قَالَ الطَّبَرَانِيُّ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، حَدَّثْنَا الزُّبَيْرُ بْنُ بَكَّارٍ، قَالَ: تَسْمِيَةُ أَصْحَابِ الْعَقَبَةِ: مُعَتِّبُ بْنُ قُشَيْرِ بْنِ مُلَيْلٍ مِنْ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ شَهِدَ بَدْرًا، وَهُوَ الَّذِي قَالَ: يَعِدُنَا مُحَمَّدٌ كُنُوزَ كِسْرَى وَقَيْصَرَ وَأَحَدُنَا لَا يَأْمَنُ عَلَى خَلَائِهِ، وَهُوَ الَّذِي قَالَ: لَوْ كَانَ لَنَا مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ مَا قُتِلْنَا هَاهُنَا. قَالَ الزُّبَيْرُ: وَهُوَ الَّذِي شَهِدَ عَلَيْهِ الزُّبَيْرُ بِهَذَا الْكَلَامِ. وَوَدِيعَةُ بْنُ ثَابِتِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ، وَهُوَ الَّذِي قَالَ: إِنَّمَا كُنَّا نَخُوضُ وَنَلْعَبُ، وَهُوَ الَّذِي قَالَ: مَالِي أَرَى قُرَّاءَنَا هَؤُلَاءِ أَرْغَبُنَا بُطُونًا وَأَجْبَنُنَا عِنْدَ اللِّقَاءِ. وَجَدُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَبْتَلَ بْنِ الْحَارِثِ مِنْ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ، وَهُوَ الَّذِي قَالَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ: يَا مُحَمَّدُ، مَنْ هَذَا الْأَسْوَدُ كَثِيرُ شَعْرٍ، عَيْنَاهُ كَأَنَّهُمَا قِدْرَانِ مِنْ صُفْرٍ، يَنْظُرُ بِعَيْنَيْ شَيْطَانِ، وَكَبِدُهُ كَبِدُ حِمَارٍ، يُخْبِرُ الْمُنَافِقِينَ بِخَبَرِكَ، وَهُوَ الْمُخْبَرُ بِخَبَرِهِ؟. وَالْحَارِثُ بْنُ يَزِيدَ الطَّائِيِّ، حَلِيفٌ لِبَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ، وَهُوَ الَّذِي سَبَقَ إِلَى الْوَشَلِ - يَعْنِي الْبِئْرَ - الَّتِي نَهَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يَسْبِقَهُ أَحَدٌ، فَاسْتَقَى مِنْهُ. وَأَوْسُ بْنُ قِبْطِيٍّ، وَهُوَ مِنْ بَنِي حَارِثَةَ، وَهُوَ الَّذِي قَالَ: إِنَّ بُيُوتَنَا عَوْرَةٌ، وَهُوَ جَدُّ يَحْيَى بْنِ سَعِيدِ بْنِ قَيْسٍ. وَالْجُلَّاسُ بْنُ سُوَيْدِ بْنِ الصَّامِتِ، وَهُوَ مِنْ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ، وَبَلَغَنَا أَنَّهُ تَابَ بَعْدَ ذَلِكَ. وَسَعْدُ بْنُ زُرَارَةَ، مِنْ بَنِي مَالِكِ بْنِ النَّجَّارِ، وَهُوَ الْمُدَّخَنُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ أَصْغَرُهُمْ سِنًّا، وَأَخْبَثُهُمْ. وَسُوَيْدٌ وَرَاعِشٌ، وَهُمَا مِنْ بَلْحُبْلَى، وَهُمَا مِمَّنْ جَهَّزَ ابْنُ أُبَيٍّ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ لِخِذْلَانِ النَّاسِ. وَقَيْسُ بْنُ عَمْرِو بْنِ فَهْدٍ. وَزَيْدُ بْنُ اللُّصَيْبِ، وَكَانَ مِنْ يَهُودِ قَيْنُقَاعَ، فَأَظْهَرَ الْإِسْلَامَ وَفِيهِ غِشُّ الْيَهُودِ وَنِفَاقُ مَنْ نَافَقَ. وَسُلَالَةُ بْنُ الْحُمَامِ، مِنْ بَنِي قَيْنُقَاعَ، فَأَظْهَرَ الْإِسْلَامَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ مِنْ قَوْلِ الزُّبَيْرِ بْنِ بَكَّارٍ كَمَا تَرَى.
EnglishUnverified translation
Al-Zubayr ibn Bakkār said: The identification of the conspirators of the mountain pass: Muʿattib ibn Qushayr ibn Mulayl, from Banū ʿAmr ibn ʿAwf, who had witnessed Badr. He was the one who said, "Muḥammad promises us the treasures of Chosroes and Caesar while none of us feels safe even to go to relieve himself!" and he was the one who said, "If we had any say in the matter, we would not have been killed here." Al-Zubayr said: And he was the one against whom al-Zubayr testified concerning these words. And Wadīʿah ibn Thābit ibn ʿAmr ibn ʿAwf; he was the one who said, "We were only conversing and playing," and he was the one who said, "I have not seen the likes of our reciters—more gluttonous, more deceitful in speech, and more cowardly upon encountering the enemy." And Jadd ibn ʿAbdillāh ibn Nabtal ibn al-Ḥārith, from Banū ʿAmr ibn ʿAwf; he was the one concerning whom Gabriel عليه السلام said: "O Muḥammad, who is this dark-skinned man with abundant hair, whose eyes are like two brass cauldrons, who looks with the eyes of a devil and whose liver is the liver of a donkey, who conveys news of you to the hypocrites, and his own news has been made known?" And al-Ḥārith ibn Yazīd al-Ṭāʾī, an ally of Banū ʿAmr ibn ʿAwf; he was the one who preceded to the spring (al-Washal) which the Messenger of Allah ﷺ had forbidden anyone to precede him to, and he drew water from it. And Aws ibn Qibṭī, from Banū Ḥārithah; he was the one who said, "Indeed, our houses are exposed," and he was the grandfather of Yaḥyā ibn Saʿīd ibn Qays. And al-Julās ibn Suwayd ibn al-Ṣāmit, from Banū ʿAmr ibn ʿAwf; and it has reached us that he repented thereafter. And Saʿd ibn Zurārah, from Banū Mālik ibn al-Najjār; he was the one who raised smoke against the Messenger of Allah ﷺ, and he was the youngest of them in age and the most wicked of them. And Suwayd and Rāʿish, both from Balḥublā; they were among those equipped by Ibn Ubayy during the Expedition of Tabūk to cause people to desert. And Qays ibn ʿAmr ibn Fahd. And Zayd ibn al-Luṣayb; he was from the Jews of Banū Qaynuqāʿ who feigned Islam while retaining the deceit of the Jews and the hypocrisy of the hypocrites. And Sulālah ibn al-Ḥumām, from Banū Qaynuqāʿ, who also feigned Islam. > **[This is the enumeration of the conspirators of the mountain pass as related by al-Zubayr ibn Bakkār.]**
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
امام طبرانی بیان کرتے ہیں : علی بن عبدالعزیز نے ہمیں یہ بات بیان کی ہے : زبیر بن بکار بیان کرتے ہیں :’’ گھاٹی والے افراد ( جنہوں نے نبی اکرم ﷺ کو شہید کرنے کا منصوبہ بنایا تھا ‘ ) ان کے نام یہ ہیں : معتب بن قشیر بن ملیل ‘ اس کا تعلق بنو عمرو بن عوف سے ہے ‘ اس نے غزوہ بدر میں شرکت کی تھی ‘ یہ وہ شخص ہے ‘ جس نے یہ کہا تھا : حضرت محمد ﷺ ہمارے ساتھ کسری اور قیصر کے خزانوں کا وعدہ کرتے ہیں جبکہ ہم میں سے کوئی ایک اپنے خلای کے حوالے سے بھی محفوظ نہیں ہے ۔ یہی وہ شخص ہے جس نے یہ کہا تھا : اگر ہمارے بس میں ہوتا ‘ تو ہم یہاں قتل نہ ہوتے ‘ زہیر بن بکار فرماتے ہیں : اس کلام کے حوالے سے ‘ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے اسی شخص کے خلاف گواہی دی تھی ۔ ودیعہ بن ثابت بن عمرو بن عوف ‘ یہ وہ شخص ہے ‘ جس نے یہ کہا تھا : پہلے ہم کھیل کود کیا کرتے تھے ‘ اور یہی وہ شخص ہے ‘ جس نے یہ کہا تھا : کیا وجہ ہے کہ میں یہ دیکھتا ہوں کہ ہمارے یہ قاری صاحبان ‘ پیٹ کی طرف سب سے زیادہ رغبت رکھتے ہیں اور دشمن کا سامنا کرنے کے وقت سب سے زیادہ بزدل ہوتے ہیں ۔ جد بن عبداللہ بن نبتل بن حارث ‘ اس کا تعلق بنو عمرو بن عوف سے ہے ‘ یہ وہ شخص ہے جس کے بارے میں حضرت جبرائیل علیہ السلام نے یہ کہا تھا : اے حضرت محمد ﷺ ! بہت سے بالوں والا یہ شخص کون ہے ؟ جس کی آنکھیں پیتل کی ہنڈیاؤں جیسی ہیں ‘ وہ شیطان کی آنکھوں کے ساتھ دیکھتا ہے اور اس کا جگر گدھے کا جگر ہے ‘ یہ منافقین کو آپ کی خبریں پہنچاتا ہے ۔ حارث بن یزید طائی ‘ یہ بنوعمرو بن عوف کا حلیف ہے ‘ یہ وہ شخص ہے ‘ جو اس کنویں کے پاس پہلے چلا گیا تھا ، جس کے بارے میں نبی اکرم ﷺ نے منع کیا تھا کہ کوئی آپ سے پہلے وہاں تک جائے ‘ اس نے وہاں سے پانی حاصل کیا تھا ۔ اوس بن قبطی ‘ اس کا تعلق بنو حارثہ سے ہے ‘ یہ وہی شخص ہے ‘ جس نے یہ کہا تھا : ہمارے گھر پردہ کی چیز ہیں ‘ یہ یحیی بن سعید بن قیس کا دادا ہے ۔ جلاس بن سوید بن صامت ‘ اس کا تعلق بنو عمرو بن عوف سے ہے ‘ ہم تک یہ روایت پہنچی ہے کہ اس نے بعد میں توبہ کر لی تھی ۔ سعد بن زرارہ ‘ اس کا تعلق بنو مالک بن نجار سے ہے ‘ یہ وہ شخص جس نے نبی اکرم کے خلاف دھواں پھیلایا تھا ‘ یہ اُن لوگوں میں ‘ عمر میں سب سے چھوٹا تھا اور سب سے زیادہ خبیث تھا ۔ سوید اور راعش ‘ ان دونوں کا تعلق بلحبلی سے تھا ‘ یہ دونوں ان افراد میں سے ہیں ، جنہیں عبداللہ بن اُبی نے غزوہ تبوک کے موقع پر سامان فراہم کیا تھا ‘ تاکہ یہ لوگوں کو سوا کریں ۔ قیس بن عمرو بن فہد زید بن لصیب ‘ اس کا تعلق قینقاع کے یہودیوں سے تھا ‘ اور اس نے خود کو مسلمان ظاہر کیا تھا ‘ اس میں یہودیوں کا کھوٹ تھا اور منافقین کا نفاق تھا ۔ سلالہ بن حمام ‘ اس کا تعلق بنو قینقاع سے تھا ‘ اس نے خود کو مسلمان ظاہر کیا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں ‘ زبیر بن بکار کے قول کے طور پر نقل کی ہے ‘ جیسا کہ آپ ملاحظہ فرما رہے ہیں ۔