Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 1 · Chapter 10

Book of Faith

Hadith 361–400

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

361

Majma al-Zawaid #361

«وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ أَنَّهُ مَرَّ فِي السُّوقِ وَعَلَيْهِ حُزْمَةٌ مِنْ حَطَبٍ، فَقِيلَ لَهُ: مَا يَحْمِلُكَ عَلَى هَذَا وَقَدْ أَغْنَاكَ اللَّهُ عَنْ هَذَا؟ قَالَ: أَرَدْتُ أَنْ أَدْمَغَ الْكِبْرَ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنْ فِي قَلْبِهِ خَرْدَلَةٌ مِنْ كِبْرٍ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Salām رضي الله عنه passed through the market carrying a bundle of firewood upon his back. It was said to him, "What makes you do this when Allah has made you wealthy enough not to need it?" He replied, "I intended to crush pride, for I heard the Messenger of Allah ﷺ say: > **'He shall not enter Paradise who has in his heart a mustard seed's weight of arrogance.'"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : ایک مرتبہ وہ بازار سے گزرے ‘ تو انہوں نے لکڑیوں کا گٹھا اٹھایا ہوا تھا ‘ اُن سے دریافت کیا گیا : آپ نے ایسا کیوں کیا ہے ؟ جبکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس سے بے نیاز کیا ہے ؟ تو انہوں نے فرمایا : میں نے یہ ارادہ کیا کہ میں تکبر کو کچل دوں ، میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ ایسا شخص جنت میں داخل نہیں ہو گا ، جس کے دل میں رائی جتنا تکبر موجود ہو گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

362

Majma al-Zawaid #362

«وَعَنْ أَبِي مُوسَى أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ آخِذًا بِيَدِ أَبِي مُوسَى فِي بَعْضِ سِكَكِ الْمَدِينَةِ، فَأَتَى عَلَى سَائِلَةٍ فِي ظَهْرِ الطَّرِيقِ تَسْفِي الرِّيَاحُ فِي وَجْهِهَا، فَقَالَ لَهَا أَبُو مُوسَى: تَنَحِّي عَنْ سَنَنِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتْ لَهُ: هَذَا الطَّرِيقُ لَهُ مَعْرَضًا، فَلْيَأْخُذْ حَيْثُ شَاءَ، فَشَقَّ ذَلِكَ عَلَى أَبِي مُوسَى حَتَّى كَبَا لِذَلِكَ، وَعَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ، فَقَالَ: "" يَا أَبَا مُوسَى، اشْتَدَّ عَلَيْكَ مَا قَالَتْ هَذِهِ السَّائِلَةُ؟ "" قُلْتُ: نَعَمْ، بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَقَدْ شَقَّ عَلَيَّ حِينَ اسْتَخَفَّتْ بِمَا قُلْتُ لَهَا مِنْ أَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. فَقَالَ: "" لَا تُكَلِّمْهَا فَإِنَّهَا جَبَّارَةٌ ""، فَقُلْتُ: بِأَبِي وَأُمِّي، مَا هَذِهِ فَتَكُونُ جَبَّارَةً؟ فَقَالَ: "" إِنْ لَا يَكُونُ ذَلِكَ فِي قُدْرَتِهَا فَإِنَّهُ فِي قَلْبِهَا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ بِلَالُ بْنُ أَبِي بُرْدَةَ.

EnglishUnverified translation

Abū Mūsā al-Ashʿarī رضي الله عنه reported: The Prophet of Allah ﷺ was holding my hand in one of the alleyways of Madīnah when he came upon a beggar woman on the street with dust blowing across her face. Abū Mūsā said to her, "Move away from the path of the Messenger of Allah ﷺ!" She retorted, "The road is wide enough for him; let him pass wherever he wishes." This was so distressing to Abū Mūsā that he stumbled, and the Messenger of Allah ﷺ recognized the distress on his face. He ﷺ said, "O Abū Mūsā, has what this beggar woman said troubled you?" I replied, "Yes, may my father and mother be sacrificed for you, O Messenger of Allah! It was hard upon me when she showed disdain for what I told her regarding the command of the Messenger of Allah ﷺ." He ﷺ said: > **"Do not speak to her, for she is an arrogant tyrant."** I said, "May my father and mother be sacrificed for you, what is she that she should be an arrogant tyrant?" He ﷺ replied: > **"Even if that is not in her power, it resides within her heart."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ روایت منقول ہے :’’ ایک مرتبہ مدینہ منورہ کی گلی سے گزرتے ہوئے ‘ نبی اکرم ﷺ نے حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑا ہوا تھا ‘ کہ اس دوران راستے میں ایک مانگنے والی سامنے آ گئی ‘ جس کا حال انتہائی برا تھا ، حضرت ابوموسیٰ اشعری نے اُس عورت سے کہا : تم اللہ کے رسول کے راستے سے ہٹ جاؤ ! اس عورت نے کہا : یہ راستہ کشادہ ہے ‘ وہ جس طرف سے چاہیں ( راستہ ) لے سکتے ہیں ، یہ بات حضرت ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ کو بہت ناگوار گزری ‘ قریب تھا کہ وہ اُس عورت کی پٹائی کرتے ، نبی اکرم ﷺ کو اُن کے چہرے سے ‘ اُن کی ناگواری کا اندازہ ہو گیا ‘ تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : اے ابوموسیٰ ! اس مانگنے والی عورت نے جو کہا ہے ‘ ( کیا ) وہ تم پر گراں گزرا ہے ؟ میں نے عرض کی : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ ‘ آپ پر قربان ہوں ! میں نے اللہ کے رسول کے معاملے کے بارے میں ‘ اس عورت کو جو کہا تھا جب اس نے اس بات کی تخفیف کی ‘ تو یہ بات مجھ پر گراں گزری ہے ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا تم اس کے ساتھ کام نہ کرو ! کیونکہ یہ تکبر کرنے والی ہے ‘ میں نے عرض کی : میرے ماں باپ قربان ہوں ‘ یہ کیسے تکبر کرنے والی ہو سکتی ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : یہ چیز اگرچہ اس کی قدرت میں نہیں ہے ‘ لیکن یہ چیز اس کے دل میں پائی جاتی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی بلال بن ابوبردہ ہے ۔

363

Majma al-Zawaid #363

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: «مَرَّ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي طَرِيقٍ، وَمَرَّتِ امْرَأَةٌ سَوْدَاءُ فَقَالَ لَهَا رَجُلٌ: الطَّرِيقَ، فَقَالَتْ: الطَّرِيقُ ثَمَّ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" دَعُوهَا فَإِنَّهَا جَبَّارَةٌ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَأَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَرَمَاهُ بِالْكَذِبِ. وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ وَضَعَّفَهُ بِرَاوٍ آخَرَ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Mālik رضي الله عنه said: The Prophet ﷺ passed along a street, and a woman passed by. A man said to her, "Clear the road!" She said, "The road is right there!" The Prophet ﷺ said: > **"Leave her alone, for she is an arrogant tyrant."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ کسی راستے سے گزر رہے تھے ‘ وہاں سے ایک سیاہ فام عورت بھی گزر رہی تھی ‘ ایک صاحب نے اُس سے کہا : راستہ دے دو ! اُس عورت نے کہا : راستہ موجود تو ہے ‘ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اسے رہنے دو ! کیونکہ یہ تکبر کا شکار ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی یحیی حمانی ہے ‘ امام احمد نے اُسے ضعیف قرار دیا ہے ‘ اور اُس پر جھوٹا ہونے کا الزام عائد کیا ہے ‘ یہی روایت امام بزار نے بھی نقل کی ہے ‘ اور ایک اور راوی کے حوالے سے ‘ اُنہوں نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔

364

Majma al-Zawaid #364

وَعَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ قَالَ: «بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي مَسِيرٍ لَهُ، وَبَيْنَ يَدَيْهِ رَجُلٌ يَنْظُرُ هَلْ فِي الطَّرِيقِ شَيْءٌ يَكْرَهُهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَيُمِيطُهُ، فَإِذَا هُوَ بِامْرَأَةٍ عَجُوزٍ» قَالَ: فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. قُلْتُ: ذُكِرَ هَذَا فِي تَرْجَمَةِ أَبِي الطُّفَيْلِ، وَالَّذِي قَبْلَهُ فِي تَرْجَمَةِ أَبِي مُوسَى، فَلَا أَدْرِي أَحَالَهُ عَلَى أَيِّ شَيْءٍ. وَاللَّهُ أَعْلَمُ.

EnglishUnverified translation

Abū al-Ṭufayl رضي الله عنه reported: While the Messenger of Allah ﷺ was on a journey, there was a man ahead of him watching to see if there was anything in the road that the Messenger of Allah ﷺ might dislike so that he could remove it, when suddenly an elderly woman appeared... [and he mentioned the rest of the hadith].

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوطفیل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ سفر کر رہے تھے ‘ نبی اکرم ﷺ کے آگے ایک شخص جا رہا تھا ‘ وہ اس بات کا جائزہ لے رہا تھا ‘ کہ راستے میں کوئی ایسی چیز نہ ہو ‘ جو نبی اکرم ﷺ کو ناپسند ہو ‘ اور اگر ہو ‘ تو وہ اسے ہٹا دے ‘ اسی دوران ایک بوڑھی عورت سامنے آئی ....... اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت حضرت ابوطفیل رضی اللہ عنہ کے حالات میں ذکر کی گئی ہے ‘ اور اس سے پہلے والی روایت حضرت ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ کے حالات میں ذکر کی گئی ہے ‘ مجھے یہ علم نہیں ہو سکا کہ یہ اصل میں کس سے منقول ہے ؟ باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔

365

Majma al-Zawaid #365

عَنِ ابْنِ أَبِي أَوْفَى عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «لَا يَشْرَبُ الْخَمْرَ حِينَ يَشْرَبُهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلَا يَزْنِي حِينَ يَزْنِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلَا يَنْتَهِبُ نُهْبَةً ذَاتَ شَرَفٍ - أَوْ سَرَفٍ - وَهُوَ مُؤْمِنٌ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْبَزَّارُ، وَفِيهِ مُدْرِكُ بْنُ عُمَارَةَ، ذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Abī Awfā رضي الله عنه reported that the Prophet ﷺ said: > **"One does not drink wine while he is a believer at the time of drinking it; one does not commit adultery while he is a believer at the time of committing it; and one does not seize valuable plunder while he is a believer at the time of seizing it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابن ابواوفی رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ شراب پینے والا ‘ شراب پیتے ہوئے مؤمن نہیں رہتا ‘ زنا کرنے والا ‘ زنا کرتے ہوئے مؤمن نہیں رہتا ، کسی شرف والی چیز کو لوٹنے والا ‘ اس کو لوٹتے ہوئے مؤمن نہیں رہتا ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے ‘ امام طبرانی نے معجم کبیر میں ‘ اور امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی مدرک بن عمارہ ہے اس کا ذکر ابن حبان نے کتاب ’’ الثقات ‘‘ میں کیا ہے اور اس کے باقی رجال ‘ صحیح کے رجال ہیں ۔

366

Majma al-Zawaid #366

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «لَا يَزْنِي الزَّانِي حِينَ يَزْنِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلَا يَشْرَبُ الْخَمْرَ حِينَ يَشْرَبُهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلَا يَسْرِقُ حِينَ يَسْرِقُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلَا يَنْتَهِبُ نُهْبَةً ذَاتَ شَرَفٍ وَهُوَ مُؤْمِنٌ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ بِطُولِهِ وَالْبَزَّارُ، وَرَوَى أَحْمَدُ مِنْهُ: "" «لَا يَزْنِي الزَّانِي وَلَا يَسْرِقُ» "" فَقَطْ، وَفِي إِسْنَادِ أَحْمَدَ ابْنُ لَهِيعَةَ، وَفِي إِسْنَادِ الطَّبَرَانِيِّ مُعَلَّى بْنُ مَهْدِيٍّ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: يُحَدِّثُ أَحْيَانًا بِالْحَدِيثِ الْمُنْكَرِ، وَذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿUmar رضي الله عنهما reported that the Prophet ﷺ said: > **"The fornicator does not commit fornication while he is a believer at the time of committing it; the wine-drinker does not drink wine while he is a believer at the time of drinking it; the thief does not steal while he is a believer at the time of stealing; and one does not seize valuable plunder while he is a believer at the time of seizing it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : :’’ زنا کرنے والا ‘ زنا کرتے ہوئے مؤمن نہیں رہتا ، شراب پینے والا ‘ شراب پیتے ہوئے مؤمن نہیں رہتا ، چوری کرنے والا ‘ چوری کرتے ہوئے مؤمن نہیں رہتا ‘ اور کسی شرف والی چیز کو لوٹ لینے والا ‘ اُسے لوٹتے ہوئے مؤمن نہیں رہتا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں طویل روایت کے طور پر نقل کی ہے ‘ جبکہ امام بزار نے بھی اسے نقل کیا ہے ‘ امام احمد نے اس روایت میں سے صرف زنا کرنے اور چوری کرنے کا ذکر کیا ہے ‘ امام احمد کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ‘ جبکہ امام طبرانی کی سند میں ایک راوی معلی بن مہدی ہے ‘ ابوحاتم کہتے ہیں : یہ شخص بعض اوقات منکر حدیث نقل کر دیتا ہے ‘ ابن حبان نے اس کا ذکر کتاب ’’ الثقات ‘‘ میں کیا ہے ۔

367

Majma al-Zawaid #367

«وَعَنْ عَائِشَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - أَنَّهُ مَرَّ رَجُلٌ قَدْ ضَرَبَ فِي الْخَمْرِ عَلَى بَابِهَا، فَقَالَتْ: أَيُّ شَيْءٍ هَذَا؟ قُلْتُ: رَجُلٌ أَخَذَ سَكْرَانًا فَضَرَبَ. فَقَالَتْ: سُبْحَانَ اللَّهِ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" لَا يَشْرَبُ الشَّارِبُ حِينَ يَشْرَبُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ - يَعْنِي الْخَمْرَ - وَلَا يَزْنِي الزَّانِي حِينَ يَزْنِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلَا يَسْرِقُ السَّارِقُ حِينَ يَسْرِقُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلَا يَنْتَهِبُ نُهْبَةً ذَاتَ شَرَفٍ يَرْفَعُ النَّاسُ إِلَيْهِ فِيهَا أَبْصَارَهُمْ وَهُوَ مُؤْمِنٌ، فَإِيَّاكُمْ وَإِيَّاكُمْ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ بِبَعْضِهِ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّ ابْنَ إِسْحَاقَ مُدَلِّسٌ، وَرِجَالُ الْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿĀʾishah رضي الله عنها reported that a man who had been lashed for drinking wine passed by her door. She asked, "What is this?" It was said to her, "A man was caught drunk, so he was lashed." She said, "SubḥānAllāh! I heard the Messenger of Allah ﷺ say: > **'The drinker does not drink wine when he drinks it while he is a believer; the fornicator does not commit fornication when he commits fornication while he is a believer; the thief does not steal when he steals while he is a believer; and one does not seize valuable plunder that causes people to raise their eyes toward him while he is a believer. So beware, beware!'**"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں یہ بات منقول ہے : ایک مرتبہ اُن کے دروازے کے پاس سے ‘ ایک ایسا شخص گزرا ‘ کہ شراب نوشی کی وجہ سے اُس کی پٹائی کی گئی تھی ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے دریافت کیا : اس کا کیا معاملہ ہے ؟ تو میں نے بتایا : یہ ایک ایسا شخص ہے ‘ اس کو نشے کے عالم میں پکڑا گیا ، تو اُس کی پٹائی کی گئی ‘ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : سبحان اللہ ! میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ شراب پینے والا کوئی بھی شخص ، شراب پیتے ہوئے مؤمن نہیں رہتا ‘ ( راوی بیان کرتے ہیں : ) ان کی مراد ‘ خمر تھی ‘ زنا کرنے والا ‘ زنا کرتے ہوئے مؤمن نہیں رہتا ، چوری کرنے والا چوری کرتے ہوئے مؤمن نہیں رہتا ، شرف والی ایسی چیز جس کی طرف لوگ نگاہیں اُٹھا کے دیکھتے ہوں ‘ اُس کو لوٹ لینے والا شخص اُسے لوٹتے ہوئے مؤمن نہیں رہتا ‘ تو تم لوگ بچ کے رہو ! تم لوگ بچ کے رہو ! “۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ امام بزار نے اس کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ‘ امام طبرانی نے اسے معجم اوسط میں نقل کیا ہے ‘ اس کے رجال ثقہ ہیں ‘ البتہ ابن اسحاق نامی راوی تدلیس کرنے والا ہے ‘ امام بزار کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

368

Majma al-Zawaid #368

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «لَا يَزْنِي الزَّانِي حِينَ يَزْنِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلَا يَسْرِقُ حِينَ يَسْرِقُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلَا يَشْرَبُ الْخَمْرَ حِينَ يَشْرَبُهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلَا يَنْتَهِبُ نُهْبَةً يُشْرِفُ النَّاسُ إِلَيْهِ وَهُوَ مُؤْمِنٌ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ وَثَّقَهُ شُعْبَةُ وَغَيْرُهُ، وَضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَيَحْيَى بْنُ مَعِينٍ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Mughaffal رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"The fornicator does not commit fornication while he is a believer at the time of committing it; the thief does not steal while he is a believer at the time of stealing; the wine-drinker does not drink wine while he is a believer at the time of drinking it; and one does not seize plunder while people look on toward him while he is a believer."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ زنا کرنے والا ‘ زنا کرتے ہوئے مؤمن نہیں رہتا ‘ چوری کرنے والا ‘ چوری کرتے ہوئے مؤمن نہیں رہتا ، شراب پینے والا ‘ شراب پیتے ہوئے مؤمن نہیں رہتا ‘ اور جس چیز کو لوگ دیکھ رہے ہوں ‘ اُسے لوٹ لینے والا ‘ اسے لوٹتے ہوئے مؤمن نہیں رہتا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی قیس بن ربیع ہے ‘ شعبہ اور دیگر حضرات نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ‘ جبکہ امام احمد اور یحیی بن معین نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔

369

Majma al-Zawaid #369

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «لَا يَزْنِي الزَّانِي حِينَ يَزْنِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلَا يَسْرِقُ السَّارِقُ حِينَ يَسْرِقُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلَا يَشْرَبُ الْخَمْرَ حِينَ يَشْرَبُهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ "". قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ يَكُونُ ذَلِكَ؟ قَالَ: "" يَخْرُجُ الْإِيمَانُ مِنْهُ، فَإِنْ تَابَ رَجَعَ إِلَيْهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْبَزَّارُ، وَفِي إِسْنَادِ الطَّبَرَانِيِّ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى وَثَّقَهُ الْعِجْلِيُّ، وَضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ لِسُوءِ حِفْظِهِ.

EnglishUnverified translation

Abū Saʿīd al-Khudrī رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"The fornicator does not commit fornication while he is a believer at the time of committing it; the thief does not steal while he is a believer at the time of stealing; and the wine-drinker does not drink wine while he is a believer at the time of drinking it."** We asked, "O Messenger of Allah, how does that happen?" He ﷺ replied: > **"Faith departs from him; but if he repents, it returns to him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں :: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ زنا کرنے والا ‘ زنا کرتے ہوئے مؤمن نہیں رہتا ، چوری کرنے والا چوری کرتے ہوئے مؤمن نہیں رہتا ، شراب پینے والا اُسے پیتے ہوئے مؤمن نہیں رہتا ‘ ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ کیسے ہو گا ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ایمان اس شخص میں سے نکل جاتا ہے ‘ اگر وہ توبہ کر لے ‘ تو ایمان اُس کی طرف واپس لوٹ جاتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں ‘ اور امام بزار نے نقل کی ہے ‘ امام طبرانی کی سند میں ایک راوی محمد بن عبدالرحمن بن ابولیلی ہے ‘ جسے عجلی نے ثقہ قرار دیا ہے ‘ جبکہ امام احمد اور دیگر حضرات نے اُس کے حافظے کی خرابی کی وجہ سے ‘ اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔

370

Majma al-Zawaid #370

وَعَنْ شَرِيكٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنَ الصَّحَابَةِ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «مَنْ زَنَى خَرَجَ مِنْهُ الْإِيمَانُ، فَإِنْ تَابَ تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

A Companion of the Prophet ﷺ reported that the Prophet ﷺ said: > **"Whoever commits fornication, faith departs from him; but if he repents, Allah accepts his repentance."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

شریک نے ‘ ایک صحابی کے حوالے سے ‘ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کیا ہے : ’’ جو شخص زنا کرتا ہے ‘ ایمان اس میں سے نکل جاتا ہے ‘ اگر وہ توبہ کر لے ‘ تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کر لیتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کی سند میں ( راویوں کی ) ایک جماعت ایسی ہے ‘ جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

371

Majma al-Zawaid #371

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «لَا يَزْنِي الزَّانِي حِينَ يَزْنِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلَا يَسْرِقُ حِينَ يَسْرِقُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلَا يَشْرَبُ الْخَمْرَ حِينَ يَشْرَبُهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلَا يَنْتَهِبُ نُهْبَةً ذَاتَ شَرَفٍ وَهُوَ مُؤْمِنٌ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ. قُلْتُ: حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي الصَّحِيحِ وَغَيْرِهِ بِاخْتِصَارٍ، وَحَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ كَذَلِكَ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿAbbās, Abū Hurayrah, and ʿAbdullāh ibn ʿUmar رضي الله عنهم reported that the Prophet ﷺ said: > **"The fornicator does not commit fornication while he is a believer at the time of committing it; the thief does not steal while he is a believer at the time of stealing; the wine-drinker does not drink wine while he is a believer at the time of drinking it; and one does not seize valuable plunder while he is a believer at the time of seizing it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ زنا کرنے والا ‘ زنا کرتے ہوئے مؤمن نہیں رہتا ، چوری کرنے والا ‘ چوری کرتے ہوئے مؤمن نہیں رہتا ‘ شراب پینے والا ‘ شراب پیتے ہوئے مؤمن نہیں رہتا ‘ اور شرف والی چیز کو لوٹ لینے والا ‘ اُسے لوٹتے ہوئے مومن نہیں رہتا ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول حدیث ’’ صحیح ‘‘ اور دوسری کتاب میں ‘ اختصار کے ساتھ منقول ہے ‘ حضرت ابوہریرہ سے منقول روایت بھی اس کی مانند ہے ۔

372

Majma al-Zawaid #372

وَعَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ قَيْسٍ قَالَ: «رَأَيْتُ عَلِيًّا - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - عَلَى مِنْبَرِ الْكُوفَةِ وَهُوَ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" لَا يَزْنِي الزَّانِي حِينَ يَزْنِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلَا يَسْرِقُ السَّارِقُ حِينَ يَسْرِقُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلَا يَنْتَهِبُ نُهْبَةً يَرْفَعُ النَّاسُ إِلَيْهَا أَبْصَارَهُمْ وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلَا يَشْرَبُ الرَّجُلُ الْخَمْرَ وَهُوَ مُؤْمِنٌ ""، فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، مَنْ زَنَى فَقَدْ كَفَرَ؟ فَقَالَ عَلِيٌّ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَأْمُرُنَا أَنْ نُبْهِمَ أَحَادِيثَ الرُّخَصِ، لَا يَزْنِي الزَّانِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ: أَنَّ ذَلِكَ الزِّنَا لَهُ حَلَالٌ، فَإِنْ آمَنَ بِهِ أَنَّهُ لَهُ حَلَالٌ فَقَدْ كَفَرَ، وَلَا يَسْرِقُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ بِتِلْكَ السَّرِقَةِ أَنَّهَا لَهُ حَلَالٌ، فَإِنْ آمَنَ بِهَا أَنَّهَا لَهُ حَلَالٌ فَقَدْ كَفَرَ، وَلَا يَشْرَبُ الْخَمْرَ حِينَ يَشْرَبُهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ أَنَّهَا لَهُ حَلَالٌ، فَإِنْ شَرِبَهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ أَنَّهَا لَهُ حَلَالٌ فَقَدْ كَفَرَ، وَلَا يَنْتَهِبُ نُهْبَةً ذَاتَ شَرَفٍ حِينَ يَنْتَهِبُهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ أَنَّهَا لَهُ حَلَالٌ، فَإِنِ انْتَهَبَهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ أَنَّهَا لَهُ حَلَالٌ فَقَدْ كَفَرَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ يَحْيَى التَّيْمِيُّ كَذَّابٌ لَا تَحِلُّ الرِّوَايَةُ عَنْهُ.

EnglishUnverified translation

ʿAlqamah ibn Qays reported: I saw ʿAlī رضي الله عنه upon the pulpit of Kūfah saying: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: > **"The fornicator does not commit fornication while he is a believer at the time of committing it; the thief does not steal while he is a believer at the time of stealing; one does not seize plunder toward which people raise their eyes while he is a believer; and a man does not drink wine while he is a believer."** A man stood up and asked, "O Commander of the Believers, does whoever commits fornication become a disbeliever?" ʿAlī replied: "The Messenger of Allah ﷺ used to command us to leave the traditions of concessions unelaborated. 'The fornicator does not commit fornication while he is a believer' means: believing that such fornication is lawful for him; for if he believes it to be lawful, he has indeed disbelieved. 'The thief does not steal while he is a believer' means: believing that theft to be lawful for him; for if he believes it to be lawful, he has indeed disbelieved. 'He does not drink wine when he drinks it while he is a believer' means: believing it to be lawful for him; for if he drinks it while believing it to be lawful, he has indeed disbelieved. And 'one does not seize valuable plunder while he is a believer' means: believing it to be lawful for him; for if he seizes it while believing it to be lawful, he has indeed disbelieved."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

علقمہ بن قیس بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو کوفہ کے منبر پر دیکھا ‘ وہ فرما رہے تھے : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ زنا کرنے والا ‘ زنا کرتے ہوئے مؤمن نہیں رہتا ، چوری کرنے والا چوری کرتے ہوئے مؤمن نہیں رہتا ، ایسی چیز ‘ جس کی طرف لوگ نگاہ اُٹھا کر دیکھ رہے ہوں ‘ اُسے لوٹ لینے والا اُس کو لوٹتے ہوئے مؤمن نہیں رہتا اور شراب پینے والا شخص ، مؤمن نہیں رہتا ، ایک شخص کھڑا ہوا ‘ اور بولا : امیرالمؤمنین ! جو شخص زنا کا ارتکاب کرتا ہے ‘ کیا وہ کافر ہو جاتا ہے ؟ تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : نبی اکرم ﷺ ہمیں یہ حکم دیتے تھے کہ ہم رخصت والی احادیث کو مبہم رکھیں ‘ زنا کرنے والا شخص مؤمن نہیں رہتا ‘ اس سے مراد یہ ہے ‘ کہ وہ یہ ایمان رکھتا ہو کہ یہ زنا اُس کے لئے حلال ہے ‘ اگر وہ اس بات پر ایمان رکھتا ہو کہ وہ زنا اُس کے لئے حلال ہے ‘ تو وہ شخص کافر ہو جائے گا ، چوری کرنے والا مؤمن نہیں رہتا ‘ اس سے مراد یہ ہے کہ وہ اس چوری کے بارے میں یہ ایمان رکھتا ہو کہ وہ اُس کے لئے حلال ہے ‘ اگر وہ اس بات پر ایمان رکھے کہ وہ چوری اُس کے لئے حلال ہے ‘ تو وہ شخص کافر ہو جائے گا ‘ شراب پینے والا ‘ شراب پیتے ہوئے ‘ مؤمن نہیں رہتا ‘ اس سے مراد یہ ہے کہ وہ اس بات پر ایمان رکھتا ہو کہ وہ شراب اُس کے لئے حلال ہے ‘ اگر وہ شخص اس شراب کو ایسی حالت میں پیتا ہے کہ وہ اس بات پر ایمان رکھتا ہو کہ شراب اُس کے لئے ہلال ہے ‘ تو ایسا شخص کافر ہو جائے گا ‘ شرف والی چیز کو لوٹ لینے والا شخص ‘ اُسے لوٹتے ہوئے مؤمن نہیں رہتا ‘ اس سے مراد یہ ہے کہ وہ اس بات پر ایمان رکھتا ہو کہ وہ چیز اُس کے لئے حلال ہے ‘ اگر وہ یہ ایمان رکھتے ہوئے اس چیز کو اچک لیتا ہے کہ وہ چیز اس کے لئے حلال ہے ‘ تو ایسا شخص کافر ہو جائے گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن یحیی تیمی ہے ‘ جو کذاب ہے ‘ اُس سے روایت کرنا جائز نہیں ہے ۔

373

Majma al-Zawaid #373

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ خَلِيلِي أَبَا الْقَاسِمِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «لَا يَسْرِقُ السَّارِقُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلَا يَزْنِي الزَّانِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ، الْإِيمَانُ أَكْرَمُ عَلَى اللَّهِ مِنْ ذَلِكَ» "". قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ خَلَا قَوْلَهِ: "" الْإِيمَانُ أَكْرَمُ عَلَى اللَّهِ مِنْ ذَلِكَ "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ إِسْرَائِيلُ الْمُلَائِيُّ وَثَّقَهُ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ فِي رِوَايَةٍ، وَضَعَّفَهُ النَّاسُ. قُلْتُ: وَيَأْتِي لِأَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ فِي الْفِتَنِ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه said: I heard my beloved friend Abū al-Qāsim ﷺ say: > **"The thief does not steal while he is a believer, and the fornicator does not commit fornication while he is a believer; faith is far too noble before Allah for that."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے اپنے خلیل حضرت ابوالقاسم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ چوری کرنے والا ‘ چوری کرتے ہوئے مؤمن نہیں رہتا ‘ زنا کرنے والا ‘ زنا کرتے ہوئے مؤمن نہیں رہتا ‘ ایمان ‘ اللہ تعالیٰ کے نزدیک ‘ اس سے زیادہ معزز ہے ‘‘۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ’’ صحیح ‘‘ میں منقول ہے ‘ تاہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں : - ’’ ایمان ‘ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس سے زیادہ معزز ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی اسرائیل ملائی ہے ‘ یحیی بن معین نے ایک روایت کے مطابق اسے ثقہ قرار دیا ہے ‘ جبکہ دیگر لوگوں نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ‘ میں یہ کہتا ہوں : حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث فتنوں سے متعلق باب میں آگے آئے گی ۔

374

Majma al-Zawaid #374

وَعَنِ الْفَضْلِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ: «سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ عَلِيٍّ وَسُئِلَ عَنْ قَوْلِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" لَا يَزْنِي الزَّانِي حِينَ يَزْنِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلَا يَسْرِقُ السَّارِقُ حِينَ يَسْرِقُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ "". فَأَدَارَ دَارَةً وَاسِعَةً فِي الْأَرْضِ، ثُمَّ أَدَارَ فِي وَسَطِ الدَّارَةِ دَارَةً، فَقَالَ: الدَّارَةُ الْأُولَى الْإِسْلَامُ، وَالدَّارَةُ الَّتِي فِي وَسَطِ الدَّارَةِ الْإِيمَانُ، فَإِذَا زَنَى خَرَجَ مِنَ الْإِيمَانِ إِلَى الْإِسْلَامِ، وَلَا يُخْرِجُهُ مِنَ الْإِسْلَامِ إِلَّا الشِّرْكُ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ الْفَضْلُ بْنُ يَسَارٍ ضَعَّفَهُ الْعُقَيْلِيُّ.

EnglishUnverified translation

Al-Faḍl ibn Yasār reported: I heard Muḥammad ibn ʿAlī being asked about the statement of the Prophet ﷺ: "The fornicator does not commit fornication while he is a believer, and the thief does not steal while he is a believer." He drew a wide circle upon the ground, and then drew another circle inside it, and said: > **"The outer circle is Islam, and the inner circle is Faith. When a person commits fornication, he exits from Faith into Islam; and nothing expels him from Islam except polytheism."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

فضل بن یسار بیان کرتے ہیں : میں نے محمد بن علی ( شاید اس سے مراد ‘ امام باقر ہیں ) کو سنا ‘ اُن سے نبی اکرم ﷺ کے اس فرمان کے بارے میں سوال کیا گیا : زنا کرنے والا ‘ زنا کرتے ہوئے مؤمن نہیں رہتا ، چوری کرنے والا ‘ چوری کرتے ہوئے مؤمن نہیں رہتا ، تو محمد بن علی نے زمین پر ایک بڑا دائرہ بنایا ‘ پھر اس کے درمیان میں ایک اور دائرہ بنایا ‘ اور پھر یہ فرمایا : پہلے والا دائرہ اسلام ہے اور درمیان والا دائرہ ‘ ایمان ہے ‘ جب کوئی شخص زنا کرتا ہے ‘ تو وہ ایمان سے نکل کر اسلام کی طرف چلا جاتا ہے ‘ لیکن شرک کے علاوہ اور کوئی چیز اسے اسلام سے باہر نہیں کرتی ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی فضل بن یسار ہے ‘ جسے عقیلی نے ضعیف قرار دیا ہے ۔

375

Majma al-Zawaid #375

عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «إِنَّ أَخْوَفَ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمُ الشِّرْكُ الْأَصْغَرُ "". قَالَ: وَمَا الشِّرْكُ الْأَصْغَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "" الرِّيَاءُ، يَقُولُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - إِذَا جَزَى النَّاسَ بِأَعْمَالِهِمْ: اذْهَبُوا إِلَى الَّذِينَ كُنْتُمْ تُرَاءُونَ فِي الدُّنْيَا فَانْظُرُوا، هَلْ تَجِدُونَ عِنْدَهُمْ جَزَاءً»؟ "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ. قُلْتُ: وَتَأْتِي بَقِيَّةُ أَحَادِيثِ الرِّيَاءِ فِي الزُّهْدِ وَنَحْوِهِ.

EnglishUnverified translation

Maḥmūd ibn Labīd رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Indeed, that which I fear most for you is the minor polytheism."** They asked, "And what is the minor polytheism, O Messenger of Allah?" He ﷺ said: > **"Ostentation (al-riyāʾ). Allah, the Mighty and Majestic, will say when He recompenses people for their deeds: 'Go to those whom you used to show off before in the world, and see whether you can find any reward with them!'"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت محمود بن لبید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے :: ’’ تم لوگوں کے بارے میں ‘ مجھے سب سے زیادہ اندیشہ چھوٹے شرک کا ہے ‘ لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! چھوٹے شرک سے مراد کیا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ریاکاری ‘ جب اللہ تعالیٰ آپ لوگوں کو ان کے اعمال کی جزا دے گا ) تو ریاکاری کرنے والوں سے فرمائے گا : ) تم لوگ ان کی طرف چلے جاؤ ! جن کے لیے تم دنیا میں دکھاوا کرتے تھے ‘ اور تم اس بات کا جائزہ لو ! کہ کیا تمہیں اُن کے پاس کوئی جزا ملتی ہے ؟“۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہیں ‘ ان کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ریاکاری سے متعلق باقی احادیث ‘ زہد اور اس کی مانند ( دیگر امور سے متعلق ابواب ) میں آئیں گی ۔

376

Majma al-Zawaid #376

عَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «مَا يَمْحَقُ الْإِسْلَامَ مَحْقَ الشُّحِّ شَيْءٌ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ أَبِي سَارَةَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Mālik رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Nothing effaces Islam as thoroughly as avarice."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ ( آدمی کے ) اسلام کو کوئی بھی چیز ‘ اس طرح نہیں مٹاتی ہے ، جس طرح بخل مٹا دیتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی علی بن ابوسارہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

377

Majma al-Zawaid #377

عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «إِنَّ النَّمِيمَةَ وَالْحِقْدَ فِي النَّارِ لَا يَجْتَمِعَانِ فِي قَلْبِ مُسْلِمٍ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عُفَيْرُ بْنُ مَعْدَانَ، أَجْمَعُوا عَلَى ضَعْفِهِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿUmar رضي الله عنهما reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Indeed, tale-bearing and malice lead to the Fire; they never gather in the heart of a Muslim."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ چغلی اور بغض جہنم میں ہوں گے ‘ یہ دونوں کسی مسلمان کے دل میں اکٹھے نہیں ہوں گے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اور اس کی سند میں ایک راوی عفیر بن معدان ہے ‘ جس کے ضعیف ہونے پر ( محدثین کا ) اتفاق ہے ۔

378

Majma al-Zawaid #378

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «الْمَكْرُ وَالْخَدِيعَةُ فِي النَّارِ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي حُمَيْدٍ، أَجْمَعُوا عَلَى ضَعْفِهِ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Plotting and deception lead to the Fire."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حدیث : حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ مکر اور دھوکہ دہی ، جہنم میں ہوں گے ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عبیداللہ بن ابوحمید ہے ‘ جس کے ضعیف ہونے پر ( محدثین کا اتفاق ہے ۔

379

Majma al-Zawaid #379

عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «اجْتَنِبُوا الْكَبَائِرَ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ

EnglishUnverified translation

Jābir ibn ʿAbdillāh رضي الله عنهما reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Avoid the major sins."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ کبیرہ گناہوں سے اجتناب کرو ! ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اور اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ۔

380

Majma al-Zawaid #380

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «مَنْ لَقِيَ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا، وَأَدَّى زَكَاةَ مَالِهِ طَيِّبًا بِهَا نَفْسُهُ مُحْتَسِبًا، وَسَمِعَ وَأَطَاعَ ; فَلَهُ الْجَنَّةُ - أَوْ دَخَلَ الْجَنَّةَ -. وَخَمْسٌ لَيْسَ لَهُنَّ كَفَّارَةٌ: الشِّرْكُ بِاللَّهِ، وَقَتْلُ النَّفْسِ بِغَيْرِ حَقٍّ، وَبَهْتُ مُؤْمِنٍ، وَالْفِرَارُ مِنَ الزَّحْفِ، وَيَمِينٌ فَاجِرَةٌ يَقْتَطِعُ بِهَا مَالًا بِغَيْرِ حَقٍّ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ بَقِيَّةُ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ وَقَدْ عَنْعَنَهُ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Whoever meets Allah, the Mighty and Majestic, without associating anything with Him, pays the zakāh on his wealth with a willing heart seeking Allah's reward, and listens and obeys, Paradise is his—or he will enter Paradise. And there are five sins for which there is no expiation: associating partners with Allah, taking a life without right, slandering a believer with falsehood, fleeing from the battlefield, and a perjurious oath through which one usurps wealth unjustly."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں : : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ جو شخص ایسی حالت میں ‘ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو ‘ کہ وہ کسی کو اُس کا شریک قرار نہ دیتا ہو ‘ اور وہ ثواب کی امید رکھتے ہوئے ‘ اپنی خوشی کے ساتھ اپنے مال کی زکوۃ ادا کرتا ہو ‘ وہ اطاعت و فرمانبرداری کرتا ہو ‘ تو اُسے جنت نصیب ہو گی ( راوی کو شک ہے یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) وہ جنت میں داخل ہو گا ‘ اور پانچ کام ایسے ہیں ‘ جن کا کوئی کفارہ نہیں ہے ‘ ( کسی کو ) اللہ تعالیٰ کا شریک قرار دینا ، کسی کو ناحق طور پر قتل کرنا ، مؤمن پر بہتان لگانا ‘ میدان جنگ سے راہ فرار اختیار کرنا اور جھوٹی قسم اٹھانا ‘ جس کے ذریعے آدمی ناحق طور پر کسی کا مال ہتھیا لے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی بقیہ ہے ‘ جو تدریس کرنے والا ہے اور اس نے یہ روایت ’’ عنعنہ ‘‘ کے طور پر نقل کی ہے ۔

381

Majma al-Zawaid #381

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «لَعَنَ اللَّهُ مَنْ ذَبَحَ لِغَيْرِ اللَّهِ، وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ غَيَّرَ تُخُومَ الْأَرْضِ، وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ كَمَّهَ أَعْمَى عَنِ السَّبِيلِ، وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ يَسُبُّ وَالِدَيْهِ، وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ تَوَلَّى غَيْرَ مَوَالِيهِ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿAbbās رضي الله عنهما reported that the Prophet ﷺ said: > **"May Allah curse the one who sacrifices to other than Allah; may Allah curse the one who alters the boundary markers of the land; may Allah curse the one who misleads a blind person from the path; may Allah curse the one who reviles his parents; and may Allah curse the one who claims allegiance to other than his rightful patrons."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ اللہ تعالیٰ اُس شخص پر لعنت کرے ‘ جو غیر اللہ کے نام پر ( جانور کو ) ذبح کرتا ہے ‘ اللہ تعالیٰ اُس شخص پر لعنت کرے ‘ جو زمین کے نشانات کو تبدیل کرتا ہے ‘ اللہ تعالیٰ اُس شخص پر لعنت کرے ‘ جو کسی نابینا کو راستے سے بھٹکا دیتا ہے ‘ اللہ تعالیٰ اُس شخص پر لعنت کرے ‘ جو اپنے ماں باپ کو برا کہتا ہے ‘ اللہ تعالیٰ اس شخص پر لعنت کرے ‘ جو اپنے حقیقی آقا کی بجائے ‘ کسی اور کی طرف نسبت ولاء ظاہر کرتا ہے ‘‘۔ یہی روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

382

Majma al-Zawaid #382

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «الْكَبَائِرُ: أَوَّلُهُنَّ الْإِشْرَاكُ بِاللَّهِ، وَقَتْلُ النَّفْسِ بِغَيْرِ حَقِّهَا، وَأَكْلُ الرِّبَا، وَأَكْلُ مَالِ الْيَتِيمِ، وَفِرَارُ يَوْمِ الزَّحْفِ، وَرَمْيُ الْمُحْصَنَاتِ، وَالِانْتِقَالُ إِلَى الْأَعْرَابِ بَعْدَ هِجْرَتِهِ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، ضَعَّفَهُ شُعْبَةُ وَغَيْرُهُ، وَوَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ وَابْنُ حِبَّانَ وَغَيْرُهُمَا.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"The major sins: the first of them is associating partners with Allah, taking a life without right, consuming usury, consuming the property of an orphan, fleeing on the day of battle, slandering chaste women, and returning to nomadic Bedouin life after having emigrated."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ کبیرہ گناہوں میں ، پہلا گناہ کسی کو اللہ کا شریک قرار دینا ہے ( اور دوسرے کبیرہ گناہ یہ ہیں : ) کسی کو ناحق طور پر قتل کرنا ‘ سود کھانا ، یتیم کا مال کھانا ‘ میدان جنگ سے راہ فرار اختیار کرنا ‘ پاک دامن عورتوں پر الزام لگانا ‘ اور ہجرت کر لینے کے بعد ‘ دیہاتی زندگی کی طرف لوٹ جانا ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عمر بن ابوسلمہ ہے ‘ جسے شعبہ اور دیگر حضرات نے ضعیف قرار دیا ہے ‘ جبکہ ابوحاتم ‘ ابن حبان اور دیگر حضرات نے اُسے ثقہ قرار دیا ہے ۔

383

Majma al-Zawaid #383

وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِأَكْبَرِ الْكَبَائِرِ؟ الْإِشْرَاكُ بِاللَّهِ، وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ "". وَكَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مُحْتَبِيًا فَحَلَّ حَبْوَتَهُ، فَأَخَذَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِطَرَفِ لِسَانِهِ وَقَالَ: "" أَلَا وَقَوْلُ الزُّورِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ الْمُسَاوِرِ، وَهُوَ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ.

EnglishUnverified translation

Abū al-Dardāʾ رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Shall I not inform you of the greatest of major sins? Associating partners with Allah, and disobedience to parents."** The Prophet ﷺ had been sitting with his legs drawn up and wrapped in his cloak; he loosened his cloak, took hold of the tip of his tongue, and said: > **"Beware, and false speech!"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ کیا میں تم لوگوں کو سب سے بڑے کبیرہ گناہ کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ کسی کو اللہ کا شریک قرار دینا ‘ اور والدین کی نافرمانی کرنا ‘ راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ ’’ اقعاء ‘‘ کے طور پر بیٹھے ہوئے تھے ‘ آپ نے حبوہ کو کھولا اور اپنی زبان کا کنارہ پکڑ کر ارشاد فرمایا : خبردار ! جھوٹی بات ( بھی ‘ سب سے بڑے کبیرہ گناہوں میں سے ایک ہے ) ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عمر بن مساور ہے اور وہ منکر الحدیث ہے ۔

384

Majma al-Zawaid #384

وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «أَرَأَيْتُمُ الزَّانِيَ وَالسَّارِقَ وَشَارِبَ الْخَمْرِ مَا تَقُولُونَ فِيهِمْ؟ "" قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ: "" هُنَّ فَوَاحِشُ، وَفِيهِنَّ عُقُوبَةٌ، أَلَا أُنْبِئُكُمْ بِأَكْبَرِ الْكَبَائِرِ؟! الْإِشْرَاكُ بِاللَّهِ، ثُمَّ قَرَأَ: "" وَمَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدِ افْتَرَى إِثْمًا عَظِيمًا ""، وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ، ثُمَّ قَرَأَ: "" أَنِ اشْكُرْ لِي وَلِوَالِدَيْكَ إِلَيَّ الْمَصِيرُ ""، وَكَانَ مُتَّكِئًا فَاحْتَفَزَ فَقَالَ: "" أَلَا وَقَوْلُ الزُّورِ» "". وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: كُلُّ مَا نَهَى اللَّهُ عَنْهُ فَهُوَ كَبِيرَةٌ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّ الْحَسَنَ مُدَلِّسٌ وَعَنْعَنَهُ.

EnglishUnverified translation

ʿImrān ibn Ḥuṣayn رضي الله عنه reported that the Prophet ﷺ said: > **"What do you say concerning the fornicator, the thief, and the wine-drinker?"** They replied, "Allah and His Messenger know best." He ﷺ said: > **"They are shameful obscenities and carry legal penalties. But shall I not inform you of the greatest of major sins?! Associating partners with Allah,"** —then he recited: *{And whoever associates partners with Allah has indeed fabricated a tremendous sin}* [al-Nisāʾ: 48]— > **"and disobedience to parents,"** —then he recited: *{Be grateful to Me and to your parents; unto Me is the final destination}* [Luqmān: 14]. He had been reclining, but he sat upright and said: > **"Beware, and false speech!"** And Ibn ʿAbbās said: "Everything that Allah has forbidden is a major sin."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حدیث : حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں :: ’’ زانی ‘ چور اور شراب نوشی کرنے والے شخص کے بارے میں ‘ تم لوگوں کی کیا رائے ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : اللہ اور اُس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : یہ برائیاں ہیں اور ان کی سزا بھی ہے ‘ لیکن کیا میں تمہیں سب سے بڑے کبیرہ گناہوں کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ ( وہ یہ ہیں : ) کسی کو اللہ کا شریک قرار دینا ‘ پھر نبی اکرم ﷺ نے یہ آیت تلاوت کی : ’’ جو شخص کسی کو اللہ کا شریک قرار دیتا ہے ‘ وہ بڑے گناہ کا الزام عائد کرتا ہے ‘‘۔ ( اور دوسرا بڑا گناہ ) والدین کی نافرمانی کرنا ہے ‘ پھر آپ نے یہ آیت تلاوت کی : ’’ تم میری اور اپنے والدین کی شکر گزاری کرو اور میری ہی طرف لوٹنا ہے ‘‘۔ ( راوی بیان کرتے ہیں : ) نبی اکرم ﷺ ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے تھے ‘ آپ ﷺ سیدھے ہو کر بیٹھ گئے اور ارشاد فرمایا : خبردار ! اور جھوٹی بات بھی ( کبیرہ گناہوں میں سے ایک ہے ) ‘‘۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : ہر وہ چیز ‘ جس سے اللہ تعالیٰ نے منع کیا ہو ( اس کا ارتکاب ) کبیرہ گناہ شمار ہو گا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ‘ البتہ حسن نامی راوی تدلیس کرنے والا ہے ‘ اور یہ روایت اس نے ’’ عنعنہ ‘‘ کے ساتھ نقل کی ہے ۔

385

Majma al-Zawaid #385

وَعَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «اجْتَنِبُوا الْكَبَائِرَ السَّبْعَ ""، فَسَكَتَ النَّاسُ، فَلَمْ يَتَكَلَّمْ أَحَدٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" أَلَا تَسْأَلُونَنِي عَنْهُمْ؟ الشِّرْكُ بِاللَّهِ، وَقَتْلُ النَّفْسِ، وَالْفِرَارُ مِنَ الزَّحْفِ، وَأَكْلُ مَالِ الْيَتِيمِ، وَأَكْلُ الرِّبَا، وَقَذْفُ الْمُحْصَنَةِ، وَالتَّعَرُّبُ بَعْدَ الْهِجْرَةِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ.

EnglishUnverified translation

Sahl ibn Abī Ḥathmah reported from his father رضي الله عنه: I heard the Prophet ﷺ say: > **"Avoid the seven major sins."** The people remained silent and no one spoke. The Prophet ﷺ said: > **"Will you not ask me about them? Associating partners with Allah, taking a life, fleeing from battle, consuming the property of an orphan, consuming usury, slandering a chaste woman, and reverting to Bedouin life after emigration."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سہل بن ابوحثمہ رضی اللہ عنہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ سات کبیرہ گناہوں سے اجتناب کرو ! لوگ خاموش رہے ‘ کسی نے کوئی بات نہیں کی ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کیا تم لوگ مجھ سے ان کے ( یعنی کبیرہ گناہوں کے ) بارے میں دریافت نہیں کرو گے ؟ ( وہ یہ ہیں : ) اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا ‘ کسی کو قتل کرنا ، میدان جنگ سے راہ فرار اختیار کرنا ‘ یتیم کا مال کھانا ‘ سود کھانا ‘ پاک دامن عورت پر الزام لگانا ‘ اور ہجرت کر لینے کے بعد دیہاتی زندگی اختیار کرنا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ۔

386

Majma al-Zawaid #386

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: «صَعِدَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْمِنْبَرَ فَقَالَ: "" لَا أُقْسِمُ، لَا أُقْسِمُ ""، ثُمَّ نَزَلَ فَقَالَ: "" أَبْشِرُوا، أَبْشِرُوا، مَنْ صَلَّى الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ، وَاجْتَنَبَ الْكَبَائِرَ ; دَخَلَ مِنْ أَيِّ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ شَاءَ "". قَالَ الْمُطَّلِبُ: سَمِعْتُ رَجُلًا يَسْأَلُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو: أَسْمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَذْكُرُهُنَّ؟ قَالَ: نَعَمْ، عُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ، وَالشِّرْكُ بِاللَّهِ، وَقَتْلُ النَّفْسِ، وَقَذْفُ الْمُحْصَنَاتِ، وَأَكْلُ مَالِ الْيَتِيمِ، وَالْفِرَارُ مِنَ الزَّحْفِ، وَأَكْلُ الرِّبَا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ مُسْلِمُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ الْعَبَّاسِ، وَلَمْ أَرَ مَنْ ذَكَرَهُ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿAmr رضي الله عنهما reported: The Messenger of Allah ﷺ ascended the pulpit and said: > **"I swear by an oath, I swear by an oath!"** Then he descended and said: > **"Receive glad tidings! Receive glad tidings! Whoever performs the five daily prayers and avoids the major sins may enter through whichever gate of Paradise he pleases."** Al-Muṭṭalib said: I heard a man asking ʿAbdullāh ibn ʿAmr, "Did you hear the Messenger of Allah ﷺ specify them?" He replied, "Yes: disobedience to parents, associating partners with Allah, taking a life, slandering chaste women, consuming the property of an orphan, fleeing from battle, and consuming usury."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ منبر پر چڑھے اور آپ نے ارشاد فرمایا : میں قسم اٹھاتا ہوں ! میں قسم اٹھاتا ہوں ! پھر آپ منبر سے نیچے تشریف لے آئے اور ارشاد فرمایا : تم لوگ یہ خوش خبری حاصل کرو ! تم لوگ یہ خوشخبری حاصل کرو ! کہ جو شخص پانچ نمازیں ادا کرے ‘ اور کبیرہ گناہوں سے اجتناب کرے ‘ وہ جنت کے جس بھی دروازے سے چاہے گا ‘ اندر داخل ہو جائے گا ‘ مطلب نامی راوی بیان کرتے ہیں : میں نے ایک شخص کو حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے یہ سوال کرتے ہوئے سنا : کیا آپ نے نبی اکرم ﷺ کو ان ( کبیرہ گناہوں ) کا ذکر کرتے ہوئے سنا ہے ‘ تو حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : جی ہاں ! وہ کبیرہ گناہ یہ ہیں ) والدین کی نافرمانی کرنا ‘ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا ‘ کسی کو قتل کرنا ‘ پاک دامن عورتوں پر الزام لگانا ، یتیم کا مال کھانا ‘ میدان جنگ سے راہ فرار اختیار کرنا اور سود کھانا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کی سند میں ایک راوی مسلم بن ولید بن عباس ہے ‘ میں نے کسی کو اس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ۔

387

Majma al-Zawaid #387

وَعَنْ ثَوْبَانَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «ثَلَاثَةٌ لَا يَنْفَعُ مَعَهُنَّ عَمَلٌ: الشِّرْكُ بِاللَّهِ، وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ، وَالْفِرَارُ مِنَ الزَّحْفِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ رَبِيعَةَ، ضَعِيفٌ جِدًّا.

EnglishUnverified translation

Thawbān رضي الله عنه reported that the Prophet ﷺ said: > **"There are three sins along with which no righteous deed will be of benefit: associating partners with Allah, disobedience to parents, and fleeing from battle."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں :’’ تین چیزوں کے ہمراہ ‘ کوئی عمل فائدہ نہیں دے گا ‘ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا ‘ والدین کی نافرمانی کرنا ‘ اور میدان جنگ سے راہ فرار اختیار کرنا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اُس کی سند میں ایک راوی یزید بن ربیع ہے ‘ جو انتہائی ضعیف ہے ۔

388

Majma al-Zawaid #388

وَعَنْ سَلَمَةَ بْنِ قَيْسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «إِنَّمَا هِيَ أَرْبَعٌ، فَمَا أَنَا بِأَشَحَّ مِنِّي عَلَيْهِنَّ يَوْمَ سَمِعْتُهُنَّ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَلَا، لَا تُشْرِكُوا بِاللَّهِ شَيْئًا، وَلَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ، وَلَا تَزْنُوا، وَلَا تَسْرِقُوا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Salamah ibn Qays رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"They are four cardinal commands, and I have never guarded anything more jealously than them since the day I heard them from the Messenger of Allah ﷺ: Beware! Do not associate anything with Allah; do not kill the soul which Allah has made sacred except with justice; do not commit fornication; and do not steal."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سلمہ بن قیس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے فرمایا ہے : ( شاید راوی بیان کرتے ہیں : وہ چار چیزیں ہیں جب سے میں نے ‘ نبی اکرم ﷺ کی زبانی ان کے بارے میں سنا ہے ‘ ( نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : خبردار ! تم لوگ کسی کو اللہ کا شریک قرار نہ دینا ‘ اور اُس جان کو قتل نہ کرنا ‘ جسے اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہو ‘ البتہ حق کا معاملہ مختلف ہے ‘ اور تم زنا نہ کرنا ‘ اور تم چوری نہ کرنا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

389

Majma al-Zawaid #389

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «ثَلَاثٌ مَنْ لَمْ تَكُنْ فِيهِ وَاحِدَةٌ مِنْهُنَّ، فَإِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ لَهُ مَا سِوَى ذَلِكَ لِمَنْ يَشَاءُ: مَنْ مَاتَ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا، وَلَمْ يَكُنْ سَاحِرًا يَتَّبِعُ السَّحَرَةَ، وَلَمْ يَحْقِدْ عَلَى أَخِيهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿAbbās رضي الله عنهما reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"There are three matters: whoever is free from all of them, Allah will forgive whatever is besides that for whomever He wills: whoever dies without associating anything with Allah, was not a sorcerer following sorcerers, and harbored no malice against his brother."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : : ’’ تین چیزیں ایسی ہیں کہ اگر کسی شخص میں ان میں سے کوئی ایک بھی چیز نہ ہو ‘ تو پھر ( اُس کے علاوہ ‘ اُس شخص کے گناہوں میں سے ) اللہ تعالیٰ جس کی چاہے گا ‘ مغفرت کر دے گا ‘ جو شخص ایسی حالت میں انتقال کرتا ہے ‘ کہ وہ کسی کو اللہ تعالیٰ کا شریک قرار نہ دیتا ہو ‘ اور وہ جادو کرنے والا نہ ہو کہ جادوگروں کے پیچھے جاتا ہو ‘ اور وہ اپنے بھائی کے خلاف دشمنی کا اظہار نہ کرے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابی سلیم ہے ۔

390

Majma al-Zawaid #390

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «الْكَبَائِرُ سَبْعٌ: الْإِشْرَاكُ بِاللَّهِ، وَقَتْلُ النَّفْسِ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ، وَقَذَفُ الْمُحْصَنَةِ، وَالْفِرَارُ مِنَ الزَّحْفِ، وَأَكْلُ الرِّبَا، وَأَكْلُ مَالِ الْيَتِيمِ، وَالرُّجُوعُ إِلَى الْأَعْرَابِيَّةِ بَعْدَ الْهِجْرَةِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ أَبُو بِلَالٍ الْأَشْعَرِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Saʿīd al-Khudrī رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"The major sins are seven: associating partners with Allah, killing a soul which Allah has forbidden except by right, slandering a chaste woman, fleeing from the battlefield, consuming usury, consuming the property of an orphan, and returning to Bedouin life after emigration."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ کبیرہ گناہ سات ہیں ، اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا ‘ اُس جان کو قتل کرنا ‘ جسے اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے ‘ البتہ اُس کے حق کا معاملہ مختلف ہے ‘ پاک دامن عورت پر الزام لگانا ‘ میدان جنگ سے راہ فرار اختیار کرنا ‘ سود کھانا ، یتیم کا مال کھانا ‘ اور ہجرت کرنے کے بعد دیہاتی زندگی کی طرف لوٹ جانا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اُس کی سند میں ایک راوی ابوبلال اشعری ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

391

Majma al-Zawaid #391

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ «أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا الْكَبَائِرُ؟ قَالَ: "" الشِّرْكُ بِاللَّهِ، وَالْإِيَاسُ مِنْ رَوْحِ اللَّهِ، وَالْقَنُوطُ مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿAbbās رضي الله عنهما reported that a man asked: "O Messenger of Allah, what are the major sins?" He ﷺ replied: > **"Associating partners with Allah, despairing of Allah's soothing relief, and losing all hope in the mercy of Allah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے دریافت کیا : یا رسول اللہ ! کبیرہ گناہ کون سے ہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس ہونا ۔ یہ روایت امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

392

Majma al-Zawaid #392

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: الْكَبَائِرُ: الْإِشْرَاكُ بِاللَّهِ، وَالْأَمْنُ مِنْ مَكْرِ اللَّهِ، وَالْقُنُوطُ مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ، وَالْيَأْسُ مِنْ رَوْحِ اللَّهِ. وَفِي رِوَايَةٍ: أَكْبَرُ الْكَبَائِرِ. وَإِسْنَادُهُ صَحِيحٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Masʿūd رضي الله عنه said: > **"The greatest major sins are: associating partners with Allah, feeling secure from the plan of Allah, losing hope in the mercy of Allah, and despairing of the soothing relief of Allah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : کبیرہ گناہ یہ ہیں : اللہ کے ساتھ شرک کرنا ‘ اللہ تعالیٰ کی تدبیر سے ( خود کو ) محفوظ سمجھنا ‘ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس ہونا اور اس کی مہربانی سے ناامید ہونا ۔ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” سب سے بڑے کبیرہ گناہ ‘‘ اس کی سند صحیح ہے ۔

393

Majma al-Zawaid #393

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِأَصْحَابِهِ: "" أُبَايِعُكُمْ عَلَى أَنْ لَا تُشْرِكُوا بِاللَّهِ شَيْئًا، وَلَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ، وَلَا تَزْنُوا، وَلَا تَسْرِقُوا، وَلَا تَشْرَبُوا مُسْكِرًا، فَمَنْ فَعَلَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا، فَأُقِيمَ عَلَيْهِ حَدُّهُ ; فَهُوَ كَفَّارَةٌ، وَمَنْ سَتَرَ اللَّهُ عَلَيْهِ، فَحِسَابُهُ عَلَى اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - وَمَنْ لَمْ يَفْعَلْ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا ضَمِنْتُ لَهُ عَلَى اللَّهِ الْجَنَّةَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ إِلَّا أَنَّهُ مِنْ رِوَايَةِ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿAmr رضي الله عنهما reported: The Messenger of Allah ﷺ said to his Companions: > **"I take your pledge of allegiance that you will not associate anything with Allah, nor kill the soul which Allah has forbidden except by right, nor commit fornication, nor steal, nor drink intoxicants. Whoever among you commits any of these things and has its legal punishment executed upon him, it shall be an expiation for him. And whoever has his sin concealed by Allah, his reckoning rests with Allah, the Mighty and Majestic. And whoever does not commit any of these things, I guarantee Paradise for him from Allah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : : نبی اکرم ﷺ نے اپنے اصحاب سے فرمایا : میں تم لوگوں سے اس بات پر بیعت لوں گا کہ تم کسی کو اللہ کا شریک قرار نہیں دو گے ‘ اور تم کسی ایسی جان کو قتل نہیں کرو گے ‘ جسے اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہو ‘ البتہ حق کا معاملہ مختلف ہے ‘ اور تم زنا نہیں کرو گے ‘ اور تم چوری نہیں کرو گے ‘ اور تم نشہ آور چیز نہیں پیو گے ‘ جو شخص ان میں سے کوئی کام کرے گا اور پھر اُس پر حد قائم ہو جائے ‘ تو وہ کفارہ بن جائے گی ‘ اور جس شخص کی اللہ تعالیٰ پردہ پوشی کر لے ‘ تو اُس کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہو گا ‘ جو شخص ان میں سے کوئی بھی کام نہیں کرے گا ‘ تو میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اُسے جنت کی ضمانت دیتا ہوں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ‘ البتہ اسے عمرو بن شعیب نے ‘ اپنے والد کے حوالے سے ‘ اپنے دادا سے نقل کیا ہے ۔

394

Majma al-Zawaid #394

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «لَا تُطْفَأُ نَارُهُ، وَلَا تَمُوتُ دِيدَانُهُ، وَلَا يُخَفَّفُ عَذَابُهُ - الَّذِي يُشْرِكُ بِاللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - وَرَجُلٌ جَرَّ رَجُلًا إِلَى سُلْطَانٍ بِغَيْرِ ذَنْبٍ فَقَتَلَهُ، وَرَجُلٌ عَقَّ وَالِدَيْهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ الْعَلَاءُ بْنُ سِنَانٍ، ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Mālik رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"His fire shall never be extinguished, its worms shall never die, and his punishment shall never be lightened: the one who associates partners with Allah, the Mighty and Majestic; a man who drags another man before a ruler without any offense so that the ruler kills him; and a man who is disobedient to his parents."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ اس شخص کی آگ نہیں بجھے گی ‘ اُس کا کام ختم نہیں ہو گا ‘ اور اس کے عذاب میں تخفیف نہیں ہو گی ‘ وہ شخص جو کسی کو اللہ کا شریک قرار دیتا ہو ‘ یا وہ شخص جو کسی بے گناہ کو پکڑ کر حاکم وقت کے پاس لے جاتا ہے ‘ اور وہ حاکم کی سے قتل کر دیتا ہے ‘ اور وہ شخص جو اپنے والدین کا نافرمان ہو ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی علی بن سنان ہے ‘ اسے امام احمد نے ضعیف قرار دیا ہے ۔

395

Majma al-Zawaid #395

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُنَيْسٍ الْجُهَنِيِّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ: "" «مِنْ أَكْبَرِ الْكَبَائِرِ الشِّرْكُ بِاللَّهِ، وَالْيَمِينُ الْغَمُوسُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَهُوَ بِتَمَامِهِ فِي الْإِيمَانِ وَالنُّذُورِ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Unays al-Juhanī رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Among the greatest of major sins are associating partners with Allah and the perjurious, engulfing false oath."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن انیس جہنی رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ بڑے کبیرہ گناہوں میں ‘ اللہ کے ساتھ شرک کرنا اور جھوٹی قسم اٹھانا شامل ہیں ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اور یہ مکمل روایت ‘ قسموں اور نذروں سے متعلق باب میں آئے گی ‘ اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

396

Majma al-Zawaid #396

وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: «أَتَى رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، عَلِّمْنِي عَمَلًا إِذَا أَنَا عَمِلْتُهُ دَخَلْتُ الْجَنَّةَ. قَالَ: "" لَا تُشْرِكْ بِاللَّهِ شَيْئًا وَإِنْ عُذِّبْتَ وَحُرِّقْتَ، أَطِعْ وَالِدَيْكَ وَإِنْ أَخْرَجَاكَ مِنْ مَالِكَ وَمِنْ كُلِّ شَيْءٍ هُوَ لَكَ، لَا تَتْرُكِ الصَّلَاةَ مُتَعَمِّدًا، فَإِنَّهُ مَنْ تَرَكَ الصَّلَاةَ مُتَعَمِّدًا بَرِئَتْ مِنْهُ ذِمَّةُ اللَّهِ، لَا تَشْرَبِ الْخَمْرَ ; فَإِنَّهَا مِفْتَاحُ كُلِّ شَرٍّ، لَا تُنَازِعِ الْأَمْرَ أَهْلَهُ وَإِنْ رَأَيْتَ أَنَّهُ لَكَ، أَنْفِقْ مِنْ طَوْلِكَ عَلَى أَهْلِكَ، وَلَا تَرْفَعْ عَنْهُمْ عَصَاكَ، أَخِفْهُمْ فِي اللَّهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ وَاقِدٍ، ضَعَّفَهُ الْبُخَارِيُّ وَجَمَاعَةٌ، وَقَالَ الثَّوْرِيُّ: كَانَ صَدُوقًا.

EnglishUnverified translation

Muʿādh ibn Jabal رضي الله عنه reported: A man came to the Messenger of Allah ﷺ and said, "O Messenger of Allah, teach me a deed that, if I perform it, I will enter Paradise." He ﷺ said: > **"Do not associate anything with Allah, even if you are tortured and burned. Obey your parents, even if they expel you from your wealth and from everything you possess. Do not abandon the obligatory prayer deliberately, for whoever abandons the prayer deliberately, the protection of Allah is free from him. Do not drink wine, for it is the key to every evil. Do not dispute the authority of those who possess it, even if you believe you have a right to it. Spend upon your family from your means, do not raise your stick of discipline from them, and instill in them the fear of Allah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور بولا : یا رسول اللہ ! آپ مجھے کسی ایسے عمل کی تعلیم دیجیے ! کہ جب میں اس پر عمل کر لوں ‘ تو میں جنت میں داخل ہو جاؤں ‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم کسی کو اللہ کا شریک قرار نہ دو ! خواہ تمہیں عذاب دیا جائے ‘ یا تمہیں جلا دیا جائے ‘ اور اپنے ماں باپ کی اطاعت کرو ! اگرچہ وہ تمہیں تمہارے مال سے اور تمہاری ہر چیز سے باہر نکال دیں ‘ اور تم جان بوجھ کر نماز ترک نہ کرنا ‘ کیونکہ جو شخص جان بوجھ کر نماز ترک کر دیتا ہے ‘ اُس سے اللہ تعالیٰ کا ذمہ لاتعلق ہو جاتا ہے ‘ اور تم شراب نہ پینا ‘ کیونکہ یہ تمام برائیوں کی کنجی ہے ‘ اور تم حکومت کے بارے میں ‘ اُس کے متعلقہ افراد سے جھگڑا نہ کرنا ‘ اگرچہ تم یہ سمجھ رہے ہو کہ تمہیں اُس کا حق ہے ‘ اور تم اپنی گنجائش میں سے ‘ اپنے اہل خانہ پر خرچ کرنا ‘ اور اُن سے اپنا عصا نہ اُٹھانا ‘ انہیں اللہ تعالیٰ کا ڈر دلاتے رہنا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن واقد ہے ‘ جسے امام بخاری اور ایک جماعت نے ضعیف قرار دیا ہے ‘ ثوری فرماتے ہیں : وہ صدوق تھا ۔

397

Majma al-Zawaid #397

وَعَنْ بُرَيْدَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «إِنَّ أَكْبَرَ الْكَبَائِرِ الْإِشْرَاكُ بِاللَّهِ، وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ، وَمَنْعُ فَضْلِ الْمَاءِ، وَمَنْعُ الْفَحْلِ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ صَالِحُ بْنُ حَيَّانَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ وَلَمْ يُوَثِّقْهُ أَحَدٌ.

EnglishUnverified translation

Buraydah رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Indeed, the greatest of major sins are: associating partners with Allah, disobedience to parents, withholding surplus water, and withholding a stud animal from breeding."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ بڑے کبیرہ گناہ یہ ہیں ‘ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا ‘ والدین کی نافرمانی کرنا ‘ اضافی پانی نہ دینا ‘ اور نر جانور کو ( جفتی کے لیے ) نہ دینا ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اور اس کی سند میں ایک راوی صالح بن حیان ہے ‘ وہ ضعیف ہے ‘ کسی نے اُس کی توثیق نہیں کی ہے ۔

398

Majma al-Zawaid #398

وَعَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «ثَلَاثَةٌ لَا يُسْأَلُ عَنْهُمْ: رَجُلٌ فَارَقَ الْجَمَاعَةَ وَعَصَى إِمَامَهُ وَمَاتَ عَاصِيًا، وَأَمَةٌ أَوْ عَبْدٌ أَبَقَ مِنْ سَيِّدِهِ فَمَاتَ، وَامْرَأَةٌ غَابَ عَنْهَا زَوْجُهَا وَقَدْ كَفَاهَا أَمْرَ الدُّنْيَا فَتَبَرَّجَتْ بَعْدَهُ. وَثَلَاثَةٌ لَا يُسْأَلُ عَنْهُمْ: رَجُلٌ نَازَعَ اللَّهَ رِدَاءَهُ ; فَإِنَّ رِدَاءَهُ الْكِبْرُ، وَإِزَارَهُ الْعِزُّ، وَرَجُلٌ كَانَ فِي شَكٍّ مِنْ أَمْرِ اللَّهِ، وَالْقَنُوطُ مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، فَجَعَلَهُمَا حَدِيثَيْنِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Faḍālah ibn ʿUbayd رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"There are three persons about whom you need not ask: a man who separates from the main body of Muslims, disobeys his leader, and dies in a state of disobedience; an enslaved woman or man who flees from their master and dies; and a woman whose husband is away, having provided for her worldly needs, yet she displays her charms indecently in his absence. And there are three others about whom you need not ask: a man who contends with Allah regarding His cloak—for His cloak is grandeur and His lower garment is might; a man who is in doubt concerning the decree of Allah; and the one who despairs of the mercy of Allah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ تین افراد ہیں ، جن کے بارے میں سوال نہیں کیا جائے گا وہ شخص جو جماعت سے الگ ہو جائے ‘ اپنے امام کی نافرمانی کرے ‘ اور گناہ گار ہونے کے عالم میں مر جائے ‘ وہ کنیز یا غلام ‘ جو اپنے آقا کو چھوڑ کر مفرور ہو جائے ‘ اور اسی حالت میں مر جائے ‘ وہ عورت جس کا شوہر اس کے پاس موجود نہ ہو ‘ اور شوہر نے اُس عورت کی ضروریات فراہم کی ہوئی ہوں ‘ تو شوہر کی غیر موجودگی میں وہ زینت کا اظہار کرے ‘ تین افراد ہیں ‘ جن کے بارے میں سوال نہیں کیا جائے گا ‘ وہ شخص ‘ جو اللہ تعالیٰ کی چادر کے بارے میں اُس کا مقابلہ کرتا ہے ‘ اُس کی چادر کبریائی ہے اور اس کا تہبند ‘ عزت ( غلبہ ) ہے وہ شخص ‘ جو اللہ تعالیٰ کے حکم کے بارے میں شک کرتا ہے ‘ اور وہ شخص ‘ جو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس ہو ‘‘۔ یہ روایت امام بزار اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے انہوں نے اسے دو مختلف احادیث کے طور پر نقل کیا ہے اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

399

Majma al-Zawaid #399

وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «لَا تَزَالُ الْمَرْأَةُ تَلْعَنُهَا الْمَلَائِكَةُ أَوْ يَلْعَنُهَا اللَّهُ وَمَلَائِكَتُهُ وَخُزَّانُ الرَّحْمَةِ وَخُزَّانُ الْعَذَابِ - مَا انْتَهَكَتْ مِنْ مَعَاصِي اللَّهِ شَيْئًا» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَلْمَانَ الْأَغَرُّ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ، وَذَكَرَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الضُّعَفَاءِ، وَقَالَ أَبُو حَاتِمٍ: يُحَوَّلُ مِنْ كِتَابِ الضُّعَفَاءِ، لَمْ أَرَ لَهُ حَدِيثًا مُنْكَرًا.

EnglishUnverified translation

Muʿādh ibn Jabal رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"The angels continue to curse a woman—or Allah, His angels, the guardians of mercy, and the guardians of punishment curse her—as long as she persists in violating anything of Allah's prohibitions."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ عورت پر فرشتے مسلسل لعنت کرتے رہتے ہیں ( راوی کو شک ہے ‘ یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) اُس پر اللہ تعالیٰ ‘ اس کے فرشتے ‘ رحمت کے نگران فرشتے ‘ عذاب کے نگران فرشتے لعنت کرتے ہیں ‘ جب تک وہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں سے ‘ کسی بھی چیز کا ارتکاب کرتی ہے ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عبیداللہ بن سلمان اغر ہے ‘ جسے امام ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ‘ امام بخاری نے اس کا ذکر کتاب ’’ الضعفاء ‘‘ میں کیا ہے ‘ ابوحاتم فرماتے ہیں : اس کو کتاب ’’ الضعفاء ‘‘ سے منتقل کر دیا جائے گا کیونکہ میں نے اس کے حوالے سے کوئی منکر حدیث نہیں دیکھی ہے ۔

400

Majma al-Zawaid #400

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «هَلَكَ الْمُتَقَذِّرُونَ» "". قَالَ ابْنُ الْأَثِيرِ فِي النِّهَايَةِ: الْمُتَقَذِّرُونَ: الَّذِينَ يَأْتُونَ الْقَاذُورَاتِ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا.

EnglishUnverified translation

ʿĀʾishah رضي الله عنها reported that the Prophet ﷺ said: > **"Ruined are those who indulge in filthy abominations (al-mutaqadhdhirūn)."** Ibn al-Athīr said in *al-Nihāyah*: "Al-mutaqadhdhirūn are those who commit foul obscenities and illicit acts."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ گندگی والے لوگ ‘ ہلاکت کا شکار ہو گئے ‘‘۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) : ابن اثیر نے کتاب ’’ النہایہ ‘‘ میں یہ بات بیان کی ہے : گندگی والے لوگوں سے مراد ‘ وہ لوگ ہیں ، جو گندی عورتوں کے پاس جاتے ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن سعید مقبری ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔