Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 10 · Chapter 5

Book of Hajj

Hadith 5408–5447

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

5408

Majma al-Zawaid #5408

وَعَنْ أَبِي رَافِعٍ قَالَ: «بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاتِهِ إِذْ ضَرَبَ شَيْئًا فِي صَلَاتِهِ ; فَإِذَا هِيَ عَقْرَبٌ ضَرَبَهَا فَقَتَلَهَا، وَأَمَرَ بِقَتْلِ الْعَقْرَبِ وَالْحَيَّةِ وَالْفَأْرَةِ وَالْحِدَأَةِ لِلْمُحْرِمِ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ يُوسُفُ بْنُ نَافِعٍ، ذَكَرَهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ وَلَمْ يُجَرِّحْهُ، وَلَمْ يُوَثِّقْهُ، وَذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ.

EnglishUnverified translation

Abu Rafi رضي الله عنه reports that while the Messenger of Allah ﷺ was in prayer he struck something, and it was a scorpion which he struck and killed, and that he commanded the one in ihram to kill the scorpion, the snake, the mouse, and the kite.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابورافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ نماز ادا کر رہے تھے اسی دوران آپ نے کسی چیز کو مارا وہ ایک بچھو تھا جسے آپ نے مار کے قتل کر دیا تھا نبی اکرم ﷺ نے بچھو سانپ چوہے ‘ اور چیل کو مار دینے کا حکم احرام والے شخص کو دیا ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یوسف بن نافع ہے ‘ جس کا ذکر ابن ابوحاتم نے کیا ہے ۔ انہوں نے اس پر نہ جرح کی ہے ‘ اور نہ اس کی توثیق کی ہے ۔ ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب ” الثقات “ میں کیا ہے ۔

5409

Majma al-Zawaid #5409

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اقْتُلُوا الْوَزَغَ وَلَوْ فِي جَوْفِ الْكَعْبَةِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ قَيْسٍ الْمَكِّيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما reports that the Messenger of Allah ﷺ commanded the killing of the gecko even in the midst of the Kaaba. > **"Kill the gecko even in the midst of the Kaaba."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ تم چھپکلی کو مار دو ! خواہ وہ خانہ کعبہ کے اندر ہو “۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمر بن قیس کی ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

5410

Majma al-Zawaid #5410

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ قَالَ: «كَانَ أَبِي الْحَارِثُ عَلَى أَمْرٍ مِنْ أَمْرِ مَكَّةَ (فِي زَمَنِ عُثْمَانَ، فَأَقْبَلَ عُثْمَانُ إِلَى مَكَّةَ) فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: فَاسْتَقْبَلْتُ عُثْمَانَ بِالنُّزُلِ بِقُدَيْدٍ فَاصْطَادَ أَهْلُ الْمَاءِ حَجَلًا فَطَبَخْنَاهُ بِمَاءٍ وَمِلْحٍ فَجَعَلْنَاهُ عَرَاقًا لِلثَّرِيدِ، فَقَدَّمْنَاهُ إِلَى عُثْمَانَ وَأَصْحَابِهِ فَأَمْسَكُوا، فَقَالَ عُثْمَانٌ: صَيْدٌ لَمْ نَصْطَدْهُ، وَلَمْ نَأْمُرْ بِصَيْدِهِ، اصْطَادَهُ قَوْمٌ حِلٌّ فَأَطْعِمُونَاهُ فَمَا بَأْسٌ؟ فَقَالَ عُثْمَانُ: مَنْ يَقُولُ هَذَا؟ قَالُوا: عَلِيٌّ. فَبَعَثَ إِلَى عَلِيٍّ فَجَاءَهُ. قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ: فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى عَلِيٍّ حِينَ جَاءَ، وَهُوَ يَجُبُّ الْخَبَطَ عَنْ كَفَّيْهِ، فَقَالَ لَهُ عُثْمَانُ: صَيْدٌ لَمْ نَصْطَدْهُ، وَلَمْ نَأْمُرْ بِصَيْدِهِ، اصْطَادَ قَوْمٌ حِلٌّ، فَأَطْعَمُونَاهُ فَمَا بَأْسٌ؟ قَالَ: فَغَضِبَ عَلِيٌّ وَقَالَ: أَنْشُدُ اللَّهَ رَجُلًا شَهِدَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أُتِيَ بِقَائِمَةِ حِمَارِ وَحْشٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" إِنَّا قَوْمٌ حُرُمٌ فَأَطْعِمُوهُ أَهْلَ الْحِلِّ ""؟. قَالَ: فَشَهِدَ اثْنَا عَشَرَ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ عَلِيٌّ: أَنْشُدُ اللَّهَ رَجُلًا شَهِدَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ (حِينَ) أُتِيَ بِبَيْضِ النَّعَامِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" إِنَّا قَوْمٌ حُرُمٌ فَأَطْعِمُوهُ أَهْلَ الْحِلِّ ""؟. قَالَ: فَشَهِدَ دُونَهُمْ فِي الْعِدَّةِ مِنَ الِاثْنَيْ عَشَرَ. قَالَ: فَثَنَى عُثْمَانُ وَرِكَهُ عَنِ الطَّعَامِ، فَدَخَلَ (رَحَاهُ) وَأَكَلَ ذَلِكَ الطَّعَامَ أَهْلُ الْمَاءِ». قُلْتُ: رَوَى أَبُو دَاوُدَ مِنْهُ قِصَّةَ قَائِمَةِ الْحِمَارِ مِنْ غَيْرِ ذِكْرِ عِدَّةِ مَنْ شَهِدَ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى بِنَحْوِهِ وَالْبَزَّارُ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ، وَفِيهِ كَلَامٌ كَثِيرٌ وَقَدْ وُثِّقَ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn al-Harith ibn Nawfal رحمه الله reports that his father al-Harith رضي الله عنه was in charge of an affair of Makkah in the time of Uthman رضي الله عنه when Uthman came toward Makkah, and Abdullah met him with provisions at Qudayd where the people of the water had hunted partridges and cooked them with water and salt as broth for tharid and presented them to Uthman and his companions, who withheld. Uthman argued it was game they had neither hunted nor ordered, hunted by people in hill and offered to them, so what harm was there, and asked who held otherwise. When told it was Ali رضي الله عنه, he sent for him, and Ali came brushing straw from his hands. Uthman repeated his argument, whereupon Ali became angry and adjured by Allah whoever had been present when a wild donkey leg was brought to the Messenger of Allah ﷺ and he declared his people in ihram and ordered it fed to those in hill, and twelve Companions testified. Ali then adjured concerning ostrich eggs brought to the Messenger ﷺ with the same ruling, and fewer than twelve testified. Uthman then withdrew his leg from the food and entered his tent, while the people of the water ate it. > **"We are a people in ihram, so feed it to the people in hill. We are a people in ihram, so feed it to the people in hill."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبداللہ بن حارث بن نوفل بیان کرتے ہیں : میرے والد حضرت حارث رضی اللہ عنہ اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے زمانے میں مکہ کے نگران تھے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ مکہ آئے عبداللہ کہتے ہیں : میں نے قدید کے مقام پر پڑاؤ کے دوران حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا استقبال کیا وہاں موجود پانی والے لوگوں نے ایک کبوتر کا شکار کیا ہم نے اسے پانی میں اور نمک میں پکایا اور اسے ثرید کی طرح بنا دیا ہم نے وہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اور اس کے ساتھیوں کو پیش کیا وہ اس سے رک گئے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا یہ ایک شکار ہے ‘ جسے ہم نے شکار نہیں کیا ، اور اسے شکار کرنے کا ہم نے حکم بھی نہیں دیا ایسے لوگوں نے اسے شکار کیا ہے ‘ جو احرام کے بغیر ہیں ‘ اور انہوں نے ہمیں یہ کھانے کے لئے دیا ہے ‘ تو اس میں حرج کی کیا بات ہے ؟ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : کون شخص یہ کہتا ہے ؟ کہ اس کو نہیں کھانا ) لوگوں نے بتایا حضرت علی رضی اللہ عنہ ‘ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بلوایا وہ ان کے پاس آئے عبداللہ بن حارث کہتے ہیں : میں گویا اس وقت بھی دیکھ رہا ہوں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ جب تشریف لائے تھے تو وہ اپنی ہتھیلیوں سے تنکے جھاڑ رہے تھے ‘ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا ایک شکار جو ہم نے نہیں کیا ، اور اس کو شکار کرنے کا ہم نے حکم بھی نہیں دیا ایسے لوگوں نے اسے شکار کیا ہے ‘ جو احرام کے بغیر ہیں وہ اگر ہمیں کھانے کے لئے یہ دے دیتے ہیں تو اس میں حرج کیا ہے ؟ راوی کہتے ہیں : حضرت علی رضی اللہ عنہ غصے میں آ گئے انہوں نے فرمایا : میں اس شخص کو اللہ کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں جو نبی اکرم ﷺ کے پاس اس وقت موجود تھا جب آپ کے پاس ایک زیبرے کے پائے لائے گئے تھے تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا تھا : ہم احرام کی حالت میں ہیں تم لوگ اسے ان کو کھلا دو جو احرام میں نہ ہوں ۔ راوی بیان کرتے ہیں : تو نبی اکرم ﷺ کے اصحاب میں سے بارہ افراد نے اس بات کی گواہی دی پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں اس شخص کو اللہ کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں جو اس وقت نبی اکرم ﷺ کے پاس موجود تھا جب آپ کے پاس شتر مرغ کے انڈے لائے گئے تھے تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ہم لوگ احرام کی حالت میں ہیں تو یہ ان لوگوں کو کھلاؤ جو احرام کے بغیر ہوں راوی کہتے ہیں : تو بارہ کی تعداد سے کم لوگوں نے اس بات کی گواہی دی تو حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے اپنا پاؤں موڑا اور کھانے سے اٹھ گئے وہ اپنی رہائشی جگہ پر تشریف لے گئے اور وہاں موجود پانی کے پاس رہنے والے لوگوں نے وہ کھانا کھایا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابوداؤد نے اس روایت میں سے زیبرے کے پائے والا حصہ نقل کیا ہے ‘ اور اس میں گواہی دینے والوں کی تعداد کا ذکر نہیں کیا ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ امام ابویعلیٰ نے اس کی مانند نقل کی ہے ‘ اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن زید ہے اس کے بارے میں بہت زیادہ کلام کیا گیا ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔

5411

Majma al-Zawaid #5411

وَفِي رِوَايَةٍ: أُتِيَ بِخَمْسِ بَيْضَاتِ نَعَامٍ.

EnglishUnverified translation

In another narration concerning the same incident, five ostrich eggs were brought to the Messenger of Allah ﷺ while he was in ihram.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں :’’ شتر مرغ کے پانچ انڈے لائے گئے ‘‘۔

5412

Majma al-Zawaid #5412

وَفِي رِوَايَةٍ عِنْدَهُ أَيْضًا: «أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ نَزَلَ قُدَيْدًا فَأُتِيَ بِالْحَجَلِ فِي الْجِفَانِ شَائِلَةً بِأَرْجُلِهَا فَأَرْسَلَ إِلَى عَلِيٍّ، وَهُوَ يُضَفِّرُ بَعِيرًا لَهُ فَجَاءَ وَالْخَبْطُ يَتَحَاتُّ مِنْ يَدَيْهِ، فَأَمْسَكَ عَلِيٌّ، فَأَمْسَكَ النَّاسُ، فَقَالَ: مَنْ هَاهُنَا مِنْ أَشْجَعَ؟ هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَهُ أَعْرَابِيٌّ بِبَيْضَاتِ نَعَامٍ وَتَتْمِيرِ وَحْشٍ فَقَالَ: "" أَطْعِمْهُنَّ أَهْلَكَ فَإِنَّا حُرُمٌ ""؟. قَالُوا: بَلَى فَتَوَرَّكَ عُثْمَانُ عَلَى سَرِيرِهِ وَنَزَلَ وَقَالَ: خَبُثَتْ عَلَيْنَا». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ، وَفِيهِ كَلَامٌ، وَقَدْ وُثِّقَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

In another narration, Uthman ibn Affan رضي الله عنه halted at Qudayd and partridge was brought to him in bowls raised upon their legs, so he sent for Ali رضي الله عنه while he was braiding his camel. Ali came with straw falling from his hands, and he and the people withheld. Ali asked who of Ashja was present and whether they knew that a Bedouin had brought ostrich eggs and pieces of wild game to the Messenger of Allah ﷺ who ordered them fed to his family since he was in ihram, and they affirmed. Uthman then sat back upon his couch, descended, and declared it foul for them. > **"Feed them to your family, for we are in ihram."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں ‘ جو انہوں نے نقل کی ہے ‘ یہ الفاظ ہیں : حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے قدید کے مقام پر پڑاؤ کیا ایک بڑے برتن میں ان کے پاس کبوتری کا گوشت لایا گیا جس کے پاؤں اوپر کی طرف اٹھے ہوئے تھے ‘ انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیجا جو اپنے اونٹ کے لئے چارہ تیار کر رہے تھے وہ تشریف لائے تو وہ ہاتھوں سے تنکے جھاڑ رہے تھے حضرت علی رضی اللہ عنہ رک گئے لوگ بھی رک گئے حضرت علی کی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : یہاں اشجع قبیلے سے تعلق رکھنے والا کون شخص موجود ہے کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو کہ جب ایک دیہاتی نبی اکرم ﷺ کے پاس شتر مرغ کے انڈے اور جنگلی جانور کے گوشت کے چھوٹے ٹکڑے لے کے آیا تھا ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا تھا : تم یہ چیزیں اپنے گھر والوں کو کھلا دو ! کیونکہ ہم احرام کی حالت میں ہیں تو لوگوں نے جواب دیا : جی ہاں ۔ تو حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ اپنے پلنگ پر بیٹھے ہوئے تھے وہ نیچے اتر آئے اور بولے : یہ ہمارے لئے خبیث ہو گیا ( یعنی اب اسے کھانا ہمارے لئے درست نہیں ہے ) ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن زید ہے ، جس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے اس کی توثیق بھی کی گئی ہے اس کے بقیہ رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

5413

Majma al-Zawaid #5413

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «أُهْدِيَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَشِيقَةُ ظَبْيٍ، وَهُوَ مُحْرِمٌ فَرَدَّهَا». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى وَزَادَ: قَالَ سُفْيَانُ: الْوَشِيقَةُ: لَحْمٌ يُطْبَخُ ثُمَّ يُيَبَّسُ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Aishah رضي الله عنها reports that dried gazelle meat was gifted to the Prophet ﷺ while he was in ihram, and he returned it.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ایک ہرن کا ’’ وشیقہ ‘‘ ( خشک کیا ہوا گوشت ) نبی اکرم ﷺ کو تحفے کے طور پر پیش کیا گیا ، آپ اس وقت احرام کی حالت میں تھے ۔ آپ نے اسے واپس کر دیا ۔ یہ روایت امام احمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : سفیان بیان کرتے ہیں :’’ وشیقہ ‘‘ اس گوشت کو کہتے ہیں جسے پکایا جائے اور پھر خشک کر لیا جائے ۔ امام احمد کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہے ۔

5414

Majma al-Zawaid #5414

وَعَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَزَلَ مَرَّ الظَّهْرَانِ، فَأُهْدِيَ لَهُ عُضْوُ صَيْدٍ، فَرَدَّهُ عَلَى الرَّسُولِ وَقَالَ: "" اقْرَأْ عَلَيْهِ السَّلَامَ وَقُلْ لَهُ: لَوْلَا أَنَّا حُرُمٌ مَا رَدَدْنَاهُ عَلَيْكَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ حَمَّادُ بْنُ شُعَيْبٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Bara ibn Azib رضي الله عنه reports that the Prophet ﷺ halted at Marr al-Zahran when a limb of game was gifted to him, and he returned it to the messenger with instruction to convey peace to the sender and explain that only ihram had caused its return. > **"Convey peace to him and say to him: Were we not in ihram we would not have returned it to you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے مرالظہران کے مقام پر پڑاؤ کیا ایک شکار کا ایک عضو آپ کو تحفے کے طور پر پیش کیا گیا تو آپ نے قاصد کو وہ واپس کر دیا اور فرمایا : اسے سلام کہنا اور اس سے یہ کہنا کہ ہم اگر احرام کی حالت میں نہ ہوتے تو یہ واپس نہ کرتے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حماد بن شعیب ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

5415

Majma al-Zawaid #5415

عَنْ عُمَيْرِ بْنِ سَلَمَةَ الضَّمْرِيِّ: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِالْعَرْجِ، فَإِذَا هُوَ بِحِمَارٍ عَقِيرٍ فَلَمْ يَلْبَثْ أَنْ جَاءَ رَجُلٌ مِنْ بَهْزٍ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذَا رَمِيَّتِي فَشَأْنُكُمْ بِهَا. فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا بَكْرٍ فَقَسَّمَهُ بَيْنَ الرِّفَاقِ ثُمَّ سَارَ حَتَّى أَتَى عَقَبَةَ الْأُثَايَةِ، فَإِذَا هُوَ بِظَبْيٍ فِيهِ سَهْمٌ، وَهُوَ حَاقِفٌ فِي ظِلِّ صَخْرَةٍ، فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِهِ فَقَالَ: "" قِفْ هَاهُنَا حَتَّى يَمُرَّ الرِّفَاقُ لَا يَرْمِيهِ أَحَدٌ بِشَيْءٍ». قُلْتُ: ذَكَرَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ لِعُمَيْرٍ تَرْجَمَةً، وَذَكَرَ هَذَا الْحَدِيثَ مِنْ حَدِيثِهِ نَفْسِهِ فَلِذَلِكَ ذَكَرْتُهُ، وَقَدْ رَوَاهُ النَّسَائِيُّ عَنْ عُمَيْرٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَهْزٍ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Umayr ibn Salamah al-Damri رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ passed al-Arj where there was a hamstrung wild ass, and shortly a man of Bahz came saying it was his shot and placing it at their disposal. The Messenger of Allah ﷺ commanded Abu Bakr رضي الله عنه, who divided it among the companies. Then he proceeded until Aqabat al-Uthayah, where there was a gazelle struck by an arrow sheltering in the shade of a rock, so the Prophet ﷺ ordered a man of his Companions to stand there until all companies had passed and none should shoot anything at it. > **"This is my shot, so dispose of it as you wish. Stand here until the companies pass, let none shoot anything at it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمیر بن سلمہ ضمری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کا گزر ’’ عرج ‘‘ کے مقام سے ہوا وہاں ایک زخمی گدھا موجود تھا تھوڑی دیر کے بعد بہز قبیلے سے تعلق رکھنے والا ایک شخص آیا اور عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ میرے نشانے سے زخمی ہوا ہے آپ لوگ اسے استعمال کریں نبی اکرم ﷺ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو حکم دیا انہوں نے اپنے ساتھیوں کے درمیان اسے تقسیم کر دیا پھر نبی اکرم ﷺ روانہ ہوئے یہاں تک کہ ’’ اثایہ ‘‘ کی گھاٹی میں آئے ‘ تو وہاں ایک ہرن موجود تھا جسے تیر لگا ہوا تھا اور وہ چٹان کے سائے میں بیٹھا ہوا تھا نبی اکرم ﷺ نے اپنے اصحاب میں سے ایک شخص کو حکم دیا اور ارشاد فرمایا : تم یہاں ٹھہرے رہو یہاں تک کہ تمام قافلے والے یہاں سے گزر جائیں کوئی شخص اسے کوئی چیز نہ مارے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام احمد نے حضرت عمیر رضی اللہ عنہ کے حالات ذکر کیے ہیں اور ان کی نقل کردہ احادیث میں سے یہی حدیث نقل کی ہے ‘ جو میں نے اسی لئے یہاں ذکر کر دی ہے یہ روایت امام نسائی نے عمیر کے حوالے سے بہز قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایک شخص سے نقل کی ہے ۔ امام احمد کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

5416

Majma al-Zawaid #5416

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: «بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيَّ عَلَى الصَّدَقَةِ، وَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ مُحْرِمِينَ حَتَّى نَزَلُوا عُسْفَانَ، فَإِذَا هُمْ بِحِمَارِ وَحْشٍ. وَجَاءَ أَبُو قَتَادَةَ، وَهُوَ حِلٌّ وَنَكَّسُوا رُءُوسَهُمْ كَرَاهِيَةَ أَنْ يُبْدُوا أَبْصَارَهُمْ فَيَعْلَمَ، فَرَآهُ أَبُو قَتَادَةَ فَرَكِبَ فَرَسَهُ وَأَخَذَ الرُّمْحَ فَسَقَطَ مِنْهُ الرُّمْحُ فَقَالَ: نَاوِلُونِيهِ. فَقَالُوا: نَحْنُ مَا نُعِينُكَ عَلَيْهِ. فَحَمَلَ عَلَيْهِ فَعَقَرَهُ، فَجَعَلُوا يَشْوُونَ مِنْهُ، ثُمَّ قَالُوا: رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَظْهُرِنَا. وَكَانَ تَقَدَّمَهُمْ فَلَحِقُوهُ، فَسَأَلُوهُ فَلَمْ يَرَ بِهِ بَأْسًا. قَالَ: فَأَحْسَبُهُ قَالَ: " هَلْ مَعَكُمْ مِنْهُ شَيْءٌ؟». - شَكَّ عُبَيْدُ اللَّهِ - رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Said al-Khudri رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ sent Abu Qatadah al-Ansari رضي الله عنه for charity while the Messenger ﷺ and his Companions set out in ihram until they halted at Usfan where there was a wild ass. Abu Qatadah arrived in hill, and the Companions lowered their heads out of dislike that their glances should inform him. Abu Qatadah saw it, mounted his horse, took his spear, and when his spear fell he asked them to hand it to him but they said they would not assist him in it. He then charged and wounded it, and they began roasting from it, then recalled that the Messenger of Allah ﷺ was among them, having gone ahead of them. They caught up with him and asked him, and he saw no harm in it, asking whether they had any of it with them, about which Ubaydullah رحمه الله doubted. > **"Hand it to me. Is there anything of it with you?"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے حضرت ابوقتادہ انصاری رضی اللہ عنہ کو صدقہ کی وصولی کے لئے بھیجا پھر نبی اکرم ﷺ اور آپ کے اصحاب احرام باندھ کر نکلے یہاں تک کہ انہوں نے عسفان کے مقام پر پڑاؤ کیا وہاں ایک زیبرا موجود تھا حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ تشریف لائے انہوں نے احرام نہیں باندھا ہوا تھا لوگوں نے اپنے سروں کو جھکا لیا اس بات کو ناپسند کرتے ہوئے کہ کہیں ان کی نگاہوں کے ذریعے حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کو ( شکار کے بارے میں ) پتہ چل جائے حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے اسے دیکھا وہ اپنے گھوڑے پر سوار ہوئے انہوں نے نیزہ لیا ان کا نیزہ نیچے گر گیا انہوں نے فرمایا : تم لوگ یہ مجھے پکڑا دو تو ان لوگوں نے کہا : ہم اس بارے میں آپ کی مدد نہیں کریں گے پھر حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے اس پر حملہ کر کے اسے زخمی کر دیا لوگوں نے اس کا گوشت پکانا شروع کیا ، پھر ان لوگوں نے کہا : نبی اکرم ﷺ ہمارے درمیان موجود ہیں ( اور ہم آپ سے پوچھے بغیر اسے استعمال کرنے لگے ہیں ) نبی اکرم ﷺ ان لوگوں سے کچھ آگے تھے وہ لوگ نبی اکرم ﷺ سے جا کے ملے اور آپ سے اس بارے میں دریافت کیا ، تو آپ نے اس میں کوئی حرج نہیں سمجھا راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے نبی اکرم ﷺ ارشاد فرمایا تھا : کیا تمہارے پاس اس میں سے کچھ ہے ؟ یہ شک عبیداللہ نامی راوی کو ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

5417

Majma al-Zawaid #5417

وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ فِي لَحْمِ الصَّيْدِ لِلْمُحْرِمِ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ أَبِي الْمُخَارِقِ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ali ibn Abi Talib رضي الله عنه reports that the Prophet ﷺ permitted game meat for the one in ihram.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے احرام والے شخص کو شکار کے گوشت کو ( کھانے ) کی رخصت دی ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالکریم بن ابومخارق ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

5418

Majma al-Zawaid #5418

وَعَنْ أَبِي مُوسَى أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَحْمُ الصَّيْدِ لَكُمْ حَلَالٌ مَا لَمْ تَصِيدُوهُ أَوْ يُصَدْ لَكُمْ وَأَنْتُمْ حُرُمٌ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ يُوسُفُ بْنُ خَالِدٍ السَّمْتِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Musa رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ declared game meat lawful for them so long as they had neither hunted it nor had it hunted for them while in ihram. > **"Game meat is lawful for you so long as you have not hunted it nor had it hunted for you while you are in ihram."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں :’’ شکار کا گوشت تمہارے لئے حلال ہے ‘ جبکہ تم نے خود اسے شکار نہ کیا ہو ‘ یا وہ تمہارے لئے شکار نہ کیا گیا ہو ‘ اور تم اس وقت احرام کی حالت میں ہو “۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یوسف بن خالد سمتی ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

5419

Majma al-Zawaid #5419

عَنْ مُصْعَبٍ الْمَكِّيِّ قَالَ: أَدْرَكْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ وَزَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ وَالْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ، فَسَمِعْتُهُمْ يُحَدِّثُونَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَمَرَ اللَّهُ شَجَرَةً لَيْلَةَ الْغَارِ فَنَبَتَتْ فِي وَجْهِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَتَرَتْهُ، وَأَمَرَ الْعَنْكَبُوتَ فَنَسَجَتْ فِي وَجْهِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَتَرَتْهُ، وَأَمَرَ اللَّهُ حَمَامَتَيْنِ وَحْشِيَّتَيْنِ فَوَقَعَتَا بِفَمِ الْغَارِ، فَأَقْبَلَ فِتْيَانُ قُرَيْشٍ مِنْ كُلِّ بَطْنٍ بِعِصِيِّهِمْ وَهَرَاوِيهِمْ وَسُيُوفِهِمْ، حَتَّى إِذَا كَانُوا مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْرَ أَرْبَعِينَ ذِرَاعًا فَعَجَّلَ بَعْضُهُمْ فَنَظَرَ فِي الْغَارِ، فَرَأَى حَمَامَتَيْنِ بِفَمِ الْغَارِ فَرَجَعَ إِلَى أَصْحَابِهِ فَقَالُوا: مَا لَكَ؟ قَالَ: رَأَيْتُ حَمَامَتَيْنِ بِفَمِ الْغَارِ فَعَرَفْتُ أَنْ لَيْسَ فِيهِ أَحَدٌ، فَسَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا قَالَ فَعَرَفَ أَنَّ اللَّهَ قَدْ دَرَأَ عَنْهُ بِهِمَا فَدَعَا لَهُنَّ، وَسَمَّتَ عَلَيْهِنَّ، وَفَرَضَ جَزَاءَهُنَّ، وَأُقْرِرْنَ فِي الْحَرَمِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَمُصْعَبٌ الْمَكِّيُّ وَالَّذِي رَوَى عَنْهُ، وَهُوَ عُوَيْنُ بْنُ عَمْرٍو الْقَيْسِيُّ لَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُمَا، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Musab al-Makki رحمه الله reports that he met Anas ibn Malik, Zayd ibn Arqam, and al-Mughirah ibn Shubah رضي الله عنهم and heard them narrating that the Prophet ﷺ said Allah commanded a tree on the night of the cave to grow before the Prophet ﷺ and cover him, commanded the spider to weave before him and cover him, and commanded two wild doves to alight at the mouth of the cave. Youths of Quraysh from every clan advanced with sticks, clubs, and swords until they were forty cubits from the Prophet ﷺ, when one hastened to look into the cave, saw the two doves at its mouth, returned to his companions, and when asked what was wrong declared he had seen two doves and knew no one was within. The Prophet ﷺ heard his words and knew Allah had warded them off thereby, so he supplicated for the doves, invoked blessing upon them, fixed their recompense, and they were left undisturbed in the Haram. > **"What is the matter with you? I saw two doves at the mouth of the cave, so I knew there was no one in it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

مصعب مکی بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کو پایا میں نے ان حضرات کو یہ بات بیان کرتے ہوئے سنا نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ غار والی رات اللہ تعالیٰ نے درخت کو حکم دیا تو وہ نبی اکرم ﷺ کے سامنے پھوٹ پڑا اور نبی اکرم ﷺ کو چھپا لیا اللہ تعالیٰ نے مکڑی کو حکم دیا اس نے نبی اکرم ﷺ کے آگے جالا بن دیا اور نبی اکرم ﷺ کو چھپا لیا اللہ تعالی نے جنگلی کبوتریوں کو حکم دیا وہ دونوں غار کے دروازے پر آئیں قریش سے تعلق رکھنے والے کچھ نوجوان جن کا تعلق ہر شاخ سے تھا وہ اپنی لاٹھیاں اپنے ہتھیار اور تلواریں لے کر آئے ، یہاں تک کہ جب وہ نبی اکرم ﷺ سے چالیس بالشت کے فاصلے پر رہ گئے اور ان میں سے ایک شخص آگے آیا اس نے غار کا جائزہ لیا تو اس کو غار کا جائزہ لیا تو انہوں نے غار کے منہ پر دو کبوتریاں نظر آئیں وہ اپنے ساتھیوں کے پاس واپس گیا اس ان کے ساتھیوں نے دریافت کیا : کیا ہوا اس نے جواب دیا : میں نے غار کے منہ پر دو کبوتریاں دیکھی ہیں جس سے مجھے اندازہ ہو گیا کہ یہاں کوئی نہیں ہے اس نے جو بات کہی تھی ۔ نبی اکرم ﷺ نے وہ سن لی اور آپ کو پتہ چل گیا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کبوتریوں کے ذریعے ان لوگوں کو آپ سے پرے کر دیا ہے ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے ان ( کبوتریوں ) کے حق میں دعا کی اور آپ نے ان کو برکت کی دعا دی ‘ اور ان کی جزا مقرر کی ‘ اور انہیں حرم میں برقرار رکھا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ مصعب بن عمیر نامی راوی اور جس نے اس سے روایت نقل کی ہے ۔ یعنی عوین بن عمرو قیسی میں نے کسی کو ان دونوں کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

5420

Majma al-Zawaid #5420

وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ: - فَلَا أُرَاهُ إِلَّا قَدْ رَفَعَهُ -: «حَكَمَ فِي الضَّبُعِ يُصِيبُهُ الْمُحْرِمُ بِشَاةٍ، وَفِي الْأَرْنَبِ عَنَاقٌ، وَفِي الْيَرْبُوعِ جَفْرَةٌ، وَفِي الظَّبْيِ كَبْشٌ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ الْأَجْلَحُ الْكِنْدِيُّ، وَفِيهِ كَلَامٌ، وَقَدْ وُثِّقَ.

EnglishUnverified translation

Umar ibn al-Khattab رضي الله عنه ruled, and the narrator thought he raised it to the Prophet ﷺ, that for a hyena struck by the one in ihram there is a sheep, for a rabbit a young goat, for a jerboa a young ewe, and for a gazelle a ram.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے ۔ انہوں نے ’’ مرفوع ‘‘ حدیث کے طور پر یہ بات نقل کی ہے ۔ اگر کوئی احرام والا شخص کسی گوہ کو نقصان پہنچا دے ایک بکری کی ادائیگی کا فیصلہ دیا ہے ‘ اور خرگوش کو نقصان پہنچانے کی صورت میں ایک سال سے کم عمر کی بکری کا ‘ اور یربوع ( چوہے کے جیسا ایک جانور ) کو نقصان پہنچانے کی صورت میں چار ماہ کی بھیٹر ( یا بکری ) کا اور ہرن کو نقصان پہنچانے کی صورت میں دنبے کی ادائیگی کا ‘ انہوں نے اس بارے میں یہ فیصلہ دیا ہے ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اجلح کندی ہے ، جس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔

5421

Majma al-Zawaid #5421

وَعَنْ قَبِيصَةَ بْنِ جَابِرٍ قَالَ: كُنْتُ مُحْرِمًا، فَرَأَيْتُ ظَبْيًا فَرَمَيْتُهُ، فَأَصَبْتُ خُشَشَاءَهُ - يَعْنِي: أَصْلَ قَرْنِهِ - فَرَكِبَ رَدْعَهُ، فَوَقْعَ فِي نَفْسِي مِنْ ذَلِكَ فَأَتَيْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَسْأَلُهُ فَوَجَدْتُ إِلَى جَنْبِهِ رَجُلًا أَبْيَضَ رَقِيقَ الْوَجْهِ، فَإِذَا هُوَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ، (رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَسَأَلْتُ عُمَرَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَالْتَفَتَ إِلَي عَبْدِ الرَّحْمَنِ)، فَقَالَ: تَرَى شَاةً تَكْفِيهِ؟ قَالَ: نَعَمْ. فَأَمَرَنِي أَنْ أَذْبَحَ شَاةً. فَلَمَّا قُمْنَا مِنْ عِنْدِهِ قَالَ صَاحِبٌ لِي: إِنَّ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ لَمْ يُحْسِنْ يُفْتِيكَ حَتَّى سَأَلَ الرَّجُلَ، فَسَمِعَ عُمَرُ بَعْضَ كَلَامِهِ فَعَلَاهُ بِالدِّرَّةِ ضَرْبًا، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيَّ لِيَضْرِبَنِي فَقُلْتُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ (إِنِّي) لَمْ أَقُلْ شَيْئًا إِنَّمَا هُوَ قَالَهُ. فَتَرَكَنِي (ثُمَّ قَالَ): أَرَدْتَ أَنْ تَقْتُلَ الْحَرَامَ وَتَتَعَدَّى الْفُتْيَا. ثُمَّ قَالَ: إِنَّ فِي الْإِنْسَانِ عَشَرَةُ أَخْلَاقٍ ; تِسْعَةٌ حَسَنَةٌ وَوَاحِدٌ سَيِّئٌ، يُفْسِدُهَا ذَلِكَ السَّيِّئُ، ثُمَّ قَالَ: إِيَّاكَ وَعِشْرَةَ السَّيِّئَاتِ.

EnglishUnverified translation

Qabisah ibn Jabir رحمه الله reports that while in ihram he saw a gazelle, shot it, and struck the base of its horn, and it dashed away, leaving unease in his heart. He came to Umar ibn al-Khattab رضي الله عنه to ask him and found beside him a fair-skinned man of delicate face, Abdur Rahman ibn Awf رضي الله عنه. He asked Umar, who turned to Abdur Rahman and asked whether he considered a sheep sufficient, and when he affirmed, Umar ordered him to slaughter a sheep. When they rose, a companion of his remarked that the Commander of the Believers had not answered well until he had consulted the man. Umar overheard part of his speech and raised the dirrah to strike him, then turned to strike Qabisah, who protested he had said nothing and it was the other who spoke, so Umar left him, remarking that he had intended to kill unlawfully and dispute the fatwa. He then observed that man has ten traits, nine good and one evil which corrupts them, and warned beware lest all ten be evil.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

قبیصہ بن جابر بیان کرتے ہیں : میں احرام کی حالت میں تھا ۔ میں نے ایک ہرن دیکھا میں نے اسے تیر مارا اور وہ اس کے سینگ کی جڑ میں لگ گیا پھر وہ تیزی سے دوڑ گیا ‘ میرے ذہن میں اس حوالے سے الجھن پیدا ہوئی ‘ میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان سے اس بارے میں دریافت کیا : میں نے ان کے پہلو میں ایک شخص کو دیکھا جو گورا چٹا تھا اور ان کا چہرہ بہت مہربان تھا وہ حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ تھے میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے اس بارے میں دریافت کیا : وہ حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا : کیا تمہارے خیال میں اس کے لئے ایک بکری کافی رہے گی ۔ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ۔ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مجھے یہ حکم دیا کہ میں ایک بکری ذبح کر دوں ۔ راوی کہتے ہیں : جب ہم ان کے پاس سے اٹھنے لگے تو میرے ایک ساتھی نے کہا : امیر المومنین نے تمہیں اچھا فتوی نہیں دیا انہوں نے پہلے ایک اور شخص سے پوچھا ہے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس کا کچھ کلام سن لیا انہوں نے مارنے کے لئے درہ بلند کیا ، پھر وہ میری طرف آئے تاکہ وہ مجھے ماریں تو میں نے کہا : اے امیرالمومنین میں نے کچھ نہیں کہا اس شخص نے یہ کہا ہے : تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مجھے چھوڑ دیا اور پھر بولے تم یہ چاہتے ہو حرام طور پر ایک قتل کرو اور پھر فتوی کی خلاف ورزی کرو پھر انہوں نے فرمایا : انسان میں دس اخلاق ہوں جن میں سے نو اچھے ہوں اور ایک برا ہو تو وہ ایک برا اسے خراب کر دیتا ہے پھر انہوں نے فرمایا : تم اس چیز سے بچو کہ دس ( اخلاق ) ہی برے ہوں ۔

5422

Majma al-Zawaid #5422

وَفِي رِوَايَةٍ: فَاجْتَنَحَ إِلَى رَجُلِ، وَاللَّهِ لَكَأَنَّ وَجْهَهُ قَلْبٌ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

In another narration of the same incident, Qabisah inclined toward the man beside Umar, and by Allah his face was as if it were a heart in its radiance.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : وہ اس شخص کی طرف تو اللہ کی قسم اس شخص کا چہرہ دل کی مانند تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

5423

Majma al-Zawaid #5423

عَنْ عَائِشَةَ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَمَ، وَهُوَ مُحْرِمٌ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Aishah رضي الله عنها reports that the Messenger of Allah ﷺ was cupped while he was in ihram.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے احرام کی حالت میں پچھنے لگوائے تھے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اور اس کی سند حسن ہے ۔

5424

Majma al-Zawaid #5424

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَمَ، وَهُوَ مُحْرِمٌ مِنْ وَجَعٍ كَانَ بِهِ وَتَسَوَّكَ وَهُوَ مُحْرِمٌ». قُلْتُ: لَهُ حَدِيثٌ فِي الصَّحِيحِ فِي الْحِجَامَةِ لِلْمُحْرِمِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما reports that the Prophet ﷺ was cupped while in ihram on account of a pain he suffered, and used the siwak while in ihram.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے تکلیف کی وجہ سے احرام کی حالت میں پچھنے لگوائے تھے ‘ اور آپ نے احرام کی حالت میں مسواک بھی کی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ان کے حوالے سے ’’ صحیح ‘‘ میں ایک حدیث منقول ہے ‘ جو احرام والے شخص کے پچھنے لگوانے کے بارے میں ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

5425

Majma al-Zawaid #5425

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ «كَانَ لَا يَرَى بِالْهِمْيَانِ لِلْمُحْرِمِ بَأْسًا». رَوَى ذَلِكَ ابْنُ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ يُوسُفُ بْنُ خَالِدٍ السَّمْتِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما held that there was no harm in the money belt for the one in ihram, and he narrated that ruling from the Prophet ﷺ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ بات منقول ہے : وہ احرام والے شخص کے لئے تھیلی باندھنے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے ۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے یہ بات نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے نقل کی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یوسف بن خالد سمتی ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

5426

Majma al-Zawaid #5426

وَعَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ فِي الْمُحْرِمِ يَدْخُلُ الْبُسْتَانَ وَيَشُمُّ الرَّيْحَانَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ، وَفِيهِ الْوَلِيدُ بْنُ الزَّنْتَانِ ; وَلَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَهُ، وَذَكَرَ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ أَبَا الْوَلِيدِ بْنَ الزَّنْتَبَانِ، وَهُوَ فِي طَبَقَتِهِ، وَالظَّاهِرُ أَنَّهُ هُوَ وَاللَّهُ أَعْلَمُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Uthman ibn Affan رضي الله عنه held that the one in ihram may enter the garden and smell sweet basil.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ احرام والے شخص کے بارے میں یہ فرماتے ہیں : وہ باغ میں داخل ہو کے پھول کو سونگھ سکتا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ولید بن زنتان ہے ۔ میں نے کسی کو اس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔ ابن حبان نے کتاب ’’ الثقات ‘‘ میں ابوالولید بن زنتبان کا ذکر کیا ہے ‘ اور وہ اسی کے طبقے سے تعلق رکھتا ہے بظاہر یہ لگتا ہے کہ یہ وہی ہے باقی اللہ بہتر جانتا ہے اس کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

5427

Majma al-Zawaid #5427

عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ عَنْ مَنْ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «رَاحَ إِلَى مِنًى يَوْمَ التَّرْوِيَةِ وَإِلَى جَانِبِهِ بِلَالٌ بِيَدِهِ عُودٌ عَلَيْهِ ثَوْبٌ يُظِلُّ بِهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ». رَوَاهُ أَحْمَدُ هَكَذَا.

EnglishUnverified translation

Abu Umamah al-Bahili رضي الله عنه reports from one who saw the Messenger of Allah ﷺ setting out for Mina on the Day of Tarwiyah with Bilal رضي الله عنه at his side holding a staff upon which a garment was draped, shading the Messenger of Allah ﷺ therewith.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے اس شخص کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے ۔ جس نے نبی اکرم ﷺ کو اس وقت دیکھا تھا جب آپ ترویہ کے دن منی کی طرف تشریف لے جا رہے تھے ۔ آپ کے ساتھ حضرت بلال رضی اللہ عنہ موجود تھے ان کے ہاتھ میں ایک لکڑی تھی جس پر کپڑا لگا ہوا تھا وہ اس کے ذریعے نبی اکرم ﷺ پر سایہ کر رہے تھے ۔ یہ روایت امام احمد نے اسی طرح نقل کی ہے ۔

5428

Majma al-Zawaid #5428

وَقَالَ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ: عَنْ أَبِي أُمَامَةَ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَاحَ مِنْ مَكَّةَ إِلَى مِنًى يَوْمَ التَّرْوِيَةِ تَقَدَّمَ مَوْكِبَهُ وَإِلَى جَانِبِهِ بِلَالٌ مَعَهُ ثَوْبٌ مَعْصُوبٌ عَلَى عُودٍ يَسْتُرُهُ مِنَ (حَرِّ) الشَّمْسِ». وَفِي الْإِسْنَادَيْنِ جَمِيعًا: عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ، وَفِيهِ كَلَامٌ، وَقَدْ وُثِّقَ.

EnglishUnverified translation

In the narration of al-Tabarani from Abu Umamah رضي الله عنه, the Messenger of Allah ﷺ set out from Makkah to Mina on the Day of Tarwiyah with his procession ahead, while at his side was Bilal رضي الله عنه with a garment tied upon a staff shielding him from the heat of the sun.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام طبرانی نے معجم کبیر میں حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے : آپ مکہ سے منیٰ کی طرف ترویہ کے دن روانہ ہوئے تو آپ سے آگے کچھ افراد پیدل اور سوار ہو کر چلے گئے تھے ‘ آپ کے پہلو میں حضرت بلال رضی اللہ عنہ موجود تھے ، جن کے پاس ایک کپڑا تھا جو لکڑی پر کپڑا لگا ہوا تھا وہ اس کے ذریعے نبی اکرم ﷺ کو دھوپ کی تپش سے بچا رہے تھے ۔ ان دونوں کی سند میں ایک راوی علی بن یزید ہے ‘ جس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔

5429

Majma al-Zawaid #5429

عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ: «يَا أَبَا عَبَّاسٍ، أَرَأَيْتَ قَوْلَكَ: مَا حَجَّ رَجُلٌ لَمْ يَسُقِ الْهَدْيَ مَعَهُ، ثُمَّ طَافَ بِالْبَيْتِ إِلَّا حَلَّ بِعُمْرَةٍ، وَمَا طَافَ بِهَا حَاجٌّ قَطُّ سَاقَ مَعَهُ الْهَدْيَ إِلَّا اجْتَمَعَتْ لَهُ حَجَّةٌ وَعُمْرَةٌ، وَالنَّاسُ لَا يَقُولُونَ هَذَا؟ قَالَ: وَيْحَكَ!! إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ وَمَنْ مَعَهُ مِنْ أَصْحَابِهِ لَا يَذْكُرُونَ إِلَّا الْحَجَّ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ الْهَدْيَ أَنْ يَطُوفَ بِالْبَيْتِ وَيَحِلَّ بِعُمْرَةٍ، فَجَعَلَ الرَّجُلُ مِنْهُمْ يَقُولُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّمَا هُوَ الْحَجُّ؟ فَيَقُولُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" إِنَّهُ لَيْسَ بِالْحَجِّ، وَلَكِنَّهُ عُمْرَةٌ». قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Kurayb, the freedman of Ibn Abbas رضي الله عنهما, reports that he asked Abu Abbas concerning his ruling that no man who performs Hajj without driving the sacrifice then circumambulates the House but exits into Umrah, while no pilgrim who circumambulates it having driven the sacrifice but combines Hajj and Umrah, though the people deny this. Ibn Abbas replied with disapproval that the Messenger of Allah ﷺ had set out with Companions mentioning only Hajj, then commanded whoever had no sacrifice to circumambulate the House and exit into Umrah. When one of them asked whether it was Hajj, the Messenger of Allah ﷺ clarified that it was not Hajj but Umrah. > **"Woe to you. It is not Hajj, but it is Umrah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے غلام کریب بیان کرتے ہیں : انہوں نے کہا : اے ابوعباس ! اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے کہ اگر کوئی شخص حج کے لئے آئے اور وہ قربانی کا جانور ساتھ نہ لایا ہو پھر اگر وہ بیت اللہ کا طواف کر کے عمرہ کر کے احرام کھول سکتا ہے ‘ اور جو حاجی اس کا طواف کر لے اور اپنے ساتھ قربانی کا جانور لایا ہو تو وہ حج اور عمرہ اکٹھا کرے گا آپ تو یہ کہتے ہیں ، لیکن لوگ تو یہ نہیں کہتے ہیں ، انہوں نے فرمایا : تمہارا ستیاناس ہو نبی اکرم ﷺ نکلے تھے ۔ آپ کے ساتھ ایسے اصحاب بھی تھے جو صرف حج کا تلبیہ پڑھ رہے تھے تو نبی اکرم ﷺ نے یہ حکم دیا کہ جس شخص کے ساتھ قربانی کا جانور نہ ہو وہ بیت اللہ کا طواف کرنے کے بعد عمرہ کر کے احرام کھول دے ان میں سے ایک شخص نے کہا : یا رسول اللہ ! کیا یہ حج ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : یہ حج نہیں ہے بلکہ یہ عمرہ ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ’’ صحیح ‘‘ میں اختصار کے ساتھ منقول ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

5430

Majma al-Zawaid #5430

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ قَالَ: «قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ (مَكَّةَ) وَأَصْحَابُهُ مُلَبِّينَ - قَالَ عَفَّانُ: مُهِلِّينَ - بِالْحَجِّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" مَنْ شَاءَ أَنْ يَجْعَلَهَا عُمْرَةً إِلَّا مَنْ كَانَ مَعَهُ الْهَدْيُ "". قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيَرُوحُ أَحَدُنَا إِلَى مِنًى وَذَكَرُهُ يَقْطُرُ مَنِيًّا؟ قَالَ: "" نَعَمْ "". وَسَطَعَتِ الْمَجَامِرُ وَقَدِمَ عَلِيٌّ مِنَ الْيَمَنِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" بِمَا أَهْلَلْتَ؟ "". قَالَ: أَهْلَلْتُ بِمَا أَهَلَّ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ رَوِّحْ: فَإِنَّ لَكَ مَعَنَا هَدْيًا، قَالَ حُمَيْدٌ: فَحَدَّثْتُ بِهِ طَاوُسًا فَقَالَ: هَكَذَا فَعَلَ الْقَوْمُ (قَالَ عَفَّانُ: اجْعَلْهَا عُمْرَةً)». قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn Umar رضي الله عنهما reports that the Messenger of Allah ﷺ arrived at Makkah with his Companions chanting the talbiyah for Hajj, and the Messenger ﷺ declared that whoever wished might make it into Umrah except whoever had the sacrifice with him. When they asked whether one of them would go to Mina with semen dripping, he affirmed. Perfume censers were lit. Ali رضي الله عنه arrived from Yemen, and the Messenger ﷺ asked with what he had entered ihram. When he replied with the same ihram as the Messenger ﷺ, he was told to proceed, for he had a share in the sacrifice with them. Humayd رحمه الله narrated it to Tawus رحمه الله, who affirmed the people had done so. > **"Whoever wishes may make it into Umrah except whoever has the sacrifice with him. Yes. With what did you enter ihram? Proceed, for you have a sacrifice with us. Make it into Umrah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ مکہ تشریف لائے آپ کے اصحاب تلبیہ پڑھ رہے تھے یہاں عفان نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : حج کا احرام باندھے ہوئے تھے ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جو شخص چاہے وہ اسے عمرہ بنا لے البتہ جس شخص کے ساتھ قربانی کا جانور موجود ہے اس کے لئے یہ حکم نہیں ہے ۔ لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا ہم میں سے کوئی ایک شخص منیٰ کی طرف جائے ‘ تو اس کی شرمگاہ سے منی کے قطرے ٹپک رہے ہوں ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ۔ اسی دوران ( کچھ لوگوں نے ) خوشبو بھی لگا لی ‘ حضرت علی رضی اللہ عنہ یمن سے تشریف لائے تھے ۔ آپ نے دریافت کیا : تم نے کیا نیت کی ہے ؟ انہوں نے عرض کی : میں نے یہی نیت کی ہے کہ جو نبی اکرم ﷺ کی نیت ہے ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم روانہ ہو جاؤ کیونکہ تم ہمارے ساتھ ہو گئے کیونکہ قربانی کا جانور ساتھ ہے ۔ حمید نامی راوی بیان کرتے ہیں : میں نے طاؤس کو یہ حدیث بیان کی ‘ تو انہوں نے فرمایا : لوگوں نے ایسا ہی کیا تھا عفان کہتے ہیں : یہ الفاظ ہیں : تم اسے عمرہ بنا لو ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ’’ صحیح ‘‘ میں اختصار کے ساتھ منقول ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

5431

Majma al-Zawaid #5431

وَعَنِ الْبَرَاءِ قَالَ: «خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ فَأَحْرَمْنَا بِالْحَجِّ فَلَمَّا أَنْ قَدِمْنَا مَكَّةَ قَالَ: "" اجْعَلُوا حَجَّكُمْ عُمْرَةً "". قَالَ نَاسٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَحْرَمْنَا بِالْحَجِّ فَكَيْفَ نَجْعَلُهَا عُمْرَةً؟ قَالَ: "" انْظُرُوا مَا آمُرُكُمْ بِهِ فَافْعَلُوا "" قَالَ: فَرَدُّوا عَلَيْهِ الْقَوْلَ. فَغَضِبَ ثُمَّ انْطَلَقَ حَتَّى دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ غَضْبَانَ قَالَ: فَعَرَفَتِ الْغَضَبَ فِي وَجْهِهِ قَالَتْ: مَنْ أَغْضَبَكَ أَغْضَبَهُ؟ قَالَ: "" مَا لِي لَا أَغْضَبُ وَأَنَا آمُرُ بِالْأَمْرِ لَا يُتَّبَعُ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Al-Bara رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ and his Companions set out in ihram for Hajj, and when they arrived at Makkah he commanded them to make their Hajj into Umrah. When some asked how they could make into Umrah what they had entered as Hajj, he instructed them to consider what he commanded and do it. When they repeated their objection he became angry and went to Aishah رضي الله عنها in anger, whose face showed his anger. When she asked who had angered him that she might be angry with him, he explained he could only be angry while commanding a matter that was not followed. > **"Make your Hajj into Umrah. Consider what I command you and do it. Who has angered me that he may incur anger? Why should I not be angry while I command a matter and it is not followed?"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ اور آپ کے اصحاب نکلے ہم نے حج کا احرام باندھا ہوا تھا ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم اپنے حج کو عمرہ میں تبدیل کر دو لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم نے حج کا احرام باندھا تھا ہم اسے عمرہ کیسے بنا سکتے ہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم اس بات کا جائزہ لو ‘ جس کی میں تمہیں ہدایت کر رہا ہوں اور ویسا ہی کرو لوگوں نے نبی اکرم ﷺ کی اس بات پر عمل نہیں کیا ، تو نبی اکرم ﷺ غصے میں آ گئے آپ تشریف لے گئے ‘ یہاں تک کہ آپ غصے کے عالم میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو آپ کے چہرے پر غصے کے آثار کا اندازہ ہو گیا انہوں نے عرض کی : کس نے آپ کو غضبناک کیا ہے تاکہ میں بھی اس پر غصہ کروں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میں غصہ کیوں نہ کروں ؟ میں نے ایک حکم دیا ہے ‘ جس کی پیروی نہیں کی جا رہی ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

5432

Majma al-Zawaid #5432

«وَعَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ: حَجَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدْنَا عَائِشَةَ تَنْزِعُ ثِيَابَهَا، فَقَالَ لَهَا: "" مَا لَكِ؟ "". قَالَتْ: أُنْبِئْتُ أَنَّكَ قَدْ أَحْلَلْتَ، وَأَحْلَلْتَ أَهْلَكَ، قَالَ: "" أَحَلَّ مَنْ لَيْسَ مَعَهُ هَدْيٌ، وَأَمَّا نَحْنُ فَلَمْ نَحِلَّ - إِنَّ مَعَنَا بُدْنًا - حَتَّى نَبْلُغَ عَرَفَاتٍ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي حُمَيْدٍ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Maqil ibn Yasar رضي الله عنه reports that they performed Hajj with the Messenger of Allah ﷺ and found Aishah رضي الله عنها laying aside her garments. When asked what was wrong, she said she had been told he had exited ihram and released his family. He clarified that only one without sacrifice had exited, while they had not exited since they had camels with them, until reaching Arafat. > **"What is the matter with you? Only one without sacrifice has exited, but as for us we have not exited, for we have sacrificial camels with us, until we reach Arafat."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ حج کرنے گئے ہم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو پایا کہ انہوں نے اپنے کپڑے الگ کر لیے ہیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے ان سے دریافت کیا : تمہیں کیا ہوا ہے ؟ انہوں نے عرض کی : مجھے یہ بات بتائی گئی ہے کہ آپ نے احرام کھول دیا ہے ‘ اور اپنی ازواج کو بھی احرام کھولنے کا کہا ہے نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : احرام اس نے ختم کیا ہے ‘ جس کے ساتھ قربانی کا جانور نہیں تھا جہاں تک ہمارا تعلق ہے ‘ تو ہم نے احرام ختم نہیں کیا کیونکہ ہمارے ساتھ قربانی کے جانور ہیں جب تک ہم عرفات نہیں پہنچیں گے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبیداللہ بن ابوحمید ہے ‘ اور وہ متروک ہے ۔

5433

Majma al-Zawaid #5433

وَعَنْ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ قَالَ: «خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُجَّاجًا فَأَهْلَلْنَا بِالْحَجِّ فَلَمَّا قَدِمْنَا مَكَّةَ فَأَمَرَنَا أَنْ نَجْعَلَهَا عُمْرَةً». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.

EnglishUnverified translation

Sahl ibn Hunayf رضي الله عنه reports that they set out with the Messenger of Allah ﷺ as pilgrims in ihram for Hajj, and when they arrived at Makkah he commanded them to make it into Umrah.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کے ہمراہ حج کرنے کے لئے روانہ ہوئے ۔ ہم نے حج کا احرام باندھا ‘ جب ہم مکہ آئے ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے ہمیں یہ حکم دیا کہ ہم اسے عمرہ بنا لیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

5434

Majma al-Zawaid #5434

وَعَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ أَنَّهُ أَتَى ابْنَ عَبَّاسٍ فَقَالَ: يَا ابْنَ عَبَّاسٍ طَالَمَا أَضْلَلْتَ النَّاسَ! قَالَ: وَمَا ذَاكَ يَا عُرَيَّةُ؟ قَالَ: الرَّجُلُ يَخْرُجُ مُحْرِمًا بِحَجٍّ أَوْ بِعُمْرَةٍ، فَإِذَا طَافَ زَعَمْتَ أَنَّهُ قَدْ حَلَّ فَقَدْ كَانَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ يَنْهَيَانِ عَنْ ذَلِكَ؟ فَقَالَ: أَهُمَا - وَيْحَكَ - آثَرُ عِنْدَكَ أَمْ مَا فِي كِتَابِ اللَّهِ، وَمَا سَنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَصْحَابِهِ، وَفِي أُمَّتِهِ؟ فَقَالَ عُرْوَةُ: هُمَا كَانَا أَعْلَمَ بِكِتَابِ اللَّهِ، وَمَا سَنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنِّي وَمِنْكَ، قَالَ ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ: فَخَصَمَهُ عُرْوَةُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Urwah ibn al-Zubayr رحمه الله reports that he came to Ibn Abbas رضي الله عنهما and accused him of long misleading the people by ruling that a man who sets out in ihram for Hajj or Umrah and circumambulates has exited, though Abu Bakr and Umar رضي الله عنهما forbade it. Ibn Abbas retorted whether those two were weightier with him than what is in the Book of Allah and what the Messenger of Allah ﷺ established among his Companions and his nation. Urwah replied that they were more knowledgeable of the Book of Allah and the Sunnah of the Messenger ﷺ than he and Ibn Abbas. Ibn Abi Mulaykah رحمه الله observed that Urwah thereby contended with him.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عروہ بن زبیر بیان کرتے ہیں : وہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے کہا : اے حضرت ابن عباس ! آپ کتنے عرصے سے لوگوں کو غلط فہمی کا شکار کر رہے ہیں ؟ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : اے عریہ ! کیا ہوا ہے ؟ انہوں نے کہا : ایک شخص حج اور عمرے کا احرام باندھ کر نکلتا ہے ‘ جب وہ طواف کر لیتا ہے ‘ تو آپ کا یہ کہنا ہے کہ وہ احرام کھول سکتا ہے ‘ حالانکہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ اس چیز سے منع کیا کرتے تھے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تمہارا ستیاناس ہو ۔ تمہارے نزدیک یہ دونوں قابل ترجیح ہیں ، یا وہ چیز قابل ترجیح ہے جو اللہ کی کتاب میں ہو ‘ یا جسے اللہ کے رسول نے اپنے اصحاب کے بارے میں اور اپنی امت کے بارے میں سنت کے طور پر مقرر کیا ہو ؟ عروہ نے کہا : یہ دونوں حضرات اللہ کی کتاب کا زیادہ علم رکھتے تھے ‘ اور نبی اکرم ﷺ کی سنت کا بھی مجھ سے اور آپ سے زیادہ علم رکھتے تھے ۔ ابن ابوملیکہ کہتے ہیں : تو یوں عروہ نے ان سے اختلاف کیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اور اس کی سند حسن ہے ۔

5435

Majma al-Zawaid #5435

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ هِلَالٍ الْمُزَنِيِّ - صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: لَيْسَ لِأَحَدٍ بَعْدَنَا أَنْ يُحْرِمَ بِالْحَجِّ، ثُمَّ يَفْسَخَ حَجَّهُ بِعُمْرَةٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْبَزَّارُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدٍ الْمُزَنِيِّ، وَفِيهِ كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيُّ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Hilal al-Muzani رضي الله عنه, a Companion of the Messenger of Allah ﷺ, held that after their generation no one may enter ihram for Hajj then annul his Hajj into Umrah.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن ہلال مزنی رضی اللہ عنہ جو نبی اکرم ﷺ کے صحابی ہیں ، وہ بیان کرتے ہیں : ” ہمارے بعد کسی کے لئے یہ حق نہیں ہے کہ وہ حج کا احرام باندھے اور عمرہ کے ذریعے اپنے احرام کو فسخ کر دے “۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور امام بزار نے بھی نقل کی ہے ‘ تاہم انہوں نے یہ کہا ہے : عبداللہ بن عبد مزنی سے یہ روایت منقول ہے ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی کثیر بن عبداللہ مزنی ہے ‘ اور وہ متروک ہے ۔

5436

Majma al-Zawaid #5436

عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ قَالَ: أَرَادَتِ امْرَأَةٌ مِنَّا أَنْ تَحُجَّ، فَأَرَادَتْ أَنْ تَضُمَّ مَعَ حَجَّتِهَا عُمْرَةً، فَسَأَلَتْ عَبْدَ اللَّهِ؟ فَقَالَ: مَا أَجِدُ هَذِهِ إِلَّا أَشْهُرَ الْحَجِّ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: الْحَجُّ أَشْهُرٌ مَعْلُومَاتٌ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، هَكَذَا وَجَدْتُهُ فِي النُّسْخَةِ الَّتِي كَتَبْتُ أَنَا مِنْهَا، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Tariq ibn Shihab رحمه الله reports that a woman among them intended Hajj and wished to join Umrah with her Hajj, so she asked Abdullah رضي الله عنه. He replied that he found it only in the months of Hajj, for Allah عزوجل says Hajj is in well-known months.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

طارق بن شہاب بیان کرتے ہیں : ہم میں سے ایک خاتون نے حج کرنے کا ارادہ کیا اس نے یہ ارادہ کیا کہ وہ اپنے حج کے ساتھ عمرہ کو بھی ملا لے گی ، اس نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے اس بارے میں دریافت کیا ، تو انہوں نے فرمایا : میں یہ سمجھتا ہوں ۔ یہ صرف حج کے مہینوں میں ہو سکتا ہے ‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ حج کے متعین مہینے ہیں ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ وہ نسخہ جس کو میں نے نوٹ کیا ہے اس میں ، میں نے اس روایت کو اسی طرح پایا ہے اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔

5437

Majma al-Zawaid #5437

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا صَرُورَةَ فِي الْإِسْلَامِ». وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما reports that the Prophet ﷺ declared there is no sarurah in Islam, that is, no remaining without ever performing Hajj. > **"There is no sarurah in Islam."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ اسلام میں ’’ ضرورۃ ‘‘ نہیں ہو گا “۔ ( ’’ ضرورۃ ‘‘ کی وضاحت میں اختلاف پایا جاتا ہے ‘ ایک قول کے مطابق اس سے مراد یہ ہے کہ کوئی شخص حج ہی نہ کرے ) ۔ اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

5438

Majma al-Zawaid #5438

وَعَنِ الْقَاسِمِ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ: لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ: إِنِّي صَرُورَةٌ. فَإِنَّ الْمُسْلِمَ لَيْسَ بِصَرُورَةٍ. وَلَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ: إِنِّي حَاجٌّ. إِنَّمَا الْحَاجُّ الْمُحْرِمُ. وَلَكِنْ لِيَقُلْ: إِنِّي أُرِيدُ مَكَّةَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ. وَالْقَاسِمُ لَمْ يُدْرِكِ ابْنَ مَسْعُودٍ.

EnglishUnverified translation

Al-Qasim رحمه الله reports that Abdullah ibn Masud رضي الله عنه said none should say I am sarurah, for the Muslim is not sarurah, none should say I am a pilgrim, for the pilgrim is the one in ihram, but one should say I intend Makkah.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

قاسم بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : تم میں سے کوئی ایک شخص یہ ہرگز نہ کہے : میں ’’ ضرورۃ ‘‘ ہوں کیونکہ مسلمان ’’ ضرورۃ ‘‘ نہیں ہوتا ‘ تم میں کوئی شخص یہ نہ کہے : میں حاجی ہوں ، کیونکہ حاجی احرام والا ہوتا ہے آدمی کو یہ کہنا چاہیے کہ میں مکہ کا ارادہ رکھتا ہوں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر نقل کی ہے ۔ قاسم نامی راوی نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔

5439

Majma al-Zawaid #5439

«عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ أَنَّهُ أَصَابَهُ دَاءٌ فِي رَأْسِهِ، فَسَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" بِمَاذَا أَنْسَكُ؟ "". فَأَمَرَهُ أَنْ يُهْدِيَ هَدْيًا يُقَلِّدُهَا، ثُمَّ يَسُوقُهَا حَتَّى يُوقِفَهَا بِعَرَفَةَ مَعَ النَّاسِ، ثُمَّ يَدْفَعُ بِهَا مَعَ النَّاسِ (وَكَذَلِكَ يَفْعَلُ بِالْهَدْيِ)». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ.

EnglishUnverified translation

Kab ibn Ujrah رضي الله عنه reports that he suffered an ailment in his head and asked the Prophet ﷺ by what rite he should atone. He was commanded to provide a sacrificial animal, garland it, drive it until he halts it at Arafah with the people, then send it forward with the people, as is done with the sacrifice.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہیں سر میں ایک تکلیف لاحق ہو گئی انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے دریافت کیا : میں کس طرح قربانی کروں ؟ نبی اکرم ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ وہ قربانی کا ایک جانور فراہم کریں ، جس کے گلے میں وہ ہار ڈالیں اور پھر اسے ہانک دیں ، یہاں تک کہ اسے لوگوں کے ساتھ عرفہ میں ٹھہرائیں ‘ پھر وہ اسے لوگوں کے ہمراہ بھجوا دیں ‘ آپ بھی قربانی کے جانور کے ساتھ اسی طرح کرتے تھے ) ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ‘ جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔

5440

Majma al-Zawaid #5440

«وَعَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ قَالَ: آذَانِي هَوَامُّ رَأْسِي، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ؟ فَأَنْزَلَ اللَّهُ جَلَّ ذِكْرُهُ: {فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ بِهِ أَذًى مِنْ رَأْسِهِ فَفِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ} [البقرة: 196] فَدَعَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: "" هَلْ عِنْدَكَ فَرَقٌ تُقَسِّمُهُ بَيْنَ سِتَّةِ مَسَاكِينَ - وَالْفَرَقُ: ثَلَاثَةُ آصُعٍ - أَوْ نُسُكٌ: شَاةٌ أَوْ صَوْمُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ؟ "". فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، خِرْ لِي. قَالَ: "" أَطْعِمْ سِتَّةَ مَسَاكِينَ». قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْعَرْزَمِيُّ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Kab ibn Ujrah رضي الله عنه reports that the vermin of his head tormented him, so he came to the Messenger of Allah ﷺ and asked about it, whereupon Allah revealed the verse that whoever among you is ill or has an ailment of the head then expiation by fasting, charity, or sacrifice. The Messenger of Allah ﷺ then summoned him and asked whether he had a faraq, being three sa, to divide among six poor, or a rite of a sheep, or fasting three days. When Kab asked him to choose for him, he commanded feeding six poor. > **"Is there with you a faraq to divide among six poor, and the faraq is three sa, or a rite: a sheep, or fasting three days? Feed six poor."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میرے سر کی جوئیں مجھے پریشان کر رہی تھیں ۔ میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ میں نے نبی اکرم ﷺ سے اس بارے میں دریافت کیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کر دی : ’’ تم میں سے جو شخص بیمار ہو جائے یا اسے سر میں کوئی تکلیف ہو ‘ تو اس کا فدیہ روزے کی شکل میں ہو گا ‘ یا صدقے کی شکل میں ہو گا یا قربانی کی شکل میں ہو گا ‘‘۔ نبی اکرم ﷺ نے مجھے بلوایا اور ارشاد فرمایا : کیا تمہارے پاس ایک فرق ( یعنی اناج کا مخصوص پیمانہ ) ہے ؟ اسے تم چھ مسکینوں میں تقسیم کر دو راوی کہتے ہیں : فرق تین صاع کا ہوتا ہے ‘ ( نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ) یا پھر قربانی میں ایک بکری قربان کر دو یا تین دن کے روزے رکھ لو میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ میرے لئے کسی ایک کو مقرر کر دیں ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم چھ مسکینوں کو کھانا کھلا دو ۔ علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ’’ صحیح ‘‘ میں اختصار کے ساتھ منقول ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبیداللہ عرزمی ہے ‘ اور وہ متروک ہے ۔

5441

Majma al-Zawaid #5441

«عَنِ الْهِرْمَاسِ قَالَ: كُنْتُ رِدْفَ أَبِي، فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى بَعِيرٍ، وَهُوَ يَقُولُ: "" لَبَّيْكَ بِحَجَّةٍ وَعُمْرَةٍ مَعًا». رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ فِي زِيَادَاتِهِ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Hirmas رضي الله عنه reports that he was riding behind his father when he saw the Prophet ﷺ upon a camel declaring his presence for Hajj and Umrah together. > **"Labbayk with a Hajj and an Umrah together."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ہرماس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں اپنے والد کے پیچھے سواری پر موجود تھا ، میں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا آپ اونٹ پر سوار تھے ‘ اور آپ یہ کہہ رہے تھے : میں حج اور عمرہ ایک ساتھ کرنے کے لئے حاضر ہوں ۔ یہ روایت عبداللہ نے اپنی زیادات میں نقل کی ہے ‘ اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

5442

Majma al-Zawaid #5442

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: «خَرَجْنَا نَصْرُخُ بِالْحَجِّ صُرَاخًا، فَلَمَّا قَدِمْنَا مَكَّةَ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَجْعَلَهَا عُمْرَةً، وَقَالَ: "" لَوِ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ لَجَعَلْتُهَا عُمْرَةً، وَلَكِنْ سُقْتُ الْهَدْيَ، وَقَرَنْتُ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ». قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ خَلَا قَوْلِهِ: "" وَقَرَنْتُ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ أَسْمَاءُ الصَّيْقَلُ ; وَلَمْ أَجِدْ مَنْ رَوَى عَنْهُ غَيْرَ أَبِي إِسْحَاقَ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Malik رضي الله عنه reports that they set out raising their voices with Hajj, and when they arrived at Makkah the Messenger of Allah ﷺ commanded them to make it into Umrah. He declared that had he known before what he came to know after he would have made it Umrah, but since he had driven the sacrifice he had joined Hajj and Umrah. > **"Make it into Umrah. Had I known before in my affair what I know now I would have made it Umrah, but I have driven the sacrifice and joined Hajj and Umrah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ روانہ ہوئے ، ہم بلند آواز میں تلبیہ پڑھ رہے تھے ‘ جب ہم مکہ آئے ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے ہمیں یہ حکم دیا کہ ہم اسے عمرہ بنا لیں ۔ آپ نے ارشاد فرمایا : مجھے بعد میں جس چیز کا خیال آیا اگر وہ ( خیال ) پہلے آ جاتا ‘ تو میں اس عمرہ بنا لیتا ، لیکن میں کیونکہ قربانی کا جانور ساتھ لایا ہوں ‘ اس لئے میں نے حج اور عمرہ کو ملا لیا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ’’ صحیح ‘‘ میں مذکور ہے ‘ تا ہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں : ’’ میں نے حج اور عمرہ کو ملا لیا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد ‘ امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی اسماء صیقل میں نے ابواسحاق کے علاوہ اور کسی کو اس سے روایت نقل کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔

5443

Majma al-Zawaid #5443

وَعَنْ سُرَاقَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «دَخَلَتِ الْعُمْرَةُ فِي الْحَجِّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ "". قَالَ: وَقَرَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ (فِي حُجَّةِ الْوَدَاعِ)». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ دَاوُدُ بْنُ يَزِيدَ الْأَوْدِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Suraqah رضي الله عنه reports that he heard the Messenger of Allah ﷺ declaring that Umrah has entered into Hajj until the Day of Resurrection, and that the Messenger of Allah ﷺ joined Hajj and Umrah in the Farewell Hajj. > **"Umrah has entered into Hajj until the Day of Resurrection."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سراقہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ قیامت کے دن تک کے لئے عمرہ ‘ حج میں داخل ہو گیا ہے “۔ راوی بیان کرتے ہیں : حجۃ الوداع کے موقع پر نبی اکرم ﷺ نے حج قران کیا تھا ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی داؤد بن یزید اودی ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

5444

Majma al-Zawaid #5444

وَعَنْ أَبِي عِمْرَانَ أَسْلَمَ قَالَ: «حَجَجْتُ مَعَ مَوَالِيَّ فَدَخَلْتُ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ: أَعْتَمِرُ قَبْلَ أَنْ أَحُجَّ؟ قَالَتْ: إِنْ شِئْتَ فَاعْتَمِرْ قَبْلَ أَنْ تَحُجَّ، وَإِنْ شِئْتَ فَبَعْدَ أَنْ تَحُجَّ. قَالَ: فَقُلْتُ: إِنَّهُمْ يَقُولُونَ: مَنْ كَانَ صَرُورَةً فَلَا يَصْلُحُ أَنْ يَعْتَمِرَ قَبْلَ أَنْ يَحُجَّ؟ قَالَ: فَسَأَلْتُ أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ فَقُلْنَ مِثْلَ مَا قَالَتْ (فَرَجَعْتُ إِلَيْهَا)، فَأَخْبَرْتُهَا بِقَوْلِهِنَّ. قَالَ: فَقَالَتْ: نَعَمْ وَأَشْفِيكَ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: "" أَهِلُّوا يَا آلَ مُحَمَّدٍ بِعُمْرَةٍ فِي الْحَجِّ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى بِنَحْوِهِ وَقَالَ: فَسَأَلْتُ صَفِيَّةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ. وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ بِاخْتِصَارٍ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: «أَهِلُّوا يَا أُمَّةَ مُحَمَّدٍ بِحَجٍّ وَعُمْرَةٍ». وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Imran Aslam رحمه الله reports that he performed Hajj with his patrons and entered upon Umm Salamah رضي الله عنها, wife of the Prophet ﷺ, asking whether he should perform Umrah before Hajj. She replied he might do so before or after Hajj. When he objected that people say one who is sarurah should not perform Umrah before Hajj, and he had asked the Mothers of the Believers رضي الله عنهن who answered likewise, he returned and informed her of their reply. She confirmed it and offered further healing, having heard the Messenger of Allah ﷺ commanding the household to chant Umrah within Hajj, elsewhere narrated as commanding the nation of Muhammad ﷺ with Hajj and Umrah. > **"Enter ihram, O family of Muhammad, with an Umrah in Hajj. Enter ihram, O nation of Muhammad, with a Hajj and an Umrah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوعمران اسلم بیان کرتے ہیں : میں اپنے آقاؤں کے ساتھ حج کے لئے گیا میں نبی اکرم ﷺ کی زوجہ محترمہ سیدہ اُم سلمہ رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے دریافت کیا : میں حج کرنے سے پہلے عمرہ کر لوں ۔ انہوں نے فرمایا : اگر تم چاہو ‘ تو حج سے پہلے عمرہ کر لو اور اگر چاہو ‘ تو حج کرنے کے بعد ( عمرہ ) کر لینا راوی کہتے ہیں : میں نے دریافت کیا : لوگ یہ کہتے ہیں : جو شخص ’’ ضرورة ‘‘ ہو ‘ اس کے لئے درست نہیں ہے کہ حج سے پہلے عمرہ کرے راوی بیان کرتے ہیں : میں نے امہات المومنین سے اس بارے میں دریافت کیا ‘ تو انہوں نے بھی سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے جواب کے مطابق جواب دیا میں واپس سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا اور انہیں امہات المومنین کے جواب کے بارے میں بتایا تو سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا ٹھیک ہے میں تمہاری مزید تسلی کروا دیتی ہوں میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے ’’ اے آل محمد ! حج میں عمرہ کا تلبیہ پڑھو ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے امام ابویعلیٰ نے اس کی مانند نقل کی ہے اس میں ان کے یہ الفاظ ہیں : میں نے ام المومنین سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں اختصار کے ساتھ نقل کی ہے تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ’’ اے محمد کی امت ! حج اور عمرے کا تلبیہ پڑھو ‘‘۔ امام احمد کے رجال ثقہ ہیں ۔

5445

Majma al-Zawaid #5445

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ (عَنْ جَدِّهِ)، «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا قَرَنَ خَشْيَةَ أَنْ يُصَدَّ عَنِ الْبَيْتِ وَقَالَ: "" إِنْ لَمْ يَكُنْ حَجَّةً فَعُمْرَةً». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَهُوَ مُرْسَلٌ، وَفِيهِ يُونُسُ بْنُ الْحَارِثِ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَغَيْرُهُ، وَضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ، وَلَا أَدْرِي مَا مَعْنَى قَوْلِهِ: خَشْيَةَ أَنْ يُصَدَّ عَنِ الْبَيْتِ. وَهُوَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.

EnglishUnverified translation

Amr ibn Shuayb رحمه الله reports from his father from his grandfather رضي الله عنه that the Messenger of Allah ﷺ only joined Hajj and Umrah from fear of being barred from the House, saying that if it were not Hajj it would be Umrah. > **"If it is not a Hajj then it is an Umrah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے حج قران اس اندیشے کے تحت کیا تھا کہ کہیں آپ کو بیت اللہ تک جانے سے روک نہ دیا جائے ۔ آپ نے ارشاد فرمایا : اگر حج نہ ہو سکا تو پھر عمرہ ہو گا ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور یہ روایت ’’ مرسل “ ہے اس کی سند میں ایک راوی یونس بن حارث ہے ‘ جسے ابن حبان اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے امام احمد اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) مجھے یہ نہیں معلوم کہ روایت کے ان الفاظ کا مطلب کیا ہے ’’ اس اندیشے کے تحت کہ آپ کو بیت اللہ سے روک دیا جائے گا ‘‘۔ کیونکہ یہ تو حجتہ الوداع کے موقع کی بات ہے باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔

5446

Majma al-Zawaid #5446

وَعَنِ ابْنِ أَبِي أَوْفَى قَالَ: إِنَّمَا جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ ; لِأَنَّهُ عَلِمَ أَنَّهُ لَا يَحُجُّ بَعْدَ ذَلِكَ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ عَطَاءٍ، وَثَّقَهُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ، وَفِيهِ كَلَامٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abi Awfa رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ only combined Hajj and Umrah because he knew he would not perform Hajj after that.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابن ابواوفی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے حج اور عمرے کو اکٹھا کر دیا کیونکہ آپ یہ بات جانتے تھے کہ آپ اس کے بعد حج نہیں کریں گے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یزید بن عطاء ہے ‘ جسے امام احمد اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔

5447

Majma al-Zawaid #5447

وَعَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَجَّ بَعْدَمَا هَاجَرَ حَجَّةً وَاحِدَةً لَمْ يَحُجَّ بَعْدَهَا: حَجَّةَ الْوَدَاعِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Zayd ibn Arqam رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ performed only one Hajj after migrating, and he did not perform Hajj after it: the Farewell Hajj.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ہجرت کرنے کے بعد صرف ایک ہی حج کیا تھا اور وہ حجتہ الوداع ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔