Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 10 · Chapter 11

Book of Hajj

Hadith 5648–5687

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

5648

Majma al-Zawaid #5648

عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: «كُنْتُ جَالِسًا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَسْجِدِ مِنًى، فَأَتَاهُ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ وَرَجُلٌ مِنْ ثَقِيفٍ فَسَلَّمَا، ثُمَّ قَالَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، جِئْنَا نَسْأَلُكَ. فَقَالَ: "" إِنْ شِئْتُمَا أَخْبَرْتُكُمَا بِمَا جِئْتُمَا تَسْأَلَانِي عَنْهُ فَعَلْتُ، وَإِنْ شِئْتُمَا أَنْ أُمْسِكَ فَعَلْتُ؟ "". فَقَالَا: أَخْبِرْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ الثَّقَفِيُّ لِلْأَنْصَارِيِّ: سَلْ. فَقَالَ: أَخْبِرْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ!! فَقَالَ: "" جِئْتَنِي تَسْأَلُنِي عَنْ مَخْرَجِكَ مِنْ بَيْتِكَ تَؤُمُّ الْبَيْتَ الْحَرَامَ وَمَا لَكَ فِيهِ؟ وَعَنْ رَكْعَتَيْكَ بَعْدَ الطَّوَافِ وَمَا لَكَ فِيهِمَا؟ وَعَنْ طَوَافِكَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَمَا لَكَ فِيهِ؟ وَعَنْ وُقُوفِكَ عَشِيَّةَ عَرَفَةَ وَمَا لَكَ فِيهِ؟ وَعَنْ رَمْيِكَ الْجِمَارَ وَمَا لَكَ فِيهِ؟ وَعَنْ نَحْرِكَ وَمَا لَكَ فِيهِ؟ وَعَنْ حَلْقِكَ رَأَسَكَ وَمَا لَكَ فِيهِ؟ وَعَنْ طَوَافِكَ بِالْبَيْتِ بَعْدَ ذَلِكَ وَمَا لَكَ فِيهِ؟ مَعَ الْإِفَاضَةِ؟ "". فَقَالَ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَعَنْ هَذَا جِئْتُ أَسْأَلُكَ. قَالَ: "" فَإِنَّكَ إِذَا خَرَجْتَ مِنْ بَيْتِكَ تَؤُمُّ الْبَيْتَ الْحَرَامَ لَا تَضَعُ نَاقَتُكَ خُفًّا وَلَا تَرْفَعُهُ إِلَّا كَتَبَ اللَّهُ لَكَ بِهِ حَسَنَةً، وَمَحَا عَنْكَ خَطِيئَةً، وَأَمَّا رَكْعَتَاكَ بَعْدَ الطَّوَافِ كَعِتْقِ رَقَبَةٍ مِنْ بَنِي إِسْمَاعِيلَ، وَأَمَّا طَوَافُكَ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ بَعْدَ ذَلِكَ كَعِتْقِ سَبْعِينَ رَقَبَةً، وَأَمَّا وُقُوفُكَ عَشِيَّةَ عَرَفَةَ فَإِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَهْبِطُ إِلَى سَمَاءِ الدُّنْيَا فَيُبَاهِي بِكُمُ الْمَلَائِكَةَ يَقُولُ: عِبَادِي جَاءُونِي شُعْثًا مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ يَرْجُونَ جَنَّتِي، فَلَوْ كَانَتْ ذُنُوبُكُمْ كَعَدَدِ الرَّمْلِ أَوْ كَقَطْرِ الْمَطَرِ أَوْ كَزَبَدِ الْبَحْرِ لَغَفَرَهَا - أَوْ لَغَفَرْتُهَا - أَفِيضُوا عِبَادِي مَغْفُورًا لَكُمْ وَلِمَنْ شَفَعْتُمْ لَهُ. وَأَمَّا رَمْيُكَ الْجِمَارَ فَلَكَ بِكُلِّ حَصَاةٍ رَمَيْتَهَا كَبِيرَةٌ مِنَ الْمُوبِقَاتِ. وَأَمَّا نَحْرُكَ فَمَذْخُورٌ لَكَ عِنْدَ رَبِّكَ. وَأَمَّا حِلَاقُكَ رَأْسَكَ فَلَكَ بِكُلِّ شَعْرَةٍ حَلَقْتَهَا حَسَنَةٌ وَتُمْحَى عَنْكَ بِهَا خَطِيئَةٌ. وَأَمَّا طَوَافُكَ بِالْبَيْتِ بَعْدَ ذَلِكَ فَإِنَّكَ تَطُوفُ وَلَا ذَنْبَ لَكَ يَأْتِي مَلَكٌ حَتَّى يَضَعَ يَدَيْهِ بَيْنَ كَتِفِكَ فَيَقُولُ: اعْمَلْ فِيمَا يَسْتَقْبِلُ فَقَدْ غُفِرَ لَكَ مَا مَضَى». رَوَاهُ الْبَزَّارُ.

EnglishUnverified translation

Ibn Umar رضي الله عنهما reports sitting with the Prophet ﷺ in the mosque of Mina when a man of the Ansar and a man of Thaqif came, greeted, and said they came to ask. He offered to inform them of their questions or to withhold, they chose information, the Thaqifi yielded to the Ansari, and the Prophet ﷺ listed questions about leaving home for the Sacred House, two rak'ahs after tawaf, circuits between al-Safa and al-Marwah, standing on the evening of Arafah, stoning the pillars, sacrifice, shaving, and tawaf with ifadah. The man swore that was his question, and the Prophet ﷺ detailed a good deed and effacement for each step of the mount, manumission for the rak'ahs and seventy necks for sa'y, divine descent and boasting with forgiveness as numerous as sand, raindrops and sea foam, expiation of grave mortal sins for each pebble, stored sacrifice, a good deed and effacement for each hair shaved, and sinless tawaf with an angel placing hands between his shoulders announcing forgiveness of the past and renewal of deeds. > **"If you wish I inform you of what you came to ask me about, and if you wish I withhold? You came to ask me about your leaving your house intending the Sacred House and what is yours therein, about your two rak'ahs after tawaf and what is yours therein, about your circuits between al-Safa and al-Marwah and what is yours therein, about your standing on the evening of Arafah and what is yours therein, about your stoning the pillars and what is yours therein, about your sacrifice and what is yours therein, about your shaving your head and what is yours therein, and about your tawaf of the House thereafter with ifadah and what is yours therein?"** > **"When you leave your house intending the Sacred House, your she-camel does not place nor lift a foot but Allah writes for you thereby a good deed and effaces from you a sin. Your two rak'ahs after tawaf are like freeing a neck of the children of Isma'il عليه السلام. Your circuits of al-Safa and al-Marwah thereafter are like freeing seventy necks. Your standing on the evening of Arafah: Allah the Blessed and Exalted descends to the lowest heaven and boasts of you to the angels, saying: My servants came to Me dishevelled from every deep pass hoping for My Garden; were your sins as numerous as sand, as raindrops, or as sea foam, He forgives them. Pour forth, My servants, forgiven for you and for whom you intercede. Your stoning the pillars: for every pebble you threw, a grave mortal sin. Your sacrifice is stored for you with your Lord. Your shaving your head: for every hair you shaved a good deed, and a sin effaced thereby. Your tawaf of the House thereafter: you circumambulate without sin; an angel comes until he places his hands between your shoulders and says: Act anew, for what has passed is forgiven."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں مسجد منی میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا انصار سے تعلق رکھنے والا ایک شخص اور ثقیف قبیلے سے تعلق رکھنے والا ایک شخص آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے ان دونوں نے سلام کیا پھر ان دونوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم آپ سے کچھ دریافت کرنے کے لئے آئے ہیں نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اگر تم چاہو ‘ تو میں تم دونوں کو یہ بتا دیتا ہوں کہ تم کس چیز کے بارے میں دریافت کرنے کے لئے آئے ہو اور اگر تم چاہو ‘ تو میں نہیں بتاتا ان دونوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ ہمیں بتایئے ثقفی شخص نے انصاری سے کہا تم سوال کرو اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے بتایئے نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا تم میرے پاس اس بارے میں دریافت کرنے کے لئے آئے ہو کہ تمہارا اپنے گھر سے بیت الحرام کے قصد سے نکلنا اس کا تمہیں کیا اجر ملے گا طواف کے بعد دو رکعت کے بارے میں پوچھنا چاہتے ہو کہ تمہیں اس کا کیا اجر ملے گا صفا اور مروہ کے چکروں کے بارے میں پوچھنا چاہتے ہو کہ تمہیں ان کا کیا اجر ملے گا عرفہ کی شام اپنے وقوف کے بارے میں پوچھنا چاہتے ہو کہ تمہیں اس کا کیا اجر ملے گا جمرات کو تمہارے کنکریاں مارنے کے بارے میں پوچھنا چاہتے ہو کہ تمہیں اس کا کیا اجر ملے گا اور اپنی قربانی کے بارے میں پوچھنا چاہتے ہو کہ تمہیں اس کا کیا اجر ملے گا اور اپنے سر مونڈوانے کے بارے میں پوچھنا چاہتے ہو کہ تمہیں اس کا کیا اجر ملے گا اور اس کے بعد بیت اللہ کے طواف افاضہ کے بارے میں پوچھنا چاہتے ہو کہ تمہیں اس کا کیا اجر ملے گا ؟ اس شخص نے عرض کی : اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے میں اسی بارے میں آپ سے پوچھنے کے لئے آیا ہوں ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جب تم اپنے گھر سے نکلے اور تمہارا ارادہ بیت الحرام کی طرف جانے کا تھا تو تمہاری اونٹنی نے جو بھی پاؤں رکھا اور جو بھی پاؤں اٹھایا تو اس کے عوض میں اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے نیکی نوٹ کی اور تم سے برائی کو مٹا دیا جہاں تک طواف کے بعد کی دو رکعت کا تعلق ہے ‘ تو یہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے غلام آزاد کرنے کی مانند ہے جہاں تک صفا اور مروہ کی سعی کا تعلق ہے ‘ تو یہ ستر غلام آزاد کرنے کی مانند ہے جہاں تک عرفہ کی شام تمہارے وقوف کرنے کا تعلق ہے ‘ تو اللہ تعالیٰ آسمان دنیا کی طرف اترتا ہے اور تم لوگوں کے حوالے سے فرشتوں کے سامنے فخر کا اظہار کرتا ہے اور یہ فرماتا ہے میرے بندے میرے پاس بکھرے ہوئے بال لے کر دور دراز کے علاقوں سے آئے ہیں وہ میری جنت چاہتے ہیں اللہ تعالیٰ بندوں سے مخاطب ہو کے فرماتا ہے ) اگر تمہارے گناہ ریت کے ذروں جتنے ہوں یا بارش کے قطروں جتنے ہوں یا سمندر کی جھاگ جتنے ہوں تو اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت کر دے گا ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) میں ان کی مغفرت کر دوں گا اے میرے بندو ! تم ایسے واپس جاؤ کہ تمہاری مغفرت ہو چکی ہو اور اس کی بھی مغفرت ہو چکی ہو جس کی تم نے شفاعت کی ہو ( نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ) جہاں تک تمہارے جمرات کو کنکریاں مارنے کا تعلق ہے ‘ تو ہر کنکری جو تم نے اسے ماری اس کے عوض میں ہلاک کرنے والا ایک کبیرہ گناہ ( معاف ہو جائے گا ) جہاں تک تمہارے قربانی کرنے کا تعلق ہے ‘ تو وہ تمہارے پروردگار کے پاس سنبھال کے رکھی جائے گی جہاں تک تمہارے اپنے سر کو مونڈوانے کا تعلق ہے ‘ تو سر مونڈواتے ہوئے ہر ایک بال کے عوض میں تمہیں ایک نیکی ملے گی اور اس کے عوض میں تمہارے ایک گناہ کو مٹا دیا جائے گا جہاں تک اس کے بعد تمہارے بیت اللہ کا طواف کرنے کا تعلق ہے ‘ تو تم یوں طواف کرو گے کہ تمہارا کوئی گناہ نہیں ہو گا ایک فرشتہ آئے گا وہ اپنے دونوں ہاتھ تمہارے کندھے کے درمیان رکھے گا اور یہ کہے گا اب تم نئے سرے سے عمل کرو کیونکہ گزشتہ ( گناہوں ) کے حوالے سے تو تمہاری مغفرت ہو چکی ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔

5649

Majma al-Zawaid #5649

وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ بِنَحْوِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ فِي أَوَّلِهِ: «جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلَانِ أَحَدُهُمَا مِنَ الْأَنْصَارِ وَالْآخَرُ مِنْ ثَقِيفٍ، فَسَبَقَهُ الْأَنْصَارِيُّ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلثَّقَفِيِّ: يَا أَخَا ثَقِيفٍ سَبَقَكَ الْأَنْصَارِيُّ. فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ: أَنَا أُبْدِيهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ. فَقَالَ: "" يَا أَخَا ثَقِيفٍ، سَلْ عَنْ حَاجَتِكَ، وَإِنْ شِئْتَ أَخْبَرْتُكَ عَمَّا جِئْتَ تَسْأَلُ عَنْهُ "". قَالَ: فَذَاكَ أَعْجَبُ إِلَيَّ أَنْ تَفْعَلَ. قَالَ: "" فَإِنَّكَ تَسْأَلُنِي عَنْ صَلَاتِكَ، وَعَنْ رُكُوعِكَ، وَعَنْ سُجُودِكَ، وَعَنْ صِيَامِكَ؟ وَتَقُولُ: مَا لِيَ فِيهِ؟ "". قَالَ: إِي وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ. قَالَ: "" فَصَلِّ أَوَّلَ النَّهَارِ وَآخِرَهُ وَنَمْ وَسَطَهُ "". قَالَ: فَإِنْ صَلَّيْتُ وَسَطَهُ؟ قَالَ: "" فَأَنْتَ إِذًا أَنْتَ "". قَالَ: "" فَإِذَا قُمْتَ إِلَى الصَّلَاةِ فَرَكَعْتَ فَضَعْ يَدَيْكَ عَلَى رُكْبَتَيْكَ، وَفَرِّجْ بَيْنَ أَصَابِعِكَ، ثُمَّ ارْفَعْ رَأْسَكَ حَتَّى يَرْجِعَ كُلُّ عُضْوٍ إِلَى مَفْصِلِهِ، وَإِذَا سَجَدْتَ فَأَمْكِنْ جَبْهَتَكَ مِنَ الْأَرْضِ وَلَا تَنْقُرْ، وَصُمِ اللَّيَالِيَ الْبَيْضَ ثَلَاثَ عَشْرَةَ وَأَرْبَعَ عَشْرَةَ وَخَمْسَ عَشْرَةَ». وَرِجَالُ الْبَزَّارِ مُوَثَّقُونَ. وَقَالَ الْبَزَّارُ: قَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ وُجُوهٍ، وَلَا نَعْلَمُ لَهُ أَحْسَنَ مِنْ هَذَا الطَّرِيقِ.

EnglishUnverified translation

In a version with a different opening two men came, one Ansari and one Thaqifi, the Ansari preceding, the Prophet ﷺ noting his precedence, the Ansari yielding, and the Thaqifi preferring to be informed. The Prophet ﷺ said he came about prayer, bowing, prostration and fasting, which he affirmed, then enjoined prayer at the beginning and end of the day with sleep in the middle, proper bowing with hands upon knees and fingers spread until every limb returns to its joint, firm prostration of the forehead without pecking, and fasting the white days. > **"O brother of Thaqif, ask about your need, and if you wish I inform you of what you came to ask about. You ask me about your prayer, your bowing, your prostration and your fasting, saying: what is mine therein? Pray at the first of the day and its end, and sleep its middle. When you stand for prayer then bow, place your hands upon your knees, spread between your fingers, then raise your head until every limb returns to its joint. When you prostrate, settle your forehead upon the earth and do not peck. Fast the white nights: thirteen, fourteen and fifteen."** > **"Then you are you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام طبرانی نے معجم کبیر میں اس کی مانند روایت نقل کی ہے ‘ تا ہم اس کے آغاز میں یہ الفاظ ہیں : نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں دو افراد حاضر ہوئے ان میں سے ایک کا تعلق انصار سے تھا اور دوسرے کا ثقیف سے تھا انصاری پہلے آیا نبی اکرم ﷺ نے ثقفی سے فرمایا : اے ثقیف قبیلے سے تعلق رکھنے والے فرد انصاری تم سے سبقت لے گیا ہے انصاری نے کہا : یا رسول اللہ ! میں اسے پہل کا موقع دیتا ہوں ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اے ثقیف قبیلے سے تعلق رکھنے والے فرد تم اپنی حاجت کے بارے میں سوال کرو اور اگر تم چاہو ‘ تو میں تمہیں بتا دیتا ہوں کہ تم کس چیز کے بارے میں سوال کرنے کے لئے آئے ہو ؟ اس نے عرض کی : اگر آپ ایسا کرتے ہیں تو یہ میرے لئے زیادہ پسندیدہ ہو گا ( یا زیادہ حیران کن ہو گا ) نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم میرے پاس اپنی نماز اپنے رکوع اپنے سجدے اور اپنے روزے کے بارے میں دریافت کرنے کے لئے آئے ہو کہ تم یہ کہو کہ مجھے اس کا کیا بدلہ ملے گا ؟ اس نے عرض کی : جی ہاں ! اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے ( ایسا ہی ہے ) نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم دن کے ابتدائی حصے میں اور آخری حصے میں نماز ادا کرو اور اس کے درمیان میں سو جاؤ اس نے عرض کی : اگر میں درمیانی حصے میں بھی نماز ادا کر لوں ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : پھر تم ‘ تم ہو گے ( یعنی اس کے کیا کہنے ) نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جب تم نماز کے لئے کھڑے ہو اور رکوع میں جاؤ ‘ تو دونوں ہاتھ دونوں گھٹنوں پر رکھو اور اپنی انگلیاں کشادہ رکھو پھر تم اپنا سر اٹھاؤ یہاں تک کہ ہر عضو اپنے جوڑ پر آ جائے جب تم سجدے میں جاؤ تو اپنی پیشانی کو جما کر زمین پر رکھو تم ٹھونگا نہ مارنا اور تم چمک دار راتوں یعنی تیرہ چودہ اور پندرہ ( تاریخ کے ) روزے رکھو ‘‘۔ امام بزار کے رجال کی توثیق کی گئی ہے امام بزار فرماتے ہیں : یہ روایت مختلف حوالوں سے نقل کی گئی ہے لیکن ہمارے علم کے مطابق اس سے زیادہ عمدہ سند اور کوئی نہیں ہے ۔

5650

Majma al-Zawaid #5650

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: «كُنْتُ قَاعِدًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَسْجِدِ مِنًى فَأَتَاهُ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ وَرَجُلٌ مِنْ ثَقِيفٍ فَسَلَّمَا عَلَيْهِ وَدَعَيَا لَهُ دُعَاءً حَسَنًا. فَقَالَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، جِئْنَا لِنَسْأَلَكَ. فَقَالَ: "" إِنْ شِئْتُمَا أَخْبَرْتُكُمَا بِمَا جِئْتُمَا تَسْأَلَانِي عَنْهُ فَعَلْتُ، وَإِنْ شِئْتُمَا أَسْكُتُ وَتَسْأَلَانِي فَعَلْتُ؟ "". فَقَالَا: أَخْبِرْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، نَزْدَدْ إِيمَانًا أَوْ يَقِينًا؟ - الشَّكُّ مِنْ إِسْمَاعِيلَ قَالَ: لَا أَدْرِي أَيُّهُمَا قَالَ: إِيمَانًا أَوْ يَقِينًا - فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ لِلثَّقَفِيِّ: سَلْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ!! فَقَالَ الثَّقَفِيُّ: بَلْ أَنْتَ فَسَلْهُ، فَإِنِّي أَعْرِفُ لَكَ حَقَّكَ. فَسَأَلَهُ فَقَالَ: أَخْبِرْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ!! قَالَ: "" جِئْتَ تَسْأَلُنِي عَنْ مَخْرَجِكَ مِنْ بَيْتِكَ تَؤُمُّ الْبَيْتَ الْحَرَامَ وَمَا لَكَ فِيهِ؟ وَعَنْ طَوَافِكَ بِالْبَيْتِ وَمَا لَكَ فِيهِ؟ وَعَنْ رَكْعَتَيْكَ بَعْدَ الطَّوَافِ وَمَا لَكَ فِيهِمَا؟ وَعَنْ طَوَافِكَ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَمَا لَكَ فِيهِ؟ وَعَنْ وُقُوفِكَ عَشِيَّةَ عَرَفَةَ وَمَا لَكَ فِيهِ؟ وَعَنْ رَمْيِكَ الْجِمَارَ وَمَا لَكَ فِيهِ؟ وَعَنْ نَحْرِكَ وَمَا لَكَ فِيهِ؟ وَعَنْ حَلْقِكَ رَأْسَكَ وَمَا لَكَ فِيهِ؟ وَعَنْ طَوَافِكَ بِالْبَيْتِ بَعْدَ ذَلِكَ يَعْنِي - طَوَافَ الْإِفَاضَةِ -؟ "". قَالَ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ عَنْ هَذَا جِئْتُ أَسْأَلُكَ قَالَ: "" فَإِنَّكَ إِذَا خَرَجْتَ مِنْ بَيْتِكَ تَؤُمُّ الْبَيْتَ الْحَرَامَ لَا تَضَعُ نَاقَتُكَ خُفًّا وَلَا تَرْفَعُهُ إِلَّا كَتَبَ اللَّهُ لَكَ بِهِ حَسَنَةً، وَحَطَّ عَنْكَ بِهِ خَطِيئَةً، وَرَفَعَكَ دَرَجَةً، وَأَمَّا رَكْعَتَاكَ بَعْدَ الطَّوَافِ كَعِتْقِ رَقَبَةٍ مِنْ بَنِي إِسْمَاعِيلَ، وَأَمَّا طَوَافُكَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ بَعْدَ ذَلِكَ كَعِتْقِ سَبْعِينَ رَقَبَةً. وَأَمَّا وُقُوفُكَ عَشِيَّةَ عَرَفَةَ فَإِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَهْبِطُ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا يُبَاهِي بِكُمُ الْمَلَائِكَةَ يَقُولُ: هَؤُلَاءِ عِبَادِي جَاءُوا شُعْثًا شُفَعَاءَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ، يَرْجُونَ رَحْمَتِي وَمَغْفِرَتِي، فَلَوْ كَانَتْ ذُنُوبُكُمْ كَعَدَدِ الرَّمْلِ وَكَعَدَدِ الْقَطْرِ وَكَزَبَدِ الْبَحْرِ لَغَفَرْتُهَا، أَفِيضُوا عِبَادِي مَغْفُورًا لَكُمْ وَلِمَنْ شَفَعْتُمْ لَهُ. وَأَمَّا رَمْيُكَ الْجِمَارَ فَلَكَ بِكُلِّ حَصَاةٍ تَرْمِيهَا تَكْفِيرُ كَبِيرَةٍ مِنَ الْكَبَائِرِ الْمُوجِبَاتِ، وَأَمَّا نَحْرُكَ فَمَدْخُورٌ لَكَ عِنْدَ رَبِّكَ. وَأَمَّا حِلَاقُكَ رَأْسَكَ فَلَكَ بِكُلِّ شَعْرَةٍ حَلَقْتَهَا حَسَنَةٌ، وَتُمْحَى عَنْكَ بِهَا خَطِيئَةٌ "". قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَإِنْ كَانَتِ الذُّنُوبُ أَقَلَّ مِنْ ذَلِكَ؟ قَالَ: "" إِذَنْ يُدَّخَرُ لَكَ فِي حَسَنَاتِكَ، وَأَمَّا طَوَافُكَ بِالْبَيْتِ بَعْدَ ذَلِكَ - يَعْنِي الْإِفَاضَةَ - فَإِنَّكَ تَطُوفُ وَلَا ذَنْبَ لَكَ: يَأْتِي مَلَكٌ حَتَّى يَضَعَ يَدَيْهِ بَيْنَ كَتِفَيْكَ ثُمَّ يَقُولُ: اعْمَلْ فِيمَا يُسْتَقْبَلُ فَقَدْ غُفِرَ لَكَ مَا مَضَى! "". قَالَ الثَّقَفِيُّ: فَأَخْبِرْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ!! قَالَ: "" جِئْتَنِي تَسْأَلُنِي عَنِ الصَّلَاةِ "". قَالَ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ عَنْهَا جِئْتُ أَسْأَلُكَ. قَالَ: "" إِذَا قُمْتَ إِلَى الصَّلَاةِ فَأَسْبِغِ الْوُضُوءَ فَإِنَّكَ إِذَا تَمَضْمَضْتَ انْتَثَرَتِ الذُّنُوبُ مِنْ مَنْخِرَيْكَ، وَإِذَا غَسَلْتَ وَجْهَكَ انْتَثَرَتِ الذُّنُوبُ مِنْ شَعْرِ عَيْنَيْكَ، وَإِذَا غَسَلْتَ يَدَيْكَ انْتَثَرَتِ الذُّنُوبُ مِنْ أَظْفَارِ يَدَيْكَ، وَإِذَا مَسَحْتَ رَأْسَكَ انْتَثَرَتِ الذُّنُوبُ مِنْ رَأْسِكَ، وَإِذَا غَسَلْتَ رِجْلَيْكَ انْتَثَرَتِ الذُّنُوبُ مِنْ أَظْفَارِ قَدَمَيْكَ، ثُمَّ إِذَا قُمْتَ إِلَى الصَّلَاةِ فَاقْرَأْ مِنَ الْقُرْآنِ مَا شِئْتَ، ثُمَّ إِذَا رَكَعْتَ فَأَمْكِنْ يَدَيْكَ مِنْ رُكْبَتَيْكَ، وَأَفْرِجْ بَيْنَ أَصَابِعِكَ حَتَّى تَطْمَئِنَّ رَاكِعًا، ثُمَّ إِذَا سَجَدْتَ فَأَمْكِنْ وَجْهَكَ مِنَ السُّجُودِ كُلَّهُ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا، وَلَا تَنْقُرْ نَقْرًا وَصَلِّ مِنْ أَوَّلِ النَّهَارِ وَآخِرِهِ "". قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ إِنْ صَلَّيْتُهُ كُلَّهُ؟ قَالَ: "" فَأَنْتَ إِذًا أَنْتَ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ رَافِعٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Malik رضي الله عنه reports sitting with the Messenger of Allah ﷺ in the mosque of Mina when a man of the Ansar and a man of Thaqif came, greeted with fine supplication, and sought to ask. He offered to inform or to remain silent while they asked, they chose information for increase in faith, the Ansari yielded to the Thaqifi who yielded back, and the Ansari asked. The Prophet ﷺ listed questions about leaving home, tawaf, two rak'ahs, sa'y, standing at Arafah, stoning, sacrifice, shaving and tawaf al-ifadah, which the man affirmed, then detailed elevation by a degree with each step beside good deeds and effacement, divine boasting with forgiveness as sand, raindrops and sea foam, expiation of grievous mortal sins for each pebble, stored sacrifice, a good deed and effacement for each hair with surplus stored as good deeds, and sinless ifadah tawaf with an angel announcing forgiveness and renewal. The Thaqifi then asked about prayer, which the Prophet ﷺ affirmed and explained through perfect ablution with sins falling from nostrils, eyes, nails, head and feet, recitation, tranquil bowing and prostration without pecking, and prayer at the beginning and end of the day. > **"If you wish I inform you of what you came to ask me about, and if you wish I am silent and you ask me? You came to ask me about your leaving your house intending the Sacred House and what is yours therein, about your tawaf of the House and what is yours therein, about your two rak'ahs after tawaf and what is yours therein, about your circuits of al-Safa and al-Marwah and what is yours therein, about your standing on the evening of Arafah and what is yours therein, about your stoning the pillars and what is yours therein, about your sacrifice and what is yours therein, about your shaving your head and what is yours therein, and about your tawaf of the House thereafter, meaning tawaf al-ifadah?"** > **"When you leave your house intending the Sacred House, your she-camel does not place nor lift a foot but Allah writes for you thereby a good deed, removes thereby a sin, and raises you a degree. Your two rak'ahs after tawaf are like freeing a neck of the children of Isma'il عليه السلام. Your tawaf between al-Safa and al-Marwah thereafter is like freeing seventy necks. Your standing on the evening of Arafah: Allah the Blessed and Exalted descends to the lowest heaven, boasts of you to the angels, saying: These are My servants, come dishevelled as intercessors from every deep pass, hoping for My mercy and forgiveness; were your sins as numerous as sand, as numerous as drops, and as sea foam, I have forgiven them. Pour forth, My servants, forgiven for you and for whom you intercede. Your stoning the pillars: for every pebble you throw, expiation of a grave mortal sin. Your sacrifice is stored for you with your Lord. Your shaving your head: for every hair you shaved a good deed, and a sin thereby effaced. If sins are fewer than that, it is stored for you among your good deeds. Your tawaf of the House thereafter, meaning ifadah: you circumambulate without sin; an angel comes until he places his hands between your shoulders, then says: Act anew, for what has passed is forgiven."** > **"You came to ask me about prayer. When you stand for prayer, perfect ablution: when you rinse, sins fall from your nostrils; when you wash your face, sins fall from the hair of your eyes; when you wash your hands, sins fall from your fingernails; when you wipe your head, sins fall from your head; when you wash your feet, sins fall from your toenails. Then when you stand for prayer, recite what you wish of the Qur'an. When you bow, settle your hands upon your knees, spread between your fingers until tranquil bowing. When you prostrate, settle your face fully in prostration until tranquil prostrating, and do not peck. Pray at the first of the day and its end. Then you are you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں مسجد منی میں ‘ اللہ کے رسول کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا انصار سے تعلق رکھنے والا ایک شخص اور ثقیف قبیلے سے تعلق رکھنے والا ایک شخص نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ان دونوں نے آپ کو سلام کیا اور آپ کو اچھے طریقے سے مخاطب کرتے ہوئے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم آپ سے کچھ دریافت کرنے کے لئے حاضر خدمت ہوئے ہیں نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اگر تم دونوں چاہو ‘ تو میں تم دونوں کو یہ بتا دیتا ہوں کہ تم دونوں کس چیز کے بارے میں دریافت کرنے کے لئے آئے ہو اور اگر تم دونوں چاہو ‘ تو میں خاموش رہتا ہوں تم دونوں مجھ سے سوال کر لو ‘ تو میں ایسا کر لیتا ہوں ان دونوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ ہمیں بتائیے تاکہ ہمارے ایمان ( راوی کو شک ہے یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) یقین میں اضافہ ہو یہ شک اسماعیل نامی راوی کو ہے وہ کہتے ہیں : مجھے نہیں معلوم کہ ان دونوں میں سے کیا لفظ ہے ایمان یا یقین ( حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ) انصاری نے ثقفی شخص سے کہا تم اللہ کے رسول سے سوال کرو ثقفی نے کہا : جی نہیں ! بلکہ تم سوال کرو کیونکہ میں تمہارے حق سے واقف ہوں انصاری نے نبی اکرم ﷺ سے سوال کرتے ہوئے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے بتائیے نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم مجھ سے اس بارے میں دریافت کرنے کے لئے آئے ہو کہ تمہارا اپنے گھر سے نکل کر بیت الحرام کی طرف جانے کا قصد کرنا اس کا تمہیں کیا اجر ملے گا اور تمہارے بیت اللہ کا طواف کرنے کا تمہیں کیا اجر ملے گا اور طواف کے بعد تمہارے دو رکعت ادا کرنے کا تمہیں کیا اجر ملے گا اور تمہارے صفا اور مروہ کا طواف کرنے کا تمہیں کیا اجر ملے گا تمہارے عرفہ کی شام وقوف کرنے کا تمہیں کیا اجر ملے گا تمہارے جمرات کو کنکریاں مارنے کا تمہیں کیا اجر ملے گا تمہارے قربانی کا تمہارے کیا اجر ملے گا تمہیں اپنے سر کو مونڈوانے کا تمہیں کیا اجر ملے گا اور اس کے بعد تمہارے بیت اللہ کا طواف کرنے یعنی طواف افاضہ کرنے کا تمہیں کیا اجر ملے گا اس نے کہا : اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے میں اسی بارے میں آپ سے پوچھنے کے لئے آیا ہوں ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جب تم اپنے گھر سے نکلو اور تمہارا قصد بیت الحرام کی طرف جانے کا ہو ‘ تو تمہاری اونٹنی جو بھی پاؤں رکھے گی اور جو بھی پاؤں اٹھائے گی تو اللہ تعالیٰ اس کے عوض میں تمہارے لئے ایک نیکی کو نوٹ کرے گا اور اس کی وجہ سے تمہاری ایک برائی کو ختم کر دے گا اور تمہارے درجہ کو بلند کرے گا جہاں تک تمہارے طواف کے بعد دو رکعت ادا کرنے کا تعلق ہے ‘ تو یہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے ایک غلام آزاد کرنے کی مانند ہے جہاں تک تمہارے اس کے بعد صفا و مروہ کا طواف کرنے کا تعلق ہے ‘ تو یہ ستر غلام آزاد کرنے کی مانند ہے جہاں تک عرفہ کی شام تمہارے وقوف کرنے کا تعلق ہے ‘ تو بے شک اللہ تعالی آسمان دنیا کی طرف اترتا ہے اور تم لوگوں کے حوالے سے فرشتوں کے سامنے فخر کا اظہار کرتے ہوئے یہ ارشاد فرماتا ہے : یہ میرے بندے جو بکھرے ہوئے بال لے کر آئے ہیں دور دراز کے علاقوں سے آئے ہیں یہ میری رحمت اور مغفرت کی امید رکھتے ہیں اگر تم لوگوں کے گناہ ریت کے ذروں جتنے ہوں یا بارش کے قطروں جتنے ہوں یا سمندر کی جھاگ کی مانند ہوں تو میں نے ان کی مغفرت کر دی ۔ اے میرے بندو ! تم ایسی حالت میں واپس جاؤ کہ تمہاری مغفرت ہو چکی ہو اور جس کی تم نے شفاعت کی ہے ‘ اس کی بھی مغفرت ہو چکی ہو ‘ جہاں تک تمہارے جمرات کو کنکریاں مارنے کا تعلق ہے ‘ تو ہر کنکری جو تم نے ماری ہو گی وہ ایک کبیرہ گناہ کا کفارہ بن جائے گی جو ہلاکت کا شکار کر دینے والا ہو جہاں تک قربانی کا تعلق ہے ‘ تو وہ تمہارے پروردگار کے پاس سنبھال کر رکھی جائے گی جہاں تک تمہارے اپنے سر کو مونڈوانے کا تعلق ہے ‘ تو تم نے ہر بال جس کو مونڈوایا ہے اس کے بدلے میں ایک نیکی ملے گی اور اس کی وجہ سے تمہاری ایک خطاء کو ختم کر دیا جائے گا لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اگر گناہ اس سے کم ہوں ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اس صورت میں اسے تمہاری نیکیوں کے طور پر ذخیرہ کر لیا جائے گا جہاں تک تمہارے اس کے بعد بیت اللہ کا طواف کرنے کا تعلق ہے ( راوی کہتے ہیں : یعنی طواف افاضہ کا تعلق ہے ) تو جب تم طواف کرو گے تو تمہارا کوئی گناہ باقی نہیں ہو گا ایک فرشتہ آئے گا تمہارے دونوں کندھوں کے درمیان اپنے ہاتھ رکھے گا اور پھر یہ کہے گا : آگے تم نئے سرے سے عمل شروع کرو کیونکہ گزشتہ گناہوں کی ‘ تو مغفرت ہو چکی ہے ۔ ثقفی شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے بھی بتائیے نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم مجھ سے نماز کے بارے میں سوال کرنے کے لئے آئے ہو اس نے عرض کی : اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے میں اسی سلسلے میں آپ سے پوچھنے کے لئے آیا ہوں ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جب تم نماز کے لئے کھڑے ہو ‘ تو اچھی طرح وضو کرو جب تم کلی کرو گے تو تمہارے نتھنوں سے گناہ نکل جائیں گے جب تم اپنا چہرہ دھوؤ گے تو تمہاری آنکھوں سے گناہ نکل جائیں گے جب تم دونوں بازو دھوؤ گے تو تمہارے ناخنوں سے گناہ نکل جائیں گے جب تم اپنے سر کا مسح کرو گے تو تمہارے سر سے گناہ نکل جائیں گے جب تم اپنے پاؤں دھوؤ گے تو تمہارے پاؤں کے ناخنوں سے گناہ نکل جائیں گے پھر جب تم نماز کے لئے کھڑے ہو ‘ تو جو چاہو تم قرآن کا وہ حصہ تلاوت کرو پھر جب تم رکوع میں جاؤ تو اپنے دونوں ہاتھ اپنے گھٹنوں پر جما کے رکھو اپنی انگلیاں کشادہ رکھو یہاں تک کہ اطمینان کے ساتھ رکوع کرو پھر جب تم سجدے میں جاؤ تو سجدے میں اپنی پیشانی کو جما کے رکھو اور اطمینان کے ساتھ سجدہ کرو اور تم ٹھونگا نہ مارنا تم دن کے ابتدائی اور آخری حصے میں نماز ادا کرو اس شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے کہ اگر میں پورا دن نماز ادا کرتا رہوں ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : پھر تم ‘ تم ہو گے ( یعنی اس کے تو کیا کہنے ) ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن رافع ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

5651

Majma al-Zawaid #5651

وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ: «صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَخَطَّى إِلَيْهِ رَجُلَانِ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ وَرَجُلٌ مِنْ ثَقِيفٍ، فَسَبَقَ الْأَنْصَارِيُّ الثَّقَفِيَّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلثَّقَفِيِّ: "" إِنَّ الْأَنْصَارِيَّ قَدْ سَبَقَكَ بِالْمَسْأَلَةِ "". فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ: لَعَلَّهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْ يَكُونَ أَعْجَلَ مِنِّي فَهُوَ فِي حِلٍّ. قَالَ: فَسَأَلَ الثَّقَفِيُّ عَنِ الصَّلَاةِ فَأَخْبَرَهُ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْأَنْصَارِيِّ: "" إِنْ شِئْتَ خَبَّرْتُكَ بِمَا جِئْتَ تَسْأَلُ عَنْهُ وَإِنْ شِئْتَ تَسْأَلُنِي فَأُخْبِرُكَ "". فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، تُخْبِرُنِي! قَالَ: "" جِئْتَ تَسْأَلُنِي مَا لَكَ مِنَ الْأَجْرِ إِذَا أَمَّمْتَ الْبَيْتَ الْعَتِيقَ وَمَا لَكَ مِنَ الْأَجْرِ فِي وُقُوفِكَ فِي عَرَفَةَ؟ وَمَا لَكَ مِنَ الْأَجْرِ فِي رَمْيِكَ الْجِمَارَ؟ وَمَا لَكَ مِنَ الْأَجْرِ فِي حَلْقِ رَأْسِكَ؟ وَمَا لَكَ مِنَ الْأَجْرِ إِذَا وَدَّعْتَ الْبَيْتَ؟ "". فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا جِئْتُ أَسْأَلُكَ عَنْ غَيْرِهِ. قَالَ: "" فَإِنَّ لَكَ مِنَ الْأَجْرِ إِذَا أَمَّمْتَ الْبَيْتَ الْعَتِيقَ أَنْ لَا تَرْفَعَ قَدَمًا أَوْ تَضَعَهَا أَنْتَ وَدَابَّتُكَ إِلَّا كُتِبَتْ لَكَ حَسَنَةٌ وَرُفِعَتْ لَكَ دَرَجَةٌ. وَأَمَّا وُقُوفُكَ بِعَرَفَةَ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ لِمَلَائِكَتِهِ: يَا مَلَائِكَتِي مَا جَاءَ بِعِبَادِي؟ قَالُوا: جَاءُوا يَلْتَمِسُونَ رِضْوَانَكَ وَالْجَنَّةَ. فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: فَإِنِّي أُشْهِدُ نَفْسِي وَخَلْقِي أَنِّي قَدْ غَفَرْتُ لَهُمْ عَدَدَ أَيَّامِ الدَّهْرِ، وَعَدَدَ الْقَطْرِ، وَعَدَدَ رَمْلِ عَالِجٍ. وَأَمَّا رَمْيُكَ الْجِمَارَ، قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: (فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ) وَأَمَّا حَلْقُكَ رَأْسَكَ فَإِنَّهُ لَيْسَ مِنْ شَعْرِكَ مِنْ شَعْرَةٍ تَقَعُ فِي الْأَرْضِ إِلَّا كَانَتْ لَكَ نُورًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ. وَأَمَّا الْبَيْتُ إِذَا وَدَّعْتَ فَإِنَّكَ تَخْرُجُ مِنْ ذُنُوبِكَ كَيَوْمِ وَلَدَتْكَ أُمُّكَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ بْنِ شَرُوسٍ ذَكَرَهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ جَرْحًا وَلَا تَعْدِيلًا، وَمَنْ فَوْقَهُ مُوَثَّقُونَ.

EnglishUnverified translation

Ubadah ibn al-Samit رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ led them in prayer, then two men, one Ansari and one Thaqifi, stepped forward, the Ansari preceding. The Prophet ﷺ noted his precedence, the Ansari permitted the other being in haste, the Thaqifi asked about prayer and was informed, then the Ansari chose to be informed about his reward for intending the Ancient House, standing at Arafah, stoning, shaving and farewell to the House, which he affirmed. The Prophet ﷺ detailed a good deed and raised degree for every foot of man and beast, divine witnessing of forgiveness as days, drops and sands of Alij, hidden delight of eyes for stoning with the verse of al-Sajdah, light on the Resurrection for every fallen hair, and emergence from sins as the day his mother bore him upon farewell. > **"The Ansari has preceded you in asking. If you wish I inform you of what you came to ask about, and if you wish you ask me and I inform you. You came to ask me what reward is yours when you intend the Ancient House, what reward in your standing at Arafah, what reward in your stoning the pillars, what reward in your shaving your head, and what reward when you bid the House farewell?"** > **"When you intend the Ancient House, you and your beast do not lift nor place a foot but a good deed is written for you and a degree raised for you. Your standing at Arafah: Allah Almighty says to His angels: O My angels, what has brought My servants? They say: They came seeking Your pleasure and Paradise. Allah Almighty says: I call Myself and My creation to witness that I have forgiven them to the number of days of time, the number of drops, and the number of sands of Alij. Your stoning the pillars: Allah Almighty says: No soul knows what is hidden for them of delight of eyes as recompense for what they did. Your shaving your head: no hair of yours falls to earth but it shall be light for you on the Day of Resurrection. When you bid the House farewell, you emerge from your sins as the day your mother bore you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ہمیں نماز پڑھائی اس کے بعد دو آدمی لوگوں کو پھلانگ کر آپ کی خدمت میں آئے ایک شخص کا تعلق انصار سے تھا اور ایک شخص کا تعلق ثقیف قبیلے سے تھا انصاری شخص ثقفی سے سبقت لے گیا نبی اکرم ﷺ نے ثقفی سے فرمایا انصاری سوال کرنے کے حوالے سے تم سے سبقت لے گیا ہے انصاری نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہو سکتا ہے کہ اسے مجھ سے زیادہ جلدی ہو ‘ تو میں اسے اجازت دیتا ہوں راوی بیان کرتے ہیں : ثقفی شخص نے نماز کے بارے میں سوال کیا ، تو نبی اکرم ﷺ نے اسے بتایا پھر نبی اکرم ﷺ نے انصاری سے فرمایا اگر تم چاہو ‘ تو میں تمہیں اس بارے میں بتا دیتا ہوں کہ تم کس چیز کے بارے میں دریافت کرنے کے لئے آئے ہو اور اگر تم چاہو ‘ تو تم مجھ سے سوال کرو میں تمہیں بتا دوں گا اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے بتایئے نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم مجھ سے یہ دریافت کرنے کے لئے آئے ہو کہ تمہیں کتنا اجر ملے گا اس چیز کا کہ جب تم بیت العقیق کا قصد کر کے نکلو اور عرفہ میں تمہارے وقوف کرنے کا تمہیں کیا اجر ملے گا اور تمہارے جمرات کو کنکریاں مارنے کا تمہیں کیا اجر ملے گا اور تمہارے سر کو مونڈوانے کا تمہیں کیا اجر ملے گا اور جب تم بیت اللہ سے رخصت ہو گے تو تمہیں کیا اجر ملے گا انصاری نے عرض کی : اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے میں آپ کے پاس اسی بارے میں دریافت کرنے کے لئے آیا ہوں ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جب تم بیت عتیق کا قصد کرو گے تو تمہیں یہ اجر ملے گا کہ تم جو بھی قدم اٹھاؤ گے یا جو بھی رکھو گے خواہ تمہارا قدم ہو یا تمہاری سواری کا قدم ہو ‘ تو تمہارے لئے ایک نیکی نوٹ کی جائے گی اور تمہارا ایک درجہ بلند کیا جائے گا جہاں تک عرفہ میں تمہارے وقوف کرنے کا تعلق ہے ‘ تو اللہ تعالیٰ فرشتوں سے فرماتا ہے : اے میرے فرشتو ! میرے بندے کیوں آئے ہیں ؟ وہ عرض کرتے ہیں : یہ تیری رضا مندی اور جنت کی تلاش میں آئے ہیں تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : میں اپنے آپ کو اور اپنی مخلوق کو اس بات پر گواہ بناتا ہوں کہ میں نے ان لوگوں کی مغفرت کر دی ( خواہ ان لوگوں کے گناہ ) دنوں کی تعداد جتنے ہوں یا بارش کے قطروں کی تعداد جتنے ہوں یا ریت کے ذروں کی تعداد جتنے ہوں ( نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ) جہاں تک تمہارے جمرات کو کنکریاں مارنے کا تعلق ہے ‘ تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ’’ کوئی یہ نہیں جانتا کہ اس کی آنکھوں کی ٹھنڈک کے لئے کیا چیز پوشیدہ رکھی گئی ہے ‘ جو اس چیز کا بدلہ ہے ‘ جو وہ عمل کیا کرتے تھے ‘‘۔ جہاں تک تمہارے اپنے سر کو مونڈوانے کا تعلق ہے ‘ تو تمہارے بالوں میں سے جو بھی بال زمین پر گرتا ہے وہ تمہارے لئے قیامت کے دن نور ہو گا جہاں تک بیت اللہ سے رخصت ہونے کا تعلق ہے ‘ تو تم اپنے گناہوں سے یوں نکل جاؤ گے ‘ جیسے تم اس دن تھے جب تمہاری والدہ نے تمہیں جنم دیا تھا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبدالرحیم بن شروس ہے ‘ جس کا ذکر ابن ابوحاتم نے کہا ہے ۔ انہوں نے اس کے بارے میں کوئی جرح یا تعدیل ذکر نہیں کی ہے اس کے اوپر کے راویوں کی توثیق کی گئی ہے ۔

5652

Majma al-Zawaid #5652

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: "" «لَوْ يَعْلَمُ أَهْلُ الْجَمْعِ بِمَنْ حَلُّوا لَاسْتَبْشَرُوا بِالْفَضْلِ بَعْدَ الْمَغْفِرَةِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِي إِسْنَادِهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما reports hearing the Prophet ﷺ speak of the people of the Gathering and what they attain. > **"Were the people of the Gathering to know with Whom they have alighted, they would rejoice with bounty after forgiveness."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ’’ اگر اہل جمع کو یہ پتہ چل جائے کہ انہیں کیا نصیب ہوا ہے ‘ تو وہ مغفرت کے بعد فضیلت کی بھی خوشخبری حاصل کریں ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایسا راوی ہے ‘ جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

5653

Majma al-Zawaid #5653

عَنْ حِسْلٍ - أَحَدِ بَنِي عَامِرِ بْنِ لُؤَيٍّ - قَالَ: «مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّتِهِ - وَنَحْنُ مَعَهُ - عَلَى رَجُلٍ قَدْ فَرَغَ مِنْ حَجِّهِ فَقَالَ لَهُ: "" أَسَلِمَ لَكَ حَجُّكَ؟ "". قَالَ: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ: "" ائْتَنِفِ الْعَمَلَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي سَبْرَةَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا.

EnglishUnverified translation

Hisl of Banu Amir ibn Lu'ayy reports that the Prophet ﷺ passed in his Hajj with them beside a man who had finished his Hajj and asked whether his Hajj was sound, and upon affirmation commanded renewal of deeds. > **"Is your Hajj sound for you? Begin deeds anew."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت حسل رضی اللہ عنہ ‘ جن کا تعلق بنی عامر بن لؤی سے ہے ‘ وہ بیان کرتے ہیں : اپنے حج کے دوران نبی اکرم ﷺ کا گزر ایک شخص کے پاس سے ہوا ہم آپ کے ساتھ تھے وہ شخص حج سے فارغ ہو گیا تھا نبی اکرم ﷺ نے اس سے دریافت کیا : کیا تمہارا حج سلامت رہا ہے ؟ اس نے عرض کی : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : پھر تم نئے سرے سے عمل شروع کرو ( یعنی تمہارے گزشتہ گناہوں کی مغفرت ہو چکی ہے ) ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابوبکر بن ابوسبرہ ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔

5654

Majma al-Zawaid #5654

عَنْ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «تَابِعُوا بَيْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ ; فَإِنَّ مُتَابَعَةَ بَيْنِهِمَا تَنْفِي الْفَقْرَ وَالذُّنُوبَ كَمَا يَنْفِي الْكِيرُ خَبَثَ الْحَدِيدِ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَقَالَ: "" «فَإِنَّ مُتَابَعَةَ مَا بَيْنَهُمَا تَزِيدُ فِي الْعُمْرِ وَالرِّزْقِ، وَيَنْفِيَانِ الْفَقْرَ وَالذُّنُوبَ كَمَا يَنْفِي الْكِيرُ خَبَثَ الْحَدِيدِ» "". وَفِيهِ عَاصِمُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Amir ibn Rabi'ah رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ commanded succession between Hajj and Umrah, for succession between them removes poverty and sins as the bellows removes dross of iron, with increase in life and provision in another wording. > **"Follow between Hajj and Umrah, for succession between them removes poverty and sins as the bellows removes dross of iron. Succession between them increases life and provision, and they remove poverty and sins as the bellows removes dross of iron."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ یکے بعد دیگرے حج اور عمرہ کرو ! کیونکہ انہیں یکے بعد دیگرے کرنا غربت اور گناہوں کو یوں ختم کر دیتا ہے ، جس طرح بھٹی لوہے کے میل ( یعنی زنگ ) کو ختم کر دیتی ہے “۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ’’ ان دونوں کو یکے بعد دیگرے کرنا عمر اور رزق میں اضافہ کرتا ہے اور یہ دونوں غربت اور گناہوں کو یوں ختم کر دیتے ہیں جس طرح بھٹی لوہے کے میل ( یعنی زنگ ) کو ختم کر دیتی ہے ‘‘۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی عاصم بن عبیداللہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

5655

Majma al-Zawaid #5655

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «تَابِعُوا بَيْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ فَإِنَّهُمَا يَنْفِيَانِ الْفَقْرَ وَالذُّنُوبَ كَمَا يَنْفِي الْكِيرُ خَبَثَ الْحَدِيدِ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا بِشْرِ بْنِ الْمُنْذِرِ فَفِي حَدِيثِهِ وَهْمٌ، قَالَهُ الْعُقَيْلِيُّ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ.

EnglishUnverified translation

Jabir رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ commanded succession between Hajj and Umrah for they remove poverty and sins as the bellows removes dross of iron. > **"Follow between Hajj and Umrah, for they remove poverty and sins as the bellows removes dross of iron."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ حج اور عمرہ یکے بعد دیگز کرو ! کیونکہ یہ دونوں غربت اور گناہوں کو یوں ختم کر دیتے ہیں جس طرح بھٹی لوہے کے میل ( یعنی زنگ ) کو ختم کر دیتی ہے ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف بشر بن منذر کا معاملہ مختلف ہے اس کی نقل کردہ حدیث میں وہم پایا جاتا ہے یہ بات عقیلی نے بیان کی ہے ابن حبان نے اس راوی کو ثقہ قرار دیا ہے ۔

5656

Majma al-Zawaid #5656

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «تَابِعُوا بَيْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ ; فَإِنَّهُمَا يَنْفِيَانِ الْخَطَايَا كَمَا يَنْفِي الْكِيرُ خَبَثَ الْحَدِيدِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ حَجَّاجُ بْنُ نُصَيْرٍ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَغَيْرُهُ، وَضَعَّفَهُ النَّسَائِيُّ وَغَيْرُهُ.

EnglishUnverified translation

Ibn Umar رضي الله عنهما reports that the Messenger of Allah ﷺ commanded succession between Hajj and Umrah for they remove sins as the bellows removes dross of iron. > **"Follow between Hajj and Umrah, for they remove sins as the bellows removes dross of iron."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ حج اور عمرے کو یکے بعد دیگرے کرو کیونکہ یہ دونوں گناہوں کو یوں ختم کر دیتے ہیں جس طرح بھٹی لوہے کی میل ( یعنی زنگ ) کو ختم کر دیتی ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن نصیر ہے ‘ جسے ابن حبان اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے جبکہ امام نسائی اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا ہے ۔

5657

Majma al-Zawaid #5657

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «أَدِيمُوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ ; فَإِنَّهَا يَنْفِيَانِ الْفَقْرَ وَالذُّنُوبَ كَمَا يَنْفِي الْكِيرُ خَبَثَ الْحَدِيدِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، وَفِيهِ كَلَامٌ وَمَعَ ذَلِكَ فَحَدِيثُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Jabir رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ commanded constancy in Hajj and Umrah for they remove poverty and sins as the bellows removes dross of iron. > **"Maintain Hajj and Umrah, for they remove poverty and sins as the bellows removes dross of iron."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ حج اور عمرہ ہمیشہ کرتے رہو یہ دونوں غربت اور گناہوں کو ختم کر دیتے ہیں جس طرح بھٹی لوہے کے میل ( یعنی زنگ ) کو ختم کر دیتی ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن محمد بن عقیل ہے اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے اس کے ہمراہ اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ۔

5658

Majma al-Zawaid #5658

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «أَدِيمُوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ فَإِنَّهُمَا يَنْفِيَانِ الْفَقْرَ وَالذُّنُوبَ كَمَا يَنْفِي الْكِيرُ خَبَثَ الْحَدِيدِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ، وَفِيهِ كَلَامٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما reports that the Messenger of Allah ﷺ commanded constancy in Hajj and Umrah for they remove poverty and sins as the bellows removes dross of iron. > **"Maintain Hajj and Umrah, for they remove poverty and sins as the bellows removes dross of iron."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ حج اور عمرہ ہمیشہ کرتے رہو کیونکہ یہ دونوں غربت اور گناہوں کو یوں ختم کر دیتے ہیں جس طرح بھٹی لوہے کے میل ( یعنی زنگ ) کو ختم کر دیتی ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی علی بن زید ہے اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔

5659

Majma al-Zawaid #5659

عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ قَالَ: «رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَصَّرَ عَلَى الْمَرْوَةِ بِمِشْقَصٍ وَقَالَ: "" دَخَلَتِ الْعُمْرَةُ فِي الْحَجِّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَضَعَّفَهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَزَادَ: "" لَا صَرُورَةَ "".

EnglishUnverified translation

Jubayr ibn Mut'im رضي الله عنه reports seeing the Messenger of Allah ﷺ shorten his hair upon al-Marwah with an arrowhead, declaring the entry of Umrah into Hajj until the Resurrection, with an addition that there is no celibate abstention from pilgrimage. > **"Umrah has entered into Hajj until the Day of Resurrection. There is no Sarurah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا آپ نے مروہ ( پہاڑی ) پر چوڑے تیر کے ذریعے بال چھوٹے کروائے اور ارشاد فرمایا : قیامت کے دن تک کے لئے عمرہ حج میں داخل ہو گیا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے امام طبرانی نے معجم کبیر میں اسے ضعیف قرار دیا ہے اور یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ’’ صرورۃ ‘‘ نہیں ہو گا ‘‘ ( یعنی یہ نہیں ہو گا کہ کوئی شخص حج یا عمر ہی نہ کرے ‘ یا یہ مراد ہے کہ کوئی شخص حرم کی کسی حرمت کو پامال کرے اور پھر یہ عذر پیش کرے کہ میں تو پہلی مرتبہ آیا ہوں مجھے یہاں کے آداب و احکام کا پتہ نہیں ہے ، تو اس کا یہ عذر قابل قبول نہیں ہو گا ‘‘۔

5660

Majma al-Zawaid #5660

عَنْ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «الْعُمْرَةُ إِلَى الْعُمْرَةِ كَفَّارَةٌ لِمَا بَيْنَهُمَا مِنَ الذُّنُوبِ وَالْخَطَايَا، وَالْحَجُّ الْمَبْرُورُ لَيْسَ لَهُ جَزَاءٌ إِلَّا الْجَنَّةَ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ عَاصِمُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Amir ibn Rabi'ah رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ described Umrah to Umrah as expiation for sins and errors between them, and the accepted Hajj as rewarded only by Paradise. > **"Umrah to Umrah is expiation for what is between them of sins and errors, and the accepted Hajj has no recompense except Paradise."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ ایک عمرہ دوسرے عمرے تک درمیان میں کیے جانے والے گناہوں اور خطاؤں کا کفارہ بن جاتا ہے اور مبرور حج کی جزا صرف جنت ہے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عاصم بن عبیداللہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

5661

Majma al-Zawaid #5661

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اعْتَمَرَ ثَلَاثَ عُمَرٍ كُلُّ ذَلِكَ فِي ذِي الْقَعْدَةِ يُلَبِّي حَتَّى يَسْتَلِمَ الْحَجَرَ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، وَفِيهِ كَلَامٌ، وَقَدْ وُثِّقَ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Amr رضي الله عنهما reports that the Prophet ﷺ performed three Umrahs, all in Dhu al-Qa'dah, reciting talbiyah until touching the Stone.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے تین عمرے کیے تھے یہ سب ذی القعدہ کے مہینے میں کیے تھے اور آپ حجر اسود کا استلام کرنے تک مسلسل تلبیہ پڑھتے رہے تھے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔

5662

Majma al-Zawaid #5662

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا نَزَلَ مَرَّ الظَّهْرَانِ فِي عُمْرَتِهِ بَلَغَ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ قُرَيْشًا تَقُولُ: مَا يَتَبَاعَثُونَ مِنَ الْعَجَفِ. فَقَالَ أَصْحَابُهُ: لَوِ انْتَحَرْنَا مِنْ ظَهْرِنَا فَأَكَلْنَا مِنْ لَحْمِهِ وَحَسَوْنَا مِنْ مَرَقِهِ لَأَصْبَحْنَا غَدًا حِينَ نَدْخُلُ عَلَى الْقَوْمِ وَبِنَا جَمَامَةٌ؟ قَالَ: "" لَا تَفْعَلُوا وَلَكِنِ اجْمَعُوا لِي مِنْ أَزْوَادِكُمْ "". فَجَمَعُوا لَهُ وَبَسَطُوا الْأَنْطَاعَ فَأَكَلُوا حَتَّى تَوَلَّوْا وَحَثَا كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمْ فِي جِرَابِهِ ثُمَّ أَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى دَخَلَ الْمَسْجِدَ وَقَعَدَتْ قُرَيْشٌ نَحْوَ الْحِجْرِ فَاضْطَبَعَ بِرِدَائِهِ ثُمَّ قَالَ: "" لَا يَرَى الْقَوْمُ فِيكُمْ غَمِيزَةً "". فَاسْتَلَمَ الرُّكْنَ ثُمَّ دَخَلَ حَتَّى إِذَا تَغَيَّبَ بِالرُّكْنِ الْيَمَانِيِّ مَشَى إِلَى الرُّكْنِ الْأَسْوَدِ فَقَالَتْ قُرَيْشٌ: مَا يَرْضَوْنَ بِالْمَشْيِ أَمَا إِنَّهُمْ لَيَنْقُزُونَ نَقْزَ الظِّبَاءِ، فَفَعَلَ ذَلِكَ ثَلَاثَةَ أَشْوَاطٍ فَكَانَتْ سُنَّةً. قَالَ أَبُو الطُّفَيْلِ: فَأَخْبَرَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ ذَلِكَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَهُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما reports that when the Messenger of Allah ﷺ alighted at Marr al-Zahran in his Umrah, word reached his Companions that Quraysh said they would not be roused from emaciation. His Companions suggested slaughtering from their mounts to eat meat and sip broth for strength upon entering before the people, but he forbade it and ordered gathering of provisions. They spread leather mats, ate until satisfied, each filling his bag, then the Prophet ﷺ entered the mosque while Quraysh sat toward al-Hijr. He tucked his cloak, commanded that the people see no weakness in them, touched the Corner, walked until hidden by the Yemeni Corner then hastened to the Black Corner, whereupon Quraysh said they were not content with walking but leapt as gazelles. He did that for three circuits and it became sunnah, and Abu al-Tufayl reports Ibn Abbas informing that the Prophet ﷺ did that also in the Farewell Hajj. > **"Do not do so, but gather for me from your provisions. The people shall see no weakness in you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم ﷺ نے عمرہ کے دوران مرظہران کے مقام پر پڑاؤ کیا ، تو نبی اکرم ﷺ کے اصحاب کو یہ بات پتہ چلی کہ قریش یہ کہتے ہیں : یہ لوگ کمزوری کے باعث اٹھ ہی نہیں سکیں گے آپ کے اصحاب نے عرض کی : اگر ہم اپنی سواری کے جانوروں کو قربان کریں اور ان کا گوشت کھائیں اور ان کا شوربہ پی لیں ‘ تو اگلے دن جب ہم ان لوگوں کے سامنے آئیں گے تو ہمارے جسم چست ہوں گے نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم ایسا نہ کرو بلکہ اپنا زادراہ میرے سامنے اکٹھا کرو ان لوگوں نے نبی اکرم ﷺ کے سامنے اسے اکٹھا کیا انہوں نے ایک دستر خوان بچھا دیا اور کھانا کھایا اور واپس چلے گئے اور ان میں سے ہر ایک شخص نے اپنے تھیلے کو بھی بھر لیا پھر نبی اکرم ﷺ ( مکہ مکرمہ ) تشریف لائے یہاں تک کہ آپ مسجد میں داخل ہوئے قریش حطیم والی طرف بیٹھے ہوئے تھے نبی اکرم ﷺ نے اپنی چادر کو اضطباع کے طور پر لپیٹا پھر آپ نے ارشاد فرمایا : یہ لوگ تمہارے اندر کمزوری نہ دیکھیں پھر آپ نے رکن کا استلام کیا پھر آپ داخل ہوئے یہاں تک کہ جب آپ رکن یمانی کے پیچھے چھپ گئے تو آپ عام رفتار سے چل کے گئے قریش نے کہا : یہ چلنے پر راضی نہیں ہیں ۔ یہ تو ہرنوں کی طرح دوڑ رہے ہیں نبی اکرم ﷺ نے تین چکروں میں ایسا کیا ‘ تو یہ چیز سنت بن گئی ۔ ابوطفیل نامی راوی بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھے یہ بات بتائی ہے حجتہ الوداع کے موقع پر نبی اکرم ﷺ نے ایسا کیا تھا ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور یہ روایت ’’ صحیح ‘‘ میں اختصار کے ساتھ منقول ہے امام احمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

5663

Majma al-Zawaid #5663

وَعَنْ جَابِرٍ «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اعْتَمَرَ ثَلَاثَ عُمَرٍ كُلُّهَا فِي ذِي الْقَعْدَةِ إِحْدَاهُنَّ زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ، وَالْأُخْرَى فِي صُلْحِ قُرَيْشٍ، وَالْأُخْرَى مَرْجِعَهُ مِنَ الطَّائِفِ زَمَنَ حُنَيْنٍ مِنَ الْجِعْرَانَةِ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Jabir رضي الله عنه reports that the Prophet ﷺ performed three Umrahs, all in Dhu al-Qa'dah: one at the time of al-Hudaybiyah, another at the truce with Quraysh, and another upon return from Ta'if at the time of Hunayn from al-Ji'ranah.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے تین عمرے کیے تھے یہ سب ذی القعدہ کے مہینے میں کیے تھے ان میں سے ایک حدیبیہ کے زمانے میں کیا تھا دوسرا قریش کے ساتھ صلح کے موقع پر کیا تھا اور تیسرا طائف سے آپ کی واپسی پر ہوا تھا جو غزوہ حنین کے موقع پر آپ نے جعرانہ سے کیا تھا ۔ یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

5664

Majma al-Zawaid #5664

وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ: «اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثًا قَبْلَ حَجِّهِ فِي ذِي الْقَعْدَةِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبَ اخْتُلِفَ فِي سَمَاعِهِ مِنْ عُمَرَ.

EnglishUnverified translation

Umar ibn al-Khattab رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ performed three Umrahs before his Hajj in Dhu al-Qa'dah.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے حج سے پہلے ذی قعدہ کے مہینے میں تین عمرے کیے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں البتہ سعید بن مسیب کے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے سماع کرنے کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے ۔

5665

Majma al-Zawaid #5665

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ «أَنَّ عُمَرَ اسْتَأْذَنَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْعُمَرِ فَأَذِنَ لَهُ فَقَالَ: "" يَا أَخِي أَشْرِكْنَا فِي صَالِحِ دُعَائِكَ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ عَاصِمُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Umar رضي الله عنهما reports that Umar رضي الله عنه sought the Prophet's ﷺ permission for Umrah, he permitted him and asked for inclusion in righteous supplication. > **"O my brother, include us in your righteous supplication."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم ﷺ سے عمرہ کرنے کی اجازت مانگی نبی اکرم ﷺ نے انہیں اجازت دے دی اور ارشاد فرمایا : اے میرے بھائی اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں بھی شریک رکھنا ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عاصم بن عبیداللہ ہے اور وہ ضعیف ہے -

5666

Majma al-Zawaid #5666

وَعَنِ الْبَرَاءِ قَالَ: «اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ أَنْ يَحُجَّ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Bara رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ performed Umrah before performing Hajj.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے حج کرنے سے پہلے عمرہ کیا تھا ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

5667

Majma al-Zawaid #5667

وَعَنْ أَبِي بَكْرَةَ «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ فِي بَعْضِ عُمَرِهِ وَخَرَجْتُ مَعَهُ، مَا قَطَعَ التَّلْبِيَةَ حَتَّى اسْتَلَمَ الْحَجَرَ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Abu Bakrah رضي الله عنه reports going with the Prophet ﷺ in one of his Umrahs, and he did not cease talbiyah until touching the Stone.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوبکرۃ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ عمرہ کرنے کے لئے روانہ ہوئے میں آپ کے ساتھ تھا آپ نے تلبیہ پڑھنا اس وقت تک ” موقوف ‘‘ نہیں کیا جب تک حجر اسود کا استلام نہیں کر لیا ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے ‘ جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

5668

Majma al-Zawaid #5668

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الطَّائِفِ نَزَلَ الْجِعْرَانَةَ، فَقَسَمَ بِهَا الْغَنَائِمَ، ثُمَّ اعْتَمَرَ مِنْهَا، وَذَلِكَ لِلَيْلَتَيْنِ بَقِيَتَا مِنْ شَوَّالٍ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى مِنْ رِوَايَةِ عُتْبَةَ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما reports that when the Messenger of Allah ﷺ returned from Ta'if he alighted at al-Ji'ranah, distributed spoils there, then performed Umrah from it with two nights remaining of Shawwal.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم ﷺ طائف سے تشریف لائے تو آپ نے جعرانہ کے مقام پر پڑاؤ کیا وہاں آپ نے مال غنیمت تقسیم کیا پھر وہاں سے عمرہ کیا اس وقت شوال کا مہینہ ختم ہونے میں دو دن باقی رہ گئے تھے ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے عتبہ کی نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے ‘ جو حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا غلام ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔

5669

Majma al-Zawaid #5669

«وَعَنْ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى بْنِ سَلَامَةَ ذَكَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَزَلَ عَلَيْهِ بِالْجِعْرَانَةِ وَأَجْزَرَهُ، وَظَلَّ عِنْدَهُ وَأَمْسَى عِنْدَهُ خَالِدٌ، ثُمَّ نَدَبَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْعُمْرَةَ، فَانْحَدَرَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمُحَرِّشٌ إِلَى الْوَادِي حَتَّى بَلَغَا مَكَانًا يُقَالُ لَهُ: أَشْقَابُ، فَقَالَ: " يَا مُحَرِّشُ، مَاءُ هَذَا الْمَكَانِ إِلَى الْكُدَّةِ وَمَاءُ الْكُدَّةِ لِخَالِدٍ، وَمَا بَقِيَ مِنَ الْوَادِي لَكَ يَا مُحَرِّشُ "، ثُمَّ إِنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَحَصَ الْكُرَّ بِيَدِهِ فَانْبَجَسَ الْمَاءُ فَشَرِبَ ثُمَّ نَدَبَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْعُمْرَةَ فَأَرْسَلَ خَالِدٌ إِلَى رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِهِ يُقَالُ لَهُ مُحَرِّشُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَالنَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَئِذٍ خَائِفٌ مِنْ دُخُولِ مَكَّةَ فَسَارَ بِهِ طَرِيقًا يَعْدِلُهُ عَنْ مَنْ يَخَافُ مِنْ ذَلِكَ قَدْ عَرَفَهَا، حَتَّى قَضَى نُسُكَهُ وَأَصْبَحْنَا عِنْدَ خَالِدٍ رَاجِعِينَ وَأَحَلَّهُ مُحَرِّشٌ - يَعْنِي خَلْقَهُ - رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ».

EnglishUnverified translation

Khalid ibn Abd al-Uzza ibn Salamah reports that the Messenger of Allah ﷺ alighted upon him at al-Ji'ranah, accepted his slaughtered hospitality, remained with him by day and night, then called to Umrah. The Prophet ﷺ descended with Muharrish to the valley until a place called Ashqab, apportioned its water to al-Kuddah, al-Kuddah's water to Khalid, and the rest of the valley to Muharrish. The Prophet ﷺ then struck the mound with his hand, water gushed and he drank, called again to Umrah, and Khalid sent to his companion Muharrish ibn Abdillah while the Prophet ﷺ feared entering Makkah, so he conducted him by a road avoiding those feared until he completed his rites and they returned to Khalid, where Muharrish released him from ihram by shaving. > **"O Muharrish, the water of this place is to al-Kuddah, the water of al-Kuddah is for Khalid, and what remains of the valley is yours, O Muharrish."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت خالد بن عبدالعزی بن سلامہ رضی اللہ عنہ نے یہ بات نقل کی ہے : نبی اکرم ﷺ نے ’’ جعرانہ ‘‘ میں ان کے ہاں پڑاؤ کیا اور انہیں ذبح کرنے کے لیے ایک بکری دی ‘ آپ ان کے ہاں رہے ان کے ہاں شام ہو گئی ‘ پھر نبی اکرم ﷺ نے عمرہ کرنے کا ارادہ کیا ، نبی اکرم ﷺ بالائی علاقے سے نیچے کی طرف تشریف لائے آپ کے ساتھ حضرت محرش رضی اللہ عنہ بھی تھے یہ دونوں اس جگہ پر پہنچے جس کا نام اشقاب ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اے محرش اس جگہ سے لے کے کدہ تک جو پانی ہے اور کدہ کا پانی یہ خالد کی ملکیت ہے اور جو نشیبی علاقے کا باقی حصہ ہے : اے محرش وہ تمہارا ہوا پھر نبی اکرم ﷺ نے اپنے دست مبارک کے ذریعے زمین کو کریدا تو اس میں سے پانی نکل آیا آپ نے اسے پیا پھر آپ نے عمرہ کرنے کا رادہ کیا حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے آپ کے اصحاب میں سے ایک صاحب کو پیغام بھیجا جن کا نام محرش بن عبداللہ تھا اس وقت نبی اکرم ﷺ مکہ میں داخل ہونے کے حوالے سے پریشان تھے تو وہ آپ کو ساتھ لے کر ایک ایسے راستے سے گزرے تھے جس سے وہ واقف تھے اور وہاں کوئی اندیشہ نہیں تھا یہاں تک کہ آپ نے قربانی مکمل کر لی اور ہم حضرت خالد رضی اللہ عنہ کے پاس ہی رہے ‘ واپس آتے ہوئے حضرت محرش رضی اللہ عنہ نے آپ کو حلال کروایا تھا ، یعنی آپ کے بال مونڈ دیے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے ‘ جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

5670

Majma al-Zawaid #5670

عَنْ عَلِيٍّ - يَعْنِي ابْنَ أَبِي طَالِبٍ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" عُمْرَةٌ فِي رَمَضَانَ تَعْدِلُ حَجَّةً "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ حَرْبُ بْنُ عَلِيٍّ ; وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ali ibn Abi Talib رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ equated Umrah in Ramadan with Hajj. > **"An Umrah in Ramadan equals a Hajj."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ رمضان میں عمرہ کرنا حج کے برابر ہے ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی حرب بن علی ہے میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے اس کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

5671

Majma al-Zawaid #5671

«وَعَنْ أَبِي طَلِيقٍ أَنَّ امْرَأَتَهُ قَالَتْ لَهُ - وَلَهُ جَمَلٌ وَنَاقَةٌ: أَعْطِنِي جَمَلَكَ أَحُجُّ عَلَيْهِ، قَالَ: هُوَ حَبِيسٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، قَالَتْ: إِنَّهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَنْ أَحُجَّ عَلَيْهِ، قَالَتْ: فَأَعْطِنِي النَّاقَةَ، وَحُجَّ عَلَى جَمَلِكَ، قَالَ: لَا أُوثِرُ عَلَى نَفْسِي أَحَدًا قَالَتْ: فَأَعْطِنِي مِنْ نَفَقَتِكَ، قَالَ: مَا عِنْدِي فَضْلٌ عَنْ مَا أَخْرُجُ بِهِ وَأَدَعُ لَكُمْ وَلَوْ كَانَ مَعِي لَأَعْطَيْتُكِ، قَالَتْ: فَإِذْ فَعَلْتَ مَا فَعَلْتَ فَأَقْرِئْ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - السَّلَامَ إِذَا لَقِيتَهُ وَقُلْ لَهُ الَّذِي قُلْتُ لَكَ، فَلَمَّا لَقِيَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَقْرَأَهُ مِنْهَا السَّلَامَ وَأَخْبَرَهُ بِالَّذِي قَالَتْ لَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" صَدَقَتْ أُمُّ طَلِيقٍ ; لَوْ أَعْطَيْتَهَا جَمَلَكَ كَانَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَلَوْ أَعْطَيْتَهَا مِنْ نَفَقَتِكَ أَخْلَفَهَا اللَّهُ لَكَ ""، قُلْتُ: فَمَا يَعْدِلُ الْحَجَّ مَعَكَ؟ قَالَ: "" عُمْرَةٌ فِي رَمَضَانَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ عَنْهُ، وَرِجَالُ الْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abu Taliq رضي الله عنه reports that his wife, while he owned a camel and a she-camel, asked for his camel to perform Hajj. He said it was confined in Allah's path, she replied Hajj upon it is in Allah's path, asked for the she-camel while he performed Hajj upon his camel, but he refused to prefer anyone over himself. She asked from his expenditure, he said he had no surplus beyond his going and leaving for them though he would give had he possessed it. She then asked him to convey her greeting to the Messenger of Allah ﷺ and inform him. When he met him ﷺ he conveyed her greeting and her words, and the Prophet ﷺ affirmed her truth, said giving the camel would have been in Allah's path and giving from expenditure would be replaced by Allah, and when asked what equals Hajj with him, answered Umrah in Ramadan. > **"Umm Taliq has spoken truly. Had you given her your camel it would have been in Allah's path, and had you given her from your expenditure Allah would have replaced it for you. An Umrah in Ramadan."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوطلیق رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ان کی اہلیہ نے ان صاحب سے کہا ان کے پاس ایک اونٹ اور ایک اونٹنی ( ان کی اہلیہ نے کہا : ) آپ اپنا اونٹ مجھے دے دیں تاکہ میں اس پر حج کر لوں ۔ انہوں نے جواب دیا وہ اللہ کی راہ کے لئے وقف ہے اس خاتون نے کہا : اگر میں اس پر حج کر لوں گی تو یہ بھی اللہ کی راہ میں ہو گا پھر اس خاتون نے کہا : آپ مجھے اونٹنی دے دیں آپ اپنے اونٹ پر حج کر لیں ان صاحب نے کہا : میں اپنی ذات کے حوالے سے کسی کو ترجیح نہیں دوں گا اس خاتون نے کہا : آپ مجھے اپنا خرچ دے دیں ۔ انہوں نے کہا : میرے پاس اضافی خرچ نہیں ہے صرف وہ ہے ‘ جس کے ساتھ میں خود روانہ ہو سکتا ہوں ۔ اور تم لوگوں کو چھوڑ جاؤں گا اگر میرے پاس ہوتا تو وہ میں تمہیں دے دیتا اس خاتون نے کہا : آپ نے جو بھی کرنا ہے وہ کریں لیکن جب آپ کی نبی اکرم ﷺ سے ملاقات ہو ‘ تو نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں سلام عرض کیجئے گا اور یہ بات کہہ دیجئے گا جو میں نے آپ سے کہی ہے جب ان کی ملاقات نبی اکرم ﷺ سے ہوئی تو انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو اس خاتون کا سلام پیش کیا اور آپ کو اس بارے میں بتایا کہ اس خاتون نے ان سے جو کہا تھا تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ام طلیق نے صحیح کہا ہے اگر تم اپنا اونٹ اسے دے دو گے تو تمہارا اونٹ اللہ کی ہی راہ میں شمار ہو گا اور اگر تم اپنے خرچ میں سے اسے دو گے تو اللہ تعالیٰ تمہیں اس کی جگہ مزید عطا کرے گا راوی کہتے ہیں : میں نے دریافت کیا : کون سی چیز حج کے برابر ہو سکتی ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : رمضان میں عمرہ کرنا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور امام بزار نے اختصار کے ساتھ ان صحابی کے حوالے سے نقل کی ہے امام بزار کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

5672

Majma al-Zawaid #5672

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَابْنِ الزُّبَيْرِ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «عُمْرَةٌ فِي رَمَضَانَ تَعْدِلُ حَجَّةً» "". قُلْتُ: حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي الصَّحِيحِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما and Ibn al-Zubayr رضي الله عنهما report that the Prophet ﷺ equated Umrah in Ramadan with Hajj. > **"An Umrah in Ramadan equals a Hajj."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ رمضان میں عمرہ کرنا حج کے برابر ہے “۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول حدیث ’’ صحیح ‘‘ میں مذکور ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

5673

Majma al-Zawaid #5673

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - اعْتَمَرَ فِي رَمَضَانَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ مُسْلِمُ بْنُ كَيْسَانَ الْأَعْوَرُ، وَهُوَ ضَعِيفٌ لِاخْتِلَاطِهِ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما reports that the Prophet ﷺ performed Umrah in Ramadan.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے رمضان میں عمرہ کیا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی مسلم بن کیسان اعور ہے اور وہ اختلاط کا شکار ہونے کی وجہ سے ضعیف ہے ۔

5674

Majma al-Zawaid #5674

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «عُمْرَةٌ فِي رَمَضَانَ كَحَجَّةٍ مَعِي» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ هِلَالٌ مَوْلَى أَنَسٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Malik رضي الله عنه reports hearing the Messenger of Allah ﷺ liken Umrah in Ramadan to Hajj with him. > **"An Umrah in Ramadan is like a Hajj with me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ’’ رمضان میں عمرہ کرنا میرے ساتھ حج کرنے کی مانند ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ہلال ہے ‘ جو حضرت انس رضی اللہ عنہ کا غلام ہے اور وہ ضیف ہے ۔

5675

Majma al-Zawaid #5675

وَعَنْ عُرْوَةَ الْبَارِقِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «عُمْرَةٌ فِي رَمَضَانَ تَعْدِلُ حَجَّةً» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ، وَفِيهِ كَلَامٌ كَثِيرٌ وَقَدْ وَثَّقَهُ شُعْبَةُ وَسُفْيَانُ.

EnglishUnverified translation

Urwah al-Bariqi رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ equated Umrah in Ramadan with Hajj. > **"An Umrah in Ramadan equals a Hajj."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عروہ بارقی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ رمضان میں عمرہ کرنا حج کے برابر ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے اس کے بارے میں بہت زیادہ کلام کیا گیا ہے شعبہ اور سفیان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔

5676

Majma al-Zawaid #5676

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِلْمَرْوَةِ: "" هَذِهِ الْمَنْحَرُ، وَكُلُّ فِجَاجِ مَكَّةَ وَطُرُقِهَا مَنْحَرٌ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالصَّغِيرِ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْعُمَرِيُّ، وَفِيهِ كَلَامٌ، وَقَدْ وُثِّقَ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما reports that the Messenger of Allah ﷺ said to al-Marwah that it is a place of sacrifice with all passes and roads of Makkah as places of sacrifice. > **"This is the place of sacrifice, and all passes of Makkah and its roads are places of sacrifice."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے مروہ کے بارے میں فرمایا تھا : یہ قربانی کی جگہ ہے اور مکہ کا ہر راستہ اور ہر گلی قربانی کی جگہ ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم صغیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن عمر عمری ہے اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔

5677

Majma al-Zawaid #5677

عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «أَمِيرَانِ وَلَيْسَا بِأَمِيرَيْنِ: الْمَرْأَةُ تَحُجُّ مَعَ الْقَوْمِ فَتَحِيضُ قَبْلَ أَنْ تَطُوفَ بِالْبَيْتِ طَوَافَ الزِّيَارَةِ ; فَلَيْسَ لِأَصْحَابِهَا أَنْ يَنْفِرُوا حَتَّى يَسْتَأْمِرُوهَا، وَالرَّجُلُ يَتْبَعُ الْجِنَازَةَ فَيُصَلِّي عَلَيْهَا لَيْسَ لَهُ أَنْ يَرْجِعَ حَتَّى يَسْتَأْمِرَ أَهْلَ الْجِنَازَةِ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَقَالَ: لَا نَعْلَمُهُ بِهَذَا اللَّفْظِ مِنْ وَجْهٍ أَحْسَنَ مِنْ هَذَا.

EnglishUnverified translation

Jabir رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ described two leaders who are not free leaders: a woman performing Hajj with the people who menstruates before tawaf al-ziyarah, whose companions may not depart until consulting her, and a man following a funeral who prays over it and may not return until consulting its people. > **"Two leaders yet not leaders: a woman performing Hajj with the people who menstruates before circumambulating the House the tawaf of visitation; her companions may not depart until they consult her. And a man following a funeral who prays over it; he may not return until he consults the people of the funeral."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ دو قسم کے امیر ایسے ہیں جو در حقیقت امیر نہیں ہیں ایک وہ عورت جو کچھ لوگوں کے ساتھ حج کے لئے جاتی ہے اور پھر بیت اللہ کا طواف زیارت کرنے سے پہلے اسے حیض آ جاتا ہے ‘ تو اب اس کے ساتھیوں کو اس بات کا حق نہیں ہے کہ اس سے اجازت لئے بغیر روانہ ہوں اور وہ شخص جو جنازے کے ساتھ جاتا ہے اور نماز جنازہ ادا کرتا ہے اسے واپس جانے کا حق نہیں ہے جب تک وہ جنازے کے متعلقین سے اجازت نہیں لے لیتا ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے وہ فرماتے ہیں : ان الفاظ میں یہ روایت اس سے زیادہ عمدہ سند کے ساتھ ہمارے علم میں نہیں ہے ۔

5678

Majma al-Zawaid #5678

عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ بِمِنًى يَقُولُ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ النَّفْرَ غَدًا فَلَا يَنْفِرَنَّ أَحَدٌ حَتَّى يَطُوفَ بِالْبَيْتِ، فَإِنَّ آخِرَ النُّسُكِ الطَّوَافُ. رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ ابْنُ إِسْحَاقَ، وَهُوَ ثِقَةٌ وَلَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn Umar رضي الله عنهما reports hearing Umar ibn al-Khattab رضي الله عنه proclaim at Mina that departure is on the morrow and none should depart until circumambulating the House, for the last rite is tawaf.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو منی میں یہ بیان کرتے ہوئے سنا : اے لوگو ! کل روانگی ہے کوئی بھی شخص اس وقت تک ہرگز روانہ نہ ہو جب تک وہ بیت اللہ کا طواف نہیں کر لیتا کیونکہ مناسک میں آخری چیز طواف ہے ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابن اسحاق ہے اور وہ ثقہ ہے لیکن وہ تدلیس کرنے والا ہے اس کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

5679

Majma al-Zawaid #5679

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أُخْبِرَ أَنَّ صَفِيَّةَ حَاضَتْ قَالَ: "" لَا أَرَاهَا إِلَّا حَابِسَتَنَا ""، قَالُوا: إِنَّهَا قَدْ أَفَاضَتْ يَوْمَ النَّحْرِ، قَالَ: "" فَلْتَنْفِرْ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، وَفِيهِ كَلَامٌ قَدْ وُثِّقَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah رضي الله عنه reports that the Prophet ﷺ was informed that Safiyyah رضي الله عنها menstruated and thought she would detain them, but when told she had performed ifadah on the Day of Sacrifice he permitted departure. > **"I see her but detaining us. Let her depart."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کو یہ بات بتائی گئی کہ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کو حیض آ گیا ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اس کے بارے میں میرا یہ خیال ہے کہ وہ ہمیں روکنے پر مجبور کر دے گی لوگوں نے عرض کی ۔ انہوں نے قربانی کے دن طواف افاضہ کر لیا تھا نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : پھر وہ روانہ ہو سکتی ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عمرو ہے اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے اس کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

5680

Majma al-Zawaid #5680

وَعَنْ عَائِشَةَ وَأُمِّ سَلَمَةَ قَالَتَا: «حَاضَتْ صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَيٍّ قَبْلَ النَّفْرِ فَدَخَلَ عَلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهِيَ تَبْكِي فَقَالَ: "" أَحَابِسَتَنَا أَنْتِ؟ هَلْ كُنْتِ أَفَضْتِ يَوْمَ النَّحْرِ؟ ""، قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ: "" فَانْفِرِي». قُلْتُ: حَدِيثُ عَائِشَةَ فِي الصَّحِيحِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Aishah رضي الله عنها and Umm Salamah رضي الله عنها report that Safiyyah bint Huyayy رضي الله عنها menstruated before departure, the Messenger of Allah ﷺ entered upon her while she wept, asked whether she would detain them and whether she had performed ifadah on the Day of Sacrifice, and upon affirmation permitted departure. > **"Are you detaining us? Had you performed ifadah on the Day of Sacrifice? Then depart."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اور سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : صفیہ بنت حیی کو روانگی سے پہلے حیض آ گیا نبی اکرم ﷺ ان کے پاس تشریف لے گئے تو وہ رو رہی تھیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کیا تم ہمیں رکنے پر مجبور کرو گی ؟ کیا تم نے قربانی کے دن طواف افاضہ نہیں کر لیا تھا ؟ انہوں نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : پھر تم روانہ ہو جاؤ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں ) میں یہ کہتا ہوں : سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے منقول حدیث ’’ صحیح ‘‘ میں مذکور ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

5681

Majma al-Zawaid #5681

وَعَنْ أَنَسٍ «أَنَّ أُمَّ سُلَيْمٍ حَاضَتْ بَعْدَمَا أَفَاضَتْ، فَأَمَرَهَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ تَنْفِرَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Anas رضي الله عنه reports that Umm Sulaym رضي الله عنها menstruated after performing ifadah, and the Prophet ﷺ commanded her to depart.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہ کو طواف افاضہ کرنے کے بعد حیض آ گیا تو نبی اکرم ﷺ نے انہیں یہ ہدایت کی کہ وہ روانہ ہو جائیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

5682

Majma al-Zawaid #5682

عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ: «مِنَ السُّنَّةِ النُّزُولُ بِالْأَبْطَحِ عَشِيَّةَ النَّفْرِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Umar ibn al-Khattab رضي الله عنه reports that alighting at al-Abtah on the evening of departure is from the sunnah.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : سنت یہ ہے کہ روانگی کی شام وادی ابطح میں پڑاؤ کیا جائے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

5683

Majma al-Zawaid #5683

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: «جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: إِنَّ أَبِي مَاتَ وَلَمْ يَحُجَّ حَجَّةَ الْإِسْلَامِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ عَلَى أَبِيكَ دَيْنٌ أَكُنْتَ تَقْضِيهِ عَنْهُ؟ ""، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: "" فَإِنَّهُ دَيْنٌ عَلَيْهِ فَاقْضِهِ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Malik رضي الله عنه reports a man coming to the Prophet ﷺ saying his father died without performing the Hajj of Islam, and the Messenger of Allah ﷺ likened it to a debt upon his father to be fulfilled. > **"Tell me, were a debt upon your father, would you settle it for him? It is a debt upon him, so settle it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی : میرے والد کا انتقال ہو گیا ہے وہ فرض حج نہیں کر سکے نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اس بارے میں تمہاری کیا رائے ہے ؟ اگر تمہارے والد کے ذمہ قرض ہوتا تو کیا تم نے اس کی طرف سے اسے ادا کر دینا تھا ؟ اس شخص نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : پھر یہ بھی اس کے ذمہ لازم قرض ہے تم اسے ادا کرو ۔ یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

5684

Majma al-Zawaid #5684

وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ «أَنَّ امْرَأَةً جَاءَتْ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَحُجُّ عَنْ أُمِّي وَقَدْ مَاتَتْ؟ قَالَ: "" أَرَأَيْتِ لَوْ كَانَ عَلَى أُمِّكِ دَيْنٌ فَقَضَيْتِيهِ أَلَيْسَ كَانَ مَقْبُولًا مِنْكِ؟ ""، قَالَتْ: بَلَى، فَأَمَرَهَا أَنْ تَحُجَّ عَنْهَا». «وَجَاءَتِ امْرَأَةٌ فَقَالَتْ: أَحُجُّ بِابْنِي، وَهُوَ مُرْضَعٌ أَوْ صَغِيرٌ قَالَ: "" نَعَمْ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ سُوَيْدٌ أَبُو حَاتِمٍ وَثَّقَهُ أَبُو زُرْعَةَ وَابْنُ مَعِينٍ فِي رِوَايَةٍ وَضَعَّفَهُ النَّسَائِيُّ وَابْنُ مَعِينٍ فِي رِوَايَةٍ.

EnglishUnverified translation

Uqbah ibn Amir رضي الله عنه reports a woman coming to the Prophet ﷺ asking whether she may perform Hajj for her deceased mother, and he likened it to a debt settled with acceptance, commanding her to perform Hajj for her. Another woman asked whether she may take her suckling or small son for Hajj, and he affirmed. > **"Tell me, were a debt upon your mother and you settled it, would it not be accepted from you? Perform Hajj for her. Yes."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک خاتون نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا میں اپنی والدہ کی طرف سے حج کر لوں جن کا انتقال ہو چکا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اس بارے میں تمہاری کیا رائے ہے اگر تمہاری ماں کے ذمہ قرض ہوتا اور تم اسے ادا کر دیتی تو کیا وہ تمہاری طرف سے مقبول نہیں ہونا تھا ؟ اس خاتون نے جواب دیا : جی ہاں ! ( یعنی ہونا تھا ) تو نبی اکرم ﷺ نے اس خاتون کو یہ ہدایت کی کہ وہ اس ( اپنی والدہ ) کی طرف سے حج کر لے ۔ ایک خاتون آئی اور اس نے عرض کی : میں اپنے بیٹے کے ساتھ حج کرتی ہوں وہ دودھ پیتا بچہ تھا یا کسن تھا تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ٹھیک ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی سوید ابوحاتم ہے ‘ جسے ابوزرعہ نے اور ایک روایت کے مطابق یحیی بن معین نے ثقہ قرار دیا ہے امام نسائی نے اور ایک روایت کے مطابق یحیی بن معین نے اسے ضعیف کہا ہے ۔

5685

Majma al-Zawaid #5685

وَعَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «مَنْ حَجَّ عَنْ أَبِيهِ أَوْ عَنْ أُمِّهِ أَجْزَأَ ذَلِكَ عَنْهُ وَعَنْهُمَا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ.

EnglishUnverified translation

Zayd ibn Arqam رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ ruled that Hajj performed for one's father or mother suffices for him and for them. > **"Whoever performs Hajj for his father or his mother, that suffices for him and for them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص اپنے باپ یا اپنی ماں کی طرف سے حج کرتا ہے ‘ تو یہ اس شخص کی طرف سے اور ان دونوں کی طرف سے ادا ہو جائے گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ‘ جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔

5686

Majma al-Zawaid #5686

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «مَنْ حَجَّ عَنْ مَيِّتٍ فَلِلَّذِي حَجَّ عَنْهُ مِثْلُ أَجْرِهِ، وَمَنْ فَطَّرَ صَائِمًا فَلَهُ مِثْلُ أَجْرِهِ، وَمَنْ دَعَا إِلَى خَيْرٍ فَلَهُ مِثْلُ أَجْرِ فَاعِلِهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ بْنِ بَهْرَامَ ; وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ promised one who performs Hajj for a deceased the like of his reward, one who breaks a faster's fast the like of his reward, and one who calls to good the like of its doer's reward. > **"Whoever performs Hajj for a deceased, the one performed for has the like of his reward. Whoever breaks a faster's fast has the like of his reward. Whoever calls to good has the like of the reward of its doer."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ جو شخص کسی میت کی طرف سے حج کرتا ہے ‘ تو جس کی طرف سے حج کیا گیا ہے اسے بھی اس شخص کی مانند اجر ملتا ہے اور جو شخص روزہ دار کو افطاری کرواتا ہے ‘ تو اسے بھی اس ( روزہ دار ) کی مانند اجر ملتا ہے اور جو شخص بھلائی کی طرف دعوت دیتا ہے ‘ تو اس پر عمل کرنے والے کے اجر کی مانند اسے بھی اجر ملتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی علی بن یزید بن بہرام ہے میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے اور اس کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

5687

Majma al-Zawaid #5687

عَنْ سَوْدَةَ قَالَتْ: «جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: إِنَّ أَبِي شَيْخٌ كَبِيرٌ لَا يَسْتَطِيعُ الْحَجَّ؟ قَالَ: "" أَرَأَيْتُكَ لَوْ كَانَ عَلَى أَبِيكَ دَيْنٌ فَقَضَيْتَهُ عَنْهُ قُبِلَ مِنْكَ؟ ""، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: "" فَاللَّهُ أَرْحَمُ، حُجَّ عَنْ أَبِيكَ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Sawdah رضي الله عنها reports a man coming to the Messenger of Allah ﷺ saying his father was an aged elder unable to perform Hajj, and the Prophet ﷺ likened it to a debt settled with acceptance, declaring Allah more merciful and commanding Hajj for his father. > **"Tell me, were a debt upon your father and you settled it for him, would it be accepted from you? Allah is more merciful. Perform Hajj for your father."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ سودہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں ایک شخص نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی : میرے والد بوڑھے عمر رسیدہ شخص ہیں وہ حج کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے ہیں نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اس بارے میں تمہارا کیا خیال ہے اگر تمہارے والد کے ذمہ قرض ہوتا اور تم اس کی طرف سے اس کو ادا کرتے تو وہ تمہاری طرف سے قبول ہو جاتا ؟ اس نے جواب دیا : جی ہاں ! نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تو اللہ تعالی زیادہ رحم کرنے والا ہے تم اپنے والد کی طرف سے حج کرو ۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔