Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 12 · Chapter 4

Book of Hunting and Slaughters

Hadith 6129–6168

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

6129

Majma al-Zawaid #6129

وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ فَاكِهٍ قَالَ: خَرَجْتُ إِلَى زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، فَخَرَجَ إِلَيَّ مُبْرِزًا بِيَدِهِ الرُّمْحَ فَقُلْتُ: يَا أَبَا خَارِجَةَ، مَا بَالُ الرُّمْحِ هَذِهِ السَّاعَةَ؟ قَالَ: كُنْتُ أَطْلُبُ هَذِهِ الدَّابَّةَ الْخَبِيثَةَ الَّتِي يَكْتُبُ اللَّهُ بِقَتْلِهَا الْحَسَنَةَ، وَيَمْحُو بِهَا السَّيِّئَةَ، وَهِيَ الْوَزَغُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُقْبَةَ بْنِ الْفَاكِهِ تَفَرَّدَ عَنْهُ: أَبُو جَعْفَرٍ الْخَطْمِيُّ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Uqbah ibn Fakih reported that he went to Zayd ibn Thabit, may Allah be pleased with him, who came out holding a spear. When asked about the spear at that hour, he said he sought the wicked beast for killing which Allah writes a good deed and erases an evil deed, namely the gecko.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عقبہ بن فاکہ بیان کرتے ہیں : میں حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کی طرف گیا وہ میرے سامنے آئے تو ان کے ہاتھ میں نیزہ تھا میں نے کہا : اے ابوخارجہ اس وقت آپ کے ہاتھ میں نیزے کا کیا کام ؟ انہوں نے فرمایا : میں اس خبیث جانور کو تلاش کر رہا ہوں جس کو مارنے پر اللہ تعالیٰ نیکیاں نوٹ کرتا ہے اور اس کی وجہ سے گناہ مٹا دیتا ہے اور وہ چھپکلی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن عقبہ بن فاکہ ہے ابوجعفر خطمی اس سے روایت نقل کرنے میں منفرد ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

6130

Majma al-Zawaid #6130

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «مَنْ قَتَلَ وَزَغَةً مَحَا اللَّهُ عَنْهُ سَبْعَ خَطِيئَاتٍ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ أَبِي الْمُخَارِقِ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Aisha, may Allah be pleased with her, reported that she heard the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, say that Allah erases seven sins from one who kills a gecko. > **"Whoever kills a gecko, Allah erases seven sins from him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ’’ جو شخص چھپکلی کو مار دیتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی سات خطائیں مٹا دیتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالکریم بن ابوالمخارق ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

6131

Majma al-Zawaid #6131

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ كَانَ يَأْمُرُ بِقَتْلِ الْحَيَّاتِ حَتَّى أَخْبَرَهُ أَبُو لُبَابَةَ بْنُ عَبْدِ الْمُنْذِرِ: أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - «نَهَى عَنْ قَتْلِ الْحَيَّاتِ الَّتِي تَكُونُ فِي الْبُيُوتِ». وَحَدَثَ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَهَبَ يَسْتَلِمُ الْحَجَرَ فَلَدَغَتْهُ عَقْرَبٌ فَقَالَ: "" مَا لَكِ؟ لَعَنَكِ اللَّهُ! لَوْ كُنْتِ تَارِكَةً أَحَدًا لَتَرَكْتِ النَّبِيَّ» - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - "". قُلْتُ: قَتْلُ الْحَيَّاتِ فِي الصَّحِيحِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Ibn Umar, may Allah be pleased with them, used to order snakes killed until Abu Lubabah ibn Abd al-Mundhir, may Allah be pleased with him, told him that the Prophet, peace and blessings of Allah be upon him, forbade killing snakes found in houses. He also reported that the Prophet, peace and blessings of Allah be upon him, went to touch the Black Stone when a scorpion stung him, and he reproached it, saying had it spared any it would have spared the Prophet. > **"The Prophet forbade killing the snakes found in houses. What is with you? May Allah curse you! Had you spared any, you would have spared the Prophet."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ بات منقول ہے : وہ سانپوں کو مار دینے کا حکم دیا کرتے تھے یہاں تک کہ حضرت ابولبابہ بن عبدالمنذر رضی اللہ عنہ نے انہیں یہ بتایا کہ نبی اکرم ﷺ نے ان سانپوں کو مارنے سے منع کیا ہے ‘ جو گھروں میں ہوتے ہیں ۔ انہوں نے یہ بات بیان کی : نبی اکرم ﷺ حجر اسود کا استلام کرنے کے لئے بڑھے تو ایک بچھونے آپ کو ڈنک مار لیا آپ نے فرمایا : تمہیں کیا ہوا ہے ؟ اللہ تعالیٰ تم پر لعنت کرے اگر تم نے کسی کو چھوڑنا ہوتا تو تم نبی کو چھوڑ دیتے ‘‘۔ علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سانپوں کو مارنے کی روایت ’’ صحیح ‘‘ میں مذکور ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایسا راوی ہے ‘ جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

6132

Majma al-Zawaid #6132

عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ قَتْلِ عَوَامِرِ الْبُيُوتِ إِلَّا مَا كَانَ مِنْ ذِي الطُّفْيَتَيْنِ وَالْأَبْتَرِ، فَإِنَّهُمَا يَكْمَهَانِ الْأَبْصَارَ وَتَخْدِجُ مِنْهُنَّ النِّسَاءُ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ فَرَجُ بْنُ فَضَالَةَ، وَقَدْ وُثِّقَ عَلَى ضَعْفِهِ.

EnglishUnverified translation

Abu Umamah, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, forbade killing the residents of houses except Dhu al-Tufyatayn and the Abtar, for they blind and cause women to miscarry. > **"The Messenger forbade killing the residents of houses, except Dhu al-Tufyatayn and the Abtar, for they blind and cause women to miscarry."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے گھروں میں رہنے والے سانپوں کو مارنے سے منع کیا ہے البتہ جو دو دھاری والا ہو یا دم کٹا ہو اس کا حکم مختلف ہے کیونکہ وہ دونوں بینائی کو زائل کر دیتے ہیں اور خواتین کا حمل ان کی وجہ سے ضائع ہو جاتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی فرج بن فضالہ اس کے ضعیف ہونے کے باوجود اس کی توثیق کی گئی ہے ۔

6133

Majma al-Zawaid #6133

وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - «نَهَى عَنْ قَتْلِ حَيَّاتِ الْبُيُوتِ إِلَّا الْأَبْتَرَ، وَذَا الطُّفْيَتَيْنِ، فَإِنَّهُمَا يَخْطِفَانِ - أَوْ يَطْمِسَانِ - الْبَصَرَ، وَيَطْرَحَانِ الْحَمْلَ مِنْ بُطُونِ النِّسَاءِ، وَمَنْ تَرَكَهُمَا فَلَيْسَ مِنَّا». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ. قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ.

EnglishUnverified translation

Aisha, may Allah be pleased with her, reported that the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, forbade killing house snakes except the Abtar and Dhu al-Tufyatayn, for they snatch or blot sight and abort the fetus, and whoever left them was not from us. > **"The Messenger forbade killing house snakes, except the Abtar and Dhu al-Tufyatayn, for they snatch sight and abort the fetus, and whoever leaves them is not from us."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں نبی اکرم ﷺ نے گھر میں موجود سانپوں کو مارنے سے منع کیا ہے البتہ دم کٹے کا اور دو دھاری والے کا معاملہ مختلف ہے کیونکہ وہ دونوں بینائی کو ضائع کر دیتے ہیں اور خواتین کے پیٹ میں موجود حمل کو ضائع کر دیتے ہیں ( نبی اکرم ﷺ نے یہ فرمایا ہے : ) جو شخص ان دونوں کو چھوڑ دے گا وہ ہم میں سے نہیں ہے “۔ یہ روایت امام احمد اور ابویعلیٰ نے نقل کی ہے امام احمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ’’ صحیح ‘‘ میں اختصار کے ساتھ منقول ہے ۔

6134

Majma al-Zawaid #6134

وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ «أَنَّ فَتًى مِنَ الْأَنْصَارِ كَانَ حَدِيثَ عَهْدٍ بِعُرْسٍ فَخَرَجَ مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي غَزَاةٍ، فَرَجَعَ مِنَ الطَّرِيقِ يَنْظُرُ إِلَى أَهْلِهِ، فَإِذَا هُوَ بِامْرَأَتِهِ قَائِمَةً فِي الْحُجْرَةِ، فَبَوَّأَ إِلَيْهَا الرُّمْحَ فَقَالَتْ: ادْخُلْ، فَانْظُرْ مَا فِي الْبَيْتِ، فَدَخَلَ، فَإِذَا هُوَ بِحَيَّةٍ مُنْطَوِيَةٍ عَلَى فِرَاشِهِ، فَانْتَظَمَهَا بِرُمْحِهِ، ثُمَّ رَكَّزَ الرُّمْحَ فِي الدَّارِ، فَانْتَفَضَتِ الْحَيَّةُ، وَانْتَفَضَ الرَّجُلُ، فَمَاتَتِ الْحَيَّةُ، وَمَاتَ الرَّجُلُ، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" إِنَّهُ نَزَلَ بِالْمَدِينَةِ جِنٌّ مُسْلِمُونَ "". أَوْ قَالَ: "" بِهَذِهِ الْبُيُوتِ عَوَامِرُ فَإِذَا رَأَيْتُمْ مِنْهَا شَيْئًا فَتَعَوَّذُوا مِنْهُ، فَإِنْ عَادَ فَاقْتُلُوهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Sahl ibn Sad, may Allah be pleased with him, reported that a newlywed Ansari youth went out with the Prophet, peace and blessings of Allah be upon him, on an expedition, then returned along the way to look at his family. He found his wife standing in the room and levelled his spear at her, but she told him to enter and see what was in the house. He entered and found a snake coiled upon his bed, so he pierced it with his spear and planted the spear in the courtyard. The snake convulsed and the man convulsed, and both died. When it was mentioned to the Prophet, peace and blessings of Allah be upon him, he explained the presence of Muslim jinn in Madinah and residents in these houses, commanding seeking refuge upon seeing them and killing them if they returned. > **"Muslim jinn have settled in Madinah, and these houses have residents; when you see any of them, seek refuge from it, and if it returns, kill it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انصار سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب کی نئی نئی شادی ہوئی تھی وہ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ ایک جنگ میں حصہ لینے کے لئے نکلا راستے سے وہ واپس آیا اس نے اپنی بیوی کا جائزہ لینا تھا تو اس کی بیوی گھر کے دروازے پر کھڑی ہوئی تھی اس نے نیزہ اس کی طرف بڑھایا تو اس عورت نے کہا : اندر تو آؤ اور دیکھو کہ گھر میں کیا صورت حال ہے ؟ وہ اندر گیا تو گھر میں ایک سانپ اس کے بستر پر لیٹا ہوا تھا اس شخص نے نیزے میں اس سانپ کو پرو دیا اور پھر محلے میں لا کے وہ نیزہ گاڑ دیا اس سانپ نے حملہ کیا اور اس آدمی نے بھی حملہ کیا ‘ تو سانپ بھی مر گیا اور وہ آدمی بھی مر گیا ‘ اس بات کا ذکر نبی اکرم ﷺ سے کیا گیا تو آپ نے ارشاد فرمایا : مدینہ میں کچھ مسلمان جنات آئے ہوئے تھے ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) آپ نے فرمایا : ان گھروں میں کچھ رہنے والے ہیں جب ان میں سے کسی کو تم دیکھو تو اس سے پناہ مانگو اگر وہ دوبارہ آئے تو اسے مار دو ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

6135

Majma al-Zawaid #6135

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ «أَنَّ رَجُلًا كَانَ حَدِيثَ عَهْدٍ بِعُرْسٍ، فَبَعَثَ رَسُولُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعْثًا وَبَعَثَ فِيهِمْ ذَلِكَ الرَّجُلَ، فَلَمَّا جَاءَ الْقَوْمُ تَعَجَّلَ إِلَى أَهْلِهِ، فَإِذَا هُوَ بِامْرَأَتِهِ قَائِمَةً عَلَى بَابِهَا، فَدَخَلَتْهُ غَيْرَةٌ فَهَيَّأَ إِلَيْهَا الرُّمْحَ لِيَطْعَنَهَا، فَقَالَتْ: لَا تَعْجَلْ، وَانْظُرْ مَا فِي الْبَيْتِ. فَدَخَلَ الْبَيْتَ، فَإِذَا هُوَ بِحَيَّةٍ مُنْطَوِيَةٍ عَلَى فِرَاشِهَا، فَطَعَنَ الْحَيَّةَ، فَمَاتَتْ، وَمَاتَ الرَّجُلُ، فَبَلَغَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" إِنَّ لِهَذِهِ الْبُيُوتِ عَوَامِرَ مِنَ الْجِنِّ "". وَنَهَى عَنْ قَتْلِهِنَّ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ، وَالْأَوْسَطِ، وَرِجَالُ الْأَوْسَطِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn Umar, may Allah be pleased with them, reported that a newlywed man was sent with an expedition dispatched by the Messenger, peace and blessings of Allah be upon him. When he returned he hastened to his family and found his wife standing at her door, so jealousy seized him and he readied his spear to stab her. She told him not to hasten but to see what was in the house. He entered and found a snake coiled upon her bed, so he stabbed it and it died, and the man also died. When it reached the Prophet, peace and blessings of Allah be upon him, he explained that these houses have residents from the jinn and forbade killing them without warning. > **"These houses have residents from the jinn."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک نوجوان کی نئی نئی شادی ہوئی تھی نبی اکرم ﷺ نے ایک جنگی مہم روانہ کی نبی اکرم ﷺ نے اس مہم میں اس شخص کو بھی بھیجوایا جب وہ شخص واپس آیا تو وہ جلدی سے اپنے گھر کی طرف گیا تو وہاں اس کی بیوی گھر کے دروازے پر کھڑی ہوئی تھی اس شخص کو بڑا غصہ آیا اس نے نیزہ اس عورت کی طرف بڑھایا تاکہ اسے مار دے اس عورت نے کہا : جلدی نہ کرو اس بات کا جائزہ لو کہ گھر میں کیا ہے ؟ وہ گھر کے اندر گیا تو وہاں ایک سانپ اس کے بستر پر پڑا ہوا تھا اس نے اس سانپ کو نیزہ مارا تو وہ سانپ مر گیا اور وہ شخص بھی مر گیا نبی اکرم ﷺ کو اس بات کی اطلاع ملی تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ان گھروں میں کچھ جنات رہتے ہیں پھر نبی اکرم ﷺ نے انہیں قتل کرنے سے منع کر دیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے معجم اوسط کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

6136

Majma al-Zawaid #6136

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ: «نُهِيَ عَنْ قَتْلِهِنَّ»؛ يَعْنِي: الْحَيَّاتِ الَّتِي تَكُونُ فِي الْبُيُوتِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا إِبْرَاهِيمَ بْنَ صَالِحٍ الشِّيرَازِيَّ شَيْخَ الطَّبَرَانِيِّ فَلَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Jafar, may Allah be pleased with them, reported that killing them was forbidden, meaning the snakes found in houses. > **"Killing them was forbidden, meaning the snakes found in houses."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہیں مارنے سے منع کیا گیا ہے ۔ راوی کہتے ہیں : یعنی وہ سانپ جو گھروں میں موجود ہوتے ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف ابراہیم بن صالح شیرازی کا معاملہ مختلف ہے ‘ جو امام طبرانی کا استاد ہے میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔

6137

Majma al-Zawaid #6137

عَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ: لَمَّا خَطَبَ عَلِيٌّ فَاطِمَةَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِنَّهُ لَا بُدَّ لِلْعَرُوسِ مِنْ وَلِيمَةٍ» "". قَالَ: فَقَالَ سَعْدٌ: عَلَيَّ كَبْشٌ. وَقَالَ فُلَانٌ: عَلَيَّ كَذَا وَكَذَا مِنْ ذُرَةٍ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِي إِسْنَادِهِ عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ سَلِيطٍ، وَلَمْ يَجْرَحْهُ أَحَدٌ، وَهُوَ مَسْتُورٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Buraydah, may Allah be pleased with him, reported that when Ali, may Allah be pleased with him, proposed to Fatimah, may Allah be pleased with her, the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, said a bride must have a walimah. Sad, may Allah be pleased with him, said a ram was upon him, and another said such-and-such grain was upon him. > **"A bride must have a walimah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب حضرت علی رضی اللہ عنہ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے لیے شادی کا پیغام دیا تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ شادی میں ولیمہ بھی ضروری ہوتا ہے ‘‘۔ تو حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے کہا : دنبہ فراہم کرنا میرے ذمہ ہے فلاں شخص نے کہا : اتنا ‘ اتنا آٹا فراہم کرنا میری ذمہ داری ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالکریم بن سلیط ہے کسی نے اس پر جرح نہیں کی ہے یہ مستور ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

6138

Majma al-Zawaid #6138

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «طَعَامُ يَوْمٍ فِي الْعُرْسِ سُنَّةٌ، وَطَعَامُ يَوْمَيْنِ فَضْلٌ، وَطَعَامُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ رِيَاءٌ وَسُمْعَةٌ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْعَرْزَمِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas, may Allah be pleased with them, reported that the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, said feeding on the day of the wedding was Sunnah, feeding two days bounty, and feeding three days show and repute. > **"Food of one day at the wedding is Sunnah, food of two days is bounty, and food of three days is show and repute."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ شادی پر ایک دن کھانا کھلانا سنت ہے دو دن کھلانا اضافی ہے اور تین دن کھلانا ریاکاری اور دکھاوا ہے “۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبیداللہ عرزی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

6139

Majma al-Zawaid #6139

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: الْوَلِيمَةُ أَوَّلُ يَوْمٍ حَقٌّ، وَالثَّانِيَةُ فَضْلٌ، وَالثَّالِثَةُ رِيَاءٌ وَسُمْعَةٌ، وَمَنْ يُسَمِّعْ سَمَّعَ اللَّهُ بِهِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، وَقَدِ اخْتَلَطَ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Masud, may Allah be pleased with him, said the walimah of the first day is a right, of the second bounty, and of the third show and repute, and whoever seeks repute, Allah will expose him thereby.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : پہلے دن ولیمہ حق ہے دوسرے دن فضیلت ہے اور تیسرے دن ریاکاری اور دکھاوا ہے اور جو شخص دکھاوا کرتا ہے اللہ تعالی اس کے دکھاوے کو ظاہر کر دیتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے اور وہ اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔

6140

Majma al-Zawaid #6140

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: «تَزَوَّجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَفِيَّةَ، وَجَعَلَ عِتْقَهَا صَدَاقَهَا، وَجَعَلَ الْوَلِيمَةَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، وَبَسَطَ نِطْعًا جَاءَتْ بِهِ أُمُّ سُلَيْمٍ، وَأَلْقَى عَلَيْهِ أَقِطًا، وَتَمْرًا، وَأَطْعَمَ النَّاسَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ». قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارِ [الْأَيَّامِ]. رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا عِيسَى بْنَ أَبِي عِيسَى مَاهَانَ، وَهُوَ ثِقَةٌ، وَفِيهِ كَلَامٌ لَا يَضُرُّ.

EnglishUnverified translation

Anas, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, married Safiyyah, may Allah be pleased with her, and made her freedom her dowry, and held the walimah for three days. He spread a leather mat brought by Umm Sulaym, may Allah be pleased with her, cast upon it dried yogurt and dates, and fed the people for three days. > **"The Messenger married Safiyyah and made her freedom her dowry, and held the walimah for three days."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ شادی کی ، تو ان کی آزادی کو ان کا مہر قرار دیا اور آپ نے ولیمہ تین دن کیا آپ نے ایک دسترخوان بچھوایا جو سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہ لے کے آئی تھیں آپ نے اس پر پنیر اور کھجوریں رکھوا دیں اور لوگوں کو تین دن کھانا کھلایا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ’’ صحیح ‘‘ میں مذکور ہے ‘ جس میں یہ اختصار موجود ہے کہ اس میں دنوں کا ذکر ہے ( یعنی تین دن کا ذکر نہیں ہے ) ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف عیسیٰ بن ابوعیسی ماھان کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے اس کے بارے میں ایسا کلام کیا گیا ہے ‘ جو نقصان دہ نہیں ہے ۔

6141

Majma al-Zawaid #6141

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - «لَمْ يُولِمْ عَلَى أَحَدٍ مِنْ نِسَائِهِ إِلَّا عَلَى صَفِيَّةَ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ شَيْخَ الْبَزَّارِ، وَهُوَ ثِقَةٌ لَمْ يَتَكَلَّمْ فِيهِ أَحَدٌ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Malik, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, did not hold a walimah for any of his wives except Safiyyah, may Allah be pleased with her. > **"The Messenger did not hold a walimah for any of his wives except Safiyyah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے اپنی ازواج میں سے کسی بھی خاتون ( کے ساتھ شادی کے بعد ) ولیمہ نہیں کیا تھا صرف سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ ( شادی کے بعد ) ایسا ہوا تھا ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف عمر بن خطاب نامی راوی کا معاملہ مختلف ہے ‘ جو امام بزار کا استاد ہے وہ ثقہ ہے اور کسی نے اس کے بارے میں کلام نہیں کیا ہے ۔

6142

Majma al-Zawaid #6142

عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: «أَوْلَمَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى صَفِيَّةَ، فَقُلْتُ: أَيُّ شَيْءٍ كَانَ فِي وَلِيمَتِهِ؟ قَالَ: مَا كَانَ إِلَّا التَّمْرُ، وَالسَّوِيقُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ سُلَيْمَانَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَقَدْ وُثِّقَ.

EnglishUnverified translation

Sahl ibn Sad, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, held a walimah for Safiyyah, may Allah be pleased with her. When asked what was in it, he said there was nothing but dates and sawiq. > **"There was nothing in his walimah but dates and sawiq."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ شادی کے بعد ولیمہ کیا تھا ( راوی بیان کرتے ہیں : ) میں نے دریافت کیا : اس ولیمے میں کیا چیز تھی ؟ انہوں نے بتایا کہ صرف کھجوریں اور ستو تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالحمید بن سلیمان ہے اور وہ ضعیف ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔

6143

Majma al-Zawaid #6143

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: «لَمَّا أُدْخِلَتْ صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَيٍّ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فُسْطَاطَهُ حَضَرَهُ نَاسٌ، وَحَضَرْتُ مَعَهُمْ لِيَكُونَ لِي فِيهِمْ قَسْمٌ، فَخَرَجَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي رِدَائِهِ نَحْوٌ مِنْ مُدٍّ وَنِصْفٍ مِنْ تَمْرٍ عَجْوَةٍ قَالَ: "" كُلُوا مِنْ وَلِيمَةِ أُمِّكُمْ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Jabir, may Allah be pleased with him, reported that when Safiyyah bint Huyay, may Allah be pleased with her, was brought to the Prophet, peace and blessings of Allah be upon him, in his tent, people attended, and he attended among them for a share. The Prophet came out with about a mudd and a half of Ajwah dates in his cloak and told them to eat. > **"Eat from your mother's walimah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب سیدہ صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا کی نبی اکرم ﷺ کے ساتھ شادی ہوئی اور وہ نبی اکرم ﷺ کے خیمے میں آئیں تو کچھ لوگ نبی اکرم ﷺ کے پاس موجود تھے میں بھی ان لوگوں کے ساتھ موجود تھا تاکہ مجھے بھی ان میں سے حصہ ملے نبی اکرم ﷺ تشریف لائے تو آپ نے چادر میں تقریباً ڈیڑ مد عجوہ کھجوریں رکھی ہوئی تھیں آپ نے فرمایا : اپنی والدہ کے ولیمے ( کی کھجوریں ) کھاؤ ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

6144

Majma al-Zawaid #6144

وَعَنْ عَائِشَةَ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَوْلَمَ عَلَى بَعْضِ نِسَائِهِ بِمُدَّيْنِ مِنْ شَعِيرٍ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Aisha, may Allah be pleased with her, reported that the Prophet, peace and blessings of Allah be upon him, held a walimah for one of his wives with two mudds of barley. > **"The Prophet held a walimah for one of his wives with two mudds of barley."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں نبی اکرم ﷺ نے اپنی ایک زوجہ محترمہ کے ولیمے میں جو کے دو مد کے ساتھ ولیمہ کیا تھا ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

6145

Majma al-Zawaid #6145

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَوْلَمَ عَلَى بَعْضِ نِسَائِهِ بِقِدْرٍ مِنْ هَرِيسٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ جَرْوَلٌ؛ قَالَ الذَّهَبِيُّ: صَدُوقٌ. قَالَ ابْنُ الْمَدِينِيِّ: رَوَى مَنَاكِيرَ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, reported that the Prophet, peace and blessings of Allah be upon him, held a walimah for one of his wives with a pot of harisah. > **"The Prophet held a walimah for one of his wives with a pot of harisah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے اپنی ایک زوجہ محترمہ کے ولیمے میں ’’ ہرلیس ‘‘ کی ایک ہنڈیا کھلائی تھی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی جرول ہے ذہبی کہتے ہیں : وہ صدوق ہے ابن مدینی کہتے ہیں : اس نے منکر روایات نقل کی ہیں ۔

6146

Majma al-Zawaid #6146

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: أَوْلَمَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ بِتَمْرٍ وَسَمْنٍ. قُلْتُ: لَهُ فِي الصَّحِيحِ الْوَلِيمَةُ عَلَى صَفِيَّةَ، وَهَذَا عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Anas, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, held a walimah for Umm Salamah, may Allah be pleased with her, with dates and ghee. > **"The Messenger held a walimah for Umm Salamah with dates and ghee."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے ولیمے میں کھجوریں اور گھی کھلایا تھا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں کہ ’’ صحیح ‘‘ میں یہ بات منقول ہے کہ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کے ولیمے میں ایسا ہوا تھا اور یہاں یہ ذکر ہے کہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے ولیمے میں ایسا ہوا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

6147

Majma al-Zawaid #6147

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: «حَضَرْنَا عُرْسَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، وَفَاطِمَةَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَمَا رَأَيْنَا عُرْسًا كَانَ أَحْسَنَ مِنْهُ حُسْنًا. هَيَّأَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - زَبِيبًا وَتَمْرًا فَأَكَلْنَا. وَكَانَ فِرَاشُهَا لَيْلَةَ عُرْسِهَا إِهَابَ كَبْشٍ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ الزَّنْجِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَقَدْ وُثِّقَ.

EnglishUnverified translation

Jabir ibn Abdullah, may Allah be pleased with them, reported that they attended the wedding of Ali ibn Abi Talib, may Allah be pleased with him, and Fatimah, daughter of the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, and never saw a wedding better in beauty. The Messenger prepared raisins and dates for them, so they ate, and her bedding on the wedding night was a ram's skin. > **"We attended the wedding of Ali and Fatimah, and never saw a wedding more beautiful; he prepared raisins and dates for us, and her bedding was a ram's skin."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم حضرت علی رضی اللہ عنہ اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی شادی میں شریک ہوئے ہم نے اس سے زیادہ اچھی شادی اور کوئی نہیں دیکھی نبی اکرم ﷺ نے ہمارے لئے کشمش اور کھجوریں تیار کروائی تھیں ہم نے وہ کھائیں اس شادی کی رات ان کا بستر دنبے کی کھال کا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی مسلم بن خالد زنگی ہے اور وہ ضعیف ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔

6148

Majma al-Zawaid #6148

وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ «أَنَّ أَبَا أُسَيْدٍ صَاحِبَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَزَوَّجَ امْرَأَةً فَدَعَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي عُرْسِهِ، فَكَانَتِ امْرَأَتُهُ تَقُومُ عَلَيْنَا وَهِيَ الْعَرُوسُ فَسَقَتْنَا نَبِيذَ التَّمْرِ قَدِ انْتَبَذَتْهُ مِنَ اللَّيْلِ وَصَفَّتْهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Sahl ibn Sad, may Allah be pleased with him, reported that Abu Usayd, a Companion of the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, married a woman and invited the Prophet to his wedding. His wife, though the bride, served them date infusion steeped overnight and strained. > **"Abu Usayd married and invited the Prophet to his wedding, and his bride served date nabidh steeped overnight and strained."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے صحابی حضرت اسید رضی اللہ عنہ نے ایک خاتون کے ساتھ شادی کی ‘ تو انہوں نے اپنی شادی میں نبی اکرم ﷺ کو بھی بلایا تو ان کی اہلیہ نے ہماری دیکھ بھال کی ( یعنی کھانے پینے کا بندوبست کیا ) وہ دلہن تھیں ، لیکن انہوں نے ہمیں کھجور کی نبیذ پلائی جو انہوں نے گزشتہ رات ہی تیار کر لی تھی اور اسے صاف ( یا تیار کر لیا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

6149

Majma al-Zawaid #6149

وَعَنْ أَسْمَاءَ - يَعْنِي بِنْتَ عُمَيْسٍ - قَالَتْ: أَهْدَيْتُ جَدَّتَكِ فَاطِمَةَ إِلَى جَدِّكِ عَلِيٍّ فَمَا كَانَ حَشْوُ فِرَاشِهَا وَوِسَادَتِهَا إِلَّا لِيفٌ، وَلَقَدْ أَوْلَمَ عَلِيٌّ بِفَاطِمَةَ فَمَا كَانَتْ وَلِيمَةٌ فِي ذَلِكَ الزَّمَانِ أَفْضَلَ مِنْ وَلِيمَتِهِ؛ رَهَنَ دِرْعَهُ عِنْدَ يَهُودِيٍّ بِشَطْرِ شَعِيرٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ عَوْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَنَفِيَّةِ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ.

EnglishUnverified translation

Asma, meaning bint Umays, may Allah be pleased with her, said she presented your grandmother Fatimah, may Allah be pleased with her, to your grandfather Ali, may Allah be pleased with him, and the stuffing of her bed and pillow was nothing but fiber. Ali held a walimah for Fatimah, and no walimah in that time was better than his, for he mortgaged his armor with a Jew for half a measure of barley. > **"Her bedding and pillow were stuffed with nothing but fiber, and Ali mortgaged his armor with a Jew for barley for the walimah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں میں نے تمہاری دادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی تمہارے دادا حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ رخصتی کروائی تھی ان کے بستر اور تکیہ میں صرف پتے بھرے ہوئے تھے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا ولیمہ کروایا تھا اس زمانے میں ان کے ولیمے سے زیادہ فضیلت والا ولیمہ کوئی نہیں ہوا انہوں نے اپنی زرہ ایک یہودی کے پاس کچھ جو کے عوض میں رہن رکھوائی تھی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عون بن محمد بن حنفیہ ہے میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔

6150

Majma al-Zawaid #6150

وَعَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ أَنَّ أَسْمَاءَ بِنْتَ يَزِيدَ بْنِ السَّكَنِ - إِحْدَى نِسَاءِ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ - «دَخَلَ عَلَيْهَا يَوْمًا فَقَرَّبَتْ إِلَيْهِ طَعَامًا فَقَالَ: لَا أَشْتَهِيهِ. فَقَالَتْ: إِنِّي قَيَّنْتُ عَائِشَةَ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، ثُمَّ جِئْتُهُ فَدَعَوْتُهُ لَجِلْوَتِهَا، فَجَاءَ، فَجَلَسَ إِلَى جَنْبِهَا فَأُتِيَ بِعُسِّ لَبَنٍ فَشَرِبَ، ثُمَّ نَاوَلَهَا [النَّبَيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ] فَخَفَضَتْ رَأْسَهَا وَاسْتَحْيَتْ. قَالَتْ أَسْمَاءُ: فَانْتَهَرْتُهَا وَقُلْتُ لَهَا: خُذِي مِنْ يَدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. قَالَتْ: فَأَخَذَتْ، فَشَرِبَتْ شَيْئًا، ثُمَّ قَالَ لَهَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَعْطِي تِرْبَكِ "". قَالَتْ أَسْمَاءُ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، بَلْ خُذْهُ فَاشْرَبْ مِنْهُ، ثُمَّ نَاوِلْنِيهِ مِنْ يَدِكَ، فَأَخَذَهُ فَشَرِبَ مِنْهُ، ثُمَّ نَاوَلَنِيهِ، قَالَتْ: فَجَلَسْتُ، ثُمَّ وَضَعْتُهُ عَلَى رُكْبَتِي، ثُمَّ طَفِقْتُ أُدِيرُهُ وَأُتْبِعُهُ شَفَتَيَّ لِأُصِيبَ مِنْهُ مَشْرَبَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، ثُمَّ قَالَ لِنِسْوَةٍ عِنْدِي: "" نَاوِلِيهِنَّ "". فَقُلْنَ: لَا نَشْتَهِيهِ. فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" لَا تَجْمَعْنَ جُوعًا وَكَذِبًا "". فَهَلْ أَنْتَ مُنْتَهِيًا أَنْ تَقُولَ: لَا نَشْتَهِيهِ؟ قُلْتُ: أَيْ أُمَّهْ لَا أَعُودُ أَبَدًا». قُلْتُ: رَوَى ابْنُ مَاجَهْ بَعْضَهُ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ بِنَحْوِهِ وَزَادَ: «وَأَبْصَرَ [رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ] عَلَى إِحْدَاهُنَّ سِوَارًا مِنْ ذَهَبٍ فَقَالَ: "" يَا هَذِهِ، أَتُحِبِّينَ أَنْ يُسَوِّرَكِ اللَّهُ مَكَانَهُ سِوَارًا مِنْ نَارٍ؟ "". فَنَزَعْنَاهُ فَرَمَيْنَا بِهِ فَمَا نَدْرِي أَيْنَ هُوَ حَتَّى السَّاعَةِ. [ثُمَّ] قَالَ: [رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ] "": إِنَّمَا يَكْفِي إِحْدَاكُنَّ أَنْ تَتَّخِذَ جُمَانًا مِنْ فِضَّةٍ - وَرُبَّمَا قَالَ: سُوَارًا مِنْ فِضَّةٍ - ثُمَّ تَأْخُذَ شَيْئًا مِنْ زَعْفَرَانَ فَتُدِيفَهُ، ثُمَّ تُلَطِّخَهُ عَلَيْهِ، فَإِذَا هُوَ كَأَنَّهُ ذَهَبٌ». وَقَدْ رَوَى قِصَّةَ السِّوَارِ أَبُو دَاوُدَ بِاخْتِصَارٍ كَثِيرٍ. وَشَهْرٌ فِيهِ كَلَامٌ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Shahr ibn Hawshab reported that Asma bint Yazid ibn al-Sakan, may Allah be pleased with her, one of the women of Banu Abd al-Ashhal, served him food and he said he did not desire it. She told him she had adorned Aisha, may Allah be pleased with her, for the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, then called him to her unveiling. He came and sat beside her, was brought a cup of milk and drank, then handed it to her, but she lowered her head in shyness. Asma scolded her to take from the Messenger's hand, so she took and drank something. He then told her to give her companion, but Asma asked the Prophet to drink again and hand it to her from his hand. He drank and handed it to her, so she sat with it upon her knees, turning it to follow the Prophet's drinking place. He then told her to hand it to the women with her, but they said they did not desire it, so he warned them against combining hunger and falsehood. Asma then asked the narrator whether he would refrain from saying he did not desire it, and he vowed never to return to it. > **"Give it to them. Do not combine hunger and falsehood."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

شہر بن حوشب بیان کرتے ہیں : سیدہ اسماء بنت یزید بن سکن رضی اللہ عنہا جن کا تعلق بنی عبد اشہل کی خواتین سے ہے ایک مرتبہ شہر ان کی خدمت میں حاضر ہوئے اس خاتون نے ان کے سامنے کھانا رکھا تو انہوں نے کہا : مجھے اس کی خواہش نہیں ہے اس خاتون نے بتایا میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو نبی اکرم ﷺ کے ساتھ شادی کے موقع پر تیار کروایا تھا پھر میں نبی اکرم ﷺ کے پاس آئی اور آپ کو بلوایا تاکہ آپ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آ کر بیٹھیں نبی اکرم ﷺ تشریف لائے اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پہلو میں بیٹھ گئے پھر دودھ کا برتن لایا گیا نبی اکرم ﷺ نے اس میں سے پیا پھر نبی اکرم ﷺ نے وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف بڑھایا تو انہوں نے سر جھکا لیا اور وہ شرما گئیں سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں میں نے انہیں ڈانٹا اور میں نے ان سے کہا تم اللہ کے رسول کے ہاتھ سے اسے لے لو سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں ۔ انہوں نے لے لیا اور کچھ پیا پھر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اپنی سہیلی کو بھی کچھ دو سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں میں نے عرض کی : یا رسول اللہ بلکہ آپ لے کر آپ اس میں سے پیئیں اور پھر اپنے دست مبارک کے ذریعے یہ مجھے پکڑائیں نبی اکرم ﷺ نے اسے لے کر اس میں سے پیا پھر آپ نے وہ مجھے پکڑایا سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں میں بیٹھی اور میں نے اسے اپنے گھٹنے پر رکھا اور پھر اسے گھمایا اور اپنے ہونٹ اس جگہ پر رکھے جہاں پر سے نبی اکرم ﷺ نے پیا تھا پھر نبی اکرم ﷺ نے میرے پاس موجود خواتین کے بارے میں فرمایا کہ انہیں بھی دو ! ان خواتین نے کہا : ہمیں اس کی خواہش نہیں ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم بھوک اور غلط بیانی کو جمع نہ کرو ۔ یہ روایت بیان کرنے کے بعد سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے شہر بن حوشب سے کہا ) تو کیا تم یہ کہنے سے باز آتے ہو کہ ہمیں اس کی خواہش نہیں ہے ؟ میں نے کہا : اے امی جان اب میں دوبارہ کبھی ایسا نہیں کروں گا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابن ماجہ نے اس روایت کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے امام طبرانی نے معجم کبیر میں اس کی مانند روایت نقل کی ہے اور یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ان خواتین میں سے ایک کے ہاتھ میں سونے کا کنگن دیکھا تو آپ نے ارشاد فرمایا : اے خاتون ! کیا تم اس بات کو پسند کرتی ہو کہ اس کی جگہ اللہ تعالیٰ تمہیں آگ کا بنا ہوا کنگن پہنائے ؟ راوی خاتون کہتی ہیں تو ہم نے اپنے زیور اتار دیے اور انہیں رکھ دیا اور اس وقت تک ہمیں نہیں معلوم کہ وہ کہاں ہیں ؟ پھر نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم خواتین میں سے کسی ایک کے لئے یہ کافی ہے کہ وہ چاندی کا کڑا بنوائے پھر تھوڑا زعفران لے کر اسے گیلا کر کے اس پر لگا دے تو وہ سونے کی مانند ہو جائے گا ۔ امام ابوداؤد نے کنگن والا واقعہ بہت زیادہ اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے شہر نامی راوی کے بارے میں بہت زیادہ کلام کیا گیا ہے اور اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ۔

6151

Majma al-Zawaid #6151

وَعَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ قَالَتْ: «كُنْتُ صَاحِبَةَ عَائِشَةَ الَّتِي هَيَّأَتْهَا وَأَدْخَلَتْهَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَعِي نِسْوَةٌ قَالَتْ: فَوَاللَّهِ مَا وَجَدْنَا عِنْدَهُ قِرًى إِلَّا قَدَحًا مِنْ لَبَنٍ، فَشَرِبَ مِنْهُ، ثُمَّ نَاوَلَهُ عَائِشَةَ فَاسْتَحْيَتِ الْجَارِيَةُ، فَقُلْنَا: لَا تَرُدِّي يَدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خُذِي مِنْهُ، فَأَخَذَتْهُ عَلَى حَيَاءٍ، فَشَرِبَتْ مِنْهُ، ثُمَّ قَالَ: "" نَاوِلِي صَوَاحِبَكِ "". فَقُلْنَا: لَا نَشْتَهِيهِ. فَقَالَ: "" لَا تَجْمَعْنَ جُوعًا وَكَذِبًا "". قَالَتْ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنْ قَالَتْ إِحْدَانَا لِشَيْءٍ تَشْتَهِيهِ: لَا أَشْتَهِيهِ يُعَدُّ ذَلِكَ كَذِبًا؟ قَالَ: "" إِنَّ الْكَذِبَ يُكْتَبُ كَذِبًا حَتَّى تُكْتَبَ الْكُذَيْبَةُ كُذَيْبَةً». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ أَبُو شَدَّادٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ رَوَى عَنْهُ ابْنُ جُرَيْجٍ، وَيُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّ أَسْمَاءَ بِنْتَ عُمَيْسٍ كَانَتْ بِأَرْضِ الْحَبَشَةِ مَعَ زَوْجِهَا جَعْفَرٍ حِينَ تَزَوَّجَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَائِشَةَ، وَالصَّوَابُ حَدِيثُ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ. وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ، وَإِسْنَادُهُ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Asma bint Umays, may Allah be pleased with her, said she was the companion of Aisha, may Allah be pleased with her, who prepared her and brought her to the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, with other women. They found no hospitality with him but a cup of milk, from which he drank then handed it to Aisha. The girl felt shy, so they told her not to refuse the Messenger's hand and to take from it, so she took shyly and drank. He then told her to hand it to her companions, but they said they did not desire it, so he warned them. When asked whether saying she did not desire what she desired counted as falsehood, he explained that falsehood is written as falsehood until even a small lie is written as a small lie. > **"Hand it to your companions. Do not combine hunger and falsehood. Falsehood is written as falsehood, until even a small lie is written as a small lie."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ والی ان خواتین میں سے ایک تھی جنہوں نے انہیں تیار کیا تھا اور نبی اکرم ﷺ کے ساتھ ان کی رخصتی کروائی تھی میرے ساتھ کچھ اور خواتین بھی تھیں سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں ۔ اللہ کی قسم ہم نے آپ کی مہمان نوازی کے لئے صرف دودھ کا ایک پیالہ پایا نبی اکرم ﷺ نے اس میں سے پی لیا پھر وہ آپ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف بڑھایا تو وہ شرما گئیں ہم نے کہا : تم اللہ کے رسول کے ہاتھ کو واپس نہ کرو اور اسے لے لو تو انہوں نے شرماتے ہوئے وہ لے لیا اور اس میں سے وہ پی لیا پھر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اپنی سہیلیوں کو بھی دو ہم نے کہا : ہمیں اس کی خواہش نہیں ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم بھوک اور غلط بیانی کو جمع نہ کرو سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اگر ہم میں سے کوئی ایک عورت کسی چیز کی خواہش مند ہو ‘ اور پھر وہ یہ کہے کہ مجھے اس کی خواہش نہیں ہے ‘ تو یہ چیز بھی جھوٹ شمار ہو گی ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جھوٹ کو جھوٹ لکھا جائے گا یہاں تک کہ چھوٹے جھوٹ کو چھوٹا جھوٹ نوٹ کیا جائے گا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابوشداد ہے اس نے مجاہد کے حوالے سے اسے نقل کیا ہے ان سے یہ روایت ابن جریج اور یونس بن یزید نے نقل کی ہے اور اس کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں البتہ یہ بات ہے کہ سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا نبی اکرم ﷺ کی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی شادی کے وقت اپنے شوہر اور حضرت جعفر رضی اللہ عنہ کے ساتھ حبشہ کی سرزمین پر موجود تھیں درست یہ ہے کہ حدیث سیدہ اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا سے منقول ہے باقی اللہ بہتر ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند ضعیف ہے ۔

6152

Majma al-Zawaid #6152

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «يَا أَبَا هُرَيْرَةَ، أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُؤَمِّلِ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ، وَقَالَ: يُخْطِئُ، وَابْنُ مَعِينٍ فِي رِوَايَتَيْنِ، وَضَعَّفَهُ الْأَئِمَّةُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, said to hold a walimah even with a sheep. > **"O Abu Hurayrah, hold a walimah even with a sheep."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” اے ابوہریرہ ! تم ولیمہ کرو خواہ ایک بکری ( ذبح کر کے دعوت کرو ) ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن مؤمل ہے ‘ جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے وہ فرماتے ہیں : یہ غلطی کر جاتا ہے یحیی بن معین سے اس کے بارے میں دو روایات منقول ہیں ائمہ نے اسے ضعیف کہا ہے اس کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

6153

Majma al-Zawaid #6153

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ «أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، وَقَدْ خُضِّبَ بِالصُّفْرَةِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَا هَذَا الْخِضَابُ؟ أَعْرَسْتَ؟ "". قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: "" أَوْلَمْتَ؟ "". قَالَ: لَا. فَرَمَى إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِنَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ، فَقَالَ: "" أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, reported that Abd al-Rahman ibn Awf, may Allah be pleased with him, came to the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, dyed with yellow. He asked about the dye and whether he had married, and he said yes. When asked whether he had held a walimah, he said no, so the Messenger tossed to him a gold nugget and told him to hold one. > **"What is this dye? Have you married? Have you held a walimah? Hold a walimah even with a sheep."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے ۔ انہوں نے زرد رنگ کا خضاب لگایا ہوا تھا نی اکرم ﷺ نے ان سے دریافت کیا : یہ خضاب کس وجہ سے ہے ؟ کیا تم نے شادی کر لی ہے ؟ انہوں نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کیا تم نے ولیمہ کر لیا ہے ؟ انہوں نے عرض کی : جی نہیں ! تو نبی اکرم ﷺ نے سونے کی ایک گٹھلی ان کی طرف بڑھائی اور فرمایا : تم ولیمہ کرو خواہ ایک بکری ( ذبح کر کے دعوت کرو ) ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن ابوبکر بن ابوملیکہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

6154

Majma al-Zawaid #6154

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ «أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعَلَيْهِ ثَوْبُ صُفْرَةٍ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَهْيَمْ "". وَكَانَتْ كَلِمَةً إِذَا أَرَادَ أَنْ يَسْأَلَ عَنِ الشَّيْءِ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ تَزَوَّجْتُ. قَالَ: "" عَلَى كَمْ؟ "". قَالَ: عَلَى وَزْنِ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ قَالَ: "" أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ». قَالَ أَنَسٌ: حَرَّرْنَاهَا رُبُعَ دِينَارٍ. قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ خَلَا قِيمَةَ النَّوَاةِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ الْقَاسِمُ بْنُ مَعْنٍ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Malik, may Allah be pleased with him, reported that Abd al-Rahman ibn Awf, may Allah be pleased with him, came to the Prophet, peace and blessings of Allah be upon him, wearing a yellow garment. He said Mahyam, a word used when asking about a matter, and he said he had married. When asked for how much, he said for the weight of a gold nugget, so he commanded a walimah. Anas said they valued it as a quarter dinar. > **"Mahyam? For how much? Hold a walimah even with a sheep."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ انہوں نے زرد لباس پہنا ہوا تھا نبی اکرم ﷺ نے ان سے دریافت کیا : میہم ؟ ( راوی بیان کرتے ہیں : ) یہ ایک ایسا کلمہ ہے کہ جب کسی چیز کے بارے میں دریافت کیا جائے تو یہ استعمال ہوتا ہے ۔ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے شادی کر لی ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کتنے ( مہر ) کے عوض میں ؟ انہوں نے عرض کی : ایک گٹھلی کے وزن جتنے سونے کے عوض ‘ میں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم ولیمہ کرو خواہ ایک بکری ( ذبح کر کے دعوت کرو ) ۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم نے ایک چوتھائی دینار کے عوض میں اسے آزاد کیا تھا ( یعنی اس سونے کو ایک چوتھائی دینار کے عوض میں فروخت کیا تھا ) ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ’’ صحیح ‘‘ میں مذکور ہے تا ہم اس میں گٹھلی کی قیمت کا ذکر نہیں ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی قاسم بن معن ہے میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔

6155

Majma al-Zawaid #6155

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «أَجِيبُوا الدَّاعِيَ، وَلَا تَرُدُّوا الْهَدِيَّةَ، وَلَا تَضْرِبُوا الْمُسْلِمِينَ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالْبَزَّارُ -، وَفِي رِوَايَةٍ عِنْدَ الْبَزَّارِ: "" «أَجِيبُوا الدَّاعِيَ إِذَا دُعِيتُمْ» "" -، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Masud, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, commanded answering the inviter, not refusing gifts, and not striking Muslims. In one narration, answer the inviter when invited. > **"Answer the inviter, do not refuse gifts, and do not strike Muslims."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ دعوت دینے والے کی دعوت قبول کرو اور تحفے کو واپس نہ کرو اور مسلمانوں کو مارو نہیں “۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام بزار نے نقل کی ہے امام بزار کی ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” دعوت دینے والے کی دعوت قبول کرو جب تمہیں بلایا جائے “۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے امام احمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

6156

Majma al-Zawaid #6156

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: الْوَلِيمَةُ حَقٌّ وَسُنَّةٌ فَمَنْ دُعِيَ فَلَمْ يُجِبْ، فَقَدْ عَصَى اللَّهَ وَرَسُولَهُ، وَالْخَرَسُ وَالْإِعْذَارُ وَالتَّوْكِيرُ أَنْتَ فِيهِ بِالْخِيَارِ. قَالَ: قُلْتُ: إِنِّي وَاللَّهِ لَا أَدْرِي مَا الْخَرَسُ، وَالْإِعْذَارُ، وَالتَّوْكِيرُ؟ قَالَ: الْخَرَسُ: الْوِلَادَةُ. وَالْإِعْذَارُ: الْخِتَانُ. وَالتَّوْكِيرُ: الرَّجُلُ يَبْنِي الدَّارَ وَيَنْزِلُ فِي الْقَوْمِ فَيَجْعَلُ الطَّعَامَ فَيَدْعُوهُمْ. فَهُمْ بِالْخِيَارِ إِنْ شَاءُوا جَاءُوا، وَإِنْ شَاءُوا قَعَدُوا. قُلْتُ: فِي الصَّحِيحِ طَرَفٌ مِنْهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ التَّيْمِيُّ وَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ، وَابْنُ حِبَّانَ، وَضَعَّفَهُ الْبُخَارِيُّ، وَغَيْرُهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, said the walimah is a right and a Sunnah, so whoever is invited and does not answer has disobeyed Allah and His Messenger, while concerning khars, idhar, and tawkir one has a choice. Khars is for birth, idhar for circumcision, and tawkir when a man builds a house and settles among people, prepares food and invites them, so they may come or stay as they wish.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ولیمہ حق اور سنت ہے ‘ جس شخص کو اس کی دعوت دی جائے اور وہ اس کو قبول نہ کرے تو وہ اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کا مرتکب ہوتا ہے جبکہ خرس اعزار اور توکیر کے بارے میں تمہیں اختیار ہے ( کہ تم چاہو ‘ تو چلے جاؤ ‘ چاہو ‘ تو نہ جاؤ ) ۔ راوی کہتے ہیں : میں نے کہا : اللہ کی قسم ! مجھے نہیں معلوم کہ خرس ، اعزار اور توکیر کا مطلب کیا ہوتا ہے ؟ تو انہوں نے ( یعنی میرے استاد نے ) بتایا خرس سے مراد ( بچے کی ) پیدائش کی دعوت ہے اعزار سے مراد ختنے کے وقت کی دعوت ہے اور توکیر سے مراد یہ ہے کہ جب آدمی کوئی گھر بناتا ہے ‘ تو اس میں لوگوں کو بلاتا ہے اور کھانا تیار کر کے ان کی دعوت کرتا ہے ‘ تو ان کے بارے میں لوگوں کو اختیار ہے کہ اگر وہ چاہیں تو چلے جائیں اور اگر چاہیں تو نہ جائیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ’’ صحیح ‘‘ میں اس کا ایک حصہ منقول ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عثمان تیمی ہے ‘ جسے ابوحاتم رازی اور ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے جبکہ امام بخاری اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

6157

Majma al-Zawaid #6157

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «مَنْ دَعَاكُمْ فَأَجِيبُوهُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْعَرْزَمِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Umamah, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, said whoever invited them should be answered. > **"Whoever invites you, answer him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جو شخص تمہاری دعوت کرے تم اسے جواب دو ! ( یعنی دعوت قبول کرو ) ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبیداللہ عرزمی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

6158

Majma al-Zawaid #6158

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِذَا دُعِيَ أَحَدُكُمْ إِلَى طَعَامٍ فَلْيُجِبْ، فَإِنْ كَانَ مُفْطِرًا فَلْيَأْكُلْ، وَإِنْ كَانَ صَائِمًا فَلْيَدْعُ بِالْبَرَكَةِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Masud, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, said when one of them was invited to food he should answer; if not fasting he should eat, and if fasting he should supplicate for blessing. > **"When one of you is invited to food, let him answer; if he is not fasting, let him eat, and if he is fasting, let him supplicate for blessing."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جب تم میں سے کسی ایک کو کھانے کی دعوت دی جائے تو اسے جانا چاہیے اگر اس نے روزہ نہ رکھا ہوا ہو ‘ تو کھانا کھا لینا چاہیے اور اگر روزہ رکھا ہوا ہو تو برکت کی دعا دینی چاہیے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

6159

Majma al-Zawaid #6159

وَعَنْ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ أَنَّهُ دُعِيَ إِلَى مَأْدُبَةٍ فَقَعَدَ صَائِمًا فَجَعَلَ النَّاسُ يَأْكُلُونَ، وَلَا يَطْعَمُ، قِيلَ لَهُ: وَاللَّهِ لَوْ عَلِمْنَا أَنَّكَ صَائِمٌ مَا دَعَيْنَاكَ، قَالَ: لَا تَقُولُوا ذَاكَ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «أَجِبْ أَخَاكَ، فَإِنَّكَ مِنْهُ عَلَى اثْنَتَيْنِ إِمَّا خَيْرٌ فَأَحِقَّ مَا شَهِدْتَهُ، وَإِمَّا غَيْرُهُ فَتَنْهَاهُ عَنْهُ وَتَأْمُرُهُ بِالْخَيْرِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَعْلَى، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ya'la ibn Murrah (رضي الله عنه) was invited to a feast and sat while fasting, while the people ate and he did not taste. They said had they known he was fasting they would not have invited him, so he told them not to say that, and reported what he heard from the Messenger of Allah ﷺ concerning answering a brother. > **"Answer your brother, for you are in one of two positions with him: either good, and you most deserve to have witnessed it, or otherwise, and you forbid him from it and enjoin good upon him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت یعلی بن مرہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ انہیں کھانے کی دعوت دی گئی وہ بیٹھ گئے ۔ انہوں نے روزہ رکھا ہوا تھا لوگوں نے کھانا شروع کیا لیکن انہوں نے نہیں کھایا انہیں اس بارے میں کہا گیا : اللہ کی قسم ! اگر ہمیں پتہ ہوتا کہ آپ نے روزہ رکھا ہوا ہے ‘ تو ہم آپ کو بلاتے ہی نہیں ، تو حضرت یعلی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم یہ نہ کہو ! کیونکہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے ’’ اپنے بھائی کی دعوت قبول کرو کیونکہ تم اس کے حوالے سے دو چیزیں حاصل کر لو گے یا تو وہاں بھلائی ہو گی ، تو وہ اس بات کی زیادہ حقدار ہے کہ تم وہاں موجود ہو ‘ یا اس کے علاوہ ہو گا ، تو تم اُسے منع کر دو گے اور اسے بھلائی کے بارے میں حکم دو گے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عمر بن عبداللہ بن یعلی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

6160

Majma al-Zawaid #6160

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّهُ «صَنَعَ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَصْحَابِهِ طَعَامًا، فَدَعَاهُمْ، فَلَمَّا دَخَلُوا وَضَعَ الطَّعَامَ فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: إِنِّي صَائِمٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" دَعَاكُمْ أَخُوكُمْ وَتَكَلَّفَ لَكُمْ وَتَقُولُ: إِنِّي صَائِمٌ أَفْطِرْ وَصُمْ يَوْمًا مَكَانَهُ إِنْ شِئْتَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ حَمَّادُ بْنُ أَبِي حُمَيْدٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Sa'id al-Khudri (رضي الله عنه) prepared food for the Messenger of Allah ﷺ and his Companions, and the Prophet ﷺ addressed a man who excused himself by fasting. > **"Your brother invited you and went to trouble for you, yet you say: I am fasting? Break your fast and fast a day in its place if you wish."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم ﷺ اور آپ کے اصحاب کے لئے کھانا تیار کیا ۔ انہوں نے ان لوگوں کو بلایا جب یہ حضرات آئے تو انہوں نے کھانا رکھا حاضرین میں سے ایک صاحب نے کہا : میں نے روزہ رکھا ہوا ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تمہارے بھائی نے تمہیں بلایا ہے اور تمہارے لئے اہتمام کیا ہے اور تم کہہ رہے ہو میں نے روزہ رکھا ہوا ہے روزہ ختم کر دو اور پھر اس کی جگہ اگر تم چاہو ‘ تو روزہ رکھ لینا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی حماد بن ابوحمید ہے اور وہ ضعیف ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

6161

Majma al-Zawaid #6161

وَعَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ قَالَ: إِذَا عُرِضَ عَلَى أَحَدِكُمْ طَعَامٌ أَوْ شَرَابٌ، وَهُوَ صَائِمٌ فَلْيَقُلْ: إِنِّي صَائِمٌ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Qays ibn Abi Hazim (رحمه الله) stated the conduct of one who is fasting when food or drink is offered to him.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

قیس بن ابوحازم فرماتے ہیں : جب کسی شخص کو کھانے یا مشروب کی پیش کش کی جائے اور اس نے روزہ رکھا ہوا ہو ‘ تو اسے کہہ دینا چاہیے کہ میں نے روزہ رکھا ہوا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

6162

Majma al-Zawaid #6162

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «إِنْ كَانَ الرَّجُلُ مِنْ أَهْلِ الْعَوَالِي لَيَدْعُو النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نِصْفَ اللَّيْلِ عَلَى خُبْزِ الشَّعِيرِ فَيُجِيبُهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ، وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ أَبُو مُسْلِمٍ قَائِدِ الْأَعْمَشِ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَقَالَ: يُخْطِئُ. وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Abbas (رضي الله عنهما) reported that even a man from al-'Awali inviting the Prophet ﷺ at midnight to barley bread would find him accepting.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : اگر نواحی علاقے کا رہنے والا کوئی شخص اگر نصف رات کے وقت نبی اکرم ﷺ کو جو کی روٹی کھانے کے لئے بلاتا تھا تو آپ اس کی دعوت قبول کر لیتے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابومسلم ہے ‘ جو اعمش کو ساتھ لے کے چلا کرتا تھا ابن حبان نے اس کو ثقہ قرار دیا ہے وہ فرماتے ہیں : یہ غلطی کر جاتا ہے ایک جماعت نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔

6163

Majma al-Zawaid #6163

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «لَوْ دُعِيتُ إِلَى كُرَاعٍ لَأَجَبْتُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُؤَمِّلِ وَثَّقَهُ ابْنُ سَعْدٍ، وَابْنُ حِبَّانَ، وَقَالَ: يُخْطِئُ. وَابْنُ حِبَّانَ فِي رِوَايَتَيْنِ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Abbas (رضي الله عنهما) reported from the Messenger of Allah ﷺ concerning his readiness to accept invitation. > **"If I were invited to a shank, I would surely accept."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ اگر مجھے ایک پائے کی دعوت دی جائے تو میں وہ قبول کر لوں گا “۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن مؤمل ہے ‘ جسے ابن سعد اور ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے وہ فرماتے ہیں : یہ غلطی کر جاتا ہے ابن حبان سے اس بارے میں دو روایات منقول ہیں ۔ ایک جماعت نے اس راوی کو ضعیف کہا ہے ۔

6164

Majma al-Zawaid #6164

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «شَرُّ الطَّعَامِ طَعَامُ الْوَلِيمَةِ يُدْعَى إِلَيْهِ الْغَنِيُّ، وَيُتْرَكُ الْفَقِيرُ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَالْكَبِيرِ، وَلَفْظُهُ: عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" بِئْسَ الطَّعَامُ طَعَامُ الْوَلِيمَةِ يُدْعَى إِلَيْهِ الشَّبْعَانُ وَيُحْبَسُ عَنْهُ الْجَيْعَانُ "". وَفِيهِ سَعِيدُ بْنُ سُوَيْدٍ الْمِغْوَلِيُّ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ، وَفِيهِ عِمْرَانُ الْقَطَّانُ وَثَّقَهُ أَحْمَدُ وَجَمَاعَةٌ، وَضَعَّفَهُ النَّسَائِيُّ، وَغَيْرُهُ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas (رضي الله عنهما) reported from the Prophet ﷺ concerning the food of the walimah to which only the satiated are called. > **"The worst food is the food of the walimah to which the rich is invited and the poor is left. Wretched is the food of the walimah to which the satiated is invited and from which the hungry is withheld."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ سب سے برا کھانا ولیمہ کا کھانا ہوتا ہے ‘ جس میں خوشحال شخص کو دعوت دی جاتی ہے اور غریب کو چھوڑ دیا جاتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے اور ان کے الفاظ یہ ہیں : حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کیا ہے ۔ ’’ برا کھانا ولیمہ کا کھانا ہے ، جس میں سیر لوگوں کو دعوت دی جاتی ہے اور بھوکوں کو اس سے روک دیا جاتا ہے ‘‘۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی سعید بن سوید مغولی ہے میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے اس کی سند میں ایک راوی عمران القطان ہے امام احمد اور ایک جماعت نے اسے ثقہ قرار دیا ہے امام نسائی اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا ہے ۔

6165

Majma al-Zawaid #6165

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «لَا تَفْتَخِرُوا بِآبَائِكُمُ الَّذِينَ مَاتُوا فِي الْجَاهِلِيَّةِ أَلَا أُنَبِّئُكُمْ؟ مَثَلُ آبَائِكُمُ الَّذِينَ مَاتُوا فِي الْجَاهِلِيَّةِ مَثَلُ مَلِكٍ بَنَى قَصْرًا عَلَى قَارِعَةِ الطَّرِيقِ وَاتَّخَذَ فِيهِ طَعَامًا، وَوَكَّلَ بِهِ رِجَالًا فَقَالَ: لَا يَمُرُّ أَحَدٌ إِلَّا أَصَابَ مِنْ طَعَامِي هَذَا. وَكَانَ إِذَا مَرَّ الرَّجُلُ فِي شَارَةٍ وَثِيَابٍ حَسَنَةٍ ذَهَبُوا إِلَيْهِ فَتَعَلَّقُوا بِهِ، وَجَاءُوا بِهِ حَتَّى يَأْكُلَ مِنْ ذَلِكَ الطَّعَامِ. وَإِذَا جَاءَ رَجُلٌ فِي شَارَةٍ سَيِّئَةٍ وَثِيَابٍ رَثَّةٍ مَنَعُوهُ. فَلَمَّا طَالَ ذَلِكَ بَعَثَ اللَّهُ مَلَكًا مِنَ الْمَلَائِكَةِ فِي شَارَةٍ سَيِّئَةٍ، وَثِيَابٍ رَثَّةٍ، فَمَرَّ بِجَنَبَاتِهِمْ، فَقَامُوا إِلَيْهِ، فَدَفَعُوهُ، فَقَالَ لَهُمْ: إِنِّي جَائِعٌ، وَإِنَّمَا يُصْنَعُ الطَّعَامُ لِلْجَائِعِ. فَقَالُوا: إِنَّ طَعَامَ الْمَلِكِ لَا يَأْكُلُهُ إِلَّا الْأَبْرَارُ. فَدَفَعُوهُ، فَانْطَلَقَ، فَجَاءَ فِي صُورَةٍ حَسَنَةٍ، وَثِيَابٍ حَسَنَةٍ، فَمَرَّ كَأَنَّهُ لَا يُرِيدُهُمْ بَعِيدًا مِنْهُمْ، فَذَهَبُوا إِلَيْهِ، فَتَعَلَّقُوا بِهِ، فَقَالُوا: تَعَالَ، فَأَصِبْ مِنْ طَعَامِ الْمَلِكِ قَالَ: لَا أُرِيدُهُ. قَالَ: لَا يَدَعُكَ الْمَلِكُ إِنْ بَلَغَهُ - أَنَّ مِثْلَكَ مَرَّ، وَلَمْ يُصِبْ مِنْ طَعَامٍ - شَقَّ عَلَيْهِ، وَخَشِيَنَا أَنْ تُصِيبَنَا مِنْهُ عُقُوبَةٌ. فَأَكْرَهُوهُ، فَأَدْخَلُوهُ حَتَّى جَاءُوا بِهِ إِلَى الطَّعَامِ، فَقَرَّبُوا إِلَيهِ الطَّعَامِ، فَقَالَ بِثِيَابِهِ هَكَذَا، فَقَالَ: مَا تَصَنَعُ؟ فَقَالَ: إِنِّي جِئْتُكُمْ فِي شَارَةٍ سَيِّئَةٍ، وَثِيَابٍ رَثَّةٍ، فَأَخْبَرْتُكُمْ أَنِّي جَائِعٌ فَمَنَعْتُمُونِي، وَإِنِّي جِئْتُكُمْ فِي شَارَةٍ حَسَنَةٍ وَثِيَابٍ حَسَنَةٍ، فَأَكْرَهْتُمُونِي وَغَلَبْتُمُونِي، وَأَبَيْتُمْ تَدْعُونِي، فَقَبَّحَكُمْ، وَقَبَّحَ مَلِكَكُمْ إِنَّمَا يَصْنَعُ مَلِكُكُمْ هَذَا الطَّعَامَ لِلدُّنْيَا، وَإِنَّهُ لَيْسَ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ خَلَاقٌ قَالَ: فَارْتَفَعَ الْمَلَكُ، وَنَزَلَ عَلَيْهِمُ الْعَذَابُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ الْقَافِلَائِيُّ، قَالَ ابْنُ عَدِيٍّ: لَا أَرَى بِحَدِيثِهِ بَأْسًا. وَقَالَ النَّسَائِيُّ: مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas (رضي الله عنهما) reported from the Messenger of Allah ﷺ concerning boasting of forefathers who died in Jahiliyyah, with a parable of a king, his servants, and an angel. > **"Do not boast of your forefathers who died in Jahiliyyah. Shall I not inform you? The example of your forefathers who died in Jahiliyyah is like a king who built a palace by the roadside and placed food therein and appointed men over it, saying: None shall pass but shall partake of this food of mine. When a man passed in fine appearance and fine clothes they went to him, clung to him, and brought him to eat of that food. And when a man came in poor appearance and worn clothes they barred him. When that prolonged, Allah sent an angel from the angels in poor appearance and worn clothes, so he passed by them, and they rose against him and thrust him away. He said to them: I am hungry, and food is but made for the hungry. They said: The king's food is eaten only by the righteous. So they thrust him away and he departed. Then he came in a handsome form and fine clothes, passing as though not intending them, at a distance from them. So they went to him, clung to him, and said: Come, partake of the king's food. He said: I do not want it. They said: The king will not leave you if it reaches him that one like you passed and did not partake of food; it will grieve him, and we fear punishment from him will befall us. So they compelled him and brought him to the food and set the food before him, whereupon he did thus with his clothes. They said: What are you doing? He said: I came to you in poor appearance and worn clothes and told you I was hungry, yet you barred me. And I came to you in fine appearance and fine clothes, so you compelled me and overcame me and refused but to invite me. So may you be disgraced, and may your king be disgraced; your king makes this food only for the world, and he has no portion with Allah. Then the angel ascended, and punishment descended upon them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اپنے ان باپ داداؤں کے حوالے سے فخر کا اظہار نہ کرو جو زمانہ جاہلیت میں مر چکے ہیں کیا میں تمہیں اس بارے میں بتاؤں تمہارے باپ دادا جو زمانہ جاہلیت میں مر چکے ہیں ان کی مثال ایک بادشاہ کی مانند ہے ، جس نے راستے میں ایک محل بنوایا اور اس میں کھانے کا انتظام کیا اور کچھ لوگوں کی یہ ذمہ داری لگائی اور یہ کہا کہ جو بھی شخص گزرے گا وہ میرے اس کھانے میں سے کھا کے جائے گا تو جو بھی شخص عمدہ حالت اور عمدہ لباس میں وہاں سے گزرتا تھا تو اس کے خادم اس کی طرف جاتے تھے اور اس کے ساتھ متعلق ہو کے اسے ساتھ لے کے آتے تھے یہاں تک کہ کھانا کھاتا تھا اسی دوران ایک شخص آیا جس کی حالت بری تھی اور کپڑے بھی برے تھے ان لوگوں نے اسے نہیں آنے دیا جب یہ بات طول پکڑ گئی تو اللہ تعالی نے ایک فرشتے کو ظاہری طور پر ایک برے حلیے اور برے لباس میں بھیجا وہ وہاں سے گزرا وہ لوگ اٹھ کے اس کی طرف گئے اور اس شخص کو پرے کر دیا اس فرشتے نے کہا : میں بھوکا ہوں اور کھانا بھوکے کے لیے ہی تیار کیا جاتا ہے ۔ انہوں نے کہا : یہ بادشاہ کا کھانا ہے اسے صرف خوشحال لوگ کھا سکتے ہیں ان لوگوں نے اس فرشتے کو پرے کر دیا پھر وہ چلا گیا پھر وہ عمدہ شکل و صورت اور عمدہ لباس میں آیا اور یوں گزرا کہ جیسے وہ ان کی طرف نہیں آ رہا ذرا دور ہو کے گزرا تو وہ ملازمین اس کی طرف گئے اس کے پاس پہنچے اور کہا کہ تم آؤ اور بادشاہ کے کھانے میں سے کھاؤ اس نے کہا : میں وہ نہیں لینا چاہتا خادم نے کہا : اگر بادشاہ کو اطلاع مل گئی تو وہ تمہیں نہیں چھوڑے گا کہ تمہارے جیسا آدمی یوں ہی گزر گیا اور اس نے کھانا ہی نہیں کھایا یہ بات بادشاہ پر گراں گزرے گی تو ہمیں یہ اندیشہ ہے کہ ہمیں بادشاہ کی طرف سے سزا کا سامنا کرنا پڑے گا ان لوگوں نے اس فرشتے کو مجبور کیا اور وہ اس فرشتے کو ساتھ لے کر کھانے کے پاس آ گئے ۔ انہوں نے کھانے کو اس کے آگے رکھا تو فرشتے نے کھانا اپنے کپڑے میں ڈالنا شروع کر دیا ملازم نے دریافت کیا : تم کیا کر رہے ہو ؟ فرشتے نے کہا : میں برے حال اور برے کپڑے میں تمہارے پاس آیا اور میں نے تمہیں بتایا کہ میں بھوکا ہوں تو اس وقت تم نے مجھے کھانے کے لئے نہیں دیا اور جب میں عمدہ حالت اور عمدہ لباس میں تمہارے پاس آیا ہوں تو تم نے میرے ساتھ زبردستی کی اور مجھ پر غالب آ گئے اور تم نے مجھے چھوڑا ہی نہیں تو اللہ تعالیٰ تمہیں قبیح کرے اور تمہارے بادشاہ کو بھی قبیح کرے تمہارے بادشاہ نے یہ کھانا دنیا کے لئے بنایا ہے ۔ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اس کا کوئی حصہ نہیں ہے راوی بیان کرتے ہیں : ( یا نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں : ) پھر وہ فرشتہ اوپر چلا گیا اور ان لوگوں پر عذاب نازل ہوا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی سلیمان قافلائی ہے ۔ ابن عدی کہتے ہیں : میں نے اس کی حدیث میں کوئی حرج نہیں دیکھا ہے امام نسائی فرماتے ہیں : وہ متروک ہے ۔

6166

Majma al-Zawaid #6166

عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ إِجَابَةِ طَعَامِ الْفَاسِقِينَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَالْكَبِيرِ، وَفِيهِ أَبُو مَرْوَانَ الْوَاسِطِيُّ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ.

EnglishUnverified translation

Imran ibn Husayn (رضي الله عنه) reported the Prophet's ﷺ prohibition concerning the food of the defiantly disobedient. > **"The Messenger of Allah ﷺ forbade answering the invitation to the food of the fasiqin."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے فاسق لوگوں کی دعوت قبول کرنے سے منع فرمایا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابومروان واسطی ہے میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔

6167

Majma al-Zawaid #6167

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: مِنَ السُّنَّةِ إِذَا دَعَا الرَّجُلُ أَخَاهُ أَنْ يَقُومَ مَعَهُ حَتَّى يَخْرُجَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ أَبُو صَيْفِيٍّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Abbas (رضي الله عنهما) stated what is of the Sunnah for a host when his brother departs.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : سنت یہ ہے کہ جب آدمی اپنے بھائی کی دعوت کرے تو وہ اس کے ساتھ اٹھ کر جائے یہاں تک کہ وہ باہر نکل جائے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابوصیفی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

6168

Majma al-Zawaid #6168

عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ عُمَرَ - قَالَ: أَعْرَسْتُ فِي عَهْدِ أَبِي، فَأَذَّنَ أَبِي النَّاسَ فَكَانَ أَبُو أَيُّوبَ فِيمَنْ أَذِنَّا، وَقَدْ سُتِرَ بَيْتِي بِنِجَادٍ أَخْضَرَ، فَأَقْبَلَ أَبُو أَيُّوبَ، ثُمَّ دَخَلَ فَرَآنِي قَائِمًا فَاطَّلَعَ فَرَأَى الْبَيْتَ مُسْتَتِرًا بِنِجَادٍ أَخْضَرَ، فَقَالَ: يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ، تَسْتُرُونَ الْجُدُرَ؟! قَالَ أَبِي وَاسْتَحْيَا: عَلَبْنَنَا النِّسَاءُ يَا أَبَا أَيُّوبَ. قَالَ: مَنْ خَشِيَ أَنْ يَغْلِبَهُ النِّسَاءُ فَلَمْ أَخْشَ أَنْ يَغْلِبَنَّكَ. ثُمَّ قَالَ: لَا أَطْعَمُ لَكُمْ طَعَامًا، وَلَا أَدْخُلُ لَكُمْ بَيْتًا. ثُمَّ خَرَجَ رَحِمَهُ اللَّهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Salim ibn Abdullah ibn Umar (رحمهم الله) reported his wedding in his father's lifetime, when Abu Ayyub al-Ansari (رضي الله عنه) saw the house veiled with green hangings, reproached them for draping walls and for being overcome by women, and refused to eat or enter, then departed.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سالم بن عبداللہ بن عمر بیان کرتے ہیں : اپنے والد کے زمانے میں ‘ میں نے شادی کی میرے والد نے کچھ لوگوں کو بلایا حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ ان افراد میں شامل تھے جنہیں ہم نے بلایا تھا میرے گھر میں سبز رنگ کے پردے لٹک رہے تھے حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ تشریف لائے جب وہ اندر آئے تو انہوں نے مجھے دیکھا کہ میں کھڑا ہوا ہوں ۔ انہوں نے جھانک کر دیکھا تو گھر میں سبز رنگ کے پردے لگے ہوئے تھے ۔ انہوں نے فرمایا : اے ابوعبداللہ کیا تم لوگ دیواروں پر پردے لٹکاتے ہو میرے والد شرما گئے ۔ انہوں نے کہا : اے حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ خواتین ہم پر غالب آ گئیں ہیں تو حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ نے فرمایا جو شخص اس بات کا اندیشہ رکھتا ہو کہ خواتین اس پر غالب آ جائیں گی وہ تو ٹھیک ہے لیکن مجھے یہ اندیشہ نہیں تھا کہ خواتین تم پر بھی غالب آ جائیں گی پھر انہوں نے فرمایا : میں تمہارا کھانا نہیں کھاؤں گا اور میں تمہارے گھر میں داخل نہیں ہوؤں گا ‘ پھر وہ تشریف لے گئے اللہ تعالیٰ ان پر رحم کرے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔