Majma al-Zawaid #5648
عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: «كُنْتُ جَالِسًا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَسْجِدِ مِنًى، فَأَتَاهُ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ وَرَجُلٌ مِنْ ثَقِيفٍ فَسَلَّمَا، ثُمَّ قَالَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، جِئْنَا نَسْأَلُكَ. فَقَالَ: "" إِنْ شِئْتُمَا أَخْبَرْتُكُمَا بِمَا جِئْتُمَا تَسْأَلَانِي عَنْهُ فَعَلْتُ، وَإِنْ شِئْتُمَا أَنْ أُمْسِكَ فَعَلْتُ؟ "". فَقَالَا: أَخْبِرْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ الثَّقَفِيُّ لِلْأَنْصَارِيِّ: سَلْ. فَقَالَ: أَخْبِرْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ!! فَقَالَ: "" جِئْتَنِي تَسْأَلُنِي عَنْ مَخْرَجِكَ مِنْ بَيْتِكَ تَؤُمُّ الْبَيْتَ الْحَرَامَ وَمَا لَكَ فِيهِ؟ وَعَنْ رَكْعَتَيْكَ بَعْدَ الطَّوَافِ وَمَا لَكَ فِيهِمَا؟ وَعَنْ طَوَافِكَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَمَا لَكَ فِيهِ؟ وَعَنْ وُقُوفِكَ عَشِيَّةَ عَرَفَةَ وَمَا لَكَ فِيهِ؟ وَعَنْ رَمْيِكَ الْجِمَارَ وَمَا لَكَ فِيهِ؟ وَعَنْ نَحْرِكَ وَمَا لَكَ فِيهِ؟ وَعَنْ حَلْقِكَ رَأَسَكَ وَمَا لَكَ فِيهِ؟ وَعَنْ طَوَافِكَ بِالْبَيْتِ بَعْدَ ذَلِكَ وَمَا لَكَ فِيهِ؟ مَعَ الْإِفَاضَةِ؟ "". فَقَالَ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَعَنْ هَذَا جِئْتُ أَسْأَلُكَ. قَالَ: "" فَإِنَّكَ إِذَا خَرَجْتَ مِنْ بَيْتِكَ تَؤُمُّ الْبَيْتَ الْحَرَامَ لَا تَضَعُ نَاقَتُكَ خُفًّا وَلَا تَرْفَعُهُ إِلَّا كَتَبَ اللَّهُ لَكَ بِهِ حَسَنَةً، وَمَحَا عَنْكَ خَطِيئَةً، وَأَمَّا رَكْعَتَاكَ بَعْدَ الطَّوَافِ كَعِتْقِ رَقَبَةٍ مِنْ بَنِي إِسْمَاعِيلَ، وَأَمَّا طَوَافُكَ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ بَعْدَ ذَلِكَ كَعِتْقِ سَبْعِينَ رَقَبَةً، وَأَمَّا وُقُوفُكَ عَشِيَّةَ عَرَفَةَ فَإِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَهْبِطُ إِلَى سَمَاءِ الدُّنْيَا فَيُبَاهِي بِكُمُ الْمَلَائِكَةَ يَقُولُ: عِبَادِي جَاءُونِي شُعْثًا مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ يَرْجُونَ جَنَّتِي، فَلَوْ كَانَتْ ذُنُوبُكُمْ كَعَدَدِ الرَّمْلِ أَوْ كَقَطْرِ الْمَطَرِ أَوْ كَزَبَدِ الْبَحْرِ لَغَفَرَهَا - أَوْ لَغَفَرْتُهَا - أَفِيضُوا عِبَادِي مَغْفُورًا لَكُمْ وَلِمَنْ شَفَعْتُمْ لَهُ. وَأَمَّا رَمْيُكَ الْجِمَارَ فَلَكَ بِكُلِّ حَصَاةٍ رَمَيْتَهَا كَبِيرَةٌ مِنَ الْمُوبِقَاتِ. وَأَمَّا نَحْرُكَ فَمَذْخُورٌ لَكَ عِنْدَ رَبِّكَ. وَأَمَّا حِلَاقُكَ رَأْسَكَ فَلَكَ بِكُلِّ شَعْرَةٍ حَلَقْتَهَا حَسَنَةٌ وَتُمْحَى عَنْكَ بِهَا خَطِيئَةٌ. وَأَمَّا طَوَافُكَ بِالْبَيْتِ بَعْدَ ذَلِكَ فَإِنَّكَ تَطُوفُ وَلَا ذَنْبَ لَكَ يَأْتِي مَلَكٌ حَتَّى يَضَعَ يَدَيْهِ بَيْنَ كَتِفِكَ فَيَقُولُ: اعْمَلْ فِيمَا يَسْتَقْبِلُ فَقَدْ غُفِرَ لَكَ مَا مَضَى». رَوَاهُ الْبَزَّارُ.
EnglishUnverified translation
Ibn Umar رضي الله عنهما reports sitting with the Prophet ﷺ in the mosque of Mina when a man of the Ansar and a man of Thaqif came, greeted, and said they came to ask. He offered to inform them of their questions or to withhold, they chose information, the Thaqifi yielded to the Ansari, and the Prophet ﷺ listed questions about leaving home for the Sacred House, two rak'ahs after tawaf, circuits between al-Safa and al-Marwah, standing on the evening of Arafah, stoning the pillars, sacrifice, shaving, and tawaf with ifadah. The man swore that was his question, and the Prophet ﷺ detailed a good deed and effacement for each step of the mount, manumission for the rak'ahs and seventy necks for sa'y, divine descent and boasting with forgiveness as numerous as sand, raindrops and sea foam, expiation of grave mortal sins for each pebble, stored sacrifice, a good deed and effacement for each hair shaved, and sinless tawaf with an angel placing hands between his shoulders announcing forgiveness of the past and renewal of deeds. > **"If you wish I inform you of what you came to ask me about, and if you wish I withhold? You came to ask me about your leaving your house intending the Sacred House and what is yours therein, about your two rak'ahs after tawaf and what is yours therein, about your circuits between al-Safa and al-Marwah and what is yours therein, about your standing on the evening of Arafah and what is yours therein, about your stoning the pillars and what is yours therein, about your sacrifice and what is yours therein, about your shaving your head and what is yours therein, and about your tawaf of the House thereafter with ifadah and what is yours therein?"** > **"When you leave your house intending the Sacred House, your she-camel does not place nor lift a foot but Allah writes for you thereby a good deed and effaces from you a sin. Your two rak'ahs after tawaf are like freeing a neck of the children of Isma'il عليه السلام. Your circuits of al-Safa and al-Marwah thereafter are like freeing seventy necks. Your standing on the evening of Arafah: Allah the Blessed and Exalted descends to the lowest heaven and boasts of you to the angels, saying: My servants came to Me dishevelled from every deep pass hoping for My Garden; were your sins as numerous as sand, as raindrops, or as sea foam, He forgives them. Pour forth, My servants, forgiven for you and for whom you intercede. Your stoning the pillars: for every pebble you threw, a grave mortal sin. Your sacrifice is stored for you with your Lord. Your shaving your head: for every hair you shaved a good deed, and a sin effaced thereby. Your tawaf of the House thereafter: you circumambulate without sin; an angel comes until he places his hands between your shoulders and says: Act anew, for what has passed is forgiven."**
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں مسجد منی میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا انصار سے تعلق رکھنے والا ایک شخص اور ثقیف قبیلے سے تعلق رکھنے والا ایک شخص آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے ان دونوں نے سلام کیا پھر ان دونوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم آپ سے کچھ دریافت کرنے کے لئے آئے ہیں نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اگر تم چاہو ‘ تو میں تم دونوں کو یہ بتا دیتا ہوں کہ تم کس چیز کے بارے میں دریافت کرنے کے لئے آئے ہو اور اگر تم چاہو ‘ تو میں نہیں بتاتا ان دونوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ ہمیں بتایئے ثقفی شخص نے انصاری سے کہا تم سوال کرو اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے بتایئے نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا تم میرے پاس اس بارے میں دریافت کرنے کے لئے آئے ہو کہ تمہارا اپنے گھر سے بیت الحرام کے قصد سے نکلنا اس کا تمہیں کیا اجر ملے گا طواف کے بعد دو رکعت کے بارے میں پوچھنا چاہتے ہو کہ تمہیں اس کا کیا اجر ملے گا صفا اور مروہ کے چکروں کے بارے میں پوچھنا چاہتے ہو کہ تمہیں ان کا کیا اجر ملے گا عرفہ کی شام اپنے وقوف کے بارے میں پوچھنا چاہتے ہو کہ تمہیں اس کا کیا اجر ملے گا جمرات کو تمہارے کنکریاں مارنے کے بارے میں پوچھنا چاہتے ہو کہ تمہیں اس کا کیا اجر ملے گا اور اپنی قربانی کے بارے میں پوچھنا چاہتے ہو کہ تمہیں اس کا کیا اجر ملے گا اور اپنے سر مونڈوانے کے بارے میں پوچھنا چاہتے ہو کہ تمہیں اس کا کیا اجر ملے گا اور اس کے بعد بیت اللہ کے طواف افاضہ کے بارے میں پوچھنا چاہتے ہو کہ تمہیں اس کا کیا اجر ملے گا ؟ اس شخص نے عرض کی : اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے میں اسی بارے میں آپ سے پوچھنے کے لئے آیا ہوں ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جب تم اپنے گھر سے نکلے اور تمہارا ارادہ بیت الحرام کی طرف جانے کا تھا تو تمہاری اونٹنی نے جو بھی پاؤں رکھا اور جو بھی پاؤں اٹھایا تو اس کے عوض میں اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے نیکی نوٹ کی اور تم سے برائی کو مٹا دیا جہاں تک طواف کے بعد کی دو رکعت کا تعلق ہے ‘ تو یہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے غلام آزاد کرنے کی مانند ہے جہاں تک صفا اور مروہ کی سعی کا تعلق ہے ‘ تو یہ ستر غلام آزاد کرنے کی مانند ہے جہاں تک عرفہ کی شام تمہارے وقوف کرنے کا تعلق ہے ‘ تو اللہ تعالیٰ آسمان دنیا کی طرف اترتا ہے اور تم لوگوں کے حوالے سے فرشتوں کے سامنے فخر کا اظہار کرتا ہے اور یہ فرماتا ہے میرے بندے میرے پاس بکھرے ہوئے بال لے کر دور دراز کے علاقوں سے آئے ہیں وہ میری جنت چاہتے ہیں اللہ تعالیٰ بندوں سے مخاطب ہو کے فرماتا ہے ) اگر تمہارے گناہ ریت کے ذروں جتنے ہوں یا بارش کے قطروں جتنے ہوں یا سمندر کی جھاگ جتنے ہوں تو اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت کر دے گا ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) میں ان کی مغفرت کر دوں گا اے میرے بندو ! تم ایسے واپس جاؤ کہ تمہاری مغفرت ہو چکی ہو اور اس کی بھی مغفرت ہو چکی ہو جس کی تم نے شفاعت کی ہو ( نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ) جہاں تک تمہارے جمرات کو کنکریاں مارنے کا تعلق ہے ‘ تو ہر کنکری جو تم نے اسے ماری اس کے عوض میں ہلاک کرنے والا ایک کبیرہ گناہ ( معاف ہو جائے گا ) جہاں تک تمہارے قربانی کرنے کا تعلق ہے ‘ تو وہ تمہارے پروردگار کے پاس سنبھال کے رکھی جائے گی جہاں تک تمہارے اپنے سر کو مونڈوانے کا تعلق ہے ‘ تو سر مونڈواتے ہوئے ہر ایک بال کے عوض میں تمہیں ایک نیکی ملے گی اور اس کے عوض میں تمہارے ایک گناہ کو مٹا دیا جائے گا جہاں تک اس کے بعد تمہارے بیت اللہ کا طواف کرنے کا تعلق ہے ‘ تو تم یوں طواف کرو گے کہ تمہارا کوئی گناہ نہیں ہو گا ایک فرشتہ آئے گا وہ اپنے دونوں ہاتھ تمہارے کندھے کے درمیان رکھے گا اور یہ کہے گا اب تم نئے سرے سے عمل کرو کیونکہ گزشتہ ( گناہوں ) کے حوالے سے تو تمہاری مغفرت ہو چکی ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔