وَعَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ قَالَ: «كَانَتِ الْكَعْبَةُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ مَبْنِيَّةً بِالرَّضْمِ وَكَانَتْ قَدْرَ مَا يَفْتَحُهُمَا الْعَنَاقُ، وَكَانَتْ غَيْرَ مَسْقُوفَةٍ، وَإِنَّمَا تُوضَعُ ثِيَابُهَا عَلَيْهَا ثُمَّ تُسْدَلُ سَدْلًا عَلَيْهَا، وَكَانَ الرُّكْنُ الْأَسْوَدُ مَوْضُوعًا عَلَى سُورِهَا تَأَدُّبًا، وَكَانَتْ ذَاتَ رُكْنَيْنِ كَهَيْأَةِ الْحَلْقَةِ فَأَقْبَلَتْ سَفِينَةٌ مِنْ أَرْضِ الرُّومِ حَتَّى إِذَا كَانُوا قَرِيبًا مِنْ جَدَّةَ تَكَسَّرَتِ السَّفِينَةُ فَخَرَجَتْ قُرَيْشٌ لِيَأْخُذُوا خَشَبَهَا فَوَجَدُوا رُومِيًّا عِنْدَهَا فَأَخَذُ [وا] الْخَشَبَ أَعْطَاهُمْ إِيَّاهُ، وَكَانَتِ السَّفِينَةُ تُرِيدُ الْحَبَشَةَ، وَكَانَ الرُّومِيُّ الَّذِي فِي السَّفِينَةِ نَجَّارًا فَقَدِمُوا، وَقَدِمُوا بِالرُّومِيِّ فَقَالَتْ قُرَيْشٌ: نَبْنِي بِهَذَا الْخَشَبِ الَّذِي فِي السَّفِينَةِ بَيْتَ رَبِّنَا. فَلَمَّا أَرَادُوا هَدْمَهُ إِذَا هُمْ بِحَيَّةٍ عَلَى سُورِ الْبَيْتِ مِثْلِ قِطْعَةِ الْحَائِرِ سَوْدَاءِ الظَّهْرِ بَيْضَاءِ الْبَطْنِ فَجَعَلَتْ كُلَّمَا دَنَا أَحَدٌ إِلَى الْبَيْتِ لِيَهْدِمَهُ أَوْ لِيَأْخُذَ مِنْ حِجَارَتِهِ سَعَتْ إِلَيْهِ فَاتِحَةً فَاهَا. فَاجْتَمَعَتْ قُرَيْشٌ عِنْدَ الْمَقَامِ فَعَجُّوا إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَقَالُوا: رَبَّنَا لَمْ نُرَعْ أَرَدْنَا تَشْرِيفَ بَيْتِكَ، وَتَزْيِينَهُ فَإِنْ كُنْتَ تَرْضَى بِذَلِكَ فَافْعَلْ مَا بَدَا لَكَ؟ فَسَمِعُوا خُوَارًا فِي السَّمَاءِ فَإِذَا هُمْ بِطَائِرٍ أَسْوَدِ الظَّهْرِ أَبْيَضِ الْبَطْنِ وَالرِّجْلَيْنِ أَعْظَمَ مِنَ الْبَشَرِ فَغَرَزَ مَخَالِيبَهُ فِي رَأْسِ الْحَيَّةِ حَتَّى انْطَلَقَ بِهَا يَجُرُّ ذَنَبَهَا أَعْظَمَ مِنْ كَذَا وَكَذَا سَاقِطًا، فَانْطَلَقَ نَحْوَ أَجْنَادٍ فَهَدَمَتْهَا قُرَيْشٌ، وَجَعَلُوا يَبْنُونَهَا بِحِجَارَةِ الْوَادِي تَحْمِلُهَا قُرَيْشٌ عَلَى رِقَابِهَا فَرَفَعُوهَا فِي السَّمَاءِ عِشْرِينَ ذِرَاعًا فَبَيْنَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَحْمِلُ حِجَارَةً مِنْ أَجْنَادَ، وَعَلَيْهِ نَمِرَةٌ فَضَاقَتْ عَلَيْهِ النَّمِرَةُ فَذَهَبَ يَضَعُ النَّمِرَةَ عَلَى عَاتِقِهِ فَتُرَى عَوْرَتُهُ مِنْ صِغَرِ النَّمِرَةِ فَنُودِيَ: يَا مُحَمَّدُ خَمِّرْ عَوْرَتَكَ، فَلَمْ يُرَ عُرْيَانًا بَعْدَ ذَلِكَ، وَكَانَ يَرَى بَيْنَ بِنَاءِ الْكَعْبَةِ، وَبَيْنَ مَا أُنْزِلَ عَلَيْهِ خَمْسَ سِنِينَ، وَبَيْنَ مُخْرَجِهِ، وَبُنْيَانِهَا خَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ بِطُولِهِ، وَرَوَى أَحْمَدُ طَرَفًا مِنْهُ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ.
EnglishUnverified translation
Abu al-Tufayl رضي الله عنه reports that in Jahiliyyah the Kaaba was built of piled stones, low enough for a young goat to mount, roofless, with garments laid and draped over it, the Black Corner set upon its wall in reverence, having two corners like a ring. A Roman ship bound for Abyssinia wrecked near Jeddah; Quraysh took its timber from a Roman carpenter aboard and resolved to build their Lord's House. When they sought to demolish it, a serpent like a water-skin piece, black-backed and white-bellied, barred each approach with open mouth. Quraysh gathered at the Maqam, implored Allah that they intended only honor and adornment, and asked Him to do as He willed if pleased. They heard a rumble in the sky, and a bird black-backed, white-bellied and legged, greater than a man, gripped the serpent's head with its talons and dragged it with its great tail toward Ajnad. Quraysh then demolished and rebuilt with valley stones carried upon their necks, raising it twenty cubits in the sky. The Prophet ﷺ carried stones from Ajnad wearing a small namirah which constricted him; when he placed it upon his shoulder his nakedness showed from its smallness, whereupon he was called to cover it, and was never afterward seen naked. > **"Our Lord, we intend no harm; we intend only the honor of Your House and its adornment, so if You are pleased therewith, do as seems to You."** > **"O Muhammad, cover your nakedness."**
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
حضرت ابوطفیل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : زمانہ جاہلیت میں خانہ کعبہ چٹانوں پر بنا ہوا تھا ‘ اور اتنا اونچا تھا ‘ کہ بکری کا بچہ اس پر چڑھ سکتا ہے ‘ اس کی چھت نہیں تھی اس پر کپڑے ڈالے جاتے تھے اور پھر لٹکا دیے جاتے تھے اس کے کونے پر حجر اسود رکھا ہوا تھا اور وہ حلقے کی طرح دو کونوں والا تھا روم کی سرزمین سے ایک کشتی آ رہی تھی جب وہ جدہ کے قریب پہنچی تو وہ کشتی ٹوٹ گئی قریش نکلے تاکہ اس کی لکڑی کو حاصل کر لیں انہیں اس کے پاس ایک رومی شخص ملا قریش نے وہ لکڑی حاصل کی وہ لکڑی اس شخص کو دی وہ کشتی حبشہ کی طرف جا رہی تھی اور کشتی میں موجود رومی شخص بڑھئی تھا جب قریش واپس آئے تو وہ اپنے ساتھ رومی کو بھی لے آئے قریش نے کہا : ہم اس لکڑی کے ذریعے جو اس کشتی میں تھی اس کے ذریعے اپنے پروردگار کا گھر بنائیں گے جب انہوں نے خانہ کعب کو منہدم کرنے کا ارادہ کیا ‘ تو خانہ کعبہ کی دیوار پر کمزور چیز کی مانند ایک سانپ موجود تھا جس کی پشت سیاہ تھی اور پیٹ سفید تھا ‘ جب بھی کوئی شخص منہدم کرنے کے لئے بیت اللہ کے قریب ہونا چاہتا یا اس کے پتھر کو اتارنا چاہتا تو وہ ساپ منہ کھول کر اس کی طرف بڑھ جاتا تھا قریش مقام ابراہیم کے پاس اکٹھے ہوئے ۔ انہوں نے اللہ تعالی کی بارگاہ میں گریہ وزاری کی اور عرض کی اے ہمارے پروردگار ہمارا مقصد صرف تیرے گھر کی عزت کرنا اور اس کی آرائش و زیبائش کرنا ہے اگر تو اس سے راضی ہے ‘ تو پھر جو تجھے اچھا لگے وہ کر لے پھر انہوں نے آسمان میں ایک آواز سنی تو وہاں ایک سیاہ رنگ کی پشت والا اور سفید پیٹ والا پرندہ موجود تھا جس کے دو پاؤں تھے وہ انسان سے بڑا تھا اس نے اپنے پنجے سانپ کے سر میں گاڑے اور اس کو لے کے چلا گیا اس سانپ کی دم فلاں فلاں چیز سے زیادہ بڑی تھی وہ اجناد کی طرف چلا گیا قریش نے خانہ کعبہ کو منہدم کر دیا اور پھر وادی کے پتھروں کے ذریعے اس کی تعمیر کرنا شروع کی قریش اپنی گردنوں پر وہ پتھر اٹھا کے لاتے تھے ۔ انہوں نے اسے بیس گز بلند کیا نبی اکرم ﷺ بھی اجناد سے پتھر اٹھا کے لایا کرتے تھے آپ نے چادر اوڑھی ہوئی تھی وہ چادر چھوٹی تھی آپ نے وہ چادر کندھے پر رکھنا چاہی تو چادر چھوٹی ہونے کی وجہ سے آپ کی شرمگاہ ظاہر ہو گئی تو پکار کر کہا گیا : اے محمد ! اپنی شرمگاہ کو ڈھانپ لو اس کے بعد نبی اکرم ﷺ کو کبھی بھی برہنہ نہیں دیکھا گیا خانہ کعبہ کی اس تعمیر اور نبی اکرم ﷺ پر وحی نازل ہونے کے درمیان پانچ سال کا فرق ہے اور نبی اکرم ﷺ کے مکہ سے نکلنے اور اس تعمیر کے درمیان پندرہ سال کا فرق ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں طویل روایت کے طور پر نقل کی ہے امام احمد نے اس کا ایک حصہ نقل کیا ہے ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔