«وَعَنْ صَعْصَعَةَ بْنِ نَاجِيَةَ الْمُجَاشِعِيِّ، وَهُوَ جَدُّ الْفَرَزْدَقِ بْنِ غَالِبِ بْنِ صَعْصَعَةَ، قَالَ: قَدِمْتُ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَعَرَضَ عَلَيَّ الْإِسْلَامَ، فَأَسْلَمْتُ وَعَلَّمَنِي آيًا مِنَ الْقُرْآنِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي عَمِلْتُ أَعْمَالًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَهَلْ لِي فِيهَا مَنْ أَجْرٍ؟ قَالَ: "" وَمَا عَمِلْتَ؟ "" فَقُلْتُ: إِنِّي أَضْلَلْتُ لِي نَاقَتَيْنِ عَشْرَاوَيْنِ، فَخَرَجْتُ أَتْبَعُهُمَا عَلَى جَمَلٍ لِي، فَرُفِعَ لِي بَيْتَانِ فِي فَضَاءٍ مِنَ الْأَرْضِ، فَقَصَدْتُ قَصْدَهُمَا، فَوَجَدْتُ فِي أَحَدِهِمَا شَيْخًا كَبِيرًا، فَقُلْتُ: هَلْ أَحْسَسْتَ نَاقَتَيْنِ عَشْرَاوَيْنِ؟ قَالَ: مَا نَارَاهُمَا، قُلْتُ: مِيسَمُ بَنِي دَارِمٍ. قَالَ: قَدْ أَصَبْنَا نَاقَتَيْكَ، وَنَتَجْنَاهُمَا فَظَأَرْنَاهُمَا، وَقَدْ نَعَّشَ اللَّهُ بِهِمَا أَهْلَ بَيْتٍ مِنْ قَوْمِكَ مِنَ الْعَرَبِ مِنْ مُضَرَ. قَالَ: فَبَيْنَا هُوَ يُخَاطِبُنِي إِذْ نَادَتِ امْرَأَةٌ مِنَ الْبَيْتِ الْآخَرِ: وَلَدَتْ. قَالَ: وَمَا وَلَدَتْ؟ إِنْ كَانَ غُلَامًا فَقَدْ شَرَكَنَا فِي قَوْمِنَا - وَقَالَ الْبَزَّارُ: فَقَدْ تَبَارَكَنَا فِي قَوْمِنَا - وَإِنْ كَانَتْ جَارِيَةً فَادْفِنَاهَا، فَقَالَتْ: جَارِيَةٌ؟، فَقُلْتُ: مَا هَذِهِ الْمَوْءُودَةُ؟ قَالَ: ابْنَةٌ لِي، فَقُلْتُ: إِنِّي أَشْتَرِيهَا مِنْكَ. قَالَ: يَا أَخَا بَنِي تَمِيمٍ، أَتَقُولُ: أَتَبِيعُ ابْنَتَكَ وَقَدْ أَخْبَرْتُكَ أَنِّي رَجُلٌ مِنَ الْعَرَبِ مِنْ مُضَرَ؟ فَقُلْتُ: إِنِّي لَا أَشْتَرِي مِنْكَ رَقَبَتَهَا، إِنَّمَا أَشْتَرِي رُوحَهَا أَنْ لَا تَقْتُلَهَا. قَالَ: بِمَ تَشْتَرِيهَا؟ قُلْتُ: بِنَاقَتَيَّ هَاتَيْنِ وَوَلَدَيْهِمَا. قَالَ وَتَزِيدُنِي بَعِيرَكَ هَذَا؟ قُلْتُ: نَعَمْ، عَلَى أَنْ تُرْسِلَ مَعِي رَسُولًا، فَإِذَا بَلَغْتُ إِلَى أَهْلِي رَدَدْتُ إِلَيْكَ الْبَعِيرَ، فَفَعَلَ، فَلَمَّا بَلَغْتُ أَهْلِي رَدَدْتُ إِلَيْهِ الْبَعِيرَ، فَلَمَّا كَانَ فِي بَعْضِ اللَّيْلِ فَكَّرْتُ فِي نَفْسِي أَنَّ هَذِهِ مَكْرُمَةٌ مَا سَبَقَنِي إِلَيْهَا أَحَدٌ مِنَ الْعَرَبِ، وَظَهَرَ الْإِسْلَامُ وَقَدْ أَحْيَيْتُ ثَلَاثَمِائَةٍ وَسِتِّينَ مَوْءُودَةً، أَشْتَرِي كُلَّ وَاحِدَةٍ مِنْهُنَّ بِنَاقَتَيْنِ عَشْرَاوَيْنِ وَجَمَلٍ، فَهَلْ لِي فِي ذَلِكَ مِنْ أَجْرٍ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" لَكَ أَجْرٌ إِذْ مَنَّ اللَّهُ عَلَيْكَ بِالْإِسْلَامِ» "". قَالَ عَبَّادٌ: وَمِصْدَاقُ قَوْلِ صَعْصَعَةَ قَوْلُ الْفَرَزْدَقِ: وَجَدِّي الَّذِي مَنَعَ الْوَائِدَاتِ ... فَأَحْيَا الْوَئِيدَ فَلَمْ يُوأَدِ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْبَزَّارُ، وَفِيهِ الطُّفَيْلُ بْنُ عَمْرٍو التَّمِيمِيُّ، قَالَ الْبُخَارِيُّ: لَا يَصِحُّ حَدِيثُهُ. وَقَالَ الْعُقَيْلِيُّ: لَا يُتَابَعُ عَلَيْهِ.
EnglishUnverified translation
Ṣaʿṣaʿah ibn Nājiyah al-Mujāshiʿī رضي الله عنه—the grandfather of the poet al-Farazdaq—said: I came to the Prophet ﷺ, and he presented Islam to me, so I embraced Islam, and he taught me verses from the Qurʾān. I said, "O Messenger of Allah, I performed good deeds during the pre-Islamic days of ignorance; will I have any reward for them?" He ﷺ asked: > **"And what did you do?"** I said, "Two of my pregnant she-camels went astray, so I went out searching for them riding my camel. Two tents appeared in an open plain, so I headed toward them. In one of them, I found an elderly man, so I asked, 'Have you noticed two pregnant she-camels?' He asked, 'What is their brand mark?' I replied, 'The brand of Banū Dārim.' He said, 'We found your two she-camels, helped deliver their young, and fostered them. Through them, Allah brought relief to a household among your people of the Arabs from Muḍar.' While he was speaking with me, a woman called out from the other tent, 'She has given birth!' The man asked, 'What has she given birth to? If it is a boy, he will share with us among our people—and in al-Bazzār's narration: he will bring blessing to our people—but if it is a girl, bury her!' The woman said, 'It is a girl.' I asked, 'Who is this infant to be buried alive?' He replied, 'My daughter.' I said, 'I will buy her from you.' He said, 'O brother of Banū Tamīm, do you say: "Will you sell your daughter?" when I have told you that I am an Arab of Muḍar?' I said, 'I am not buying her person from you; I am only buying her life, so that you do not kill her.' He asked, 'With what will you buy her?' I said, 'With these two she-camels of mine and their two calves.' He asked, 'And will you add this camel of yours?' I said, 'Yes, provided you send a messenger with me, and when I reach my family, I will return the camel to you.' He agreed. When I reached my family, I returned the camel to him. Later that night, I thought to myself: 'This is a noble deed that no one among the Arabs has preceded me in.' By the time Islam appeared, I had saved three hundred and sixty infant girls from being buried alive, buying each of them with two pregnant she-camels and a camel. Will I have any reward for that?" The Prophet ﷺ said: > **"You have your reward, for Allah has blessed you with Islam."**
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
حضرت صعصعہ بن ناجیہ مجاشعی رضی اللہ عنہ ‘ جو فرزدق بن غالب بن صعصعہ ( یعنی عربی کے مشہور شاعر فرزدق ) کے دادا ہیں ‘ وہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ‘ آپ نے مجھے اسلام کی دعوت دی ، میں نے اسلام قبول کر لیا ‘ نبی اکرم ﷺ نے مجھے قرآن کی کچھ آیات کی تعلیم دی ‘ میں نے عرض کی : یا رسول الله ! میں نے زمانہ جاہلیت میں کچھ اچھے کام کیے تھے ‘ کیا مجھے اُن کا اجر ملے گا ؟ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : تم نے کیا عمل کیا تھا ؟ میں نے بتایا : ایک مرتبہ میری دو اونٹنیاں گم ہو گئی تھیں ، جن کے ہاں بچے کی پیدائش ہونے والی تھی ۔ میں اُن دونوں کی تلاش کے لیے اپنے اونٹ پر سوار ہو کر نکلا ‘ ایک کھلی جگہ پر میرے سامنے دو گھر آئے ‘ میں اُن دونوں کی طرف چلا گیا ‘ اُن دونوں میں سے ایک گھر میں ‘ میں نے ایک عمر رسیدہ بوڑھے کو پایا ‘ تو میں نے دریافت کیا : کیا تمہیں دو عشراوی اونٹنیوں کے بارے میں کچھ پتہ ہے ؟ اس نے دریافت کیا : ان دونوں کا نشان کیا ہے ؟ میں نے بتایا : بنو دارم کے مخصوص آلے سے نشان لگایا گیا ‘ اس نے کہا : تمہاری دو اونٹنیاں ہمیں ملی تھیں ، ہم نے ان کا بچہ پیدا کروا لیا ۔ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کے ذریعے تمہاری قوم کے ‘ یعنی عربوں کے مضر قبیلے کے دو گھرانوں کو سہولت عطا کی ‘ ابھی وہ شخص میرے ساتھ گفتگو کر رہا تھا ‘ کہ اسی دوران ‘ دوسرے گھر میں سے ایک عورت نے بلند آواز میں یہ کہا : پیدائش ہو گئی ہے ‘ اس شخص نے دریافت کیا : کیا پیدا ہوا ہے ؟ اگر تو لڑکا ہے ‘ تو وہ ہماری قوم میں ہمارا حصہ دار ہو گا ۔ یہاں امام بزار نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں ‘ اُس کے ذریعے ہماری قوم میں برکت ہو گی ‘ اور اگر لڑکی ہوئی ہے ‘ تو تم اُسے دفنا دو ! اُس عورت نے جواب دیا : لڑکی ہوئی ہے ‘ میں نے دریافت کیا : کس کو زندہ درگور کرنے کی بات ہو رہی ہے ؟ وہ کون ہے ؟ اُس شخص نے بتایا : وہ میری بیٹی ہے ‘ میں نے کہا : میں اُسے تم سے خرید لیتا ہوں ‘ اُس نے کہا : اے بنو تمیم سے تعلق رکھنے والے فرد ! کیا تم یہ کہہ رہے ہو ؟ کہ میں اپنی بیٹی فروخت کر دوں ، جبکہ میں تمہیں یہ بات بتا چکا ہوں کہ میں ایک عرب ہوں اور میرا تعلق مضر قبیلے سے ہے ‘ میں نے کہا : میں تم سے اُس کا وجود نہیں خرید رہا ‘ میں اُس کی زندگی خرید رہا ہوں کہ تم اس کو قتل نہ کرو ! اُس نے دریافت کیا : تم کس چیز کی عوض میں اُسے خریدو گے ؟ میں نے کہا : اپنی اُن دونوں اونٹنیوں اور اُن کے ہاں پیدا ہونے والے بچوں کے عوض میں ‘ اُس نے کہا : تم اپنا یہ اونٹ بھی مجھے دو گے ‘ میں نے کہا : ٹھیک ہے ‘ تم اپنا کوئی آدمی میرے ساتھ بھیج دو ‘ جب میں اپنے گھر پہنچ جاؤں گا ‘ تو یہ اونٹ تمہیں بھجوا دوں گا اُس نے ایسا ہی کیا ‘ جب میں اپنے گھر پہنچا ‘ تو میں نے اُسے اونٹ واپس کر دیا ‘ رات کو کسی وقت میں سوچ رہا تھا کہ یہ نیکی مجھ سے پہلے کسی عرب نے نہیں کی ہو گی ‘ جب اسلام کا ظہور ہوا ‘ تو اُس وقت تک ‘ میں 360 بچیوں کی زندگی بچا چکا تھا ‘ جنہیں زندہ درگور کیا جانا تھا ‘ میں نے اُن ( بچیوں ) میں سے ہر ایک کو دو عشراوی اونٹنیوں اور ایک اونٹ کے عوض میں خریدا تھا ‘ تو کیا مجھے اس کا اجر ملے گا ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تمہیں یہ بھی اجر ملا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں اسلام کی دولت نصیب کی ہے ۔ عباد نامی راوی کرتے ہیں : حضرت صعصعہ رضی اللہ عنہ نے جو بیان کیا تھا ‘ اُسی کی طرف فرزدق کے اس شعر میں اشارہ پایا جاتا ہے : ’’ اور میرا دادا ‘ وہ ہے ‘ جس نے بچیوں کو زندہ درگور ہونے سے بچایا ‘ تو اُس ( یعنی میرے دادا ) نے انہیں زندگی دی اور انہیں زندہ دفن نہیں کیا گیا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اسے امام بزار نے بھی نقل کیا ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی طفیل بن عمرو تمیمی ہے ‘ امام بخاری فرماتے ہیں ۔ اس کی نقل کردہ حدیث مستند نہیں ہوتی ہے ‘ عقیلی فرماتے ہیں : اس کی متابعت نہیں کی جاتی ہے ۔