عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «لَمَّا أَهْبَطَ اللَّهُ آدَمَ إِلَى الْأَرْضِ بَكَى عَلَى الْجَنَّةِ مِائَةَ خَرِيفٍ، ثُمَّ نَظَرَ إِلَى سِعَةِ الْأَرْضِ، فَقَالَ: أَيْ رَبِّ أَمَا لِأَرْضِكَ عَامِرٌ يَسْكُنُهَا غَيْرِي؟ فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ أَنْ بَلَى فَإِنَّهَا سَتُرْفَعُ بُيُوتٌ يُذَكَرُ فِيهَا اسْمِي وَسَأُبَوِّئُكَ مِنْهَا بَيْتًا أَخْتَصُّهُ بِكَرَامَتِي، وَأُحْلِلْهُ عَظَمَتِي وَأُسَمِّيهِ بَيْتِي، وَأُنْطِقُهُ بِعَظَمَتِي، وَلَسْتُ أَسْكُنُهُ وَلَيْسَ يَنْبَغِي لِي أَنْ أَسْكُنَ الْبُيُوتَ وَلَا يَسَعُنِي، وَلَكِنْ عَلَى عَرْشِي وَكُرْسِيِّ عَظَمَتِي وَلَيْسَ يَنْبَغِي لِشَيْءٍ مِمَّا خَلَقْتُ أَنْ يَخْرُجَ مِنْ قَبْضَتِي وَلَا مِنْ قُدْرَتِي وَتُعَمِّرُهُ يَا آدَمُ مَا كُنْتَ حَيًّا ثُمَّ تُعَمِّرُهُ الْقُرُونُ مِنْ بَعْدِكَ أُمَّةً بَعْدَ أُمَّةٍ قَرْنًا بَعْدَ قَرْنٍ حَتَّى يَنْتَهِيَ إِلَى وَلَدٍ مِنْ أَوْلَادِكَ يُقَالُ لَهُ: إِبْرَاهِيمُ أَجْعَلُهُ مِنْ عُمَّارِهِ وَسُكَّانِهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَمْرٍو الْبَجَلِيُّ وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ وَكِلَاهُمَا فِيهِ كَلَامٌ وَقَدْ وُثِّقَا، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
EnglishUnverified translation
Mu'adh ibn Jabal رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ described how when Allah sent Adam down to earth he wept over Paradise a hundred autumns, then marvelled at the earth's expanse and asked whether any other would inhabit it. Allah revealed that houses wherein His name is remembered shall be raised, and that He would settle Adam in a House singled out with His honor and might, named His House, though He dwells not in houses nor is contained, being upon His Throne and Kursi, with nothing escaping His grasp and power. Adam was commanded to inhabit it in his life, then generations after him, nation after nation, until a descendant named Ibrahim would be made among its builders and dwellers. > **"Yea, there shall be raised houses wherein My name is remembered, and I shall settle you in a House thereof which I single out with My honor, invest with My might, name My House, and endow with My greatness. I dwell not therein, nor does it befit Me to dwell in houses nor to be contained, but I am upon My Throne and the Kursi of My greatness, and nothing of what I created may escape My grasp nor My power. Inhabit it, O Adam, as long as you live, then generations after you shall inhabit it, nation after nation, age after age, until it reaches a son of your sons called Ibrahim, whom I shall make among its builders and dwellers."**
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو زمین کی طرف نازل کیا ‘ تو وہ ایک سو سال تک جنت کے حوالے سے روتے رہے پھر انہوں نے زمین کی وسعت کی طرف دیکھا اور بولے اے میرے پروردگار کیا تیری زمین کو آباد کرنے والا میرے علاوہ اور کوئی نہیں ہے ‘ تو اللہ تعالی نے ان کی طرف وحی کی جی ہاں ! عنقریب گھر بنائے جائیں گے جن میں میرے نام کا ذکر ہو گا اور میں ان میں سے ایک گھر میں تمہیں ٹھہراؤں گا جسے میں نے اپنی عزت افزائی کے حوالے سے مخصوص کیا ہے میں نے اپنی عظمت اسے عطا کی ہے اور اسے اپنے گھر کا نام دیا ہے اور میں نے اسے اپنی عظمت سے نوازا ہے ‘ میں اس میں نہیں رہتا ہوں اور یہ چیز میرے لائق بھی نہیں ہے کہ میں گھروں میں رہوں اور نہ ہی یہ میری شان کے لائق ہے میں تو اپنے عرش اور اپنی کرسی پر ہوں میں نے جو چیز پیدا کی ہے اس میں سے کسی چیز کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ میرے قبضے سے نکل جائے یا میری قدرت سے نکل جائے اے آدم جب تک تم زندہ رہو گے تم اسے آباد کرو گے پھر تمہارے بعد ایک امت کے بعد دوسری امت مختلف زمانوں تک اسے آباد کرتی رہے گی یہاں تک کہ تمہاری اولاد میں سے ایک شخص تک بات پہنچے گی جس کا نام ابراہیم ہو گا میں اسے اس کو آباد کرنے والا اور اس کا رہائشی بناؤں گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن عمرو بجلی اور ایک راوی اسماعیل بن عیاش ہے ان دونوں کے بارے میں کلام کیا گیا ہے اور ان دونوں کی توثیق بھی کی گئی ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔