Majma al-Zawaid #5248
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: «قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النَّاسِ فَقَالَ: "" إِنَّ اللَّهَ كَتَبَ عَلَيْكُمُ الْحَجَّ "". فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الْأَعْرَابِ فَقَالَ: أَفِي كُلِّ عَامٍ؟ فَعَلَا كَلَامُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَضِبَ، وَمَكَثَ طَوِيلًا، ثُمَّ تَكَلَّمَ فَقَالَ: "" مَنْ هَذَا السَّائِلُ؟ "". فَقَالَ الْأَعْرَابِيُّ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ. فَقَالَ: "" وَيْحَكَ يُؤْنِسُكَ أَنْ أَقُولَ: نَعَمْ؟ وَاللَّهِ لَوْ قُلْتُ: نَعَمْ لَوَجَبَتْ، [وَلَوْ وَجَبَتْ لَتَرَكْتُمْ، وَلَوْ تَرَكْتُمْ لَكَفَرْتُمْ، أَلَا إِنَّهُ أَهْلَكَ الَّذِينَ قَبْلَكُمْ أَئِمَّةُ الْحَرَجِ، وَاللَّهِ] لَوْ أَنِّي أَحْلَلْتُ لَكُمْ جَمِيعَ مَا فِي الْأَرْضِ مِنْ شَيْءٍ، وَحَرَّمْتُ عَلَيْكُمْ مِثْلَ خُفِّ بَعِيرٍ لَوَقَعْتُمْ [فِيهِ] "". فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عِنْدَ ذَلِكَ: "" {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ} [المائدة: 101] "" الْآيَةَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ جَيِّدٌ.
EnglishUnverified translation
Abu Umamah رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ stood among the people announcing that Allah had prescribed Hajj, whereupon a Bedouin inquired about its annual frequency. The Prophet ﷺ fell silent in anger for a long while, then demanded the questioner identify himself, and the Bedouin declared himself. > **"Indeed Allah has prescribed Hajj upon you. Who is this questioner? Woe to you, would it please you were I to say yes? By Allah, had I said yes it would have become obligatory, and had it become obligatory you would have abandoned it, and had you abandoned it you would have disbelieved. Verily those before you were destroyed by the imams of hardship. By Allah, had I permitted for you all that is upon the earth and forbidden you even as little as a camel's hoof, you would have fallen into it."** > **"O you who believe, do not ask about things which, if made clear to you, would distress you."**
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ لوگوں کے درمیان کھڑے ہوئے آپ نے ارشاد فرمایا : ” بے شک اللہ تعالیٰ نے تم لوگوں پر حج کو لازم قرار دیا ہے دیہات سے تعلق رکھنے والا ایک شخص کھڑا ہوا اور بولا کیا ہر سال میں ؟ تو نبی اکرم ﷺ نے گفتگو کو روک دیا آپ غصے میں آ گئے آپ کافی دیر ٹھہرے رہے پھر آپ نے گفتگو شروع کی اور آپ نے ارشاد فرمایا : سوال کرنے والا شخص کون ہے ؟ دیہاتی بولا : میں ہوں ، یا رسول اللہ ! نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تمہارا ستیاناس ہو کیا تم یہ چاہتے ہو کہ میں یہ کہہ دوں جی ہاں اللہ کی قسم اگر میں یہ کہہ دیتا کہ جی ہاں تو یہ واجب ہو جاتا اور اگر یہ واجب ہو جاتا ‘ تو تم نے اسے ترک کر دینا تھا اور اگر تم اسے ترک کر دیتے تو تم نے کفر کا مرتکب ہو جانا تھا تم سے پہلے کے لوگوں کو ائمہ حرج نے ہلاکت کا شکار کیا تھا اللہ کی قسم اگر میں تمہارے لئے روئے زمین پر موجود ہر چیز کو حلال قرار دے دوں اور اونٹ کے پاؤں جتنی کوئی چیز تم پر حرام قرار دوں تو تم اس میں بھی مبتلاء ہو جاؤ گے ( راوی بیان کرتے ہیں ) اس موقعہ پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : ” اے ایمان والو ! تم ایسی چیز کے بارے میں دریافت نہ کرو کہ اگر وہ تمہارے سامنے ظاہر کر دی جائیں تو تمہیں برا لگے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند حسن اور عمدہ ہے ۔