عَنْ مُصْعَبٍ الْمَكِّيِّ قَالَ: أَدْرَكْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ وَزَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ وَالْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ، فَسَمِعْتُهُمْ يُحَدِّثُونَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَمَرَ اللَّهُ شَجَرَةً لَيْلَةَ الْغَارِ فَنَبَتَتْ فِي وَجْهِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَتَرَتْهُ، وَأَمَرَ الْعَنْكَبُوتَ فَنَسَجَتْ فِي وَجْهِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَتَرَتْهُ، وَأَمَرَ اللَّهُ حَمَامَتَيْنِ وَحْشِيَّتَيْنِ فَوَقَعَتَا بِفَمِ الْغَارِ، فَأَقْبَلَ فِتْيَانُ قُرَيْشٍ مِنْ كُلِّ بَطْنٍ بِعِصِيِّهِمْ وَهَرَاوِيهِمْ وَسُيُوفِهِمْ، حَتَّى إِذَا كَانُوا مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْرَ أَرْبَعِينَ ذِرَاعًا فَعَجَّلَ بَعْضُهُمْ فَنَظَرَ فِي الْغَارِ، فَرَأَى حَمَامَتَيْنِ بِفَمِ الْغَارِ فَرَجَعَ إِلَى أَصْحَابِهِ فَقَالُوا: مَا لَكَ؟ قَالَ: رَأَيْتُ حَمَامَتَيْنِ بِفَمِ الْغَارِ فَعَرَفْتُ أَنْ لَيْسَ فِيهِ أَحَدٌ، فَسَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا قَالَ فَعَرَفَ أَنَّ اللَّهَ قَدْ دَرَأَ عَنْهُ بِهِمَا فَدَعَا لَهُنَّ، وَسَمَّتَ عَلَيْهِنَّ، وَفَرَضَ جَزَاءَهُنَّ، وَأُقْرِرْنَ فِي الْحَرَمِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَمُصْعَبٌ الْمَكِّيُّ وَالَّذِي رَوَى عَنْهُ، وَهُوَ عُوَيْنُ بْنُ عَمْرٍو الْقَيْسِيُّ لَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُمَا، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
EnglishUnverified translation
Musab al-Makki رحمه الله reports that he met Anas ibn Malik, Zayd ibn Arqam, and al-Mughirah ibn Shubah رضي الله عنهم and heard them narrating that the Prophet ﷺ said Allah commanded a tree on the night of the cave to grow before the Prophet ﷺ and cover him, commanded the spider to weave before him and cover him, and commanded two wild doves to alight at the mouth of the cave. Youths of Quraysh from every clan advanced with sticks, clubs, and swords until they were forty cubits from the Prophet ﷺ, when one hastened to look into the cave, saw the two doves at its mouth, returned to his companions, and when asked what was wrong declared he had seen two doves and knew no one was within. The Prophet ﷺ heard his words and knew Allah had warded them off thereby, so he supplicated for the doves, invoked blessing upon them, fixed their recompense, and they were left undisturbed in the Haram. > **"What is the matter with you? I saw two doves at the mouth of the cave, so I knew there was no one in it."**
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
مصعب مکی بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کو پایا میں نے ان حضرات کو یہ بات بیان کرتے ہوئے سنا نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ غار والی رات اللہ تعالیٰ نے درخت کو حکم دیا تو وہ نبی اکرم ﷺ کے سامنے پھوٹ پڑا اور نبی اکرم ﷺ کو چھپا لیا اللہ تعالیٰ نے مکڑی کو حکم دیا اس نے نبی اکرم ﷺ کے آگے جالا بن دیا اور نبی اکرم ﷺ کو چھپا لیا اللہ تعالی نے جنگلی کبوتریوں کو حکم دیا وہ دونوں غار کے دروازے پر آئیں قریش سے تعلق رکھنے والے کچھ نوجوان جن کا تعلق ہر شاخ سے تھا وہ اپنی لاٹھیاں اپنے ہتھیار اور تلواریں لے کر آئے ، یہاں تک کہ جب وہ نبی اکرم ﷺ سے چالیس بالشت کے فاصلے پر رہ گئے اور ان میں سے ایک شخص آگے آیا اس نے غار کا جائزہ لیا تو اس کو غار کا جائزہ لیا تو انہوں نے غار کے منہ پر دو کبوتریاں نظر آئیں وہ اپنے ساتھیوں کے پاس واپس گیا اس ان کے ساتھیوں نے دریافت کیا : کیا ہوا اس نے جواب دیا : میں نے غار کے منہ پر دو کبوتریاں دیکھی ہیں جس سے مجھے اندازہ ہو گیا کہ یہاں کوئی نہیں ہے اس نے جو بات کہی تھی ۔ نبی اکرم ﷺ نے وہ سن لی اور آپ کو پتہ چل گیا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کبوتریوں کے ذریعے ان لوگوں کو آپ سے پرے کر دیا ہے ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے ان ( کبوتریوں ) کے حق میں دعا کی اور آپ نے ان کو برکت کی دعا دی ‘ اور ان کی جزا مقرر کی ‘ اور انہیں حرم میں برقرار رکھا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ مصعب بن عمیر نامی راوی اور جس نے اس سے روایت نقل کی ہے ۔ یعنی عوین بن عمرو قیسی میں نے کسی کو ان دونوں کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔