وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: «كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاعِدًا بَعْدَ الْمَغْرِبِ وَمَعَهُ أَصْحَابُهُ، إِذْ مَرَّتْ بِهِمْ رُفْقَةٌ يَسِيرُونَ، سَائِقُهُمْ يَقْرَأُ وَقَائِدُهُمْ يَحْدُو، فَلَمَّا رَآهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ يُهَرْوِلُ بِغَيْرِ رِدَاءٍ فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، نَحْنُ نَكْفِيكَ؟ فَقَالَ: "" دَعُونِي أُبَلِّغْهُمْ مَا أُوحِيَ إِلَيَّ فِي أَمْرِهِمْ "". فَلَحِقَهُمْ فَقَالَ: "" أَيْنَ تُرِيدُونَ فِي هَذِهِ السَّاعَةِ؟ "". قَالُوا: نُرِيدُ الْيَمَنَ. قَالَ: "" فَمَا سَيْرُكُمْ هَذِهِ السَّاعَةَ؟ فَإِنَّ لِلَّهِ فِي السَّمَاءِ سُلْطَانًا عَظِيمًا يُوَجِّهُهُ إِلَى أَهْلِ الْأَرْضِ فَلَا تَسِرُوا وَلَا خُطْوَةً إِلَّا مَا يَجِدُ الرَّجُلُ فِي بَطْنِهِ وَمَثَانَتِهِ مِنَ الْبَوْلِ الَّذِي لَا نَجِدُ مِنْهُ بُدًّا وَلَا خُطْوَةً، وَأَمَّا أَنْتَ يَا سَائِقَ الْقَوْمِ فَعَلَيْكَ بِبَعْضِ كَلَامِ الْعَرَبِ مِنْ رَجَزِهَا، وَإِذَا كُنْتَ رَاكِبًا فَاقْرَأْ، وَعَلَيْكَ بِالدُّلْجَةِ ; فَإِنَّ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مَلَائِكَةً مُوَكَّلِينَ يَطْوُونَ الْأَرْضَ لِلْمُسَافِرِ كَمَا تَطْوُونَ الْقَرَاطِيسَ، وَبَعْدَ الصُّبْحِ يَحْمَدُ الْقَوْمُ السُّرَى، وَلَا يَصْحَبَنَّكُمْ شَاعِرٌ وَلَا كَاهِنٌ، وَلَا يَصْحَبَنَّكُمْ ضَالَّةٌ، وَلَا تَرُدُّنَّ سَائِلًا إِنْ أَرَدْتُمُ الرِّبْحَ وَالسَّلَامَةَ وَحُسْنَ الصَّحَابَةِ، فَعَجَبٌ لِي كَيْفَ أَنَامُ حِينَ تَنَامُ الْعُيُونُ كُلُّهَا؟ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَنْهَاكُمْ عَنِ السَّيْرِ فِي هَذِهِ السَّاعَةِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَهُوَ فِي النُّسْخَةِ كَمَا هَاهُنَا، وَلَكِنَّهَا غَيْرُ مُقَابَلَةٍ، وَفِيهِ سُلَيْمٌ أَبُو سَلَمَةَ صَاحِبُ الشَّعْبِيِّ وَمَوْلَاهُ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَقَالَ ابْنُ عَدِيٍّ: لَمْ أَرَ لَهُ حَدِيثًا مُنْكَرًا، وَإِنَّمَا عِيبَ الْأَسَانِيدَ لَا يُتْقِنُهَا.
EnglishUnverified translation
Abu Hurayrah رضي الله عنه reports the Prophet ﷺ sitting after Maghrib with his Companions when a caravan passed with its driver reciting and its guide chanting. The Prophet ﷺ hastened bare-shouldered to reach them despite offers of sufficiency, declaring his duty to convey their revelation. He questioned their destination and hour, learning they sought Yemen, then warned of Allah's mighty authority in heaven directed toward earth's folk, forbidding travel at that hour except for unavoidable relief. He instructed the driver to measured Arab rajaz, the rider to recitation, and all to night journeying for Allah folds the earth for the traveler as scrolls are folded and dawn praises night travel. He forbade company of poet, soothsayer or stray, and returning beggars for profit, safety and good companionship, expressing wonder at sleep while all eyes sleep when Allah forbids travel at that hour. > **"Leave me to convey to them what has been revealed to me concerning them. Where do you intend at this hour? Why do you journey at this hour? Verily Allah has in heaven a mighty authority which He directs toward the people of the earth, so do not travel, not a step except what a man finds in his belly and bladder of urine for which there is no escape. As for you, O driver of the folk, upon you is some speech of the Arabs from its rajaz, and when you are mounted then recite, and upon you is night journeying, for Allah Almighty has angels entrusted who fold the earth for the traveler as you fold scrolls, and after dawn the folk praise the night journey. Let no poet nor soothsayer accompany you, let no stray accompany you, and do not turn away a beggar if you desire profit, safety and good companionship. Wondrous to me how I sleep when all eyes sleep? Verily Allah Almighty forbids you from traveling at this hour."**
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ مغرب کے بعد تشریف فرما تھے آپ کے ساتھ آپ کے اصحاب موجود تھے اسی دوران کچھ مسافر چلتے ہوئے وہاں سے گزرے جو شخص انہیں ہانک کے لے جا رہا تھا وہ تلاوت کر رہا تھا جو شخص ان کے آگے چل رہا تھا وہ حدی پڑھ رہا تھا جب نبی اکرم ﷺ نے انہیں دیکھا تو آپ تیزی سے اٹھ کر چادر لئے بغیر بڑھے لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم آپ کی جگہ چلے جاتے ہیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم رہنے دو میں انہیں اس چیز کی تبلیغ کروں گا ‘ جو ان کے بارے میں مجھے تبلیغ کی گئی ہے پھر نبی اکرم ﷺ ان لوگوں تک پہنچے آپ نے ارشاد فرمایا : اس گھڑی میں تم لوگ کہاں جا رہے ہو ؟ انہوں نے عرض کی : ہم یمن جا رہے ہیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اس گھڑی میں تم کیوں سفر کر رہے ہو ؟ بے شک اللہ تعالیٰ کی آسمان میں عظیم بادشاہی ہے ‘ جسے وہ زمین والوں کی طرف بھیجتا ہے ‘ تو تم جب سفر کرو گے تو جو بھی قدم اٹھاؤ گے تو اس آدمی کو اپنے پیٹ اور مثانے میں ایسا پیشاب محسوس ہو گا کہ جس کو روکے بغیر نہیں جا سکے گا ‘ اور اے لوگوں کو ہانک کر لے جانے والے تم پر یہ لازم ہے کہ تم عرب کے کلام میں سے رجز کے طور پر کچھ پڑھ لو اور جب تم سوار ہو اس وقت قرأت کرو اور تم لوگوں پر رات میں سفر کرنا لازم ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے کچھ ایسے فرشتے ہیں ، جو اس بات کے لئے مقرر ہیں کہ وہ مسافر کے لئے زمین کو یوں لپیٹ دیتے ہیں ، جس طرح تم لوگ کاغذ کو لپیٹتے ہو اور صبح ہو جانے کے بعد لوگ رات کے سفر کی تعریف کرتے ہیں ‘ تمہارے ساتھ کوئی شاعر یا کوئی کاہن نہ رہے ‘ اور تمہارے ساتھ کوئی گمشدہ جانور نہ ہو ‘ اور تم کسی مانگنے والے کو واپس نہ کرنا اور تم منافع اور سلامتی اور اچھا ساتھ چاہتے ہو ‘ اور مجھے حیرت ہوتی ہے کہ میں کیسے سو جاتا ہوں جب تمام آنکھیں سوئی ہوتی ہیں ‘ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے تم لوگوں کو اس گھڑی میں سفر کرنے سے منع کیا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اور یہ نسخے میں اسی طرح ہے ، جس طرح یہاں ہے ، لیکن یہ مقابلہ کے بغیر ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سلیم ابوسلمہ ہے ‘ جو امام شعبی کا شاگرد اور ان کا غلام ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔ ابن عدی کہتے ہیں : میں نے ان کے حوالے سے کوئی منکر حدیث نہیں دیکھی ہے ، لیکن اسانید کا عیب اسے ’’ معتقن “ نہیں کرتا ہے ۔