Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 1 · Chapter 9

Book of Faith

Hadith 321–360

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

321

Majma al-Zawaid #321

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «إِنَّ الْحَيَاءَ وَالْعِيَّ مِنَ الْإِيمَانِ، وَهُمَا يُقَرِّبَانِ مِنَ الْجَنَّةِ، وَيُبَاعِدَانِ مِنَ النَّارِ. وَالْفُحْشَ وَالْبَذَاءَ مِنَ الشَّيْطَانِ، وَهُمَا يُقَرِّبَانِ مِنَ النَّارِ، وَيُبَاعِدَانِ مِنَ الْجَنَّةِ "". فَقَالَ أَعْرَابِيٌّ لِأَبِي أُمَامَةَ: إِنَّا لَنَقُولُ فِي الشِّعْرِ: إِنَّ الْعِيَّ مِنَ الْحُمْقِ. قَالَ: إِنِّي أَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَتَجِيئُنِي بِشِعْرِكَ الْمُنْتِنِ»؟!. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ مِحْصَنٍ الْعُكَاشِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ لَا يُحْتَجُّ بِهِ.

EnglishUnverified translation

Abū Umāmah رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Indeed, modesty (ḥayāʾ) and reticence in speech (ʿiyy) are from faith, and they draw one near to Paradise and distance one from the Fire. Indecency and vulgarity are from Satan, and they draw one near to the Fire and distance one from Paradise."** A Bedouin said, "In rajaz poetry we say that reticence is part of foolishness." Abū Umāmah said: "I say to you: 'The Messenger of Allah ﷺ said,' and you recite to me foul rajaz poetry?"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ بے شک حیا اور عی ( یعنی بات کرتے ہوئے جھجک کا شکار ہونا ) ایمان کا حصہ ہیں ‘ اور یہ دونوں جنت کے قریب کر دیتے ہیں ‘ اور جہنم سے دور کر دیتے ہیں ، جبکہ فحش کلامی اور بے حیائی ‘ شیطان کی طرف سے ہیں ‘ یہ دونوں جہنم کے قریب کر دیتے ہیں ‘ اور جنت سے دور کر دیتے ہیں ‘‘ ایک دیہاتی شخص نے حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے کہا : ہم تو شاعری میں یہ کہتے ہیں : عی ‘ حماقت کا حصہ ہے ‘ تو حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں یہ بیان کر رہا ہوں کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ‘ اور تم ( اُس کے مقابلے میں ) میرے سامنے اپنا بدبودار شعر پیش کر رہے ہو ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن محصن عکاشی ہے اور وہ ضعیف ہے ‘ اس سے استدلال نہیں کیا جائے گا ۔

322

Majma al-Zawaid #322

وَعَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «الْحَيَاءُ وَالْإِيمَانُ مَقْرُونَانِ لَا يَفْتَرِقَانِ إِلَّا جَمِيعًا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالصَّغِيرِ، وَقَالَ: تَفَرَّدَ بِهِ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدَةَ الْقَوْمَسِيُّ.

EnglishUnverified translation

Abū Mūsā al-Ashʿarī رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Modesty and faith are tied together; they are never separated except together."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ حیاء اور ایمان ‘ ایک دوسرے کے ساتھ ملے ہوئے ہیں ‘ اور یہ دونوں ( اگر کسی شخص سے جدا ہوں گے ) تو ایک ساتھ جدا ہوں گے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم صغیر میں نقل کی ہے ‘ وہ بیان کرتے ہیں محمد بن عبیدہ قومسی نامی راوی اسے نقل کرنے میں منفرد ہے ۔

323

Majma al-Zawaid #323

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «الْحَيَاءُ وَالْإِيمَانُ فِي قَرْنٍ، فَإِذَا سُلِبَ أَحَدُهُمَا تَبِعَهُ الْآخَرُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ يُوسُفُ بْنُ خَالِدٍ السَّمْتِيُّ كَذَّابٌ خَبِيثٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿAbbās رضي الله عنهما reported that the Prophet ﷺ said: > **"Modesty and faith are bound together; when one of them is stripped away, the other follows it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ حیاء اور ایمان ملے ہوئے ہیں ‘ جب ان دونوں میں سے کوئی ایک سلب کیا جاتا ہے ‘ تو دوسرا بھی ‘ اُس کے پیچھے رخصت ہو جاتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی یوسف بن خالد سمتی ہے ‘ جو کذاب اور خبیث ہے ۔

324

Majma al-Zawaid #324

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو «أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا عَمَلُ الْجَنَّةِ؟ قَالَ: "" الصِّدْقُ، وَإِذَا صَدَقَ الْعَبْدُ بَرَّ، وَإِذَا بَرَّ آمَنَ، وَإِذَا آمَنَ دَخَلَ الْجَنَّةَ» "". فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَيَأْتِي بِتَمَامِهِ فِي ذَمِّ الْكَذِبِ مِنْ كِتَابِ الْعِلْمِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿAmr رضي الله عنهما reported: A man came to the Prophet ﷺ and asked, "O Messenger of Allah, what is the deed that leads to Paradise?" He ﷺ said: > **"Truthfulness. For when a servant speaks the truth, he acts righteously; when he acts righteously, he believes; and when he believes, he enters Paradise."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ‘ اور بولا : یا رسول اللہ ! جنت کا عمل کیا ہے ؟ آپ نے ارشاد فرمایا : سچ بولنا ‘ جب آدمی سچ بولتا ہے ‘ تو نیکی کرتا ہے ‘ اور جب وہ نیکی کرتا ہے ‘ تو وہ ایمان والا ہوتا ہے ‘ اور جب وہ ایمان والا ہوتا ہے ‘ تو وہ جنت میں داخل ہو گا ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ‘ جو کتاب العلم میں ‘ جھوٹ کی مذمت سے متعلق باب میں ، مکمل روایت کے طور پر آئے گی ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

325

Majma al-Zawaid #325

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «لَا يُؤْمِنُ الْعَبْدُ الْإِيمَانَ كُلَّهُ حَتَّى يَتْرُكَ الْكَذِبَ فِي الْمُزَاحَةِ، وَالْمِرَاءَ وَإِنْ كَانَ صَادِقًا» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مَنْصُورُ بْنُ أُذَيْنٍ، وَلَمْ أَرَ مَنْ ذَكَرَهُ. قُلْتُ: وَتَأْتِي أَحَادِيثُ مِنْ هَذَا الْبَابِ، بَعْضُهَا فِي الْعِلْمِ، وَبَعْضُهَا فِي الْأَدَبِ - إِنْ شَاءَ اللَّهُ -.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"A servant does not attain complete faith until he abandons lying even in jest, and abandons disputing even when he is truthful."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ آدمی اُس وقت تک مکمل طور پر مؤمن نہیں ہوتا ‘ جب تک وہ مذاق میں بھی جھوٹ بولنا ‘ اور جھگڑا کرنا ترک نہیں کر دیتا خواہ وہ سچا ہی ( یعنی جھگڑا کرنے میں حق پر ہی ) کیوں نہ ہو ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی منصور بن اذین ہے ‘ میں نے کسی کو اس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس موضوع سے متعلق دیگر احادیث آگے آئیں گی ، جن میں سے کچھ علم سے متعلق باب میں آئیں گی اور کچھ ادب سے متعلق باب میں آئیں گی ‘ اگر اللہ نے چاہا ۔

326

Majma al-Zawaid #326

وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «لَا يَبْلُغُ الْعَبْدُ صَرِيحَ الْإِيمَانِ حَتَّى يَدَعَ الْمِزَاحَ وَالْكَذِبَ، وَيَدَعَ الْمِرَاءَ وَإِنْ كَانَ مُحِقًّا» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ، لَمْ أَرَ مَنْ ذَكَرَهُمَا.

EnglishUnverified translation

ʿUmar ibn al-Khaṭṭāb رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"A servant does not attain the pure reality of faith until he abandons jesting and falsehood, and abandons disputing even when he is in the right."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ آدمی صریح ایمان تک ‘ اُس وقت تک نہیں پہنچ سکتا ‘ جب تک وہ مزاح اور جھوٹ کو ترک نہیں کر دیتا ‘ اور جھگڑا کرنے کو ترک نہیں کر دیتا ‘ اگرچہ ( جھگڑا کرنے میں ) وہ حق پر ہی ہو ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے ’’ کبیر ‘‘ میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں یہ مذکور ہے : اسے محمد بن عثمان نے ‘ سلیمان بن داؤد سے نقل کیا ہے ‘ اور میں نے کسی کو ان دونوں کا ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ۔

327

Majma al-Zawaid #327

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «يُطْبَعُ الْمُؤْمِنُ عَلَى الْخِلَالِ كُلِّهَا، إِلَّا الْخِيَانَةَ وَالْكَذِبَ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَهُوَ مُنْقَطِعٌ بَيْنَ الْأَعْمَشِ وَأَبِي أُمَامَةَ.

EnglishUnverified translation

Abū Umāmah رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"A believer may be naturally disposed to every trait, except treachery and lying."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ مؤمن میں ہر عادت ہو سکتی ہے ‘ صرف خیانت اور جھوٹ نہیں ہو سکتے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اعمش اور حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ کے درمیان میں یہ منقطع ہے ۔

328

Majma al-Zawaid #328

وَعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «يُطْبَعُ الْمُؤْمِنُ عَلَى كُلِّ خُلَّةٍ غَيْرِ الْخِيَانَةِ وَالْكَذِبِ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَأَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Saʿd ibn Abī Waqqāṣ رضي الله عنه reported that the Prophet ﷺ said: > **"A believer may be naturally disposed to every characteristic, except treachery and lying."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ مؤمن میں ہر عادت ہو سکتی ہے ‘ سوائے خیانت اور جھوٹ کے ( یعنی اس میں خیانت اور جھوٹ کبھی نہیں ہو سکتے ) ‘‘۔ یہ روایت امام بزار اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

329

Majma al-Zawaid #329

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «يُطْبَعُ الْمُؤْمِنُ عَلَى كُلِّ خُلُقٍ، لَيْسَ الْخِيَانَةَ وَالْكَذِبَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿUmar رضي الله عنهما reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"A believer may adopt every character trait, but not treachery and lying."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے :’’ مؤمن میں ‘ ہر اخلاق ( یعنی ہر عادت ) ہو سکتی ہے ، لیکن خیانت اور جھوٹ بولنا نہیں ہو سکتا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کی سند میں ایک راوی عبیداللہ بن ولید ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

330

Majma al-Zawaid #330

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «لَا يَجْتَمِعُ الْكُفْرُ وَالْإِيمَانُ فِي قَلْبِ امْرِئٍ، وَلَا يَجْتَمِعُ الصِّدْقُ وَالْكَذِبُ جَمِيعًا، وَلَا تَجْتَمِعُ الْخِيَانَةُ وَالْأَمَانَةُ جَمِيعًا» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Disbelief and faith can never coexist in the heart of a person, nor can truthfulness and falsehood ever coexist together, nor can treachery and trustworthiness ever coexist together."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ کفر اور ایمان کسی ایک شخص کے دل میں اکٹھے نہیں ہو سکتے ہیں ‘ اور سچ اور جھوٹ اکٹھے نہیں ہو سکتے ہیں ‘ اور خیانت اور امانت دونوں ( کسی ایک شخص کے دل میں ) اکٹھے نہیں ہو سکتے ہیں ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

331

Majma al-Zawaid #331

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ: كُلُّ الْخِلَالِ يُطْوَى عَلَيْهَا الْمُؤْمِنُ إِلَّا الْخِيَانَةَ وَالْكَذِبَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Masʿūd رضي الله عنه said: > **"A believer may be molded upon every characteristic except treachery and lying."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ’’ مؤمن ‘ ہر عادت میں مبتلا ہو سکتا ہے ‘ لیکن خیانت اور جھوٹ بولنے میں ( مبتلا نہیں ہو سکتا ہے ) ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

332

Majma al-Zawaid #332

وَعَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عَلَيْكُمْ بِالصِّدْقِ ; فَإِنَّهُ يَهْدِي إِلَى الْبِرِّ، وَهُمَا فِي الْجَنَّةِ، وَإِيَّاكُمْ وَالْكَذِبَ ; فَإِنَّهُ يَهْدِي إِلَى الْفُجُورِ، وَهُمَا فِي النَّارِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Muʿāwiyah ibn Abī Sufyān رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Adhere strictly to truthfulness, for it guides to righteousness, and both of them lead to Paradise. And beware of lying, for it guides to wickedness, and both of them lead to the Fire."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ سچائی کو تم ( لازمی ) اختیار کرو ! کیونکہ وہ نیکی کی طرف رہنمائی کرتی ہے ‘ اور وہ دونوں ( یعنی سچائی اور نیکی ) جنت میں ہوں گی اور جھوٹ سے بچنا تم پر لازم ہے ! کیونکہ وہ گناہوں کی طرف رہنمائی کرتا ہے ‘ اور وہ دونوں ( یعنی جھوٹ اور گناہ ) جہنم میں ہوں گے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

333

Majma al-Zawaid #333

وَعَنْ مَازِنِ بْنِ الْغَضُوبَةِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «عَلَيْكُمْ بِالصِّدْقِ ; فَإِنَّهُ يَهْدِي إِلَى الْجَنَّةِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ كَثِيرٍ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Māzin ibn al-Ghaḍūbah رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Adhere strictly to truthfulness, for it guides to Paradise."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت مازن بن غضوبہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : : ’’ تم پر سچ کو اختیار کرنا لازم ہے ‘ کیونکہ وہ جنت کی طرف لے جاتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن کثیر ہے اور وہ متروک ہے ۔

334

Majma al-Zawaid #334

عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: «إِنِّي لَتَحْتَ رَاحِلَةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ الْفَتْحِ، فَقَالَ قَوْلًا حَسَنًا جَمِيلًا، فَكَانَ فِيمَا قَالَ: "" مَنْ أَسْلَمَ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ فَلَهُ أَجْرُهُ مَرَّتَيْنِ، وَلَهُ مَا لَنَا وَعَلَيْهِ مَا عَلَيْنَا، وَمَنْ أَسْلَمَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ فَلَهُ أَجْرُهُ، وَلَهُ مَا لَنَا وَعَلَيْهِ مَا عَلَيْنَا» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ الْقَاسِمُ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَقَدْ ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ.

EnglishUnverified translation

Abū Umāmah رضي الله عنه said: On the Day of the Conquest of Makkah, I was beneath the riding camel of the Messenger of Allah ﷺ, and he spoke fine and beautiful words. Among what he said was: > **"Whoever embraces Islam from among the People of the Book will have his reward twice; he shall have the same rights as we have and bear the same obligations as we bear. And whoever embraces Islam from among the polytheists will have his reward; he shall have the same rights as we have and bear the same obligations as we bear."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : فتح مکہ کے موقع پر ‘ میں نبی اکرم ﷺ کی سواری کے نیچے موجود تھا ‘ آپ ﷺ نے عمدہ گفتگو ارشاد فرمائی ‘ آپ ﷺ نے جو ارشاد فرمایا ‘ اُس میں یہ بات بھی تھی : ’’ اہل کتاب میں سے ‘ جو شخص مسلمان ہو جائے ‘ اُسے دو گنا اجر ملے گا ‘ اُسے وہ تمام حقوق حاصل ہوں گے ‘ جو ہمیں ( یعنی مسلمانوں کو ) حاصل ہیں ‘ اور اُس پر وہ تمام چیزیں لازم ہوں گی ‘ جو ہم پر ( یعنی مسلمانوں پر ) لازم ہیں ‘ مشرکین میں سے ‘ جو شخص مسلمان ہو گا ‘ اسے ایک گناہ اجر حاصل ہو گا ‘ اسے وہ تمام حقوق حاصل ہوں گے ‘ جو ہمیں حاصل ہیں اور اس پر وہ تمام چزیں لازم ہوں گی ‘ جو ہم پر لازم ہیں ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی قاسم ابوعبدالرحمن ہے ‘ جسے امام احمد اور دیگر حضرات نے ضعیف قرار دیا ہے ۔

335

Majma al-Zawaid #335

قَالَ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، حَدَّثَنَا الزُّبَيْرُ بْنُ بَكَّارٍ، قَالَ: «فَوُلِدَ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْقَاسِمُ، وَهُوَ أَكْبَرُ وَلَدِهِ، ثُمَّ زَيْنَبُ، وَكَانَتْ زَيْنَبُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عِنْدَ أَبِي الْعَاصِ بْنِ الرَّبِيعِ بْنِ عَبْدِ شَمْسٍ، فَوَلَدَتْ لَهُ عَلِيًّا وَأُمَامَةَ، وَكَانَ عَلِيٌّ مُسْتَرْضِعًا فِي بَنِي غَاضِرَةَ، فَافْتَصَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَبُوهُ يَوْمَئِذٍ مُشْرِكٌ، فَقَالَ: "" مَنْ شَارَكَنِي فِي شَيْءٍ فَأَنَا أَحَقُّ بِهِ، وَأَيُّمَا كَافِرٍ شَارَكَ مُسْلِمًا فِي شَيْءٍ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ مِنْهُ» "". فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَهُوَ مُنْقَطِعٌ كَمَا تَرَى.

EnglishUnverified translation

Al-Zubayr ibn Bakkār reported: Al-Qāsim was born to the Messenger of Allah ﷺ, and he was the eldest of his children, followed by Zaynab. Zaynab, the daughter of the Messenger of Allah ﷺ, was married to Abū al-ʿĀṣ ibn al-Rabīʿ ibn ʿAbd Shams, and she bore him ʿAlī and Umāmah. ʿAlī was being nursed among Banū Ghāḍirah, so the Messenger of Allah ﷺ weaned him while his father was still a polytheist at that time. The Prophet ﷺ said: > **"Whoever shares with me in anything, I have more right to it; and whichever disbeliever shares with a Muslim in anything, the Muslim has more right to it than him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام طبرانی نے معجم کبیر میں ‘ زبیر بن بکار کا یہ بیان نقل کیا ہے : ’’ نبی اکرم ﷺ کے ہاں حضرت قاسم رضی اللہ عنہ پیدا ہوئے ‘ جو آپ کی اولاد میں سب سے بڑے تھے ‘ پھر سیدہ زینب رضی اللہ عنہا پیدا ہوئیں ، نبی اکرم ﷺ کی صاحبزادی سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کی شادی ‘ حضرت ابوالعاص بن ربیع بن عبدشمس رضی اللہ عنہ سے ہوئی ‘ اور سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے اُن کے ( دو بچوں ) علی اور امامہ کو جنم دیا ، علی نامی صاحبزادے ‘ بنو غاضرہ میں دودھ پیتے بچے تھے ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے اُن کا دودھ چھڑوا دیا تھا ( اُن کا شیر خوارگی کی عمر میں انتقال ہو گیا تھا ) اُن کے والد ( یعنی حضرت ابوالعاص بن ربیع بن عبدشمس ) اُس وقت مشرک تھے ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جو شخص کسی چیز میں ‘ میرا شراکت دار بن جائے ‘ تو اُس چیز کا میں زیادہ حقدار ہوؤں گا ‘ اور جب کوئی کافر ‘ کسی مسلمان کا کسی چیز میں حصے دار بن جائے ‘ تو وہ ( مسلمان ) اس چیز کے بارے میں ‘ اُس ( کافر ) سے زیادہ حقدار ہو گا ‘‘۔

336

Majma al-Zawaid #336

عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «مَنْ أَسْلَمَ عَلَى يَدَيْهِ رَجُلٌ وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الثَّلَاثَةِ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ مُعَاوِيَةَ النَّيْسَابُورِيُّ، وَثَّقَهُ أَحْمَدُ، وَضَعَّفُهُ أَكْثَرُ النَّاسِ. قَالَ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ: كَذَّابٌ. قُلْتُ: وَتَأْتِي أَحَادِيثُ هَذَا الْبَابِ فِي الْجِهَادِ - إِنْ شَاءَ اللَّهُ - وَحَدِيثُ عَائِشَةَ فِيمَنْ رَبَّى صَغِيرًا حَتَّى يَقُولَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فِي الْبِرِّ وَالصِّلَةِ.

EnglishUnverified translation

ʿUqbah ibn ʿĀmir al-Juhanī رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Whoever has a person embrace Islam at his hands, Paradise becomes obligatory for him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ جس شخص کے ہاتھ پر کوئی مسلمان ہو جائے ‘ اُس کے لیے جنت واجب ہو جاتی ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے تینوں کتابوں میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن معاویہ نیشا پوری ہے ‘ اسے امام احمد نے ثقہ قرار دیا ہے اور اکثر لوگوں نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ‘ یحیی بن معین کہتے ہیں : یہ کذاب ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس موضوع سے متعلق دیگر احادیث ‘ جہاد سے متعلق باب میں آئیں گی ‘ اگر اللہ نے چاہا ۔ جو شخص کسی کمسن بچے کی تربیت کرے ( یعنی اسے پال پوس کر بڑا کرے ) یہاں تک کہ وہ بچہ اتنا بڑا ہو جائے کہ وہ «لا الہ الا اللہ» پڑھ لے ‘ ایسے شخص کے بارے میں ‘ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی نقل کردہ حدیث ‘ نیکی اور صلہ رحمی سے متعلق باب میں آئے گی ۔

337

Majma al-Zawaid #337

«عَنِ السَّائِبِ بْنِ أَبِي السَّائِبِ أَنَّهُ كَانَ يُشَارِكُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَبْلَ الْإِسْلَامِ فِي التِّجَارَةِ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ الْفَتْحِ جَاءَهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" مَرْحَبًا بِأَخِي وَشَرِيكِي، كَانَ لَا يُدَارِي وَلَا يُمَارِي، يَا سَائِبُ، قَدْ كُنْتَ تَعْمَلُ أَعْمَالًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ لَا تُقْبَلُ مِنْكَ، وَهِيَ الْيَوْمَ تُقْبَلُ مِنْكَ "". وَكَانَ ذَا سَلَفٍ وَصِلَةٍ». قُلْتُ: رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ، وَغَيْرُهُ بَعْضَهُ، وَلَهُ طَرِيقٌ تَأْتِي فِي الْبِرِّ وَالصِّلَةِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Al-Sāʾib ibn Abī al-Sāʾib رضي الله عنه reported that he used to be a business partner of the Prophet ﷺ before Islam. On the Day of the Conquest of Makkah, he came to him, and the Prophet ﷺ said: > **"Welcome to my brother and partner, who neither defrauded nor disputed. O Sāʾib, you used to perform deeds during the pre-Islamic days of ignorance that were not accepted from you, but today they are accepted from you."** Al-Sāʾib was known for advancing loans generously and upholding family ties.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سائب بن ابوسائب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : اسلام سے پہلے وہ نبی اکرم ﷺ کے تجارت میں شراکت دار تھے ‘ فتح مکہ کے دن نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میرے بھائی اور ( کاروباری ) شراکت دار کو خوش آمدید ہے جو دھوکہ نہیں دیتا اور فریب نہیں دیتا تھا ( پھر آپ ﷺ نے انہیں مخاطب کر کے فرمایا : ) اے سائب ! تم نے زمانہ جاہلیت میں کئی ایسے کام کیے ‘ جو تمہاری طرف سے قبول نہیں ہوئے تھے ‘ وہ آج ( اسلام قبول کر لینے کے بعد ) تمہاری طرف سے قبول ہوں گے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : وہ صاحب اُدھار دیدیا کرتے تھے اور صلہ رحمی کرتے تھے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابوداؤد اور ‘ ایک اور صاحب نے ‘ اس روایت کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ‘ اس کی ایک اور سند بھی ہے ‘ جو نیکی اور صلہ رحمی سے متعلق باب میں آئے گی ۔ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

338

Majma al-Zawaid #338

«وَعَنْ صَعْصَعَةَ بْنِ نَاجِيَةَ الْمُجَاشِعِيِّ، وَهُوَ جَدُّ الْفَرَزْدَقِ بْنِ غَالِبِ بْنِ صَعْصَعَةَ، قَالَ: قَدِمْتُ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَعَرَضَ عَلَيَّ الْإِسْلَامَ، فَأَسْلَمْتُ وَعَلَّمَنِي آيًا مِنَ الْقُرْآنِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي عَمِلْتُ أَعْمَالًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَهَلْ لِي فِيهَا مَنْ أَجْرٍ؟ قَالَ: "" وَمَا عَمِلْتَ؟ "" فَقُلْتُ: إِنِّي أَضْلَلْتُ لِي نَاقَتَيْنِ عَشْرَاوَيْنِ، فَخَرَجْتُ أَتْبَعُهُمَا عَلَى جَمَلٍ لِي، فَرُفِعَ لِي بَيْتَانِ فِي فَضَاءٍ مِنَ الْأَرْضِ، فَقَصَدْتُ قَصْدَهُمَا، فَوَجَدْتُ فِي أَحَدِهِمَا شَيْخًا كَبِيرًا، فَقُلْتُ: هَلْ أَحْسَسْتَ نَاقَتَيْنِ عَشْرَاوَيْنِ؟ قَالَ: مَا نَارَاهُمَا، قُلْتُ: مِيسَمُ بَنِي دَارِمٍ. قَالَ: قَدْ أَصَبْنَا نَاقَتَيْكَ، وَنَتَجْنَاهُمَا فَظَأَرْنَاهُمَا، وَقَدْ نَعَّشَ اللَّهُ بِهِمَا أَهْلَ بَيْتٍ مِنْ قَوْمِكَ مِنَ الْعَرَبِ مِنْ مُضَرَ. قَالَ: فَبَيْنَا هُوَ يُخَاطِبُنِي إِذْ نَادَتِ امْرَأَةٌ مِنَ الْبَيْتِ الْآخَرِ: وَلَدَتْ. قَالَ: وَمَا وَلَدَتْ؟ إِنْ كَانَ غُلَامًا فَقَدْ شَرَكَنَا فِي قَوْمِنَا - وَقَالَ الْبَزَّارُ: فَقَدْ تَبَارَكَنَا فِي قَوْمِنَا - وَإِنْ كَانَتْ جَارِيَةً فَادْفِنَاهَا، فَقَالَتْ: جَارِيَةٌ؟، فَقُلْتُ: مَا هَذِهِ الْمَوْءُودَةُ؟ قَالَ: ابْنَةٌ لِي، فَقُلْتُ: إِنِّي أَشْتَرِيهَا مِنْكَ. قَالَ: يَا أَخَا بَنِي تَمِيمٍ، أَتَقُولُ: أَتَبِيعُ ابْنَتَكَ وَقَدْ أَخْبَرْتُكَ أَنِّي رَجُلٌ مِنَ الْعَرَبِ مِنْ مُضَرَ؟ فَقُلْتُ: إِنِّي لَا أَشْتَرِي مِنْكَ رَقَبَتَهَا، إِنَّمَا أَشْتَرِي رُوحَهَا أَنْ لَا تَقْتُلَهَا. قَالَ: بِمَ تَشْتَرِيهَا؟ قُلْتُ: بِنَاقَتَيَّ هَاتَيْنِ وَوَلَدَيْهِمَا. قَالَ وَتَزِيدُنِي بَعِيرَكَ هَذَا؟ قُلْتُ: نَعَمْ، عَلَى أَنْ تُرْسِلَ مَعِي رَسُولًا، فَإِذَا بَلَغْتُ إِلَى أَهْلِي رَدَدْتُ إِلَيْكَ الْبَعِيرَ، فَفَعَلَ، فَلَمَّا بَلَغْتُ أَهْلِي رَدَدْتُ إِلَيْهِ الْبَعِيرَ، فَلَمَّا كَانَ فِي بَعْضِ اللَّيْلِ فَكَّرْتُ فِي نَفْسِي أَنَّ هَذِهِ مَكْرُمَةٌ مَا سَبَقَنِي إِلَيْهَا أَحَدٌ مِنَ الْعَرَبِ، وَظَهَرَ الْإِسْلَامُ وَقَدْ أَحْيَيْتُ ثَلَاثَمِائَةٍ وَسِتِّينَ مَوْءُودَةً، أَشْتَرِي كُلَّ وَاحِدَةٍ مِنْهُنَّ بِنَاقَتَيْنِ عَشْرَاوَيْنِ وَجَمَلٍ، فَهَلْ لِي فِي ذَلِكَ مِنْ أَجْرٍ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" لَكَ أَجْرٌ إِذْ مَنَّ اللَّهُ عَلَيْكَ بِالْإِسْلَامِ» "". قَالَ عَبَّادٌ: وَمِصْدَاقُ قَوْلِ صَعْصَعَةَ قَوْلُ الْفَرَزْدَقِ: وَجَدِّي الَّذِي مَنَعَ الْوَائِدَاتِ ... فَأَحْيَا الْوَئِيدَ فَلَمْ يُوأَدِ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْبَزَّارُ، وَفِيهِ الطُّفَيْلُ بْنُ عَمْرٍو التَّمِيمِيُّ، قَالَ الْبُخَارِيُّ: لَا يَصِحُّ حَدِيثُهُ. وَقَالَ الْعُقَيْلِيُّ: لَا يُتَابَعُ عَلَيْهِ.

EnglishUnverified translation

Ṣaʿṣaʿah ibn Nājiyah al-Mujāshiʿī رضي الله عنه—the grandfather of the poet al-Farazdaq—said: I came to the Prophet ﷺ, and he presented Islam to me, so I embraced Islam, and he taught me verses from the Qurʾān. I said, "O Messenger of Allah, I performed good deeds during the pre-Islamic days of ignorance; will I have any reward for them?" He ﷺ asked: > **"And what did you do?"** I said, "Two of my pregnant she-camels went astray, so I went out searching for them riding my camel. Two tents appeared in an open plain, so I headed toward them. In one of them, I found an elderly man, so I asked, 'Have you noticed two pregnant she-camels?' He asked, 'What is their brand mark?' I replied, 'The brand of Banū Dārim.' He said, 'We found your two she-camels, helped deliver their young, and fostered them. Through them, Allah brought relief to a household among your people of the Arabs from Muḍar.' While he was speaking with me, a woman called out from the other tent, 'She has given birth!' The man asked, 'What has she given birth to? If it is a boy, he will share with us among our people—and in al-Bazzār's narration: he will bring blessing to our people—but if it is a girl, bury her!' The woman said, 'It is a girl.' I asked, 'Who is this infant to be buried alive?' He replied, 'My daughter.' I said, 'I will buy her from you.' He said, 'O brother of Banū Tamīm, do you say: "Will you sell your daughter?" when I have told you that I am an Arab of Muḍar?' I said, 'I am not buying her person from you; I am only buying her life, so that you do not kill her.' He asked, 'With what will you buy her?' I said, 'With these two she-camels of mine and their two calves.' He asked, 'And will you add this camel of yours?' I said, 'Yes, provided you send a messenger with me, and when I reach my family, I will return the camel to you.' He agreed. When I reached my family, I returned the camel to him. Later that night, I thought to myself: 'This is a noble deed that no one among the Arabs has preceded me in.' By the time Islam appeared, I had saved three hundred and sixty infant girls from being buried alive, buying each of them with two pregnant she-camels and a camel. Will I have any reward for that?" The Prophet ﷺ said: > **"You have your reward, for Allah has blessed you with Islam."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت صعصعہ بن ناجیہ مجاشعی رضی اللہ عنہ ‘ جو فرزدق بن غالب بن صعصعہ ( یعنی عربی کے مشہور شاعر فرزدق ) کے دادا ہیں ‘ وہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ‘ آپ نے مجھے اسلام کی دعوت دی ، میں نے اسلام قبول کر لیا ‘ نبی اکرم ﷺ نے مجھے قرآن کی کچھ آیات کی تعلیم دی ‘ میں نے عرض کی : یا رسول الله ! میں نے زمانہ جاہلیت میں کچھ اچھے کام کیے تھے ‘ کیا مجھے اُن کا اجر ملے گا ؟ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : تم نے کیا عمل کیا تھا ؟ میں نے بتایا : ایک مرتبہ میری دو اونٹنیاں گم ہو گئی تھیں ، جن کے ہاں بچے کی پیدائش ہونے والی تھی ۔ میں اُن دونوں کی تلاش کے لیے اپنے اونٹ پر سوار ہو کر نکلا ‘ ایک کھلی جگہ پر میرے سامنے دو گھر آئے ‘ میں اُن دونوں کی طرف چلا گیا ‘ اُن دونوں میں سے ایک گھر میں ‘ میں نے ایک عمر رسیدہ بوڑھے کو پایا ‘ تو میں نے دریافت کیا : کیا تمہیں دو عشراوی اونٹنیوں کے بارے میں کچھ پتہ ہے ؟ اس نے دریافت کیا : ان دونوں کا نشان کیا ہے ؟ میں نے بتایا : بنو دارم کے مخصوص آلے سے نشان لگایا گیا ‘ اس نے کہا : تمہاری دو اونٹنیاں ہمیں ملی تھیں ، ہم نے ان کا بچہ پیدا کروا لیا ۔ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کے ذریعے تمہاری قوم کے ‘ یعنی عربوں کے مضر قبیلے کے دو گھرانوں کو سہولت عطا کی ‘ ابھی وہ شخص میرے ساتھ گفتگو کر رہا تھا ‘ کہ اسی دوران ‘ دوسرے گھر میں سے ایک عورت نے بلند آواز میں یہ کہا : پیدائش ہو گئی ہے ‘ اس شخص نے دریافت کیا : کیا پیدا ہوا ہے ؟ اگر تو لڑکا ہے ‘ تو وہ ہماری قوم میں ہمارا حصہ دار ہو گا ۔ یہاں امام بزار نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں ‘ اُس کے ذریعے ہماری قوم میں برکت ہو گی ‘ اور اگر لڑکی ہوئی ہے ‘ تو تم اُسے دفنا دو ! اُس عورت نے جواب دیا : لڑکی ہوئی ہے ‘ میں نے دریافت کیا : کس کو زندہ درگور کرنے کی بات ہو رہی ہے ؟ وہ کون ہے ؟ اُس شخص نے بتایا : وہ میری بیٹی ہے ‘ میں نے کہا : میں اُسے تم سے خرید لیتا ہوں ‘ اُس نے کہا : اے بنو تمیم سے تعلق رکھنے والے فرد ! کیا تم یہ کہہ رہے ہو ؟ کہ میں اپنی بیٹی فروخت کر دوں ، جبکہ میں تمہیں یہ بات بتا چکا ہوں کہ میں ایک عرب ہوں اور میرا تعلق مضر قبیلے سے ہے ‘ میں نے کہا : میں تم سے اُس کا وجود نہیں خرید رہا ‘ میں اُس کی زندگی خرید رہا ہوں کہ تم اس کو قتل نہ کرو ! اُس نے دریافت کیا : تم کس چیز کی عوض میں اُسے خریدو گے ؟ میں نے کہا : اپنی اُن دونوں اونٹنیوں اور اُن کے ہاں پیدا ہونے والے بچوں کے عوض میں ‘ اُس نے کہا : تم اپنا یہ اونٹ بھی مجھے دو گے ‘ میں نے کہا : ٹھیک ہے ‘ تم اپنا کوئی آدمی میرے ساتھ بھیج دو ‘ جب میں اپنے گھر پہنچ جاؤں گا ‘ تو یہ اونٹ تمہیں بھجوا دوں گا اُس نے ایسا ہی کیا ‘ جب میں اپنے گھر پہنچا ‘ تو میں نے اُسے اونٹ واپس کر دیا ‘ رات کو کسی وقت میں سوچ رہا تھا کہ یہ نیکی مجھ سے پہلے کسی عرب نے نہیں کی ہو گی ‘ جب اسلام کا ظہور ہوا ‘ تو اُس وقت تک ‘ میں 360 بچیوں کی زندگی بچا چکا تھا ‘ جنہیں زندہ درگور کیا جانا تھا ‘ میں نے اُن ( بچیوں ) میں سے ہر ایک کو دو عشراوی اونٹنیوں اور ایک اونٹ کے عوض میں خریدا تھا ‘ تو کیا مجھے اس کا اجر ملے گا ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تمہیں یہ بھی اجر ملا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں اسلام کی دولت نصیب کی ہے ۔ عباد نامی راوی کرتے ہیں : حضرت صعصعہ رضی اللہ عنہ نے جو بیان کیا تھا ‘ اُسی کی طرف فرزدق کے اس شعر میں اشارہ پایا جاتا ہے : ’’ اور میرا دادا ‘ وہ ہے ‘ جس نے بچیوں کو زندہ درگور ہونے سے بچایا ‘ تو اُس ( یعنی میرے دادا ) نے انہیں زندگی دی اور انہیں زندہ دفن نہیں کیا گیا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اسے امام بزار نے بھی نقل کیا ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی طفیل بن عمرو تمیمی ہے ‘ امام بخاری فرماتے ہیں ۔ اس کی نقل کردہ حدیث مستند نہیں ہوتی ہے ‘ عقیلی فرماتے ہیں : اس کی متابعت نہیں کی جاتی ہے ۔

339

Majma al-Zawaid #339

عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «إِنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنُؤَاخَذُ بِمَا عَمِلْنَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ؟ فَقَالَ: "" مَنْ أَحْسَنَ فِي الْإِسْلَامِ لَمْ يُؤَاخَذْ بِمَا عَمِلَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، وَمَنْ أَسَاءَ مِنْكُمْ فِي الْإِسْلَامِ أُخِذَ بِمَا عَمِلَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَالْإِسْلَامِ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ أَسِيدُ بْنُ زَيْدٍ، وَهُوَ كَذَّابٌ.

EnglishUnverified translation

Jābir ibn ʿAbdillāh رضي الله عنهما reported that a man asked: "O Messenger of Allah, will we be taken to account for what we did during the pre-Islamic days of ignorance?" The Messenger of Allah ﷺ said: > **"Whoever excels in good conduct in Islam will not be taken to account for what he did in the days of ignorance; but whoever behaves evilly in Islam will be taken to account for what he did in both the days of ignorance and in Islam."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم نے زمانہ جاہلیت میں جو عمل کیے تھے کیا اُن کے حوالے سے ہمارا مواخذہ ہو گا ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جو شخص اسلام قبول کرنے کے بعد اچھے کام کرے ‘ اُس کے اُن کاموں کا مواخذہ نہیں ہو گا ‘ جو اُس نے زمانہ جاہلیت میں کیے تھے ‘ اور تم میں سے جو شخص اسلام قبول کرنے کے بعد بھی برے کام کرے گا ‘ تو اُس نے زمانہ جاہلیت میں ، اور زمانہ اسلام میں ، جو برے کام کیے ہوں گے ‘ اُن ( سب ) کے حوالے سے اس شخص کا مواخذہ ہو گا ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی اسید بن زید ہے اور وہ کذاب ہے ۔

340

Majma al-Zawaid #340

عَنْ أَنَسٍ: «كُنْتُ جَالِسًا وَرَجُلٌ عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" لَا يُؤْمِنُ عَبْدٌ حَتَّى يُحِبَّ لِأَخِيهِ الْمُسْلِمِ مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهِ "". قَالَ أَنَسٌ: فَخَرَجْتُ أَنَا وَالرَّجُلُ إِلَى السُّوقِ فَإِذَا سِلْعَةٌ تُبَاعُ فَسَاوَمْتُهُ، فَقَالَ: بِثَلَاثِينَ، فَنَظَرَ الرَّجُلُ فَقَالَ: قَدْ أَخَذْتُهَا بِأَرْبَعِينَ، فَقَالَ صَاحِبُهَا: مَا يَحْمِلُكَ عَلَى هَذَا وَأَنَا أُعْطِيكَهَا بِأَقَلَّ مِنْ هَذَا؟ ثُمَّ نَظَرَ أَيْضًا فَقَالَ: قَدْ أَخَذْتُهَا بِخَمْسِينَ، فَقَالَ صَاحِبُهَا: مَا يَحْمِلُكَ عَلَى هَذَا وَأَنَا أُعْطِيكَهَا بِأَقَلَّ مِنْ هَذَا؟ قَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" لَا يُؤْمِنُ عَبْدٌ حَتَّى يُحِبَّ لِأَخِيهِ مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهِ ""، وَأَنَا أَرَى أَنَّهُ صَالِحٌ بِخَمْسِينَ». قُلْتُ: فِي الصَّحِيحِ طَرَفٌ مِنْهُ عَنْ أَنَسٍ وَحْدَهُ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Mālik رضي الله عنه reported: I was sitting with another man in the company of the Prophet ﷺ, when the Messenger of Allah ﷺ said: > **"A servant does not truly believe until he loves for his Muslim brother what he loves for himself."** Anas said: Then that man and I went out to the market, and there was an item being sold. I bargained for it, and the seller said, "For thirty." The man examined it and said, "I will take it for forty." The seller said, "What makes you do this when I am offering it to you for less than this?" Then the man examined it again and said, "I will take it for fifty." The seller said, "What makes you do this when I am offering it to you for less than this?" The man said, "I heard the Messenger of Allah ﷺ saying: 'A servant does not truly believe until he loves for his brother what he loves for himself,' and in my judgment, this item is worth fifty."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ میں اور ایک شخص ‘ نبی اکرم ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ‘ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : بندہ ‘ اس وقت تک مؤمن نہیں ہوتا ‘ جب تک وہ اپنے مسلمان بھائی کے لئے وہی چیز پسند نہیں کرتا ، جس کو وہ اپنے لیے پسند کرتا ہے ‘ حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں اور وہ صاحب ‘ اُٹھ کر بازار کی طرف گئے ‘ وہاں ایک سامان فروخت ہو رہا تھا ‘ میں نے اُس کی قیمت دریافت کی : تو اُس شخص نے بتایا : یہ تیس کے عوض میں ہے ‘ ان صاحب نے اُس کو دیکھا اور بولے : میں اسے چالیس کے عوض میں لوں گا ‘ اُس شخص نے کہا : تم ایسا کیوں کر رہے ہو ؟ جبکہ میں تمہیں اس سے کم قیمت میں یہ چیز دے رہا ہوں ‘ اُن صاحب نے پھر اس چیز کا جائزہ لیا اور بولے : میں اسے پچاس کے عوض میں لوں گا ‘ دوسرے فریق نے کہا : تم ایسا کیوں کر رہے ہو ؟ جبکہ میں تمہیں یہ چیز اس سے کم قیمت میں دے رہا ہوں ‘ اُن صاحب نے بتایا : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ بندہ ‘ اس وقت تک مؤمن نہیں ہوتا ہے ‘ جب تک وہ اپنے بھائی کے لئے ‘ اُسی چیز کو پسند نہیں کرتا ، جس کو وہ اپنے لیے پسند کرتا ہے “ تو میری یہ رائے ہے کہ یہ چیز پچاس ( درہم یا دینار ) کی ہونی چاہیے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح ‘‘ میں اس روایت کا ایک حصہ مذکور ہے ‘ جو صرف حضرت انس رضی اللہ عنہ سے منقول ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

341

Majma al-Zawaid #341

عَنْ أَنَسٍ قَالَ: «مَا خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَّا قَالَ: "" لَا إِيمَانَ لِمَنْ لَا أَمَانَةَ لَهُ، وَلَا دِينَ لِمَنْ لَا عَهْدَ لَهُ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ أَبُو هِلَالٍ، وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ، وَضَعَّفَهُ النَّسَائِيُّ وَغَيْرُهُ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Mālik رضي الله عنه said: The Messenger of Allah ﷺ never addressed us in a sermon except that he said: > **"There is no faith for the one who has no trustworthiness, and there is no religion for the one who upholds no covenant."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ جب بھی ہمیں خطبہ دیتے تھے ‘ تو آپ ﷺ یہ ارشاد فرماتے تھے : ’’ اس شخص کا ایمان نہیں ، جس کی امانت نہ ہو اور اس شخص کا دین نہیں ، جس کا عہد نہ ہو ( یعنی جو امین نہ ہو ‘ اور جو عہد کی پاسداری نہ کرتا ہو ) ‘‘۔ یہ روایت امام احمد ‘ امام ابویعلیٰ ‘ امام بزار نے ‘ اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ابوہلال ہے ‘ یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے اس کو ثقہ قرار دیا ہے ‘ جبکہ امام نسائی اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔

342

Majma al-Zawaid #342

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «لَا إِيمَانَ لِمَنْ لَا أَمَانَةَ لَهُ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ حَتَّى تُؤْمِنُوا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَلَهُ فِي رِوَايَةٍ أُخْرَى عَنْهُ: «لَا دِينَ لِمَنْ لَا أَمَانَةَ لَهُ». وَفِيهِ الْقَاسِمُ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَهُوَ ضَعِيفٌ عِنْدَ الْأَكْثَرِينَ.

EnglishUnverified translation

Abū Umāmah رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"There is no faith for the one who has no trustworthiness. And by the One in Whose hand is my soul, you shall not enter Paradise until you believe."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ اُس شخص کا ایمان نہیں ، جس کی امانت نہ ہو ‘ اُس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ‘ تم لوگ جنت میں اس وقت تک داخل نہیں ہو گے ‘ جب تک تم مؤمن نہیں ہوتے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ انہوں نے انہی صحابی کے حوالے سے ایک اور روایت نقل کی ہے ( جس کے الفاظ یہ ہیں : ) ” اُس کا دین نہیں ، جس کی امانت نہ ہو ‘‘۔ اس کی سند میں ‘ ایک راوی قاسم ابوعبدالرحمان ہے ‘ اور وہ اکثر حضرات کے نزدیک ضعیف ہے ۔

343

Majma al-Zawaid #343

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «لَا إِيمَانَ لِمَنْ لَا أَمَانَةَ لَهُ، وَلَا دِينَ لِمَنْ لَا عَهْدَ لَهُ» "". فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَقَدْ تَقَدَّمَ، وَفِيهِ حُصَيْنُ بْنُ مَذْعُورٍ عَنْ قُرَيْشٍ التَّمِيمِيِّ، وَلَمْ أَرَ مَنْ ذَكَرَهُمَا.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Masʿūd رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"There is no faith for the one who has no trustworthiness, and there is no religion for the one who upholds no covenant."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ اُس شخص کا ایمان نہیں ، جس کی امانت نہ ہو ‘ اور اس شخص کا دین نہیں ، جس کا عہد نہ ہو ‘‘ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ‘ جو اس سے پہلے گزر چکی ہے ‘ اس کی سند میں یہ مذکور ہے : اسے حصین بن مذعور نے قریش تمیمی میں سے نقل کیا ہے اور میں نے کسی کو ان دونوں کا ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ۔

344

Majma al-Zawaid #344

وَعَنِ الْحَسَنِ قَالَ: «جَاءَ رَجُلٌ إِلَى الزُّبَيْرِ فَقَالَ: أَلَا أَقْتُلُ لَكَ عَلِيًّا؟ قَالَ: لَا، وَكَيْفَ تَقْتُلُهُ وَمَعَهُ الْجُنُودُ؟ قَالَ: أَلْحَقُ بِهِ فَأَفْتِكُ بِهِ. فَقَالَ: لَا، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" إِنَّ الْإِيمَانَ قَيْدُ الْفَتْكِ، لَا يَفْتِكُ مُؤْمِنٌ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ، وَهُوَ ثِقَةٌ وَلَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ، وَلَكِنَّهُ قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ.

EnglishUnverified translation

Al-Ḥasan al-Baṣrī reported: A man came to al-Zubayr ibn al-ʿAwwām رضي الله عنه and said, "Shall I not kill ʿAlī for you?" Al-Zubayr said, "No. How could you kill him when he is accompanied by troops?" The man said, "I will join his ranks and assassinate him by stealth." Al-Zubayr said, "No, for the Messenger of Allah ﷺ said: > **'Indeed, faith is a shackle against treacherous assassination; a believer never assassinates by stealth.'"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حسن بصری بیان کرتے ہیں : ایک شخص حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور بولا : کیا میں آپ کے لئے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو قتل نہ کر دوں ؟ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جی نہیں ! تم انہیں کیسے قتل کر سکتے ہو ؟ جبکہ اُن کے ساتھ لشکر موجود ہے ؟ اس نے کہا : میں اُن کے ساتھ جا کے مل جاتا ہوں ‘ اور پھر دھوکہ سے اُن پر حملہ کر دوں گا ‘ تو حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جی نہیں ! نبی اکرم ﷺ نے یہ ارشاد فرمایا ہے : ’’ ایمان ‘ دھوکے سے حملہ کرنے کے لئے بیڑی ہے ‘ مؤمن دھوکہ سے حملہ نہیں کرتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی مبارک بن فضالہ ہے ‘ وہ ثقہ ہے ‘ لیکن تدلیس کرتا ہے ‘ تاہم اس روایت میں اُس نے یہ کہا ہے : حسن بصری نے ہمیں یہ بات بیان کی ۔

345

Majma al-Zawaid #345

وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ «أَنَّ مُعَاوِيَةَ دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - فَقَالَتْ لَهُ: أَمَا خِفْتَ أَنْ أُقْعِدَ لَكَ رَجُلًا فَيَقْتُلَكَ؟ فَقَالَ: مَا كُنْتِ لِتَفْعَلِي وَأَنَا فِي بَيْتِ أَمَانٍ، وَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: يَعْنِي: "" الْإِيمَانُ قَيْدُ الْفَتْكِ "" كَيْفَ أَنَا فِي الَّذِي بَيْنِي وَبَيْنَكِ وَفِي حَوَائِجِكِ؟ قَالَتْ: صَالِحٌ. قَالَ: فَدَعِينَا وَإِيَّاهُمْ حَتَّى نَلْقَى رَبَّنَا - عَزَّ وَجَلَّ» -. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، إِلَّا أَنَّ الطَّبَرَانِيَّ قَالَ: عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ مَرْوَانَ قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ مُعَاوِيَةَ عَلَى عَائِشَةَ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Saʿīd ibn al-Musayyab reported: Muʿāwiyah رضي الله عنه entered upon ʿĀʾishah رضي الله عنها, and she said to him, "Did you not fear that I might have hidden a man for you to kill you?" He replied, "You would never do that while I am in a house of safety, and I have heard the Messenger of Allah ﷺ saying: > **'Faith is a shackle against treacherous assassination.'** How have I been regarding the matters between me and you, and in fulfilling your needs?" She said, "Good." He said, "Then leave us and them until we meet our Lord, the Mighty and Majestic."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سعید بن مسیب بیان کرتے ہیں : حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے ‘ تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اُن سے فرمایا : کیا تمہیں یہ اندیشہ نہیں ہوا ؟ کہ میں نے تمہارے لیے کسی شخص کو ( اپنے گھر میں ‘ چھپا کر ) بٹھا کر رکھا ہو گا اور وہ تمہیں قتل کر دے گا ؟ تو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : آپ ایسا نہیں کر سکتی ہیں ، میں امان والے گھر میں موجود ہوں اور میں ‘ نبی اکرم علی ﷺ کو ایک بات ارشاد فرماتے ہوئے سن چکا ہوں ( راوی بیان کرتے ہیں : ) حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی مراد ‘ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان تھا :’’ ایمان ‘ دھوکے سے حملہ کرنے کے لئے بیڑی ہے ‘‘۔ ( پھر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا : ) آپ کی خدمت اور آپ کی ضروریات کی تکمیل کے حوالے سے ‘ میں کیسا ہوں ؟ سیدہ عائشہ نے جواب دیا : اچھے ہو ! حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا : پھر آپ مجھے اور اُن لوگوں کو ( ہمارے حال پر ) رہنے دیں ، یہاں تک کہ ہم اپنے پروردگار کی بارگاہ میں حاضر ہو جائیں ۔ یہ روایت امام احمد نے ‘ اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ تاہم امام طبرانی نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : یہ سعید بن مسیب کے حوالے سے ‘ مروان سے منقول ہے ‘ وہ بیان کرتا ہے : میں ‘ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے ہمراہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا ....... اس روایت کی سند میں ایک راوی علی بن زید ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

346

Majma al-Zawaid #346

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «لَيْسَ بِمُؤْمِنٍ مُسْتَكْمِلِ الْإِيمَانِ مَنْ لَمْ يَعُدَّ الْبَلَاءَ نِعْمَةً، وَالرَّخَاءَ مُصِيبَةً "". قَالُوا: كَيْفَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "" لِأَنَّ الْبَلَاءَ لَا يَتْبَعُهُ إِلَّا الرَّخَاءُ، وَكَذَلِكَ الرَّخَاءُ لَا يَتْبَعُهُ إِلَّا الْبَلَاءُ وَالْمُصِيبَةُ، وَلَيْسَ بِمُؤْمِنٍ مُسْتَكْمِلِ الْإِيمَانِ مَنْ لَمْ يَسْكُنْ فِي صِلَاتِهِ "". قَالُوا: وَلِمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "" لِأَنَّ الْمُصَلِّي يُنَاجِي رَبَّهُ، فَإِذَا كَانَ فِي غَيْرِ صَلَاةٍ إِنَّمَا يُنَاجِي ابْنَ آدَمَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَى الْمَدَنِي. قَالَ الْبُخَارِيُّ: كَانَ يَضَعُ الْحَدِيثَ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿAbbās رضي الله عنهما reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"He is not a believer with complete faith who does not consider affliction to be a blessing and ease to be a misfortune."** They asked, "How is that, O Messenger of Allah?" He ﷺ said: > **"Because affliction is followed by nothing except ease, and likewise ease is followed by nothing except affliction and misfortune. And he is not a believer with complete faith who does not find tranquility in his prayer."** They asked, "And why is that, O Messenger of Allah?" He ﷺ said: > **"Because the one who prays is conversing privately with his Lord, whereas when he is not in prayer, he only converses with the children of Adam."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ وہ مؤمن ‘ کامل ایمان والا نہیں ہوتا ‘ جو آزمائش کو نعمت اور خوشحالی کو مصیبت شمار نہیں کرتا ‘ لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ کیسے ہو سکتا ہے ؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : کیونکہ ہر آزمائش کے بعد سہولت آنی ہوتی ہے ‘ اسی طرح ہر سہولت کے بعد ‘ آزمائش اور مصیبت آتی ہے ‘ اور وہ شخص کامل ایمان والا نہیں ہوتا ‘ جو نماز میں پرسکون نہیں رہتا ‘ لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! وہ کیوں ؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : کیونکہ نمازی ‘ اپنے پروردگار کی بارگاہ میں مناجات کر رہا ہوتا ہے اور جب آدمی نماز کی حالت میں نہ ہو ‘ تو وہ انسان سے مناجات کرتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی عبدالعزیز بن یحیی مدنی ہے ‘ امام بخاری فرماتے ہیں : وہ حدیث ایجاد کرتا تھا ۔

347

Majma al-Zawaid #347

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «لَيْسَ الْمُؤْمِنُ بِالطَّعَّانِ وَلَا اللَّعَّانِ وَلَا الْفَاحِشِ وَلَا الْبَذِيءِ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَغْرَاءٍ، وَثَّقَهُ أَبُو زُرْعَةَ وَجَمَاعَةٌ، وَضَعَّفَهُ ابْنُ الْمَدِينِيِّ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Masʿūd رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"A believer is neither a defamer, nor a curser, nor obscene, nor vulgar."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ مؤمن طعنے دینے والا ‘ لعنت کرنے والا ‘ فحش گفتگو کرنے والا اور بدزبان نہیں ہوتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن مغراء ہے ‘ جسے امام ابوزرعہ اور ایک جماعت نے ثقہ قرار دیا ہے ‘ جبکہ علی بن مدینی نے اسے ضعیف کہا ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

348

Majma al-Zawaid #348

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «كُفْرٌ تَبَرُّؤٌ مِنْ نَسَبٍ وَإِنْ دَقَّ، وَادِّعَاءُ نَسَبٍ لَا يُعْرَفُ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: "" كُفْرٌ بِامْرِئٍ ""، وَهُوَ مِنْ رِوَايَةِ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿAmr رضي الله عنهما reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"It is an act of disbelief to disown one's lineage, however subtle it may be, and to claim a lineage that is not known."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ نسب سے برات کا اظہار کرنا ‘ کفر ہے ‘ خواہ وہ نسب کتنا ہی ہلکا کیوں نہ ہو ‘ اور ( کسی ) ایسے نسب کا دعوی کرنا ‘ جو معروف نہ ہو ( یہ بھی کفر ہے ) ‘‘ یہ روایت امام احمد نے ‘ اور امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ’’ آدمی کی یہ چیز کفر ہے ‘‘ ........ یہ روایت عمرو بن شعیب نے ‘ اپنے والد کے حوالے سے ‘ اپنے دادا سے نقل کی ہے ۔

349

Majma al-Zawaid #349

وَعَنْ جَابِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «مَنْ تَوَلَّى غَيْرَ مَوَالِيهِ فَقَدْ خَلَعَ رِبْقَةَ الْإِيمَانِ مِنْ عُنُقِهِ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، رَوَاهُ عَنْ جَابِرٍ خَالِدُ بْنُ أَبِي حَيَّانَ، وَثَّقَهُ أَبُو زُرْعَةَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ. قُلْتُ: وَيَأْتِي هَذَا الْحَدِيثُ وَغَيْرُهُ فِيمَنْ تَوَلَّى غَيْرَ مَوَالِيهِ فِي الْفَرَائِضِ.

EnglishUnverified translation

Jābir ibn ʿAbdillāh رضي الله عنهما reported that the Prophet ﷺ said: > **"Whoever claims clientage to other than his rightful patrons has cast off the loop of faith from his neck."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جو شخص اپنے آزاد کرنے والے آقا کی بجائے ‘ کسی اور کی طرف نسبت ولاء ظاہر کرتا ہے ‘ وہ اپنی گردن سے ایمان کا پٹہ اتار دیتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ حضرت جابر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ‘ اسے خالد بن ابوحیان نامی راوی نے نقل کیا ہے ‘ جسے امام ابوزرعہ نے ثقہ قرار دیا ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ حدیث اور اس کے علاوہ دیگر احادیث ‘ جو اپنے حقیقی آقا کی بجائے کسی اور کی طرف نسبت ولاء ظاہر کرنے والے شخص کے بارے میں ہیں وہ فرائض سے متعلق باب میں آئیں گی ۔

350

Majma al-Zawaid #350

وَعَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «مَنِ ادَّعَى نَسَبًا لَا يُعْرَفُ كَفَرَ بِاللَّهِ، وَانْتِفَاءٌ مِنْ نَسَبٍ - وَإِنْ دَقَّ - كُفْرٌ بِاللَّهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ السَّرِيُّ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Bakr al-Ṣiddīq رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Whoever claims a lineage that is unknown has committed disbelief in Allah; and disowning a lineage—even if distant—is disbelief in Allah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں :: نبی اکرم ﷺ نے یہ ارشاد فرمایا ہے : ’’ جو شخص کسی ایسے نسب کا دعویٰ کرے ‘ جو معروف نہ ہو ‘ تو ایسا شخص اللہ تعالیٰ کے کفر کا مرتکب ہوتا ہے ‘ کیونکہ نسب سے نفی کرنا خواہ وہ کتنا ہی ہلکا کیوں نہ ہو ‘ یہ اللہ تعالیٰ کا کفر ہے ‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے اور وہ ضعیف ہے ‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی سری بن اسماعیل ہے ‘ اور وہ متروک ہے ۔

351

Majma al-Zawaid #351

وَعَنْ أَيُّوبَ بْنِ عُدَيِّ بْنِ عُدَيٍّ، عَنْ أَبِيهِ - أَوْ عَمِّهِ -: أَنَّ مَمْلُوكًا كَانَ يُقَالُ لَهُ: "" كَيْسَانُ ""، فَسَمَّى نَفْسَهُ قَيْسًا، وَادَّعَى إِلَى مَوْلَاهُ وَلَحِقَ بِالْكُوفَةِ، فَرَكِبَ أَبُوهُ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، ابْنِي وُلِدَ عَلَى فِرَاشِي (وَادَّعَى)، ثُمَّ رَغِبَ عَنِّي وَادَّعَى إِلَى مَوْلَايَ وَمَوْلَاهُ، فَقَالَ عُمَرُ لِزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ: أَمَا تَعْلَمُ أَنَّا كُنَّا نَقْرَأُ: (لَا تَرْغَبُوا عَنْ آبَائِكُمْ فَإِنَّهُ كُفْرٌ بِكُمْ؟) فَقَالَ زَيْدٌ: بَلَى. فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: انْطَلِقْ فَاقْرِنِ ابْنَكَ إِلَى بَعِيرِكَ، ثُمَّ انْطَلِقْ فَاضْرِبْ بَعِيرَكَ سَوْطًا وَابْنَكَ سَوْطًا حَتَّى تَأْتِيَ بِهِ أَهْلَكَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَأَيُّوبُ بْنُ عُدَيٍّ وَأَبُوهُ أَوْ عَمُّهُ لَمْ أَرَ مَنْ ذَكَرَهُمَا.

EnglishUnverified translation

Ayyūb ibn ʿUdayy ibn ʿUdayy narrated from his father—or his uncle—that: There was an enslaved man named Kaysān who renamed himself Qays, claimed lineage to his master, and moved to Kūfah. His father rode to ʿUmar ibn al-Khaṭṭāb رضي الله عنه and said, "O Commander of the Believers, my son was born in my bed, but now he has turned away from me and claimed to be the son of my master and his master." ʿUmar said to Zayd ibn Thābit رضي الله عنه, "Do you not know that we used to recite: > **'Do not turn away from your fathers, for indeed it is disbelief on your part'?"** Zayd said, "Yes." Thereupon ʿUmar ibn al-Khaṭṭāb said to the father, "Go, bind your son to your camel, then proceed, striking your camel with a whip and your son with a whip until you bring him back to your family."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایوب بن عدی بن عدی ‘ اپنے والد ‘ یا شاید اپنے چچا کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں : ایک غلام تھا ، جس کا نام کیسان تھا ‘ اُس نے اپنا نام قیس رکھ لیا اور اپنے آقا کی اولاد ہونے کا دعوی کر دیا اور کوفہ چلا گیا ‘ اُس کا باپ سوار ہو کر حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا ‘ اور بولا : اے امیرالمؤمنین ! میرا بیٹا ‘ جو میرے ہاں پیدا ہوا ؟ اب وہ کسی اور کے نسب کا دعوی کرتا ہے ‘ اس نے مجھ سے منہ موڑ لیا ہے اور اپنی نسبت میرے اور اس کے آقا کی طرف کر دی ہے ( یعنی وہ خود کو میرے آقا کا بیٹا ظاہر کرتا ہے ) تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے فرمایا : کیا تم یہ بات جانتے ہو ؟ کہ ہم یہ آیت پڑھا کرتے تھے : ’’ تم لوگ اپنے آباؤ اجداد سے منہ موڑو ! کیونکہ یہ چیز تمہارا کفر شمار ہو گی ‘‘ تو حضرت زید رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : جی ہاں ! پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اُس شخص سے کہا : تم جاؤ ! اور اپنے بیٹے کو اپنے اونٹ پر باندھو ! اور پھر روانہ ہو جاؤ ‘ ایک کوڑا ‘ اپنے اونٹ کو مارنا ‘ اور ایک کوڑا ‘ اپنے بیٹے کو مارنا ‘ یہاں تک کہ تم اُسے ساتھ لے کر اپنے گھر آ جاؤ ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور ایوب بن عدی ‘ اُس کے والد ‘ یا اُس کے چچا کا ذکر کرتے ہوئے ‘ میں نے کسی کو نہیں دیکھا ہے ۔

352

Majma al-Zawaid #352

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «مَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ لَمْ يَرَحْ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ، وَإِنَّ رِيحَهَا لَيُوجَدُ مِنْ قَدْرِ سَبْعِينَ عَامًا - أَوْ مِنْ مَسِيرَةِ سَبْعِينَ عَامًا -» "". قُلْتُ: رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: "" «مِنْ مَسِيرَةِ خَمْسِمِائَةِ عَامٍ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿAmr رضي الله عنهما reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Whoever attributes himself to someone other than his father shall not smell the fragrance of Paradise, even though its fragrance is detected from a distance of seventy years—or a journey of seventy years."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ وہ شخص ‘ جو اپنے باپ کی بجائے ‘ کسی اور کی اولاد ہونے کا دعوی کرے ‘ وہ جنت کی خوشبو بھی نہیں پائے گا ‘ اگرچہ اس کی خوشبو 70 سال کے فاصلے سے محسوس ہو جاتی ہے ( راوی کو شک ہے ‘ یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) ستر سال کی مسافت کے فاصلے سے محسوس ہو جاتی ہے ‘‘۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابن ماجہ نے بھی نقل کی ہے ‘ تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ’’ پانچ سو سال کی مسافت کے فاصلے سے محسوس ہو جاتی ہے ‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

353

Majma al-Zawaid #353

عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ: «الْتَقَى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ عَلَى الْمَرْوَةِ فَتَحَدَّثَا، ثُمَّ مَضَى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو وَبَقِيَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ يَبْكِي، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: مَا يُبْكِيكَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ؟ قَالَ: هَذَا - يَعْنِي عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو - وَزَعَمَ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ كِبْرٍ كَبَّهُ اللَّهُ لِوَجْهِهِ فِي النَّارِ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abū Salamah ibn ʿAbd al-Raḥmān ibn ʿAwf reported: ʿAbdullāh ibn ʿUmar رضي الله عنهما and ʿAbdullāh ibn ʿAmr ibn al-ʿĀṣ رضي الله عنهما met upon Mount al-Marwah and spoke together. Then ʿAbdullāh ibn ʿAmr moved on while ʿAbdullāh ibn ʿUmar remained behind weeping. A man said to him, "What makes you weep, O Abū ʿAbd al-Raḥmān?" He replied, "This one—meaning ʿAbdullāh ibn ʿAmr—stated that he heard the Messenger of Allah ﷺ saying: > **'Whoever has in his heart even the weight of a seed of arrogance, Allah will cast him down upon his face into the Fire.'"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوسلمہ بن عبدالرحمان بن عوف بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ مروہ پہاڑی پر ‘ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اور حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کی ملاقات ہوئی ‘ یہ دونوں حضرات آپس میں بات چیت کرتے رہے ‘ پھر حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ تشریف لے گئے اور حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما وہیں رک کر رونے لگے ‘ ایک شخص نے اُن سے دریافت کیا : اے ابوعبدالرحمن ! آپ کیوں رو رہے ہیں ؟ انہوں نے بتایا : انہوں نے ( اُن کی مراد حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ تھے ) یہ بات بیان کی ہے : اُنہوں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جس شخص کے دل میں دانے کے وزن جتنا تکبر ہو گا ‘ اللہ تعالیٰ اُسے اوندھے منہ جہنم میں داخل کر دے گا “ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

354

Majma al-Zawaid #354

وَفِي رِوَايَةٍ أُخْرَى عِنْدَ أَحْمَدَ صَحِيحَةٍ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: " «لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِنْسَانٌ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ كِبْرٍ» ".

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿAmr رضي الله عنهما reported: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: > **"No person shall enter Paradise who has in his heart a mustard seed's weight of arrogance."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام احمد کی نقل کردہ ایک اور صیح روایت میں یہ الفاظ ہیں : وہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ ایسا شخص جنت میں داخل نہیں ہو گا ، جس کے دل میں رائی کے دانے کے وزن جتنا تکبر ہو گا ‘‘۔

355

Majma al-Zawaid #355

وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «مَا مِنْ رَجُلٍ يَمُوتُ حِينَ يَمُوتُ وَفِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةِ خَرْدَلٍ مِنْ كِبْرٍ - تَحِلُّ لَهُ الْجَنَّةُ أَنْ يَرِيحَ رِيحَهَا وَلَا يَرَاهَا ""، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ يُقَالُ لَهُ أَبُو رَيْحَانَةَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي لَأُحِبُّ الْجَمَالَ وَأَشْتَهِيهِ، حَتَّى إِنِّي لَأُحِبُّهُ فِي عَلَاقَةِ سَوْطِي، وَفِي شِرَاكِ نَعْلِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" لَيْسَ ذَاكَ الْكِبْرُ، إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - جَمِيلٌ يُحِبُّ الْجَمَالَ، وَلَكِنَّ الْكِبْرَ مَنْ سَفِهَ الْحَقَّ، وَغَمَصَ النَّاسَ بِعَيْنَيْهِ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِي إِسْنَادِهِ شَهْرٌ عَنْ رَجُلٍ لَمْ يُسَمَّ.

EnglishUnverified translation

ʿUqbah ibn ʿĀmir رضي الله عنه reported that he heard the Messenger of Allah ﷺ say: > **"There is no man who dies while having in his heart a mustard seed's weight of arrogance for whom Paradise is lawful, so that he may neither smell its fragrance nor see it."** A man from Quraysh named Abū Rayḥānah said, "O Messenger of Allah, I love beauty and desire it, so much so that I love it in the strap of my whip and the thong of my sandal." The Messenger of Allah ﷺ said: > **"That is not arrogance. Indeed, Allah, the Mighty and Majestic, is Beautiful and loves beauty. Rather, arrogance is to reject the truth and look down upon people with contempt."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جو شخص ایسی حالت میں مرتا ہے کہ اُس کے دل میں رائی کے دانے کے وزن جتنا تکبر موجود ہو ‘ تو وہ شخص جنت کی خوشبو بھی نہیں پا سکے گا ‘ اور وہ اُسے ( جنت کو ) دیکھ بھی نہیں سکے گا ۔ قریش سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب جن کا نام ابوریحانہ تھا انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں جمال کو پسند کرتا ہوں ، اور اس کا خواہش مند ہوتا ہوں ، یہاں تک کہ مجھے یہ بات بھی پسند ہے کہ میرے کوڑے کے لٹکانے کی جگہ ‘ اور میرے جوتے کا تسمہ بھی عمدہ ہونا چاہیے ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ یہ چیز تکبر نہیں ہے ‘ بے شک اللہ تعالیٰ جمیل ہے ‘ اور وہ جمال کو پسند کرتا ہے ‘ تکبر یہ ہے کہ آدمی حق سے منہ موڑ لے ‘ اور لوگوں کو اپنی نظروں میں حقیر سمجھے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی شہر ہے ‘ اس نے اسے ایک ایسے شخص کے حوالے سے نقل کیا ہے جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔

356

Majma al-Zawaid #356

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «مَنْ تَعَظَّمَ فِي نَفْسِهِ أَوِ اخْتَالَ فِي مِشْيَتِهِ لَقِيَ اللَّهَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿUmar رضي الله عنهما reported: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: > **"Whoever exalts himself or struts haughtily in his walk will meet Allah, Blessed and Exalted, while He is angry with him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جو شخص خود کو عظیم سمجھتا ہے ‘ یا تکبر کے ساتھ چلتا ہے ‘ جب وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو گا ‘ تو اللہ تعالیٰ اُس پر غضبناک ہو گا ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

357

Majma al-Zawaid #357

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنْ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ كِبْرٍ، وَلَا يَدْخُلُ النَّارَ مَنْ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ إِيمَانٍ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْمِصِّيصِيُّ شَدِيدُ الضَّعْفِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿAbbās رضي الله عنهما reported that the Prophet ﷺ said: > **"He shall not enter Paradise who has in his heart a mustard seed's weight of arrogance, and he shall not enter the Fire who has in his heart a mustard seed's weight of faith."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں :’’ وہ شخص جنت میں داخل نہیں ہو گا ، جس کے دل میں رائی کے دانے کے وزن جتنا تکبر ہو گا اور وہ شخص جہنم میں داخل نہیں ہو گا ‘ جس کے دل میں رائی کے دانے کے وزن جتنا ایمان ہو گا ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن کثیر مصیصی ہے جو انتہائی ضعیف ہے ۔

358

Majma al-Zawaid #358

وَعَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ كِبْرٍ "". قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلَكْنَا، وَكَيْفَ لَنَا أَنْ نَعْلَمَ مَا فِي قُلُوبِنَا مِنْ ذَاتِ الْكِبْرِ؟ وَأَيْنَ هُوَ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" مَنْ لَبِسَ الصُّوفَ أَوْ حَلَبَ الشَّاةَ أَوْ أَكَلَ مَعَ مَا مَلَكَتْ يَمِينُهُ - فَلَيْسَ فِي قَلْبِهِ - إِنْ شَاءَ اللَّهُ - الْكِبْرُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ النَّوْفَلِيُّ، مُنْكَرُ الْحَدِيثِ جِدًّا.

EnglishUnverified translation

Al-Sāʾib ibn Yazīd رضي الله عنه reported that the Prophet ﷺ said: > **"He shall not enter Paradise who has in his heart a seed's weight of arrogance."** The people said, "O Messenger of Allah, then we are ruined! How are we to know what arrogance is in our hearts, and where it lies?" The Prophet ﷺ said: > **"Whoever wears wool, milks the sheep, and eats with those whom his right hand possesses has no arrogance in his heart, if Allah wills."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حدیث : حضرت سائب بن یزید رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ وہ شخص جنت میں داخل نہیں ہو گا ، جس کے دل میں دانے کے وزن جتنا تکبر ہو گا ‘ لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم تو بلاکت کا شکار ہو گئے ‘ ہمیں یہ کیسے پتہ چل سکتا ہے ؟ کہ ہمارے دل میں تکبر نہیں ہے ‘ اور کہاں ہو سکتا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص اونی لباس پہنے ‘ یا بکری کا دودھ دوہے ‘ یا اپنے غلام کے ساتھ کھائے ‘ تو ان شاء اللہ اُس کے دل میں تکبر نہیں آئے گا ‘‘ اس روایت کو امام طبرانی نے ’’ معجم کبیر ‘‘ میں نقل کیا ہے ‘ اس روایت کی سند میں ایک راوی یزید بن عبدالملک نوفلی ہے ‘ جو انتہائی منکر الحدیث ہے ۔

359

Majma al-Zawaid #359

وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - يَقُولُ: الْعِزُّ إِزَارِي، وَالْكِبْرِيَاءُ رِدَائِي، فَمَنْ نَازَعَنِي فِيهِ عَذَّبْتُهُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالصَّغِيرِ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ وَالِدُ أَبِي أَحْمَدَ، ضَعَّفَهُ أَبُو زُرْعَةَ وَغَيْرُهُ.

EnglishUnverified translation

ʿAlī ibn Abī Ṭālib رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Indeed, Allah, the Mighty and Majestic, says: 'Might is My lower garment, and grandeur is My cloak; so whoever contends with Me regarding either of them, I shall punish him.'"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ بے شک اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : عزت ( یا غلبہ ) میرا تہبند ہے ‘ اور کبریائی ‘ میری چادر ہے ‘ جو شخص اس کے بارے میں ‘ میرا مقابلہ کرے گا ‘ میں اُسے عذاب دوں گا ‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم صغیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن زبیر ہے ‘ جو ابواحمد نامی راوی کا والد ہے ‘ اس کو امام ابوزرعہ اور دیگر حضرات نے ضعیف قرار دیا ہے ۔

360

Majma al-Zawaid #360

وَعَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «ثَلَاثَةٌ لَا يُسْأَلُ عَنْهُمْ: رَجُلٌ نَازَعَ اللَّهَ رِدَاءَهُ، فَإِنَّ رِدَاءَهُ الْكِبْرُ، وَإِزَارَهُ الْعِزُّ، وَرَجُلٌ فِي شَكٍّ مِنْ أَمْرِ اللَّهِ، وَالْقُنُوطُ مِنْ رَحْمَتِهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ هَكَذَا. وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ مُطَوَّلًا، وَيَأْتِي فِي بَابِ الْكَبَائِرِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Faḍālah ibn ʿUbayd رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"There are three persons about whom you need not ask: a man who contends with Allah regarding His cloak—for His cloak is grandeur and His lower garment is might; a man who is in doubt concerning the decree of Allah; and the one who despairs of His mercy."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ تین قسم کے لوگوں سے سوال نہیں ہو گا ‘ ایک وہ شخص ‘ جو اللہ تعالیٰ کی چادر کے بارے میں اُس سے جھگڑا کرتا ہے ‘ بے شک اس کی چادر کی بڑائی ہے ‘ اور اس کا تہبند غلبہ ہے ‘ ایک وہ شخص ‘ جو اللہ تعالیٰ کے حکم کے بارے میں شک کرتا ہے ‘ اور اُس کی رحمت سے مایوس ہونے والا شخص ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں اسی طرح نقل کی ہے ‘ امام بزار نے اسے طویل روایت کے طور پر نقل کیا ہے ‘ وہ روایت کبائر سے متعلق باب میں ‘ آگے آئے گی ‘ اس کے رجال ثقہ ہیں ۔