Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 10 · Chapter 13

Book of Hajj

Hadith 5728–5767

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

5728

Majma al-Zawaid #5728

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: «وُضِعَ الْحَرَمُ قَبْلَ الْأَرْضِ بِأَلْفَيْ عَامٍ وَدُحِيَتِ الْأَرْضُ مِنْ تَحْتِهِ. قَالَ مُجَاهِدٌ: قَوْلُهُ: {فَاجْعَلْ أَفْئِدَةً مِنَ النَّاسِ تَهْوِي إِلَيْهِمْ} [إبراهيم: 37] قَالَ: لَوْ قَالَ: أَفْئِدَةَ النَّاسِ لَازْدَحَمَتْ عَلَيْهِ فَارِسُ وَالرُّومُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ ِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Amr رضي الله عنهما reports that the sanctuary was placed two thousand years before the earth and the earth was spread from beneath it. Mujahid explained concerning the verse about making hearts incline to them that had the wording been all hearts, Persia and Rome would have crowded upon it.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حرم کو زمین سے دو ہزار سال پہلے رکھا گیا اور اس کے نیچے سے زمین کو پھیلایا گیا ۔ مجاہد بیان کرتے ہیں : اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ تو کچھ لوگوں کے دلوں کو یوں بنا دے کہ وہ اس کی طرف آئیں ‘‘۔ مجاہد فرماتے ہیں : اگر اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہوتا :’’ لوگوں کے دلوں کو ‘‘ تو پھر اہل فارس اور رومیوں نے بھی اس کے اردگرد ہجوم کر لینا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

5729

Majma al-Zawaid #5729

وَعَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ قَالَ: «كَانَتِ الْكَعْبَةُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ مَبْنِيَّةً بِالرَّضْمِ وَكَانَتْ قَدْرَ مَا يَفْتَحُهُمَا الْعَنَاقُ، وَكَانَتْ غَيْرَ مَسْقُوفَةٍ، وَإِنَّمَا تُوضَعُ ثِيَابُهَا عَلَيْهَا ثُمَّ تُسْدَلُ سَدْلًا عَلَيْهَا، وَكَانَ الرُّكْنُ الْأَسْوَدُ مَوْضُوعًا عَلَى سُورِهَا تَأَدُّبًا، وَكَانَتْ ذَاتَ رُكْنَيْنِ كَهَيْأَةِ الْحَلْقَةِ فَأَقْبَلَتْ سَفِينَةٌ مِنْ أَرْضِ الرُّومِ حَتَّى إِذَا كَانُوا قَرِيبًا مِنْ جَدَّةَ تَكَسَّرَتِ السَّفِينَةُ فَخَرَجَتْ قُرَيْشٌ لِيَأْخُذُوا خَشَبَهَا فَوَجَدُوا رُومِيًّا عِنْدَهَا فَأَخَذُ [وا] الْخَشَبَ أَعْطَاهُمْ إِيَّاهُ، وَكَانَتِ السَّفِينَةُ تُرِيدُ الْحَبَشَةَ، وَكَانَ الرُّومِيُّ الَّذِي فِي السَّفِينَةِ نَجَّارًا فَقَدِمُوا، وَقَدِمُوا بِالرُّومِيِّ فَقَالَتْ قُرَيْشٌ: نَبْنِي بِهَذَا الْخَشَبِ الَّذِي فِي السَّفِينَةِ بَيْتَ رَبِّنَا. فَلَمَّا أَرَادُوا هَدْمَهُ إِذَا هُمْ بِحَيَّةٍ عَلَى سُورِ الْبَيْتِ مِثْلِ قِطْعَةِ الْحَائِرِ سَوْدَاءِ الظَّهْرِ بَيْضَاءِ الْبَطْنِ فَجَعَلَتْ كُلَّمَا دَنَا أَحَدٌ إِلَى الْبَيْتِ لِيَهْدِمَهُ أَوْ لِيَأْخُذَ مِنْ حِجَارَتِهِ سَعَتْ إِلَيْهِ فَاتِحَةً فَاهَا. فَاجْتَمَعَتْ قُرَيْشٌ عِنْدَ الْمَقَامِ فَعَجُّوا إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَقَالُوا: رَبَّنَا لَمْ نُرَعْ أَرَدْنَا تَشْرِيفَ بَيْتِكَ، وَتَزْيِينَهُ فَإِنْ كُنْتَ تَرْضَى بِذَلِكَ فَافْعَلْ مَا بَدَا لَكَ؟ فَسَمِعُوا خُوَارًا فِي السَّمَاءِ فَإِذَا هُمْ بِطَائِرٍ أَسْوَدِ الظَّهْرِ أَبْيَضِ الْبَطْنِ وَالرِّجْلَيْنِ أَعْظَمَ مِنَ الْبَشَرِ فَغَرَزَ مَخَالِيبَهُ فِي رَأْسِ الْحَيَّةِ حَتَّى انْطَلَقَ بِهَا يَجُرُّ ذَنَبَهَا أَعْظَمَ مِنْ كَذَا وَكَذَا سَاقِطًا، فَانْطَلَقَ نَحْوَ أَجْنَادٍ فَهَدَمَتْهَا قُرَيْشٌ، وَجَعَلُوا يَبْنُونَهَا بِحِجَارَةِ الْوَادِي تَحْمِلُهَا قُرَيْشٌ عَلَى رِقَابِهَا فَرَفَعُوهَا فِي السَّمَاءِ عِشْرِينَ ذِرَاعًا فَبَيْنَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَحْمِلُ حِجَارَةً مِنْ أَجْنَادَ، وَعَلَيْهِ نَمِرَةٌ فَضَاقَتْ عَلَيْهِ النَّمِرَةُ فَذَهَبَ يَضَعُ النَّمِرَةَ عَلَى عَاتِقِهِ فَتُرَى عَوْرَتُهُ مِنْ صِغَرِ النَّمِرَةِ فَنُودِيَ: يَا مُحَمَّدُ خَمِّرْ عَوْرَتَكَ، فَلَمْ يُرَ عُرْيَانًا بَعْدَ ذَلِكَ، وَكَانَ يَرَى بَيْنَ بِنَاءِ الْكَعْبَةِ، وَبَيْنَ مَا أُنْزِلَ عَلَيْهِ خَمْسَ سِنِينَ، وَبَيْنَ مُخْرَجِهِ، وَبُنْيَانِهَا خَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ بِطُولِهِ، وَرَوَى أَحْمَدُ طَرَفًا مِنْهُ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abu al-Tufayl رضي الله عنه reports that in Jahiliyyah the Kaaba was built of piled stones, low enough for a young goat to mount, roofless, with garments laid and draped over it, the Black Corner set upon its wall in reverence, having two corners like a ring. A Roman ship bound for Abyssinia wrecked near Jeddah; Quraysh took its timber from a Roman carpenter aboard and resolved to build their Lord's House. When they sought to demolish it, a serpent like a water-skin piece, black-backed and white-bellied, barred each approach with open mouth. Quraysh gathered at the Maqam, implored Allah that they intended only honor and adornment, and asked Him to do as He willed if pleased. They heard a rumble in the sky, and a bird black-backed, white-bellied and legged, greater than a man, gripped the serpent's head with its talons and dragged it with its great tail toward Ajnad. Quraysh then demolished and rebuilt with valley stones carried upon their necks, raising it twenty cubits in the sky. The Prophet ﷺ carried stones from Ajnad wearing a small namirah which constricted him; when he placed it upon his shoulder his nakedness showed from its smallness, whereupon he was called to cover it, and was never afterward seen naked. > **"Our Lord, we intend no harm; we intend only the honor of Your House and its adornment, so if You are pleased therewith, do as seems to You."** > **"O Muhammad, cover your nakedness."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوطفیل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : زمانہ جاہلیت میں خانہ کعبہ چٹانوں پر بنا ہوا تھا ‘ اور اتنا اونچا تھا ‘ کہ بکری کا بچہ اس پر چڑھ سکتا ہے ‘ اس کی چھت نہیں تھی اس پر کپڑے ڈالے جاتے تھے اور پھر لٹکا دیے جاتے تھے اس کے کونے پر حجر اسود رکھا ہوا تھا اور وہ حلقے کی طرح دو کونوں والا تھا روم کی سرزمین سے ایک کشتی آ رہی تھی جب وہ جدہ کے قریب پہنچی تو وہ کشتی ٹوٹ گئی قریش نکلے تاکہ اس کی لکڑی کو حاصل کر لیں انہیں اس کے پاس ایک رومی شخص ملا قریش نے وہ لکڑی حاصل کی وہ لکڑی اس شخص کو دی وہ کشتی حبشہ کی طرف جا رہی تھی اور کشتی میں موجود رومی شخص بڑھئی تھا جب قریش واپس آئے تو وہ اپنے ساتھ رومی کو بھی لے آئے قریش نے کہا : ہم اس لکڑی کے ذریعے جو اس کشتی میں تھی اس کے ذریعے اپنے پروردگار کا گھر بنائیں گے جب انہوں نے خانہ کعب کو منہدم کرنے کا ارادہ کیا ‘ تو خانہ کعبہ کی دیوار پر کمزور چیز کی مانند ایک سانپ موجود تھا جس کی پشت سیاہ تھی اور پیٹ سفید تھا ‘ جب بھی کوئی شخص منہدم کرنے کے لئے بیت اللہ کے قریب ہونا چاہتا یا اس کے پتھر کو اتارنا چاہتا تو وہ ساپ منہ کھول کر اس کی طرف بڑھ جاتا تھا قریش مقام ابراہیم کے پاس اکٹھے ہوئے ۔ انہوں نے اللہ تعالی کی بارگاہ میں گریہ وزاری کی اور عرض کی اے ہمارے پروردگار ہمارا مقصد صرف تیرے گھر کی عزت کرنا اور اس کی آرائش و زیبائش کرنا ہے اگر تو اس سے راضی ہے ‘ تو پھر جو تجھے اچھا لگے وہ کر لے پھر انہوں نے آسمان میں ایک آواز سنی تو وہاں ایک سیاہ رنگ کی پشت والا اور سفید پیٹ والا پرندہ موجود تھا جس کے دو پاؤں تھے وہ انسان سے بڑا تھا اس نے اپنے پنجے سانپ کے سر میں گاڑے اور اس کو لے کے چلا گیا اس سانپ کی دم فلاں فلاں چیز سے زیادہ بڑی تھی وہ اجناد کی طرف چلا گیا قریش نے خانہ کعبہ کو منہدم کر دیا اور پھر وادی کے پتھروں کے ذریعے اس کی تعمیر کرنا شروع کی قریش اپنی گردنوں پر وہ پتھر اٹھا کے لاتے تھے ۔ انہوں نے اسے بیس گز بلند کیا نبی اکرم ﷺ بھی اجناد سے پتھر اٹھا کے لایا کرتے تھے آپ نے چادر اوڑھی ہوئی تھی وہ چادر چھوٹی تھی آپ نے وہ چادر کندھے پر رکھنا چاہی تو چادر چھوٹی ہونے کی وجہ سے آپ کی شرمگاہ ظاہر ہو گئی تو پکار کر کہا گیا : اے محمد ! اپنی شرمگاہ کو ڈھانپ لو اس کے بعد نبی اکرم ﷺ کو کبھی بھی برہنہ نہیں دیکھا گیا خانہ کعبہ کی اس تعمیر اور نبی اکرم ﷺ پر وحی نازل ہونے کے درمیان پانچ سال کا فرق ہے اور نبی اکرم ﷺ کے مکہ سے نکلنے اور اس تعمیر کے درمیان پندرہ سال کا فرق ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں طویل روایت کے طور پر نقل کی ہے امام احمد نے اس کا ایک حصہ نقل کیا ہے ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

5730

Majma al-Zawaid #5730

وَفِي رِوَايَةٍ: رُومِيٌّ يُقَالُ لَهُ: بُلْعُومُ، وَقَالَ: فَنُودِيَ: يَا مُحَمَّدُ اسْتُرْ عَوْرَتَكَ، وَذَلِكَ أَوَّلُ مَا نُودِيَ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ، قَالَ أَبُو الطُّفَيْلِ: فَاسْتَعْرَضَتْ قُرَيْشٌ بَعْضَ الْخَشَبِ.

EnglishUnverified translation

In a narration the Roman is called Bul'um, with the call to Muhammad ﷺ to cover his nakedness being the first call to him, and Abu al-Tufayl adds that Quraysh utilized some of the timber. > **"O Muhammad, cover your nakedness."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : اس روی شخص کا نام بلعوم تھا اور اس روایت میں یہ الفاظ ہیں : پکار کر کہا گیا : اے محمد ! اپنی شرمگاہ کو ڈھانپ لو یہ نبی اکرم ﷺ کو پہلی مرتبہ ندا کی گئی تھی باقی اللہ بہتر جانتا ہے ابوطفیل بیان کرتے ہیں : قریش نے کچھ لکڑی کو استعمال کیا تھا ۔

5731

Majma al-Zawaid #5731

وَعَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ قَالَ: «كُنَّا نَنْقُلُ الْحِجَارَةَ إِلَى الْبَيْتِ حِينَ كَانَتْ قُرَيْشٌ تَبْنِي الْبَيْتَ فَانْفَرَدَتْ قُرَيْشٌ رَجُلَانِ رَجُلَانِ يَنْقُلَانِ الْحِجَارَةَ، وَكَانَتِ النِّسَاءُ تَنْقُلُ النَّسِيلَ فَكُنْتُ أَنَا، وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَنْقُلُ الْحِجَارَةَ عَلَى رِقَابِنَا، وَأَرْدِيَتُنَا تَحْتَ الْحِجَارَةِ فَإِذَا غَشِينَا النَّاسَ ائْتَزَرْنَا فَبَيْنَا أَنَا أَمْشِي، وَمُحَمَّدٌ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَمَامِي لَيْسَ عَلَيْهِ إِزَارٌ خَرَّ مُحَمَّدٌ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَانْبَطَحَ، فَأَلْقَيْتُ حَجَرِي، وَجِئْتُ أَسْعَى فَإِذَا هُوَ يَنْظُرُ إِلَى السَّمَاءِ فَوْقَهُ قُلْتُ: مَا شَأْنُكَ؟ فَقَامَ فَأَخَذَ إِزَارَهُ، وَقَالَ: "" نُهِيتُ أَنْ أَمْشِيَ عُرْيَانًا ""، فَكُنْتُ أَكْتُمُهَا النَّاسَ مَخَافَةَ أَنْ يَقُولُوا: مَجْنُونٌ، حَتَّى أَظْهَرَ اللَّهُ نُبُوَّتَهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ، وَفِيهِ قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، وَثَّقَهُ شُعْبَةُ، وَالثَّوْرِيُّ، وَالطَّيَالِسِيُّ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Abbas ibn Abd al-Muttalib رضي الله عنه reports that when Quraysh built the House they carried stones to it two by two upon their necks while women carried water for mortar. He and the Messenger of Allah ﷺ carried stones with cloaks beneath them, donning waist-wrappers when people approached. While walking with Muhammad ﷺ ahead without a wrapper, he fell prostrate gazing toward the sky above. When asked his condition he rose, took his wrapper, and declared he had been forbidden to walk naked. Al-Abbas concealed this fearing people would call him mad, until Allah manifested his prophethood. > **"I have been forbidden to walk naked."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب قریش خانہ کعبہ تعمیر کر رہے تھے تو ہم بیت اللہ تک پتھر منتقل کر رہے تھے قریش کے دو دو آدمی پتھر منتقل کرتے تھے اور خواتین ( گارا وغیرہ بنانے کے لیے ) پانی منتقل کرتی تھیں میں اور نبی اکرم ﷺ ہم اپنی گردن پر رکھ کر پتھر منتقل کر رہے تھے ہماری چادریں پتھروں کے نیچے ہوتی تھیں جب لوگ قریب آ جاتے تھے تو ہم انہیں تہبند کے طور پر باندھ لیتے تھے ایک مرتبہ میں جا رہا تھا حضرت محمد ﷺ میرے آگے تھے ان کے جسم پر تہبند نہیں تھا اسی دوران حضرت محمد ﷺ گر گئے میں نے پتھر ایک طرف رکھا اور دوڑتا ہوا آیا تو وہ آسمان کی طرف اوپر کی طرف دیکھ رہے تھے میں نے کہا : آپ کو کیا ہوا ہے ؟ تو وہ کھڑے ہو گئے اور انہوں نے اپنا تہبند لیا اور بولے مجھے اس بات سے منع کیا گیا ہے کہ میں برہنہ ہو کر چلوں ( حضرت عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ) میں لوگوں سے یہ بات چھپا کے رکھتا تھا اس اندیشے کے تحت کہ وہ یہ کہیں گے : یہ مجنوں ہے یہاں تک کہ اللہ تعالٰی نے آپ کی نبوت کو ظاہر کر دیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی قیس بن ربیع ہے ‘ جسے شعبہ ‘ ثوری طیاسی نے ثقہ قرار دیا ہے اور ایک جماعت نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔

5732

Majma al-Zawaid #5732

وَعَنْ مَرْثَدِ بْنِ شُرَحْبِيلَ أَنَّهُ حَضَرَ ذَلِكَ قَالَ: «أَدْخَلَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ عَلَى عَائِشَةَ نَاسًا مِنْ خِيَارِ قُرَيْشٍ، وَكُبَرَائِهِمْ فَأَخْبَرَتْهُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" لَوْلَا حَدَاثَةُ عَهْدِ قَوْمِكِ بِالشِّرْكِ لَبَنَيْتُ الْبَيْتَ عَلَى قَوَاعِدِ إِبْرَاهِيمَ، وَإِسْمَاعِيلَ - عَلَيْهِمَا السَّلَامُ - هَلْ تَدْرُونَ لِمَ قَصَّرُوا عَنْ قَوَاعِدِ إِبْرَاهِيمَ، وَإِسْمَاعِيلَ؟ ""، قُلْتُ: لَا، قَالَ: "" قَصَّرَتْ بِهِمُ النَّفَقَةُ ""، قَالَ: "" وَكَانَتِ الْكَعْبَةُ قَدْ وَهَتْ مِنْ حَرِيقِ أَهْلِ الشَّامِ فَهَدَمَهَا، وَأَنَا يَوْمَئِذٍ بِمَكَّةَ فَكَشَفَ عَنْ رُبْضٍ فِي الْحِجْرِ أَخَذَ بَعْضُهُ بِبَعْضٍ فَتَرَكَهُ مَكْشُوفًا ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ يَشْهَدُ عَلَيْهِ ""، قَالَ: "" فَرَأَيْتُ رُبْضَةَ ذَلِكَ كَحِلْفِ الْإِبِلِ خَمْسَ حِجَارَاتٍ: وَجْهٌ حَجَرٌ، وَوَجْهٌ حَجَرٌ، وَوَجْهٌ حَجَرٌ، وَوَجْهٌ حَجَرَانِ ""، قَالَ: "" فَرَأَيْتُ الرَّجُلَ يُدْخِلُ الْعَتَلَةَ فَيُهْرِقُهَا مِنْ نَاحِيَةِ الرُّكْنِ فَيَهْتَزُّ الرُّكْنُ الْآخَرُ ""، قَالَ: "" فَبَنَاهُ عَلَى ذَلِكَ الرُّبُضِ، وَوَضَعَ فِيهِ بَابَيْنِ لَاصِقَيْنِ بِالْأَرْضِ شَرْقِيًّا، وَغَرْبِيًّا "". فَلَمَّا قُتِلَ ابْنُ الزُّبَيْرِ هَدَمَهُ الْحَجَّاجُ مِنْ نَحْوِ الْحِجْرِ ثُمَّ أَعَادَهُ عَلَى مَا كَانَ عَلَيْهِ فَكَتَبَ إِلَيْهِ عَبْدُ الْمَلِكِ: وَدِدْتُ أَنَّكَ تَرَكْتَ ابْنَ الزُّبَيْرِ، وَمَا عَمِلَ. قَالَ مَرْثَدٌ: وَسَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ: لَوْ وَلِيتُ مِنْهُ مَا وَلِيَ ابْنُ الزُّبَيْرِ أَدْخَلْتُ الْحِجْرَ كُلَّهُ فِي الْبَيْتِ، فَلِمَ يُطَفْ بِهِ إِنْ لَمْ يَكُنْ مِنَ الْبَيْتِ؟». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَمَرْثَدٌ هَذَا ذَكَرَهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ جَرْحًا، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Marthad ibn Shurahbil, who was present, reports that Abdullah ibn al-Zubayr رضي الله عنهما sent nobles of Quraysh to Aishah رضي الله عنها, who informed them that the Messenger of Allah ﷺ had said were it not for his people's recent polytheism he would rebuild the House upon the foundations of Ibrahim and Isma'il عليهما السلام, explaining they fell short for lack of funds. When the Kaaba weakened after burning by the Syrians, Ibn al-Zubayr demolished it while the narrator was in Makkah, uncovering in the Hijr an interlocked foundation left exposed three days for witness, like the hump of camels of five stones — one face a stone, one face a stone, one face a stone, and one face two stones — so that inserting a crowbar at one corner shook the other. He built upon that foundation with two doors level to the ground, eastern and western. After Ibn al-Zubayr was killed, al-Hajjaj demolished the Hijr side and restored it as before, and Abd al-Malik wrote he wished Ibn al-Zubayr's work had been left. Marthad heard Ibn Abbas رضي الله عنهما say had he authority he would include the whole Hijr in the House, for why would it be circumambulated if not of the House. > **"Were it not for your people's recent polytheism, I would rebuild the House upon the foundations of Ibrahim and Isma'il. Do you know why they fell short of the foundations of Ibrahim and Isma'il? Expenditure fell short of them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

مرثد بن شرحبیل جو اس موقع پر موجود تھے وہ بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے قریش کے کچھ معززین اور اکابرین کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان لوگوں کو بتایا کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ اگر تمہاری قوم زمانہ شرک کے قریب نہ ہوتی تو میں خانہ کعبہ کو حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی بنیادوں پر تعمیر کرتا کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو ان لوگوں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی بنیادوں میں کمی کیوں کی تھی ‘‘۔ میں نے جواب دیا : جی نہیں ! نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ان کے پاس خرچ ختم ہو گیا تھا راوی بیان کرتے ہیں : اہل شام کے جلانے کی وجہ سے خانہ کعبہ کی عمارت کمزور ہو گئی تھی تو حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے اسے منہدم کروا دیا میں ان دنوں مکہ میں موجود تھا انہوں نے حطیم میں بنیادوں سے ہٹایا تو اس کا حصہ ایک دوسرے کے ساتھ ملا ہوا تھا انہوں نے تیس دن تک اس جگہ کو کھلا رکھا تاکہ اس پر گواہ بنا لیں راوی کہتے ہیں : میں نے اس کو دیکھا کہ وہ اونٹ کی کوہان کی مانند پانچ پتھر تھے ایک طرح کا ایک پتھر تھا ایک طرح کا ایک پتھر تھا ایک طرح کا ایک پتھر تھا اور ایک طرح کے دو پتھر تھے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : پھر میں نے ایک شخص کو دیکھا جس نے پتھر اکھاڑنے والی لکڑی کو داخل کیا اور رکن کی طرف سے حرکت دی ‘ تو دوسری طرف کا رکن ہل گیا ‘ تو حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے ان بنیادوں پر اسے تعمیر کیا اور اس کے دو دروازے بنائے جو زمین سے ملے ہوئے تھے ایک مشرق کی سمت میں تھا اور ایک مغرب کی سمت میں تھا ۔ جب حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کو شہید کر دیا گیا تو حجاج نے حطیم والے حصے کو مہندم کروا دیا اور اسے پہلے کی طرح دوبارہ کر دیا عبدالملک نے اسے خط میں لکھا میری یہ خواہش تھی کہ تم ابن زبیر اور جو کچھ اس نے کیا ہے اسے ویسے ہی رہنے دیتے ۔ مرثد بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے اگر میں اس چیز کا نگران بنتا جس کے نگران ابن زبیر بنے تھے تو میں پوری حطیم کو بیت اللہ میں داخل کر دیتا کیونکہ اگر یہ بیت اللہ کا حصہ نہ ہوتی تو اس کا طواف نہ کیا جاتا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے مرثد نامی اس راوی کا ذکر ابن ابوحاتم نے کیا ہے ۔ انہوں نے اس کے بارے میں کوئی جرح ذکر نہیں کی ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

5733

Majma al-Zawaid #5733

وَعَنْ عُرْوَةَ قَالَ: «لَمَّا حُرِّقَتِ الْكَعْبَةُ تَثَلَّمَتْ فَقَالَ ابْنُ الزُّبَيْرِ: لَوْ مَسْكَنُ أَحَدِكُمْ كَانَ هَكَذَا مَا رَضِيَ حَتَّى يُغَيِّرَهُ، وَقَدْ ثَبَتَ مِنْ رَأْيِي نَقْضُهَا وَبِنَاؤُهَا، وَشَاوَرَ النَّاسَ فِي ذَلِكَ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: دَعْهَا عَلَى مَا تَرَكَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: إِنَّمَا بِكَ الْبُخْلُ فِي النَّفَقَةِ فَأَنَا أُنْفِقُ عَلَيْهَا مِنْ مَالِي، قَالَ: ثُمَّ ثَبَتَ فَنَقَضَهَا، قَالَ: وَهَرَبَ النَّاسُ عَنْ مَكَّةَ، وَارْتَقَى فِي الْكَعْبَةِ، وَمَعَهُ مَوْلًى لَهُ حَبَشِيٌّ أَسْوَدُ فَجَعَلَ يَهْدِمُ، وَأَعَانَهُمَا النَّاسُ، فَمَا تَرَجَّلَتِ الشَّمْسُ حَتَّى أَلْزَقُوهَا بِالْأَرْضِ، ثُمَّ سَأَلَ مِنْ أَيْنَ حُمِلَتْ حِجَارَتُهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ؟ فَوُصِفَ لَهُ فَأَمَرَ بِحَمْلِهَا مِنْ ذَلِكَ الْجَبَلِ حَتَّى حَمَلَ مِنْ ذَلِكَ مَا يُرِيدُ، ثُمَّ قَالَ: أَشْهَدُ لَسَمِعْتُ عَائِشَةَ تَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" يَا عَائِشَةُ لَوْلَا أَنَّ قَوْمَكِ عَهْدُهُمْ بِالْجَاهِلِيَّةِ حَدِيثٌ لَنَقَضْتُ الْكَعْبَةَ، وَأَلْزَقْتُهَا بِالْأَرْضِ فَإِنَّ قَوْمَكِ إِنَّمَا رَفَعُوهَا لِأَنْ لَا يَدْخُلَهَا إِلَّا مَنْ شَاءُوا، وَ [لَـ]ـجَعَلْتُ لَهَا بَابًا غَرْبِيًّا "" - وَذَكَرَ الْآخَرَ بِمَا لَا أَحْفَظُهُ: يُدْخَلُ مِنْ هَذَا، وَيُخْرَجُ مِنْ هَذَا - "" وَلَأَلْحَقْتُهَا بِأَسَاسِ إِبْرَاهِيمَ فَإِنَّ قَوْمَكِ اسْتَقْصَرُوا فِي شَأْنِهَا، وَتَرَكُوا مِنْهَا فِي الْحِجْرِ ""، قَالَ: ثُمَّ حَفَرَ الْأَسَاسَ حَتَّى، وَقَعَ عَلَى أَسَاسِ إِبْرَاهِيمَ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - قَالَ: فَكَانَ يُدْخِلُ الْعَتَلَةَ مِنْ جَانِبٍ مِنْ جَوَانِبِهَا فَتَهْتَزُّ جَوَانِبُهَا جَمِيعًا ثُمَّ بَنَاهَا عَلَى مَا زَادَ مِنْهَا فِي الْحِجْرِ فَرَفَعَهَا، وَكَانَ طُولُهَا يَوْمَ هَدْمِهَا ثَمَانِيَةَ عَشَرَ ذِرَاعًا فَلَمَّا زَادَ فِيهَا اسْتَقْصَرَتْ فَقَالَ ابْنٌ لَهُ: زِدْ فِيهَا تِسْعَةَ أَذْرُعٍ، وَزَادَ فِيهَا ثَلَاثَ دَعَائِمَ، فَلَمَّا وَلِيَ عَبْدُ الْمَلِكِ قَتْلَ ابْنِ الزُّبَيْرِ كَتَبَ إِلَيْهِ الْحَجَّاجُ: أَنْ سُدَّ بَابَهَا الَّذِي زَادَ ابْنُ الزُّبَيْرِ، وَيُكْسِفُهَا عَلَى مَا كَانَتْ عَلَيْهَا، وَتُطْرَحُ عَنْهَا الزِّيَادَةُ الَّتِي زَادَ ابْنُ الزُّبَيْرِ مِنَ الْحَجَرِ، فَفَعَلَ ذَلِكَ، وَبِنَاؤُهُ الَّذِي فِيهِ الْيَوْمَ بِنَاءُ ابْنِ الزُّبَيْرِ إِلَّا مَا غَيَّرَ الْحَجَّاجُ مِنْ نَاحِيَةِ الْحِجْرِ، وَلُبْسَهُ الَّذِي لَبِسَهُ الْحَجَّاجُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Urwah reports that when the Kaaba burned and weakened, Ibn al-Zubayr رضي الله عنهما declared no man would leave his own dwelling so and resolved to demolish and rebuild, consulting the people. Ibn Abbas رضي الله عنهما advised leaving it as the Messenger of Allah ﷺ left it, but Ibn al-Zubayr attributed this to reluctance to spend and offered his own wealth. He demolished it with a black Abyssinian freedman while people fled Makkah, levelling it to the ground by sunset with the people's help. He inquired whence its stones were carried in Jahiliyyah, was directed to that mountain, and carried what he needed. He testified he heard Aishah رضي الله عنها report the Prophet ﷺ saying were it not for her people's recent Jahiliyyah he would demolish the Kaaba, level it to the ground since they raised it to admit only whom they wished, make for it a western door with entry from one and exit from the other, and join it to Ibrahim's foundation, for they shortened it leaving part in the Hijr. He dug to Ibrahim's foundation, inserting a crowbar at one side shook all sides, built including the Hijr addition, though its height shortened after adding; its length at demolition was eighteen cubits, and by his son's counsel he added nine cubits and three pillars. When Abd al-Malik ruled after Ibn al-Zubayr's killing, al-Hajjaj wrote concerning blocking its door. > **"O Aishah, were it not that your people are recent in Jahiliyyah, I would demolish the Kaaba and level it to the ground, for your people raised it only that none enter but whom they wish, and I would make for it a western door to be entered from this and exited from this, and I would join it to the foundation of Ibrahim, for your people shortened its measure and left part of it in the Hijr."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عروہ بیان کرتے ہیں : جب خانہ کعبہ کو جلا دیا گیا تو وہ کمزور ہو گیا ( یعنی اس کی عمارت کمزور ہو گئی ) ‘ تو حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے فرمایا اگر تم میں سے کسی ایک کی رہائش گاہ کی یہ حالت ہو جائے تو وہ اسے ٹھیک کیے بغیر راضی نہیں ہو گا میں نے اس بارے میں پختہ ارادہ کر لیا ہے کہ اس کو توڑ کے اس کی تعمیر نو کی جائے ۔ انہوں نے اس بارے میں لوگوں سے مشورہ بھی لیا تو حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا آپ اسے ویسے ہی رہنے دیں جس حال پر نبی اکرم ﷺ نے اسے چھوڑا تھا تو حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے کہا خرچ کرنے کے حوالے سے آپ بخل کا شکار ہو رہے ہیں میں اپنے مال میں سے اس پر خرچ کروں گا راوی کہتے ہیں : پھر انہوں نے طے کر لیا اور اس کو توڑ دیا کچھ لوگ مکہ چھوڑ کے چلے گئے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما خانہ کعبہ پر چڑھے ان کے ساتھ ان کا ایک سیاہ فام حبشی غلام تھا انہوں نے اسے توڑنا شروع کیا کچھ لوگوں نے ان دونوں کی مدد کی تو سورج غروب ہونے تک انہوں نے اسے زمین کے ساتھ ملا دیا پھر انہوں نے دریافت کیا : زمانہ جاہلیت میں اس کے پتھر کہاں سے لائے گئے تھے تو انہیں یہ بات بتائی گئی کہ وہ کون سے پہاڑ سے لائے گئے تھے ۔ انہوں نے اسی پہاڑ سے وہ پتھر منگوائے پھر انہوں نے یہ بات بیان کی کہ میں گواہی دے کر یہ بات بیان کرتا ہوں کہ میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اے عائشہ ! اگر تمہاری قوم زمانہ جاہلیت کے قریب نہ ہوتی تو میں خانہ کعبہ کو تڑوا دیتا ہے اور اسے زمین کے ساتھ ملا دیتا تمہاری قوم نے اسے بلند اس لئے کیا تھا تاکہ وہ جسے چاہیں اسے اندر جانے دیں اور میں اس کا ایک مغربی دروازہ بھی بناتا “۔ اس کے بعد انہوں نے ایک اور چیز بھی ذکر کی تھی جو مجھے یاد نہیں رہی اس میں یہ الفاظ ہیں : ” کوئی شخص اس دروازے سے داخل ہوتا اور اس دروازے سے نکل جاتا اور میں اسے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بنیادوں کے ساتھ ملا دیتا کیونکہ تمہاری قوم نے ان بنیادوں میں کمی کر دی تھی اور حطیم والے حصے کو اس میں سے چھوڑ دیا تھا ‘‘۔ رادی بیان کرتے ہیں : پھر انہوں نے بنیادوں کی کھدائی کی ‘ یہاں تک کہ وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بنیادوں تک پہنچ گئے ۔ انہوں نے اس کے تمام اطراف میں پتھر اکھیڑنے والی لکڑی کو داخل کیا ، تو اس کے تمام حصے ہلنے لگے ‘ پھر انہوں نے اس کو تعمیر کیا اور حطیم والے حصے میں اضافہ کر دیا اور اسے بھی بلند کر دیا ‘ تو جس دن اس کو منہدم کیا گیا تھا ‘ اس وقت اس کی لمبائی دس گز تھی ‘ جب اس میں اضافہ کیا گیا ‘ تو وہ کم ہو گئی ان کے بیٹے نے ان سے کہا : آپ اس میں نو گز کا اضافہ کریں اور اس میں تین ستونوں کا اضافہ کریں ۔ جب عبدالملک نے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کو شہید کر دیا ‘ تو حجاج نے اسے خط لکھا کہ تم وہ دروازہ بند کروا دو ! جو ابن زبیر نے اضافہ کروایا تھا اور اسے ویسے ہی کر دو ‘ جیسے وہ پہلے تھا اور جو ابن زبیر نے حطیم کے حوالے سے اضافہ کیا تھا ‘ اس اضافے کو الگ کر دو تو اس نے ایسا ہی کیا ‘ تو اب اس کی تعمیر اس دن کی مانند ہے ‘ جو حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کی تعمیر سے پہلے تھی ‘ البتہ حجاج نے حطیم والے حصے کو تبدیل کر دیا تھا اور اس کا غلاف وہ ہے ‘ جو حجاج نے اُسے پہنایا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

5734

Majma al-Zawaid #5734

وَعَنْ عِكْرِمَةَ قَالَ: مَرَّ ابْنُ الزُّبَيْرِ، وَابْنُ عَبَّاسٍ فِي الْمَسْجِدِ، وَأَهْلُ الشَّامِ يَرْمُونَهَا مِنْ فَوْقِ أَبِي قَبِيسٍ الْجَبَلِ بِالْمَنْجَنِيقِ بِالْحِجَارَةِ فَأَرْسَلَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ صَاعِقَةً فَأَحْرَقَتْ مَنْجَنِيقَهُمْ، وَأَحْرَقَتْ تَحْتَهُ أَرْبَعَةً وَأَرْبَعِينَ رَجُلًا قَالَ أُنَاسٌ مِنْ بَنِي أُمَيَّةَ: لَا يَهُولَنَّكُمْ فَإِنَّهَا أَرْضُ صَوَاعِقَ! فَأَرْسَلَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ أُخْرَى فَأَحْرَقَتْ مَنْجَنِيقَهُمْ، وَأَحْرَقَتْ تَحْتَهُ أَرْبَعِينَ رَجُلًا، قَالَ: فَبَيْنَا هُمْ كَذَلِكَ أَتَاهُمْ مَوْتُ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ فَتَفَرَّقَ أَهْلُ الشَّامِ. قُلْتُ: فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ مَا يَأْتِي فِي كِتَابِ الْفِتَنِ - إِنْ شَاءَ اللَّهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ هِلَالُ بْنُ خَبَّابٍ، وَهُوَ ثِقَةٌ، وَفِيهِ كَلَامٌ.

EnglishUnverified translation

Ikrimah reports that Ibn al-Zubayr and Ibn Abbas رضي الله عنهم passed the mosque while the Syrians pelted it with stones by catapult from Mount Abu Qubays. Allah sent a thunderbolt burning their engine and forty-four men beneath it. Men of Banu Umayyah said not to be dismayed for it is a land of thunderbolts, then Allah sent another burning their engine and forty men beneath it. While so, news of the death of Yazid ibn Muawiyah came and the Syrians dispersed.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

مکرمہ بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما اور حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا گزر مسجد سے ہوا اس وقت اہل شام جبل ابوقبیس سے ان لوگوں پر منجنیق کے ذریعے پتھر پھینک رہے تھے اللہ تعالیٰ نے ان پر بجلی بھیجی جس نے ان کی منجنیق کو جلا دیا اور اس کے نیچے چالیس افراد بھی جل گئے بنوامیہ سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد نے کہا تم لوگ پریشان نہ ہو یہاں پر بجلی گرتی رہتی ہے پھر اللہ تعالیٰ نے ان پر ایک اور بجلی بھیجی اس نے ان کی منجنیق کو جلا دیا اور اس کے نیچے چالیس افراد کو جلا دیا راوی کہتے ہیں : ابھی وہ لوگ اسی حالت میں تھے کہ ان کے پاس یزید بن معاویہ کے مرنے کی اطلاع آ گئی تو اہل شام ادھر ادھر بکھر گئے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس کے بعد انہوں نے وہ حدیث ذکر کی ہے ‘ جو آگے چل کے فتنوں سے متعلق کتاب میں آئے گی اگر اللہ نے چاہا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ہلال بن خباب ہے اور وہ ثقہ ہے اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔

5735

Majma al-Zawaid #5735

وَعَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ مَوْلَاهُ أَنَّهُ حَدَّثَهُ: «أَنَّهُ كَانَ فِيمَنْ بَنَى الْكَعْبَةَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، قَالَ: وَلِي حَجَرٌ أَنَا أَنْحِتُهُ بِيَدِي أَعْبُدُهُ مِنْ دُونِ اللَّهِ تَعَالَى، وَأَجِيءُ بِاللَّبَنِ الْخَاتِرِ الَّذِي أُنْفِسُهُ عَلَى نَفْسِي فَأَصُبُّهُ عَلَيْهِ فَيَجِيءُ الْكَلْبُ فَيَلْحَسُهُ ثُمَّ يَشْغَرُ فَيَبُولُ فَبَنَيْنَا حَتَّى بَلَغْنَا مَوْضِعَ الْحَجَرِ، وَمَا يَرَى الْحَجَرَ أَحَدٌ فَإِذَا هُوَ، وَسَطَ حِجَارَتِنَا مِثْلُ رَأْسِ الرَّجُلِ يَكَادُ يَتَرَاءَى مِنْهُ، وَجْهُ الرَّجُلِ، فَقَالَ بَطْنٌ مِنْ قُرَيْشٍ: نَحْنُ نَضَعُهُ، وَقَالَ آخَرُونَ: نَحْنُ نَضَعُهُ، قَالَ: اجْعَلُوا بَيْنَكُمْ حَكَمًا، قَالُوا: أَوَّلُ رَجُلٍ يَطْلُعُ مِنَ الْفَجِّ، فَجَاءَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالُوا: أَتَاكُمُ الْأَمِينُ، فَقَالُوا لَهُ، فَوَضَعَهُ فِي ثَوْبٍ ثُمَّ دَعَا بُطُونَهُمْ فَأَخَذُوا بِنَوَاحِيهِ مَعَهُ فَوَضَعَهُ هُوَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ هِلَالُ بْنُ خَبَّابٍ، وَهُوَ ثِقَةٌ، وَفِيهِ كَلَامٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Mujahid reports from his master who was among those building the Kaaba in Jahiliyyah that he owned a stone he carved by hand and worshipped besides Allah, bringing thick milk he preferred for himself to pour over it, until a dog came, licked it, raised its leg and urinated upon it. When they built to the place of the Stone, none could see it amid their stones save a space like a man's head barely showing a man's face. One clan of Quraysh claimed the setting, others claimed it, and they agreed to arbitrate by the first man emerging from the pass. The Prophet ﷺ came, they declared the Trustworthy had come, and he placed it in a garment, summoned their clans to grasp its sides with him, then set it himself ﷺ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

مجاہد نے اپنے آقا کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے کہ انہوں نے انہیں بتایا کہ وہ ان افراد میں شامل تھے جنہوں نے زمانہ جاہلیت میں خانہ کعبہ کی تعمیر میں حصہ لیا تھا وہ بیان کرتے ہیں : میرا ایک پتھر ہوتا تھا ‘ جسے میں نے اپنے ہاتھ کے ذریعے تیار کیا تھا اور میں اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر اس کی عبادت کرتا تھا میں تازہ دودھ لے کے آیا میں نے اپنے اوپر ایثار کر کے وہ بت کے لئے مخصوص کیا وہ دودھ میں نے اس بت کے پاس رکھ دیا ایک کتا آیا اور اسے چاٹنے لگا پھر اس نے ٹانگ اوپر کی اور بت پر پیشاب کر دیا ( پھر ہم نے خانہ کعبہ کی تعمیر شروع کی یہاں تک کہ جب ہم حجر اسود والی جگہ پر پہنچے ‘ تو حجر اسود کو کوئی دیکھ نہیں پا رہا تھا کیونکہ وہ ہمارے پتھروں کے درمیان یوں تھا جیسے آدمی کا سر ہوتا ہے ‘ ( اتنی سی جگہ خالی تھی کہ ) اس میں سے آدمی کا سر بمشکل نظر آ سکتا تھا ‘ قریش کے ہر ایک قبیلے کے افراد نے کہا : ہم اسے رکھیں گے دوسروں نے کہا : ہم اسے رکھیں گے پھر کسی نے کہا کہ تم اس بارے میں اپنے درمیان کسی کو ثالث بنا لو ان لوگوں نے کہا : اس راستے سے جو شخص سب سے پہلے آئے گا ( وہ ثالث ہو گا ) تو نبی اکرم ﷺ تشریف لے آئے لوگوں نے کہا : امین شخص تمہارے پاس آئے ہیں ان لوگوں نے نبی اکرم ﷺ سے کہا ( تو نبی اکرم ﷺ نے ) اس حجر اسود کو ایک کپڑے میں رکھوایا اور پھر قریش کی تمام شاخوں کو بلوا کر اس کپڑے کے کونے انہیں پکڑوا دیے اور پھر اسے اس جگہ پر خود نبی اکرم ﷺ نے رکھا ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ہلال بن خباب ہے اور وہ ثقہ ہے اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے اس کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

5736

Majma al-Zawaid #5736

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «نَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى الْكَعْبَةِ فَقَالَ: "" لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مَا أَطْيَبَكِ، وَأَطْيَبَ رِيحَكِ، وَأَعْظَمَ حُرْمَتَكِ، وَالْمُؤْمِنُ أَعْظَمُ حُرْمَةً مِنْكِ، إِنَّ اللَّهَ جَعَلَكِ حَرَامًا، وَحَرَّمَ مِنَ الْمُؤْمِنِ مَالَهُ، وَدَمَهُ، وَعِرْضَهُ، وَأَنْ نَظُنَّ بِهِ ظَنًّا سَيِّئًا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ الْحَسَنُ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَقَدْ وُثِّقَ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما reports that the Messenger of Allah ﷺ looked at the Kaaba and declared its purity, fragrance, and sanctity, yet the sanctity of the believer greater, for Allah made it inviolable and made inviolable the believer's wealth, blood, honor, and even entertaining an evil thought of him. > **"There is no god but Allah, how pure you are, how pure your scent, how great your sanctity; yet the believer is greater in sanctity than you. Verily Allah made you inviolable, and made inviolable of the believer his wealth, his blood, his honor, and that we think of him an evil thought."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے خانہ کعبہ کی طرف دیکھا اور ارشاد فرمایا : ’’ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ‘ تو کتنا پاکیزہ ہے تیری خوشبو کتنی پاکیزہ ہے تیری حرمت کتنی عظیم ہے لیکن مومن کی حرمت تجھ سے زیادہ ہے بے شک اللہ تعالی نے تجھے حرمت والا بنایا ہے اور اللہ تعالیٰ نے مومن اور اس کے مال اور اس کی عزت کو حرمت والا بنایا ہے اور اس بات کو بھی کہ ہم اس کے بارے میں برا گمان رکھیں ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی حسن بن ابوجعفر ہے اور وہ ضعیف ہے ویسے اسے ثقہ قرار دیا گیا ہے ۔

5737

Majma al-Zawaid #5737

وَعَنْ حُوَيْطِبِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا بِفِنَاءِ الْكَعْبَةِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَأَتَتِ امْرَأَةٌ الْبَيْتَ تَعَوَّذُ بِهِ مِنْ زَوْجِهَا فَمَدَّ يَدَهُ إِلَيْهَا فَيَبِسَتْ فَلَقَدْ رَأَيْتُهُ فِي الْإِسْلَامِ، وَإِنَّهُ لَأَشَلُّ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ، وَهُوَ ثِقَةٌ، وَلَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ.

EnglishUnverified translation

Huwaytib ibn Abd al-Uzza رضي الله عنه reports that while sitting in the courtyard of the Kaaba in Jahiliyyah, a woman came seeking refuge of the House from her husband. When he extended his hand to her it withered, and the narrator saw him in Islam still paralyzed.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت حویطلب بن عبدالعزی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم زمانہ جاہلیت میں بیت اللہ کے باہر بیٹھے ہوئے تھے ایک عورت بیت اللہ کے پاس آئی وہ اپنے شوہر سے بچنا چاہ رہی تھی اس کے شوہر نے اپنا ہاتھ اس کی طرف بڑھایا تو اس کا ہاتھ خشک ہو گیا راوی کہتے ہیں : میں نے زمانہ اسلام میں بھی اس شخص کو دیکھا کہ اس کا ہاتھ شل تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے اور وہ ثقہ ہے لیکن وہ تدلیس کرنے والا ہے ۔

5738

Majma al-Zawaid #5738

عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ «سَمِعَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ لِعُثْمَانَ بْنِ طَلْحَةَ حِينَ دَفَعَ إِلَيْهِ مِفْتَاحَ الْكَعْبَةِ: "" هَاؤُمْ غَيِّبْهُ ""، قَالَ: فَلِذَلِكَ تَغَيَّبَ الْمِفْتَاحُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ. وَقَدْ تَقَدَّمَ أَمْرُ حِجَابَةِ الْبَيْتِ، وَالسِّقَايَةِ.

EnglishUnverified translation

Jubayr ibn Mut'im رضي الله عنه reports he heard the Prophet ﷺ say to Uthman ibn Talhah رضي الله عنه when handing him the key of the Kaaba to conceal it, hence the key is kept concealed. > **"Here, conceal it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نی اکرم ﷺ کو حضرت عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا جب نبی اکرم ﷺ نے خانہ کعبہ کی چابی ان کے حوالے کی ‘ تو فرمایا : یہ لو اسے چھپا دو ! راوی کہتے ہیں : اسی وجہ سے وہ چابی چھپا کے رکھی جاتی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔ بیت اللہ کے حجابہ اور سقایہ کا معاملہ پہلے گزر چکا ہے ۔

5739

Majma al-Zawaid #5739

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «إِنَّ اللَّهَ يُنَزِّلُ فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ عِشْرِينَ وَمِائَةَ رَحْمَةً يَنْزِلُ عَلَى هَذَا الْبَيْتِ سِتُّونَ لِلطَّائِفِينَ، وَأَرْبَعُونَ لِلْمُصَلِّينَ، وَعِشْرُونَ لِلنَّاظِرِينَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: "" يَنْزِلُ عَلَى هَذَا الْمَسْجِدِ - مَسْجِدِ مَكَّةَ "". وَفِيهِ يُوسُفُ بْنُ السَّفَرِ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ. وَفِي رِوَايَةٍ: "" وَأَرْبَعُونَ لِلْعَاكِفِينَ "" بَدَلَ: "" الْمُصَلِّينَ "".

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما reports that the Messenger of Allah ﷺ declared Allah sends down one hundred twenty mercies each day and night upon this House — sixty for those circumambulating, forty for those praying, and twenty for those gazing — with a variant wording upon the mosque of Makkah and a variant of forty for those in retreat. > **"Verily Allah sends down in every day and night one hundred twenty mercies upon this House: sixty for those circumambulating, forty for those praying, and twenty for those gazing."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ بے شک اللہ تعالیٰ ہر رات اور دن میں ایک سو بیس رحمتیں نازل کرتا ہے وہ اس گھر پر رحمت نازل کرتا ہے جن میں سے ساٹھ طواف کرنے والوں کے لئے ہوتی ہیں چالیس نماز پڑھنے والوں کے لئے ہوتی ہے اور بیس دیدار کرنے والوں کے لئے ہوتی ہیں ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ’’ اس مسجد یعنی مسجد مکہ پر نازل ہوتی ہیں ‘‘۔ اس کی سند میں ایک راوی یوسف بن سفر ہے اور وہ متروک ہے ۔ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” چالیس رحمتیں اعتکاف کرنے والوں کے لئے ہوتی ہیں ‘‘۔ اس میں نماز پڑھنے والوں کا ذکر نہیں ہے ۔

5740

Majma al-Zawaid #5740

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «مَنْ دَخَلَ الْبَيْتَ دَخَلَ فِي حَسَنَةٍ، وَخَرَجَ مِنْ سَيِّئَةٍ مَغْفُورًا لَهُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُؤَمَّلِ، وَثَّقَهُ ابْنُ سَعْدٍ وَغَيْرُهُ، وَفِيهِ ضَعْفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما reports that the Messenger of Allah ﷺ declared whoever enters the House enters into goodness and exits from evil forgiven. > **"Whoever enters the House enters into goodness and exits from evil forgiven."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ جو شخص بیت اللہ کے اندر داخل ہوتا ہے وہ بھلائی میں داخل ہوتا ہے اور برائی سے نکل جاتا ہے اور اس کی مغفرت ہو جاتی ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور امام بزار نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن مؤمل ہے ابن سعد اور دیگر حضرات نے اسے ثقہ قرار دیا ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔

5741

Majma al-Zawaid #5741

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمْ يَدْخُلِ الْبَيْتَ عَامَ الْفَتْحِ، وَدَخَلَ فِي الْحَجِّ فَلَمَّا نَزَلَ صَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتِ - أَوْ رَكْعَتَيْنِ - بَيْنَ الْحَجَرِ، وَالْبَابِ مُسْتَقْبِلَ الْبَيْتِ، وَقَالَ: "" هَذِهِ الْقِبْلَةُ». قُلْتُ: لَهُ حَدِيثٌ فِي الصَّحِيحِ غَيْرُ هَذَا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَقَدْ وُثِّقَ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما reports that the Prophet ﷺ did not enter the House in the year of the conquest but entered during the Hajj. When he descended he prayed four — or two — rak'ahs between the Stone and the door facing the House, declaring it the qiblah. > **"This is the qiblah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ فتح مکہ کے سال خانہ کعبہ میں داخل نہیں ہوئے تھے آپ حج کے موقع پر اس کے اندر داخل ہوئے تھے جب آپ اترے تو آپ نے چار رکعت ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) دو رکعت حجر اسود اور خانہ کعبہ کے دروازے کے درمیان ادا کی تھیں آپ کا رخ بیت اللہ کی طرف تھا آپ نے ارشاد فرمایا : یہ قبلہ ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ان کے حوالے سے ’’ صحیح ‘‘ میں ایک حدیث منقول ہے ‘ جو اس کے علاوہ ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے وہ ضعیف ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔

5742

Majma al-Zawaid #5742

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دَخَلَ الْبَيْتَ، وَمَعَهُ الْفَضْلُ، وَقَامَ بِلَالٌ عَلَى الْبَابِ». قُلْتُ: لَهُ حَدِيثٌ فِي الصَّحِيحِ غَيْرُ هَذَا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Umar رضي الله عنهما reports that the Prophet ﷺ entered the House accompanied by al-Fadl رضي الله عنه while Bilal رضي الله عنه stood at the door.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ بیت اللہ میں داخل ہوئے آپ کے ساتھ حضرت فضل رضی اللہ عنہ بھی تھے حضرت بلال رضی اللہ عنہ دروازے پر کھڑے ہو گئے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ان کے حوالے سے ’’ صحیح ‘‘ میں ایک حدیث منقول ہے ‘ جو اس کے علاوہ ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

5743

Majma al-Zawaid #5743

«وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كُلُّ أَهْلِكَ قَدْ دَخَلَ الْبَيْتَ غَيْرِي؟ فَقَالَ: "" أَرْسِلِي إِلَى شَيْبَةَ فَيَفْتَحَ لَكِ الْبَابَ ""، فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ فَقَالَ شَيْبَةُ: مَا اسْتَطَعْنَا فَتْحَهُ فِي جَاهِلِيَّةٍ، وَلَا إِسْلَامٍ بِلَيْلٍ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" صَلِّ فِي الْحُجْرَةِ، فَإِنَّ قَوْمَكِ اسْتَقْصَرُوا عَلَى بِنَاءِ الْبَيْتِ حِينَ بَنَوْهُ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ أَبْسَطَ مِنْهُ، وَفِيهِ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، وَهُوَ ثِقَةٌ، وَلَكِنَّهُ اخْتَلَطَ.

EnglishUnverified translation

Aishah رضي الله عنها asked why all the Prophet's ﷺ family had entered the House except her. He told her to send to Shaybah to open the door for her, but Shaybah replied they could not open it by night in Jahiliyyah nor Islam. The Prophet ﷺ then told her to pray in al-Hijr, for her people had shortened the building of the House when they built it. > **"Send to Shaybah that he open the door for you."** > **"Pray in al-Hijr, for your people fell short in the building of the House when they built it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں ۔ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ کے تمام اہل خانہ بیت اللہ میں داخل ہو گئے ہیں صرف میں داخل نہیں ہوئی نبی اکرم ﷺ نے فرمایا تم شیبہ کو پیغام بھیجو وہ تمہارے لئے دروازہ کھول دے گا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں پیغام بھیجا تو حضرت شیبہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا ہم زمانہ جاہلیت میں اور نہ ہی اسلام میں رات کے وقت اسے کھولنے کی استطاعت نہیں رکھتے تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم حطیم میں نماز ادا کر لو کیونکہ تمہاری قوم نے جب اس کو تعیر کیا تھا تو خانہ کعبہ کی تعمیر میں کمی کر دی تھی ( اور حطیم ‘ خانہ کعبہ کا حصہ ہے ) ۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں زیادہ وضاحت کے ساتھ نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے اور وہ ثقہ ہے لیکن وہ اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔

5744

Majma al-Zawaid #5744

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: حَدَّثَنِي الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ، وَكَانَ مَعَهُ حِينَ دَخَلَهَا: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمْ يُصَلِّ فِي الْكَعْبَةِ، وَلَكِنَّهُ لَمَّا دَخَلَهَا، وَقَعَ سَاجِدًا بَيْنَ الْعَمُودَيْنِ ثُمَّ جَلَسَ يَدْعُو». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما reports that al-Fadl ibn Abbas رضي الله عنهما, who was with the Prophet ﷺ when he entered it, informed him that the Messenger of Allah ﷺ did not pray in the Kaaba but when he entered fell prostrate between the two pillars then sat supplicating.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : حضرت فضل بن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھے حدیث بیان کی وہ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ تھے جب نبی اکرم ﷺ خانہ کعبہ میں داخل ہوئے تھے ۔ انہوں نے بتایا کہ نبی اکرم ﷺ نے خانہ کعبہ میں نماز ادا نہیں کی تھی بلکہ جب آپ اندر تشریف لائے تھے تو آپ نے دو ستونوں کے درمیان سجدہ کیا تھا اور پھر بیٹھ کر دعا کرتے رہے تھے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

5745

Majma al-Zawaid #5745

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ الْفَضْلَ بْنَ الْعَبَّاسِ أَخْبَرَهُ: «أَنَّهُ دَخَلَ مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -[الْبَيْتَ]، وَأَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمْ يُصَلِّ فِي [الْبَيْتِ حِينَ دَخَلَهُ]، وَلَكِنَّهُ لَمَّا خَرَجَ فَنَزَلَ رَكَعَ رَكْعَتَيْنِ عِنْدَ بَابِ الْبَيْتِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرَوَى الطَّبَرَانِيُّ مَعْنَاهُ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما reports that al-Fadl ibn al-Abbas رضي الله عنه informed him he entered with the Prophet ﷺ, who did not pray inside when he entered, but when he exited and descended he bowed two rak'ahs at the door of the House.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : حضرت فضل بن عباس رضی اللہ عنہما نے انہیں بتایا کہ وہ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ خانہ کعبہ کے اندر داخل ہوئے نبی اکرم ﷺ جب خانہ کعبہ میں داخل ہوئے تھے تو آپ نے اندر نماز ادا نہیں کی تھی جب آپ باہر تشریف لائے تو آپ نیچے اترے اور آپ نے خانہ کعبہ کے دروازے کے پاس دو رکعت ادا کیں ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے امام طبرانی نے معجم کبیر میں اس مفہوم کی روایت نقل کی ہے امام احمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

5746

Majma al-Zawaid #5746

وَعَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَامَ فِي الْكَعْبَةِ فَسَبَّحَ، وَكَبَّرَ، وَدَعَا [اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ]، وَاسْتَغْفَرَ، وَلَمْ يَرْكَعْ، وَلَمْ يَسْجُدْ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ بِنَحْوِهِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Al-Fadl ibn Abbas رضي الله عنهما reports that the Prophet ﷺ stood in the Kaaba glorifying, magnifying, supplicating Allah عزوجل, and seeking forgiveness, without bowing or prostrating.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت فضل بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ خانہ کعبہ میں کھڑے ہوئے آپ نے سبحان اللہ پڑھا اللہ اکبر پڑھا اللہ تعالیٰ سے دعا کی مغفرت طلب کی لیکن آپ نے نہ رکوع کیا اور نہ ہی سجدہ کیا ۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں اس کی مانند نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

5747

Majma al-Zawaid #5747

«وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: مَا أُحِبُّ أَنْ أُصَلِّيَ فِي الْكَعْبَةِ، مَنْ صَلَّى فِيهَا فَقَدْ تَرَكَ شَيْئًا خَلْفَهُ، وَلَكِنْ حَدَّثَنِي أَخِي أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِينَ دَخَلَهَا خَرَّ بَيْنَ الْعَمُودَيْنِ سَاجِدًا ثُمَّ قَعَدَ فَدَعَا، وَلَمْ يُصَلِّ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ ابْنُ إِسْحَاقَ، وَهُوَ ثِقَةٌ، وَلَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما used to say he did not love to pray in the Kaaba, for whoever prays therein leaves part of it behind him. His brother informed him that when the Prophet ﷺ entered he fell between the two pillars prostrate, then sat and supplicated without praying.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ میں خانہ کعبہ کے اندر نماز ادا کروں کیونکہ جو شخص خانہ کعبہ کے اندر نماز ادا کرے گا وہ اس کے کچھ حصے کو اپنی پشت کی طرف کر لے گا میرے بھائی نے مجھے یہ بات بیان کی ہے کہ نبی اکرم ﷺ جب اس میں داخل ہوئے تھے تو آپ دو ستونوں کے درمیان سجدے میں چلے گئے تھے پھر آپ بیٹھ گئے اور دعا کرتے رہے آپ نے ( خانہ کعبہ کے اندر ) نماز ادا نہیں کی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابن اسحاق ہے اور وہ ثقہ ہے لیکن وہ تدلیس کرنے والا ہے ۔

5748

Majma al-Zawaid #5748

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «دَخَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْكَعْبَةَ فَصَلَّى بَيْنَ السَّارِيَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى بَيْنَ بَابِ الْبَيْتِ وَبَيْنَ الْحَجَرِ ثُمَّ قَالَ: "" هَذِهِ الْقِبْلَةُ ""، ثُمَّ دَخَلَ مَرَّةً أُخْرَى فَقَامَ يَدْعُو، وَلَمْ يُصَلِّ». قُلْتُ: لَهُ فِي الصَّحِيحِ: أَنَّهُ دَخَلَ فَدَعَا، وَلَمْ يُصَلِّ فَقَطْ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ أَبُو مَرْيَمَ رَوَى عَنْ صِغَارِ التَّابِعِينَ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ مُوَثَّقُونَ، وَفِي بَعْضِهِمْ كَلَامٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما reports that the Prophet ﷺ entered the Kaaba and prayed two rak'ahs between the two pillars, then exited and prayed between the door and the Stone, declaring it the qiblah. He entered another time and stood supplicating without praying. > **"This is the qiblah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ خانہ کعبہ میں داخل ہوئے آپ نے دو ستونوں کے درمیان دو رکعت ادا کیں پھر آپ باہر تشریف لائے اور آپ نے بیت اللہ کے دروازے اور حجر اسود کے درمیان نماز ادا کی پھر آپ نے ارشاد فرمایا : یہ قبلہ ہے پھر آپ دوسری مرتبہ اس میں داخل ہوئے تو آپ اس میں داخل ہو کر دعا کرتے رہے آپ نے نماز ادا نہیں کی ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ان کے حوالے سے ’’ صحیح ‘‘ میں یہ روایت منقول ہے ’’ آپ اندر داخل ہوئے آپ نے دعا کی اور آپ نے نماز ادا نہیں کی ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابومریم ہے ‘ جس نے کمسن تابعین سے روایات نقل کی ہیں میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے اور ان میں سے بعض کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔

5749

Majma al-Zawaid #5749

عَنْ عُثْمَانَ بْنِ طَلْحَةَ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَّى فِي الْبَيْتِ رَكْعَتَيْنِ». قَالَ حَسَنٌ فِي حَدِيثِهِ: وُجَاهَكَ حِينَ يَدْخُلُ بَيْنَ السَّارِيَتَيْنِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Uthman ibn Talhah رضي الله عنه reports that the Prophet ﷺ prayed two rak'ahs in the House, facing upon entering between the two pillars as Hasan narrated in his hadith.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے بیت اللہ میں دو رکعات نماز ادا کی تھیں ۔ حسن نامی راوی نے اپنی روایت میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ’’ جب آپ داخل ہوں تو بالکل سامنے کے دو ستونوں کے درمیان ( نماز ادا کی تھی ) ۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے امام احمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

5750

Majma al-Zawaid #5750

وَعَنْ أَبِي الشَّعْثَاءِ قَالَ: «خَرَجْتُ حَاجًّا فَدَخَلْتُ الْبَيْتَ، فَلَمَّا كُنْتُ عِنْدَ السَّارِيَتَيْنِ مَضَيْتُ حِينَ لَزِقْتُ بِالْحَائِطِ، وَجَاءَ ابْنُ عُمَرَ حَتَّى قَامَ إِلَى جَنْبِي فَصَلَّى أَرْبَعًا قَالَ: فَلَمَّا صَلَّى قُلْتُ لَهُ: أَيْنَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنَ الْبَيْتِ؟ قَالَ: هَاهُنَا أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ أَنَّهُ صَلَّى، فَقُلْتُ لَهُ: فَكَمْ صَلَّى؟ قَالَ: عَلَى هَذَا أَجِدُنِي أَلُومُ نَفْسِي إِنِّي مَكَثْتُ مَعَهُ عُمْرًا ثُمَّ لَمْ أَسْأَلْهُ: كَمْ صَلَّى؟ قَالَ: فَلَمَّا كَانَ الْعَامُ الْمُقْبِلُ خَرَجْتُ حَاجًّا، قَالَ: فَجِئْتُ حَتَّى قُمْتُ فِي مَقَامِهِ قَالَ: فَجَاءَ ابْنُ الزُّبَيْرِ حَتَّى قَامَ إِلَى جَنْبِي فَلَمْ يَزَلْ يُزَاحِمُنِي حَتَّى أَخْرَجَنِي مِنْهُ ثُمَّ صَلَّى فِيهِ أَرْبَعًا». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ بِمَعْنَاهُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abu al-Sha'tha reports he set out for Hajj and entered the House, advancing at the two pillars to cling to the wall. Ibn Umar رضي الله عنهما came, stood beside him, and prayed four. When asked where the Messenger of Allah ﷺ had prayed, he said Usamah ibn Zayd رضي الله عنه informed him it was here. When asked how many he prayed, he blamed himself for accompanying Usamah a lifetime without asking how many. The following year the narrator returned and stood in that spot, whereupon Ibn al-Zubayr رضي الله عنهما crowded him until expelling him, then prayed four therein.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوشعثاء بیان کرتے ہیں : میں حج کرنے کے لئے نکلا میں بیت اللہ میں داخل ہوا جب میں دو ستونوں کے پاس پہنچا تو میں آگے بڑھ گیا اور میں نے اپنے آپ کو دیوار کے ساتھ چمٹا لیا حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما تشریف لائے وہ میرے پہلو میں کھڑے ہو گئے ۔ انہوں نے چار رکعت ادا کیں راوی بیان کرتے ہیں : جب انہوں نے نماز ادا کر لی تو میں نے ان سے دریافت کیا : نبی اکرم ﷺ نے خانہ کعبہ میں کہاں نماز ادا کی تھی ؟ انہوں نے فرمایا : حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے مجھے یہ بات بتائی تھی کہ نبی اکرم ﷺ نے یہاں نماز ادا کی تھی میں نے ان سے دریافت کیا : نبی اکرم ﷺ نے کتنی رکعات ادا کی تھیں ؟ تو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا میں ہمیشہ اپنے آپ کو اس بات پر ملامت کرتا ہوں کہ میں ایک طویل عرصے تک حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کے ساتھ رہا لیکن میں نے ان سے پھر بھی یہ سوال نہیں کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے کتنی نماز ادا کی تھی رادی بیان کرتے ہیں : اگلے سال میں حج کرنے کے لئے گیا میں آیا اور اس جگہ پر کھڑا ہوا تو اسی دوران حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما تشریف لے آئے وہ میرے پہلو میں آ کے کھڑے ہو گئے اور وہ مسلسل میرے ساتھ مزاحمت کرتے رہے یہاں تک کہ انہوں نے مجھے اس جگہ سے ہٹا دیا اور پھر اس جگہ پر چار رکعت ادا کیں ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں اس مفہوم کی روایت نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

5751

Majma al-Zawaid #5751

وَعَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ: أَنَّ مُعَاوِيَةَ قَدِمَ مَكَّةَ، فَدَخَلَ الْكَعْبَةَ، فَأَرْسَلَ إِلَى [ابْنِ] عُمَرَ أَيْنَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ: صَلَّى بَيْنَ السَّارِيَتَيْنِ بِحِيَالِ الْبَابِ فَجَاءَ ابْنُ الزُّبَيْرِ، فَرَجَّ الْبَابَ رَجًّا شَدِيدًا، فَفُتِحَ لَهُ، فَقَالَ لِمُعَاوِيَةَ: [أَمَا إِنَّكَ] قَدْ عَلِمْتَ أَنِّي [كُنْتُ] أَعْلَمُ مِثْلَ الَّذِي يَعْلَمُ، وَلَكِنَّكَ حَسَدْتَنِي!!. رَوَاهُ أَحْمَدَ، وَرِجَاَلُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abi Mulaykah reports that Muawiyah رضي الله عنه came to Makkah, entered the Kaaba, and sent to Ibn Umar رضي الله عنهما asking where the Messenger of Allah ﷺ had prayed. He replied between the two pillars opposite the door. Ibn al-Zubayr رضي الله عنهما then shook the door violently until opened and told Muawiyah he knew as he knew but had been envied.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابن ابوملیکہ بیان کرتے ہیں : حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ مکہ آئے وہ خانہ کعبہ میں داخل ہوئے ۔ انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو پیغام بھیج کر دریافت کیا : نبی اکرم ﷺ نے کہاں نماز ادا کی تھی ؟ تو حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : دروازے کے مد مقابل دو ستونوں کے درمیان نماز ادا کی تھی پھر حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما آ گئے ۔ انہوں نے دروازے کو زور سے کھٹکھٹایا دروازہ کھول دیا گیا تو حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہما سے کہا آپ یہ بات جانتے ہیں کہ میں بھی اس طرح علم رکھتا ہوں جس طرح وہ علم رکھتے ہیں لیکن آپ نے مجھ سے حسد کیا ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

5752

Majma al-Zawaid #5752

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: «لَمَّا كَانَ يَوْمُ الْفَتْحِ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى أُمِّ عُثْمَانَ بْنِ طَلْحَةَ أَنِ ابْعَثِي إِلَيَّ مِفْتَاحَ الْكَعْبَةِ، فَقَالَتْ: لَا وَاللَّاتِ وَالْعُزَّى لَا أَبْعَثُ بِهِ إِلَيْكَ، فَقَالَ قَائِلٌ: ابْعَثْ إِلَيْهَا قَسْرًا، فَقَالَ ابْنُهَا عُثْمَانُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهَا حَدِيثَةُ عَهْدٍ بِكُفْرٍ، فَابْعَثْنِي إِلَيْهَا حَتَّى آتِيكَ، قَالَ: فَذَهَبَ إِلَيْهَا فَقَالَ: يَا أُمَّتَاهُ إِنَّهُ قَدْ جَاءَ أَمْرٌ غَيْرُ الَّذِي كَانَ، وَإِنَّهُ إِنْ لَمْ تُعْطِنِي الْمِفْتَاحَ قُتِلْتِ، قَالَ: فَأَخْرَجَتْهُ فَدَفَعَتْهُ إِلَيْهِ، فَجَاءَ بِهِ يَسْعَى، فَلَمَّا دَنَا مِنَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَثَرَ فَابْتَدَرَ الْمِفْتَاحُ مِنْ يَدِهِ، فَقَامَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَثَا عَلَيْهِ بِثَوْبِهِ فَأَخَذَهُ، ثُمَّ جَاءَ إِلَى الْبَابِ - أَحْسَبُهُ قَالَ: فَفَتَحَهُ - ثُمَّ قَامَ عِنْدَ أَرْكَانِ الْبَيْتِ، وَأَرْجَائِهِ يَدْعُو ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ بَيْنَ الْأُسْطُوَانَتَيْنِ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ زَيْدُ بْنُ عَوْفٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah رضي الله عنه reports that on the day of the conquest the Messenger of Allah ﷺ sent to the mother of Uthman ibn Talhah for the key of the Kaaba. She swore by al-Lat and al-Uzza she would not send it, and when force was suggested, her son Uthman رضي الله عنه said she was recent in disbelief and asked to be sent to her, warning her she would be killed if she withheld it. She produced it, he hastened with it, stumbled near the Prophet ﷺ so the key slipped from his hand, and the Prophet ﷺ knelt covering it with his garment and took it. He came to the door, opened it, stood at the corners and environs of the House supplicating, then prayed two rak'ahs between the two pillars.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ۔ فتح مکہ کے دن نبی اکرم ﷺ نے حضرت عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہ کی والدہ کو پیغام بھیجا کہ تم خانہ کعبہ کی چابی میری طرف بھیجوا دو اس خاتون نے کہا : لات اور عزی کی قسم ہے میں وہ آپ کی طرف نہیں بھجواؤں گی کسی شخص نے کہا : آپ قسر کو اس کی طرف بھیجیں ، اس خاتون کے صاحبزادے عثمان نے کہا : یا رسول اللہ ! یہ زمانہ کفر کے قریب ہے آپ مجھے ان کی طرف بھیجیں میں ابھی آپ کے پاس آتا ہوں پھر وہ صاحب اس خاتون کی طرف چلے گئے ۔ انہوں نے کہا : اے امی جان اب اس طرح کی صورت حال نہیں رہی جو پہلے ہوا کرتی تھی اگر آپ نے مجھے چابی نہ دی تو آپ کو قتل کر دیا جائے گا راوی کہتے ہیں : تو اس خاتون نے چابی نکالی اور ان کو دے دی وہ اسے لے کر دوڑتے ہوئے آئے جب وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس پہنچے تو انہیں ٹھوکر لگی اور چابی ان کے ہاتھ سے نکل گئی نبی اکرم ﷺ کھڑے ہوئے آپ نے اپنا کپڑا اس پر ڈالا اور اسے پکڑ لیا پھر آپ دروازے کے پاس آئے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : میرا خیال ہے روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں : آپ نے اسے کھولا پھر آپ خانہ کعبہ کے کونوں کے پاس کھڑے ہوئے اور آپ نے دعا کی اور پھر آپ نے دو ستونوں کے درمیان دو رکعت ادا کیں ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی زید بن عوف ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

5753

Majma al-Zawaid #5753

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ صَفْوَانَ قَالَ: «لَمَّا فَتَحَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَكَّةَ قُلْتُ: لَأَلْبِسَنَّ ثِيَابِي فَكَانَتْ دَارِي عَلَى الطَّرِيقِ - فَذَكَرَ الْحَدِيثَ إِلَى أَنْ قَالَ: فَلَمَّا خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَأَلْتُ مَنْ كَانَ مَعَهُ: أَيْنَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: رَكْعَتَيْنِ عِنْدَ السَّارِيَةِ الْوُسْطَى عَنْ يَمِينِهَا». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ حَدِيثُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَنَّهُ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abd al-Rahman ibn Safwan رضي الله عنه reports that when the Messenger of Allah ﷺ conquered Makkah he resolved to don his garments as his house was upon the road. When the Prophet ﷺ exited, he asked those with him where the Messenger of Allah ﷺ had prayed, and was told two rak'ahs at the middle pillar on its right.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبدالرحمن بن صفوان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم ﷺ نے مکہ فتح کر لیا تو میں نے کہا : میں آج ( نیا یا عمدہ ) لباس پہنوں گا میرا گھر راستے میں تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ، جس میں آگے چل کر یہ الفاظ ہیں : جب نبی اکرم ﷺ باہر تشریف لائے تو میں نے آپ کے ساتھ موجود شخص سے دریافت کیا : نبی اکرم ﷺ نے کہاں نماز ادا کی ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : درمیانے ستون کے دائیں طرف دو رکعت ادا کیں ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس بارے میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے بھی حدیث منقول ہے کہ آپ نے دو رکعت ادا کی تھیں اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

5754

Majma al-Zawaid #5754

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: «دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْكَعْبَةَ، وَمَعَهُ عُثْمَانُ بْنُ شَيْبَةَ، وَبِلَالٌ فَتَزَاحَمْتُ حَتَّى أَتَيْتُ الْبَابَ فَوَافَقْتُهُ قَدْ خَرَجَ فَسَأَلْتُهُمَا: كَيْفَ صَنَعَ؟ فَقَالَا: صَلَّى رَكْعَتَيْنِ بَيْنَ الْعَمُودَيْنِ». قُلْتُ: حَدِيثُ بِلَالٍ فِي الصَّحِيحِ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَقَدْ وُثِّقَ.

EnglishUnverified translation

Ibn Umar رضي الله عنهما reports that the Messenger of Allah ﷺ entered the Kaaba with Uthman ibn Shaybah and Bilal رضي الله عنهما. He crowded through until reaching the door as they exited and asked them what had been done; they said he had prayed two rak'ahs between the two pillars.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ خانہ کعبہ میں داخل ہوئے آپ کے ساتھ حضرت عثمان بن شیبہ رضی اللہ عنہ اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ تھے میں لوگوں کے درمیان میں سے نکلتا ہوا دروازے کے پاس آیا جب میں وہاں پہنچا تو آپ باہر تشریف لے آئے میں نے ان دونوں صاحبان سے دریافت کیا : نبی اکرم ﷺ نے کیا کیا تھا ؟ تو ان دونوں صاحبان نے بتایا آپ نے دو ستونوں کے درمیان دو رکعت ادا کی تھیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث ’’ صحیح ‘‘ میں مذکور ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے اور وہ ضعیف ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔

5755

Majma al-Zawaid #5755

«وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ سُئِلَ: أَيْنَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِينَ دَخَلَ الْبَيْتَ؟ قَالَ: بَيْنَ الْعَمُودَيْنِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عِيسَى بْنُ رَاشِدٍ الثَّقَفِيُّ، وَفِيهِ كَلَامٌ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Malik رضي الله عنه was asked where the Messenger of Allah ﷺ had prayed when he entered the House, and replied between the two pillars.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے ان سے دریافت کیا گیا نبی اکرم ﷺ جب بیت اللہ میں داخل ہوئے تھے تو آپ نے کہاں نماز ادا کی تھی ؟ انہوں نے جواب دیا دو ستونوں کے درمیان ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عیسیٰ بن راشد ثقفی ہے اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔

5756

Majma al-Zawaid #5756

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: «دَخَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْكَعْبَةَ، وَمَعَهُ بِلَالٌ، وَأُسَامَةُ، وَعُثْمَانُ، وَقَدْ أُجَافَ عَلَيْهِمُ الْبَابُ فَجِئْتُ فَقَعَدْتُ بِالْأَرْضِ فَمَكَثُوا فِيهِ مَلِيًّا فَلَمَّا خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَقَيْتُ الدَّرَجَ فَدَخَلْتُ الْبَيْتَ فَقُلْتُ: أَيْنَ صَلَّى النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ قَالُوا: هَاهُنَا، وَنَسِيتُ أَنْ أَسْأَلَ: كَمْ صَلَّى؟». قُلْتُ: حَدِيثُ بِلَالٍ فِي الصَّحِيحِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn Umar رضي الله عنهما reports that the Prophet ﷺ entered the Kaaba with Bilal, Usamah, and Uthman رضي الله عنهم, the door closed upon them. He sat upon the ground waiting a while until the Messenger of Allah ﷺ exited, then ascended the stairs, entered the House, and asked where the Prophet ﷺ had prayed. They said here, but he forgot to ask how many he had prayed.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ خانہ کعبہ میں داخل ہوئے آپ کے ساتھ حضرت بلال رضی اللہ عنہ حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ تھے دروازہ بند کر دیا گیا میں آیا اور زمین پر بیٹھ گیا یہ حضرات کچھ دیر اندر ہے پھر نبی اکرم ﷺ باہر تشریف لے آئے میں سیڑھی پر چڑھا اور بیت اللہ میں داخل ہوا میں نے دریافت کیا : نبی اکرم ﷺ نے کہاں نماز ادا کی تھی ؟ تو ان حضرات نے بتایا : یہاں ۔ راوی کہتے ہیں : میں یہ دریافت کرنا بھول گیا کہ نبی اکرم ﷺ نے کتنی نماز ادا کی تھی ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث ’’ صحیح ‘‘ میں مذکور ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

5757

Majma al-Zawaid #5757

«وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الزَّجَّاجِ قَالَ: قُلْتُ لِشَيْبَةَ بْنِ عُثْمَانَ: يَا أَبَا عُثْمَانَ، إِنَّهُمْ يَزْعُمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دَخَلَ الْكَعْبَةَ فَلَمْ يُصَلِّ فِيهَا؟ فَقَالَ: كَذَبُوا لَقَدْ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ بَيْنَ الْعَمُودَيْنِ، ثُمَّ أَلْصَقَ بِهِمَا بَطْنَهُ وَظَهْرَهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الزَّجَّاجِ ; وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ.

EnglishUnverified translation

Abd al-Rahman ibn al-Zajjaj reports he asked Shaybah ibn Uthman رضي الله عنه whether people claim the Messenger of Allah ﷺ entered the Kaaba without praying therein. He declared they lied, for he prayed two rak'ahs between the two pillars then pressed his belly and back against them.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبدالرحمن بن زجاج بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت شیبہ بن عثمان رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا : اے ابوعثمان لوگ یہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ خانہ کعبہ میں داخل ہوئے تھے لیکن آپ نے اس میں نماز ادا نہیں کی تھی تو انہوں نے جواب دیا وہ لوگ غلط کہتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے دو ستونوں کے درمیان دو رکعت ادا کی تھیں اور پھر اپنے پیٹ اور اپنی پشت کو ان دونوں کے ساتھ لگایا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن زجاج ہے میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔

5758

Majma al-Zawaid #5758

وَعَنْ مُسَافِعِ بْنِ شَيْبَةَ [عَنْ أَبِيهِ شَيْبَةَ] قَالَ: «دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْكَعْبَةَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ فَرَأَى بِهَا تَصَاوِيرَ فَقَالَ: "" يَا شَيْبَةُ اكْفِنِي هَذِهِ التَّصَاوِيرَ "". فَاشْتَدَّ ذَلِكَ عَلَى شَيْبَةَ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ فَارِسَ: إِنْ شِئْتَ طَلَبْتُهَا، وَلَطَّخْتُهَا بِزَعْفَرَانَ. فَفَعَلَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَمُسَافِعٌ لَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ.

EnglishUnverified translation

Musafi' ibn Shaybah reports from his father Shaybah رضي الله عنه that the Messenger of Allah ﷺ entered the Kaaba, prayed two rak'ahs, saw pictures therein, and commanded Shaybah to remove them. This weighed heavily upon Shaybah, so a Persian man offered to efface them smeared with saffron, and did so. > **"O Shaybah, spare me these pictures."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

مسافع بن شیبہ نے اپنے والد حضرت شیبہ رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کیا ہے ۔ نبی اکرم ﷺ خانہ کعبہ میں داخل ہوئے آپ نے دو رکعت ادا کیں آپ نے اس میں کچھ تصاویر دیکھیں تو فرمایا : اے شیبہ ان تصاویر کو ختم کر دو یہ بات حضرت شیبہ رضی اللہ عنہ کے لئے مشکل کا باعث ہوئی تو شہسواروں میں سے ایک شخص نے آپ کی خدمت میں عرض کی اگر آپ چاہیں تو میں ان کے اوپر زعفران لگا دیتا ہوں تو انہوں نے ایسا ہی کیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے مسافع نامی راوی کے حالات بیان کرتے ہوئے میں نے کسی کو نہیں پایا ہے ۔

5759

Majma al-Zawaid #5759

وَعَنْ مُسَافِعِ بْنِ شَيْبَةَ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ جَدِّي: «أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّي خَلْفَ الْأُسْطُوَانَةِ [الْوُسْطَى] مِنَ الْبَيْتِ رَكْعَتَيْنِ، وَفِي الْبَيْتِ - أَوْ قَالَ: الْكَعْبَةَ - ثَلَاثُ أَسَاطِينَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Musafi' ibn Shaybah reports his father from his grandfather that he saw the Messenger of Allah ﷺ pray two rak'ahs behind the middle pillar of the House, there being three pillars in the House.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

مسافع بن شیبہ بیان کرتے ہیں : میرے والد نے میرے دادا کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا کہ آپ نے بیت اللہ کے درمیانی ستون کے پاس دو رکعت ادا کی تھیں راوی کہتے ہیں : بیت اللہ میں ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) خانہ کعبہ میں تین ستون تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ‘ جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

5760

Majma al-Zawaid #5760

وَعَنْ مِسْمَعٍ الْعِجْلِيِّ الرَّامِّ قَالَ: حَدَّثَنِي شَيْخٌ مَنَ الْحَجَبَةِ يُقَالُ لَهُ: مِسْمَعٌ، وَرَآنِي أُصَلِّي خَلْفَ الْأُسْطُوَانَةِ الْوُسْطَى مِنَ الْبَيْتِ فَقَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ جَدِّي «أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّي خَلْفَهَا رَكْعَتَيْنِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Misma' al-Ijli al-Ramm reports a Hijabah elder named Misma' saw him praying behind the middle pillar of the House and informed him his father from his grandfather had seen the Messenger of Allah ﷺ pray two rak'ahs behind it.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

مسمع عجلی الرام بیان کرتے ہیں : حجبہ کے ایک بزرگ جن کا نام سمع تھا انہوں نے مجھے یہ حدیث بیان کی ۔ انہوں نے مجھے بیت اللہ کے درمیانی ستون کے پاس نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا تو یہ بات بیان کی میرے والد نے میرے دادا کے حوالے سے یہ حدیث مجھے بیان کی ہے کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو اس ستون کے پاس دو رکعت ادا کرتے ہوئے دیکھا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

5761

Majma al-Zawaid #5761

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ صَفْوَانَ قَالَ: «رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَصْحَابَهُ فَدَخَلْتُ بَيْنَ رَجُلَيْنِ مِنْهُمْ فَقُلْتُ: كَيْفَ صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِينَ دَخَلَ فِي الْبَيْتِ؟ قَالَ: صَلَّى رَكْعَتَيْنِ بَيْنَ الْأُسْطُوَانَتَيْنِ عَنْ يَمِينِ الْبَيْتِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abd al-Rahman ibn Safwan رضي الله عنه reports he saw the Messenger of Allah ﷺ and his companions, entered between two of them, and asked what the Messenger of Allah ﷺ had done when he entered the House. He was told he had prayed two rak'ahs between the two pillars on the right of the House.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبدالرحمن بن صفوان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ اور آپ کے اصحاب کو دیکھا میں ان میں سے دو آدمیوں کے درمیان داخل ہوا میں نے دریافت کیا نبی اکرم ﷺ جب بیت اللہ میں داخل ہوئے تھے تو آپ نے کیا کیا تھا ؟ انہوں نے جواب دیا نبی اکرم ﷺ نے بیت اللہ کے دائیں طرف دو ستونوں کے درمیان دو رکعت ادا کی تھیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

5762

Majma al-Zawaid #5762

وَعَنْ أُمِّ وَلَدِ شَيْبَةَ -، وَكَانَتْ قَدْ بَايَعَتِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دَعَا شَيْبَةَ فَفَتَحَ الْبَيْتَ فَلَمَّا دَخَلَهُ رَكَعَ، وَقَرَعَ جَبِينَهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ. قُلْتُ: وَيَأْتِي فِي الصَّلَاةِ فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَغَيْرِهِ فِي فَضْلِ الْمَدِينَةِ - إِنْ شَاءَ اللَّهُ.

EnglishUnverified translation

The umm walad of Shaybah رضي الله عنه, who had pledged the Prophet ﷺ, reports that the Prophet ﷺ summoned Shaybah, who opened the House. When he entered he bowed and struck his forehead.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت شیبہ رضی اللہ عنہ کی اُم ولد ‘ جنہیں نبی اکرم ﷺ دست اقدس پر بیعت کرنے کا شرف حاصل ہے ‘ وہ بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے حضرت شیبہ رضی اللہ عنہ کو بلایا ‘ انہوں نے دروازہ کھولا جب آپ اندر داخل ہوئے ‘ تو آپ نے رکوع کیا ( یا آپ جھک گئے ) اور اپنی پیشانی کو لگایا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔ علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : مسجد حرام میں یا اس کے علاوہ کسی جگہ نماز ادا کرنے سے متعلق روایات مدینہ منورہ کی فضیلت سے متعلق باب میں آئیں گی اگر اللہ نے چاہا ۔

5763

Majma al-Zawaid #5763

عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: مَا زِلْنَا نَسْمَعُ إِسَافَ وَنَائِلَةَ - رَجُلٌ، وَامْرَأَةٌ مَنْ جُرْهُمٍ - زَنَيَا فِي الْكَعْبَةِ فَمُسِخَا حَجَرَيْنِ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ الْعُطَارِدِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Aishah رضي الله عنها states they always heard that Isaf and Na'ilah, a man and woman of Jurhum, committed adultery in the Kaaba and were transformed into two stones.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہما فرماتی ہیں ہم مسلسل یہ بات سنتے آ رہے ہیں کہ اساف اور نائلہ ‘ جرہم سے تعلق رکھنے والے ایک مرد اور ایک عورت تھے ان دونوں نے خانہ کعبہ میں زنا کیا تھا تو انہیں مسخ کر کے پتھر بنا دیا گیا ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی احمد بن عبدالجبار عطاردی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

5764

Majma al-Zawaid #5764

وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «كَانَ إِسَافُ وَنَائِلَةُ - رَجُلٌ وَامْرَأَةٌ - زَنَيَا فِي الْكَعْبَةِ فَمَسَخَهُمَا اللَّهُ حَجَرَيْنِ» ""، فَكَانَا بِمَكَّةَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ الْعُمَرِيُّ، وَهُوَ كَذَّابٌ.

EnglishUnverified translation

Aishah رضي الله عنها reports that the Prophet ﷺ declared Isaf and Na'ilah, a man and woman, committed adultery in the Kaaba so Allah transformed them into two stones remaining in Makkah. > **"Isaf and Na'ilah, a man and a woman, committed adultery in the Kaaba, so Allah transformed them into two stones."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں اساف اور نائلہ ایک مرد اور ایک عورت تھے ان دونوں نے خانہ کعبہ میں زنا کیا ، تو اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کو مسخ کر کے پتھر بنا دیا وہ دونوں ( یعنی ان دونوں کے بت ) مکہ میں تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی خالد بن یزید عمری ہے اور وہ کذاب ہے ۔

5765

Majma al-Zawaid #5765

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَرَّ بِنَفَرٍ مِنْ قُرَيْشٍ، وَهُمْ جُلُوسٌ بِفِنَاءَ الْكَعْبَةِ فَقَالَ: "" انْظُرُوا مَا تَعْمَلُونَ فِيهَا فَإِنَّهَا مَسْئُولَةٌ عَنْكُمْ فَتُخْبِرُ عَنْكُمْ، وَعَنْ أَعْمَالِكُمْ، وَاذْكُرُوا أَنَّ سَاكِنَهَا مَنْ لَا يَأْكُلُ الرِّبَا، وَلَا يَمْشِي بِالنَّمِيمَةِ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ، وَهُوَ ثِقَةٌ، وَلَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Amr رضي الله عنهما reports that the Messenger of Allah ﷺ passed a group of Quraysh sitting in the courtyard of the Kaaba and warned them to consider their deeds therein, for it shall be questioned concerning them and report of them and their deeds, and reminded that its dweller is he who consumes no usury nor carries slander. > **"Consider what you do therein, for it shall be questioned concerning you and shall report of you and your deeds. And remember that its dweller is he who eats no usury and carries no slander."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کا گزر قریش کے کچھ لوگوں کے پاس سے ہوا وہ لوگ خانہ کعبہ کے صحن میں بیٹھے ہوئے تھے آپ نے ارشاد فرمایا : تم لوگ اس بات کا دھیان رکھنا کہ تم یہاں کیا عمل کرتے ہو کیونکہ اس بارے میں تم سے حساب لیا جائے گا اور یہ ( یعنی خانہ کعبہ ) تم لوگوں کے بارے میں اور تمہارے اعمال کے بارے میں خبر دے گا اور تم یہ بات یاد رکھنا کہ اس ( مکہ ) میں وہ شخص رہائش اختیار کرے گا جو سود نہ کھاتا ہو اور چغلی نہ کرتا ہو ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے اور وہ تدلیس کرنے والا ہے ۔

5766

Majma al-Zawaid #5766

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" إِنَّمَا «سُمِّيَ الْبَيْتُ الْعَتِيقَ لِأَنَّهُ أُعْتِقَ مِنَ الْجَبَابِرَةَ فَلَمْ يَنَلْهُ جَبَّارٌ قَطُّ ""، "" أَوْ لَمْ يَقْدِرْ عَلَيْهِ جَبَّارٌ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ كَاتِبُ اللَّيْثِ قِيلَ: ثِقَةٌ مَأْمُونٌ، وَقَدْ ضَعَّفَهُ الْأَئِمَّةُ أَحْمَدُ، وَغَيْرُهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn al-Zubayr رضي الله عنهما reports that the Messenger of Allah ﷺ explained the House was named al-Atiq because freed from tyrants, never attained — or overpowered — by a tyrant. > **"It was named al-Bayt al-Atiq because it was freed from tyrants; no tyrant ever attains it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ اس کا نام بیت عقیق اس لئے رکھا گیا ہے کیونکہ اسے ظالم لوگوں سے آزاد کر دیا گیا ہے کوئی ظالم اس تک کبھی نہیں پہنچ سکے گا ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) کوئی ظالم اس پر قابو نہیں پا سکے گا “۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن صالح ہے جو لیث کا کاتب ہے یہ بات کہی گئی ہے : وہ ثقہ اور مامون ہے ائمہ یعنی احمد اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف قرار دیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

5767

Majma al-Zawaid #5767

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «لَا تَحِلُّ إِجَارَتُهَا، وَلَا رِبَاعُهَا "" يَعْنِي مَكَّةَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Amr رضي الله عنهما reports that the Messenger of Allah ﷺ forbade letting its hire and its dwellings, meaning Makkah. > **"Its hire and its dwellings are not lawful."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اس کو ‘ اور اس کے گھروں کو کرائے پر دینا حلال نہیں ہے ‘‘ ( راوی بیان کرتے ہیں : ) نبی اکرم ﷺ کی مراد مکہ تھی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن ابراہیم بن مہاجر ہے اور وہ ضعیف ہے ۔