وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «لَا تَفْتَخِرُوا بِآبَائِكُمُ الَّذِينَ مَاتُوا فِي الْجَاهِلِيَّةِ أَلَا أُنَبِّئُكُمْ؟ مَثَلُ آبَائِكُمُ الَّذِينَ مَاتُوا فِي الْجَاهِلِيَّةِ مَثَلُ مَلِكٍ بَنَى قَصْرًا عَلَى قَارِعَةِ الطَّرِيقِ وَاتَّخَذَ فِيهِ طَعَامًا، وَوَكَّلَ بِهِ رِجَالًا فَقَالَ: لَا يَمُرُّ أَحَدٌ إِلَّا أَصَابَ مِنْ طَعَامِي هَذَا. وَكَانَ إِذَا مَرَّ الرَّجُلُ فِي شَارَةٍ وَثِيَابٍ حَسَنَةٍ ذَهَبُوا إِلَيْهِ فَتَعَلَّقُوا بِهِ، وَجَاءُوا بِهِ حَتَّى يَأْكُلَ مِنْ ذَلِكَ الطَّعَامِ. وَإِذَا جَاءَ رَجُلٌ فِي شَارَةٍ سَيِّئَةٍ وَثِيَابٍ رَثَّةٍ مَنَعُوهُ. فَلَمَّا طَالَ ذَلِكَ بَعَثَ اللَّهُ مَلَكًا مِنَ الْمَلَائِكَةِ فِي شَارَةٍ سَيِّئَةٍ، وَثِيَابٍ رَثَّةٍ، فَمَرَّ بِجَنَبَاتِهِمْ، فَقَامُوا إِلَيْهِ، فَدَفَعُوهُ، فَقَالَ لَهُمْ: إِنِّي جَائِعٌ، وَإِنَّمَا يُصْنَعُ الطَّعَامُ لِلْجَائِعِ. فَقَالُوا: إِنَّ طَعَامَ الْمَلِكِ لَا يَأْكُلُهُ إِلَّا الْأَبْرَارُ. فَدَفَعُوهُ، فَانْطَلَقَ، فَجَاءَ فِي صُورَةٍ حَسَنَةٍ، وَثِيَابٍ حَسَنَةٍ، فَمَرَّ كَأَنَّهُ لَا يُرِيدُهُمْ بَعِيدًا مِنْهُمْ، فَذَهَبُوا إِلَيْهِ، فَتَعَلَّقُوا بِهِ، فَقَالُوا: تَعَالَ، فَأَصِبْ مِنْ طَعَامِ الْمَلِكِ قَالَ: لَا أُرِيدُهُ. قَالَ: لَا يَدَعُكَ الْمَلِكُ إِنْ بَلَغَهُ - أَنَّ مِثْلَكَ مَرَّ، وَلَمْ يُصِبْ مِنْ طَعَامٍ - شَقَّ عَلَيْهِ، وَخَشِيَنَا أَنْ تُصِيبَنَا مِنْهُ عُقُوبَةٌ. فَأَكْرَهُوهُ، فَأَدْخَلُوهُ حَتَّى جَاءُوا بِهِ إِلَى الطَّعَامِ، فَقَرَّبُوا إِلَيهِ الطَّعَامِ، فَقَالَ بِثِيَابِهِ هَكَذَا، فَقَالَ: مَا تَصَنَعُ؟ فَقَالَ: إِنِّي جِئْتُكُمْ فِي شَارَةٍ سَيِّئَةٍ، وَثِيَابٍ رَثَّةٍ، فَأَخْبَرْتُكُمْ أَنِّي جَائِعٌ فَمَنَعْتُمُونِي، وَإِنِّي جِئْتُكُمْ فِي شَارَةٍ حَسَنَةٍ وَثِيَابٍ حَسَنَةٍ، فَأَكْرَهْتُمُونِي وَغَلَبْتُمُونِي، وَأَبَيْتُمْ تَدْعُونِي، فَقَبَّحَكُمْ، وَقَبَّحَ مَلِكَكُمْ إِنَّمَا يَصْنَعُ مَلِكُكُمْ هَذَا الطَّعَامَ لِلدُّنْيَا، وَإِنَّهُ لَيْسَ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ خَلَاقٌ قَالَ: فَارْتَفَعَ الْمَلَكُ، وَنَزَلَ عَلَيْهِمُ الْعَذَابُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ الْقَافِلَائِيُّ، قَالَ ابْنُ عَدِيٍّ: لَا أَرَى بِحَدِيثِهِ بَأْسًا. وَقَالَ النَّسَائِيُّ: مَتْرُوكٌ.
EnglishUnverified translation
Ibn Abbas (رضي الله عنهما) reported from the Messenger of Allah ﷺ concerning boasting of forefathers who died in Jahiliyyah, with a parable of a king, his servants, and an angel. > **"Do not boast of your forefathers who died in Jahiliyyah. Shall I not inform you? The example of your forefathers who died in Jahiliyyah is like a king who built a palace by the roadside and placed food therein and appointed men over it, saying: None shall pass but shall partake of this food of mine. When a man passed in fine appearance and fine clothes they went to him, clung to him, and brought him to eat of that food. And when a man came in poor appearance and worn clothes they barred him. When that prolonged, Allah sent an angel from the angels in poor appearance and worn clothes, so he passed by them, and they rose against him and thrust him away. He said to them: I am hungry, and food is but made for the hungry. They said: The king's food is eaten only by the righteous. So they thrust him away and he departed. Then he came in a handsome form and fine clothes, passing as though not intending them, at a distance from them. So they went to him, clung to him, and said: Come, partake of the king's food. He said: I do not want it. They said: The king will not leave you if it reaches him that one like you passed and did not partake of food; it will grieve him, and we fear punishment from him will befall us. So they compelled him and brought him to the food and set the food before him, whereupon he did thus with his clothes. They said: What are you doing? He said: I came to you in poor appearance and worn clothes and told you I was hungry, yet you barred me. And I came to you in fine appearance and fine clothes, so you compelled me and overcame me and refused but to invite me. So may you be disgraced, and may your king be disgraced; your king makes this food only for the world, and he has no portion with Allah. Then the angel ascended, and punishment descended upon them."**
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اپنے ان باپ داداؤں کے حوالے سے فخر کا اظہار نہ کرو جو زمانہ جاہلیت میں مر چکے ہیں کیا میں تمہیں اس بارے میں بتاؤں تمہارے باپ دادا جو زمانہ جاہلیت میں مر چکے ہیں ان کی مثال ایک بادشاہ کی مانند ہے ، جس نے راستے میں ایک محل بنوایا اور اس میں کھانے کا انتظام کیا اور کچھ لوگوں کی یہ ذمہ داری لگائی اور یہ کہا کہ جو بھی شخص گزرے گا وہ میرے اس کھانے میں سے کھا کے جائے گا تو جو بھی شخص عمدہ حالت اور عمدہ لباس میں وہاں سے گزرتا تھا تو اس کے خادم اس کی طرف جاتے تھے اور اس کے ساتھ متعلق ہو کے اسے ساتھ لے کے آتے تھے یہاں تک کہ کھانا کھاتا تھا اسی دوران ایک شخص آیا جس کی حالت بری تھی اور کپڑے بھی برے تھے ان لوگوں نے اسے نہیں آنے دیا جب یہ بات طول پکڑ گئی تو اللہ تعالی نے ایک فرشتے کو ظاہری طور پر ایک برے حلیے اور برے لباس میں بھیجا وہ وہاں سے گزرا وہ لوگ اٹھ کے اس کی طرف گئے اور اس شخص کو پرے کر دیا اس فرشتے نے کہا : میں بھوکا ہوں اور کھانا بھوکے کے لیے ہی تیار کیا جاتا ہے ۔ انہوں نے کہا : یہ بادشاہ کا کھانا ہے اسے صرف خوشحال لوگ کھا سکتے ہیں ان لوگوں نے اس فرشتے کو پرے کر دیا پھر وہ چلا گیا پھر وہ عمدہ شکل و صورت اور عمدہ لباس میں آیا اور یوں گزرا کہ جیسے وہ ان کی طرف نہیں آ رہا ذرا دور ہو کے گزرا تو وہ ملازمین اس کی طرف گئے اس کے پاس پہنچے اور کہا کہ تم آؤ اور بادشاہ کے کھانے میں سے کھاؤ اس نے کہا : میں وہ نہیں لینا چاہتا خادم نے کہا : اگر بادشاہ کو اطلاع مل گئی تو وہ تمہیں نہیں چھوڑے گا کہ تمہارے جیسا آدمی یوں ہی گزر گیا اور اس نے کھانا ہی نہیں کھایا یہ بات بادشاہ پر گراں گزرے گی تو ہمیں یہ اندیشہ ہے کہ ہمیں بادشاہ کی طرف سے سزا کا سامنا کرنا پڑے گا ان لوگوں نے اس فرشتے کو مجبور کیا اور وہ اس فرشتے کو ساتھ لے کر کھانے کے پاس آ گئے ۔ انہوں نے کھانے کو اس کے آگے رکھا تو فرشتے نے کھانا اپنے کپڑے میں ڈالنا شروع کر دیا ملازم نے دریافت کیا : تم کیا کر رہے ہو ؟ فرشتے نے کہا : میں برے حال اور برے کپڑے میں تمہارے پاس آیا اور میں نے تمہیں بتایا کہ میں بھوکا ہوں تو اس وقت تم نے مجھے کھانے کے لئے نہیں دیا اور جب میں عمدہ حالت اور عمدہ لباس میں تمہارے پاس آیا ہوں تو تم نے میرے ساتھ زبردستی کی اور مجھ پر غالب آ گئے اور تم نے مجھے چھوڑا ہی نہیں تو اللہ تعالیٰ تمہیں قبیح کرے اور تمہارے بادشاہ کو بھی قبیح کرے تمہارے بادشاہ نے یہ کھانا دنیا کے لئے بنایا ہے ۔ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اس کا کوئی حصہ نہیں ہے راوی بیان کرتے ہیں : ( یا نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں : ) پھر وہ فرشتہ اوپر چلا گیا اور ان لوگوں پر عذاب نازل ہوا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی سلیمان قافلائی ہے ۔ ابن عدی کہتے ہیں : میں نے اس کی حدیث میں کوئی حرج نہیں دیکھا ہے امام نسائی فرماتے ہیں : وہ متروک ہے ۔