Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 13 · Chapter 14

Book of Sales and Transactions

Hadith 6730–6769

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

6730

Majma al-Zawaid #6730

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ «أَنَّ أَعْرَابِيًّا وَهَبَ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - هِبَةً فَأَثَابَهُ عَلَيْهَا، قَالَ: "" أَرَضِيتَ؟ "" قَالَ: لَا. فَزَادَهُ. قَالَ: "" أَرَضِيتَ؟ "". قَالَ: لَا. فَزَادَهُ. قَالَ: "" أَرَضِيتَ؟ "" قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ لَا أَتَّهِبَ هِبَةً إِلَّا مِنْ قُرَشِيٍّ، أَوْ أَنْصَارِيٍّ، أَوْ ثَقَفِيٍّ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالْبَزَّارُ، وَقَالَ: إِنَّ أَعْرَابِيًّا أَهْدَى بَدَلَ ""وَهَبَ""، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَقَالَ: وَهَبَ نَاقَةً، فَأَثَابَهُ عَلَيْهَا. وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas (رضي الله عنهما) reported that a Bedouin gifted to the Messenger of Allah ﷺ a gift, in one wording a she-camel, and he recompensed him therefor asking his pleasure, the man twice refusing, so he increased until the man was pleased, whereupon the Messenger of Allah ﷺ declared his resolve to accept gifts only from Quraysh, Ansar, or Thaqif. > **"Are you pleased? I had resolved not to accept a gift except from Qurayshi, or Ansari, or Thaqafi."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک دیہاتی نے نبی اکرم ﷺ کو کوئی چیز دی ‘ نبی اکرم ﷺ نے بدلے میں اسے کچھ دیا اور اس سے دریافت کیا : کیا تم راضی ہو ؟ اس نے جواب دیا : جی نہیں ! نبی اکرم ﷺ نے مزید دیا ‘ اور دریافت کیا : کیا تم راضی ہو ؟ اس نے جواب دیا : جی نہیں ! نبی اکرم ﷺ نے مزید دیا اور دریافت کیا : کیا تم راضی ہو گئے ہو ؟ اس نے جواب دیا : جی ہاں ! تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میں نے یہ طے کیا ہے کہ آئندہ میں صرف کسی قریشی ‘ یا انصاری ‘ یا ثقفی شخص سے کوئی چیز قبول کروں گا ۔ یہ روایت امام احمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ‘ وہ بیان کرتے ہیں : ایک دیہاتی نے ہدیہ کے طور پر پیش کیا ‘ انہوں نے لفظ ’’ ہبہ ‘‘ کی جگہ یہ لفظ استعال کیا ہے ‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ وہ یہ الفاظ نقل کرتے ہیں : اس نے ایک اونٹنی ہبہ کی تھی تو نبی اکرم ﷺ نے اسے بدلے میں کچھ دیا ۔ امام احمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

6731

Majma al-Zawaid #6731

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ «أَنَّ رَجُلًا كَانَ يُلَقَّبُ حِمَارًا، وَكَانَ يُهْدِي لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْعُكَّةَ مِنَ السَّمْنِ، وَالْعُكَّةَ مِنَ الْعَسَلِ، فَإِذَا جَاءَ صَاحِبُهَا يَتَقَاضَاهُ جَاءَ بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَيَقُولُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَعْطِ هَذَا ثَمَنَ مَتَاعِهِ. فَمَا يَزِيدُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى أَنْ يَتَبَسَّمَ وَيَأْمُرَ بِهِ فَيُعْطَى». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn Umar (رضي الله عنهما) reported concerning a man nicknamed Donkey who used to gift to the Messenger of Allah ﷺ a skin of clarified butter and a skin of honey, then when its owner came demanding, he brought him to the Messenger of Allah ﷺ saying give this one the price of his goods, and the Messenger of Allah ﷺ did no more than smile and command that he be given.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک شخص کا لقب ’’ حمار ‘‘ تھا ‘ اس نے نبی اکرم ﷺ کو گھی کی کپی اور شہد کی کپی تحفے میں دی ‘ جب اس سے متعلقہ فرد آیا ( یعنی جس سے اس نے وہ چیزیں خریدی تھیں ) اور اس نے اس سے تقاضا کیا ‘ تو وہ شخص اسے لے کر نبی اکرم ﷺ کے پاس آ گیا اور بولا : یا رسول اللہ ! آپ اس سامان کی قیمت عطا کر دیں ، تو نبی اکرم ﷺ نے مسکرانے کے علاوہ کچھ نہیں کیا ‘ اور پھر اسے ادائیگی کا حکم دیا ‘ تو اسے ادائیگی کر دی گئی ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

6732

Majma al-Zawaid #6732

وَعَنْ أُمِّ سُنْبُلَةَ قَالَتْ: «أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِهَدِيَّةٍ، فَأَبَيْنَ نِسَاءُ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يَأْخُذْنَهَا، وَقُلْنَ: إِنَّا لَا نَأْخُذُ هَدِيَّةً. فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" خُذُوا هَدِيَّةَ أُمِّ سُنْبُلَةَ فَهِيَ أُمُّ بَادِيَتِنَا وَنَحْنُ أَهْلُ حَضْرَتِهَا "". وَأَعْطَاهَا وَادِيَ كَذَا وَكَذَا فَاشْتَرَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حَسَنِ بْنِ حَسَنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ مِنْهُمْ، فَأَعْطَاهَا ذَوْدًا، وَقَالَ عَمْرُو بْنُ قَيْظِيٍّ: فَرَأَيْتُ بَعْضَهَا. قَالَ أَبُو كُرَيْبٍ: قُلْتُ لِزَيْدِ بْنِ الْحُبَابِ: مَنْ أَعْطَاهَا؟ قَالَ: رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» -. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ قَيْظِيٍّ، وَتَابَعُوهُ، وَفِيهِ ثَلَاثَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Umm Sunbulah (رضي الله عنها) reported that she came to the Messenger of Allah ﷺ with a gift which the wives of the Prophet ﷺ refused to take saying they take no gift, so the Messenger of Allah ﷺ came commanding them to take the gift of Umm Sunbulah for she is the desert-dweller and they are her townsfolk, and he granted her such-and-such valley which Abdullah ibn Hasan ibn Hasan ibn Ali ibn Abi Talib later purchased from them, and gave her young camels, part of which Amr ibn Qayzi saw. > **"Take the gift of Umm Sunbulah, for she is our desert-dweller and we are her townsfolk."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام سنبلہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں تحفہ لے کے آئی ‘ تو نبی اکرم ﷺ کی ازواج نے اسے لینے سے انکار کر دیا ‘ انہوں نے کہا : ہم کوئی ہدیہ نہیں لیں گی ، نبی اکرم ﷺ تشریف لائے تو آپ نے ارشاد فرمایا : ام سنبلہ کا ہدیہ لے لو ! کیونکہ وہ ہماری دیہاتن ہے ‘ اور ہم اس کے شہری ہیں ، پھر نبی اکرم ﷺ نے اس خاتون کو فلاں وادی عطا کر دی ‘ وہ جگہ عبداللہ بن حسن بن حسن بن علی بن ابوطالب نے ( اس خاتون کی اولاد ) سے خریدی تھی ‘ نبی اکرم ﷺ نے اس خاتون کو اونٹ بھی دیا تھا ۔ عمرو بن قینطی بیان کرتے ہیں : میں نے ان میں سے ایک کو دیکھا ہے وہ بیان کرتے ہیں : میں نے زید بن حباب سے دریافت کیا : اس خاتون کو کس نے وہ دیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : نبی اکرم ﷺ نے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن قینطی ہے ‘ لوگوں نے اس کی متابعت کی ہے اور اس کی سند میں تین راوی ایسے ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

6733

Majma al-Zawaid #6733

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «أَهْدَتْ أُمُّ سُنْبُلَةَ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَبَنًا فَلَمْ تَجِدْهُ، فَقُلْتُ لَهَا: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدْ نَهَانَا أَنْ نَأْكُلَ مِنْ طَعَامِ الْأَعْرَابِ. فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَبُو بَكْرٍ مَعَهُ فَقَالَ: "" مَا هَذَا مَعَكِ يَا أُمَّ سُنْبُلَةَ؟ "" قَالَتْ: لَبَنٌ أَهْدَيْتُهُ لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: "" اسْكُبِي أُمَّ سُنْبُلَةَ "". فَسَكَبَتْ، فَقَالَ: "" نَاوِلِي أَبَا بَكْرٍ "". فَفَعَلَتْ، فَقَالَ: "" اسْكُبِي أُمَّ سُنْبُلَةَ "". فَسَكَبَتْ، "" فَنَاوِلِي عَائِشَةَ "". فَنَاوَلَتْهَا، فَشَرِبَتْ، فَقَالَ: "" اسْكُبِي أُمَّ سُنْبُلَةَ ""، فَسَكَبَتْ، فَنَاوَلَتْهُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَشَرِبَ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ، وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَشْرَبُ مِنْ لَبَنٍ أَسْلَمَ وَأَبْرَدِهَا عَلَى الْكَبِدِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَدْ كُنْتُ حَدَّثْتُ أَنَّكَ نَهَيْتَ عَنْ طَعَامِ الْأَعْرَابِ! فَقَالَ: "" يَا عَائِشَةُ، إِنَّهُمْ لَيْسُوا بِأَعْرَابٍ هُمْ أَهْلُ بَادِيَتِنَا، وَنَحْنُ [أَهْلُ] حَاضِرَتِهِمْ، وَإِذَا دُعُوا أَجَابُوا، فَلَيْسُوا بِأَعْرَابٍ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو يَعْلَى، وَالْبَزَّارُ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Aishah (رضي الله عنها) reported that Umm Sunbulah gifted milk to the Messenger of Allah ﷺ and did not find him, so she told her the Messenger of Allah ﷺ had forbidden them to eat the food of the Bedouins, then the Messenger of Allah ﷺ entered with Abu Bakr (رضي الله عنه) asking what she had, she replying milk gifted to him, commanding her to pour and pass to Abu Bakr, then to pour and pass to Aishah who drank, then to pour and pass to the Messenger of Allah ﷺ who drank the most wholesome and cooling milk for the liver, Aishah questioning the prohibition, whereupon he explained they are not Bedouins but people of the desert while they are people of the town, responding when called, so not Bedouins. > **"Pour, O Umm Sunbulah. Pass to Abu Bakr. Pour, O Umm Sunbulah. Pass to Aishah. Pour, O Umm Sunbulah. O Aishah, they are not Bedouins; they are our desert-dwellers and we are their townsfolk, and when they are called they answer, so they are not Bedouins."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ام سنبلہ نے نبی اکرم ﷺ کو دودھ تحفے کے طور پر پیش کیا ‘ اس نے نبی اکرم ﷺ کو نہیں پایا ‘ میں نے اس سے کہا کہ نبی اکرم ﷺ نے ہمیں اس بات سے منع کیا ہے کہ ہم دیہاتیوں کا کھانا کھائیں ‘ پھر نبی اکرم ﷺ گھر تشریف لائے ، آپ کے ساتھ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی تھے ‘ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : اے ام سنبلہ ! تمہارے پاس کیا ہے ؟ اس خاتون نے عرض کی : دودھ ہے ‘ جو میں نے آپ کو تحفے کے طور پر دینا تھا ‘ یا رسول اللہ ! نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اسے اُم سنبلہ تم پیؤ ! اس خاتون نے پی لیا ‘ پھر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ابوبکر کو دو ! اس نے ایسا ہی کیا ، پھر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے اُم سنبلہ ! تم پی لو ‘ اس نے پی لیا ‘ پھر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم عائشہ کو پکڑاؤ ‘ انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو پکڑایا ‘ تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بھی پی لیا ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے اُم سنبلہ تم پیؤ ! انہوں نے پی لیا ‘ پھر اس نے نبی اکرم ﷺ کو پکڑایا تو نبی اکرم ﷺ نے بھی پی لیا ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ دودھ پی رہے تھے جو کلیجے کے لئے سب سے زیادہ سلامتی والا اور سب سے زیادہ ٹھنڈا ہوتا ہے ‘ پھر سیدہ عائشہ ! نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے تو کہہ دیا تھا کہ آپ دیہاتیوں کے کھانے سے منع کرتے ہیں ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے عائشہ ! یہ لوگ دیہاتی نہیں ہیں ‘ یہ لوگ ویرانوں کے رہنے والے ہیں اور ہم ان کے شہروں کے رہنے والے ہیں ، جب یہ بلائیں تو ان کے پاس چلے جاؤ ! یہ لوگ دیہاتی نہیں ہیں ۔ یہ روایت امام احمد ‘ امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ‘ امام احمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

6734

Majma al-Zawaid #6734

وَعَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: «رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَهْدَى لَهُ رَجُلٌ عُكَّةً مِنْ عَسَلٍ فَقَبِلَهَا، وَقَالَ: احْمِ شِعْبِي. فَحَمَاهُ، وَكَتَبَ لَهُ كِتَابًا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Iyad ibn Abdullah reported from his father that he saw the Messenger of Allah ﷺ to whom a man gifted a skin of honey and he accepted it, the man asking for protection of his mountain pass, so he protected it for him and wrote a document for him.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عیاض بن عبداللہ ‘ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا ‘ ایک شخص نے شہد کی کپی آپ کو تحفے کے طور پر پیش کی ، تو آپ نے اسے قبول کر لیا ‘ اس شخص نے عرض کی : آپ مجھے میری گھاٹی چراگاہ کے طور پر عطا کر دیں ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے وہ اُسے چراگاہ کے طور پر عطا کر دی ‘ اور اس کے لئے ایک تحریر بھی لکھوا دی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

6735

Majma al-Zawaid #6735

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ، «عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" وَمَنْ أَهْدَى [كُرَاعًا] فَكَافِئُوهُ» "". قُلْتُ: رَوَاهُ الْبَزَّارُ فِي أَثْنَاءِ حَدِيثٍ، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ، وَهُوَ ثِقَةٌ، وَلَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn Umar (رضي الله عنهما) reported from the Prophet ﷺ concerning recompense for a gift. > **"Whoever gives as a gift even a trotter, then recompense him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ‘ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جو شخص ایک پایا بھی تحفے کے طور پر دے ‘ تو تم اسے بدلہ دو ‘‘۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام بزار نے حدیث کے درمیان میں نقل کی ہے ‘ اس روایت کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے وہ ثقہ ہے ‘ لیکن وہ تدلیس کرنے والا ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

6736

Majma al-Zawaid #6736

«وَعَنْ أُمِّ حَكِيمٍ بِنْتِ وَدَّاعٍ الْخُزَاعِيَّةِ قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا جَزَاءُ الْغَنِيِّ مِنَ الْفَقِيرِ؟ قَالَ: "" النَّصِيحَةُ، وَالدُّعَاءُ "" قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، تَكْرَهُ رَدَّ اللَّطَفِ؟ قَالَ: "" مَا أَقْبَحَهُ، لَوْ أُهْدِيَ إِلَيَّ كُرَاعٌ لَقَبِلْتُ وَلَوْ دُعِيتُ إِلَى ذِرَاعٍ لَأَجَبْتُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ مَنْ لَا يُعْرَفُ.

EnglishUnverified translation

Umm Hakim bint Wadda al-Khuzaiyyah (رضي الله عنها) said: I said: O Messenger of Allah, what is the recompense of the rich from the poor? He said: Sincerity and supplication. I said: O Messenger of Allah, do you dislike returning kindness? He said: > **"How ugly it is. Had a trotter been gifted to me I would accept it, and had I been invited to a foreleg I would answer."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام حکیم بنت وداع خزاعیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! غریب کی طرف سے خوشحال کی جزا کیا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : خیرخواہی اور دعا ‘ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا آپ تحفے کو واپس کرنے کو ناپسند کرتے ہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ’’ یہ کتنی بری بات ہے ‘ اگر مجھے ایک پایا بھی تحفے کے طور پر دیا جائے ‘ تو میں قبول کر لوں گا ‘ اور اگر مجھے ایک دستی کی دعوت دی جائے ‘ تو میں وہ قبول کر لوں گا “۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے ‘ جو معروف نہیں ہے ۔

6737

Majma al-Zawaid #6737

وَعَنْ عَائِشَةَ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" مَنْ أَتَاهُ مَعْرُوفٌ، فَذَكَرَهُ، فَقَدْ شَكَرَهُ، وَمَنْ تَحَلَّى بِمَا لَمْ يَنَلْ فَهُوَ كَلَابِسِ ثَوْبَيْ زُورٍ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ صَالِحُ بْنُ أَبِي الْأَخْضَرِ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Aishah (رضي الله عنها) reported that the Prophet ﷺ said: > **"Whoever receives a favour and mentions it has thanked for it, and whoever adorns himself with what he has not attained is like one wearing two garments of falsehood."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم ﷺ سے یہ فرمان نقل کرتی ہیں :’’ جس شخص کے پاس بھلائی آئے ( یعنی کوئی اُس کے ساتھ بھلائی کرے ) اور وہ اس کا ذکر کر دے ، تو گویا اس نے اس کا شکریہ ادا کر دیا ‘ اور جو شخص خود کو کسی ایسی چیز کے ذریعے آراستہ ظاہر کرے ‘ جو اسے نہیں ملی ‘ تو وہ جھوٹ کے دو کپڑے پہننے والے کی مانند ہے ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی صالح بن ابواخضر ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

6738

Majma al-Zawaid #6738

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، «عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" إِذَا قَالَ الرَّجُلُ لِأَخِيهِ: جَزَاكَ اللَّهُ خَيْرًا، فَقَدْ أَبْلَغَ فِي الثَّنَاءِ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah (رضي الله عنه) reported from the Prophet ﷺ: > **"When a man says to his brother: May Allah reward you with good, he has excelled in praise."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ‘ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جب کوئی شخص اپنے بھائی سے یہ کہے :’’ اللہ تعالی تمہیں جزائے خیر عطا کرے ‘‘ تو اس نے پوری تعریف کر دی “۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

6739

Majma al-Zawaid #6739

عَنْ أَنَسٍ قَالَ: «لَمَّا دَعَا نَبِيُّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مُوسَى صَاحِبَهُ إِلَى الْأَجَلِ الَّذِي كَانَ بَيْنَهُمَا قَالَ لَهُ صَاحِبُهُ: كُلُّ شَاةٍ وَلَدَتْ عَلَى غَيْرِ لَوْنِهَا فَلَكَ وَلَدُهَا. قَالَ: فَعَمَدَ فَوَضَعَ حِبَالًا عَلَى الْمَاءِ فَلَمَّا رَأَتِ الْحِبَالَ فَزِعَتْ، فَجَالَتْ جَوْلَةً، فَوَلَدْنَ كُلُّهُنَّ بُرْقًا إِلَّا شَاةً وَاحِدَةً، فَذَهَبَ بِأَوْلَادِهِنَّ ذَلِكَ الْعَامَ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Anas (رضي الله عنه) said: When Musa (عليه السلام), the Prophet of Allah, called his companion to the term that was between them, his companion said to him: Every sheep that bears young unlike its colour, its young is yours. So he set out and placed ropes upon the water, and when they saw the ropes they were startled and wheeled about, and all of them bore speckled young except one sheep, so he took their young that year.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب اللہ کے نبی حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنے ساتھی ( شاید حضرت شعیب علیہ السلام مراد ہیں ) کو اس مخصوص مدت کی طرف دعوت دی ‘ تو ان دونوں کے درمیان یہ بات طے ہوئی ‘ تو ان کے ساتھی نے کہا : ہر وہ بکری جو اس کے رنگ سے مختلف رنگ میں پیدا ہو گی ‘ اس کا بچہ آپ کا ہو گا ‘ راوی بیان کرتے ہیں : تو وہ بڑھے ‘ انہوں نے پانی پر رسیاں رکھ دیں ‘ جب انہوں نے رسیاں دیکھیں ، تو وہ خوف زدہ ہو گئیں اور گھومنے لگیں ‘ اور ان سب نے برق بچوں کو جنم دیا ( یعنی جن کی سفید روئی کے درمیان کچھ سیاہ بال تھے ) ‘ البتہ ایک بکری کا معاملہ مختلف تھا ، تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اُس سال کی اُن بکریوں کی ساری اولاد حاصل کر لی ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

6740

Majma al-Zawaid #6740

وَعَنْ عُتْبَةَ بْنِ النُّدَّرِ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سُئِلَ: أَيَّ الْأَجَلَيْنِ قَضَى مُوسَى؟ قَالَ: "" أَبَرَّهُمَا، وَأَوْفَاهُمَا "". ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" لَمَّا أَرَادَ مُوسَى فِرَاقَ شُعَيْبٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِمَا أَمَرَ امْرَأَتَهُ أَنْ تَسْأَلَ أَبَاهَا أَنْ يُعْطِيَهَا مِنْ غَنَمِهِ مَا يَعِيشُونَ بِهِ فَأَعْطَاهَا مَا وَلَدَتْ غَنَمُهُ فِي ذَلِكَ الْعَامِ مِنْ قَالَبِ لَوْنٍ "". قَالَ: "" فَمَا مَرَّتْ شَاةٌ إِلَّا ضَرَبَ مُوسَى جَنْبَيْهَا بِعَصَاهُ. فَوَلَدَتْ قَوَالِبَ أَلْوَانِهَا كُلُّهَا، وَوَلَدَتْ ثِنْتَيْنِ وَثَلَاثِينَ، كُلُّ شَاةٍ لَيْسَ فِيهَا فَشُوشٌ، وَلَا ضَبُوبٌ، وَلَا كَمِشَةٌ تَفُوتُ الْكَفَّ، وَلَا ثَعُولٌ "". وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" إِذَا افْتَتَحْتُمُ الشَّامَ، فَإِنَّكُمْ سَتَجِدُونَ بَقَايَا مِنْهَا وَهِيَ السَّامِرِيَّةُ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ، وَفِيهِ كَلَامٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ السِّجِسْتَانِيَّ، وَهُوَ ثِقَةٌ، وَلَمْ يُضَعِّفْهُ أَحَدٌ.

EnglishUnverified translation

Utbah ibn al-Nuddar (رضي الله عنه) reported that the Messenger of Allah ﷺ was asked: Which of the two terms did Musa fulfil? He said: The most righteous of them and the most complete of them. Then the Prophet ﷺ said: When Musa (عليه السلام) intended to part from Shuayb (عليهما السلام), he commanded his wife to ask her father to give her from his sheep what they might live by, so he gave her what his sheep bore that year of young of altered colour. He said: No sheep passed but Musa struck its sides with his staff, so all of them bore young of their altered colours, and they bore two and thirty, no sheep among them fashush, nor dabub, nor kamishah missing the palm, nor thaul. And the Messenger of Allah ﷺ said: > **"When you conquer Sham you will find remnants of them, and they are the Samiriyyah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عتبہ بن ندر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ سے سوال کیا گیا : حضرت موسیٰ علیہ السلام نے دو مدتوں میں سے کون سی مدت پوری کی تھی ؟ تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جو زیادہ اچھائی والی اور زیادہ مکمل تھی ، پھر نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے حضرت شعیب علیہ السلام سے جدا ہونے کا ارادہ کیا ‘ تو انہوں نے اپنی اہلیہ کو یہ ہدایت کی کہ وہ اپنے والد کو یہ درخواست کریں کہ وہ اپنی بکریوں میں سے انہیں اتنی عطا کر دیں ، جس کے ذریعے وہ لوگ رہ سکیں ، تو حضرت شعیب علیہ السلام نے اس خاتون کو یہ کہا : جو بکری اس سال ایسے بچے کو جنم دے ‘ جس کا رنگ اپنی ماں کے رنگ سے مختلف ہو ( وہ انہیں مل جائے گی ) ‘ نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں : جو بھی بکری گزرتی تھی ، حضرت موسیٰ علیہ السلام اس کے پہلو پر اپنا عصا مارتے تھے ‘ تو وہ اپنے سے مختلف رنگ کے بچے کو جنم دیتی تھی ، اس نے بتیس بچوں کو جنم دیا ‘ ان میں کوئی بکری ایسی نہیں تھی ، جو فشوش ہو ( جس کے تھن کا سوراخ بڑا ہو اور دوہے بغیر ہی اس کا دودھ ٹپکتا رہتا ہو ) ‘ ضبوب ہو ( جس کے دودھ کا سوراخ تنگ ہو ) کمشہ ہو ( جس کا تھن اتنا چھوٹا ہو کہ دودھ دوہا ہی نہ جا سکے ) جو ہتھیلی کو فوت کر دے ( یعنی خالی رہنے دے ) اور نہ ( کوئی بکری ) ثعول تھی ( جس کا اضافی تھن ہو ) ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جب تم شام فتح کرو گے ‘ تو تم ان بکریوں کی اولاد کو پالو گے اور وہ سامریہ ہوں گی ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ‘ اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف عمر بن خطاب سجستانی کا معاملہ مختلف ہے وہ ثقہ ہے ‘ کسی نے اسے ضعیف قرار نہیں دیا ہے ۔

6741

Majma al-Zawaid #6741

«عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَخْرِ بْنِ لَوْذَانَ، وَكَانَ مِمَّنْ بَعَثَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَعَ عُمَّالٍ إِلَى الْيَمَنِ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ حِينَ بَعَثَهُ مُعَلِّمًا إِلَى الْيَمَنِ: "" إِنِّي قَدْ عَرَفْتُ بَلَاءَكَ فِي الدِّينِ، وَقَدْ طَيَّبْتُ لَكَ الْهَدِيَّةَ، فَإِنْ أُهْدِيَ لَكَ شَيْءٌ فَاقْبَلْ "". فَرَجَعَ حِينَ رَجَعَ بِثَلَاثِينَ رَأْسًا أُهْدُوا لَهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ سَيْفُ بْنُ عُمَرَ التَّمِيمِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ. وَقَدْ تَقَدَّمَتْ لَهُ طُرُقٌ إِسْنَادُهَا جَيِّدٌ فِي الْفَلَسِ وَالْحَجْرِ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Sakhr ibn Lawdhan (رضي الله عنه), who was among those the Prophet ﷺ sent with the officials to Yemen, said: The Prophet ﷺ said to Muadh ibn Jabal (رضي الله عنه) when he sent him as a teacher to Yemen: So when he returned he returned with thirty heads that had been gifted to him. > **"I have known your trial in religion, and I have made the gift lawful for you; if anything is gifted to you, then accept it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن صخر بن لوذان رضی اللہ عنہ ‘ جوان افراد میں سے ایک ہیں ، جنہیں نبی اکرم ﷺ نے عمال کے ہمراہ یمن بھیجا تھا ‘ وہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم ﷺ نے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کو معلم بنا کے یمن کی طرف بھیجا تو آپ نے ان سے فرمایا : دین کے بارے میں تمہاری آزمائش سے میں واقف ہوں ‘ اور میں تمہارے تحفے کو پاکیزہ قرار دیتا ہوں ‘ اگر تمہیں کوئی چیز تحفے کے طور پر دی جائے ‘ تو تم قبول کر لینا ۔ جب حضرت معاذ رضی اللہ عنہ واپس آئے تو ان کے پاس تیس جانور تھے ( یا غلام تھے ) جو انہیں تحفے کے طور پر دیے گئے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی سیف بن عمر تمیمی ہے اور وہ ضعیف ہے ‘ اس سے پہلے اس روایت کے مختلف طرق گزر چکے ہیں ، مفلس ہونے کی حالت میں تصرف سے روکنے سے متعلق اس کی سند جید ہے ۔

6742

Majma al-Zawaid #6742

وَعَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَدَايَا الْأُمَرَاءِ غُلُولٌ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَأَحْمَدُ مِنْ طَرِيقِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَيَّاشٍ، عَنْ أَهْلِ الْحِجَازِ وَهِيَ ضَعِيفَةٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Humayd al-Saidi (رضي الله عنه) said: The Messenger of Allah ﷺ said: > **"The gifts of rulers are misappropriation."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ امراء کو دیے جانے والے تحائف ‘ خیانت ہوتے ہیں ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اور امام احمد نے اسماعیل بن عیاش کے حوالے سے اہل حجاز سے نقل کی ہے اور یہ روایت ضعیف ہے ۔

6743

Majma al-Zawaid #6743

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «هَدَايَا الْأُمَرَاءِ غُلُولٌ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Jabir ibn Abdullah (رضي الله عنهما) reported that the Prophet ﷺ said: > **"The gifts of rulers are misappropriation."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ ‘ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں :’’ امراء کو دیے جانے والے تحائف ‘ خیانت ہوتے ہیں ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

6744

Majma al-Zawaid #6744

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «الْهَدِيَّةُ إِلَى الْإِمَامِ غُلُولٌ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ ثمانُ بْنُ سَعِيدٍ (*)، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas (رضي الله عنهما) reported from the Messenger of Allah ﷺ: > **"The gift to the Imam is misappropriation."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس ہی نبی اکرم سلیم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : حکمران کو دیا جانے والا تحفہ خیانت ہوتا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ثمان بن سعید ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

6745

Majma al-Zawaid #6745

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «هَدَايَا الْأُمَرَاءِ غُلُولٌ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ حُمَيْدُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْبَاهِلِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah (رضي الله عنه) reported from the Messenger of Allah ﷺ: > **"The gifts of rulers are misappropriation."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ‘ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ امراء کو دیے جانے والے تحائف ‘ خیانت ہوتے ہیں ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی حمید بن معاویہ باہلی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

6746

Majma al-Zawaid #6746

وَعَنْ عِصْمَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْهَدِيَّةُ تَذْهَبُ بِالسَّمْعِ وَالْبَصَرِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ الْفَضْلُ بْنُ الْمُخْتَارِ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا. وَفِي هَذَا الْبَابِ أَحَادِيثُ فِي مَوَاضِعِهَا.

EnglishUnverified translation

Ismah (رضي الله عنه) said: The Messenger of Allah ﷺ said: > **"The gift takes away hearing and sight."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عصمہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تحفہ ‘ سماعت اور بصارت کو رخصت کر دیتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی فضل بن مختار ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔ اس موضوع سے متعلق دیگر احادیث اپنے مخصوص مقامات پر آئیں گی ۔

6747

Majma al-Zawaid #6747

عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ «أَنَّ حَكِيمَ بْنَ حِزَامٍ قَالَ: كَانَ مُحَمَّدٌ أَحَبَّ رَجُلٍ إِلَيَّ مِنَ النَّاسِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَلَمَّا تَنَبَّأَ وَخَرَجَ إِلَى الْمَدِينَةِ شَهِدَ حَكِيمُ بْنُ حِزَامٍ الْمَوْسِمَ - وَهُوَ كَافِرٌ - فَوَجَدَ حُلَّةً لِذِي يَزَنٍ تُبَاعُ، فَاشْتَرَاهَا بِخَمْسِينَ دِينَارًا لِيُهْدِيَهَا لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَدِمَ بِهَا عَلَيْهِ الْمَدِينَةَ، فَأَرَادَهُ عَلَى قَبْضِهَا هَدِيَّةً؛ فَأَبَى، قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ: حَسِبْتُهُ قَالَ: "" إِنَّا لَا نَقْبَلُ شَيْئًا مِنَ الْمُشْرِكِينَ، وَلَكِنْ إِنْ شِئْتَ أَخَذْنَاهَا بِالثَّمَنِ "". فَأَعْطَيْتُهُ حِينَ أَبَى عَلَيَّ الْهَدِيَّةَ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَزَادَ: «فَلَبِسَهَا فَرَأَيْتُهَا عَلَيْهِ عَلَى الْمِنْبَرِ فَلَمْ أَرَ شَيْئًا أَحَسَنَ مِنْهُ فِيهَا يَوْمَئِذٍ. ثُمَّ أَعْطَاهَا أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ فَرَآهَا حَكِيمٌ عَلَى أُسَامَةَ، فَقَالَ: يَا أُسَامَةُ، أَنْتَ تَلْبِسَ حُلَّةَ ذِي يَزَنٍ؟ قَالَ: نَعَمْ وَاللَّهِ لَأَنَا خَيْرٌ مِنْ ذِي يَزَنٍ، وَلَأَبِي خَيْرٌ مِنْ أَبِيهِ. قَالَ حَكِيمٌ: فَانْطَلَقْتُ إِلَى أَهْلِ مَكَّةَ أُعْجِبُهُمْ بِقَوْلِ أُسَامَةَ». وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ، رِجَالُهُ ثِقَاتٌ. وَلَهُ طَرِيقٌ فِي عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ أَحْسَنُ، وَأَبْيَنُ مِنْ هَذِهِ فِي صِفَتِهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -.

EnglishUnverified translation

Irak ibn Malik reported that Hakim ibn Hizam (رضي الله عنه) said: Muhammad ﷺ was the most beloved of men to me among people in Jahiliyyah. When he proclaimed prophethood and went out to Madinah, Hakim ibn Hizam witnessed the season while he was a disbeliever, and found a hullah of Dhi Yazan being sold, so he bought it for fifty dinars to gift it to the Messenger of Allah ﷺ. He came with it to him in Madinah and wished him to accept it as a gift, but he refused. Ubaydullah said: I think he said: So when he refused my gift I gave it to him for a price. Then he wore it, and I saw it upon him on the minbar, and I never saw anything more beautiful than him in it that day. Then he gave it to Usamah ibn Zayd (رضي الله عنهما), and Hakim saw it upon Usamah and said: O Usamah, do you wear the hullah of Dhi Yazan? He said: Yes, by Allah, for I am better than Dhi Yazan, and my father is better than his father. Hakim said: So I went to the people of Makkah marvelling at the saying of Usamah. > **"We do not accept anything from the polytheists, but if you wish we will take it for a price."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عراک بن مالک بیان کرتے ہیں : حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : پہلے زمانہ جاہلیت میں حضرت محمد ﷺ میرے نزدیک سب سے زیادہ محبوب تھے ‘ جب آپ نے نبوت کا اعلان کیا اور آپ مدینہ منورہ تشریف لے گئے ‘ تو حج کے موقع پر حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ آئے وہ اس وقت کافر تھے ‘ انہوں نے ذی یزن کا صلہ فروخت ہوتے ہوئے دیکھا ‘ تو اسے پچاس دینار کے عوض میں خرید لیا تاکہ وہ اسے نبی اکرم ﷺ کو تحفے کے طور پر دے دیں ، پھر وہ اسے ساتھ لے کر مدینہ منورہ آئے ‘ ان کی یہ خواہش تھی کہ نبی اکرم ﷺ تحفے کے طور پر اسے قبول کر لیں ، لیکن نبی اکرم ﷺ نے اسے قبول نہیں کیا ۔ عبیداللہ نامی راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ہم مشرکین سے کوئی چیز قبول نہیں کرتے ہیں ، البتہ اگر تم چاہو ‘ تو ہم قیمت کے عوض میں حاصل کر لیتے ہیں ، تو جب نبی اکرم ﷺ نے میرا تحفہ قبول کرنے سے انکار کر دیا ‘ تو وہ میں نے آپ کو دے دیا ( یعنی قیمت کے عوض میں دے دیا ) ۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے اسے پہنا ‘ میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ اسے پہن کر منبر پر تشریف فرما ہوئے ‘ اس دن اس جبہ میں آپ سے زیادہ خوبصورت کوئی چیز میں نے نہیں دیکھی ، پھر نبی اکرم ﷺ نے وہ حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کو دے دیا ‘ جب حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ نے اُسے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کو پہنے ہوئے دیکھا ‘ تو بولے اے اسامہ : کیا تم ذی یزن کا حلہ پہنے ہوئے ہو ؟ انہوں نے فرمایا : جی ہاں ! میں ذی یزن سے بہتر ہوں ‘ اور میرے والد اس کے والد سے زیادہ بہتر ہیں ، حضرت حکیم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : پھر میں اہل مکہ کی طرف چلا گیا اور حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ کے قول کے حوالے سے انہیں بتایا ‘ تو وہ بڑے حیران ہوئے ۔ اس روایت کی سند عمدہ ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، اس کی ایک اور سند بھی ہے ‘ جو علامات نبوت کے باب میں زیادہ احسن طریقے سے آئے گی ‘ اور یہاں سے زیادہ واضح ہو گی ‘ جو نبی اکرم ﷺ کی صفات کے بارے میں ہے ۔

6748

Majma al-Zawaid #6748

وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ «أَنَّ عِيَاضَ بْنَ حِمَارٍ الْمُجَاشِعِيَّ، ثُمَّ النَّهْشَلِيَّ أَهْدَى لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَرَسًا قَبْلَ أَنْ يُسْلِمَ فَقَالَ: إِنِّي أَكْرَهُ زَبْدَ الْمُشْرِكِينَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ الصَّلْتُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الزُّبَيْدِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Imran ibn Husayn (رضي الله عنه) reported that Iyad ibn Himar al-Mujashii, then al-Nahshali (رضي الله عنه), gifted to the Messenger of Allah ﷺ a horse before he accepted Islam, whereupon he said: > **"I dislike the gifts of the polytheists."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت عیاض بن حمار مجاشعی ثم نہشلی رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم ﷺ کو ایک گھوڑا تحفے کے طور پر پیش کیا ‘ یہ ان کے اسلام قبول کرنے سے پہلے کی بات ہے ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : میں مشرکین کے تحفے کو ناپسند کرتا ہوں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی صلت بن عبدالرحمن زبیدی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

6749

Majma al-Zawaid #6749

«وَعَنْ عَامِرِ بْنِ مَالِكٍ الَّذِي يُقَالُ لَهُ: مُلَاعِبُ الْأَسِنَّةِ. قَالَ: قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِهَدِيَّةٍ فَقَالَ: "" إِنَّا لَا نَقْبَلُ هَدِيَّةً لِمُشْرِكٍ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا شَيْخَ الْبَزَّارِ إِبْرَاهِيمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ، وَهُوَ ثِقَةٌ. وَرَوَاهُ مِنْ طَرِيقٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبٍ: أَنَّ عَامِرَ بْنَ مَالِكٍ. وَالطَّرِيقُ الْأُولَى عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ مَالِكٍ. قَالَ: وَصَلَهُ ابْنُ الْمُبَارَكِ وَأَرْسَلَهُ عَبْدُ الرَّزَّاقِ.

EnglishUnverified translation

Amir ibn Malik, who is called Mulaib al-Asinnah, said: I came to the Messenger of Allah ﷺ with a gift, whereupon he said: > **"We do not accept the gift of a polytheist."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عامر بن مالک ، جنہیں ’’ ملاعب الاسنہ ‘‘ کہا جاتا ہے ‘ وہ بیان کرتے ہیں : میں تحفہ لے کر نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ‘ تو آپ نے ارشاد فرمایا : ہم کسی مشرک کا تحفہ قبول نہیں کرتے ہیں ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف امام بزار کے استاد ابراہیم بن عبداللہ بن جنید کا معاملہ مختلف ہے وہ ثقہ ہے ‘ انہوں نے یہ روایت عبدالرحمن بن کعب کے حوالے سے نقل کی ہے کہ عامر بن مالک کے ساتھ یہ واقعہ پیش آیا ، پہلی روایت کی سند میں یہ بات مذکور ہے کہ یہ عبدالرحمن بن کعب کے حوالے سے عامر بن مالک سے منقول ہے ‘ وہ کہتے ہیں : عبداللہ بن مبارک نے اسے موصول روایت کے طور پر اور امام عبدالرزاق نے اسے ” مرسل ‘‘ روایت کے طور پر نقل کیا ہے ۔

6750

Majma al-Zawaid #6750

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ: «قَدِمَتْ قُتَيْلَةُ ابْنَةُ عَبْدِ الْعُزَّى بْنِ أَسْعَدَ بْنِ مَالِكِ بْنِ حِسْلٍ عَلَى بِنْتِهَا أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ بِهَدَايَا ضَبَابٍ وَتُرْمُسٍ وَسَمْنٍ، فَأَبَتْ أَسْمَاءُ أَنْ تَقْبَلَ هَدِيَّتَهَا وَتُدْخِلَهَا بَيْتَهَا، فَسَأَلَتْ عَائِشَةُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: {لَا يَنْهَاكُمُ اللَّهُ عَنِ الَّذِينَ لَمْ يُقَاتِلُوكُمْ فِي الدِّينِ} [الممتحنة: 8] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ. فَأَمَرَهَا أَنْ تَقْبَلَ هَدِيَّتَهَا وَتُدْخِلَهَا بَيْتَهَا». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَجَوَّدَهُ، فَقَالَ: قَدِمَتْ قُتَيْلَةُ بِنْتُ عَبْدِ الْعُزَّى. وَفِيهِ مُصْعَبُ بْنُ ثَابِتٍ؛ ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn al-Zubayr (رضي الله عنهما) said: Qutaylah bint Abd al-Uzza ibn Asad ibn Malik ibn Hisl came to her daughter Asma bint Abi Bakr (رضي الله عنها) with gifts of dabb lizards, lupine and ghee, but Asma refused to accept her gift and to admit her into her house. So Aishah (رضي الله عنها) asked the Prophet ﷺ, and Allah the Exalted revealed: Allah does not forbid you concerning those who did not fight you in religion, to the end of the verse. So he commanded her to accept her gift and to admit her into her house. > **"Allah does not forbid you concerning those who did not fight you in religion."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : قتیلہ بنت عبدالعزیٰ بن اسعد بن مالک بن حسل ‘ اپنی صاحبزادی سیدہ اسماء بنت ابوبکر کے پاس تحائف لے کے آئیں ، جن میں گوہ ‘ ترمس ( اناج کی ایک قسم جو کڑوا ہوتا ہے ) اور گھی شامل تھا ‘ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے ان کا تحفہ قبول کرنے سے ‘ اور انہیں اپنے گھر میں داخل کرنے سے انکار کر دیا ‘ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس بارے میں نبی اکرم ﷺ سے دریافت کیا ‘ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : ’’ اللہ تعالی تمہیں ان لوگوں سے نہیں روکتا ہے ‘ جو تمہارے ساتھ دین کے بارے میں جنگ نہیں کرتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘ یہ آیت کے آخر تک ہے ۔ تو نبی اکرم ﷺ نے انہیں یہ ہدایت کی کہ وہ اس خاتون کا ہدیہ قبول کر لیں اور اسے اپنے گھر میں آنے دیں ۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ انہوں نے اسے عمدہ قرار دیا ہے ۔ انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : قتیلہ بنت عبدالعزیٰ آ گئیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی مصعب بن ثابت ہے ‘ جسے امام احمد اور دیگر حضرات نے ضعیف قرار دیا ہے اور ابن حبان نے اسے ثقہ کہا ہے ۔

6751

Majma al-Zawaid #6751

وَعَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ: «أَهْدَى الْمُقَوْقِسُ الْقِبْطِيُّ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَارِيَتَيْنِ إِحْدَاهُمَا [مَارِيَةُ] أُمُّ إِبْرَاهِيمَ بْنِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَالْأُخْرَى وَهَبَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِحَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ وَهِيَ أُمُّ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَسَّانَ، وَأَهْدَى لَهُ بَغْلَةً فَقَبِلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَلِكَ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُ الْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Buraydah (رضي الله عنه) said: Al-Muqawqis the Copt gifted to the Messenger of Allah ﷺ two slave-girls, one of them Mariyah (رضي الله عنها), the mother of Ibrahim son of the Messenger of Allah ﷺ, and the other the Messenger of Allah ﷺ bestowed upon Hassan ibn Thabit (رضي الله عنه), and she is the mother of Abd al-Rahman ibn Hassan. And he gifted to him a mule, and the Messenger of Allah ﷺ accepted that.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : مقوقس قبطی نے ‘ نبی اکرم ﷺ کو دو کنیزیں تحفے کے طور پر بھیجوائیں ، جن میں سے ایک سیدہ ماریہ رضی اللہ عنہ تھیں ، جو نبی اکرم ﷺ کے صاحبزادے حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ کی والدہ ہیں ، اور دوسری خاتون کو نبی اکرم ﷺ نے حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کو دے دیا تھا ، جو حضرت حسان رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے عبدالرحمن کی والدہ ہیں ‘ اس نے نبی اکرم ﷺ کو ایک خچر بھی تحفے کے طور پر بھجوایا تھا ، نبی اکرم ﷺ نے اسے قبول کر لیا تھا ۔ یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور امام بزار کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

6752

Majma al-Zawaid #6752

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ «أَنَّ مَلِكَ ذِي يَزَنٍ أَهْدَى إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَرَّةً مِنَ الْمَنِّ فَقَبِلَهَا». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ، وَفِيهِ ضَعْفٌ، وَقَدْ وُثِّقَ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Malik (رضي الله عنه) reported that the king of Dhi Yazan gifted to the Messenger of Allah ﷺ a jar of manna, and he accepted it.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ذی یزن کے حکمران نے نبی اکرم ﷺ کو تحفے کے طور پر ” من “ کا مٹکا بھیجا تھا ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے اسے قبول کر لیا تھا ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی علی بن زید بن جدعان ہے ‘ اس میں ضعف پایا جاتا ہے ‘ ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔

6753

Majma al-Zawaid #6753

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «أَهْدَى الْمُقَوْقِسُ صَاحِبُ الْإِسْكَنْدَرِيَّةِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مُكْحُلَةَ عِيدَانٍ شَامِيَّةً وَمِرْآةً وَمِشْطًا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Aishah (رضي الله عنها) said: Al-Muqawqis, the ruler of Alexandria, gifted to the Messenger of Allah ﷺ a kohl stick of Shami idan wood, a mirror and a comb.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : اسکندریہ کے حکمران مقوقس نے نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں ” عیدان ‘‘ کی بنی ہوئی شامی سرمہ دانی ‘ شیشہ اور کنگھی بھجوائی تھی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

6754

Majma al-Zawaid #6754

وَعَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ الرَّبِيعِ الْكَاتِبِ قَالَ: «أَهْدَى الْمُقَوْقِسُ مَلِكُ الْقِبْطِ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - هَدِيَّةً وَبَغْلَةً شَهْبَاءَ، فَقَبِلَهَا - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى الْكِسَائِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا.

EnglishUnverified translation

Hanzalah ibn al-Rabi al-Katib (رضي الله عنه) said: Al-Muqawqis, king of the Copts, gifted to the Prophet ﷺ a gift and a grey mule, and he ﷺ accepted it.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت حنظلہ بن ربیع کاتب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : قبط کے حکمران مقوقس نے نبی اکرم ﷺ کو تحائف اور شہباء نامی خچر بھجوایا تھا تو نبی اکرم ﷺ نے اسے قبول فرما لیا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی زکریا بن یحیی کسائی ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔

6755

Majma al-Zawaid #6755

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «أَهْدَى الْمُقَوْقِسُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدَحَ قَوَارِيرَ»، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ مَنْدَلُ بْنُ عَلِيٍّ، وَقَدْ وُثِّقَ، وَفِيهِ ضَعْفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas (رضي الله عنهما) said: Al-Muqawqis gifted to the Messenger of Allah ﷺ a cup of glass, then he mentioned the hadith.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : مقوقس نے نبی اکرم ﷺ کو شیشہ کا پیالہ تحفے کے طور پر بھیجوایا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی مندل بن علی ہے ‘ جس کی توثیق کی گئی ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔

6756

Majma al-Zawaid #6756

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: «أَهْدَى الْأُكَيْدِرُ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَرَّةً مِنْ مَنٍّ، فَلَمَّا انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنَ الصَّلَاةِ مَرَّ عَلَى الْقَوْمِ، فَجَعَلَ يُعْطِي كُلَّ رَجُلٍ مِنْهُمْ قِطْعَةً، وَأَعْطَى جَابِرًا قِطْعَةً، ثُمَّ إِنَّهُ رَجَعَ إِلَيْهِ فَأَعْطَاهُ قِطْعَةً أُخْرَى فَقَالَ: إِنَّكَ قَدْ أَعْطَيْتَنِي مَرَّةً؟ فَقَالَ: "" هَذِهِ لَبِنَاتِ عَبْدِ اللَّهِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَقَدْ وُثِّقَ.

EnglishUnverified translation

Anas (رضي الله عنه) said: Al-Ukaydir gifted to the Messenger of Allah ﷺ a jar of manna. When the Messenger of Allah ﷺ turned from prayer he passed by the people, giving every man among them a piece, and he gave Jabir (رضي الله عنه) a piece. Then he returned to him and gave him another piece, so he said: You already gave me once? He said: > **"This is for the daughters of Abdullah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : اکیدر نے نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں ” من “ کا گھڑا بھیجا تھا ‘ جب نبی اکرم ﷺ نماز پڑھ کر فارغ ہوئے اور آپ کا گزر لوگوں کے پاس سے ہوا تو آپ نے ان میں سے ہر ایک شخص کو کچھ نہ کچھ دیا ‘ آپ نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ کو ایک حصہ دیا ، پھر جب آپ واپس ان کے پاس سے گزرے ‘ تو آپ نے انہیں ایک اور حصہ دیا ‘ انہوں نے عرض کی : آپ مجھے پہلے ایک مرتبہ عطا کر چکے ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : یہ ( تمہارے والد ) عبداللہ کی صاحبزادیوں کے لئے ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی علی بن زید ہے اور وہ ضعیف ہے ‘ ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔

6757

Majma al-Zawaid #6757

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ «أَنَّ الْحَجَّاجَ بْنَ عِلَاطٍ السُّلَمِيَّ أَهْدَى لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَيْفَهُ ذَا الْفَقَارِ، وَدِحْيَةَ [الْكَلْبِيَّ] أَهْدَى لَهُ بَغْلَةً شَهْبَاءَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُثْمَانَ أَبُو شَيْبَةَ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas (رضي الله عنهما) reported that al-Hajjaj ibn Ilat al-Sulami (رضي الله عنه) gifted to the Messenger of Allah ﷺ his sword Dhu al-Faqar, and Dihyah al-Kalbi (رضي الله عنه) gifted to him a grey mule.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : حجاج بن علاط سلمی نے نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں اپنی تلوار ’’ ذوالفقار ‘‘ تحفے کے طور پر بھیجی تھی ‘ اور دحیہ کلبی نے آپ کو شہباء خچر تحفے کے طور پر دیا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن عثمان ابوشیبہ ہے اور وہ متروک ہے ۔

6758

Majma al-Zawaid #6758

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْعَائِدُ فِي هِبَتِهِ كَالْعَائِدِ فِي قَيْئِهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ، وَفِيهِ عَبْدُ الْحُمَيْدِ بْنُ الْحَسَنِ الْهِلَالِيُّ وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ، وَأَبُو حَاتِمٍ، وَضَعَّفَهُ أَبُو زُرْعَةِ، وَغَيْرُهُ.

EnglishUnverified translation

Jabir ibn Abdullah (رضي الله عنهما) said: The Messenger of Allah ﷺ said: > **"One who returns in his gift is like one who returns in his vomit."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اپنے ہبہ کو واپس لینے والا شخص ‘ اپنی قئے کو واپس لینے والے کی مانند ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عبدالحمید بن حسن ہلالی ہے ‘ جسے یحیی بن معین اور ابوحاتم نے ثقہ قرار دیا ہے ‘ ابوزرعہ اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا ہے ۔

6759

Majma al-Zawaid #6759

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «سَوُّوا بَيْنَ أَوْلَادِكُمْ فِي الْعَطِيَّةِ فَلَوْ كُنْتَ مُفَضِّلًا أَحَدًا لَفَضَّلْتُ النِّسَاءَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ كَاتِبُ اللَّيْثِ قَالَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبٍ: ثِقَةٌ مَأْمُونٌ وَرَفَعَ مِنْ شَأْنِهِ، وَضَعَّفَهُ أَحْمَدُ، وَغَيْرُهُ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas (رضي الله عنهما) reported from the Prophet ﷺ: > **"Equalize among your children in giving; had I been preferring anyone I would have preferred women."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ عطیہ دیتے ہوئے ‘ اپنی اولاد میں برابری رکھو ‘ اگر میں نے کسی کو فضیلت ( یعنی ترجیح ) دینی ہوتی ، تو میں خواتین کو فضیلت ( یعنی ترجیح ) دیتا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن صالح ہے ، جو لیث کا کاتب ہے ‘ عبدالملک بن شعیب کہتے ہیں : یہ ثقہ اور مامون ہے ۔ انہوں نے اس کی شان کو بلند قرار دیا ہے ‘ امام احمد اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا ہے ۔

6760

Majma al-Zawaid #6760

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَيَّمَا رَجُلٍ نَحَلَ ابْنَهُ نَحْلًا فَبَانَ بِهِ الِابْنُ فَاحْتَاجَ الْأَبُ فَالِابْنُ أَحَقُّ بِهِ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ بَانَ بِهِ الِابْنُ فَالْأَبُ أَحَقُّ بِهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ رِشْدِينُ بْنُ كُرَيْبٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas (رضي الله عنهما) said: The Messenger of Allah ﷺ said: > **"Any man who grants his son a grant and the son separates it, then the father becomes needy, the son has more right to it; but if the son has not separated it, the father has more right to it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اگر کوئی شخص اپنے بیٹے کو کوئی عطیہ دے ‘ اور بیٹا اس چیز کو الگ کر لے ‘ پھر اگر باپ محتاج ہو جائے ‘ تو اس چیز کے بارے میں بیٹا زیادہ حق دار ہو گا ، لیکن اگر بیٹے نے اسے الگ نہیں کیا تھا ، تو پھر باپ اس کا زیادہ حق دار ہو گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی رشدین بن کریب ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

6761

Majma al-Zawaid #6761

وَعَنْ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِرَجُلٍ: «هَبْ لِي هَذَا الْبَعِيرَ أَوْ بِعْنِيهِ "". قَالَ: هُوَ لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ. فَوَسَمَهُ سِمَةَ الصَّدَقَةِ، ثُمَّ بَعَثَ بِهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ هَكَذَا مِنْ غَيْرِ زِيَادَةٍ. وَرَوَاهُ أَحْمَدُ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ وَلَهُ طُرُقٌ فِي عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ. كِلَاهُمَا مِنْ رِوَايَةِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَلَيْسَ هُوَ الَّذِي رَوَى لَهُ مُسْلِمٌ هَكَذَا عَنْ يَعْلَى، وَذَاكَ رَوَى عَنِ الزُّهْرِيِّ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ غَيْرَ الْحُسَيْنِيِّ تَرْجَمَهُ بِمَنْ رَوَى عَنْهُ وَبِمَنْ سَمِعَ مِنْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Yala ibn Murrah (رضي الله عنه) reported that the Prophet ﷺ said to a man: He said: It is yours, O Messenger of Allah. So he branded it with the brand of charity, then sent it forth. > **"Gift me this camel or sell it to me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت یعلی بن مرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ایک شخص سے فرمایا : تم یہ اونٹ مجھے ہبہ کر دو ‘ یا یہ مجھے فروخت کر دو ! اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ آپ کا ہوا ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے اس پر صدقہ کا مخصوص نشان لگوا کر پھر اسے بھجوا دیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں اسی طرح کسی اضافے کے بغیر نقل کی ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے ایک طویل حدیث کے ضمن میں نقل کی ہے ‘ جس کے مختلف طرق نبوت کی علامات سے متعلق باب میں آگے آئیں گے ۔ یہ دونوں روایات عبدالرحمن بن عبدالعزیز سے منقول ہیں ‘ اور یہ وہ شخص نہیں ہے ‘ جس کے حوالے سے امام مسلم نے اسی طرح حضرت یعلی رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے ‘ وہ شخص زہری کے حوالے سے روایت نقل کرتا ہے ‘ حسینی کے علاوہ میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ‘ انہوں نے اس کے حالات میں ان لوگوں کا ذکر کیا ہے ‘ جس سے اس نے روایت نقل کی ہے اور جنہوں نے اس سے سماع کیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

6762

Majma al-Zawaid #6762

عَنِ ابْنِ عُمَرَ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِرَجُلٍ: "" أَنْتَ وَمَالُكَ لِأَبِيكَ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ أَبُو حَرِيزٍ وَثَّقَهُ أَبُو زُرْعَةَ، وَأَبُو حَاتِمٍ وَابْنُ حِبَّانَ، وَضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Umar (رضي الله عنهما) reported that the Prophet ﷺ said to a man: > **"You and your wealth belong to your father."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ایک شخص سے فرمایا : ’’ تم اور تمہارا مال ‘ تمہارے باپ کا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ابوحریز ہے ‘ جسے ابوزرعہ ‘ ابوحاتم اور ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ‘ جبکہ امام احمد اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

6763

Majma al-Zawaid #6763

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: «جَاءَ رَجُلٌ يَسْتَعْدِي عَلَى وَالِدِهِ، فَقَالَ: إِنَّهُ يَأْخُذُ مَالِي. فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" أَنْتَ وَمَالُكَ مِنْ كَسْبِ أَبِيكَ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِي الْأَوْسَطِ مِنْهُ: "" «الْوَلَدُ مِنْ كَسْبِ الْوَالِدِ» "" فَقَطْ. وَفِيهِ مَيْمُونُ بْنُ يَزِيدَ لَيَّنَهُ أَبُو حَاتِمٍ، وَوَهْبُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زِمَامٍ لَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Umar (رضي الله عنهما) said: A man came seeking aid against his father, saying: He takes my wealth. So the Messenger of Allah ﷺ said to him: And in one narration: The child is from the earning of the father. > **"You and your wealth are from your father's earning."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک شخص آیا اور اس نے اپنے والد کے خلاف شکایت کی اور یہ کہا : وہ میرا مال حاصل کر لیتے ہیں ‘ نبی اکرم ﷺ نے اس سے فرمایا : ’’ تم اور تمہارا مال ‘ تمہارے باپ کی کمائی کا حصہ ہے ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے کبیر میں نقل کی ہے اور معجم اوسط میں اس میں سے صرف یہ الفاظ ہیں : ’’ اولاد والد کی کمائی کا حصہ ہے ‘‘۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی میمون بن یزید ہے ‘ جسے ابوحاتم نے کمزور قرار دیا ہے اور وہب بن یحیی بن زمام نامی راوی کے حالات بیان کرتے ہوئے میں نے کسی کو نہیں پایا ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

6764

Majma al-Zawaid #6764

وَعَنْ عُمَرَ «أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: إِنَّ أَبِي يُرِيدُ أَنْ يَأْخُذَ مَالِي. قَالَ: "" أَنْتَ وَمَالُكَ لِأَبِيكَ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ. وَسَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عُمَرَ.

EnglishUnverified translation

Umar (رضي الله عنه) reported that a man came to the Prophet ﷺ and said: My father wishes to take my wealth. He said: > **"You and your wealth belong to your father."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور بولا : میرے والد یہ چاہتے ہیں کہ میرا مال حاصل کر لیں ‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ’’ تم اور تمہارا مال ‘ تمہارے باپ کا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور سعید بن مسیب نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔

6765

Majma al-Zawaid #6765

وَعَنْ سَمُرَةَ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِرَجُلٍ: "" أَنْتَ وَمَالُكَ لِأَبِيكَ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْجُودَانِيُّ قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: لَيِّنٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ الْبَزَّارِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Samurah (رضي الله عنه) reported that the Messenger of Allah ﷺ said to a man: > **"You and your wealth belong to your father."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ایک شخص سے فرمایا : ’’ تم اور تمہارا مال ‘ تمہارے باپ کا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے ‘ اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن اسماعیل جودانی ہے ابوحاتم کہتے ہیں : یہ کمزور ہے ‘ امام بزار کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

6766

Majma al-Zawaid #6766

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" الْوَلَدُ مِنْ كَسْبِ الْوَالِدِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بِلَالٍ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn Umar (رضي الله عنهما) said: The Messenger of Allah ﷺ said: > **"The child is from the earning of the father."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اولاد ‘ والد کی کمائی کا حصہ ہے “۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ابوبلال ہے ‘ میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

6767

Majma al-Zawaid #6767

وَعَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ نِيَارٍ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" أَفْضَلُ كَسْبِ الرَّجُلِ وَلَدُهُ، وَكُلُّ بَيْعٍ مَبْرُورٍ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ جُمَيْعُ بْنُ عُمَيْرٍ ضَعَّفَهُ ابْنُ عَدِيٍّ، وَقَالَ الْبُخَارِيُّ: مِنْ عُتَّقِ الشِّيعَةِ. وَهُوَ صَالِحُ الْحَدِيثِ.

EnglishUnverified translation

Abu Burdah ibn Niyar (رضي الله عنه) said: The Messenger of Allah ﷺ said: > **"The best earning of a man is his child, and every righteous sale."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوبردہ بن نیار رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ آدمی کی سب سے زیادہ فضیلت والی کمائی ‘ اُس کی اولاد ہے اور ہر نیک ( یعنی جائز ) سودا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی جمیع بن عمیر ہے ‘ جسے ابن عدی نے ضعیف قرار دیا ہے ‘ امام بخاری کہتے ہیں : یہ شیعہ کے اکابرین میں سے ایک ہے اور یہ صالح الحدیث ہے ۔

6768

Majma al-Zawaid #6768

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِرَجُلٍ: "" أَنْتَ وَمَالُكَ لِأَبِيكَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الثَّلَاثَةِ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ ذِي حَمَّادٍ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Masud (رضي الله عنه) reported that the Prophet ﷺ said to a man: > **"You and your wealth belong to your father."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ایک شخص سے فرمایا : ’’ تم اور تمہارا مال ‘ تمہارے باپ کا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے تینوں کتابوں میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن عبدالحمید بن ذی حماد ہے ‘ میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

6769

Majma al-Zawaid #6769

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ «أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لِي مَالًا وَعِيَالًا، وَإِنَّهُ يُرِيدُ أَنْ يَأْخُذَ مِنْ مَالِي إِلَى مَالِهِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" أَنْتَ وَمَالُكَ لِأَبِيكَ». قُلْتُ: رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ بِاخْتِصَارٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا شَيْخَ الطَّبَرَانِيِّ حَبُّوشَ بْنَ رِزْقِ اللَّهِ، وَلَمْ يُضَعِّفْهُ أَحَدٌ.

EnglishUnverified translation

Jabir ibn Abdullah (رضي الله عنهما) reported that a man came to the Prophet ﷺ and said: O Messenger of Allah, I have wealth and dependents, and my father wishes to take from my wealth to his wealth? So the Messenger of Allah ﷺ said: > **"You and your wealth belong to your father."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ‘ اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرا مال بھی ہے اور بال بچے بھی ہیں ‘ اور میرے والد یہ چاہتے ہیں کہ میرا مال لے کر اپنے مال میں شامل کر لیں ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تم اور تمہارا مال ‘ تمہارے باپ کا ہے ‘‘۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابن ماجہ نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور امام طبرانی کے استاد حبوش بن رزق اللہ کے علاوہ اس روایت کے تمام رجال صحیح کے رجال ہیں ‘ البتہ ان صاحب کو بھی کسی نے ضعیف قرار نہیں دیا ہے ۔