ نے اسے ضعیف کہا ہے ۔

6801

Majma al-Zawaid #6801

وَعَنْ عُبَادَةَ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَضَى فِي الرَّحْبَةِ تَكُونُ يُرِيدُ أَهْلُهَا الْبُنْيَانَ فِيهَا، فَقَضَى: "" أَنْ يُتْرَكَ بَيْنَهُمَا لِلطَّرِيقِ سَبْعَةُ أَذْرُعٍ». وَفِي رِوَايَةٍ: «قَضَى فِي الرَّحْبَةِ تَكُونُ بَيْنَ الْقَوْمِ: "" أَنَّ الطَّرِيقَ سَبْعُ أَذْرُعٍ». رَوَاهُ كُلَّهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَأَحْمَدُ بِمَعْنَى الْأَوَّلِ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ يَأْتِي إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى، وَإِسْحَاقُ لَمْ يُدْرِكْ عُبَادَةَ.

EnglishUnverified translation

Ubadah (رضي الله عنه) reported that the Messenger of Allah ﷺ decreed concerning a courtyard whose people wish to build therein that seven cubits be left between them for the road. And in a narration: He decreed concerning a courtyard among people that the road is seven cubits. > **"Seven cubits be left between them for the road."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے صحن کے بارے میں ( یا گھر سے باہر موجود کھلی جگہ کے بارے میں ) یہ فیصلہ دیا ہے کہ اگر وہاں کے رہنے والے عمارت تعمیر کرنا چاہتے ہیں ، تو اس کے بارے میں یہ فیصلہ دیا ہے کہ وہ درمیان میں راستے کے لئے سات ذراع جگہ چھوڑ دیں گے ۔ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں :’’ وہ حسن ، جو لوگوں کے درمیان مشترک ہو ‘ اس کے بارے میں آپ نے یہ فیصلہ دیا ہے کہ راستہ سات ذراع کا ہو گا ‘‘۔ یہ تمام روایات امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہیں ‘ امام احمد نے پہلی روایت کا مفہوم ایک طویل حدیث میں ذکر کیا ہے وہ روایت آگے آئے گی ‘ اگر اللہ نے چاہا ‘ اسحاق نامی راوی نے حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔

6802

Majma al-Zawaid #6802

عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَلْعُونٌ مَنْ تَوَلَّى غَيْرَ مَوَالِيهِ، مَلْعُونٌ مَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ، مَلْعُونٌ مَنْ غَيَّرَ عَلَامَ الْأَرْضِ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْبَيْلَمَانِيِّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ. وَيَأْتِي لِابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ فِي الْغَصَبِ غَيْرُ هَذَا رَوَاهُ أَحْمَدُ.

EnglishUnverified translation

Ibn Umar (رضي الله عنهما) said: The Messenger of Allah ﷺ said: > **"Cursed is whoever turns to other than his patrons, cursed is whoever claims to other than his father, cursed is whoever changes the landmarks of the earth."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ وہ شخص ملعون ہے ‘ جو اپنے آزاد کرنے والے آقا کی بجائے کسی اور کی طرف اپنی نسبت کرتا ہے ‘ وہ شخص ملعون ہے ‘ جو اپنے باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف اپنی نسبت کرتا ہے ‘ اور وہ شخص ملعون ہے ‘ جو زمین کے نشانات تبدیل کر دیتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبدالرحمن بن بیلمانی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے حوالے سے ایک منقول حدیث آگے آئے گی ‘ جو غصب کے بارے میں ہے اور وہ اس روایت کے علاوہ ہے ‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔

6803

Majma al-Zawaid #6803

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ غَيَّرَ تُخُومَ الْأَرْضِ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَغَضَبُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَا يَقْبَلُ اللَّهُ مِنْهُ صَرْفًا، وَلَا عَدْلًا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، وَقَدْ أَجْمَعُوا عَلَى ضَعْفِهِ إِلَّا أَنَّ التِّرْمِذِيَّ حَسَّنَ لَهُ بَعْضَ حَدِيثِهِ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.

EnglishUnverified translation

Amr ibn Awf (رضي الله عنه) said: The Messenger of Allah ﷺ said: > **"Whoever changes the boundaries of the earth, upon him is the curse of Allah and His wrath on the Day of Resurrection; Allah accepts from him neither sarf nor adl."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمرو بن عوف رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ جو شخص زمین کے نشانات تبدیل کرتا ہے ‘ قیامت کے دن اس پر اللہ تعالیٰ کی لعنت اور اس کا غضب ہو گا ‘ اللہ تعالٰی اس کی کوئی فرض یا نفل عبادت قبول نہیں کرے گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی کثیر بن عبداللہ ہے ‘ جس کے ضعیف ہونے پر محدثین کا اتفاق ہے ‘ البتہ امام ترمذی نے اس کی نقل کردہ ایک حدیث کو حسن قرار دیا ہے ‘ باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔

6804

Majma al-Zawaid #6804

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَمْنَعَنَّ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ الْمُؤْمِنَ خَشَبًا يَضَعُهُ عَلَى جِدَارِهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas (رضي الله عنهما) said: The Messenger of Allah ﷺ said: > **"Let none of you prevent his believing brother from placing wood upon his wall."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تم میں سے کوئی ایک شخص ‘ اپنے مومن بھائی کو اپنی دیوار پر لکڑی رکھنے سے ہرگز منع نہ کرے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ‘ اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

6805

Majma al-Zawaid #6805

وَلَهُ فِي رِوَايَةٍ: «وَلِلرَّجُلِ أَنْ يَضَعَ خَشَبَهُ عَلَى حَائِطِ جَارِهِ».

EnglishUnverified translation

In a narration from him: A man has the right to place his wood upon the wall of his neighbour. > **"A man has the right to place his wood upon the wall of his neighbour."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ان کے حوالے سے منقول ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ’’ آدمی کو اس بات کا حق حاصل ہے کہ اپنی پڑوسی کی دیوار پر اپنی لکڑی ( یعنی شہتیر ) رکھ لے ‘‘۔

6806

Majma al-Zawaid #6806

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «مَنْ بَنَى حَائِطًا فَلْيُدَعِّمْ عَلَى جِدَارِ أَخِيهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas (رضي الله عنهما) reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Whoever builds a wall, let him support upon the wall of his brother."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ جو شخص دیواریں بناتا ہے ‘ وہ اپنے بھائی کی دیوار پر شہتیر رکھ سکتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

6807

Majma al-Zawaid #6807

وَعَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْكَعْبِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا يَرْجُو الْجَارُ مِنْ جَارِهِ إِذَا لَمْ يَرْفَعْ لَهُ خَشَبًا فِي جِدَارِهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Shurayh al-Kabi (رضي الله عنه) said: The Messenger of Allah ﷺ said: > **"What does the neighbour hope from his neighbour when he does not raise wood for him upon his wall?"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوشریح کعبی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ پڑوسی اپنے پڑوسی سے کیا امید رکھے گا کہ جب وہ اس کی دیوار پر شہتیر ہی نہیں رکھ سکتا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن سعید مقبری ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

6808

Majma al-Zawaid #6808

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «مَنْ سَأَلَهُ جَارُهُ أَنْ يَغْرِزَ خَشَبَةً فِي جِدَارِهِ فَلَا يَمْنَعْهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا شُعَيْبَ بْنَ يَحْيَى، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Malik (رضي الله عنه) reported from the Messenger of Allah ﷺ: > **"Whose neighbour asks him to fix wood in his wall, let him not prevent him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جس شخص سے ‘ اس شخص کا پڑوسی یہ درخواست کرے کہ اس کی دیوار میں وہ لکڑی گاڑ لے ‘ تو وہ شخص اسے منع نہ کرے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ‘ صرف شعیب بن یحیی کا معاملہ مختلف ہے ‘ ویسے وہ ثقہ ہے ۔

6809

Majma al-Zawaid #6809

عَنْ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَضَى فِي سَيْلٍ مَهْزُورٍ: "" يُمْسِكُ الْأَعْلَى عَلَى الْأَسْفَلِ حَتَّى يَبْلُغَ الْكَعْبَيْنِ، ثُمَّ يُرْسِلُ عَلَى الْأَسْفَلِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ عَاصِمُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Amir ibn Rabiah (رضي الله عنه) reported that the Messenger of Allah ﷺ decreed concerning the stream of Mahzur: > **"The upper holds back from the lower until it reaches the ankles, then he releases to the lower."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ’’ مہزور ‘‘ نامی پانی کی ندی کے بارے میں یہ فیصلہ دیا تھا کہ اوپر والے لوگ پانی کو نیچے والے لوگوں کے پاس جانے سے روکے رکھیں گے ‘ جب تک وہ ٹخنوں تک نہیں پہنچ جاتا ‘ پھر وہ نیچے والوں کے لیے چھوڑ دیں گے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عاصم بن عبیداللہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔