Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 10 · Chapter 8

Book of Hajj

Hadith 5528–5567

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

5528

Majma al-Zawaid #5528

وَعَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ: قَامَ عَبْدُ اللَّهِ عَلَى الصَّفَا عِنْدَ صَدْعٍ فِيهِ فَقَالَ: هَاهُنَا - وَالَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ - مَقَامُ الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ الْوَلِيدِ ; وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ.

EnglishUnverified translation

Alqamah reports that Abdullah رضي الله عنه stood upon Safa at a cleft therein and swore by Him besides whom there is no god that there stood the station of the one upon whom Surah al-Baqarah was revealed ﷺ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

علقمہ بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ صفا پہاڑ میں موجود ایک پہاڑی پر اس میں موجود ایک شگاف میں کھڑے ہوئے تھے ‘ انہوں نے فرمایا : اس ذات کی قسم ! جس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ‘ یہاں اس مقام پر نبی اکرم ﷺ پر سورہ بقرہ نازل ہوئی تھی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یزید بن ولید ہے میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔

5529

Majma al-Zawaid #5529

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ مِنَ الْمَسْجِدِ إِلَى الصَّفَا مِنْ بَابِ بَنِي مَخْزُومٍ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَبُو الْقَاسِمِ الْعُمَرِيُّ قَالَ أَحْمَدُ: كَانَ كَذَّابًا.

EnglishUnverified translation

Ibn Umar رضي الله عنهما reports that the Messenger of Allah ﷺ went out from the mosque toward Safa through the gate of Banu Makhzum.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ باب بنو مخزوم کی طرف سے مسجد میں سے نکل کر صفا پہاڑی کی طرف گئے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن عبداللہ ابوالقاسم عمری ہے امام احمد کہتے ہیں وہ کذاب ہے ۔

5530

Majma al-Zawaid #5530

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَتِ الْأَنْصَارُ: إِنَّ السَّعْيَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ مِنْ أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ. فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ حَفْصُ بْنُ جُمَيْعٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما reports that the Ansar رضي الله عنهم deemed sa'y between Safa and Marwa a matter of Jahiliyya, whereupon Allah عزوجل revealed that Safa and Marwa are among the symbols of Allah, so whoever performs Hajj to the House or Umrah bears no sin in circumambulating them. > **"Indeed Safa and Marwa are among the symbols of Allah, so whoever performs Hajj to the House or Umrah, there is no sin upon him in circumambulating them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : انصار نے کہا صفا اور مروہ کے درمیان سعی کرنا زمانہ جاہلیت کا کام ہے ‘ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : ’’ بے شک صفا اور مروہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ہیں جو شخص بیت اللہ کا حج کرتا ہے یا عمرہ کرتا ہے ‘ تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہو گا اگر وہ ان دونوں کا طواف کرتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی حفص بن جمیع ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

5531

Majma al-Zawaid #5531

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا مُنَفَّلَةً، فَمَنْ تَرَكَ فَلَا بَأْسَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَنْصَارِيُّ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما explains concerning circumambulation of Safa and Marwa that it is voluntary with no sin upon its performer, and no harm upon whoever leaves it.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : اس پر کوئی گناہ نہیں ہو گا اگر وہ نفلی طور پر ان دونوں کا طواف کر لیتا ہے اور اگر کوئی اسے ترک کر دے تو کوئی حرج بھی نہیں ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عباس بن فضل انصاری ہے اور وہ متروک ہے ۔

5532

Majma al-Zawaid #5532

وَعَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ قَالَ: «قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: يَزْعُمُ قَوْمُكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَعَى بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَأَنَّ ذَلِكَ سُنَّةٌ؟ قَالَ: صَدَقُوا إِنَّ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ لَمَّا أُمِرَ بِالْمَنَاسِكِ اعْتَرَضَ عَلَيْهِ الشَّيْطَانُ عِنْدَ الْمَسْعَى فَسَابَقَهُ فَسَبَقَهُ إِبْرَاهِيمُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ - يَأْتِي فِي رَمْيِ الْجِمَارِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ -، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abu al-Tufayl reports asking Ibn Abbas رضي الله عنهما whether his people truthfully claim the Messenger of Allah ﷺ performed sa'y between Safa and Marwa as a Sunnah. Ibn Abbas confirmed their truthfulness, explaining that when Ibrahim عليه السلام was commanded the rites, Satan confronted him at the place of sa'y and raced him, but Ibrahim outran him.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوطفیل بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا آپ کی قوم کا یہ کہنا ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے صفا اور مروہ کے درمیان سعی کی تھی اور یہ چیز سنت ہے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا انہوں نے ٹھیک کہا ہے جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کو مناسک کا حکم دیا گیا تو سعی والی جگہ پر شیطان ان کے سامنے آیا اس نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ دوڑ لگانے کی کوشش کی ‘ تو حضرت ابراہیم علیہ السلام اس سے سبقت لے گئے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے ایک طویل حدیث کے ضمن میں نقل کی ہے ‘ جو آگے چل کر جمرات کو کنکریاں مارنے سے متعلق باب میں آئے گی اگر اللہ نے چاہا اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

5533

Majma al-Zawaid #5533

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا سَعَى فِي بَطْنِ الْمَسِيلِ قَالَ: "" اللَّهُمَّ اغْفِرْ وَارْحَمْ وَأَنْتَ الْأَعَزُّ الْأَكْرَمُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ، وَهُوَ ثِقَةٌ وَلَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Mas'ud رضي الله عنه reports that when the Prophet ﷺ hastened in the belly of the valley he supplicated for forgiveness and mercy through the Mightiest and Most Noble. > **"O Allah, forgive and have mercy, and You are the Mightiest, Most Noble."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم ﷺ وادی کے نشیبی حصے میں سعی کر رہے تھے تو آپ یہ دعا کر رہے تھے : ’’ اے اللہ ! تو مغفرت کر دے اور تو رحم کر دے بے شک تو سب سے زیادہ غلبے والا اور سب سے زیادہ معزز ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے اور وہ ثقہ ہے لیکن وہ تدلیس کرنے والا ہے ۔

5534

Majma al-Zawaid #5534

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ طَارِقِ بْنِ عَلْقَمَةَ عَنْ عَمِّهِ «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا جَاءَ مَكَانًا مِنْ دَارِ يَعْلَى - نَسَبَهُ عُبَيْدُ اللَّهِ - اسْتَقْبَلَ الْبَيْتَ فَدَعَا». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرَوَاهُ أَيْضًا عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ طَارِقٍ عَنْ أَبِيهِ. وَرَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَغَيْرُهُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ طَارِقٍ عَنْ أُمِّهِ. وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ هَذَا لَمْ أَجِدْ مَنْ وَثَّقَهُ وَلَا جَرَّحَهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abdur Rahman ibn Tariq ibn Alqamah reports from his uncle that when the Prophet ﷺ reached a place in the abode of Ya'la he faced the House and supplicated.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبدالرحمن بن طارق بن علقمہ نے اپنے چچا کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے کہ جب نبی اکرم ﷺ دارابویعلی میں ایک مخصوص مقام پر پہنچے عبیداللہ نامی راوی نے اس کی نسبت بیان کی ہے ( کہ وہ کون سی جگہ تھی ) تو آپ نے بیت اللہ کی طرف رخ کیا اور دعا کی ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ انہوں نے اسے عبدالرحمن بن عبداللہ بن طارق کے حوالے سے ان کے والد سے بھی نقل کیا ہے ۔ امام ابوداؤد اور دیگر حضرات نے اسے عبدالرحمن بن طارق کے حوالے سے ان کی والدہ سے نقل کیا ہے عبدالرحمن نامی اس راوی کے بارے میں ‘ میں نے کسی کو نہیں پایا کہ کسی نے اس کی توثیق کی ہو یا اس پر جرح کی ہو اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

5535

Majma al-Zawaid #5535

عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الثَّقَفِيِّ قَالَ: شَهِدْتُ خُطْبَةَ ابْنِ الزُّبَيْرِ بِالْمَوْسِمِ قَالَ: مَا شَعَرْنَا حَتَّى خَرَجَ - عَلَيْنَا قَبْلَ يَوْمِ التَّرْوِيَةِ بِيَوْمٍ، وَهُوَ مُحْرِمٌ - رَجُلٌ كَهَيْئَةِ كَهْلٍ جَمِيلٍ، فَأَقْبَلَ فَقَالُوا: هَذَا - يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ - فَرَقِيَ الْمِنْبَرَ وَعَلَيْهِ ثَوْبَانِ أَبْيَضَانِ، ثُمَّ سَلَّمَ عَلَيْهِمْ فَرَدُّوا عَلَيْهِ السَّلَامَ ثُمَّ لَبَّى بِأَحْسَنِ تَلْبِيَةٍ سَمِعْتُهَا قَطُّ، ثُمَّ حَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: أَمَّا بَعْدُ، فَإِنَّكُمْ جِئْتُمْ مِنْ آفَاقٍ شَتَّى وُفُودًا عَلَى اللَّهِ تَعَالَى فَحَقٌّ عَلَى اللَّهِ أَنْ يُكْرِمَ وَفْدَهُ، فَمَنْ جَاءَ يَطْلُبُ مَا عِنْدَ اللَّهِ فَإِنَّ طَالِبَ اللَّهِ لَا يَخِيبُ، فَصَدِّقُوا قَوْلَكُمْ بِفِعْلٍ، فَإِنَّ مِلَاكَ الْقَوْلِ الْفِعْلُ وَالنِّيَّةَ النِّيَّةَ الْقُلُوبَ، اللَّهَ اللَّهَ فِي أَيَّامِكُمْ هَذِهِ فَإِنَّهَا أَيَّامٌ يُغْفَرُ فِيهَا الذُّنُوبُ، جِئْتُمْ مِنْ آفَاقٍ شَتَّى فِي غَيْرِ تِجَارَةٍ وَلَا طَلَبِ مَالٍ وَلَا دُنْيَا تَرْجُونَ هَاهُنَا. ثُمَّ لَبَّى وَلَبَّى النَّاسُ وَتَكَلَّمَ بِكَلَامٍ كَثِيرٍ. ثُمَّ قَالَ: أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ فِي كِتَابِهِ: {الْحَجُّ أَشْهُرٌ مَعْلُومَاتٌ} [البقرة: 197] قَالَ: وَهِيَ ثَلَاثَةُ أَشْهُرٍ: شَوَّالٌ وَذُو الْقَعْدَةِ وَعَشْرٌ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ (فَمَنْ فَرَضَ فِيهِنَّ الْحَجَّ فَلَا رَفَثَ) لَا جِمَاعَ (وَلَا فُسُوقَ) لَا سِبَابَ (وَلَا جِدَالَ) لَا مِرَاءَ (وَمَا تَفْعَلُوا مِنْ خَيْرٍ يَعْلَمْهُ اللَّهُ وَتَزَوَّدُوا فَإِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوَى). وَقَالَ عَزَّ وَجَلَّ: {لَا جُنَاحٌ عَلَيْكُمْ (أَنْ تَبْتَغُوا فَضْلًا مِنْ رَبِّكُمْ)} [البقرة: 198] فَأَحَلَّ لَهُمُ التِّجَارَةَ. ثُمَّ قَالَ: {فَإِذَا أَفَضْتُمْ مِنْ عَرَفَاتٍ} [البقرة: 198]، وَهُوَ الْمَوْقِفُ الَّذِي يَقِفُونَ عِنْدَهُ حَتَّى تَغِيبَ الشَّمْسُ، ثُمَّ يُفِيضُونَ مِنْهُ: {فَاذْكُرُوا اللَّهَ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ} [البقرة: 198] قَالَ: وَهِيَ الْجِبَالُ الَّتِي يَقِفُونَ عِنْدَ الْمُزْدَلِفَةَ فَاذْكُرُوهُ كَمَا هَدَاكُمْ قَالَ: لَيْسَ هَذَا يَوْمُ، هَذَا لِأَهْلِ الْبَلَدِ كَانُوا يُفِيضُونَ مِنْ جَمْعٍ، وَيُفِيضُ النَّاسُ مِنْ عَرَفَاتٍ، فَأَبَى اللَّهُ لَهُمْ ذَلِكَ فَأَنْزَلَ: {ثُمَّ أَفِيضُوا مِنْ حَيْثُ أَفَاضَ النَّاسُ} [البقرة: 199] إِلَى (مَنَاسِكِكُمْ). قَالُوا: وَكَانُوا إِذَا فَرَغُوا مِنْ حَجَّتِهِمْ تَفَاخَرُوا بِالْآبَاءِ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِعَامٍّ: {فَاذْكُرُوا اللَّهَ كَذِكْرِكُمْ آبَاءَكُمْ أَوْ أَشَدَّ ذِكْرًا فَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَقُولُ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا وَمَا لَهُ فِي الْآخِرَةِ مِنْ خَلَاقٍ - وَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ} [البقرة: 200 - 201] قَالَ: يَعْمَلُونَ فِي دُنْيَاهُمْ لِآخِرَتِهِمْ زِمَّتَهُمْ وَدُنْيَاهُمْ. قَالَ: ثُمَّ قَرَأَ حَتَّى بَلَغَ {وَاذْكُرُوا اللَّهَ فِي أَيَّامٍ مَعْدُودَاتٍ} [البقرة: 203]، قَالَ: وَهِيَ أَيَّامُ التَّشْرِيقِ فَذِكْرُ اللَّهِ فِيهِنَّ بِتَسْبِيحٍ وَتَحْمِيدٍ وَتَهْلِيلٍ وَتَكْبِيرٍ وَتَمْجِيدٍ. قَالَ: ثُمَّ ذَكَرَ مَهَلَّ النَّاسِ. قَالَ: مَهَلُّ أَهْلِ الْمَدِينَةِ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ، وَمَهَلُّ أَهْلِ الْعِرَاقِ مِنَ الْعَقِيقِ، وَمَهَلُّ أَهْلِ نَجْدٍ وَأَهْلِ الطَّائِفِ مِنْ قَرْنٍ، وَأَهْلِ الْيَمَنِ مَنْ يَلَمْلَمَ. قَالَ: ثُمَّ دَعَا عَلَى كَفَرَةِ أَهْلِ الْكِتَابِ فَقَالَ: اللَّهُمَّ عَذِّبْ كَفَرَةَ أَهْلِ الْكِتَابِ الَّذِينَ يَجْحَدُونَ بِآيَاتِكَ وَيُكَذِّبُونَ رُسُلَكَ وَيَصُدُّونَ عَنْ سَبِيلِكَ اللَّهُمَّ عَذِّبْهُمْ، وَاجْعَلْ قُلُوبَهُمْ قُلُوبَ نِسَاءٍ فَوَاجِرَ - فِي دُعَاءٍ كَثِيرٍ - ثُمَّ قَالَ: إِنَّ هَاهُنَا رِجَالًا قَدْ أَعْمَى اللَّهُ قُلُوبَهُمْ كَمَا أَعْمَى أَبْصَارَهُمْ يُفْتُونَ بِالْمُتْعَةِ بِأَنْ يَقْدِمَ الرَّجُلُ مِنْ خُرَاسَانَ مُهِلًّا بِالْحَجِّ حَتَّى إِذَا قَدِمَ قَالُوا: أَحِلَّ مِنْ حَجِّكَ بِعُمْرَةٍ ثُمَّ أَهِلَّ بِحَجٍّ مِنْ هَاهُنَا وَاللَّهِ مَا كَانَتِ الْمُتْعَةُ إِلَّا لِمُحْصَرٍ، ثُمَّ لَبَّى وَلَبَّى النَّاسُ، فَمَا رَأَيْتُ يَوْمًا قَطُّ كَانَ أَكْثَرَ بَاكِيًا مِنْ يَوْمِئِذٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ سَعِيدُ بْنُ الْمَرْزُبَانِ، وَقَدْ وُثِّقَ، وَفِيهِ كَلَامٌ كَثِيرٌ، وَفِيهِ غَيْرُهُ مِمَّنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Muhammad ibn Abdullah al-Thaqafi reports attending the sermon of Ibn al-Zubayr رضي الله عنهما at the season one day before Tarwiya while in ihram, appearing as a handsome middle-aged man in two white garments. He ascended the minbar, greeted the people who returned his greeting, recited the finest talbiyah ever heard, praised Allah and extolled Him, then addressed the pilgrims come as delegations to Allah from distant horizons, affirming Allah's honoring of His delegation, the unfailing hope of seekers of what is with Allah, confirmation of words by deeds, care for intention and hearts, and fear of Allah in these days of forgiveness, undertaken neither for trade, wealth nor worldly gain. He repeated talbiyah with the people and spoke at length, then expounded the known months of Hajj as Shawwal, Dhu al-Qa'dah and ten of Dhu al-Hijjah, with no intercourse, no abuse and no disputing therein, Allah's knowledge of all good, provision of piety as the best provision, permissibility of seeking bounty through trade, the standing at Arafat until sunset followed by pouring forth, and remembrance of Allah at the Sacred Monument of Muzdalifa as He guided them.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

محمد بن عبداللہ ثقفی بیان کرتے ہیں : حج کے موقع پر میں حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کے خطبہ میں موجود تھا راوی بیان کرتے ہیں : ہمیں پتہ نہیں چلا وہ ترویہ کے دن سے ایک دن پہلے ہمارے پاس تشریف لائے ۔ انہوں نے احرام باندھا ہوا تھا اور وہ خوبصورت ادھیڑ عمر شخص تھے وہ تشریف لائے تو لوگوں نے کہا : اے امیرالمومنین ! وہ منبر پر چڑھے ۔ انہوں نے دو سفید کپڑے پہنے ہوئے تھے ۔ انہوں نے لوگوں کو سلام کیا لوگوں نے انہیں سلام کا جواب دیا پھر انہوں نے تلبیہ پڑھا تو میں نے وہ سب سے زیادہ خوبصورت تلبیہ سنا تھا پھر اس کے بعد انہوں نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی پھر یہ ارشاد فرمایا : اما بعد : تم لوگ دور دراز کے علاقوں سے وفد کی شکل میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے ہو ‘ تو یہ بات اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے کہ وہ اپنے مہمانوں کی عزت افزائی کرے جو شخص اس چیز کو حاصل کرنے کے لئے آیا ہے ‘ جو اللہ تعالیٰ کے پاس موجود ہے ‘ تو اللہ تعالی سے کوئی چیز مانگنے والا رسوائی کا شکار نہیں ہوتا تم فعل کے ذریعے اپنے قول کی تصدیق کرو کیونکہ قول کی اصل فعل ہے اور نیت کا دھیان رکھو اور نیت کا دھیان رکھو دل کا دھیان رکھو اپنے ان دنوں کے بارے میں اللہ سے ڈرتے رہو اللہ سے ڈرتے رہو کیونکہ یہ ایسے دن ہیں جن میں گناہوں کی مغفرت ہو جاتی ہے تم مختلف علاقوں سے آئے ہو اور کسی تجارت کے سلسلے میں یا مال حاصل کرنے کے لئے یا دنیا کے حصول کے لئے یہاں نہیں آئے ہو پھر انہوں نے تلبیہ پڑھا اور لوگوں نے بھی تلبیہ پڑھا پھر انہوں نے بہت سا کلام کیا پھر انہوں نے یہ بات ارشاد فرمائی : اما بعد ! بے شک اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں یہ ارشاد فرمایا ہے : ’’ حج کے متعین مہینے ہیں ‘‘۔ تو یہ تین مہینے ہیں شوال ، ذوالقعدہ اور ذوالج کے دس دن جو شخص ان میں حج کو فرض قرار دیدے اور رفث نہ کرے ( یعنی صحبت نہ کرے ) اور فسوق نہ کرے یعنی گالی گلوچ نہ کرے اور جدال نہ کرے یعنی جھگڑا نہ کرے اور تم زاد سفر اختیار کرو بے شک سب سے بہتر زاد سفر تقویٰ ہے اللہ تعالیٰ نے یہ بھی ارشاد فرمایا ہے تم پر کوئی گناہ نہیں ہو گا اگر تم اللہ تعالیٰ کا فضل تلاش کرتے ہو ‘ تو اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے لئے تجارت کو حلال قرار دیا ہے پھر انہوں نے یہ آیت پڑھی : ’’ جب تم عمرفات سے واپس جاؤ ‘‘۔ یہ وقوف کی جگہ ہے ، جس کے پاس لوگ اس وقت تک ٹھہرے رہیں گے جب تک سورج غروب نہیں ہو جاتا پھر وہ وہاں سے روانہ ہو جائیں گے تو تم لوگ مشعر حرام کے نزدیک اللہ تعالیٰ کا ذکر کرو حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے فرمایا اس سے مراد وہ پہاڑ ہیں کہ مزدلفہ کے پاس جس کے پاس لوگ وقوف کرتے ہیں تو تم اس کا اس طرح ذکر کرو جس طرح اس نے تمہیں ہدایت کی ہے ۔ انہوں نے فرمایا : یہ دن وہ نہیں ہے یہ شہر والوں کے لئے جو مزدلفہ سے واپس آ جاتے تھے اور باقی لوگ عرفات سے واپس آیا کرتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے ہے اس چیز کو باقی نہیں رکھا اور یہ آیت نازل کی : ’’ پھر تم وہاں سے واپس آؤ جہاں سے لوگ واپس آتے ہیں ‘‘۔ یہ آیت یہاں تک ہے : ” تمہارے مناسک “۔ لوگ جب حج سے فارغ ہوتے تھے تو اپنے آباء اجداد پر فخر کا اظہار کرتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی تم اللہ تعالیٰ کا یوں ذکر کرو جس طرح تم اپنے باپ دادا کا ذکر کرتے ہو یا اس سے بھی زیادہ اس کا ذکر کرو لوگوں میں سے کچھ لوگ وہ ہیں جو یہ کہتے ہیں : اے ہمارے پروردگار تو ہمیں دنیا عطا کر دے تو ایسے شخص کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہو گا اور ان میں سے کوئی یہ کہتا ہے : اے ہمارے پروردگار تو ہمیں دنیا میں بھی بھلائی عطا فرما اور آخرت میں بھی بھلائی عطا فرما اور تو ہمیں آخرت کے عذاب سے بچا لے ‘‘۔ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے فرمایا وہ لوگ دنیا میں اپنی آخرت کے لئے عمل کرتے ہیں ‘ راوی بیان کرتے ہیں : پھر انہوں نے آیت تلاوت کی یہاں تک کہ یہ آیت تلاوت کی : ’’ متعین دنوں میں ‘ اللہ تعالیٰ کا ذکر کرو ‘‘۔ انہوں نے فرمایا : اس سے مراد ایام تشریق ہیں اور ان دنوں میں اللہ تعالیٰ کا ذکر تسبیح کی شکل میں ہو گا الحمدللہ پڑھنے کی شکل میں «لا الہ الا اللہ» پڑھنے کی شکل میں اللہ اکبر پڑھنے کی شکل میں اور تمجید پڑھنے کی شکل میں ہو گا راوی بیان کرتے ہیں : اس کے بعد انہوں نے لوگوں کے مواقیت کا ذکر کیا اور فرمایا : اہل مدینہ کے لئے میقات ذوالحلیفہ ہے اہل عراق کے لئے میقات ‘ عقیق ہے ۔ اہل نجد اور اہل طائف کے لئے میقات قرن ‘ اہل یمن کے لئے یلملم ہے راوی بیان کرتے ہیں : پھر انہوں نے اہل کتاب سے تعلق رکھنے والے کافروں کے خلاف دعا کی اور یہ کہا : اے اللہ ! اہل کتاب سے تعلق رکھنے والے کافروں پر عذاب نازل فرما جنہوں نے تیری آیات کا انکار کیا تیرے رسولوں کی تکذیب کی اور وہ تیرے راستے سے روکتے ہیں اے اللہ ! تو انہیں عذاب دے اور ان لوگوں کو فاجر عورتوں کے دلوں جیسا کر دے ۔ انہوں نے اس بارے میں بہت دعا کی پھر یہ کہا یہاں کچھ لوگ ہیں جن کے دلوں کو اللہ تعالیٰ نے نابینا کر دیا ہے ، جس طرح ان کی بینائی کو ختم کیا ہے وہ حج تمتع کے بارے میں فتوی دیتے ہیں کہ کوئی شخص خراسان سے حج کا احرام باندھ کر آئے یہاں تک کہ جب وہ مکہ آ جائے تو یہ لوگ کہتے ہیں : تم اپنے حج کو عمرہ بنا کر احرام کھول دو اور پھر یہاں سے حج کا احرام باندھ لینا اللہ کی قسم حج تمتع کا حکم اس شخص کے لئے ہے ‘ جسے محصور کر دیا گیا ہو پھر انہوں نے تلبیہ پڑھا اور لوگوں نے بھی تلبیہ پڑھا راوی کہتے ہیں : میں نے اس دن سے زیادہ رونے والے افراد کبھی نہیں دیکھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی سعید بن مرزبان ہے ، جس کی توثیق کی گئی ہے اس کے بارے میں بہت زیادہ کلام کیا گیا ہے اس روایت کی سند میں اس کے علاوہ اور ایسے راوی بھی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

5536

Majma al-Zawaid #5536

«عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَحِمَهُ اللَّهُ أَنَّهُ كَانَ يَسْتَحِبُّ إِذَا اسْتَطَاعَ أَنْ يُصَلِّيَ الظُّهْرَ بِمِنًى مِنْ يَوْمَ التَّرْوِيَةِ، وَذَلِكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الظُّهْرَ يَوْمَ التَّرْوِيَةِ بِمِنًى». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Umar رضي الله عنهما held it commendable to pray Zuhr at Mina on Tarwiya day when able, because the Messenger of Allah ﷺ had prayed Zuhr at Mina on Tarwiya day.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ان کے بارے میں یہ بات منقول ہے ۔ وہ اس بات کو مستحب سمجھتے تھے کہ ترویہ کے دن اگر ان سے ہو سکے تو وہ ظہر کی نماز منی میں ادا کریں اس کی وجہ یہ تھی کہ نبی اکرم ﷺ نے ترویہ کے دن ظہر کی نماز منی میں ادا کی تھی ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

5537

Majma al-Zawaid #5537

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ يَوْمِ التَّرْوِيَةِ بِيَوْمٍ: "" مَنْزِلُنَا غَدًا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِالْخَيْفِ الْأَيْمَنِ، حَيْثُ اسْتَقْسَمَ الْمُشْرِكُونَ عَلَى الْكُفْرِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما reports the Messenger of Allah ﷺ announcing one day before Tarwiya that their morrow's abode, God willing, would be at the right side of Khayf where the polytheists had sworn upon disbelief. > **"Our abode tomorrow, God willing, shall be at the right side of Khayf, where the polytheists apportioned upon disbelief."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ترویہ سے ایک دن پہلے ارشاد فرمایا : ’’ کل اگر اللہ نے چاہا تو ہمارے پڑاؤ کی جگہ خیف ایمن میں ہو گی جہاں مشرکین نے کفر پر ثابت قدم رہنے کے لئے قسمیں اٹھائی تھیں ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

5538

Majma al-Zawaid #5538

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ: مِنْ سُنَّةِ الْحَاجِّ أَنْ يُصَلِّيَ يَوْمَ التَّرْوِيَةِ الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ وَالصُّبْحَ بِمِنًى ثُمَّ يَغْدُوَ فَيُقْبِلُ حَيْثُ كَتَبَ اللَّهُ لَهُ ثُمَّ يَرُوحُ إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ فَيَخْطُبُ النَّاسَ ثُمَّ يَنْزِلُ فَيَجْمَعُ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ ثُمَّ يَقِفُ بِعَرَفَةَ فَيَدْفَعُ إِذَا غَابَتِ الشَّمْسُ ثُمَّ يُصَلِّي الْمَغْرِبَ حَيْثُ قَدَّرَ اللَّهُ لَهُ أَنْ يُصَلِّيَ ثُمَّ يَقِفُ بِالْمُزْدَلِفَةِ فَإِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ صَلَّى الصُّبْحَ ثُمَّ يَدْفَعُ إِذَا أَصْبَحَ فَإِذَا رَمَى الْجَمْرَةَ فَقَدْ حَلَّ لَهُ مَا حَرُمَ عَلَيْهِ إِلَّا النِّسَاءَ حَتَّى يَطُوفَ بِالْبَيْتِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ كَاتِبُ اللَّيْثِ قَالَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ: ثِقَةٌ مَأْمُونٌ، وَضَعَّفَهُ الْأَئِمَّةُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn al-Zubayr رضي الله عنهما describes the Sunna of the pilgrim as praying Zuhr, Asr, Maghrib, Isha and Fajr of Tarwiya day at Mina, then proceeding as Allah decreed, addressing the people after the sun declines, alighting to join Zuhr and Asr, standing at Arafah and departing at sunset, praying Maghrib where Allah decreed, standing at Muzdalifa and praying Fajr at dawn, departing in the morning, and becoming lawful in all prohibitions except women after stoning the Jamrah until performing tawaf of the House.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : حاجی کے لئے سنت یہ ہے کہ وہ ترویہ کے ظہر ، عصر ، مغرب اور عشاء اور صبح کی نمازیں منیٰ میں ادا کرے پھر وہ روانہ ہو جائے اور وہاں آئے جہاں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے لازم قرار دیا ہے پھر جب سورج ڈھل جائے تو وہ روانہ ہو اور لوگوں کو خطبہ دے پھر وہ پڑاؤ کرے اور دو نمازیں ظہر اور عصر ایک ساتھ ادا کرے پھر وہ عرفہ میں وقوف کرے جب سورج غروب ہو جائے تو وہاں سے روانہ ہو ‘ پھر وہ مغرب کی نماز وہاں ادا کرے جہاں اللہ نے اس کے نصیب میں لکھا ہو کہ وہ نماز ادا کرے پھر وہ مزدلفہ میں وقوف کرے پھر جب صبح صادق ہو جائے تو وہ صبح کی نماز ادا کرے اور پھر روانہ ہو جائے جب صبح ہو جائے تو جب وہ جمرات کو کنکریاں مار لے گا تو اس کے لئے ہر چیز حلال ہو جائے گی جو اس پر حرام تھی ‘ البتہ خواتین کا معاملہ اس تک حلال نہیں ہو گا جب تک وہ بیت اللہ کا طواف نہیں کر لیتا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن صالح ہے ‘ جو لیث کا کاتب ہے عبدالملک بن شعیب بن لیث کہتے ہیں : یہ ثقہ اور مامون ہے ائمہ یعنی امام احمد اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔

5539

Majma al-Zawaid #5539

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: أَفَاضَ جِبْرِيلُ بِإِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِمَا السَّلَامُ إِلَى مِنًى فَصَلَّى بِهِ الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ وَالصُّبْحَ. ثُمَّ غَدَا مِنْ مِنًى إِلَى عَرَفَاتٍ فَصَلَّى بِهِ الصَّلَاتَيْنِ ثُمَّ وَقَفَ حَتَّى غَابَتِ الشَّمْسُ، ثُمَّ أَتَى بِهِ الْمُزْدَلِفَةَ فَنَزَلَ بِهَا فَبَاتَ بِهَا، ثُمَّ قَالَ: فَصَلَّى كَأَعْجَلِ مَا يُصَلِّي أَحَدٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، ثُمَّ دَفَعَ بِهِ إِلَى مِنًى فَرَمَى وَذَبَحَ وَحَلَقَ. ثُمَّ أَوْحَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنِ اتَّبِعْ مِلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ بِأَسَانِيدَ، وَرِجَالُ بَعْضِهَا رِجَالُ الصَّحِيحِ. وَفِي بَعْضِ طُرُقِهَا: أَتَى رَجُلٌ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو فَقَالَ: إِنِّي مُضْعَفٌ مِنَ الْحُمُولَةِ مُضْعَفٌ مِنْ أَهْلٍ، أَفَتَرَى لِي أَنْ أَتَعَجَّلَ؟ فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو: قَدِمَ إِبْرَاهِيمُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَطَافَ بِالْبَيْتِ وَطَافَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ رَاحَ فَصَلَّى الظُّهْرَ بِمِنًى. فَذَكَرَ نَحْوَهُ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Amr رضي الله عنهما reports that Jibril عليه السلام brought Ibrahim عليه السلام to Mina where he prayed Zuhr, Asr, Maghrib, Isha and Fajr, then to Arafat where he joined two prayers and stood until sunset, then to Muzdalifa where he lodged the night and prayed with the utmost haste of any Muslim, then to Mina where he stoned, sacrificed and shaved. Allah عزوجل then revealed to Muhammad ﷺ to follow the upright religion of Ibrahim who was not among the polytheists. In another version a weakened man of mounts and family asked about hastening, and Abdullah recounted Ibrahim's tawaf of the House, sa'y between Safa and Marwa, and Zuhr at Mina in like manner.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : حضرت جبرائیل علیہ السلام ‘ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو لے کر منی کی طرف روانہ ہوئے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے وہاں ظہر ، عصر ، مغرب اور عشاء اور صبح کی نمازیں ادا کیں پھر وہ منی سے عرفات کی طرف روانہ ہوئے اور وہاں ۔ انہوں نے دو نمازیں ادا کیں پھر وہ وقوف کیے رہے یہاں تک کہ جب سورج غروب ہو گیا تو وہ انہیں لے کر مزدلفہ آئے ۔ انہوں نے وہاں پڑاؤ کیا اور رات وہاں بسر کی پھر انہوں نے یہ بات بیان کی کہ انہوں نے اس طرح نماز ادا کی کہ جس طرح کوئی بھی مسلمان سب سے زیادہ جلدی ادا کر سکتا ہے پھر وہ وہاں سے منیٰ کی طرف روانہ ہوئے ۔ انہوں نے رمی کی ( جانور ) ذبح کیا اور سر مونڈوایا پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد ﷺ کی طرف یہ بات وحی کی کہ تم ابراہیم کے طریقے کی پیروی کرو جو صحیح طریقے کی پیروی کرنے والا تھا اور وہ مشرک نہیں تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے جن میں سے بعض کے رجال صحیح کے رجال ہیں اور اس کے بعض طرق میں یہ بات مذکور ہے ایک شخص حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور بولا میں اپنی سواری کے حوالے سے بھی کمزور ہوں اور اہل خانہ کے حوالے سے بھی کمزور ہوں تو کیا آپ میرے بارے میں یہ سمجھتے ہیں کہ میں جلدی چلا جاؤں ؟ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا حضرت ابراہیم علیہ السلام تشریف لائے انہوں نے بیت اللہ کا طواف کیا صفا و مروہ کی سعی کی پھر وہ روانہ ہوئے ۔ انہوں نے ظہر کی نماز منی میں ادا کی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کے بعد راوی نے حسب سابق روایت نقل کی ۔

5540

Majma al-Zawaid #5540

عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «كُلُّ عَرَفَاتٍ مَوْقِفٌ وَارْفَعُوا عَنْ بَطْنِ عُرَنَةَ، وَكُلُّ مُزْدَلِفَةَ مَوْقِفٌ وَارْفَعُوا عَنْ مُحَسِّرٍ، وَكُلُّ فِجَاجِ مِنًى مَنْحَرٌ، وَكُلُّ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ ذَبْحٌ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: "" «وَكُلُّ فِجَاجِ مَكَّةَ مَنْحَرٌ» "". وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.

EnglishUnverified translation

Jubayr ibn Mut'im رضي الله عنه reports from the Prophet ﷺ that all of Arafat is a standing place apart from the belly of Uranah, all of Muzdalifa is a standing place apart from Muhassir, all the passes of Mina are slaughter places, and all the days of Tashriq are for slaughter, with a variant naming all the passes of Makkah as slaughter places. > **"All of Arafat is a standing place, but keep above the belly of Uranah. All of Muzdalifa is a standing place, but keep above Muhassir. All the passes of Mina are slaughter places, and all the days of Tashriq are for slaughter."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ پورا عرفات وقوف کی جگہ ہے البتہ تم عرنہ کے نشیبی حصے سے اوپر رہو اور سارا مزدلفہ وقوف کی جگہ ہے البتہ تم محسر سے اوپر رہو منی کا ہر راستہ قربانی کی جگہ ہے اور تمام ایام تشریق ذبح کے دن ہیں ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے امام بزار نے اور طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ’’ مکہ کا ہر راستہ قربانی کی جگہ ہے ‘‘۔ اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

5541

Majma al-Zawaid #5541

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «عَرَفَةُ كُلُّهَا مَوْقِفٌ، وَمِنًى كُلُّهَا مَنْحَرٌ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما reports from the Prophet ﷺ that all of Arafah is a standing place and all of Mina is a slaughter place. > **"All of Arafah is a standing place, and all of Mina is a slaughter place."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں :’’ پورا عرفہ وقوف کی جگہ ہے منی پورا قربانی کی جگہ ہے ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

5542

Majma al-Zawaid #5542

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كُلُّ مُزْدَلِفَةَ مَشْعَرٌ، وَارْتَفِعُوا عَنْ بَطْنِ عُرَنَةَ، وَكُلُّ عَرَفَاتٍ مَوْقِفٌ وَارْتَفِعُوا عَنْ وَادِ مُحَسِّرٍ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ الْجُعْفِيٌّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَقَدْ وُثِّقَ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما reports the Messenger of Allah ﷺ declaring all of Muzdalifa a sacred monument while keeping above the belly of Uranah, and all of Arafat a standing place while keeping above the valley of Muhassir. > **"All of Muzdalifa is a sacred monument, but keep above the belly of Uranah. All of Arafat is a standing place, but keep above the valley of Muhassir."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ پورا مزدلفہ مشعر ہے البتہ تم عرنہ کے نشیبی حصے سے اوپر رہو اور پورا عرفات وقوف کی جگہ ہے البتہ تم محسر کی وادی سے اوپر رہو ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن جابر جعفی ہے اور وہ ضعیف ہے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔

5543

Majma al-Zawaid #5543

وَعَنْ مُجَاهِدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا قَالَ -: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْحَجُّ عَرَفَاتٍ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ خَصِيفٌ، وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ، وَضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ.

EnglishUnverified translation

Mujahid reports from Ibn Abbas رضي الله عنهما, as conveying from the Prophet ﷺ, that Hajj is Arafat. > **"Hajj is Arafat."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

مجاہد نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے اور میرے علم کے مطابق انہوں نے اسے نبی اکرم ﷺ سے روایت کیا ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ حج عرفات ( میں وقوف ) کا نام ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی خصیف ہے ‘ جسے یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے امام احمد اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا ہے ۔

5544

Majma al-Zawaid #5544

وَعَنْ رَبِيعَةَ بْنِ عَبَّادٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: «رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاقِفًا مَعَ الْمُشْرِكِينَ بِعَرَفَاتٍ، ثُمَّ رَأَيْتُهُ بَعْدَمَا بُعِثَ وَاقِفًا فِي مَوْقِفِهِ ذَلِكَ، فَعَلِمْتُ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَفَّقَهُ لِذَلِكَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، وَهُوَ ثِقَةٌ، وَلَكِنَّهُ اخْتَلَطَ.

EnglishUnverified translation

Rabi'ah ibn Abbad reports from his father that he saw the Messenger of Allah ﷺ standing with the polytheists at Arafat before his mission, then saw him after his mission standing in that same station, and thus knew Allah عزوجل had guided him thereto.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ربیعہ بن عباد نے اپنے والد کا یہ بیان نقل کیا ہے میں نے نبی اکرم ﷺ کو عرفات میں مشرکین کے ساتھ وقوف کیے ہوئے دیکھا آپ کے مبعوث ہونے کے بعد بھی میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ نے اسی وقوف کی جگہ پر وقوف کیا ہوا تھا تو اس سے مجھے پتہ چل گیا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس کی توفیق دی تھی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے اور وہ ثقہ ہے لیکن وہ اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔

5545

Majma al-Zawaid #5545

وَعَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ قَيْسٍ الْعَبْدِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ: «كَانَ فُلَانٌ رِدْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عَرَفَةَ فَجَعَلَ الْفَتَى يُلَاحِظُ النِّسَاءَ وَيَنْظُرُ إِلَيْهِنَّ قَالَ: وَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْرِفُ وَجْهَهُ بِيَدِهِ مِنْ خَلْفِهِ مِرَارًا، قَالَ: وَجَعَلَ الْفَتَى يُلَاحِظُ إِلَيْهِنَّ، قَالَ: فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" ابْنَ أَخِي إِنَّ هَذَا يَوْمٌ مَنْ مَلَكَ فِيهِ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ وَلِسَانَهُ غُفِرَ لَهُ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَقَالَ: كَانَ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ رَدِيفَ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abdul Aziz ibn Qays al-Abdi reports hearing Ibn Abbas رضي الله عنهما describe a youth riding behind the Messenger of Allah ﷺ on Arafah day gazing at women. The Messenger ﷺ repeatedly turned his face away with his hand from behind while the youth kept gazing, then instructed him as his nephew that whoever controls hearing, sight and tongue on that day shall be forgiven. > **"O son of my brother, this is a day in which whoever controls his hearing, his sight and his tongue shall be forgiven."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبدالعزیز بن قیس عبدی بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو یہ کہتے ہوئے سنا عرفہ کے دن فلاں صاحب نبی اکرم ﷺ کی سواری پر پیچھے بیٹھے ہوئے تھے اس نوجوان نے خواتین کو دیکھنا شروع کر دیا اور ان کی طرف دیکھنے لگے تو نبی اکرم ﷺ نے اپنے دست مبارک کے ذریعے اپنے پیچھے سے ان کا چہرہ کئی مرتبہ دوسری طرف پھیرا لیکن وہ نوجوان خواتین کی طرف دیکھتے رہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا : اے میرے بھتیجے یہ وہ دن ہے کہ اس میں جو شخص اپنی سماعت بصارت اور زبان کو قابو میں رکھے گا اس کی مغفرت ہو جائے گی ۔ یہ روایت امام احمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے وہ فرماتے ہیں : حضرت فضل بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم ﷺ کے پیچھے بیٹھے ہوئے تھے امام احمد کے رجال ثقہ ہیں ۔

5546

Majma al-Zawaid #5546

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِي، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُبَاهِي مَلَائِكَتَهُ بِأَهْلِ عَرَفَةَ عَشِيَّةَ عَرَفَةَ فَيَقُولُ: انْظُرُوا إِلَى عِبَادِي أَتَوْنِي شُعْثًا غُبْرًا». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْكَبِيرِ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ مُوَثَّقُونَ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Amr ibn al-As رضي الله عنهما reports the Prophet ﷺ declaring that Allah عزوجل boasts to His angels of the people of Arafah on the evening of Arafah, bidding them look upon servants come disheveled and dusty. > **"Indeed Allah عزوجل boasts to His angels of the people of Arafah on the evening of Arafah, saying: Look upon My servants come to Me disheveled and dusty."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ بے شک اللہ تعالیٰ عرفہ کی شام اہل عرفہ والوں کے حوالے سے فرشتوں کے سامنے فخر کا اظہار کرتا ہے اور یہ فرماتا ہے : میرے بندوں کی طرف دیکھو یہ بکھرے ہوئے بال لے کر غبار آلود ہو کر میری بارگاہ میں آئے ہیں “۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم کبیر میں نقل کی ہے امام احمد کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

5547

Majma al-Zawaid #5547

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ يُبَاهِي الْمَلَائِكَةَ بِأَهْلِ عَرَفَاتٍ يَقُولُ: انْظُرُوا إِلَى عِبَادِي شُعْثًا غُبْرًا». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah رضي الله عنه reports the Messenger of Allah ﷺ declaring that Allah boasts to the angels of the people of Arafat, bidding them look upon disheveled dusty servants. > **"Indeed Allah boasts to the angels of the people of Arafat, saying: Look upon My servants disheveled and dusty."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ بے شک اللہ تعالیٰ عرفات والوں کے حوالے سے فرشتوں کے سامنے فخر کا اظہار کرتے ہوئے یہ فرماتا ہے : میرے بندوں کی طرف دیکھو ان کے بال بکھرے ہوئے ہیں اور وہ غبار آلود ہیں ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

5548

Majma al-Zawaid #5548

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ قَالَ لَيْلَةَ عَرَفَةَ هَذِهِ الْعَشْرَ كَلِمَاتٍ أَلْفَ مَرَّةٍ لَمْ يَسْأَلِ اللَّهَ شَيْئًا إِلَّا أَعْطَاهُ إِلَّا قَطِيعَةَ رَحِمٍ أَوْ مَأْثَمٍ: سُبْحَانَ الَّذِي فِي السَّمَاءِ عَرْشُهُ، سُبْحَانَ الَّذِي فِي الْأَرْضِ مَوْطِئُهُ، سُبْحَانَ الَّذِي فِي الْبَحْرِ سَبِيلُهُ، سُبْحَانَ الَّذِي فِي النَّارِ سُلْطَانُهُ، سُبْحَانَ الَّذِي فِي الْجَنَّةِ رَحْمَتُهُ، سُبْحَانَ الَّذِي فِي الْقُبُورِ قَضَاؤُهُ، سُبْحَانَ الَّذِي فِي الْهَوَاءِ رُوحُهُ، سُبْحَانَ الَّذِي رَفَعَ السَّمَاءَ، سُبْحَانَ الَّذِي وَضَعَ الْأَرْضَ سُبْحَانَ الَّذِي لَا مَنْجَا مِنْهُ إِلَّا إِلَيْهِ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ عَزْرَةُ بْنُ قَيْسٍ ضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Mas'ud رضي الله عنه reports from the Prophet ﷺ a promise for one who repeats ten phrases of glorification a thousand times on the eve of Arafah, that Allah grants whatever he asks except severance of kinship or sin. > **"Whoever says on the eve of Arafah these ten phrases a thousand times, he shall not ask Allah for anything but He shall give it to him, except severance of kinship or sin: Glory be to Him Whose Throne is in the heaven, glory be to Him Whose authority is in the earth, glory be to Him Whose path is in the sea, glory be to Him Whose dominion is in the Fire, glory be to Him Whose mercy is in Paradise, glory be to Him Whose decree is in the graves, glory be to Him Whose spirit is in the air, glory be to Him Who raised the heaven, glory be to Him Who spread the earth, glory be to Him from Whom there is no refuge except to Him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جو شخص عرفہ کی شام یہ کلمات ایک ہزار مرتبہ پڑھ لے گا وہ اللہ تعالیٰ سے جو بھی چیز مانگے گا اللہ تعالیٰ وہ چیز عطا کرے گا البتہ جو چیز قطع رحمی سے تعلق رکھتی ہو یا گناہ والی ہو اس کا معاملہ مختلف ہے ( وہ کلمات یہ ہیں : ) ’’ ہر عیب سے پاک ہے وہ ذات آسمان جس کا عرش ہے ہر عیب سے پاک ہے وہ ذات زمین میں جس کا حکم چلتا ہے ہر عیب سے پاک ہے وہ ذات سمندر میں جس کا راستہ ہے ہر عیب سے پاک ہے وہ ذات آگ میں جس کی حکمرانی ہے ہر عیب سے پاک ہے وہ ذات جنت میں جس کی رحمت ہے ہر عیب سے پاک ہے وہ ذات قبروں میں جس کا فیصلہ نافذ ہے ہر عیب سے پاک ہے وہ ذات ہوا میں جس کی روح ہے ہر عیب سے پاک ہے وہ ذات جس نے آسمان کو بلند کیا ہے ہر عیب سے پاک ہے وہ ذات جس نے زمین کو بچھایا ہے ہر عیب سے پاک ہے وہ ذات جس کے مقابلے میں اس کے علاوہ کوئی جائے نجات نہیں ہے ‘‘۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عزرہ بن قیس ہے ‘ جسے یحیی بن معین نے ضعیف قرار دیا ہے ۔

5549

Majma al-Zawaid #5549

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «كَانَ فِيمَا دَعَا بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ: "" اللَّهُمَّ إِنَّكَ تَسْمَعُ كَلَامِي وَتَرَى مَكَانِي وَتَعْلَمُ سِرِّي وَعَلَانِيَتِي، لَا يَخْفَى عَلَيْكَ شَيْءٌ مِنْ أَمْرِي أَنَا الْبَائِسُ الْفَقِيرُ الْمُسْتَغِيثُ الْمُسْتَجِيرُ الْمُشْفِقُ الْمُقِرُّ الْمُعْتَرِفُ بِذَنْبِهِ أَسْأَلُكَ مَسْأَلَةَ الْمِسْكِينِ، وَأَبْتَهِلُ إِلَيْكَ ابْتِهَالَ الْمُذْنِبِ الذَّلِيلِ، وَأَدْعُوكَ دُعَاءَ الْخَائِفِ الضَّرِيرِ، مَنْ خَضَعَتْ لَكَ رَقَبَتُهُ، وَفَاضَتْ لَكَ عَيْنَاهُ، وَذَلَّ جَسَدُهُ، وَرَغِمَ لَكَ أَنْفُهُ، اللَّهُمَّ لَا تَجْعَلْنِي بِدُعَائِكَ شَقِيًّا، وَكُنْ بِي رَءُوفًا رَحِيمًا، يَا خَيْرَ الْمَسْئُولِينَ وَيَا خَيْرَ الْمُعْطِينَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالصَّغِيرِ وَزَادَ: "" الْوَجِلِ الْمُشْفِقِ "". وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ الْأُبُلِّيُّ قَالَ الْعُقَيْلِيُّ: رَوَى عَنْهُ يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ مَنَاكِيرَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما reports among the supplications of the Messenger of Allah ﷺ in the Farewell Hajj a humble plea of the needy sinner seeking mercy. > **"O Allah, You hear my speech and see my place and know my secret and my open, nothing of my affair is hidden from You. I am the wretched, the poor, the seeker of aid, the seeker of refuge, the fearful, the acknowledging confessor of his sin. I ask You the asking of the destitute, and I beseech You the beseeching of the sinful lowly, and I call upon You the supplication of the fearful blind, whose neck is humbled to You, whose eyes overflow to You, whose body is abased, whose nose is dusted for You. O Allah, do not make me wretched by my supplication to You, and be to me Kind, Merciful, O Best of those asked and O Best of givers."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : حجۃ الوداع کے موقع پر نبی اکرم ﷺ نے جو دعا کی تھی ان میں یہ کلمات بھی شامل تھے : ’’ اے اللہ ! بے شک تو میرا کلام سنتا ہے اور میری جگہ سے واقف ہے میری پوشیدہ اور اعلانیہ چیزوں کو جانتا ہے میرے معاملے کے حوالے سے تجھ سے کوئی بھی چیز پوشیدہ نہیں ہے ‘ میں لاچار ‘ غریب ‘ مدد مانگنے والا ‘ پناہ مانگنے والا ‘ ڈرنے والا ‘ اپنے گناہوں کا اقرار ‘ اور اعتراف کرنے والا ہوں ، میں تجھ سے یوں مانگتا ہوں جیسے کوئی مسکین مانگتا ہے اور تیری بارگاہ میں یوں رجوع کرتا ہوں جس طرح کوئی گناہگار ذلیل بندہ رجوع کرتا ہے میں تجھ سے ہوں دعا کرتا ہوں جس طرح کوئی خوف زدہ اور نابینا شخص دعا کرتا ہے ، جس کی گردن تیرے سامنے جھکی ہوئی ہو جس کی آنکھیں تیری بارگاہ میں بہہ رہی ہوں جس کا جسم کمزور ہو جس کی ناک تیری بارگاہ میں خاک آلود ہوا اے اللہ ! تو مجھے اپنے فضل کے تحت بد نصیب نہ کرنا اور میرے سامنے مہربان اور رقم والا بن کے رہنا اے ان سب سے زیادہ بہتر جن سے مانگا جاتا ہے اور اے عطا کرنے والوں میں سب سے زیادہ بہتر ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم صغیر میں نقل کی ہے اور اس میں یہ الفاظ ہیں : ’’ پریشان اور خوف زدہ شخص ‘‘ اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن صالح ابلی ہے عقیلی بیان کرتے ہیں : یحیی بکیر نے اس سے منکر روایات نقل کی ہیں اس کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

5550

Majma al-Zawaid #5550

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: «كَانَ أَكْثَرُ دُعَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عَرَفَةَ: "" لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Amr رضي الله عنهما reports that the most frequent supplication of the Messenger of Allah ﷺ on the Day of Arafah was the declaration of divine unity and power. > **"There is no god but Allah alone, without partner. To Him belongs dominion and to Him belongs praise, and He is over all things Powerful."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبدالله بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : عرفہ کے دن نبی اکرم ﷺ زیادہ تر یہ دعا پڑھتے تھے : ’’ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے صرف وہی ایک معبود ہے اس کا کوئی شریک نہ ہو ۔ بادشاہی اسی کے لئے مخصوص ہے حمد اسی کے لئے مخصوص ہے اور وہ ہر شے پر قدرت رکھتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

5551

Majma al-Zawaid #5551

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا كَانَ عَشِيَّةَ عَرَفَةَ لَمْ يَبْقَ أَحَدٌ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ إِيمَانٍ إِلَّا غُفِرَ لَهُ "". قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَهْلُ عَرَفَةَ خَاصَّةً؟ قَالَ: "" بَلْ لِلْمُسْلِمِينَ عَامَّةً». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ أَبُو دَاوُدَ الْأَعْمَى، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا.

EnglishUnverified translation

Ibn Umar رضي الله عنهما reports the Messenger of Allah ﷺ promising forgiveness on the evening of Arafah for every heart containing even mustard-seed faith, and when asked whether it was specific to the people of Arafah, he declared it general for Muslims. > **"When it is the evening of Arafah, there remains none in whose heart is even a mustard-seed weight of faith but he is forgiven. Rather, for the Muslims generally."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ عرفہ کی شام جس شخص کے دل میں رائی کے دانے کے وزن جتنا بھی ایمان موجود ہوتا ہے اس کی مغفرت ہو جاتی ہے ‘‘۔ راوی کہتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا یہ اہل عرفہ کے لئے خاص ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ( جی نہیں ! ) بلکہ یہ مسلمانوں کے لئے عام ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابوداؤد نابینا ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔

5552

Majma al-Zawaid #5552

وَعَنْ طَالِبِ بْنِ سَلْمَى بْنِ عَاصِمِ بْنِ الْحَكَمِ قَالَ: حَدَّثَنِي بَعْضُ أَهْلِنَا أَنَّهُ سَمِعَ جَدِّي قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ: «أَلَا إِنَّ اللَّهَ نَظَرَ إِلَى هَذَا الْجَمْعِ فَقَبِلَ مِنْ مُحْسِنِهِمْ وَشَفَّعَ مُحْسِنَهُمْ فِي مُسِيئِهِمْ فَتَجَاوَزَ عَنْهُمْ جَمِيعًا». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِي إِسْنَادِهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Talib ibn Salma ibn Asim ibn al-Hakam reports from a family member who heard his grandfather state that the Messenger of Allah ﷺ announced on that day Allah's regard for the gathering, acceptance of its righteous, intercession for its wrongdoers, and pardon of all. > **"Verily Allah looked upon this gathering and accepted from their righteous and interceded their righteous for their wrongdoers, and pardoned them all."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

طالب بن سلمی بن عاصم بن حکم بیان کرتے ہیں : میرے اہل خانہ میں سے مجھے کسی نے یہ بات بیان کی کہ انہوں نے میرے دادا کو یہ بات بیان کرتے ہوئے سنا ہے اس دن نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ خبردار بے شک اللہ تعالیٰ نے اس مجمع کی طرف نظر کی اور ان کے اچھے فرد کی اچھائی کو قبول کیا اور ان کے برے فرد کے بارے میں ان کے اچھے فرد کی شفاعت کو قبول کیا پھر ان سب سے درگزر کر دیا ‘‘۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

5553

Majma al-Zawaid #5553

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا مِنْ أَيَّامٍ أَفْضَلَ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ أَيَّامِ عَشْرِ ذِي الْحِجَّةِ "". قَالَ: فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هِيَ أَفْضَلُ أَمْ عِدَّتْهُنَّ جِهَادٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ؟ قَالَ: هِيَ أَفْضَلُ مِنْ عِدَّتِهِنَّ جِهَادٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ إِلَّا عَفِيرًا يُعَفِّرُ وَجْهَهُ فِي التُّرَابِ. وَمَا مِنْ يَوْمٍ أَفْضَلَ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ يَوْمِ عَرَفَةَ يَنْزِلُ اللَّهُ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا فَيُبَاهِي بِأَهْلِ الْأَرْضِ أَهْلَ السَّمَاءِ فَيَقُولُ: انْظُرُوا إِلَى عِبَادِي شُعْثًا غُبْرًا صَاحِينَ جَاءُوا مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ وَلَمْ يَرَوْا رَحْمَتِي وَلَمْ يَرَوْا عَذَابِي، فَلَمْ أَرَ يَوْمًا أَكْثَرَ عَتِيقًا مِنَ النَّارِ مِنْ يَوْمِ عَرَفَةَ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ مَرْوَانَ الْعَقِيلِيُّ وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَابْنُ حِبَّانَ، وَفِيهِ بَعْضُ كَلَامٍ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ. وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: أَفْضَلُ أَيَّامِ الدُّنْيَا أَيَّامُ الْعَشْرِ. قُلْتُ: وَتَأْتِي أَحَادِيثُ فِي فَضْلِ عَشْرِ ذِي الْحِجَّةِ فِي كِتَابِ الْأَضَاحِي إِنْ شَاءَ اللَّهُ.

EnglishUnverified translation

Jabir رضي الله عنه reports the Messenger of Allah ﷺ declaring no days better to Allah than the ten days of Dhu al-Hijjah, better than equal jihad except one whose face is dusted in the soil, and no day better than Arafah, when Allah descends to the lowest heaven, boasts of earth-dwellers to heaven-dwellers, and frees most from the Fire. > **"There are no days better to Allah than the days of the ten of Dhu al-Hijjah. They are better than their number in jihad in the path of Allah, except a dusted one who dusts his face in the dust. There is no day better to Allah than the Day of Arafah. Allah descends to the lowest heaven and boasts of the people of the earth to the people of the heaven, saying: Look at My servants, disheveled, dusty, chanting aloud, come from every deep pass, though they have not seen My mercy nor seen My punishment. I have never seen a day with more freed from the Fire than the Day of Arafah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اللہ تعالی کے نزدیک کوئی بھی دن ذوالج کے عشرے کے دنوں سے زیادہ فضیلت نہیں رکھتے ہیں راوی بیان کرتے ہیں : ایک صاحب نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ ( دن ) زیادہ فضیلت رکھتے ہیں یا اتنی ہی تعداد میں اللہ کی راہ میں جہاد کرنا زیادہ فضیلت رکھتا ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : یہ دن اتنی ہی تعداد میں اللہ کی راہ میں جہاد کرنے سے زیادہ فضیات رکھتے ہیں البتہ اس شخص کا معاملہ مختلف ہے ‘ جس کا چہرہ مٹی میں خاک آلود ہو جاتا ہے ( یعنی جو شہید ہو جاتا ہے ) اور کوئی بھی دن اللہ تعالیٰ کے نزدیک عرفہ کے دن سے افضل نہیں ہے اللہ تعالی آسمان دنیا کی طرف نزول کرتا ہے اور زمین والوں کے حوالے سے آسمان والوں کے سامنے فخر کا اظہار کرتا ہے اور فرماتا ہے : میرے بندوں کی طرف دیکھو جو بکھرے ہوئے بالوں کے مالک اور غبار آلود ہیں وہ بلند آواز میں تلبیہ پڑھ رہے ہیں وہ دور دراز کے علاقوں سے آئے ہیں حالانکہ انہوں نے میری رحمت کو بھی نہیں دیکھا ہے اور انہوں نے میرے عذاب کو بھی نہیں دیکھا ہے ( نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں : ) میں نے ایسا کوئی دن نہیں دیکھا جس میں عرفہ کے دن سے زیادہ تعداد میں لوگوں کو جہنم سے آزاد کیا جاتا ہو ‘‘۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن مروان عقیلی ہے ‘ جسے یحیی بن معین اور ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے اس کے بارے میں کچھ کلام کیا گیا ہے اس کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : دنوں میں سب سے زیادہ فضیلت والے دس دن ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ذوالج کے عشرے کی فضیلت کے بارے میں کچھ احادیث آگے چل کر قربانی سے متعلق باب میں آئیں گی اگر اللہ نے چاہا ۔

5554

Majma al-Zawaid #5554

عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ: اغْتَسَلْتُ مَعَ ابْنِ مَسْعُودٍ يَوْمَ عَرَفَةَ تَحْتَ الْأَرَاكِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، وَفِيهِ كَلَامٌ.

EnglishUnverified translation

Abdur Rahman ibn Yazid reports bathing with Ibn Mas'ud رضي الله عنه on the Day of Arafah beneath an arak tree.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبدالرحمن بن یزید بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ہمراہ عرفہ کے دن ایک درخت کے نیچے غسل کیا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔

5555

Majma al-Zawaid #5555

عَنْ عَبْدِ الْمَجِيدِ الْعُقَيْلِيِّ قَالَ: «انْطَلَقْنَا حُجَّاجًا لَيَالِيَ خَرَجَ يَزِيدُ بْنُ الْمُهَلَّبِ، وَقَدْ ذُكِرَ لَنَا أَنَّ مَاءً بِالْعَالِيَةِ يُقَالُ لَهُ: الزَّجِيحُ، فَلَمَّا قَضَيْنَا مَنَاسِكَنَا جِئْنَا حَتَّى أَتَيْنَا الزَّجِيجَ فَأَنَخْنَا رَوَاحِلَنَا، قَالَ: فَانْطَلَقْنَا حَتَّى أَتَيْنَا عَلَى بِئْرٍ عَلَيْهَا أَشْيَاخٌ مَخْضُوبُونَ يَتَحَدَّثُونَ، قُلْنَا: هَذَا الَّذِي صَحِبَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيْنَ بَيْتُهُ؟ قَالُوا: نَعَمْ صَحِبَهُ وَهَكَذَا بَيْتُهُ وَأَوْمَئُوا هَذَاكَ بَيْتُهُ. قَالَ: فَانْطَلَقْنَا حَتَّى أَتَيْنَا الْبَيْتَ فَسَلَّمْنَا، فَأَذِنَ لَنَا، فَإِذَا شَيْخٌ كَبِيرٌ مُضْطَجِعٌ يُقَالُ لَهُ: الْعَدَّاءُ بْنُ خَالِدٍ الْكِلَابِيُّ قُلْتُ: أَنْتَ الَّذِي صَحِبْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ، وَلَوْلَا هُوَ اللَّيْلُ لَأَقْرَأْتُكُمْ كِتَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيَّ فَمَنْ أَنْتُمْ؟ قُلْنَا: مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ. قَالَ: مَرْحَبًا بِكُمْ مَا فَعَلَ يَزِيدُ بْنُ الْمُهَلَّبِ؟ قُلْنَا: هُوَ هُنَاكَ يَدْعُو إِلَى كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَسُنَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ: فِيمَا وَهُوَ مِنْ ذَاكَ؟ قُلْنَا: أَيًّا نَتَّبِعُ هَؤُلَاءِ أَوْ هَؤُلَاءِ - يَعْنِي أَهْلَ الشَّامِ أَوْ يَزِيدَ؟ - قَالَ: إِنْ تَقْعُدُوا تُفْلِحُوا وَتَرْشُدُوا. وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا قَالَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عَرَفَةَ، وَهُوَ قَائِمٌ فِي الرِّكَابَيْنِ يُنَادِي بِأَعْلَى صَوْتِهِ: "" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، أَيُّ يَوْمٍ يَوْمُكُمْ هَذَا؟ "". قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ: أَيُّ شَهْرٍ شَهْرُكُمْ هَذَا؟ قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ: "" فَأَيُّ بَلَدٍ بَلَدُكُمْ هَذَا؟ "". قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ: "" يَوْمُكُمْ يَوْمٌ حَرَامٌ وَشَهْرُكُمْ شَهْرٌ حَرَامٌ "". قَالَ: فَقَالَ: "" أَلَا إِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ ; كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا، فِي شَهْرِكُمْ هَذَا، فِي بَلَدِكُمْ هَذَا إِلَى يَوْمِ تَلْقَوْنَ رَبَّكُمْ تَبَارَكَ وَتَعَالَى، فَيَسْأَلُكُمْ عَنْ أَعْمَالِكُمْ "" قَالَ: ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ إِلَى السَّمَاءِ قَالَ: "" اللَّهُمَّ اشْهَدْ عَلَيْهِمْ "". ذَكَرَ مِرَارًا. فَلَا أَدْرِي كَمْ ذَكَرَ». قُلْتُ: رَوَى أَبُو دَاوُدَ مِنْهُ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمًا فِي الرِّكَابَيْنِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: بِمَاءٍ يُقَالُ لَهُ: الرَّجِيعُ. وَقَالَ: "" أَلَيْسَ هَذَا شَهْرٌ حَرَامٌ وَبَلَدٌ حَرَامٌ وَيَوْمٌ حَرَامٌ؟ "". وَرِجَالُ الطَّبَرَانِيِّ مُوَثَّقُونَ. قُلْتُ: وَتَأْتِي بَقِيَّةُ الْخُطَبِ بَعْدَ هَذَا إِنْ شَاءَ اللَّهُ.

EnglishUnverified translation

Abdul Majid al-Uqayli reports travelling for Hajj when Yazid ibn al-Muhallab came forth, then after completing rites coming to a water in the highlands, finding elders with dyed beards by a well, being directed to the house of the aged reclining Companion al-Ad-da ibn Khalid al-Kilabi رضي الله عنه, who asked about Yazid's call to Allah's Book and the Prophet's ﷺ sunnah, advised sitting back thrice for success and guidance, and testified seeing the Messenger of Allah ﷺ on Arafah standing in both stirrups calling at highest voice about the sacred day, month, land, and inviolability of blood and wealth until meeting the Lord, raising hands to heaven invoking Allah's witness repeatedly. > **"O people, what day is this day of yours? What month is this month of yours? What land is this land of yours? Your day is a sacred day and your month is a sacred month. Verily your blood and your wealth are sacred upon you, like the sacredness of this day of yours, in this month of yours, in this land of yours, until the day you meet your Lord, Blessed and Exalted, when He shall ask you about your deeds. O Allah, bear witness over them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبدالمجید عقیلی بیان کرتے ہیں : ہم لوگ حج کرنے کے لئے روانہ ہوئے یزید بن مہلب ( جو ان دنوں گورنر تھے ) وہ بھی تشریف لائے ہمارے سامنے یہ بات بیان کی گئی کہ بالائی علاقے میں ایک چشمہ ہے ‘ جس کا نام زجیج ہے جب ہم نے مناسک حج ادا کر لیے تو ہم آئے اور زجیج پہنچ گئے وہاں ہم نے اپنی سواریاں بٹھا لیں راوی کہتے ہیں : ہم روانہ ہوئے یہاں تک کہ ہم ایک کنویں کے پاس آئے جس کے پاس کچھ بزرگ موجود تھے جنہوں نے خضاب لگائے ہوئے تھے اور وہ بات چیت کر رہے تھے ہم نے دریافت کیا : وہ صاحب جو نبی اکرم ﷺ کے صحابی ہیں ان کا گھر کہاں ہے ان لوگوں نے بتایا جی ہاں ! وہ صاحب جو نبی اکرم ﷺ کے صحابی ہیں ان کا گھر وہ ہے ۔ انہوں نے ایک گھر کی طرف اشارہ کر کے یہ بات بیان کی ہم وہاں سے روانہ ہوئے اور اس گھر تک آئے ہم نے سلام کیا انہوں نے ہمیں اندر آنے کی اجازت دی وہ ایک بوڑھے اور عمر رسیدہ شخص تھے اور لیٹے ہوئے تھے ان کا نام حضرت عداء بن خالد کلابی رضی اللہ عنہ تھا میں نے دریافت کیا : کیا آپ ہی وہ صاحب ہیں جنہیں نبی اکرم ﷺ کے صحابی ہونے کا شرف حاصل ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ! اگر رات کا وقت نہ ہوتا تو میں تمہیں نبی اکرم ﷺ کا وہ مکتوب پڑھاتا جو آپ نے میری طرف بھیجا تھا تم لوگ کون ہو ؟ ہم نے جواب دیا ہم اہل بصرہ سے تعلق رکھتے ہیں ۔ انہوں نے فرمایا : تم لوگوں کو خوش آمدید ہے یزید بن مہلب کا کیا حال ہے ہم نے جواب دیا وہ یہاں ہے اور اللہ تعالیٰ کی کتاب اور نبی کی سنت کی طرف دعوت دیتے ہیں ۔ انہوں نے فرمایا : اس صورت حال میں وہ یہ کام کر رہے ہیں ہم نے کہا : ہمیں کن کی پیروی کرنی چاہیے ان کی یا ان کی یعنی اہل شام کی یا یزید کی ۔ انہوں نے فرمایا : اگر تم بیٹھے رہو گے تو کامیاب ہو گے اور رہنمائی پا لو گے راوی کہتے ہیں : میرے علم کے مطابق انہوں نے تین مرتبہ یہ بات ارشاد فرمائی عرفہ کے دن میں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا کہ آپ رکابین میں کھڑے ہوئے تھے اور بلند آواز میں یہ ارشاد فرما رہے تھے : ’’ اے لوگو ! آج کا دن کون سا دن ہے لوگوں نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں آپ نے فرمایا : یہ مہینہ کون سا مہینہ ہے لوگوں نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : یہ شہر کون سا شہر ہے لوگوں نے عرض کی : اللہ اور اس کے رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تمہارا یہ دن حرمت والا دن ہے تمہارا یہ مہینہ حرمت والا مہینہ ہے راوی بیان کرتے ہیں : پھر نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : خبردار تمہاری جانیں اور تمہارے مال ایک دوسرے کے لئے اسی طرح قابل احترام ہیں جس طرح تمہارے اس دن کی حرمت اس مہینے میں اس شہر میں ہے اور یہ اس وقت تک قابل احترام رہیں گے جب تک تم پروردگار کی بارگاہ میں حاضر نہیں ہو جاتے تو وہ تم سے تمہارے اعمال کے بارے میں حساب لے گا راوی بیان کرتے ہیں : پھر نبی اکرم ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھ آسمان کی طرف بلند کیے اور یہ کہا : اے اللہ ! تو ان لوگوں پر گواہ ہو جا یہ بات آپ نے کئی مرتبہ ارشاد فرمائی مجھے نہیں معلوم آپ نے کتنی مرتبہ یہ ارشاد فرمائی ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابوداؤد نے اس روایت میں سے یہ حصہ نقل کیا ہے ’’ میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ رکابین میں کھڑے ہوئے تھے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں :’’ وہ پانی جس کا نام رجیع تھا اور نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : کیا یہ حرمت والا مہینہ اور حرمت والا شہر اور حرمت والا دن نہیں ہے ؟ امام طبرانی کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : خطبے کے بقیہ کلمات آگے چل کر آئیں گے اگر اللہ نے چاہا ۔

5556

Majma al-Zawaid #5556

عَنْ عُرْوَةَ بْنِ مُضَرِّسِ بْنِ أَوْسِ بْنِ حَارِثَةَ بْنِ لَامٍ أَنَّهُ حَجَّ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يُدْرِكِ النَّاسَ إِلَّا لَيْلًا، وَهُوَ بِجَمْعٍ فَانْطَلَقَ إِلَى عَرَفَاتٍ، فَأَفَاضَ مِنْهَا، ثُمَّ رَجَعَ فَأَتَى جَمْعًا، فَقَالَ: «يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَعْمَلْتُ نَفْسِي، وَأَنْضَيْتُ رَاحِلَتِي، فَهَلْ لِي مِنْ حَجٍّ؟ فَقَالَ: "" مَنْ صَلَّى مَعَنَا صَلَاةَ الْغَدَاةِ بِجَمْعٍ، وَوَقَفَ مَعَنَا حَتَّى نُفِيضَ، وَقَدْ أَفَاضَ قَبْلَ ذَلِكَ مِنْ عَرَفَاتٍ لَيْلًا أَوْ نَهَارًا ; فَقَدْ تَمَّ حَجُّهُ، وَقَضَى تَفَثَهُ». قُلْتُ: هُوَ فِي السُّنَنِ خَلَا رُجُوعِهِ إِلَى عَرَفَةَ وَمَجِيئِهِ مِنْهَا. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ بِنَحْوِهِ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: وَاللَّهِ مَا تَرَكْتُ جَبَلًا مِنَ الْجِبَالِ وَقَفْتُمْ عَلَيْهِ إِلَّا وَقَفْتُ عَلَيْهِ. وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Urwah ibn Mudarris ibn Aws ibn Harithah ibn Lam رضي الله عنه reports performing Hajj in the Prophet's ﷺ time, reaching the people only by night at Jam', proceeding to Arafat and returning to Jam', then complaining of wearing himself and his mount, whereupon the Prophet ﷺ defined completion of Hajj by joining Fajr and the departure after prior standing at Arafat by night or day. > **"Whoever prays with us the dawn prayer at Jam' and stands with us until we depart, having departed before that from Arafat by night or by day, then his Hajj is complete and he has fulfilled his tafath."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عروہ بن مضرس بن اوس بن حارثہ بن لام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے زمانہ اقدس میں ‘ حج کے لئے وہ رات کے وقت لوگوں کے پاس پہنچے جب وہ مزدلفہ میں تھے پھر وہ وہاں سے عرفات چلے گئے پھر وہ واپس آئے تو مزدلفہ آ گئے ۔ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ میں نے اپنے آپ کو مصروف رکھا اپنی سواری کو تھکا دیا کیا میرا حج ہو گیا نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جس شخص نے ہمارے ساتھ مزدلفہ میں صبح کی نماز ادا کی اور اس نے ہمارے ساتھ وقوف کیا یہاں تک کہ ہم روانہ ہو گئے وہ اس سے پہلے دن کے وقت یا رات کے وقت عرفات میں سے آ چکا ہو ‘ تو اس کا حج مکمل ہو گیا اور اس نے اپنے ذمہ لازم چیز کو ادا کر دیا ‘‘۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ’’ سنن ‘‘ میں بھی مذکور ہے تاہم اس میں عرفہ کی طرف واپس جانے اور وہاں سے آنے کا ذکر نہیں ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں اس کی مانند نقل کی ہے تا ہم اس میں یہ الفاظ ہیں : ’’ اللہ کی قسم میں نے کوئی بھی پہاڑ نہیں چھوڑا مگر یہ کہ میں اس پر ٹھہرا جس پر بھی آپ لوگ ٹھہرے تھے ‘‘۔ امام احمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

5557

Majma al-Zawaid #5557

وَفِي رِوَايَةِ الطَّبَرَانِيِّ فِي الْكَبِيرِ: «عَنْ عُرْوَةَ بْنِ مُضَرِّسٍ أَنَّهُ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجَمْعٍ قَبْلَ أَنْ يُفِيضَ، فَلَمَّا نَظَرَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، طَوَيْتُ الْجَبَلَيْنِ وَلَقِيتُ شِدَّةً. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" مَنْ أَدْرَكَ إِفَاضَتَنَا أَدْرَكَ الْحَجَّ». زَادَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ فِي حَدِيثِهِ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَفْرِخْ رَوْعَكَ ; مَنْ أَدْرَكَ إِفَاضَتَنَا هَذِهِ فَقَدَ أَدْرَكَ الْحَجَّ». قُلْتُ: هُوَ فِي السُّنَنِ بِغَيْرِ هَذَا السِّيَاقِ. وَقَوْلُهُ: أَفْرِخْ رَوْعَكَ: إِذَا ذَهَبَ عَنْهُ الْحُزْنُ. هَذَا مَعْنَى مَا فِي النِّهَايَةِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ دَاوُدُ بْنُ يَزِيدَ الْأَوْدِيُّ قَالَ ابْنُ عَدِيٍّ: لَمْ أَرَ لَهُ حَدِيثًا مُنْكَرًا جَاوَزَ الْحَدَّ إِذَا رَوَى عَنْهُ ثِقَةٌ. وَرَوَى عَنْهُ شُعْبَةُ وَسُفْيَانُ وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ.

EnglishUnverified translation

Urwah ibn Mudarris رضي الله عنه reports coming to the Messenger of Allah ﷺ at Jam' before departure, complaining of folding the two mountains and meeting hardship, whereupon the Messenger ﷺ assured him, with Abdullah ibn Ahmad's addition bidding him end anxiety, that catching the departure is catching Hajj. > **"Whoever catches our departure has caught the Hajj. Calm your terror; whoever catches this departure of ours has indeed caught the Hajj."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

معجم کبیر میں امام طبرانی کی روایت میں یہ الفاظ ہیں : حضرت عروہ بن مضرس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : وہ مزدلفہ میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اس سے پہلے کہ آپ روانہ ہوتے جب انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا تو انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے دونوں پہاڑوں کو لپیٹ دیا اور میں نے شدت کا سامنا کیا نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جو شخص ہماری روانگی کو پا لے اس نے حج کو پا لیا ۔ عبداللہ بن احمد نے اپنی روایت میں یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم اپنی پریشانی ختم کرو جس شخص نے ہماری اس روانگی کو پا لیا اس نے حج کو پا لیا ‘‘۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ’’ سنن “ میں اس سیاق کے بغیر منقول ہے اور روایت کے یہ الفاظ ’’ تم اپنی پریشانی ختم کرو ‘‘ اس سے مراد یہ ہے کہ جب غم اس سے چلا جائے یہ وہ مفہوم ہے ‘ جو النہایہ میں بیان ہوا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی داؤد بن یزیداؤدی ہے ابن عدی کہتے ہیں : میں نے اس کے حوالے سے کوئی منکر حدیث نہیں دیکھی ہے ‘ جو حد سے تجاوز کرتی ہو جبکہ ثقہ راوی نے اس سے روایت نقل کی ہو اس سے شعبہ اور سفیان نے روایات نقل کی ہیں ایک جماعت نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔

5558

Majma al-Zawaid #5558

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَدْرَكَ عَرَفَةَ قَبْلَ طُلُوعِ الْفَجْرِ فَقَدْ أَدْرَكَ الْحَجَّ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ قَيْسٍ الْمَكِّيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ مَتْرُوكٌ. وَفِي رِوَايَةٍ فِي الْأَوْسَطِ: "" قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ "". وَلَكِنَّ النُّسْخَةَ سَقِيمَةٌ. وَقَدْ تَقَدَّمَ حَدِيثٌ لِابْنِ عَبَّاسٍ: «الْحَجُّ عَرَفَاتٍ». فِي بَابِ الْوُقُوفِ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما reports the Messenger of Allah ﷺ defining catching Hajj by reaching Arafah before dawn. > **"Whoever catches Arafah before the rising of dawn has caught the Hajj."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص صبح صادق ہونے سے پہلے عرفہ کو پا لیے اس نے حج کو پا لیا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عمر بن قیس مکی ہے اور وہ ضعیف اور متروک ہے ۔ معجم اوسط میں ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں :’’ سورج طلوع ہونے سے پہلے ‘‘ لیکن وہ نسخہ سقم والا ہے ۔ اس سے پہلے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے یہ روایت گزر چکی ہے ’’ حج عرفات میں وقوف کا نام ہے ‘‘ یہ وقوف سے متعلق باب میں گزری ہے ۔

5559

Majma al-Zawaid #5559

عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ قَالَ: «خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَاتٍ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: "" أَمَّا بَعْدُ، فَإِنَّ أَهْلَ الشِّرْكِ وَالْأَوْثَانِ كَانُوا يَدْفَعُونَ مِنْ هَذَا الْمَوْضِعِ إِذَا كَانَتِ الشَّمْسُ عَلَى رُءُوسِ الْجِبَالِ، كَأَنَّهَا عَمَائِمُ الرِّجَالِ فِي وُجُوهِهَا، وَإِنَّا نَدْفَعُ بَعْدَ أَنْ تَغِيبَ». وَكَانُوا يَدْفَعُونَ مِنَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ إِذَا كَانَتِ الشَّمْسُ مُنْبَسِطَةً. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Miswar ibn Makhramah رضي الله عنه reports the Messenger of Allah ﷺ addressing at Arafat after praise of Allah, contrasting the polytheists' early departure when the sun stood over mountain tops like men's turbans, and from al-Mash'ar al-Haram while sunlight spread, with his own departure after setting. > **"As for what follows, the people of polytheism and idols used to depart from this place when the sun stood over the mountain tops as though turbans of men upon their faces, whereas we depart after it has set."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے عرفات میں ہمیں خطبہ دیا آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کرنے کے بعد ارشاد فرمایا : ’’ اما بعد ! مشرکین اور بت پرست اس جگہ سے واپس چلے جاتے تھے جب سورج پہاڑوں کے سروں پر ہوتا تھا یوں جیسے آدمیوں کے عمامے ہوتے ہیں لیکن ہم اس کے غائب ہونے کے بعد روانہ ہوں گے وہ لوگ مشعر حرام سے جایا کرتے تھے جب سورج ( کی روشنی ) پھیلی ہوئی ہوتی تھی ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

5560

Majma al-Zawaid #5560

وَعَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا غَرَبَتِ الشَّمْسُ بِعَرَفَةَ أَفَاضَ وَمِنَ الْمُزْدَلِفَةِ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ الْوَاقِدِيُّ ضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ.

EnglishUnverified translation

Abu Bakr al-Siddiq رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ, when the sun set at Arafah, departed, and departed from Muzdalifah before sunrise.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : عرفہ میں جب سورج غروب ہو گیا تو نبی اکرم ﷺ روانہ ہو گئے اور مزدلفہ سے سورج نکلنے سے پہلے روانہ ہو گئے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی واقدی ہے ‘ جسے جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے ۔

5561

Majma al-Zawaid #5561

وَعَنْ مَيْسَرَةَ الْأَشْجَعِيِّ «عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ حَجَّ مَعَهُ حَتَّى وَقَفَ بِعَرَفَاتٍ فَقَالَ لَهُ: يَا مَيْسَرَةُ اسْنِدْ فِي الْجَبَلِ. قَالَ: فَفَعَلْتُ. فَلَمَّا أَفَاضَ النَّاسُ ذَهَبْتُ لِأَدْفَعَ نَاقَتِي فَقَالَ لِي: مَهْ عَنَقًا بَيْنَ الْعَنَقَيْنِ. فَلَمَّا قَطَعْتُ الْجَبَلَ قُلْتُ: انْزِلْ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ؟ قَالَ: سيْرًا يَا مَيْسَرَةُ. فَلَمَّا دَفَعْنَا إِلَى جَمْعٍ قَامَ فَأَذَّنَ، ثُمَّ أَقَامَ الصَّلَاةَ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ، ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ، ثُمَّ أَصْبَحْنَا فَفَعَلَ كَمَا فَعَلَ فِي الْمَشْعَرِ الْأَوَّلِ ثُمَّ قَالَ: كَانَ الْمُشْرِكُونَ لَا يُفِيضُونَ مِنْ عَرَفَاتٍ حَتَّى تُعَمَّمَ الشَّمْسُ فِي الْجِبَالِ، فَيصِيرُ فِي رُءُوسِهَا كَعَمَائِمِ الرِّجَالِ فِي وُجُوهِهِمْ. وَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَا يُفِيضُ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ. وَكَانَ الْمُشْرِكُونَ لَا يُفِيضُونَ مِنْ جَمْعٍ حَتَّى يَقُولُونَ: أَشْرَقَ ثُبَيْرٌ. فَلَا يُفِيضُونَ حَتَّى تَصِيرَ الشَّمْسُ فِي رُءُوسِ الْجِبَالِ كَعَمَائِمِ الرِّجَالِ فِي وُجُوهِهِمْ. وَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُفِيضُ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ». قُلْتُ: فِي الصَّحِيحِ بَعْضُهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ جَعْفَرُ بْنُ مَيْسَرَةَ الْأَشْجَعِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Maysarah al-Ashja'i reports performing Hajj with Abdullah ibn Umar رضي الله عنهما until standing at Arafat, being told to lean on the mountain, then upon people's departure being restrained to a measured pace between paces, continuing past the mountain despite requesting dismount, reaching Jam' where Ibn Umar called adhan then iqamah for Maghrib then iqamah for Isha, repeating at dawn as at the first Mash'ar, then explaining that polytheists would not leave Arafat until the sun turbaned mountain tops like turbans on faces whereas the Messenger ﷺ would not leave until sunset, and would not leave Jam' until they cried let Thabir shine and the sun stood like turbans whereas the Messenger ﷺ would leave before sunrise.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

میسرہ اشجعی نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ بات نقل کی ہے ۔ انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ حج کیا یہاں تک کہ انہوں نے عرفات میں وقوف کیا حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے میسرہ ! پہاڑ کے ساتھ ٹیک لگا لو میں نے ایسا ہی کیا جب لوگ روانہ ہوئے تو میں بھی اپنی سواری کو روانہ کرنے لگا تو انہوں نے مجھ سے فرمایا ابھی ٹھہر جاؤ درمیانی رفتار سے چلو جب میں نے پہاڑ پار کر لیا تو میں نے کہا : اے ابوعبدالرحمن آپ اتر جائیں ۔ انہوں نے کہا : اے میسرہ چلتے رہو جب ہم روانہ ہوئے اور مزدلفہ آ گئے تو وہ کھڑے ہوئے اور انہوں نے اذان دی پھر انہوں نے نماز کے لئے اقامت کہی اور مغرب کی نماز ادا کی پھر انہوں نے اقامت کہی اور عشاء کی نماز ادا کی پھر جب صبح ہوئی تو انہوں نے اسی طرح کیا جس طرح پہلے مشعر میں کیا تھا پھر انہوں نے یہ بات بیان کی مشرکین عرفات سے اس وقت تک روانہ نہیں ہوتے تھے جب تک سورج پہاڑ کی چوٹی پر نہیں آ جاتا تھا اور وہ پہاڑ کے سرے پر یوں ہوتا تھا جس طرح مردوں کے چہروں پر ان کے عمامے ہوتے ہیں جبکہ نبی اکرم ﷺ اس وقت تک روانہ نہیں ہوتے تھے جب تک یہ غروب نہیں ہو جاتا تھا اور مشرکین مزدلفہ سے اس وقت تک روانہ نہیں ہوتے تھے جب تک وہ یہ نہیں کہ دیتے تھے کہ ثبیر نامی پہاڑ روشن ہو گیا ہے وہ لوگ اس وقت تک روانہ نہیں ہوتے تھے جب تک سورج پہاڑ پر یوں نہیں ہو جاتا تھا جس طرح مردوں کے چہروں پر ان کے عمامے ہوتے ہیں جبکہ نبی اکرم ﷺ سورج طلوع ہونے سے پہلے ہی روانہ ہو جاتے تھے ‘‘۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :’’ صحیح ‘‘ میں اس کا کچھ حصہ منقول ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی جعفر بن میسرہ اشجعی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

5562

Majma al-Zawaid #5562

وَعَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا تَدْفَعُوا يَوْمَ عَرَفَةَ حَتَّى يَدْفَعَ الْإِمَامُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Jabir رضي الله عنه reports the Messenger of Allah ﷺ forbidding departure on Arafah day before the imam departs. > **"Do not depart on the Day of Arafah until the imam departs."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ عرفہ کے دن اس وقت تک روانہ نہیں ہونا ‘ جب تک امام روانہ نہیں ہو جاتا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

5563

Majma al-Zawaid #5563

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ: حَجَجْنَا مَعَ ابْنِ مَسْعُودٍ فِي خِلَافَةِ عُثْمَانَ. قَالَ: فَلَمَّا وَقَفْنَا بِعَرَفَةَ قُلْنَا: غَابَتِ الشَّمْسُ؟ قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: لَوْ أَنَّ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَفَاضَ الْآنَ كَانَ قَدْ أَصَابَ. قَالَ: فَلَا أَدْرِي كَلِمَةُ ابْنِ مَسْعُودٍ كَانَتْ أَسْرَعَ أَوْ إِفَاضَةُ عُثْمَانَ؟ قَالَ: فَأَوْضَعَ النَّاسُ، وَلَمْ يَرِدِ ابْنُ مَسْعُودٍ عَلَى الْعَنَقِ، حَتَّى أَتَيْنَا جَمْعًا - فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abdur Rahman ibn Yazid reports performing Hajj with Ibn Mas'ud رضي الله عنه in Uthman's رضي الله عنه caliphate, asking at Arafah whether the sun had set, Ibn Mas'ud judging departure by Amir al-Mu'minin then correct, Uthman departing almost simultaneously, people hastening while Ibn Mas'ud kept a measured pace until Jam'.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبدالرحمن بن یزید بیان کرتے ہیں : ہم نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں حج کیا راوی کہتے ہیں : جب ہم نے وقوف عرفہ کیا ہوا تھا تو ہم نے دریافت کیا : کیا سورج غروب ہو گیا ہے حضرت عبداللہ بن مسعود رضٰ اللہ عنہ نے فرمایا اگر امیر المومنین اس وقت روانہ ہو جائیں تو پھر وہ ٹھیک کریں گے راوی کہتے ہیں : مجھے نہیں معلوم کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا یہ کلمہ زیادہ جلدی تھا یا حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی روانگی زیادہ جلدی تھی راوی کہتے ہیں : لوگوں نے اپنی سواریوں کو تیز کیا لیکن حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ درمیانی رفتار سے چلتے رہے یہاں تک کہ ہم مزدلفہ آ گئے ‘‘۔ اس کے بعد راوی نے پوری روایت ذکر کی ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

5564

Majma al-Zawaid #5564

«وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ بَدْءُ الْإِيضَاعِ مِنْ قِبَلِ أَهْلِ الْبَادِيَةِ ; كَانُوا يَقِفُونَ حَافَّتَيِ النَّاسِ حَتَّى يُعَلِّقُوا الْعِصِيَّ وَالْجِعَابَ وَالْقِعَابَ، فَإِذَا نَفَرُوا تَقَعْقَعَتْ تِلْكَ فَنَفَرُوا بِالنَّاسِ. قَالَ: وَلَقَدْ رُئِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنَّ ذِفْرَئِ نَاقَتِهِ لَتَمَسُّ حَارِكَهَا، وَهُوَ يَقُولُ: "" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، عَلَيْكُمْ بِالسَّكِينَةِ. يَا أَيُّهَا النَّاسُ، عَلَيْكُمْ بِالسَّكِينَةِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما reports hastening began from Bedouins standing at people's edges with hanging sticks, quivers and bowls whose clatter rushed the people, while the Messenger of Allah ﷺ was seen with his she-camel's temple touching its hump commanding calm. > **"O people, upon you is tranquility. O people, upon you is tranquility."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : تیز رفتاری سے چلنے کا آغاز دیہاتیوں نے کیا تھا وہ لوگوں کے دونوں طرف وقوف کیے ہوئے تھے یہاں تک کہ انہوں نے ترکش اور بڑے پیالے لٹکائے ہوئے تھے ‘ جب وہ لوگ روانہ ہوئے تو بھگدڑ مچ گئی لوگ بھی روانہ ہو گئے اسی دوران نبی اکرم ﷺ کو دیکھا گیا کہ آپ کی اونٹنی کا کان گردن کو چھو رہا تھا اور آپ یہ فرما رہے تھے : اے لوگو ! آرام سے چلو ! اے لوگو ! آرام سے چلو ! یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

5565

Majma al-Zawaid #5565

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفَاضَ مِنْ عَرَفَاتٍ، وَهُوَ يَقُولُ: إِلَيْكَ تَغْدُو قَلِقًا وَضِينُهَا مُخَالِفًا دِينَ النَّصَارَى دِينُهَا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَاصِمُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، وَهُوَ ضَعِيفٌ. وَقَالَ الطَّبَرَانِيُّ: وَهُمْ عِنْدِي أَبُو الرَّبِيعِ السَّمَّانُ فِي رَفْعِ هَذَا الْحَدِيثِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَنَّ الْمَشْهُورُ فِي الرِّوَايَةِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّهُ أَفَاضَ مِنْ عَرَفَاتٍ، وَهُوَ يَقُولُ: إِلَيْكَ تَعْدُو قَلِقًا وَضِينُهَا مُخَالِفًا دِينَ النَّصَارَى دِينُهَا

EnglishUnverified translation

Ibn Umar رضي الله عنهما reports the Messenger of Allah ﷺ departing from Arafat chanting a rajaz verse of hastening to Allah in weariness upon a mount whose faith opposes the Christians. > **"To You it hastens early, restless, its girth heaving, its religion opposing the religion of the Christians."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ عرفات سے روانہ ہوئے تو آپ یہ فرما رہے تھے : ’’ سنبھل کے ‘ یہ اس حال میں چل رہی ہے کہ یہ تھک چکی ہے ‘ اور اس کا دین عیسائیوں کے دین کے برخلاف ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عاصم بن عبیداللہ ہے اور وہ ضعیف ہے امام طبرانی کہتے ہیں : میرے نزدیک اس روایت کو نبی اکرم ﷺ تک ’’ مرفوع ‘‘ کرنے میں ابو ربیع سمان نامی راوی کو وہم ہوا ہے کیونکہ مشہور روایت جو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول ہے وہ یہ ہے کہ آپ عرفات سے روانہ ہوئے تھے اس وقت آپ یہ کہہ رہے تھے : ’’ سنبھل کے ‘ یہ اس حال میں چل رہی ہے کہ یہ تھک چکی ہے ‘ اور اس کا دین عیسائیوں کے دین کے برخلاف ہے ‘‘۔

5566

Majma al-Zawaid #5566

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ: أَفَضْتُ مَعَ ابْنِ مَسْعُودٍ مِنْ عَرَفَةَ. فَلَمَّا جَاءَ الْمُزْدَلِفَةَ وَقَفَ - يَعْنِي عُثْمَانَ - فَلَمَّا أَسْفَرَ قَالَ: - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - إِنْ أَصَابَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ دَفَعَ الْآنَ. فَمَا فَرَغَ عَبْدُ اللَّهِ مِنْ كَلَامِهِ حَتَّى دَفَعَ عُثْمَانُ. قُلْتُ: رَوَاهُ أَحْمَدُ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ وَهَذَا لَفْظُهُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abdur Rahman ibn Yazid reports departing with Ibn Mas'ud رضي الله عنه from Arafah, Uthman رضي الله عنه standing at Muzdalifah until daylight, Ibn Mas'ud judging immediate departure correct, and Uthman departing before Abdullah finished speaking.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبدالرحمن بن یزید بیان کرتے ہیں : میں حضرت عبدالله بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ہمراہ عرفات سے روانہ ہوا جب وہ مزدلفہ آئے تو انہوں نے یعنی حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے وقوف کیا جب صبح ہو گئی تو حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا اگر امیرالمومنین اب روانہ ہو جائیں تو وہ ٹھیک کام کریں گے ابھی حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کی بات ختم ہی ہوئی تھی کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ روانہ ہو گئے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام احمد نے ایک طویل حدیث میں نقل کی ہے روایت کے یہ الفاظ ان کے نقل کردہ ہیں اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

5567

Majma al-Zawaid #5567

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَفَ بِجَمْعٍ فَلَمَّا أَضَاءَ لَهُ كُلُّ شَيْءٍ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ أَفَاضَ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ زَمْعَةُ بْنُ صَّالِحِ، وَقَدْ وُثِّقَ، وَفِيهِ ضَعْفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما reports the Messenger of Allah ﷺ standing at Jam' and departing when all things grew bright before sunrise.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے مزدلفہ میں وقوف کیا ہوا تھا سورج کے طلوع ہونے سے پہلے جب ہر چیز آپ کے سامنے روشن ہو گئی تو آپ روانہ ہو گئے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی زمعہ بن صالح ہے ‘ جس کی توثیق کی گئی ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔