Majma al-Zawaid #5568
عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عَرَفَةَ: "" أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ تَطَوَّلَ عَلَيْكُمْ فِي هَذَا الْيَوْمِ فَغَفَرَ لَكُمْ إِلَّا التَّبِعَاتِ فِيمَا بَيْنَكُمْ، وَوَهَبَ مُسِيئَكُمْ لِمُحْسِنِكُمْ، وَأَعْطَى مُحْسِنَكُمْ مَا سَأَلَ، فَادْفَعُوا بِسْمِ اللَّهِ "". فَلَمَّا كَانَ بِجَمْعٍ قَالَ: "" إِنَّ اللَّهَ قَدْ غَفَرَ لِصَالِحِيكُمْ وَشَفَّعَ صَالِحِيكُمْ فِي طَالِحِيكُمْ، تَنْزِلُ الرَّحْمَةُ فَتَعُمُّهُمْ، ثُمَّ تُفَرَّقُ الْمَغْفِرَةُ فِي الْأَرْضِ فَتَقَعُ عَلَى كُلِّ تَائِبٍ مِمَّنْ حَفِظَ لِسَانَهُ وَيَدَهُ، وَإِبْلِيسُ وَجُنُودُهُ عَلَى جَبَلِ عَرَفَاتٍ، يَنْظُرُونَ مَا يَصْنَعُ اللَّهُ بِهِمْ، فَإِذَا نَزَلَتِ الْمَغْفِرَةُ دَعَا هُوَ وَجُنُودُهُ بِالْوَيْلِ، يَقُولُ: كُنْتُ أَسْتَفِزُّهُمْ حِقَبًا مِنَ الدَّهْرِ، ثُمَّ جَاءَتِ الْمَغْفِرَةُ فَغَشِيَتْهُمْ؟ فَيَتَفَرَّقُونَ وَهُمْ يَدْعُونَ بِالْوَيْلِ وَالثُّبُورِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
EnglishUnverified translation
Ubadah ibn al-Samit رضي الله عنه reports the Messenger of Allah ﷺ announcing on Arafah Allah's favor, forgiveness except mutual claims, gifting the wrongdoer to the righteous and granting the righteous their requests, commanding departure in Allah's name, then announcing at Jam' forgiveness of the righteous, intercession for the corrupt, enveloping mercy, forgiveness spreading to every repentant guardian of tongue and hand, while Iblis and his troops on Arafat's mountain, witnessing Allah's dealing, cry woe at forgiveness covering those he lured for ages, dispersing in ruin. > **"O people, Allah Almighty has favored you this day and forgiven you except mutual claims among you, and gifted your wrongdoer to your righteous, and given your righteous what he asked, so depart in the name of Allah. Allah has forgiven your righteous and interceded your righteous for your corrupt. Mercy descends and envelops them, then forgiveness is spread in the earth and falls upon every repentant who guarded his tongue and his hand. Iblis and his troops are upon the mountain of Arafat looking at what Allah does with them, and when forgiveness descends he and his troops call for woe, saying: I lured them for ages of time, then forgiveness came and covered them? So they disperse calling for woe and destruction."**
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : عرفہ کے دن نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اے لوگو ! بے شک اللہ تعالیٰ نے اس دن میں تم پر کرم کیا اور اس نے تمہاری مغفرت کر دی البتہ تمہارے آپس کے معاملات کا حکم مختلف ہے اس نے تمہارے برے شخص کو تمہارے اچھے کے حوالے کر دیا اور تمہارے اچھے شخص کو وہ چیز عطا کی جو اس نے مانگی تو تم اللہ کا نام لے کر روانہ ہو جاؤ جب نبی اکرم ﷺ مزدلفہ پہنچے ‘ تو آپ نے ارشاد فرمایا : بے شک اللہ تعالیٰ نے تمہارے نیک لوگوں کی مغفرت کر دی اور تمہارے نیک لوگوں کی شفاعت کو تمہارے برے لوگوں کے بارے میں قبول کیا رحمت نازل ہوتی ہے اور ان سب کو عام ہوتی ہے پھر مغفرت زمین میں پھیل جاتی ہے اور ہر توبہ کرنے والے شخص پر واقع ہو جاتی ہے ‘ جو اپنی زبان اور ہاتھ کی حفاظت کرتا ہے ابلیس اور اس کا لشکر عرفات کے پہاڑ پر موجود تھے اور وہ دیکھ رہے تھے کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے ساتھ کیا کر رہا ہے جب مغفرت نازل ہوئی تو ابلیس نے اور اس کے لشکر نے چیخ و پکار شروع کر دی اور یہ کہا میں ایک عرصہ تک ان لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتا رہا لیکن مغفرت آئی اور اس نے انہیں اپنی لپیٹ میں لے لیا پھر وہ شیاطین جب ادھر ادھر پھیلتے ہیں تو وہ تباہی اور بربادی پکار رہے ہوتے ہیں ( یعنی واویلا کر رہے ہوتے ہیں ) ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ‘ جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے اس کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔