Majma al-Zawaid #361
«وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ أَنَّهُ مَرَّ فِي السُّوقِ وَعَلَيْهِ حُزْمَةٌ مِنْ حَطَبٍ، فَقِيلَ لَهُ: مَا يَحْمِلُكَ عَلَى هَذَا وَقَدْ أَغْنَاكَ اللَّهُ عَنْ هَذَا؟ قَالَ: أَرَدْتُ أَنْ أَدْمَغَ الْكِبْرَ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنْ فِي قَلْبِهِ خَرْدَلَةٌ مِنْ كِبْرٍ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.
EnglishUnverified translation
ʿAbdullāh ibn Salām رضي الله عنه passed through the market carrying a bundle of firewood upon his back. It was said to him, "What makes you do this when Allah has made you wealthy enough not to need it?" He replied, "I intended to crush pride, for I heard the Messenger of Allah ﷺ say: > **'He shall not enter Paradise who has in his heart a mustard seed's weight of arrogance.'"**
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : ایک مرتبہ وہ بازار سے گزرے ‘ تو انہوں نے لکڑیوں کا گٹھا اٹھایا ہوا تھا ‘ اُن سے دریافت کیا گیا : آپ نے ایسا کیوں کیا ہے ؟ جبکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس سے بے نیاز کیا ہے ؟ تو انہوں نے فرمایا : میں نے یہ ارادہ کیا کہ میں تکبر کو کچل دوں ، میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ ایسا شخص جنت میں داخل نہیں ہو گا ، جس کے دل میں رائی جتنا تکبر موجود ہو گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔