Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 10 · Chapter 12

Book of Hajj

Hadith 5688–5727

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

5688

Majma al-Zawaid #5688

عَنْ عَائِشَةَ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَمِعَ رَجُلًا يُلَبِّي عَنْ شُبْرُمَةَ قَالَ: "" وَمَا شُبْرُمَةُ؟ ""، قَالَ: فَذَكَرُوا قَرَابَةً، قَالَ: أَحَجَجْتَ عَنْ نَفْسِكَ؟ ""، قَالَ: لَا، قَالَ: "" فَاحْجُجْ عَنْ نَفْسِكَ، ثُمَّ حُجَّ عَنْ شُبْرُمَةَ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ ابْنُ أَبِي لَيْلَى، وَفِيهِ كَلَامٌ.

EnglishUnverified translation

Aishah رضي الله عنها reports that the Prophet ﷺ heard a man reciting talbiyah for Shubrumah, asked what Shubrumah was, was told of kinship, asked whether he had performed Hajj for himself, and upon denial commanded Hajj for himself first then for Shubrumah. > **"What is Shubrumah? Have you performed Hajj for yourself? Perform Hajj for yourself, then perform Hajj for Shubrumah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں نبی اکرم ﷺ نے ایک شخص کو سنا جو ثبرمہ کی طرف سے تلبیہ پڑھ رہا تھا نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : شبرمہ کون ہے ؟ راوی بیان کرتے ہیں : ان لوگوں نے اس کے ساتھ رشتہ داری کا ذکر کیا ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کیا تم نے اپنی طرف سے حج کر لیا ہے ؟ اس نے جواب دیا : جی نہیں ! نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : پھر تم اپنی طرف سے حج کرو پھر شبرمہ کی طرف سے حج کرنا ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابن ابولیلی ہے اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔

5689

Majma al-Zawaid #5689

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: «سَمِعَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلًا يَقُولُ: لَبَّيْكَ عَنْ شُبْرُمَةَ، فَقَالَ: "" أَحَجَجْتَ عَنْ نَفْسِكَ؟ ""، قَالَ: لَا، قَالَ: "" حُجَّ عَنْ نَفْسِكَ ثُمَّ حُجَّ عَنْ شُبْرُمَةَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ ثُمَامَةُ بْنُ عُبَيْدَةَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Jabir رضي الله عنه reports that the Prophet ﷺ heard a man say labbayk for Shubrumah, asked whether he had performed Hajj for himself, and upon denial commanded Hajj for himself then for Shubrumah. > **"Have you performed Hajj for yourself? Perform Hajj for yourself, then perform Hajj for Shubrumah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ایک شخص کو یہ کہتے ہوئے سنا : میں شبرمہ کی طرف سے حاضر ہوں ۔ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کیا تم نے اپنی طرف سے حج کر لیا ہوا ہے ؟ اس نے عرض کی : جی نہیں ! نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم اپنی طرف سے حج کرو پھر شبرمہ کی طرف سے حج کرنا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ثمامہ بن عبیدہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

5690

Majma al-Zawaid #5690

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: «بَيْنَمَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَسِيرُ إِذْ أَقْبَلَتِ امْرَأَةٌ مَعَهَا ابْنٌ لَهَا، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلِهَذَا حَجٌّ؟ قَالَ: "" نَعَمْ، وَلَكِ أَجْرٌ ""، قَالَتْ: فَمَا ثَوَابُهُ إِذَا وَقَفَ بِعَرَفَةَ؟ قَالَ: "" يُكْتَبُ لِوَالِدَيْهِ بِهِ بِعَدَدِ كُلِّ مَنْ وَقَفَ بِالْمَوْقِفِ عَدَدَ شَعْرِ رُءُوسِهِمْ حَسَنَاتٍ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ خَالِدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْمَخْزُومِيُّ، وَهُوَ مُتَّهَمٌ بِالْكَذِبِ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Malik رضي الله عنه reports that while the Prophet ﷺ journeyed, a woman with her young son came asking whether there is Hajj for him, he affirmed with reward for her, and when asked its reward upon standing at Arafah, answered his parents are written good deeds to the number of all standing equal to hairs of their heads. > **"Yes, and for you is reward. There is written for his parents thereby, to the number of all who stood at the standing place equal to hairs of their heads, good deeds."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ چل رہے تھے ایک خاتون آئی اس کے ساتھ اس کا بیٹا بھی تھا اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا اس کا حج ہو گا ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! اور تمہیں بھی اجر ملے گا اس خاتون نے عرض کی : جب یہ عرفہ میں وقوف کرے گا تو اس کا ثواب کیا ہو گا ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اس کے ماں باپ کو ان تمام افراد کے سروں کے بالوں کی تعداد جتنی نیکیاں ملیں گی جتنے لوگوں نے موقف میں وقوف کیا ہو گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی خالد بن اسماعیل مخزومی ہے اور اس پر جھوٹے بولنے کا الزام عائد کیا گیا ہے ۔

5691

Majma al-Zawaid #5691

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «لَمَّا خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ مَكَّةَ قَالَ: "" أَمَا وَاللَّهِ لَأَخْرُجُ مِنْكِ، وَإِنِّي لَأَعْلَمُ أَنَّكِ أَحَبُّ بِلَادِ اللَّهِ إِلَيَّ وَأَكْرَمُهُ عَلَى اللَّهِ، وَلَوْلَا أَنَّ أَهْلَكِ أَخْرَجُونِي مَا خَرَجْتُ. يَا بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ إِنْ كُنْتُمْ وُلَاةَ هَذَا الْأَمْرِ مِنْ بَعْدِي فَلَا تَمْنَعُوا طَائِفًا بِبَيْتِ اللَّهِ سَاعَةً مَا شَاءَ مِنْ لَيْلٍ وَلَا نَهَارٍ وَلَوْلَا أَنْ تَطْغَى قُرَيْشٌ لَأَخْبَرْتُهَا مَا لَهَا عِنْدَ اللَّهِ، اللَّهُمَّ إِنَّكَ أَذَقْتَ أَوَّلَهُمْ وَبَالًا فَأَذِقْ آخِرَهُمْ نَوَالًا». رَوَى التِّرْمِذِيُّ بَعْضَهُ. رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما reports that when the Messenger of Allah ﷺ departed from Makkah he swore he would depart knowing it the most beloved and most honoured land of Allah to him, and were its people not expelling him he would not leave. He addressed Banu Abd Manaf that if authority after him came to them they should prevent none from circumambulating Allah's House at any hour of night or day, said were Quraysh not to transgress he would inform them of their standing with Allah, and supplicated that as their beginning tasted affliction their end taste favour. > **"Indeed, by Allah, I shall depart from you, and I know you are the most beloved of Allah's lands to me and the most honoured to Allah. Were your people not expelling me I would not depart. O Banu Abd Manaf, if you are custodians of this affair after me, prevent none circumambulating Allah's House at any hour he wishes of night or day. Were Quraysh not to transgress I would inform them of what is theirs with Allah. O Allah, You made their beginning taste affliction, so make their end taste favour."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم ﷺ مکہ سے نکلے تو آپ نے ( مکہ کو مخاطب کر کے ) ارشاد فرمایا : اللہ کی قسم میں تجھ سے نکل تو رہا ہوں لیکن میں یہ بات جانتا ہوں کہ تم میرے نزدیک اللہ کے تمام شہروں میں سب سے زیادہ محبوب ہو اور اللہ تعالی کے نزدیک سب سے زیادہ معزز ہو اگر تمہارے رہنے والوں نے مجھے نکلنے پر مجبور نہ کیا ہوتا تو میں نہ نکلتا ( بعد میں نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ) اے بنو عبد مناف اگر تم لوگ میرے بعد اس معاملے کے نگران بنے تو تم بیت اللہ کا طواف کرنے والے کسی بھی شخص کو رات یا دن کے کسی بھی حصے میں منع نہ کرنا اگر اس بات کا اندیشہ نہ ہوتا کہ قریش سرکشی کا شکار ہو جائیں گے تو میں انہیں یہ بتاتا کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ان کا کیا مرتبہ و مقام ہے ( پھر آپ نے دعا کی : ) ’’ اے اللہ ! تو نے ان کے پہلے لوگوں کو وبال کا ذائقہ چکھایا تھا تو ان کے بعد والوں کو مہربانی کا ذائقہ چکھا دے ۔ امام ترمذی نے اس روایت کا کچھ نقل کیا ہے یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

5692

Majma al-Zawaid #5692

وَعَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَفَ عَلَى الْحَزْوَرَةِ فَقَالَ: " لَقَدْ عَلِمْتُ أَنَّكِ أَحَبُّ أَرْضِ اللَّهِ إِلَيْهِ، وَلَوْلَا أَنَّ قَوْمِي أَخْرَجُونِي مِنْكِ مَا خَرَجْتُ ".

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah رضي الله عنه reports that the Prophet ﷺ halted at al-Hazwarah and declared knowledge that it is the most beloved land of Allah to Him, and were his people not expelling him he would not depart. > **"I know you are the most beloved land of Allah to Him, and were my people not expelling me from you I would not depart."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے اونٹنی پر وقوف کیا ‘ آپ نے فرمایا : ’’ میں یہ بات جانتا ہوں کہ تو اللہ تعالیٰ کی زمین میں اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب جگہ ہے اگر میری قوم نے مجھے تجھ سے نہ نکالا ہوتا تو میں نہ نکلتا ‘‘۔

5693

Majma al-Zawaid #5693

وَفِي رِوَايِةٍ عَنْهُ أَيْضًا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَفَ بِالْحَجُونِ فَقَالَ: " وَاللَّهِ إِنَّكِ لَأَخْيَرُ أَرْضِ اللَّهِ وَأَحَبُّ أَرْضِ اللَّهِ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى، لَوْلَا أَنِّي أُخْرِجْتُ مِنْكِ مَا خَرَجْتُ "، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ، رَوَاهُ كُلُّهُ الْبَزَّارُ وَرِجَالُ الْأَوَّلِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

In a version from him also, the Messenger of Allah ﷺ halted at al-Hajun and swore it the best and most beloved land of Allah to Allah, and were he not expelled he would not depart, with the hadith in full. > **"By Allah, you are the best land of Allah and the most beloved land of Allah to Allah Exalted. Were I not expelled from you I would not depart."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ بات منقول ہے : نبی اکرم ﷺ حجون کے مقام پر ٹھہرے اور آپ نے فرمایا : اللہ کی قسم تو اللہ کی زمین میں سب سے بہتر ہے اور اللہ کی زمین میں اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب ہے اگر مجھے تجھ سے نکالا نہ گیا ہوتا تو میں نہ نکلتا ‘‘۔ اس کے بعد راوی نے طویل حدیث ذکر کی ہے ۔ یہ تمام روایات امام بزار نے نقل کی ہیں اور پہلی روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

5694

Majma al-Zawaid #5694

عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ حَرَمَهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، لَا يُعْضَدُ شَجَرُهُ، وَلَا يُحْتَشُّ حَشِيشُهُ، وَلَا تُرْفَعُ لُقَطَتُهُ إِلَّا لِإِنْشَادِهَا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عِيسَى بْنُ أَبِي عِيسَى الْحَنَّاطُ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Umar رضي الله عنهما reports from the Prophet ﷺ that Allah has forbidden His sanctuary until the Resurrection: its trees not cut, its grass not gathered, its lost property not lifted except for announcement. > **"Verily Allah has forbidden His sanctuary until the Day of Resurrection: its trees shall not be cut, its grass shall not be gathered, and its lost property shall not be lifted except for announcement."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ بے شک اللہ تعالیٰ نے اپنے حرم کو قیامت کے دن تک کے لئے حرم قرار دیا ہے اس کے درخت کو کاٹا نہیں جائے گا اس کی گھاس کو اکھیڑا نہیں جائے گا اس کی گری ہوئی چیز کو اٹھایا نہیں جائے گا البتہ اعلان کرنے کے لئے اٹھایا جا سکتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عیسیٰ بن ابوعیسی حناط ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

5695

Majma al-Zawaid #5695

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «أُحِلَّتْ لِي مَكَّةُ سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ وَلَا تَحِلُّ لِأَحَدٍ مِنْ بَعْدِي، وَهِيَ حَرَامٌ بِحُرْمَةِ اللَّهِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، لَا يُعْضَدُ شَجَرُهَا وَلَا يُخْتَلَى خِلَالُهَا، وَلَا يُنَفَّرُ صَيْدُهَا، وَلَا تُلْتَقَطُ لُقَطَتُهَا إِلَّا لِمُنْشِدِهَا ""، قَالُوا: إِلَّا الْإِذْخِرَ ; فَإِنَّهُ لِقَيْنِنَا وَبُيُوتِنَا؟ قَالَ: "" إِلَّا الْإِذْخِرَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Umar رضي الله عنهما reports hearing the Messenger of Allah ﷺ say Makkah was permitted to him for an hour of the day and is not permitted to any after him, remaining sacred by Allah's sanctity until the Resurrection with trees uncut, herbage ungathered, game unstartled and lost property untouched except for its announcer. When asked except idhkhir for their smiths and houses, he excepted idhkhir. > **"Makkah was permitted to me for an hour of the day and is not permitted to any after me. It is sacred by Allah's sanctity until the Day of Resurrection: its trees shall not be cut, its herbage shall not be gathered, its game shall not be startled, and its lost property shall not be picked except for its announcer. Except idhkhir."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے ’’ میرے لئے مکہ کو دن کی ایک گھڑی کے لئے حلال قرار دیا گیا تھا میرے بعد یہ کسی کے لئے حلال نہیں ہو گا یہ اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حرمت کی وجہ سے قیامت کے دن تک قابل احترام ہو گا اس کے درخت کو کاٹا نہیں جائے گا اس کے پودے کو اکھیڑا نہیں جائے گا اس کی گری ہوئی چیز کو اٹھایا نہیں جائے گا البتہ اعلان کرنے کے لئے ایسا کیا جا سکتا ہے لوگوں نے عرض کی : ازخر کا حکم مختلف ہونا چاہیے کیونکہ وہ ہمارے سنار استعمال کرتے ہیں اور گھروں میں استعمال ہوتی ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اذخر کا حکم مختلف ہے ( یعنی اسے کاٹنے کی اجازت ہے ) ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن قاسم ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

5696

Majma al-Zawaid #5696

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ هَذَا الْبَيْتَ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَصَاغَهُ حِينَ صَاغَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ وَمَا حِيَالُهُ مِنَ السَّمَاءِ حَرَامٌ، وَإِنَّهُ لَا يَحِلُّ لِأَحَدٍ مِنْ بَعْدِي، وَإِنَّمَا يَحِلُّ لِي سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ ثُمَّ عَادَ كَمَا كَانَ ""، فَقِيلَ لَهُ: هَذَا خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ يَقْتُلُ؟ فَقَالَ: "" قُمْ يَا فُلَانٌ فَأْتِ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ فَقُلْ لَهُ: يَرْفَعْ يَدَهُ مِنَ الْقَتْلِ ""، فَأَتَاهُ الرَّجُلُ فَقَالَ: إِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" اقْتُلْ مَنْ قَدَرْتَ عَلَيْهِ ""، فَقَتَلَ سَبْعِينَ إِنْسَانًا، فَأَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ فَأَرْسَلَ إِلَى خَالِدٍ فَقَالَ: "" أَلَمْ أَنْهَكَ عَنِ الْقَتْلِ؟ ""، فَقَالَ: جَاءَنِي فُلَانٌ فَأَمَرَنِي أَنْ أَقْتُلَ مَنْ قَدَرْتُ عَلَيْهِ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ فَقَالَ: "" أَلَمْ آمُرْ خَالِدًا أَنْ لَا يَقْتُلَ أَحَدًا؟ ""، فَقَالَ: أَرَدْتَ أَمْرًا وَأَرَادَ اللَّهُ أَمْرًا وَكَانَ أَمْرُ اللَّهِ فَوْقَ أَمْرِكَ مَا اسْتَطَعْتُ إِلَّا الَّذِي كَانَ، فَسَكَتَ عَنْهُ نَبِيُّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَمَا رَدَّ عَلَيْهِ شَيْئًا». قُلْتُ: لِابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ فِي الصَّحِيحِ غَيْرُ هَذَا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ وَقَدِ اخْتَلَطَ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما reports from the Prophet ﷺ that Allah sanctified this House the day He created the heavens and the earth and fashioned it when He fashioned the sun and moon with what surrounds it of heaven as sacred. It is not lawful for any after him, permitted to him only for an hour of the day then returning as before. When told Khalid ibn al-Walid رضي الله عنه was killing, he ordered a man to command Khalid to lift his hand from killing. The man instead told Khalid the Prophet of Allah ﷺ says kill whom you can, so he killed seventy. The Prophet ﷺ summoned Khalid asking did he not forbid killing, Khalid said the man commanded killing whom he could, the Prophet summoned the man asking did he not command Khalid to kill none, the man said you intended a matter and Allah intended a matter with Allah's command above his, unable except what occurred, and the Prophet of Allah ﷺ fell silent without reply. > **"Verily Allah sanctified this House the day He created the heavens and the earth, and fashioned it when He fashioned the sun and the moon, with what surrounds it of heaven as sacred. It is not lawful for any after me, permitted to me only for an hour of the day, then returning as before. Rise, O man, go to Khalid ibn al-Walid and tell him to lift his hand from killing. Did I not forbid you from killing? Did I not command Khalid to kill no one?"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ بے شک اللہ تعالیٰ نے اس گھر کو اس دن حرم قرار دیا تھا جس دن اس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا تھا اور اسے اس دن پیدا کیا تھا جب سورج اور چاند کو پیدا کیا تھا ، اس کے اوپر تک آسمان کا پورا حصہ حرم ہے اور یہ میرے بعد کسی کے لئے حلال نہیں ہو گا اور میرے لئے بھی دن کی ایک گھڑی کے لئے حلال ہوا تھا پھر یہ پہلے کی طرح ( قابل احترام ) ہو گیا ہے ۔ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں عرض کی گئی حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ قتل کر رہے ہیں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے فلاں تم اٹھو اور خالد بن ولید کے پاس جاؤ اور اسے یہ کہو کہ وہ قتل سے ہاتھ اٹھا لے وہ شخص ان کے پاس گیا اور بولا نبی اکرم ﷺ یہ فرما رہے ہیں تمہیں جس پر قابو ملتا ہے تم اسے قتل کر دو تو حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے ستر افراد قتل کر دیے پھر نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں ایک شخص حاضر ہوا اس نے آپ کے سامنے یہ صورت حال ذکر کی تو نبی اکرم ﷺ نے حضرت خالد رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیجا اور فرمایا : کیا میں نے تمہیں قتل کرنے سے منع نہیں کیا تھا ؟ انہوں نے عرض کی : میرے پاس فلاں شخص آیا اور اس نے مجھے یہ کہا کہ میں جس شخص پر قابو پاؤں اسے قتل کر دوں نبی اکرم ﷺ نے اس دوسرے شخص کو پیغام بھیج کر بلوایا اور فرمایا : کیا میں نے خالد کے لئے یہ حکم نہیں دیا تھا کہ وہ کسی کو قتل نہ کرے اس شخص نے کہا : آپ نے ایک چیز کا ارادہ کیا تھا اور اللہ تعالیٰ نے ایک چیز کا ارادہ کیا تھا تو اللہ تعالی کا حکم آپ کے حکم کے اوپر ہے میں اس کی استطاعت نہیں رکھ سکا میں صرف اس کی استطاعت رکھ سکا جو ہوا ‘ تو نبی اکرم ﷺ اس سے خاموش ہو گئے ، آپ نے اسے کوئی جواب نہیں دیا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے ایک حدیث ’’ صحیح ‘‘ میں منقول ہے ‘ جو اس روایت کے علاوہ ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے ‘ جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔

5697

Majma al-Zawaid #5697

وَعَنْ مُطِيعِ بْنِ الْأَسْوَدِ - وَكَانَ اسْمُهُ الْعَاصِي فَسَمَّاهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مُطِيعًا - قَالَ: «سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِينَ أَمَرَ بِقَتْلِ هَؤُلَاءِ الرَّهْطِ بِمَكَّةَ يَقُولُ: "" لَا تُغْزَى مَكَّةُ بَعْدَ هَذَا الْعَامِ أَبَدًا». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Muti' ibn al-Aswad رضي الله عنه, whose name was al-Asi and the Messenger of Allah ﷺ named him Muti', reports hearing the Messenger of Allah ﷺ when he commanded killing of those men at Makkah declare Makkah shall never be raided after this year. > **"Makkah shall never be raided after this year ever."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت مطیع بن اسود رضی اللہ عنہ جن کا نام پہلے عاصی تھا اور نبی اکرم ﷺ نے ان کا نام مطبع رکھا تھا وہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو سنا جب آپ نے مکہ میں ان لوگوں کو قتل کرنے کا حکم دیا تو آپ نے ارشاد فرمایا : اس سال کے بعد مکہ میں کبھی جنگ نہیں ہو گی ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

5698

Majma al-Zawaid #5698

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُبْشِيٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «مَنْ قَطَعَ سِدْرَةً صَوَّبَ اللَّهُ رَأْسَهُ فِي النَّارِ ""، - يَعْنِي مِنْ سِدْرِ الْحَرَمِ». قُلْتُ: رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ خَلَا قَوْلِهِ: مِنْ سِدْرِ الْحَرَمِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ. قُلْتُ: وَيَأْتِي بَابٌ فِيمَنْ قَطَعَ السِّدْرَ فِي الْبَيْعِ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Hubshi رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ warned against cutting the lote tree, with the narrator explaining the reference to be the lote of the Haram. > **"Whoever cuts a lote tree, Allah will plunge his head into the Fire."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن حبشی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ جو شخص بیری کے درخت کو کاٹے گا اللہ تعالٰی اس کے سر کو آگ میں ڈال دے گا “۔ رادی کہتے ہیں : یعنی حرم کے بیری کے درخت کو کاٹے گا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابوداؤد نے نقل کی ہے تا ہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں : ’’ یعنی حرم کے بیری کے درخت ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : آگے چل کر خرید و فروخت سے متعلق باب میں وہ روایت آئے گی جو اس شخص کے بارے میں ہے ‘ جو بیری کا درخت کاٹ دیتا ہے ۔

5699

Majma al-Zawaid #5699

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: «أَشْهَدُ بِاللَّهِ لَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" يُحِلُّهَا وَيَحُلُّ بِهِ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ ; لَوْ وُزِنَتْ ذُنُوبَهُ بِذُنُوبِ الثَّقَلَيْنِ لَوَزَنَتْهَا». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Amr رضي الله عنهما testifies by Allah that he heard the Messenger of Allah ﷺ declare that its sanctity shall be violated by a Qurayshi man whose sins would outweigh those of men and jinn. > **"It shall be made lawful, and a man of Quraysh shall violate it; were his sins weighed against the sins of the two heavy hosts they would outweigh them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں اللہ کو گواہ بنا کر یہ کہتا ہوں میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے ’’ اسے حلال کیا جائے گا اور قریش سے تعلق رکھنے والا ایک شخص اسے حلال کرے گا ( یعنی اس کی حرمت کو پامال کرے گا ) اگر اس شخص کے گناہوں کا وزن انسانوں اور جنات کے تمام گناہوں کے ساتھ کیا جائے گا تو یہ ان پر بھاری ہو گا ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

5700

Majma al-Zawaid #5700

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «يُلْحِدُ رَجُلٌ بِمَكَّةَ يُقَالُ لَهُ: عَبْدُ اللَّهِ عَلَيْهِ نِصْفُ عَذَابِ الْعَالَمِ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الصَّغَانِيُّ، وَثَّقَهُ صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَابْنُ سَعْدٍ، وَابْنُ حِبَّانَ، وَضَعَّفَهُ أَحْمَدُ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Amr رضي الله عنهما reports that the Messenger of Allah ﷺ foretold a man committing deviation in Makkah bearing that name, upon whom shall be half the punishment of the world. > **"A man shall commit ilhad in Makkah called Abdullah; upon him shall be half the punishment of the world."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ ایک شخص مکہ میں فساد کرے گا اس کا نام عبداللہ ہو گا اسے تمام جہان کے عذاب کا نصف ( عذاب ) ہو گا “۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن کثیر صنانی ہے ‘ جسے صالح بن محمد ‘ ابن سعد اور ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے اور امام احمد نے اسے ضعیف کہا ہے ۔

5701

Majma al-Zawaid #5701

وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: «أَتَى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ وَهُوَ جَالِسٌ فِي الْحِجْرِ، فَقَالَ: يَا ابْنَ الزُّبَيْرِ، إِيَّاكَ وَالْإِلْحَادَ فِي حَرَمِ اللَّهِ، فَإِنِّي أَشْهَدُ لَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" يُحِلُّهَا وَيَحُلُّ بِهِ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ ; لَوْ وُزِنَتْ ذُنُوبُهُ بِذُنُوبِ الثَّقَلَيْنِ لَوَزَنَتْهَا ""، قَالَ: فَانْظُرْ أَنْ لَا يَكُونَ هُوَ يَا ابْنَ عَمْرٍو ; فَإِنَّكَ قَدْ قَرَأْتَ الْكُتُبَ، وَصَحِبْتَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَإِنِّي أُشْهِدُكَ أَنَّ هَذَا وَجْهِي إِلَى الشَّامِ مُجَاهِدًا». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Sa'id ibn Amr reports that Abdullah ibn Amr رضي الله عنهما came to Abdullah ibn al-Zubayr رضي الله عنهما as he sat in the Hijr and warned him against deviation in Allah's sanctuary, citing what he had heard from the Prophet ﷺ. Ibn al-Zubayr replied that he should consider lest he himself be that man, given his reading of scriptures and companionship of the Prophet ﷺ, whereupon Ibn Amr declared his departure to Sham as a warrior. > **"It shall be made lawful, and a man of Quraysh shall violate it; were his sins weighed against the sins of the two heavy hosts they would outweigh them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سعید بن عمرو بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کے پاس آئے جو حطیم میں بیٹھے ہوئے تھے حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے کہا : اے ابن زبیر تم اللہ تعالیٰ کے حرم میں فساد ڈالنے سے بچو کیونکہ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے اس کی حرمت کو پامال کیا جائے گا اور قریش سے تعلق رکھنے والا ایک شخص اس کی حرمت کو پامال کرے گا اگر اس شخص کے گناہوں کو انسانوں اور جنات کے تمام گناہوں کے ساتھ وزان کیا جائے تو اس کا گناہ وزنی ہو گا تو حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے کہا : اے ابن عمرو تم اس بات کا جائزہ لو کہ کہیں وہ شخص تم نہ ہو کیونکہ تم نے کتابیں پڑھی ہوئی ہیں اور نبی اکرم ﷺ کے ساتھ رہے ہو ‘ تو حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے کہا میں تمہیں گواہ بنا کر یہ کہتا ہوں کہ میں جہاد کرنے کے لئے شام جانے لگا ہوں ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

5702

Majma al-Zawaid #5702

وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: أَتَى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ - رَحِمَهُ اللَّهُ - ابْنَ الزُّبَيْرِ رَحِمَهُ اللَّهُ فَقَالَ: يَا ابْنَ الزُّبَيْرِ، إِيَّاكَ وَالْإِلْحَادَ فِي حَرَمِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى ; فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «إِنَّهُ سَيُلْحِدُ فِيهِ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ ; لَوْ وُزِنَتْ ذُنُوبُهُ بِذُنُوبِ الثَّقَلَيْنِ لَرَحَجَتْ ""، قَالَ: انْظُرْ لَا تَكُنْهُ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Sa'id ibn Amr reports that Abdullah ibn Umar رضي الله عنهما came to Ibn al-Zubayr رضي الله عنه and warned him against ilhad in Allah's sanctuary, citing the Prophet ﷺ concerning a Qurayshi man whose sins would preponderate over those of men and jinn. Ibn al-Zubayr told him to consider lest he be that man. > **"There shall commit ilhad therein a man of Quraysh; were his sins weighed against the sins of the two heavy hosts they would preponderate."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سعید بن عمرو بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کے پاس آئے اور بولے اے ابن زبیر تم اللہ تعالیٰ کے حرم میں قتل و غارت گری سے بچو کیونکہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے ’’ عنقریب قریش سے تعلق رکھنے والا ایک شخص اس میں قتل و غارت گری کرے گا اگر اس کے گناہوں کا وزن انسانوں اور جنات کے تمام گناہوں سے کیا جائے تو اس کا پلڑا بھاری ہو گا ‘‘ تو حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے کہا آپ اس بات کا جائزہ لیں کہ آپ وہ نہ ہوں ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

5703

Majma al-Zawaid #5703

وَعَنِ ابْنِ أَبْزَى «عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ قَالَ: قَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ حِينَ حُصِرَ: إِنَّ عِنْدِي نَجَائِبَ قَدْ أَعْدَدْتُهَا لَكَ، فَهَلْ لَكَ أَنْ تَحَوَّلَ إِلَى مَكَّةَ فَيَأْتِيَكَ مَنْ أَرَادَ أَنْ يَأْتِيَكَ؟ قَالَ: لَا، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" يُلْحِدُ بِمَكَّةَ كَبْشٌ مِنْ قُرَيْشٍ اسْمُهُ عَبْدُ اللَّهِ ; عَلَيْهِ مِثْلُ نِصْفِ أَوْزَارِ النَّاسِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ، وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ أَيْضًا. قُلْتُ: وَتَأْتِي نَحْوُ هَذِهِ الْأَحَادِيثِ فِي الْفِتَنِ - إِنْ شَاءَ اللَّهُ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abza reports that when Uthman رضي الله عنه was besieged, Abdullah ibn al-Zubayr رضي الله عنهما offered prepared mounts to移 move to Makkah where supporters could join him. Uthman declined, citing the Prophet ﷺ concerning a ram-like leader of Quraysh named Abdullah committing ilhad in Makkah, bearing half the burdens of mankind. > **"A ram of Quraysh shall commit ilhad in Makkah named Abdullah; upon him shall be the like of half the sins of mankind."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابن ابزی حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے انہیں اس وقت یہ کہا کہ جب انہیں محصور کر دیا گیا تھا کہ میرے پاس عمدہ اونٹنیاں ہیں جنہیں میں نے آپ کے لئے تیار کیا ہے کیا آپ اس بات میں دلچسپی رکھتے ہیں کہ آپ مکہ منتقل ہو جائیں جو شخص آپ کے پاس آنا چاہے گا وہ آپ کے پاس آ جائے گا تو حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے فرمایا جی نہیں ! میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے ’’ قریش کا ایک مینڈھا مکہ میں قتل و غارت گری کرے گا اس کا نام عبداللہ ہو گا اسے تمام لوگوں کے گناہوں کا نصف گناہ ہو گا ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں یہ روایت امام بزار نے بھی نقل کی ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس نوعیت کی دیگر احادیث فتنوں سے متعلق باب میں آگے آئیں گی اگر اللہ نے چاہا ۔

5704

Majma al-Zawaid #5704

وَعَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَتْ: لَقَدْ رَأَيْتُ قَائِدَ الْفِيلِ وَسَائِسَهُ أَعْمَيَيْنِ مُقْعَدَيْنِ يَسْتَطْعِمَانِ بِمَكَّةَ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Aishah رضي الله عنها, wife of the Prophet ﷺ, states that she saw the guide of the elephant and its driver blinded, crippled, and begging for food in Makkah.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہما ‘ جو نبی اکرم ﷺ کی زوجہ محترمہ ہیں ‘ وہ بیان کرتی ہیں : میں نے ہاتھی کو لے کر چلنے والے اور اس کے سائیس کو دیکھا وہ دونوں اندھے ہو چکے تھے اور اپاہچ تھے اور مکہ میں کھانا مانگتے تھے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

5705

Majma al-Zawaid #5705

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «إِنَّ الشَّيْطَانَ قَدْ أَيِسَ أَنْ يُعْبَدَ بِأَرْضِكُمْ هَذِهِ وَلَكِنْ قَدْ رَضِيَ [مِنْكُمْ] بِمَا تُحَقِّرُونَ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ. قُلْتُ: وَتَأْتِي أَحَادِيثُ فِي فَضْلِ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ وَغَيْرِهَا فِي الْمَنَاقِبِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah رضي الله عنه reports from the Prophet ﷺ that the Devil has despaired of being worshipped in this land yet contents himself with deeds people deem insignificant. > **"Verily Shaytan has despaired of being worshipped in this land of yours, but he is content with what you deem insignificant."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ بے شک شیطان اس بات سے مایوس ہو چکا ہے کہ تمہاری سرزمین پر اس کی عبادت کی جائے لیکن وہ تمہاری طرف سے اس چیز سے بھی راضی ہو جائے گا جسے تم حقیر سمجھتے ہو گے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : جزیرہ عرب کی فضیلت اور دیگر امور سے متعلق احادیث ‘ مناقب سے متعلق باب میں آگے آئیں گی اگر اللہ نے چاہا ۔

5706

Majma al-Zawaid #5706

عَنْ أَبِي مَحْذُورَةَ قَالَ: «جَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْأَذَانَ لَنَا وَلِمَوَالِينَا، وَالسِّقَايَةَ لِبَنِي هَاشِمٍ، وَالْحِجَابَةَ لِبَنِي عَبْدِ الدَّارِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ، وَفِيهِ هُذَيْلُ بْنُ بِلَالٍ الْأَشْعَرِيُّ، وَثَّقَهُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ، وَضَعَّفَهُ النَّسَائِيُّ وَغَيْرُهُ.

EnglishUnverified translation

Abu Mahdhurah رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ assigned the adhan to him and his freedmen, the siqayah to Banu Hashim, and the hijabah to Banu Abd al-Dar.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابومحذورہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے اذان کا منصب ہمیں اور ہمارے موالی کو دیا تھا سقایہ کا منصب بنو ہاشم کو دیا تھا اور حجابہ کا منصب بنوعبددار کو دیا تھا ۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ہذیل بن بلال اشعری ہے ‘ جسے امام احمد اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے امام نسائی اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا ہے ۔

5707

Majma al-Zawaid #5707

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «خُذُوهَا يَا بَنِي طَلْحَةَ خَالِدَةً تَالِدَةً ; لَا يَنْزِعُهَا مِنْكُمْ إِلَّا ظَالِمٌ ""، يَعْنِي حِجَابَةَ الْكَعْبَةِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُؤَمَّلِ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَقَالَ: يُخْطِئُ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ فِي رِوَايَةٍ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما reports that the Messenger of Allah ﷺ granted the custodianship of the Kaaba to Banu Talhah as an everlasting inheritance to be taken only by a wrongdoer. > **"Take it, O Banu Talhah, eternally inherited; none shall take it from you except a wrongdoer."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ اے بنوطلحہ ! تم اسے حاصل کر لو یہ ہمیشہ اور یکے بعد دیگرے ( تم لوگوں کے پاس رہے گی ) تم سے کوئی ظالم ہی اسے الگ کرے گا ‘‘۔ راوی کہتے ہیں : اس سے مراد کعبہ کی حجابہ ( یعنی کلید برداری ) کا منصب ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن مومل ہے ‘ جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے وہ کہتے ہیں : یہ غلطی کر جاتا ہے ایک روایت کے مطابق یحیی بن معین نے اسے ثقہ کہا ہے اور ایک جماعت نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔

5708

Majma al-Zawaid #5708

وَعَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ قَالَ: «خَاصَمَ عَلِيٌّ الْعَبَّاسَ فِي السِّقَايَةِ فَشَهِدَ طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ وَعَامِرُ بْنُ مَخْرَمَةَ بْنِ نَوْفَلٍ وَأَزْهَرُ بْنُ عَبْدِ عَوْفٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دَفَعَهَا إِلَى الْعَبَّاسِ يَوْمَ الْفَتْحِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ الْوَاقِدِيُّ، وَفِيهِ كَلَامٌ كَثِيرٌ، وَقَدْ وُثِّقَ.

EnglishUnverified translation

Abu al-Tufayl reports that when Ali رضي الله عنه disputed with al-Abbas رضي الله عنه over the siqayah, Talhah ibn Ubaydillah, Amir ibn Makhramah ibn Nawfal, and Azhar ibn Abd Awf رضي الله عنهم testified that the Prophet ﷺ had entrusted it to al-Abbas on the day of the conquest.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوطفیل بیان کرتے ہیں : حضرت علی رضی اللہ عنہ کا سقایہ کے بارے میں حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے ساتھ جھگڑا ہو گیا تو حضرت طلحہ بن عبیداللہ ‘ حضرت عامر بن مخرمہ بن نوفل اور حضرت ازہر بن عبدعوف رضی اللہ عنہ نے اس بات کی گواہی دی کہ نبی اکرم ﷺ نے مکہ کے دن یہ منصب حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے حوالے کیا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی واقدی ہے ‘ جس کے بارے میں بہت زیادہ کلام کیا گیا ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔

5709

Majma al-Zawaid #5709

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَرِيرٍ قَالَ: «قَالَ عَلِيٌّ لِلْعَبَّاسِ: قُلْ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُعْطِيكَ الْخِزَانَةَ، فَسَأَلَهُ الْعَبَّاسُ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" أُعْطِيكُمْ مَا هُوَ خَيْرٌ لَكُمْ مِنْ ذَلِكَ، مَا تَرْزَؤُكُمْ وَلَا تَرْزَءُونَهَا ""، فَأَعْطَاهُمُ السِّقَايَةَ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَهُوَ مُرْسَلٌ ; عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَرِيرٍ لَمْ يُدْرِكِ الْقِصَّةَ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Zarir reports that Ali رضي الله عنه told al-Abbas رضي الله عنه to ask the Prophet ﷺ for the treasury custodianship. When al-Abbas asked, the Prophet ﷺ promised what was better for them, neither diminishing them nor diminished by them, and granted the siqayah. > **"I shall give you what is better for you than that, which neither diminishes you nor is diminished by you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبداللہ بن زریر بیان کرتے ہیں : حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت عباس رضی اللہ عنہ سے کہا آپ نبی اکرم ﷺ سے یہ کہیں کہ وہ آپ کو خزانہ عطا کر دیں حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم ﷺ سے یہ درخواست کی ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کہ میں آپ کو وہ چیز دوں گا جو آپ لوگوں کے حق میں اس سے زیادہ بہتر ہو گی ‘ نہ وہ آپ میں کوئی کمی کرے گی اور نہ آپ اس کو کم سمجھیں گے ‘ پھر نبی اکرم ﷺ نے انہیں ” سقایہ ‘‘ کا منصب دے دیا ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے یہ روایت ’’ مرسل ‘‘ ہے عبداللہ بن زریر نامی راوی نے اس واقعہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔

5710

Majma al-Zawaid #5710

وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَزِينٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: «قُلْتُ لِلْعَبَّاسِ: سَلْ لَنَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْحِجَابَةَ، فَسَأَلَهُ فَقَالَ: "" أُعْطِيكُمُ السِّقَايَةَ تَرْزَؤُكُمْ وَلَا تَرْزَءُونَهَا ""، وَقُلْتُ لِلْعَبَّاسِ: سَلْ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَسْتَعْمِلُكَ عَلَى الصَّدَقَاتِ، فَقَالَ: "" مَا كُنْتُ لِأَسْتَعْمِلَكَ عَلَى غُسَالَةِ ذُنُوبِ النَّاسِ». وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Abi Razin reports from his father from Ali رضي الله عنه that he asked al-Abbas to request the hijabah from the Messenger of Allah ﷺ, who instead granted the siqayah with its undiminished benefit. When Ali further asked that al-Abbas be employed over the charities, the Prophet ﷺ refused on account of their nature. > **"I shall give you the siqayah, which diminishes you not nor is diminished by you."** > **"I would never employ you over the washings of the sins of the people."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

یہ روایت امام بزار نے عبداللہ بن ابورزین کے حوالے سے ان کے والد کے حوالے سے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے وہ بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت عباس رضی اللہ عنہ سے کہا آپ اللہ کے رسول سے درخواست کریں کہ ہمیں حجابہ عطا کر دیں حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے آپ سے یہ درخواست کی ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : میں تمہیں سقایہ کا منصب دوں گا ‘ ( نہ ) وہ تم میں کوئی کمی کرے گی اور نہ تم اس کو کم سمجھو گے ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نے حضرت عباس رضی اللہ عنہ سے کہا آپ نبی اکرم ﷺ سے یہ درخواست کریں کہ وہ آپ کو صدقات وصول کرنے کا عامل مقرر کریں تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : میں لوگوں کے گناہوں کے دھون کے لئے آپ کو عامل مقرر نہیں کروں گا ۔ اس روایت کے رجال ثقہ ہیں ۔

5711

Majma al-Zawaid #5711

عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «زَمْزَمُ طَعَامُ طُعْمٍ وَشِفَاءُ سُقْمٍ» "". قُلْتُ: فِي الصَّحِيحِ مِنْهُ: "" طَعَامُ طُعْمٍ "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ، وَرِجَالُ الْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abu Dharr رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ described Zamzam as sustenance and healing. > **"Zamzam is the food of hunger and the cure of sickness."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ زمزم کھانے کی جگہ ہے اور بیمار کے لئے شفاء ہے ‘‘۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :’’ صحیح ‘‘ میں اس کا یہ حصہ منقول ہے ’’ کھانے کی جگہ ( کفایت کرنے والی چیز ) ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے امام بزار کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

5712

Majma al-Zawaid #5712

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «خَيْرُ مَاءٍ عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ مَاءُ زَمْزَمَ فِيهِ طَعَامُ [مِنَ] الطُّعْمِ، وَشِفَاءُ السُّقْمِ، وَشَرُّ مَاءٍ عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ مَاءٌ بِوَادِي بَرْهُوتَ بَقِيَّةٌ بِحَضَرَمَوْتَ كَرِجْلِ الْجَرَادِ مِنَ الْهَوَامِّ تُصْبِحُ تَتَدَفَّقُ، وَتُمْسِي لَا بِلَالَ فِيهَا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ، وَصَحَّحَهُ ابْنُ حِبَّانَ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما reports that the Messenger of Allah ﷺ declared Zamzam the best water on earth, containing nourishment and cure, and the water of the valley of Barhut in Hadramawt the worst, like the legs of locusts among vermin, flowing in the morning and waterless by evening. > **"The best water upon the face of the earth is the water of Zamzam; therein is food of hunger and cure of sickness. And the worst water upon the face of the earth is water in the valley of Barhut in Hadramawt, like the leg of the locust among vermin; in the morning it flows forth, and in the evening there is no moisture therein."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ روئے زمین پر موجود سب سے بہتر پانی آب زمزم ہے ، جس میں کھانے کی جگہ کفایت کرنے کی صلاحیت ہے اور بیمار کے لئے شفاء ہے اور روئے زمین پر سب سے برا پانی اس وادی کا پانی ہے ، جس کا نام برہوت ہے ‘ جو حضرموت میں ہے وہ کیڑوں میں سے ٹڈی کے پاؤں کی طرح کی جگہ ہے صبح کے وقت وہاں پانی ہوتا ہے اور شام کے وقت ذرا سی تری بھی نہیں ہوتی ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ابن حبان نے اسے صحیح قرار دیا ہے ۔

5713

Majma al-Zawaid #5713

وَعَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: سَمِعْتُهُ يَقُولُ: كُنَّا نُسَمِّيهَا شُبَاعَةَ - يَعْنِي زَمْزَمَ - وَكُنَّا نَجِدُهَا نِعْمَ الْعَوْنِ عَلَى الْعِيَالِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abu al-Tufayl reports he heard Ibn Abbas رضي الله عنهما say they used to call Zamzam Shubaah, finding it an excellent aid for dependents.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوطفیل نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ بات نقل کی ہے میں نے انہیں یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : ہم اسے یعنی آب زمزم کو شباعہ ( سیر کر دینے والی چیز ) کا نام دیتے تھے اور ہم اسے پاتے تھے کہ وہ عیال کے لئے بہترین مدد ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

5714

Majma al-Zawaid #5714

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «ابْنُ السَّبِيلِ أَوَّلُ شَارِبٍ ""، يَعْنِي مِنْ زَمْزَمَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ declared the wayfarer the first drinker, meaning of Zamzam. > **"The wayfarer is the first drinker."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ مسافر شخص سب سے پہلے پینے والا ہو گا ‘‘۔ رادی کہتے ہیں : یعنی آب زمزم کو ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

5715

Majma al-Zawaid #5715

وَعَنِ السَّائِبِ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: «اشْرَبُوا مِنْ سِقَايَةِ الْعَبَّاسِ ; فَإِنَّهُ مِنَ السُّنَّةِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Sa'ib used to say to drink from the siqayah of al-Abbas رضي الله عنه, for it is from the Sunnah.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سائب کے بارے میں یہ بات منقول ہے وہ یہ فرماتے تھے کہ حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے سقایہ سے پیؤ کیونکہ یہ سنت ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ‘ جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے اس کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

5716

Majma al-Zawaid #5716

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - اسْتَهْدَى سُهَيْلَ بْنَ عَمْرٍو مِنْ مَاءِ زَمْزَمَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُؤَمَّلِ الْمَخْزُومِيُّ، وَثَّقَهُ ابْنُ سَعْدٍ وَابْنُ حِبَّانَ، وَقَالَ: يُخْطِئُ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما reports that the Prophet ﷺ requested Zamzam water as a gift from Suhayl ibn Amr.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے سہیل بن عمرو سے آب زمزم طلب کیا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن مومل مخزومی ہے ‘ جسے ابن سعد اور ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ۔ قرار دیا ہے وہ فرماتے ہیں : یہ غلطی کر جاتا ہے ایک جماعت نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔

5717

Majma al-Zawaid #5717

وَعَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ قَالَ: «رَأَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَاءَ إِلَى زَمْزَمَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُؤَمَّلِ الْمَخْزُومِيُّ ; وَثَّقَهُ ابْنُ سَعْدٍ وَابْنُ حِبَّانَ، وَقَالَ: يُخْطِئُ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ.

EnglishUnverified translation

Abu al-Tufayl رضي الله عنه reports that he saw the Prophet ﷺ come to Zamzam.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوطفیل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا آپ آب زمزم کے پاس تشریف لائے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن مومل مخزومی ہے ‘ جسے ابن سعد اور ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے وہ فرماتے ہیں : یہ غلطی کر جاتا ہے اور ایک جماعت نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔

5718

Majma al-Zawaid #5718

وَعَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ قَالَ: «سَأَلْتُ عَطَاءً: أَحْمِلُ مَاءَ زَمْزَمَ؟ فَقَالَ: قَدْ حَمَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَحَمَلَهُ الْحَسَنُ وَحَمَلَهُ الْحُسَيْنُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Habib ibn Abi Thabit reports that he asked Ata whether he might carry Zamzam water, and Ata replied that the Messenger of Allah ﷺ had carried it, as had al-Hasan and al-Husayn رضي الله عنهما.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حبیب بن ابوثابت بیان کرتے ہیں : میں نے عطاء سے دریافت کیا : کیا میں آب زمزم اٹھا کے ساتھ لے جاؤں ؟ انہوں نے جواب دیا اللہ کے رسول بھی اسے اٹھا کے ساتھ لے کر گئے تھے حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ بھی اسے اٹھا کے ساتھ لے کر گئے تھے حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ بھی اٹھا کے اسے ساتھ لے کر گئے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ‘ جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

5719

Majma al-Zawaid #5719

وَعَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ قَالَ: «رَأَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَاءَ إِلَى زَمْزَمَ فَقَالَ: "" انْزِعُوا وَاسْقُوا ; فَلَوْلَا أَنِّي أَخَافُ أَنْ تُغْلَبُوا عَلَيْهَا لَنَزَعْتُ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ مِهْزَمٍ الشَّعَّابُ، بَصْرِيٌّ وَرَوَى عَنْهُ أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ وَعَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ وَغَيْرُهُمَا، وَيُقَالُ لَهُ: الزَّمَامُ، ذَكَرَهُ ابْنُ مَاكُولَا عَنْ خَطِّ الصُّورِيِّ فِي مِهْزَمٍ - بِكَسْرِ الْمِيمِ وَفَتْحِ الزَّايِ وَتَخْفِيفِهَا - وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَأَبُو حَاتِمٍ.

EnglishUnverified translation

Abu al-Tufayl رضي الله عنه reports that he saw the Prophet ﷺ come to Zamzam and command drawing and serving water, declaring he would himself draw were it not feared they would be overpowered over it. > **"Draw and give drink; were it not that I fear you would be overpowered over it, I would draw."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوطفیل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا آپ آب زمزم کے پاس تشریف لائے آپ نے ارشاد فرمایا : تم لوگ پانی نکالو اور پلاؤ اگر مجھے یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ اس کے حوالے سے تم مغلوب ہو جاؤ گے ( یعنی ہجوم زیادہ ہو جائے گا ) تو میں بھی نکالتا ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن مہزم شعاب بصری ہے ‘ جس کے حوالے سے ابوداؤد طیالسی اور عبدالصمد بن عبدالوارث اور دیگر حضرات نے روایات نقل کی ہیں اسے زمام بھی کہا گیا ہے ابن ماکولا نے اس کا ذکر لفظ مہزم کی شکل میں کیا ہے ‘ جس میں ’’ م ‘‘ پزیر ہے ’’ ز ‘‘ پر زبر ہے اور اس پر تخفیف ہے یحیی بن معین اور امام ابوحاتم نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔

5720

Majma al-Zawaid #5720

وَعَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَتَى زَمْزَمَ فَقَالَ: "" انْزِعُوا وَلَوْلَا أَنْ تُغْلَبُوا عَلَيْهَا لَنَزَعْتُ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ وَاقِدٍ قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: يَتَكَلَّمُونَ فِيهِ، قَالَ: وَرَأَيْتُ فِيمَا حَدَّثَ أَحَادِيثَ مَنَاكِيرَ.

EnglishUnverified translation

Uthman ibn Affan رضي الله عنه reports that the Prophet ﷺ came to Zamzam and commanded drawing water, declaring he would draw were it not feared they would be overpowered over it. > **"Draw; were it not that you would be overpowered over it, I would draw."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ زمزم کے پاس تشریف لائے آپ نے فرمایا : تم پانی نکالو اگر اس بات کا اندیشہ نہ ہوتا کہ تم اس کے حوالے سے مغلوب ہو جاؤ گے ( یعنی ہجوم زیادہ ہو جائے گا ) تو میں بھی پانی نکالتا ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی سعید بن عبدالملک بن واقد ہے ابوحاتم کہتے ہیں : محدثین نے اس کے بارے میں کلام کیا ہے وہ فرماتے ہیں : میں نے دیکھا ہے کہ اس نے جو احادیث روایت کی ہیں ان میں منکر روایات ہیں ۔

5721

Majma al-Zawaid #5721

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «كَانَ أَبُو طَالِبٍ يُعَالِجُ زَمْزَمَ، فَكَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَنْقُلُ الْحِجَارَةَ وَهُوَ غُلَامٌ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ النَّضْرُ أَبُو عُمَرَ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما reports that Abu Talib was repairing Zamzam while the Prophet ﷺ as a youth carried stones.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جناب ابوطالب زمزم ( کے کنویں کو ) ٹھیک کر رہے تھے اور نبی اکرم ﷺ پتھر منتقل کر رہے تھے آپ ان دنوں نوجوان تھے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی نضر ابوعمر ہے اور وہ متروک ہے ۔

5722

Majma al-Zawaid #5722

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَطَبَ وَظَهْرُهُ إِلَى الْمُلْتَزَمِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُؤَمَّلِ، وَفِيهِ كَلَامٌ، وَقَدْ وُثِّقَ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما reports that the Prophet ﷺ delivered a sermon with his back toward al-Multazam.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے خطبہ دیا آپ کی پشت ملتزم کی طرف تھی ۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن مومل ہے اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔

5723

Majma al-Zawaid #5723

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «دَعَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي صَاعِنَا وَمُدِّنَا، وَبَارِكْ لَنَا فِي مَكَّتِنَا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ يَأْتِي فِي فَضْلِ الْمَدِينَةِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ، وَفِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَيْسَانَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما reports that the Messenger of Allah ﷺ supplicated for blessing in the sa', the mudd, and in Makkah. > **"O Allah, bless for us in our sa' and our mudd, and bless for us in our Makkah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے دعا کرتے ہوئے یہ کہا : ’’ اے اللہ ! ہمارے لئے ہمارے صاع اور ہمارے مد میں برکت رکھ دے اور ہمارے لئے ہمارے مکہ میں برکت رکھ دے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں ایک طویل حدیث میں نقل کی ہے ‘ جو آگے چل کر مدینہ منورہ کی فضیلت سے متعلق باب میں آئے گی اگر اللہ نے چاہا اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن عبداللہ بن کیسان ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

5724

Majma al-Zawaid #5724

عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «لَمَّا أَهْبَطَ اللَّهُ آدَمَ إِلَى الْأَرْضِ بَكَى عَلَى الْجَنَّةِ مِائَةَ خَرِيفٍ، ثُمَّ نَظَرَ إِلَى سِعَةِ الْأَرْضِ، فَقَالَ: أَيْ رَبِّ أَمَا لِأَرْضِكَ عَامِرٌ يَسْكُنُهَا غَيْرِي؟ فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ أَنْ بَلَى فَإِنَّهَا سَتُرْفَعُ بُيُوتٌ يُذَكَرُ فِيهَا اسْمِي وَسَأُبَوِّئُكَ مِنْهَا بَيْتًا أَخْتَصُّهُ بِكَرَامَتِي، وَأُحْلِلْهُ عَظَمَتِي وَأُسَمِّيهِ بَيْتِي، وَأُنْطِقُهُ بِعَظَمَتِي، وَلَسْتُ أَسْكُنُهُ وَلَيْسَ يَنْبَغِي لِي أَنْ أَسْكُنَ الْبُيُوتَ وَلَا يَسَعُنِي، وَلَكِنْ عَلَى عَرْشِي وَكُرْسِيِّ عَظَمَتِي وَلَيْسَ يَنْبَغِي لِشَيْءٍ مِمَّا خَلَقْتُ أَنْ يَخْرُجَ مِنْ قَبْضَتِي وَلَا مِنْ قُدْرَتِي وَتُعَمِّرُهُ يَا آدَمُ مَا كُنْتَ حَيًّا ثُمَّ تُعَمِّرُهُ الْقُرُونُ مِنْ بَعْدِكَ أُمَّةً بَعْدَ أُمَّةٍ قَرْنًا بَعْدَ قَرْنٍ حَتَّى يَنْتَهِيَ إِلَى وَلَدٍ مِنْ أَوْلَادِكَ يُقَالُ لَهُ: إِبْرَاهِيمُ أَجْعَلُهُ مِنْ عُمَّارِهِ وَسُكَّانِهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَمْرٍو الْبَجَلِيُّ وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ وَكِلَاهُمَا فِيهِ كَلَامٌ وَقَدْ وُثِّقَا، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Mu'adh ibn Jabal رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ described how when Allah sent Adam down to earth he wept over Paradise a hundred autumns, then marvelled at the earth's expanse and asked whether any other would inhabit it. Allah revealed that houses wherein His name is remembered shall be raised, and that He would settle Adam in a House singled out with His honor and might, named His House, though He dwells not in houses nor is contained, being upon His Throne and Kursi, with nothing escaping His grasp and power. Adam was commanded to inhabit it in his life, then generations after him, nation after nation, until a descendant named Ibrahim would be made among its builders and dwellers. > **"Yea, there shall be raised houses wherein My name is remembered, and I shall settle you in a House thereof which I single out with My honor, invest with My might, name My House, and endow with My greatness. I dwell not therein, nor does it befit Me to dwell in houses nor to be contained, but I am upon My Throne and the Kursi of My greatness, and nothing of what I created may escape My grasp nor My power. Inhabit it, O Adam, as long as you live, then generations after you shall inhabit it, nation after nation, age after age, until it reaches a son of your sons called Ibrahim, whom I shall make among its builders and dwellers."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو زمین کی طرف نازل کیا ‘ تو وہ ایک سو سال تک جنت کے حوالے سے روتے رہے پھر انہوں نے زمین کی وسعت کی طرف دیکھا اور بولے اے میرے پروردگار کیا تیری زمین کو آباد کرنے والا میرے علاوہ اور کوئی نہیں ہے ‘ تو اللہ تعالی نے ان کی طرف وحی کی جی ہاں ! عنقریب گھر بنائے جائیں گے جن میں میرے نام کا ذکر ہو گا اور میں ان میں سے ایک گھر میں تمہیں ٹھہراؤں گا جسے میں نے اپنی عزت افزائی کے حوالے سے مخصوص کیا ہے میں نے اپنی عظمت اسے عطا کی ہے اور اسے اپنے گھر کا نام دیا ہے اور میں نے اسے اپنی عظمت سے نوازا ہے ‘ میں اس میں نہیں رہتا ہوں اور یہ چیز میرے لائق بھی نہیں ہے کہ میں گھروں میں رہوں اور نہ ہی یہ میری شان کے لائق ہے میں تو اپنے عرش اور اپنی کرسی پر ہوں میں نے جو چیز پیدا کی ہے اس میں سے کسی چیز کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ میرے قبضے سے نکل جائے یا میری قدرت سے نکل جائے اے آدم جب تک تم زندہ رہو گے تم اسے آباد کرو گے پھر تمہارے بعد ایک امت کے بعد دوسری امت مختلف زمانوں تک اسے آباد کرتی رہے گی یہاں تک کہ تمہاری اولاد میں سے ایک شخص تک بات پہنچے گی جس کا نام ابراہیم ہو گا میں اسے اس کو آباد کرنے والا اور اس کا رہائشی بناؤں گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن عمرو بجلی اور ایک راوی اسماعیل بن عیاش ہے ان دونوں کے بارے میں کلام کیا گیا ہے اور ان دونوں کی توثیق بھی کی گئی ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

5725

Majma al-Zawaid #5725

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: «لَمَّا أَهْبَطَ اللَّهُ آدَمَ مِنَ الْجَنَّةِ قَالَ: إِنِّي مُهْبِطٌ مَعَكَ بَيْتًا - أَوْ مَنْزِلًا - يُطَافُ حَوْلَهُ كَمَا يُطَافُ حَوْلَ عَرْشِي وَيُصَلَّى عِنْدَهُ كَمَا يُصَلَّى حَوْلَ عَرْشِي، فَلَمَّا كَانَ زَمَنُ الطُّوفَانِ رُفِعَ وَكَانَ الْأَنْبِيَاءُ يَحُجُّونَهُ، وَلَا يَعْلَمُونَ مَكَانَهُ، فَبَوَّأَهُ لِإِبْرَاهِيمَ، فَبَنَاهُ مِنْ خَمْسَةِ أَجْبُلٍ: حِرَاءَ وَثُبَيْرٍ وَلُبْنَانَ وَجَبَلِ الطُّورِ وَجَبَلِ الْخَيْرِ ; فَتَمَتَّعُوا مِنْهُ مَا اسْتَطَعْتُمْ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ مَوْقُوفًا، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Amr رضي الله عنهما reports that when Allah sent Adam down from Paradise He declared He was sending down with him a House to be circumambulated as His Throne is circumambulated and prayed at as around His Throne. At the Flood it was raised; the prophets performed its pilgrimage without knowing its place, until it was shown to Ibrahim عليه السلام, who built it from five mountains — Hira, Thubayr, Lubnan, Mount Tur, and Mount al-Khayr — and people were urged to benefit from it as much as they could.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب اللہ تعالٰی نے حضرت آدم علیہ السلام کو جنت سے نازل کیا ‘ تو فرمایا : میں تمہارے ساتھ ایک گھر ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) ایک ٹھکانہ نازل کر رہا ہوں جس کے ارد گرد طواف کیا جائے گا جس طرح میرے عرش کے اردگرد طواف کیا جاتا ہے اور اس کے پاس نماز ادا کی جائے گی جس طرح میرے عرش کے اردگرد نماز ادا کی جاتی ہے پھر جب طوفان کا زمانہ آیا تو اسے اٹھا لیا گیا انبیاء کرام اس کا حج کرتے رہے لیکن انہیں اس کی جگہ کا پتہ نہیں تھا پھر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اسے تعمیر کیا انہوں نے پانچ پہاڑوں سے ( پتھر حاصل کر کے ) اسے تعمیر کیا ( وہ پہاڑ ) یہ ہیں حراء ‘ ثبیر ‘ لبنان ، جبل طور اور جبل خیر ( حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے فرمایا ) تم سے جہاں تک ہو سکے اس گھر سے نفع حاصل کرو ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں ” موقوف ‘‘ روایت کے طور پر نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

5726

Majma al-Zawaid #5726

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍ [و] قَالَ: «لَمَّا أَهْبَطَ اللَّهُ آدَمَ بِأَرْضِ الْهِنْدِ وَمَعَهُ غَرْسٌ مِنْ غَرْسِ الْجَنَّةِ فَغَرَسَ بِهَا، وَكَانَ رَأْسُهُ بِالسَّمَاءِ وَرِجْلَاهُ بِالْأَرْضِ، وَكَانَ يَسْمَعُ كَلَامَ الْمَلَائِكَةِ، فَكَانَ ذَلِكَ يُهَوِّنُ عَلَيْهِ وَحْدَتَهُ، فَغَمَرَ غَمْرَةَ فَتَطَأْطَأَ إِلَى سَبْعِينَ ذِرَاعًا، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: إِنِّي مُنْزِلٌ عَلَيْكَ بَيْتًا يُطَافُ حَوْلَهُ كَمَا تَطُوفُ حَوْلَ عَرْشِي الْمَلَائِكَةُ، وَيُصَلَّى عِنْدَهُ كَمَا تُصَلِّي الْمَلَائِكَةُ حَوْلَ عَرْشِي، فَأَقْبَلَ نَحْوَ الْبَيْتِ فَكَانَ مَوْضِعَ كُلِّ قَدَمٍ قَرْيَةٌ، وَمَا بَيْنَ قَدَمَيْهِ مَفَازَةٌ، حَتَّى قَدِمَ مَكَّةَ، فَدَخَلَ مِنْ بَابِ الصَّفَا، فَطَافَ بِالْبَيْتِ وَصَلَّى عِنْدَهُ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الشَّامِ فَمَاتَ بِهَا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ النَّهَّاسُ بْنُ قَهْمٍ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Amr رضي الله عنهما reports that when Allah sent Adam down in the land of India he had seedlings from Paradise which he planted. His head reached the sky and his feet the earth, and he heard the speech of angels, which lightened his solitude. After a constriction he was lowered to seventy cubits, and Allah revealed He would send down a House to be circumambulated as angels circumambulate His Throne and prayed at as angels pray around His Throne. He set out toward the House with each footstep spanning a village and the distance between his feet a wilderness, until he reached Makkah, entered by the gate of al-Safa, circumambulated and prayed, then departed to Sham where he died.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو ہند کی سرزمین پر اتارا تو ان کے ہمراہ جنت کے پودے بھی تھے ۔ انہوں نے وہاں وہ پودے لگائے ان کا سر آسمان میں تھا اور پاؤں زمین میں تھے وہ فرشتوں کا کلام سنا کرتے تھے اکیلے ہونا ان کو گراں گزرتا تھا ، انہیں بے چینی محسوس ہوتی ‘ ان کا قد ستر گز تھا ‘ تو اللہ تعالیٰ نے یہ چیز نازل کی کہ میں تم پر ایک گھر کو نازل کروں گا جس کے ارد گرد طواف کیا جائے گا جس طرح فرشتے میرے عرش کے اردگرد طواف کرتے ہیں اور اس کے پاس نماز ادا کی جائے گی جس طرح فرشتے میرے عرش کے ارد گرد نماز ادا کرتے ہیں تو حضرت آدم علیہ السلام بیت اللہ کی طرف روانہ ہوئے ان کا ایک قدم اتنی دور پڑتا تھا جتنی بستی ہوتی ہے اور ان کے دو قدموں کے درمیان ویرانہ عبور ہو جاتا تھا یہاں تک کہ وہ مکہ آ گئے وہ صفا کے دروازے کی طرف سے داخل ہوئے ۔ انہوں نے بیت اللہ کا طواف کیا اس کے پاس نماز ادا کی پھر وہ وہاں سے شام تشریف لے گئے اور وہیں ان کا انتقال ہوا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی نہاس بن قہم ہے اور وہ متروک ہے ۔

5727

Majma al-Zawaid #5727

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ: «وُضِعَ الْبَيْتُ قَبْلَ الْأَرْضِ بِأَلْفَيْ سَنَةٍ فَكَانَ الْبَيْتُ رُبْدَةً بَيْضَاءَ حَتَّى كَانَ الْعَرْشُ عَلَى الْمَاءِ، وَكَانَتِ الْأَرْضُ تَحْتَهُ كَأَنَّهَا حَسْفَةٌ فَدُحِيَتْ مِنْهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Amr ibn al-As رضي الله عنهما reports that the House was placed two thousand years before the earth, being a white eminence while the Throne was upon the water, with the earth beneath it as a thin scum spread out from it.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : بیت اللہ کو زمین سے دو ہزار سال پہلے رکھا گیا تھا بیت اللہ سفید جگہ پر تھا ‘ یہاں تک کہ عرش پانی پر تھا اور زمین اس کے نیچے یوں تھی جیسے وہ باریک سا بادل ہو ‘ پھر اسی ( بیت اللہ ) سے اس ( زمین ) کو پھیلایا گیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔