وَعَنْ أَبِي رَافِعٍ قَالَ: «جَاءَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ يَسْتَأْذِنُ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَذِنَ لَهُ فَأَبْطَأَ عَلَيْهِ فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رِدَاءَهُ، فَقَامَ إِلَيْهِ، وَهُوَ قَائِمٌ فِي الْبَابِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" قَدْ أَذِنَّا لَكَ "". قَالَ: "" أَجَلْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَلَكِنَّا لَا نَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ، وَلَا صُورَةٌ "". فَوَجَدُوا جِرْوًا فِي بَعْضِ بُيُوتِهِمْ. قَالَ أَبُو رَافِعٍ: فَأَمَرَنِي حِينَ أَصْبَحْتُ، فَلَمْ أَدَعْ كَلْبًا إِلَّا قَتَلْتُهُ، فَإِذَا أَنَا بِامْرَأَةٍ قَاصِيَةٍ لَهَا كَلْبٌ يَنْبَحُ عَلَيْهَا، فَرَحِمْتُهَا، وَتَرَكْتُهُ، وَجِئْتُ، فَأَمَرَنِي، فَرَجَعْتُ إِلَى الْكَلْبِ، فَقَتَلْتُهُ، فَقَالَ النَّاسُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا يَحِلُّ لَنَا مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ الَّتِي أَمَرْتَ بِقَتْلِهَا؟ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: {يَسْأَلُونَكَ مَاذَا أُحِلَّ لَهُمْ قُلْ أُحِلَّ لَكُمُ الطَّيِّبَاتُ} [المائدة: 4]». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ الرَّبَذِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
EnglishUnverified translation
Abu Rafi, may Allah be pleased with him, reported that Jibril, peace be upon him, sought permission to enter upon the Prophet, peace and blessings of Allah be upon him, and was permitted, but delayed. So the Messenger took his cloak and rose to him while he stood at the door, saying permission had been given, to which he replied that they do not enter a house containing a dog or an image. Then a puppy was found in one of their houses. Abu Rafi said he was commanded in the morning and left no dog but killed it, except that he pitied a distant woman whose dog barked to guard her and left it, then returned under command and killed it. The people asked what was lawful for them of this species ordered to be killed, so Allah revealed the verse concerning lawful good things. > **"Indeed, we do not enter a house in which there is a dog, nor an image."**
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
حضرت ابورافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت جبرائیل علیہ السلام نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں اندر آنے کے لئے اجازت مانگی نبی اکرم ﷺ نے انہیں اجازت دے دی انہیں اندر آنے میں تاخیر ہوئی تو نبی اکرم ﷺ نے اپنی چادر لی اور اٹھ کر ان کی طرف چلے گئے وہ دروازے پر کھڑے ہوئے تھے نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ہم نے تمہیں اجازت دے دی تھی ۔ انہوں نے عرض کی : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! لیکن ہم کسی ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے ہیں جس میں کتا یا تصویر موجود ہو ( راوی بیان کرتے ہیں : ) تو انہوں نے نبی اکرم ﷺ کے گھر میں ایک کتے کے پلے کو پایا ۔ حضرت ابورافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے مجھے یہ حکم دیا کہ مجھے جو بھی کتا ملے میں اسے قتل کر دوں ایک عورت جو آبادی سے ہٹ کے رہتی تھی اس کا ایک کتا تھا جو اس کی حفاظت کے لئے بھونکا کرتا تھا مجھے اس عورت پر رحم آیا میں نے اس کتے کو چھوڑ دیا میں آیا تو نبی اکرم ﷺ نے مجھے حکم دیا میں کتے کی طرف واپس گیا اور میں نے اسے مار دیا لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ نے جو اس مخصوص قسم کے جانور کو مارنے سے منع کیا ہے اس میں سے ہمارے لئے کون سا حلال ہے ؟ تو اللہ تعالی نے یہ آیت نازل کی : ’’ لوگ تم سے پوچھتے ہیں کہ ان کے لئے کیا چیز حلال قرار دی گئی ہے ؟ تم یہ فرما دو ! تمہارے لئے پاکیزہ چیزیں حلال قرار دی گئی ہیں ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ربذی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔