Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 10 · Chapter 9

Book of Hajj

Hadith 5568–5607

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

5568

Majma al-Zawaid #5568

عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عَرَفَةَ: "" أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ تَطَوَّلَ عَلَيْكُمْ فِي هَذَا الْيَوْمِ فَغَفَرَ لَكُمْ إِلَّا التَّبِعَاتِ فِيمَا بَيْنَكُمْ، وَوَهَبَ مُسِيئَكُمْ لِمُحْسِنِكُمْ، وَأَعْطَى مُحْسِنَكُمْ مَا سَأَلَ، فَادْفَعُوا بِسْمِ اللَّهِ "". فَلَمَّا كَانَ بِجَمْعٍ قَالَ: "" إِنَّ اللَّهَ قَدْ غَفَرَ لِصَالِحِيكُمْ وَشَفَّعَ صَالِحِيكُمْ فِي طَالِحِيكُمْ، تَنْزِلُ الرَّحْمَةُ فَتَعُمُّهُمْ، ثُمَّ تُفَرَّقُ الْمَغْفِرَةُ فِي الْأَرْضِ فَتَقَعُ عَلَى كُلِّ تَائِبٍ مِمَّنْ حَفِظَ لِسَانَهُ وَيَدَهُ، وَإِبْلِيسُ وَجُنُودُهُ عَلَى جَبَلِ عَرَفَاتٍ، يَنْظُرُونَ مَا يَصْنَعُ اللَّهُ بِهِمْ، فَإِذَا نَزَلَتِ الْمَغْفِرَةُ دَعَا هُوَ وَجُنُودُهُ بِالْوَيْلِ، يَقُولُ: كُنْتُ أَسْتَفِزُّهُمْ حِقَبًا مِنَ الدَّهْرِ، ثُمَّ جَاءَتِ الْمَغْفِرَةُ فَغَشِيَتْهُمْ؟ فَيَتَفَرَّقُونَ وَهُمْ يَدْعُونَ بِالْوَيْلِ وَالثُّبُورِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ubadah ibn al-Samit رضي الله عنه reports the Messenger of Allah ﷺ announcing on Arafah Allah's favor, forgiveness except mutual claims, gifting the wrongdoer to the righteous and granting the righteous their requests, commanding departure in Allah's name, then announcing at Jam' forgiveness of the righteous, intercession for the corrupt, enveloping mercy, forgiveness spreading to every repentant guardian of tongue and hand, while Iblis and his troops on Arafat's mountain, witnessing Allah's dealing, cry woe at forgiveness covering those he lured for ages, dispersing in ruin. > **"O people, Allah Almighty has favored you this day and forgiven you except mutual claims among you, and gifted your wrongdoer to your righteous, and given your righteous what he asked, so depart in the name of Allah. Allah has forgiven your righteous and interceded your righteous for your corrupt. Mercy descends and envelops them, then forgiveness is spread in the earth and falls upon every repentant who guarded his tongue and his hand. Iblis and his troops are upon the mountain of Arafat looking at what Allah does with them, and when forgiveness descends he and his troops call for woe, saying: I lured them for ages of time, then forgiveness came and covered them? So they disperse calling for woe and destruction."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : عرفہ کے دن نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اے لوگو ! بے شک اللہ تعالیٰ نے اس دن میں تم پر کرم کیا اور اس نے تمہاری مغفرت کر دی البتہ تمہارے آپس کے معاملات کا حکم مختلف ہے اس نے تمہارے برے شخص کو تمہارے اچھے کے حوالے کر دیا اور تمہارے اچھے شخص کو وہ چیز عطا کی جو اس نے مانگی تو تم اللہ کا نام لے کر روانہ ہو جاؤ جب نبی اکرم ﷺ مزدلفہ پہنچے ‘ تو آپ نے ارشاد فرمایا : بے شک اللہ تعالیٰ نے تمہارے نیک لوگوں کی مغفرت کر دی اور تمہارے نیک لوگوں کی شفاعت کو تمہارے برے لوگوں کے بارے میں قبول کیا رحمت نازل ہوتی ہے اور ان سب کو عام ہوتی ہے پھر مغفرت زمین میں پھیل جاتی ہے اور ہر توبہ کرنے والے شخص پر واقع ہو جاتی ہے ‘ جو اپنی زبان اور ہاتھ کی حفاظت کرتا ہے ابلیس اور اس کا لشکر عرفات کے پہاڑ پر موجود تھے اور وہ دیکھ رہے تھے کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے ساتھ کیا کر رہا ہے جب مغفرت نازل ہوئی تو ابلیس نے اور اس کے لشکر نے چیخ و پکار شروع کر دی اور یہ کہا میں ایک عرصہ تک ان لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتا رہا لیکن مغفرت آئی اور اس نے انہیں اپنی لپیٹ میں لے لیا پھر وہ شیاطین جب ادھر ادھر پھیلتے ہیں تو وہ تباہی اور بربادی پکار رہے ہوتے ہیں ( یعنی واویلا کر رہے ہوتے ہیں ) ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ‘ جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے اس کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

5569

Majma al-Zawaid #5569

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ اللَّهَ تَطَوَّلَ عَلَى أَهْلِ عَرَفَاتٍ يُبَاهِي بِهِمُ الْمَلَائِكَةَ يَقُولُ: يَا مَلَائِكَتِي انْظُرُوا إِلَى عِبَادِي شُعْثًا غُبْرًا، أَقْبَلُوا يَضْرِبُونَ إِلَيَّ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ، فَأُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ أَجَبْتُ دُعَاءَهُمْ، وَشَفَعْتُ رَعِيَّتَهُمْ، وَوَهَبْتُ مُسِيئَهُمْ لِمُحْسِنِهِمْ، وَأَعْطَيْتُ مُحْسِنيهُمْ جَمِيعَ مَا سَأَلُونِي ; غَيْرَ التَّبِعَاتِ الَّتِي بَيْنَهُمْ. فَإِذَا أَفَاضَ الْقَوْمُ إِلَى جَمْعٍ، وَوَقَفُوا فَعَادُوا فِي الرَّغْبَةِ وَالطَّلَبِ إِلَى اللَّهِ فَيَقُولُ: يَا مَلَائِكَتِي عِبَادِي وَقَفُوا، فَعَادُوا فِي الرَّغْبَةِ وَالطَّلَبِ، فَأُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ أَجَبْتُ دُعَاءَهُمْ، وَشَفَعْتُ رَعِيَّتَهُمْ، وَوَهَبْتُ مُسِيئَهُمْ لِمُحْسِنِهِمْ، وَأَعْطَيْتُ مُحْسِنَيهُمْ جَمِيعَ مَا سَأَلُونِي، وَكَفَلْتُ عَنْهُمُ التَّبِعَاتِ الَّتِي بَيْنَهُمْ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ صَالِحٌ الْمُرِّيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Anas رضي الله عنه reports hearing the Messenger of Allah ﷺ describe Allah favoring Arafat's people, boasting to angels over disheveled dusty servants from every deep pass, witnessing answered supplication, accepted intercession, gifting wrongdoer to righteous and granting requests except mutual claims, then at Jam' renewing the witness with guarantee of mutual claims. > **"Allah favored the people of Arafat, boasting of them to the angels, saying: O My angels, look at My servants, disheveled, dusty, advancing toward Me from every deep pass. I make you witness that I have answered their supplication, interceded their subjects, gifted their wrongdoer to their righteous, and given their righteous all they asked Me, except mutual claims among them. When the people depart to Jam' and stand renewing desire and seeking to Allah, He says: O My angels, My servants stood and renewed desire and seeking. I make you witness that I have answered their supplication, interceded their subjects, gifted their wrongdoer to their righteous, given their righteous all they asked Me, and guaranteed from them the mutual claims among them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا بے شک اللہ تعالٰی اہل عرفات کی طرف توجہ فرماتا ہے اور ان کے حوالے سے فرشتوں کے سامنے فخر کا اظہار کرتے ہوئے فرماتا ہے : اے فرشتو ! تم میرے بندوں کی طرف دیکھو جو بکھرے ہوئے بالوں کے مالک اور غبار آلود ہیں وہ مختلف علاقوں سے چل کر میری طرف آئے ہیں میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے ان کی دعا کو قبول کیا اور ان کی رعایا کی شفاعت کو قبول کیا اور ان کے برے لوگوں کو ان کے اچھے لوگوں کے حوالے کر دیا اور ان کے اچھے لوگوں کو وہ تمام چیزیں عطا کیں جو انہوں نے مجھ سے مانگیں تھیں البتہ ان کے آپس کے معاملات کا معاملہ مختلف ہے جب لوگ مزدلفہ کی طرف روانہ ہوتے ہیں اور وہاں وقوف کرتے ہیں اور دوبارہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں رغبت اور طلب کا اظہار کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : اے میرے فرشتو میرے بندوں نے وقوف کیا ہوا ہے اور وہ دوبارہ مغفرت اور طلب کا اظہار کر رہے ہیں میں تمہیں گواہ بنا کر یہ کہتا ہوں کہ میں نے ان کی دعا کو قبول کیا اور جس چیز کی یہ دیکھ بھال کر رہے ہیں میں نے اس کے اجر کو زیادہ کر دیا ‘ اور ان کے برے افراد کو ان کے اچھے افراد کو ہبہ کر دیا ‘ اور ان کے اچھے افراد کو وہ تمام چیزیں عطا کر دیں جو انہوں نے مجھ سے مانگی تھیں اور میں نے ان کے آپس کے اختلافی معاملات کی بھی کفالت کر دی ‘‘۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی صالح مری ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

5570

Majma al-Zawaid #5570

«عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: قَدَّمَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَنْ قَدَّمَ مَعَ ضَعَفَةِ أَهْلِهِ لَيْلَةَ الْمُزْدَلِفَةِ، قَالَتْ: فَرَمَيْتُ الْجَمْرَةَ بِلَيْلٍ، ثُمَّ مَضَيْتُ إِلَى مَكَّةَ فَصَلَّيْتُ بِهَا الصُّبْحَ، ثُمَّ رَجَعْتُ إِلَى مِنًى». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ أَبِي دَاوُدَ قَالَ ابْنُ الْقَطَّانِ: لَا يُعْرَفُ.

EnglishUnverified translation

Umm Salamah رضي الله عنها reports the Messenger of Allah ﷺ sending her forward among his weak family on Muzdalifah night, whereupon she stoned the Jamrah by night, proceeded to Mecca praying Fajr there, then returned to Mina.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہما بیان کرتی ہیں نبی اکرم ﷺ نے اپنے اہل خانہ میں سے جن کمزور افراد کو مزدلفہ کی رات پہلے روانہ کر دیا تھا میں بھی ان میں شامل تھی سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں میں نے رات میں ہی جمرات کو کنکریاں مار دیں پھر میں مکہ آ گئی اور وہاں میں نے صبح کی نماز ادا کی پھر میں واپس منیٰ چلی گئی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن ابوداؤد ہے ابن قطان کہتے ہیں : یہ معروف نہیں ہے ۔

5571

Majma al-Zawaid #5571

عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ: «رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْضَعَ فِي وَادِي مُحَسِّرٍ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي سَبْرَةَ، وَهُوَ كَذَّابٌ.

EnglishUnverified translation

Sa'd ibn Abi Waqqas رضي الله عنه reports seeing the Prophet ﷺ hasten in the valley of Muhassir.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا کہ آپ وادی محسر سے جلدی گزر گئے تھے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابوبکر بن ابوسبرہ ہے اور وہ کذاب ہے ۔

5572

Majma al-Zawaid #5572

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا أَتَى مُحَسِّرًا حَرَّكَ رَاحِلَتَهُ وَقَالَ: "" عَلَيْكُمْ بِحَصَى الْخَذْفِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ، وَهُوَ حَسَنُ الْحَدِيثِ.

EnglishUnverified translation

Ibn Umar رضي الله عنهما reports the Messenger of Allah ﷺ, upon reaching Muhassir, urging his mount and commanding chickpea-sized pebbles. > **"Upon you is the pebbles of khadhf."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ جب محسر پہنچتے تھے تو اپنی سواری کو حرکت دے دیتے تھے اور یہ فرماتے تھے : تم پر لازم ہے کہ تم چٹکی میں آنے والی کنکریاں چنو ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور وہ حسن الحدیث ہے ۔

5573

Majma al-Zawaid #5573

عَنْ أَنَسٍ قَالَ: «نَزَّلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمِنَّا الْمُكَبِّرُ وَمِنَّا الْمُهِلُّ، فَلَمْ يَعِبْ مُكَبِّرُنَا عَلَى مُهِلِّنَا، وَلَا مُهِلُّنَا عَلَى مُكَبِّرِنَا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ. وَقَدْ تَقَدَّمَ حَدِيثُ عَلِيٍّ وَغَيْرِهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَزَلْ يُلَبِّي حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ» فِي بَابِ التَّلْبِيَةِ.

EnglishUnverified translation

Anas رضي الله عنه reports lodging with the Messenger of Allah ﷺ with some uttering takbir and some uttering tahlil, neither party faulting the other.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ پڑاؤ کیا ہم میں سے کچھ لوگ تکبیر پڑھ رہے تھے اور کچھ لوگ تلبیہ پڑھ رہے تھے تو تکبیر پڑھنے والا تلبیہ پڑھنے والے پر اور تلبیہ پڑھنے والا تکبیر پڑھنے والے پر کوئی اعتراض نہیں کر رہا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔ اس سے پہلے حضرت علی رضی اللہ عنہ اور دیگر صحابہ کرام کے حوالے سے یہ حدیث گزر چکی ہے کہ نبی اکرم ﷺ جمرہ عقبہ کو کنکریاں مارنے تک مسلسل تلبیہ پڑھتے رہے تھے یہ روایت تلبیہ پڑھنے سے متعلق باب میں گزری ہے ۔

5574

Majma al-Zawaid #5574

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُشَيِّعُهُ مَعَ أَهْلِهِ إِلَى مِنًى يَوْمَ النَّحْرِ لِيَرْمُوا الْجَمْرَةَ مَعَ الْفَجْرِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ شُعْبَةُ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، وَثَّقَهُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ، وَفِيهِ كَلَامٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما reports the Prophet ﷺ sending him with his family to Mina on sacrifice day to stone the Jamrah at dawn.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے قربانی کے دن انہیں اپنے اہل خانہ کے ہمراہ منی کی طرف بھیج دیا تھا تاکہ وہ صبح صادق کے ساتھ ہی جمرات کو کنکریاں مار لیں ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی شعبہ ہے ‘ جو حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا غلام ہے امام احمد اور دیگر حضرات نے اسے ثقہ قرار دیا ہے اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔

5575

Majma al-Zawaid #5575

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: «لَا أَدْرِي بِكَمْ رَمَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Jabir رضي الله عنه reports not knowing with how many pebbles the Messenger of Allah ﷺ stoned.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : مجھے نہیں معلوم کہ نبی اکرم ﷺ نے اسے کتنی کنکریاں ماری تھیں ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

5576

Majma al-Zawaid #5576

وَعَنْ حَرْمَلَةَ بْنِ عَمْرٍو - وَهُوَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ - قَالَ: «حَجَجْتُ حَجَّةَ الْوَدَاعِ مُرْدِفِي عَمِّي سِنَانُ بْنُ سَنَّةَ، قَالَ: فَلَمَّا وَقَفْنَا بِعَرَفَاتٍ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاضِعًا إِحْدَى أُصْبُعَيْهِ عَلَى الْأُخْرَى، فَقُلْتُ لِعَمِّي: مَا يَقُولُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: يَقُولُ: "" ارْمُوا الْجَمْرَةَ بِمِثْلِ حَصَى الْخَذْفِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Harmalah ibn Amr, Abu Abdur Rahman رضي الله عنه, reports performing the Farewell Hajj riding behind his uncle Sinan ibn Sannah, seeing the Messenger of Allah ﷺ at Arafat placing one finger upon another, and his uncle explaining the command to stone the Jamrah with pebbles like khadhf. > **"Stone the Jamrah with the like of the pebbles of khadhf."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت حرملہ بن عمرو رضی اللہ عنہ جو ابوعبدالرحمن ہیں وہ بیان کرتے ہیں : حجتہ الوداع کے موقع پر میں اپنے چچا حضرت سنان بن سنہ رضی اللہ عنہ کے پیچھے سواری پر موجود تھا جب ہم نے عرفات میں وقوف کیا ہوا تھا تو میں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا کہ آپ نے اپنی ایک انگلی دوسری پر رکھی ہوئی تھی میں نے اپنے چچا سے دریافت کیا : نبی اکرم ﷺ کیا ارشاد فرما رہے ہیں ؟ انہوں نے بتایا آپ فرما رہے ہیں : تم چٹکی میں آنے والی کنکریاں مارنا ۔ یہ روایت امام احمد نے امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

5577

Majma al-Zawaid #5577

وَعَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَمْرٍو الْأَسْلَمِيِّ قَالَ: «رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَةَ وَعَمِّي مُرْدِفِي، وَهُوَ وَاضِعٌ أُصْبُعَيْهِ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى، فَقُلْتُ: مَا يَقُولُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: يَقُولُ: "" ارْمُوا الْجِمَارَ بِمِثْلِ حَصَى الْخَذْفِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ، قَالَ: لَمْ يَرْوِهِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ إِلَّا أَيُّوبُ - يَعْنِي الْغَافِقِيَّ - وَرَوَاهُ النَّاسُ عَنِ ابْنِ حَرْمَلَةٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ هِنْدٍ، عَنْ أَسْلَمَ بْنِ خَارِجَةَ.

EnglishUnverified translation

Hamzah ibn Amr al-Aslami رضي الله عنه reports seeing the Messenger of Allah ﷺ at Arafah while riding behind his uncle with fingers one upon another, and his uncle explaining the command to stone the Jamarat with pebbles like khadhf. > **"Stone the Jamarat with the like of the pebbles of khadhf."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت حمزہ بن عمرو اسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے عرفہ میں نبی اکرم ﷺ کو دیکھا میرے چچا نے مجھے پیچھے بٹھایا ہوا تھا نبی اکرم ﷺ نے اپنی ایک انگلی دوسری پر رکھی ہوئی تھی میں نے دریافت کیا : نبی اکرم ﷺ کیا ارشاد فرما رہے ہیں ؟ انہوں نے بتایا : نبی اکرم ﷺ یہ فرما رہے ہیں کہ جمرات کو ایسی کنکریاں مارو جو چٹکی میں آ جاتی ہوں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں وہ فرماتے ہیں : اس سند کے ساتھ اس روایت کو صرف ایوب نے یعنی غافقی نے نقل کیا ہے لوگوں نے اسے ابن حرملہ کے حوالے سے یحیی بن ہند کے حوالے سے اسلم بن خارجہ سے نقل کیا ہے ۔

5578

Majma al-Zawaid #5578

وَعَنِ الْهِرْمَاسِ بْنِ زِيَادٍ قَالَ: «رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَنَا رَدِيفُ أَبِي - وَهُوَ عَلَى نَاقَتِهِ الْعَضْبَاءِ يَوْمَ الْأَضْحَى وَالنَّاسُ حَوْلَهُ، فَقُلْتُ لِأَبِي: مَا يَقُولُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: يَقُولُ: "" ارْمُوا الْجِمَارَ بِمِثْلِ حَصَى الْخَذْفِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Hirmas ibn Ziyad رضي الله عنه reports seeing the Prophet ﷺ while riding behind his father upon the she-camel al-Adba on sacrifice day with people around, and his father explaining the command to stone the Jamarat with pebbles like khadhf. > **"Stone the Jamarat with the like of the pebbles of khadhf."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ہرماس بن زیاد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا میں اپنے والد کے پیچھے سواری پر موجود تھا قربانی کے دن آپ اپنی اونٹنی عضباء پر موجود تھے لوگ آپ کے ارد گرد موجود تھے میں نے اپنے والد سے دریافت کیا : نبی اکرم ﷺ کیا ارشاد فرما رہے ہیں : میرے والد نے بتایا آپ یہ فرما رہے ہیں تم چٹکی میں آنے والی کنکریاں مارنا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

5579

Majma al-Zawaid #5579

وَعَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «ارْمُوا جَمَرَاتِ مُضَرَ "". وَكَانَتْ كُلُّ قَبِيلَةٍ تَرْمِي جَمْرَةً». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Asma bint Abi Bakr رضي الله عنها reports the Messenger of Allah ﷺ commanding stoning of the Jamarat of Mudar, whereas each tribe used to stone a Jamrah. > **"Stone the Jamarat of Mudar."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ مضر کے جمرات کو کنکریاں مارنا ‘‘ ( راوی بیان کرتے ہیں : ) پہلے ہر قبیلہ مخصوص جمرہ کو کنکریاں مارا کرتا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

5580

Majma al-Zawaid #5580

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُثْمَانَ التَّيْمِيِّ قَالَ: «أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَرْمِيَ الْجِمَارَ بِمِثْلِ حَصَى الْخَذْفِ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abdur Rahman ibn Uthman al-Taymi رضي الله عنه reports the Messenger of Allah ﷺ commanding them in the Farewell Hajj to stone the Jamarat with pebbles like khadhf.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبدالرحمن بن عثمان تیمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : اللہ کے رسول نے ہمیں یہ حکم دیا کہ ہم جمرات کو ایسی کنکریاں ماریں جو چٹکی میں آ جاتی ہوں یہ حجتہ الوداع کے موقع کی بات ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

5581

Majma al-Zawaid #5581

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: «رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَفَ عِنْدَ الْجَمْرَةِ الثَّانِيَةِ أَطْوَلَ مِمَّا وَقَفَ عِنْدَ الْجَمْرَةِ الْأُولَى، ثُمَّ أَتَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ فَرَمَاهَا وَلَمْ يَقِفْ عِنْدَهَا». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، وَفِيهِ كَلَامٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Amr رضي الله عنهما reports seeing the Prophet ﷺ stand longer at the second Jamrah than at the first, then come to Jamrat al-Aqabah, stone it, and not stand there.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا آپ نے دوسرے جمرہ کے قریب پہلے جمرہ سے زیادہ طویل وقوف کیا تھا پھر آپ جمرہ عقبہ کے پاس آئے آپ نے اسے کنکریاں ماریں لیکن آپ اس کے پاس ٹھہرے نہیں ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔

5582

Majma al-Zawaid #5582

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَرْمِي حَتَّى تَزُولَ الشَّمْسُ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، وَفِيهِ كَلَامٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما reports the Prophet ﷺ would not stone until the sun had declined.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ اس وقت تک کنکریاں نہیں مارتے تھے جب تک سورج ڈھل نہیں جاتا تھا ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔

5583

Majma al-Zawaid #5583

وَعَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: «يَزْعُمُ قَوْمُكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَعَى بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، وَأَنَّ ذَلِكَ سُنَّةٌ؟ قَالَ: صَدَقُوا ; إِنِّ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ لَمَّا أُمِرَ بِالْمَنَاسِكِ اعْتَرَضَ عَلَيْهِ الشَّيْطَانُ عِنْدَ الْمَسْعَى، فَسَابَقَهُ فَسَبَقَهُ إِبْرَاهِيمُ، ثُمَّ ذَهَبَ بِهِ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ إِلَى جَمْرَةِ الْعَقَبَةِ، فَعَرَضَ لَهُ الشَّيْطَانُ فَرَمَاهُ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ حَتَّى ذَهَبَ، ثُمَّ عَرَضَ لَهُ عِنْدَ الْجَمْرَةِ الْوُسْطَى فَرَمَاهُ بِسَبْعِ حَصَيَاتِ، وَثَمَّ تَلَّهُ لِلْجَبِينِ، وَعَلَى إِسْمَاعِيلَ قَمِيصٌ أَبْيَضُ فَقَالَ: يَا أَبَتِ إِنَّهُ لَيْسَ لِي ثَوْبٌ تُكَفِّنُنِي فِيهِ غَيْرُهُ، فَاخْلَعْهُ حَتَّى تُكَفِّنَنِي فِيهِ فَعَالَجَهُ لِيَخْلَعَهُ، فَنُودِيَ مِنْ خَلْفِهِ: أَنْ يَا إِبْرَاهِيمُ قَدْ صَدَّقْتَ الرُّؤْيَا فَالْتَفَتَ إِبْرَاهِيمُ، فَإِذَا هُوَ بِكَبْشٍ أَبْيَضَ أَقْرَنَ أَعْيَنَ. قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: لَقَدْ رَأَيْتُنَا نَتْبَعُ ذَلِكَ الضَّرْبَ مِنَ الْكِبَاشِ قَالَ: ثُمَّ ذَهَبَ بِهِ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ إِلَى الْجَمْرَةِ الْقُصْوَى، فَعَرَضَ لَهُ الشَّيْطَانُ، فَرَمَاهُ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ حَتَّى ذَهَبَ. ثُمَّ ذَهَبَ بِهِ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ إِلَى مِنًى. قَالَ: هَذَا مِنًى. قَالَ يُونُسُ: هَذَا مُنَاخُ النَّاسِ، ثُمَّ أَتَى بِهِ جَمْعًا فَقَالَ: هَذَا الْمَشْعَرُ الْحَرَامُ. ثُمَّ ذَهَبَ بِهِ إِلَى عَرَفَةَ. قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: هَلْ تَدْرِي لِمَ سُمِّيَتْ عَرَفَةَ؟ قُلْتُ: لَا. قَالَ: إِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ قَالَ لِإِبْرَاهِيمَ عَرَفْتَ؟ - قَالَ يُونُسُ: هَلْ عَرَفْتَ؟ - قَالَ: نَعَمْ. قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَمِنْ ثَمَّ سُمِّيَتْ عَرَفَةَ. ثُمَّ قَالَ: هَلْ تَدْرِي كَيْفَ كَانَتِ التَّلْبِيَةُ؟ قُلْتُ: وَكَيْفَ كَانَتْ؟ قَالَ: إِنَّ إِبْرَاهِيمَ لَمَّا أُمِرَ أَنْ يُؤَذِّنَ فِي النَّاسِ بِالْحَجِّ خَفَضَتْ لَهُ الْجِبَالُ رُءُوسَهَا، وَرُفِعَتْ لَهُ الْقُرَى، فَأَذَّنَ فِي النَّاسِ بِالْحَجِّ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abu al-Tufayl reports asking Ibn Abbas رضي الله عنهما whether his people's claim that the Messenger of Allah ﷺ ran between Safa and Marwah as sunnah was true, and he affirmed it, then narrated that when Ibrahim عليه السلام was commanded the rites Satan confronted him at the Mas'a and raced him but Ibrahim outran him, then Jibril عليه السلام took him to Jamrat al-Aqabah where Satan appeared and he stoned him with seven until he left, then at the middle Jamrah he stoned him with seven, then laid him for the forehead while Ismail عليه السلام wore a white shirt and asked his father to remove it for shrouding as he owned no other garment, and while removing it he was called from behind that he had fulfilled the vision, whereupon Ibrahim turned to a white horned dark-eyed ram, a breed Ibn Abbas said they used to seek, then Jibril took him to the farthest Jamrah where he stoned Satan with seven until he left, then to Mina as the camping place of people, then to Jam' as al-Mash'ar al-Haram, then to Arafah, where Jibril asked had he recognized and he answered yes, hence its naming, then explained that when Ibrahim was commanded to call people to Hajj the mountains lowered heads and villages were raised for him so he called mankind to Hajj.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوطفیل بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا : آپ کی قوم کا یہ کہنا ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے صفا اور مروہ کے درمیان سعی کی تھی اور یہ چیز سنت ہے انہوں نے بتایا کہ ان لوگوں نے سچ کہا ہے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو جب مناسک ادا کرنے کا حکم دیا گیا تو شیطان سعی کے ایک مقام پر ان کے سامنے آیا اس نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ دوڑ لگائی تو حضرت ابراہیم علیہ السلام اس سے آگے نکل گئے پھر حضرت جبرائیل عالی ہم انہیں ساتھ لے کر جمرہ عقبہ کی طرف گئے تو شیطان ان کے سامنے آیا تو انہوں نے اسے سات کنکریاں ماریں یہاں تک کہ وہ چلا گیا پھر وہ درمیانی جمرہ کے پاس ان کے سامنے آیا تو انہوں نے اسے سات کنکریاں ماریں وہیں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو لٹا دیا حضرت اسماعیل علیہ السلام کے جسم پر ایک سفید قمیص تھی ۔ انہوں نے کہا : اے ابا جان ! میرے پاس اور کوئی ایسا کپڑا نہیں ہے ‘ جس میں آپ مجھے کفن دیں تو آپ اسے اتار دیں اور اس میں مجھے کفن دے دیجئے گا جب حضرت ابراہیم علیہ السلام اسے اتارنے لگے تو ان کے پیچھے سے پکار کر کہا گیا : اے ابراہیم ! تم نے خواب کو سچ کر دیا ہے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مڑ کر دیکھا تو وہاں ایک سینگوں والا سفید رنگ کا سیاہ آنکھوں والا دنبہ موجود تھا حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : مجھے اپنے بارے میں یہ بات یاد ہے کہ ہم اس قسم کے دنبے تلاش کیا کرتے تھے راوی بیان کرتے ہیں : پھر حضرت جبرائیل علیہ السلام انہیں لے کر جمرہ قصوی کی طرف گئے شیطان ان کے سامنے آیا انہوں نے اسے سات کنکریاں ماریں یہاں تک کہ وہ چلا گیا پھر حضرت جبرائیل انہیں لے کر منی کی طرف گئے اور بولے یہ منی ہے یونس بیان کرتے ہیں : یعنی لوگوں کے ٹھہرنے کی جگہ ہے پھر وہ انہیں لے کر مزدلفہ آئے اور بولے یہ مشعر حرام ہے پھر وہ انہیں لے کر عرفہ گئے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کیا تم یہ بات جانتے ہو عرفہ کا یہ نام کیوں رکھا گیا ہے ؟ میں نے جواب دیا : جی نہیں ! انہوں نے فرمایا : حضرت جبرائیل علیہ السلام نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے دریافت کیا : کیا تم نے پہچان لیا ہے ( یہاں ایک لفظ یونس نامی راوی نے مختلف نقل کیا ہے ) حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جواب دیا : جی ہاں ! حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : اسی وجہ سے اس جگہ کا نام عرفہ رکھا گیا ہے پھر انہوں نے فرمایا : کیا آپ جانتے ہیں تلبیہ کیسے ہوتا ہے میں نے جواب دیا وہ کیسا ہوتا تھا ؟ انہوں نے بتایا جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کو یہ حکم دیا گیا کہ وہ لوگوں کے درمیان حج کا اعلان کریں تو تمام پہاڑ ان کے سامنے پست ہو گئے اور وادیاں کے سامنے بلند کر دی گئیں تو ان کے درمیان انہوں نے حج کا اعلان کیا ۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

5584

Majma al-Zawaid #5584

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ جِبْرِيلَ ذَهَبَ بِإِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ إِلَى جَمْرَةِ الْعَقَبَةِ، فَعَرَضَ لَهُ الشَّيْطَانُ، فَرَمَاهُ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ فَسَاخَ، ثُمَّ أَتَى الْجَمْرَةَ الْوُسْطَى فَعَرَضَ لَهُ الشَّيْطَانُ، فَرَمَاهُ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ فَسَاخَ، ثُمَّ أَتَى الْجَمْرَةَ الْقُصْوَى فَرَمَاهُ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ فَسَاخَ، فَلَمَّا أَرَادَ إِبْرَاهِيمُ أَنْ يَذْبَحَ ابْنَهُ إِسْحَاقَ قَالَ لِأَبِيهِ: يَا أَبَتِ أَوْثِقْنِي ; لَا أَضْطَرِبُ فَيَنْتَضِحُ عَلَيْكَ مِنْ دَمِي إِذَا ذَبَحْتَنِي. فَشَدَّهُ، فَلَمَّا أَحَدَّ الشَّفْرَةَ وَأَرَادَ أَنْ يَذْبَحَهُ نُودِيَ مِنْ خَلْفِهِ: أَنْ يَا إِبْرَاهِيمُ قَدْ صَدَّقْتَ الرُّؤْيَا». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، وَقَدِ اخْتَلَطَ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما reports the Messenger of Allah ﷺ describing Jibril taking Ibrahim عليه السلام to Jamrat al-Aqabah where Satan appeared and he stoned him with seven until he sank, then to the middle Jamrah where he stoned him with seven until he sank, then to the farthest Jamrah where he stoned him with seven until he sank, then when Ibrahim intended to slaughter his son and his son asked to be bound against trembling lest blood sprinkle his father, he bound him, sharpened the blade, and was called from behind that he had fulfilled the vision. > **"Jibril took Ibrahim to Jamrat al-Aqabah, and Satan appeared to him, so he stoned him with seven pebbles and he sank. Then he came to the middle Jamrah and Satan appeared to him, so he stoned him with seven pebbles and he sank. Then he came to the farthest Jamrah and stoned him with seven pebbles and he sank. When Ibrahim intended to slaughter his son, his son said to his father: O father, bind me lest I shake and my blood sprinkle upon you when you slaughter me. So he bound him, and when he sharpened the blade and intended to slaughter him, he was called from behind: O Ibrahim, you have fulfilled the vision."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ حضرت جبرائیل حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ساتھ لے کر جمرہ عقبہ کی طرف گئے شیطان ان کے سامنے آیا تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اسے سات کنکریاں ماریں تو وہ ( زمین میں دھنس گیا ) پھر وہ درمیانی جمرہ کے پاس آئے تو شیطان ان کے سامنے آیا انہوں نے اسے سات کنکریاں ماریں تو وہ دھنس گیا پھر وہ جمرہ قصوی کے پاس آئے تو انہوں نے اسے سات کنکریاں ماریں تو وہ دھنس گیا حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے صاحبزادے حضرت اسحاق علیہ السلام کو ذبح کرنے کا ارادہ کیا ‘ تو ( یہاں متن میں یہی مذکور ہے لیکن درست یہ ہے کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کو ذبح کرنے کا ارادہ کیا ) تو انہوں نے اپنے والد سے کہا : اے میرے ابا جان جب آپ مجھے ذبح کرنے لگیں گے تو آپ مجھے باندھ دیجئے گا کیونکہ اگر میں تڑپ تو میرے خون کے چھینٹے آپ پر پڑیں گے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے انہیں باندھ دیا جب انہوں نے چھری تیز کی اور انہیں ذبح کرنے کا ارادہ کیا ‘ تو پیچھے سے انہیں یہ کہا گیا : اے ابراہیم ! تم نے خواب کو سچا کر دیا ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے ‘ جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔

5585

Majma al-Zawaid #5585

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «جَاءَ جِبْرِيلُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُرِيَهُ الْمَنَاسِكَ، فَانْفَرَجَ لَهُ ثُبَيْرٌ، فَدَخَلَ مِنًى فَأَرَاهُ الْجِمَارَ، ثُمَّ أَرَاهُ جَمْعًا، وَأَرَاهُ عَرَفَاتٍ، فَلَمَّا كَانَ عِنْدَ الْجَمْرَةِ نَبَعَ لَهُ إِبْلِيسُ، فَرَمَاهُ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ فَسَاخَ، ثُمَّ نَبَغَ لَهُ حَتَّى ذَكَرَ جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ، فَسَاخَ فَذَهَبَ».

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما reports Jibril عليه السلام coming to the Prophet ﷺ to show him the rites, Thabir parting, entering Mina showing the Jamarat, then showing Jam' and Arafat, and at the Jamrah Iblis springing forth whereupon he stoned him with seven until he sank, repeating until Jamrat al-Aqabah where he sank and departed.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : حضرت جبرائیل علیہ السلام نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے تاکہ آپ کو مناسک دکھائیں ثبیر آپ کے سامنے آیا نبی اکرم ﷺ منی میں داخل ہو گئے ۔ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو جمرات دکھائے پھر آپ کو مزدلفہ دکھایا پھر آپ کو عرفات دکھایا جب آپ جمرہ کے پاس تھے تو شیطان ان کے سامنے آیا آپ نے اسے سات کنکریاں ماریں تو وہ دھنس گیا پھر وہ آپ کے سامنے آیا یہاں تک کہ انہوں نے جمرہ عقبہ کا بھی ذکر کیا کہ وہ وہاں بھی وہ دھنس گیا اور پھر چلا گیا ۔

5586

Majma al-Zawaid #5586

وَفِي رِوَايَةٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَيْضًا قَالَ: «انْطَلَقَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُرِيَهُ الْمَنَاسِكَ، فَأَتَى بِهِ جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ، فَإِذَا إِبْلِيسُ عَلَيْهَا، فَأَمَرَهُ فَرَمَاهُ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ فَسَاخَ فِي الْأَرْضِ، ثُمَّ أَتَى الْجَمْرَةَ الْوُسْطَى، فَإِذَا هُوَ بِإِبْلِيسَ، فَأَمَرَهُ فَرَمَاهُ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ، فَسَاخَ فِي الْأَرْضِ، ثُمَّ أَتَى الثَّالِثَةَ فَفَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ. ثُمَّ أَتَى جَمْعًا، ثُمَّ لَبَّى مِنْ عَرَفَاتٍ». رَوَاهُ كُلَّهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، وَقَدِ اخْتَلَطَ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما reports Jibril عليه السلام taking the Prophet ﷺ to show the rites, bringing him to Jamrat al-Aqabah where Iblis stood and commanding him whereupon he stoned him with seven until he sank in the earth, then to the middle Jamrah likewise, then to the third likewise, then to Jam', then calling Labbayk from Arafat.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے منقول ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : حضرت جبرائیل نبی اکرم ﷺ کو ساتھ لے کر گئے تاکہ انہیں مناسک دکھائیں وہ انہیں لے کر جمرہ عقبہ کے پاس آئے تو وہاں ابلیس موجود تھا حضرت جبرائیل علیہ السلام نے ان سے کہا : تو انہوں نے اسے سات کنکریاں ماریں تو وہ زمین میں دھنس گیا پھر وہ جمرہ وسطی کے پاس آئے تو وہاں بھی ابلیس موجود تھا حضرت جبرائیل علیہ السلام نے انہیں کہا تو انہوں نے سات کنکریاں ماریں تو وہ زمین میں دھنس گیا پھر وہ تیسرے جمرہ کے پاس آئے تو وہاں بھی ایسا کیا پھر وہ مزدلفہ آئے تو انہوں نے وہاں سے تلبیہ پڑھا ۔ یہ تمام روایات امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہیں ۔ ان کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے ‘ جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔

5587

Majma al-Zawaid #5587

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ «أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ رَمْيِ الْجِمَارِ: مَا لَنَا فِيهِ؟ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: "" تَجِدُ ذَلِكَ عِنْدَ رَبِّكَ أَحْوَجَ مَا تَكُونُ إِلَيْهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ، وَفِيهِ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، وَفِيهِ كَلَامٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Umar رضي الله عنهما reports a man asking the Prophet ﷺ about stoning the Jamarat and its reward, and hearing him promise finding it with the Lord when most needed. > **"You shall find that with your Lord when you are most in need of it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے نبی اکرم ﷺ سے جمرات کو کنکریاں مارنے کے بارے میں دریافت کیا : ہمیں اس کا کیا ثواب ملے گا تو میں نے آپ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ‘‘ تم اپنے پروردگار کے پاس انہیں اس وقت پاؤ گے جب تمہیں ان کی شدید ضرورت ہو گی ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔

5588

Majma al-Zawaid #5588

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا رَمَيْتَ الْجِمَارَ كَانَ لَكَ نُورًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ صَالِحٌ مَوْلَى التَّوْأَمَةِ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما reports the Messenger of Allah ﷺ promising the stoning of the Jamarat as light on the Day of Resurrection. > **"When you stone the Jamarat, it shall be for you a light on the Day of Resurrection."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جب تم جمرات کو کنکریاں مارو گے تو قیامت کے دن یہ چیز تمہارے لئے نور ہو گی ‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی صالح مولی توامہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

5589

Majma al-Zawaid #5589

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قُلْنَا: «يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذِهِ الْجِمَارُ الَّتِي تُرْمَى كُلَّ سَنَةٍ، فَنَحْسَبُ أَنَّهَا تَنْقُصُ؟ فَقَالَ: "" مَا يُقْبَلُ مِنْهَا رُفِعَ، وَلَوْلَا ذَلِكَ رَأَيْتُمُوهَا مِثْلَ الْجِبَالِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ التَّمِيمِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Sa'id رضي الله عنه reports asking the Messenger of Allah ﷺ about the Jamarat stoned yearly supposing they diminish, whereupon he explained that accepted pebbles are raised, else they would appear like mountains. > **"What is accepted thereof is lifted, and were it not so you would have seen them like mountains."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ جمرات کا کیا معاملہ ہے انہیں ہر سال کنکریاں ماری جاتی ہیں تو ہم یہ گمان کرتے ہیں کہ یہ کم ہو جاتی ہیں نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ان میں سے جو مقبول ہوتی ہیں وہ اٹھا لی جاتی ہیں اگر ایسا نہ ہوتا تو تم پہاڑوں جتنی کنکریاں دیکھتے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یزید بن سنان تمیمی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

5590

Majma al-Zawaid #5590

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ لِلرِّعَاءِ أَنْ يَرْمُوا لَيْلًا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي فَرْوَةَ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما reports the Messenger of Allah ﷺ permitting herdsmen to stone by night.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے چرواہوں کو یہ رخصت دی تھی کہ وہ رات کے وقت رمی کر لیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن بن عبداللہ بن ابوفروہ ہے اور وہ متروک ہے ۔

5591

Majma al-Zawaid #5591

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ، «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ لِرُعَاةِ الْإِبِلِ أَنْ يَرْمُوا بِاللَّيْلِ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ الزَّنْجِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَقَدْ وُثِّقَ.

EnglishUnverified translation

Ibn Umar رضي الله عنهما reports the Messenger of Allah ﷺ permitting camel herdsmen to stone by night.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے اونٹوں کے چرواہوں کو یہ رخصت دی تھی کہ وہ رات کے وقت رمی کر لیں ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی مسلم بن خالد زنگی ہے اور وہ ضعیف ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔

5592

Majma al-Zawaid #5592

عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَمْعَةَ قَالَ: وَحَدَّثَتْنِي أُمُّ قَيْسٍ بِنْتُ مِحْصَنٍ - وَكَانَتْ جَارَةً لَهُمْ - قَالَتْ: خَرَجَ مِنْ عِنْدِي عُكَّاشَةُ بْنُ مِحْصَنٍ فِي نَفَرٍ مِنْ بَنِي أَسَدٍ مُتَقَمِّصِينَ عَشِيَّةَ يَوْمِ النَّحْرِ، ثُمَّ رَجَعُوا إِلَيَّ عِشَاءً وَقُمُصُهُمْ عَلَى أَيْدِيهِمْ يَحْمِلُونَهَا. قَالَتْ: فَقُلْتُ: أَيْ عُكَّاشَةُ مَا لَكُمْ خَرَجْتُمْ مُتَقَمِّصِينَ، ثُمَّ رَجَعْتُمْ وَقُمُصُكُمْ عَلَى أَيْدِيكُمْ تَحْمِلُونَهَا؟ قَالَ: خَيْرًا يَا أُمَّ قَيْسٍ، هَذَا يَوْمٌ رُخِّصَ لَنَا فِيهِ إِذَا نَحْنُ رَمَيْنَا الْجَمْرَةَ حَلَلْنَا مِنْ كُلِّ مَا أَحْرَمْنَا مِنْهُ إِلَّا مَا كَانَ مِنَ النِّسَاءِ حَتَّى نَطُوفَ بِالْبَيْتِ، فَإِذَا أَمْسَيْنَا وَلَمْ نَطُفْ بِهِ صِرْنَا حُرُمًا كَهَيْئَتِنَا قَبْلَ أَنْ نَرْمِيَ الْجَمْرَةَ حَتَّى نَطُوفَ بِهِ وَلَمْ نَطُفْ، فَجَعَلْنَا قُمُصَنَا كَمَا تَرَيْنَ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Ubaydah ibn Abdillah ibn Zam'ah reports Umm Qays bint Mihsan رضي الله عنها, their neighbor, narrating that Ukashah ibn Mihsan رضي الله عنه went out with Banu Asad wearing shirts on sacrifice evening, returning at night carrying shirts in hands, and upon questioning explained the concession that stoning the Jamrah rendered lawful all ihram prohibitions except women until circumambulating the House, but evening arrival without tawaf returned them to sacred state as before stoning until tawaf, hence their shirts as seen.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوعبیدہ بن عبداللہ بن زمعہ بیان کرتے ہیں : سیدہ ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا نے مجھے حدیث بیان کی ہے یہ خاتون ان لوگوں کی پڑوسن تھیں وہ بیان کرتی ہیں حضرت عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ بنو اسد کے کچھ افراد کے ہمراہ میرے پاس سے نکلے قربانی کے دن شام کے وقت انہوں نے قمیصیں پہنی ہوئی تھیں جب وہ عشاء کے وقت میرے پاس واپس آئے تو ان کی قمیصیں ان کے ہاتھوں میں تھیں جنہیں ۔ انہوں نے اٹھایا ہوا تھا ( یعنی انہیں اتار دیا ہوا تھا ) وہ خاتون بیان کرتی ہیں میں نے کہا : اے عکاشہ تمہیں کیا ہوا ہے جب تم گئے تھے تو تم نے قمیصیں پہنی ہوئی تھیں اور جب تم واپس آئے ہو ‘ تو تم نے قمیصیں ہاتھوں میں اٹھائی ہوئی ہیں ۔ انہوں نے فرمایا : اے اُم قیس خیر ہے یہ وہ دن ہے ، جس کے بارے میں ہمیں رخصت دی گئی تھی کہ جب ہم جمرات کو کنکریاں مار لیں گے تو ہم ہر اس چیز کے حوالے سے حلال ہو جائیں گے جس کے حوالے سے ہم نے احرام باندھا ہوا تھا البتہ خواتین کا معاملہ مختلف ہے یہ اس وقت ہو گا کہ جب ہم بیت اللہ کا طواف کر لیں گے لیکن جب شام ہو گئی اور ہم نے بیت اللہ کا طواف نہیں کیا ، تو ہم جمرات کو کنکریاں مارنے سے پہلے دوبارہ احرام کی حالت میں آ گئے ہیں اور اس وقت تک رہیں گے جب تک ہم بیت اللہ کا طواف نہیں کرتے تو ہم نے ابھی طواف نہیں کیا اس لئے ہماری قمیصیں تمہیں نظر آ رہی ہیں ( کہ وہ ہمارے ہاتھوں میں ہیں ) ۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے امام احمد کے رجال ثقہ ہیں ۔

5593

Majma al-Zawaid #5593

عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ رَمَى الْجَمْرَةَ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ - الْجَمْرَةَ الَّتِي عِنْدَ الْعَقَبَةِ - ثُمَّ انْصَرَفَ، فَنَحَرَ هَدْيًا، ثُمَّ حَلَقَ، فَقَدْ حَلَّ لَهُ مَا حَرُمَ عَلَيْهِ مِنْ شَأْنِ الْحَجِّ». قُلْتُ: لَهُ أَثَرٌ مَوْقُوفٌ عَلَيْهِ، وَفِيهِ إِلَّا النِّسَاءَ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn Umar رضي الله عنهما reports the Messenger of Allah ﷺ defining lawfulness after stoning the Aqabah Jamrah with seven, departing, slaughtering hady, and shaving, rendering lawful what Hajj had forbidden. > **"Whoever stones the Jamrah with seven pebbles, the Jamrah at al-Aqabah, then departs and slaughters a hady then shaves, then what was forbidden to him of Hajj has become lawful for him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص عقبہ کے پاس موجود جمرہ کو سات کنکریاں مار لے اور پھر واپس آ جائے اور قربانی کے جانور کو ذبح کر لے پھر وہ سر مونڈوا دے تو حج کے حوالے سے جو چیز اس پر حرام تھی وہ اس کے لئے حلال ہو جاتی ہے ‘‘۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے حوالے سے ایک اثر منقول ہے ‘ جو ان پر موقوف ہے اور اس میں یہ مذکور ہے ‘ البتہ خواتین کا معاملہ مختلف ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں اور صحیح کے رجال ہیں ۔

5594

Majma al-Zawaid #5594

وَعَنْ عَطَاءٍ «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا رَمَى الْجَمْرَةَ وَذَبَحَ وَحَلَقَ فَقَدْ حَلَّ لَهُ كُلُّ شَيْءٍ إِلَّا النِّسَاءَ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، وَفِيهِ كَلَامٌ، وَهُوَ مُرْسَلٌ.

EnglishUnverified translation

Ata reports the Prophet ﷺ, when he stoned the Jamrah, slaughtered and shaved, became lawful for everything except women.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عطاء بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے جب جمرہ کو کنکریاں مار لیں ( قربانی کا جانور ) ذبح کر لیا اور سر مونڈوا لیا تو خواتین کے علاوہ ہر چیز کے حوالے سے آپ حلال ہو جاتے تھے ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے اور یہ روایت ’’ مرسل “ ہے ۔

5595

Majma al-Zawaid #5595

عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تُوضَعُ النَّوَاصِي إِلَّا فِي حَجٍّ أَوْ عُمْرَةٍ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ مَسْمُولٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ بِهَذَا الْحَدِيثِ وَغَيْرِهِ.

EnglishUnverified translation

Jabir رضي الله عنه reports the Messenger of Allah ﷺ restricting ritual shaving of forelocks to Hajj or Umrah. > **"Forelocks are not laid down except in Hajj or Umrah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ ( ثواب کے حصول کی خاطر ) صرف حج اور عمرہ میں بال مونڈے جائیں گے ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن سلیمان بن مسمول ہے اور وہ اس حدیث اور دیگر روایات کے حوالے سے ضعیف ہے ۔

5596

Majma al-Zawaid #5596

وَعَنْ مَعْمَرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: «كُنْتُ أُرَحِّلُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ فَقَالَ لِي لَيْلَةً مِنَ اللَّيَالِي: "" يَا مَعْمَرُ، لَقَدْ وَجَدْتُ اللَّيْلَةَ فِي أَنْسَاعِي اضْطِرَابًا؟ "". قَالَ: فَقُلْتُ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ، لَقَدْ شَدَدْتُهَا كَمَا كُنْتُ أَشُدُّهَا، وَلَكِنْ أَرْخَاهَا مَنْ قَدْ كَانَ نَفِسَ عَلَيَّ مَكَانِي مِنْكَ ; لِتَسْتَبْدِلَ بِي غَيْرِي. فَقَالَ: "" أَمَا إِنِّي غَيْرُ فَاعِلٍ "". قَالَ: فَلَمَّا نَحَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَدْيَهُ بِمِنًى أَمَرَنِي أَنْ أَحْلِقَهُ قَالَ: فَأَخَذْتُ الْمُوسَى فَقُمْتُ عَلَى رَأْسِهِ قَالَ: فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَجْهِي فَقَالَ لِي: "" يَا مَعْمَرُ، أَمْكَنَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ شَحْمَةِ أُذُنِهِ، وَفِي يَدِكَ الْمُوسَى "". فَقُلْتُ: وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ ذَلِكَ لَمِنْ نِعَمِهِ عَلَيَّ وَمِنَّتِهِ! قَالَ: أَجَلْ "" إِذَنْ أُقِرُّ لَكَ "". قَالَ: ثُمَّ حَلَقْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُقْبَةَ مَوْلَى مَعْمَرٍ ; ذَكَرَهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ، وَلَمْ يُوَثَّقْ وَلَمْ يُجَرَّحْ. وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ma'mar ibn Abdillah رضي الله عنه reports saddling for the Messenger of Allah ﷺ in the Farewell Hajj, being asked one night about disturbance in the girths, swearing he had tied as usual but one envying his place had loosened them for replacement, being reassured of retention, then after the Messenger ﷺ slaughtered his hady at Mina being commanded to shave him, standing at his head with razor whereupon the Prophet ﷺ reminded him of the trust of his earlobe in his hand, his grateful acknowledgment, the Prophet's confirmation, and his shaving of the Messenger ﷺ. > **"O Ma'mar, this night I found disturbance in my girths? I shall not do so. O Ma'mar, the Messenger of Allah has enabled you of his earlobe with the razor in your hand. Then I affirm it for you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معمر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حجۃ الوداع کے موقع پر میں نبی اکرم ﷺ کے لئے پالان تیار کیا کرتا تھا ایک رات آپ نے مجھ سے فرمایا : اے معمر ! گزشتہ رات میں نے اپنے پالان میں اضطراب محسوس کیا میں نے عرض کی : اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا میں نے تو اسے اسی طرح باندھا تھا جس طرح میں پہلے باندھا کرتا تھا لیکن شاید اسے اس شخص نے ڈھیلا کر دیا ہو گا جو میری جگہ یہ خدمت لینا چاہتا ہے تاکہ آپ میری جگہ کسی اور کو یہ خدمت سپرد کر دیں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میں ایسا نہیں کروں گا راوی بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم ﷺ نے منی میں قربانی کے جانور کو قربان کر لیا تو آپ نے مجھے یہ ہدایت کی کہ میں آپ کا سر مونڈ دوں راوی بیان کرتے ہیں : میں نے استرا پکڑا اور آپ کے سر کے پاس آ کر کھڑا ہوا نبی اکرم ﷺ نے میرے چہرے کی طرف دیکھا اور پھر مجھ سے ارشاد فرمایا : اے معمر ! اللہ کے رسول نے اپنے کانوں کی لو تمہارے قابو میں دے دی ہے اور تمہارے ہاتھ میں استرا ہے میں نے عرض کی : اللہ کی قسم یا رسول اللہ ! یہ ان کی نعمت ہے اور احسان ہے ‘ جو مجھ پر ہوا ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ٹھیک ہے پھر میں تمہیں برقرار رکھتا ہوں راوی بیان کرتے ہیں : تو پھر میں نے نبی اکرم ﷺ کا سر مونڈ دیا ۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی معمر کا غلام عبدالرحمن بن عقبہ ہے ‘ جس کا ذکر ابن ابوحاتم نے کیا ہے اس کی نہ توثیق کی گئی ہے اور نہ اس پر جرح کی گئی ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

5597

Majma al-Zawaid #5597

وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: «حَلَقَ رَأْسَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ مَعْمَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْعَدَوِيُّ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، وَهُوَ ثِقَةٌ، وَلَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ.

EnglishUnverified translation

Umm Salamah رضي الله عنها reports Ma'mar ibn Abdillah al-Adawi رضي الله عنه shaving the Messenger of Allah's ﷺ head on sacrifice day.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں قربانی کے دن معمر بن عبداللہ عدوی نے نبی اکرم ﷺ کا سر مونڈا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن اسحاق ہے اور وہ ثقہ ہے لیکن وہ تدلیس کرنے والا ہے ۔

5598

Majma al-Zawaid #5598

وَعَنْ حُبْشِيِّ بْنِ جُنَادَةَ - وَكَانَ مِمَّنْ شَهِدَ حَجَّةَ الْوَدَاعِ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْمُحَلِّقِينَ "". قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَالْمُقَصِّرِينَ؟ قَالَ: "" اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْمُحَلِّقِينَ "". قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَالْمُقَصِّرِينَ؟ قَالَ فِي الثَّالِثَةِ: "" وَالْمُقَصِّرِينَ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Hubshi ibn Junadah رضي الله عنه, among those witnessing the Farewell Hajj, reports the Messenger of Allah ﷺ thrice supplicating forgiveness for shavers before including shorteners upon repeated asking. > **"O Allah, forgive the shavers. O Allah, forgive the shavers. And the shorteners."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت حبشی بن جنادہ رضی اللہ عنہ جنہیں حجتہ الوداع میں شرکت کا شرف حاصل ہے وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اے اللہ ! تو سر مونڈوانے والوں کی مغفرت کر دے لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ بال چھوٹے کروانے والوں کی بھی نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے اللہ ! تو سر مونڈوانے والوں کی مغفرت کر دے لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اور بال چھوٹے کروانے والوں کی بھی ؟ تیسری مرتبہ آپ نے ارشاد فرمایا اور بال چھوٹے کروانے والوں کی بھی ( مغفرت کر دے ) ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور امام احمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

5599

Majma al-Zawaid #5599

وَعَنْ مَالِكِ بْنِ رَبِيعَةَ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ يَقُولُ: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْمُحَلِّقِينَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْمُحَلِّقِينَ "". قَالَ: يَقُولُ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: وَالْمُقَصِّرِينَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الثَّالِثَةِ أَوْ فِي الرَّابِعَةِ: "" وَالْمُقَصِّرِينَ». ثُمَّ قَالَ: فَأَنَا يَوْمَئِذٍ مَحْلُوقُ الرَّأْسِ فَمَا يَسُرُّنِي بِحَلْقِ رَأْسِي حُمْرُ النَّعَمِ أَوْ خَطَرًا عَظِيمًا. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Malik ibn Rabi'ah رضي الله عنه reports hearing the Messenger of Allah ﷺ repeatedly supplicating forgiveness for shavers, then upon a man's interjection including shorteners at the third or fourth, and adding that he himself was shaven that day valuing it beyond red camels or mighty prize. > **"O Allah, forgive the shavers. O Allah, forgive the shavers. And the shorteners."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت مالک بن ربیعہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو سنا آپ یہ کہہ رہے تھے : ’’ اے اللہ ! تو سر مونڈوانے والوں کی مغفرت کر دے اے اللہ ! تو سر مونڈوانے والوں کی مغفرت کر دے حاضرین میں سے ایک نے عرض کی اور بال چھوٹے کروانے والوں کی بھی ؟ نبی اکرم ﷺ نے تیسری مرتبہ یا شاید چوتھی مرتبہ میں فرمایا اور بال چھوٹے کروانے والوں کی بھی ( مغفرت کر دے ) پھر آپ نے ارشاد فرمایا : آج میں نے سر مونڈوایا ہوا ہے اور مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ سر مونڈوانے کے عوض میں مجھے سرخ اونٹ مل جائیں ( راوی کو شک ہے یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) یا عظیم چیز مل جائے ۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

5600

Majma al-Zawaid #5600

وَعَنْ قَارِبٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْمُحَلِّقِينَ "". قَالَ رَجُلٌ: وَالْمُقَصِّرِينَ؟ قَالَ فِي الرَّابِعَةِ: "" وَالْمُقَصِّرِينَ». يُقَلِّلُهُ سُفْيَانُ بِيَدِهِ، وَقَالَ سُفْيَانُ: وَقَالَ: فِي تِيكَ كَأَنَّهُ يُوشِغُ يَدَهُ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْبَزَّارُ، وَإِسْنَادُهُ صَحِيحٌ.

EnglishUnverified translation

Qarib رضي الله عنه reports hearing the Messenger of Allah ﷺ supplicate forgiveness for shavers, and upon a man's interjection including shorteners at the fourth, with Sufyan gesturing by hand its lesser rank as though scraping. > **"O Allah, forgive the shavers. And the shorteners."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت قارب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ کہتے ہوئے سنا اے اللہ ! سر مونڈوانے والوں کی مغفرت کر دے ایک صاحب نے عرض کی اور بال چھوٹے کروانے والوں کی بھی ؟ چوتھی مرتبہ میں آپ نے فرمایا : اور بال چھوٹے کروانے والوں کی بھی سفیان نامی راوی نے اپنے ہاتھ کے ذریعے اشارہ کر کے یہ بات بیان کی کہ یہ کم حیثیت رکھتا ہے ‘ سفیان کہتے ہیں : انہوں نے یوں اشارہ کیا جس طرح کسی چیز کے کم ہونے کو ظاہر کر رہے ہوں ۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں اور امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند صحیح ہے ۔

5601

Majma al-Zawaid #5601

وَعَنْ يَحْيَى بْنِ حُصَيْنٍ عَنْ جَدَّتِهِ قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ يَقُولُ: «يَرْحَمُ اللَّهُ الْمُحَلِّقِينَ يَرْحَمُ اللَّهُ الْمُحَلِّقِينَ يَرْحَمُ اللَّهُ الْمُحَلِّقِينَ "". قَالُوا فِي الثَّالِثَةِ: وَالْمُقَصِّرِينَ؟ قَالَ: "" وَالْمُقَصِّرِينَ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Yahya ibn Husayn reports from his grandmother that she heard the Messenger of Allah ﷺ thrice invoking mercy upon shavers, then upon asking at the third including shorteners. > **"May Allah have mercy on the shavers. May Allah have mercy on the shavers. May Allah have mercy on the shavers. And the shorteners."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

یحیی بن حصین اپنی دادی کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : وہ بیان کرتی ہیں میں نے نبی اکرم ﷺ کو سنا آپ یہ فرما رہے تھے : اللہ تعالیٰ سر مونڈوانے والوں پر رحم کرے اللہ تعالیٰ سر مونڈوانے والوں پر رحم کرے اللہ تعالیٰ سر مونڈوانے والوں پر رحم کرے تیسری مرتبہ لوگوں نے عرض کی اور بال چھوٹے کروانے والوں پر بھی ؟ آپ نے فرمایا : اور بال چھوٹے کروانے والوں پر بھی ( اللہ تعالیٰ رحم کرے ) ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

5602

Majma al-Zawaid #5602

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَلَقَ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ وَأَصْحَابُهُ إِلَّا أَبُو قَتَادَةَ وَعُثْمَانُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" يَرْحَمُ اللَّهُ الْمُحَلِّقِينَ "". قَالُوا: وَالْمُقَصِّرِينَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "" يَرْحَمُ اللَّهُ الْمُحَلِّقِينَ "". قَالُوا: وَالْمُقَصِّرِينَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" وَالْمُقَصِّرِينَ "" فِي الثَّالِثَةِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى وَاللَّفْظُ لَهُ، وَفِيهِ أَبُو إِبْرَاهِيمَ الْأَنْصَارِيُّ جَهَّلَهُ أَبُو حَاتِمٍ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abu Sa'id al-Khudri رضي الله عنه reports the Prophet ﷺ and his Companions shaving at Hudaybiyah except Abu Qatadah and Uthman رضي الله عنهما, and his thrice invoking mercy upon shavers before including shorteners upon repeated asking. > **"May Allah have mercy on the shavers. May Allah have mercy on the shavers. And the shorteners."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حدیبیہ کے دن نبی اکرم ﷺ اور آپ کے اصحاب نے سر مونڈوا لیا صرف حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ایسا نہیں کیا نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالٰی سر مونڈوانے والوں پر رحم کرے لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اور بال چھوٹے کروانے والوں پر بھی ؟ آپ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ سر مونڈوانے والوں پر رحم کرے لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اور بال چھوٹے کروانے والوں پر بھی ؟ نبی اکرم ﷺ نے تیسری مرتبہ میں یہ ارشاد فرمایا : اور بال چھوٹے کروانے والوں پر بھی ( رحم کرے ) ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے روایت کے یہ الفاظ ان کے نقل کردہ ہیں اس کی سند میں ایک راوی ابوابراہیم انصاری ہے ‘ جسے ابوحاتم نے مجہول قرار دیا ہے اس کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

5603

Majma al-Zawaid #5603

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْرَمَ هُوَ وَأَصْحَابُهُ عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ غَيْرَ عُثْمَانَ وَأَبِي قَتَادَةَ، فَاسْتَغْفَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْمُحَلِّقِينَ ثَلَاثَةً وَلِلْمُقَصِّرِينَ مَرَّةً». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ أَيْضًا.

EnglishUnverified translation

Abu Sa'id al-Khudri رضي الله عنه reports the Messenger of Allah ﷺ and his Companions entering ihram in Hudaybiyah year except Uthman and Abu Qatadah رضي الله عنهما, and the Messenger ﷺ seeking forgiveness thrice for shavers and once for shorteners.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حدیبیہ کے سال نبی اکرم ﷺ اور آپ کے اصحاب نے احرام باندھا ہوا تھا صرف حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے نہیں باندھا ہوا تھا تو نبی اکرم ﷺ نے سر مونڈوانے والوں کے لئے دو مرتبہ دعائے مغفرت کی اور بال چھوٹے کروانے والوں کے لئے ایک مرتبہ ( دعائے مغفرت کی ) ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں بھی ابراہیم نامی راوی ہے ۔

5604

Majma al-Zawaid #5604

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «رَحِمَ اللَّهُ الْمُحَلِّقِينَ "". قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَالْمُقَصِّرِينَ؟ قَالَ: "" رَحِمَ اللَّهُ الْمُحَلِّقِينَ "". قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَالْمُقَصِّرِينَ؟ قَالَ فِي الثَّالِثَةِ أَوِ الرَّابِعَةِ: "" وَالْمُقَصِّرِينَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُؤَمَّلِ ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ، وَقَدْ وُثِّقَ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما reports the Messenger of Allah ﷺ invoking mercy upon shavers, and upon repeated asking including shorteners at the third or fourth. > **"May Allah have mercy on the shavers. May Allah have mercy on the shavers. And the shorteners."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالی سر مونڈوانے والوں پر رحم کرے ہم نے عرض کی : اور بال چھوٹے کروانے والوں پر بھی ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالی سر مونڈوانے والوں پر رحم کرے لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اور بال چھوٹے کروانے والوں پر بھی ؟ تیسری یا چوتھی مرتبہ میں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اور بال چھوٹے کروانے والوں پر بھی ( اللہ تعالیٰ رحم کرے ) ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن مومل ہے ‘ جسے امام احمد اور دیگر حضرات نے ضعیف قرار دیا ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔

5605

Majma al-Zawaid #5605

وَعَنِ الْأَزْرَقِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا إِلَى ابْنِ عُمَرَ فَسَأَلَهُ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، إِنِّي أَحْرَمْتُ وَجَمَعْتُ شَعْرِي؟ فَقَالَ: أَمَا سَمِعْتَ عُمَرَ فِي خِلَافَتِهِ قَالَ: مَنْ ضَفَّرَ رَأْسَهُ أَوْ لَبَّدَهُ فَلْيَحْلِقْ؟ فَقَالَ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، إِنِّي لَمْ أُضَفِّرْهُ، وَلَكِنِّي جَمَعْتُهُ؟ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: عَنْزٌ وَتَيْسٌ، وَتَيْسٌ وَعَنْزٌ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Azraq ibn Qays reports sitting with Ibn Umar رضي الله عنهما when a man asked about entering ihram while gathering hair, Ibn Umar recalling Umar's رضي الله عنه caliphate ruling that whoever braids or felts his head must shave, and upon the man's distinction of mere gathering, Ibn Umar equating them as goat and billy, billy and goat.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ازرق بن قیس بیان کرتے ہیں : میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھا ہوا تھا ایک شخص نے ان سے سوال کیا اس نے کہا : اے ابوعبدالرحمن ! میں نے احرام باندھ لیا اور اپنے بال اکھٹے کر لیے تو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کیا تم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو ان کی خلافت کے دوران یہ فرماتے نہیں سنا کہ جس شخص نے اپنے بالوں کی مینڈھاں بنا لی ہوں یا ان کی تلبید کر لی ہو ‘ تو وہ سر مونڈوا لے اس نے کہا : اے ابوعبدالرحمن میں نے ان کی مینڈھیاں نہیں بنائی تھیں بلکہ میں نے انہیں اکٹھا کر لیا تھا تو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا تیس اور عنز اور عنز اور تیس ( دونوں ایک ہی چیز ہوتا ہے ) ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

5606

Majma al-Zawaid #5606

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ «أَنَّ مُعَاوِيَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَصَّرَ مِنْ شَعْرِهِ بِمِشْقَصٍ». قُلْتُ: حَدِيثُ مُعَاوِيَةَ فِي الصَّحِيحِ: أَنَّهُ هُوَ الَّذِي قَصَّرَ عَنْهُ. وَهَذَا أَشْبَهُ بِالصَّوَابِ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَابْنُهُ، وَإِسْنَادُ ابْنِهِ رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما reports Muawiyah رضي الله عنه informing him that he saw the Messenger of Allah ﷺ shorten his hair with a broad arrowhead.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے انہیں بتایا کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا کہ آپ نے چوڑے تیر کے ذریعے اپنے بال چھوٹے کروائے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ حدیث ’’ صحیح ‘‘ میں مذکور ہے ، جس میں یہ ذکر ہے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے آپ کے بال چھوٹے کیے تھے اور یہ چیز درست ہونے کے زیادہ مناسب ہے باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔ یہ روایت امام احمد اور ان کے صاحبزادے نے نقل کی ہے ان کے صاحبزادے کی سند کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

5607

Majma al-Zawaid #5607

عَنْ عُثْمَانَ قَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَحْلِقَ الْمَرْأَةُ رَأْسَهَا». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ رَوْحُ بْنُ عَطَاءٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Uthman رضي الله عنه reports the Messenger of Allah ﷺ forbidding a woman shaving her head.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عثمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے اس بات سے منع کیا ہے کہ عورت اپنا سر مونڈوائے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی روح بن عطاء ہے اور وہ ضعیف ہے ۔