Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 1 · Chapter 11

Book of Faith

Hadith 401–440

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

401

Majma al-Zawaid #401

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ - يَعْنِي الْخُدْرِيَّ - قَالَ: «إِنَّكُمْ لَتَعْمَلُونَ أَعْمَالًا - هِيَ أَدَقُّ فِي أَعْيُنِكُمْ مِنَ الشَّعْرِ - كُنَّا نَعُدُّهَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنَ الْمُوبِقَاتِ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ عَبَّادُ بْنُ رَاشِدٍ، وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ، وَضَعَّفَهُ أَبُو دَاوُدَ وَغَيْرُهُ. قُلْتُ: وَيَأْتِي لِهَذَا الْحَدِيثِ طُرُقٌ فِي التَّوْبَةِ - إِنْ شَاءَ اللَّهُ -.

EnglishUnverified translation

Abū Saʿīd al-Khudrī رضي الله عنه said: > **"Indeed, you commit deeds that are finer in your eyes than a strand of hair, yet during the time of the Messenger of Allah ﷺ we used to count them among the fatal, destructive sins."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : تم لوگ کچھ ایسے عمل کرتے ہو ! جو تمہارے نزدیک بال سے زیادہ باریک ہوتے ہیں اور نبی اکرم ﷺ کے زمانے میں ، ہم لوگ انہیں ہلاکت کا شکار کر دینے والے اعمال شمار کرتے تھے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عباد بن راشد ہے ‘ جسے یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ‘ جبکہ امام ابوداؤد اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) : اس حدیث کے مختلف طرق ‘ توبہ سے متعلق باب میں آئیں گے ‘ ان شاء اللہ ۔

402

Majma al-Zawaid #402

عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «كُفُّوا عَنْ أَهْلِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، لَا تُكَفِّرُوهُمْ بِذَنْبٍ، فَمَنْ كَفَّرَ أَهْلَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَهُوَ إِلَى الْكُفْرِ أَقْرَبُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ الضَّحَّاكُ بْنُ حُمْرَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، وَقَدِ اخْتُلِفَ فِي الِاحْتِجَاجِ بِهِمَا.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿUmar رضي الله عنهما said: The Messenger of Allah ﷺ said: > **"Withhold from the people of 'Lā ilāha illā Allāh' (there is no deity worthy of worship except Allah); do not declare them disbelievers on account of any sin. For whoever declares the people of 'Lā ilāha illā Allāh' to be disbelievers is himself closer to disbelief."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ «لا اله الا اللہ» پڑھنے والوں سے رکے رہو ! اور کسی گناہ کی وجہ سے انہیں کافر قرار نہ دو ! جو شخص «لا اله الا الله» پڑھنے والوں کو کافر قرار دیتا ہے وہ خود کفر کے زیادہ قریب ہوتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں یہ مذکور ہے : اسے ضحاک بن حمران نے علی بن زید سے نقل کیا ہے ‘ اور ان دونوں سے استدلال کرنے کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے ۔

403

Majma al-Zawaid #403

وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، وَأَبِي أُمَامَةَ، وَوَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ، وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالُوا: «خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَنَحْنُ نَتَمَارَى فِي شَيْءٍ مِنْ أَمْرِ الدِّينِ. فَذَكَرَ الْحَدِيثَ إِلَى أَنْ قَالَ: "" إِنَّ الْإِسْلَامَ بَدَأَ غَرِيبًا، وَسَيَعُودُ غَرِيبًا "" قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَنِ الْغُرَبَاءُ؟ قَالَ: "" الَّذِينَ يَصْلُحُونَ إِذَا فَسَدَ النَّاسُ، وَلَمْ يُمَارُوا فِي دِينِ اللَّهِ، وَلَا تُكَفِّرُوا أَحَدًا مِنْ أَهْلِ التَّوْحِيدِ بِذَنْبٍ» "". قُلْتُ: وَيَأْتِي بِتَمَامِهِ. أَخْرَجَهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ كَثِيرُ بْنُ مَرْوَانَ، كَذَّبَهُ يَحْيَى وَالدَّارَقُطْنِيُّ.

EnglishUnverified translation

Abū al-Dardāʾ, Abū Umāmah, Wāthilah ibn al-Asqaʿ, and Anas ibn Mālik رضي الله عنهم said: The Messenger of Allah ﷺ came out to us while we were disputing concerning a matter of religion. [The narrator mentioned the hadith until he said:] The Messenger of Allah ﷺ said: > **"Indeed, Islam began as something strange, and it will return to being strange."** They said, "O Messenger of Allah, who are the strangers?" He ﷺ said: > **"Those who remain righteous when the people become corrupt, who do not engage in futile argumentation regarding the religion of Allah, and do not declare anyone from the people of Tawḥīd to be a disbeliever on account of a sin."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ حضرت واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ اور حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے ‘ ہم اُس وقت ایک دینی مسئلہ کے بارے میں بحث کر رہے تھے ......... اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ‘ جس میں آگے چل کر یہ الفاظ ہیں : ’’ اسلام کا آغاز غریب الوطنی میں ہوا تھا اور یہ عنقریب دوبارہ غریب الوطن ہو جائے گا ‘ لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! غریب لوگ کون ہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : وہ لوگ جو اُس وقت ٹھیک رہیں ‘ جب دوسرے لوگ خرابی کا شکار ہو جائیں ‘ اور وہ لوگ ‘ اللہ کے دین کے بارے میں بحث نہیں کرتے ہیں ، تم لوگ کسی گناہ کے ارتکاب کی وجہ سے ‘ اہل توحید میں سے کسی کو کافر قرار نہ دینا ‘‘۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) : یہ مکمل روایت آگے چل کر آئے گی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی کثیر بن مروان ہے ‘ جسے یحیی اور امام دارقطنی نے جھوٹا قرار دیا ہے ۔

404

Majma al-Zawaid #404

وَعَنْ عَلِيٍّ وَجَابِرٍ قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «بُنِيَ الْإِسْلَامُ عَلَى ثَلَاثَةٍ: أَهْلُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ لَا تُكَفِّرُوهُمْ بِذَنْبٍ وَلَا تَشْهَدُوا عَلَيْهِمْ بِشِرْكٍ، وَمَعْرِفَةُ الْمَقَادِيرِ خَيْرِهَا وَشَرِّهَا مِنَ اللَّهِ، وَالْجِهَادُ مَاضٍ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ مُذْ بَعَثَ اللَّهُ مُحَمَّدًا - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى آخِرِ عِصَابَةٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، لَا يَنْقُضُ ذَلِكَ جَوْرُ جَائِرٍ وَلَا عَدْلُ عَادِلٍ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ يَحْيَى التَّيْمِيُّ، كَانَ يَضَعُ الْحَدِيثَ.

EnglishUnverified translation

ʿAlī and Jābir رضي الله عنهما said: The Messenger of Allah ﷺ said: > **"Islam is built upon three foundations: withhold from the people of 'Lā ilāha illā Allāh'—do not declare them disbelievers on account of a sin, nor bear witness against them with polytheism; the recognition of the Divine Decrees, both the good and the bad of them being from Allah; and Jihad continues until the Day of Resurrection, from the time Allah sent Muḥammad ﷺ until the last group of Muslims—neither the tyranny of an oppressor nor the justice of an equitable leader can abrogate it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ اسلام کی بنیاد ‘ تین چیزوں پر ہے ‘ «لا الہ الا اللہ» پڑھنے والے لوگوں کی ‘ تم کسی گناہ کی وجہ سے تکفیر نہ کرو ! اور نہ ہی اُن کے خلاف شرک کی گواہی دو ! اور تقدیر کی معرفت ‘ کہ وہ اچھی ہو یا بری ہو ‘ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہو گی ‘ اور جہاد ‘ قیامت تک جاری رہے گا ‘ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد ﷺ کو مبعوث کیا ‘ اُس وقت سے لے کر ‘ مسلمانوں کے آخری گروہ تک ( یہ جاری رہے گا ) کسی ظالم کا ظلم ‘ یا عادل کا عدل ‘ اسے ختم نہیں کر سکے گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن یحیی تیمی ہے ‘ جو حدیث ایجاد کرتا تھا .

405

Majma al-Zawaid #405

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «لَنْ يَخْرُجَ أَحَدٌ مِنَ الْإِيمَانِ إِلَّا بِجُحُودِ مَا دَخَلَ فِيهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ يَحْيَى التَّيْمِيُّ، وَهُوَ وَضَّاعٌ كَمَا تَقَدَّمَ.

EnglishUnverified translation

Abū Saʿīd al-Khudrī رضي الله عنه reported that the Prophet ﷺ said: > **"None shall exit from faith except through the denial of that by which he entered into it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ کوئی بھی شخص ‘ ایمان سے صرف اُس صورت میں خارج ہو گا ‘ جب وہ اس چیز کا انکار کر دے ‘ جس میں وہ داخل ہوا تھا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن یحیی تیمی ہے ‘ اور وہ احادیث ایجاد کرنے والا شخص ہے ‘ جیسا کہ یہ بات پہلے گزر چکی ہے ۔

406

Majma al-Zawaid #406

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «لَا تُكَّفِرُوا أَحَدًا مِنْ أَهْلِ الْقِبْلَةِ بِذَنْبٍ، وَإِنْ عَمِلُوا بِالْكَبَائِرِ، وَصَلُّوا مَعَ كُلِّ إِمَامٍ، وَجَاهَدُوا مَعَ كُلِّ أَمِيرٍ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ أَبِي سَارَةَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ.

EnglishUnverified translation

ʿĀʾishah رضي الله عنها said: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: > **"Do not declare anyone from the people of the Qiblah to be a disbeliever on account of a sin, even if they commit major sins; pray behind every imam, and struggle in Jihad alongside every ruler."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ اہل قبلہ میں سے ‘ کسی کی ‘ کسی گناہ کی وجہ سے تکفیر نہ کرو ! خواہ وہ ( لوگ ) کبیرہ گناہوں کا ارتکاب کرتے ہوں اور ہر امام کے پیچھے نماز ادا کرنا اور ہر امیر کے ساتھ جہاد کرو ! “۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی علی بن ابوسارہ ہے اور وہ ضعیف اور متروک الحدیث ہے ۔

407

Majma al-Zawaid #407

وَعَنْ يَزِيدَ الرَّقَاشِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قُلْتُ يَا أَبَا حَمْزَةَ، إِنَّ نَاسًا يَشْهَدُونَ عَلَيْنَا بِالْكُفْرِ وَالشِّرْكِ، قَالَ أَنَسٌ: أُولَئِكَ شَرُّ الْخَلْقِ وَالْخَلِيقَةِ "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ يَزِيدُ الرَّقَاشِيُّ، وَقَدْ ضَعَّفَهُ الْأَكْثَرُ، وَوَثَّقَهُ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ، وَقَالَ: عِنْدَهُ أَحَادِيثُ صَالِحَةٌ عَنْ أَنَسٍ، وَأَرْجُو أَنَّهُ لَا بَأْسَ بِهِ.

EnglishUnverified translation

Yazīd al-Raqāshī reported from Anas ibn Mālik رضي الله عنه: I said, "O Abū Ḥamzah, indeed there are people who testify against us with disbelief and polytheism!" Anas رضي الله عنه said: > **"Those are the worst of creation and humankind."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

یزید رقاشی ‘ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں : میں نے کہا : اے ابوحمزہ ! کچھ لوگ ہمارے خلاف کفر اور شرک کی گواہی دیتے ہیں ‘ تو حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا : وہ خلق اور خلیفہ کے بدترین لوگ ہیں ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی یزید رقاشی ہے ‘ جسے اکثر حضرات نے ضعیف قرار دیا ہے ‘ ابو احمد بن عدی نے اُسے ثقہ کہا ہے ‘ وہ فرماتے ہیں : اس نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ‘ صالح روایات نقل کی ہیں ، اور مجھے یہ امید ہے کہ اس میں کوئی حرج نہیں ہو گا ۔

408

Majma al-Zawaid #408

وَعَنْ أَبِي سُفْيَانَ قَالَ: سَأَلْتُ جَابِرًا وَهُوَ مُجَاوِرٌ بِمَكَّةَ، وَهُوَ نَازِلٌ فِي بَنِي فِهْرٍ، فَسَأَلَهُ رَجُلٌ: هَلْ كُنْتُمْ تَدْعُونَ أَحَدًا مِنْ أَهْلِ الْقِبْلَةِ مُشْرِكًا؟ قَالَ: مَعَاذَ اللَّهِ، فَفَزِعَ لِذَلِكَ. قَالَ: هَلْ كُنْتُمْ تَدْعُونَ أَحَدًا مِنْهُمْ كَافِرًا؟ قَالَ: لَا. رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abū Sufyān reported: I asked Jābir رضي الله عنه while he was residing near Mecca, staying among Banū Fihr. A man asked him, "Did you ever call anyone from the people of the Qiblah a polytheist?" He said, "Allah forbid!" and was horrified by that. The man asked, "Did you ever call any of them a disbeliever?" He replied: > **"No."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوسفیان بیان کرتے ہیں : میں نے ‘ حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے سوال کیا : جو اُس وقت مکہ میں ٹھہرے ہوئے تھے ‘ اُنہوں نے بنو فہر کے ہاں پڑاؤ کیا ہوا تھا ، ایک شخص نے اُن سے سوال کیا : کیا آپ لوگ یعنی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ‘ اہل قبلہ میں سے کسی شخص کو مشرک قرار دیتے تھے ؟ تو اُنہوں نے جواب دیا : اس بات سے اللہ کی پناہ ہے ‘ وہ ( یعنی حضرت جابر رضی اللہ عنہ ) اس بات سے خوف زدہ ہو گئے ‘ اُس شخص نے دریافت کیا : کیا آپ لوگ ( یعنی صحابہ کرام ) ان ( یعنی اہل قبلہ ) میں سے ‘ کسی کو کافر قرار دیتے تھے ؟ انہوں نے جواب دیا : جی نہیں ! ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

409

Majma al-Zawaid #409

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «مَا أَخَافُ عَلَى أُمَّتِي إِلَّا ضَعْفَ الْيَقِينِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه said: The Messenger of Allah ﷺ said: > **"I do not fear for my nation anything except weakness of certainty."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ مجھے اپنی اُمت کے بارے میں ‘ صرف یقین کے کمزور ہونے کا اندیشہ ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

410

Majma al-Zawaid #410

وَعَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ عَلَى مِنْبَرِهِ: إِنَّ الْبَلِيَّةَ كُلَّ الْبَلِيَّةِ أَنْ تَعْمَلَ أَعْمَالَ السُّوءِ فِي إِيمَانِ السُّوءِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.

EnglishUnverified translation

Al-Nuʿmān ibn Bashīr رضي الله عنه used to say from his pulpit: > **"Indeed, the calamity of all calamities is that you commit evil deeds alongside corrupted faith."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : اُنہوں نے منبر پر یہ ارشاد فرمایا تھا : ’’ سب سے بڑی مصیبت یہ ہے کہ تم لوگ برے ایمان کے ہمراہ ‘ عمل بھی برے کرتے ہو ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

411

Majma al-Zawaid #411

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «إِنَّ لِلْمُنَافِقِينَ عَلَامَاتٍ يُعْرَفُونَ بِهَا: تَحِيَّتُهُمْ لَعْنَةٌ، وَطَعَامُهُمْ نُهْبَةٌ، وَغَنِيمَتُهُمْ غُلُولٌ، لَا يَقْرَبُونَ الْمَسَاجِدَ إِلَّا هَجْرًا، وَلَا يَأْتُونَ الصَّلَاةَ إِلَّا دُبُرًا مُسْتَكْبِرِينَ إِلَّا بِالْقَوْلِ، لَا يَأْلَفُونَ وَلَا يُؤْلَفُونَ، خُشُبٌ بِاللَّيْلِ صُخُبٌ بِالنَّهَارِ ""، وَقَالَ يَزِيدُ مَرَّةً: سُخُبٌ بِالنَّهَارِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ، وَفِيهِ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ قُدَامَةَ الْجُمَحِيُّ، وَثَّقَهُ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ، وَضَعَّفَهُ الدَّارَقُطْنِيُّ وَغَيْرُهُ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه reported that the Prophet ﷺ said: > **"Indeed, the hypocrites have distinguishing marks by which they are recognized: their greeting is a curse, their food is plunder, their war booty is embezzlement, they do not approach the mosques except with avoidance and harshness, and they do not come to the prayer except belatedly, behaving haughtily except in mere speech; they do not bring hearts together nor are they harmonized with; they are like propped-up timber by night and clamorous by day."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریر رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ منافقین کی مخصوص علامات ہیں ، جن کے ذریعے وہ پہچانے جاتے ہیں ‘ ان کی تحیت ( یعنی سلام کرنے کا طریقہ ) لعنت ہوتی ہے ‘ اُن کا کھانا ‘ اُچک کر حاصل کی گئی چیز ہوتی ہے ‘ اُن کی غنیمت ‘ خیانت ہوتی ہے ‘ وہ صرف بلند آواز میں بری بات کہنے کے لیے مساجد کے قریب جاتے ہیں ‘ اور وہ نماز کی طرف پیٹھ پھیر دیتے ہیں ‘ وہ تکبر کرتے ہوئے ایسا کرتے ہیں ‘ نہ وہ ( مسلمانوں کے ساتھ ) الفت رکھتے ہیں اور نہ ہی ان سے الفت رکھی جاتی ہے ‘ وہ رات کے وقت لکڑی ہوتے ہیں اور دن کے وقت چیخ و پکار کرتے ہیں ‘‘۔ یزید نامی راوی نے ایک مرتبہ لفظ ’’ صخب ‘‘ کی جگہ لفظ ’’ سخب ‘‘ نقل کیا ہے ۔ یہ روایت امام احمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عبدالملک بن قدامہ جمحی ہے ‘ جسے یحییٰ بن معین اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ‘ جبکہ امام دارقطنی اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا ہے ۔

412

Majma al-Zawaid #412

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «ثَلَاثٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ فَهُوَ مُنَافِقٌ وَإِنْ صَامَ وَصَلَّى وَحَجَّ وَاعْتَمَرَ وَقَالَ إِنِّي مُسْلِمٌ: إِذَا حَدَّثَ كَذَبَ، وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ، وَإِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ يَزِيدُ الرَّقَاشِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Mālik رضي الله عنه said: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: > **"Three traits, whoever possesses them is a hypocrite, even if he fasts, prays, performs Hajj and ʿUmrah, and says: 'Indeed, I am a Muslim': when he speaks he lies, when he promises he breaks his word, and when he is entrusted he betrays."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے :’’ تین چیزیں ، جس شخص میں ہوں گی ‘ وہ منافق ہو گا ، اگرچہ وہ روزہ رکھتا ہو ‘ نماز پڑھتا ہو ‘ اُس نے حج اور عمرہ کیا ہو ‘ اور وہ یہ کہتا ہو : میں مسلمان ہوں ( وہ تین چیزیں یہ ہیں : ) جب وہ بولے ‘ تو جھوٹ بولے ‘ جب وعدہ کرے ‘ تو اُس کی خلاف ورزی کرے ‘ اور جب اُسے امین بنایا جائے ‘ تو وہ خیانت کرے ‘‘۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی یزید رقاشی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

413

Majma al-Zawaid #413

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «فِي الْمُنَافِقِ ثَلَاثٌ: إِذَا حَدَّثَ كَذَبَ، وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ، وَإِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ يُوسُفُ بْنُ الْخَطَّابِ، وَهُوَ مَجْهُولٌ.

EnglishUnverified translation

Jābir رضي الله عنه said: The Messenger of Allah ﷺ said: > **"In the hypocrite are three characteristics: when he speaks he lies, when he promises he breaks his word, and when he is entrusted he betrays."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ منافق میں تین چیزیں ہوتی ہیں ، جب وہ بولتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے ‘ جب وعدہ کرتا ہے ‘ تو اس کی خلاف ورزی کرتا ہے اور جب اسے امین بنایا جائے ‘ تو خیانت کرتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ امام طبرانی نے اسے معجم اوسط میں نقل کیا ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی یوسف بن خطاب ہے اور وہ مجہول ہے ۔

414

Majma al-Zawaid #414

وَعَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «آيَاتُ الْمُنَافِقِ: إِذَا حَدَّثَ كَذَبَ، وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ، وَإِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ زَنْفَلٌ الْعَوْفِيُّ كَذَّابٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Bakr al-Ṣiddīq رضي الله عنه reported that the Prophet ﷺ said: > **"The signs of the hypocrite are: when he speaks he lies, when he promises he breaks his word, and when he is entrusted he betrays."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ منافق کی نشانیاں یہ ہیں : جب وہ بولے ‘ تو جھوٹ بولے ‘ جب وعدہ کرے ‘ تو اُس کی خلاف ورزی کرے ‘ اور جب اُسے امین بنایا جائے ‘ تو وہ خیانت کرے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی زنفل عوفی ہے ‘ جو کذاب ہے ۔

415

Majma al-Zawaid #415

«وَعَنْ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ قَالَ: دَخَلَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" مِنْ خِلَالِ الْمُنَافِقِ: إِذَا حَدَّثَ كَذَبَ، وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ، وَإِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ ""، فَخَرَجَا مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُمَا ثَقِيلَانِ، فَلَقِيتُهُمَا فَقُلْتُ: مَالِي أَرَاكُمَا ثَقِيلَيْنِ؟ فَقَالَا: حَدِيثًا سَمِعْنَاهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" مِنْ خِلَالِ الْمُنَافِقِ: إِذَا حَدَّثَ كَذَبَ، وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ، وَإِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ "". قَالَ: أَوَلَا سَأَلْتُمَاهُ؟ قَالَا: هِبْنَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. قَالَ: لَكِنِّي سَأَسْأَلُهُ، فَدَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ: لَقِيَنِي أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - وَهُمَا ثَقِيلَانِ، وَذَكَرْتُ مَا قَالَا، فَقَالَ: "" قَدْ حَدَّثْتُهُمَا وَلَمْ أَضَعْهُ عَلَى الْمَوْضِعِ الَّذِي يَضَعَانِهِ، وَلَكِنَّ الْمُنَافِقَ إِذَا حَدَّثَ بِحَدِيثٍ وَهُوَ يُحَدِّثُ نَفْسَهُ أَنَّهُ يَكْذِبُ، وَإِذَا وَعَدَ وَهُوَ يُحَدِّثُ نَفْسَهُ أَنَّهُ يُخْلِفُ، وَإِذَا اؤْتُمِنَ وَهُوَ يُحَدِّثُ نَفْسَهُ أَنَّهُ يَخُونُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ أَبُو النُّعْمَانِ عَنْ أَبِي وَقَّاصٍ، وَكِلَاهُمَا مَجْهُولٌ - قَالَهُ التِّرْمِذِيُّ - وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ مُوَثَّقُونَ.

EnglishUnverified translation

Salmān al-Fārisī رضي الله عنه said: Abū Bakr and ʿUmar entered upon the Messenger of Allah ﷺ, and the Messenger of Allah ﷺ said: "Among the traits of the hypocrite are: when he speaks he lies, when he promises he breaks his word, and when he is entrusted he betrays." They both departed from the presence of the Messenger of Allah ﷺ feeling heavy-hearted. I met them and said, "Why do I see you two looking so troubled?" They replied, "Because of a hadith we heard from the Messenger of Allah ﷺ. He said: 'Among the traits of the hypocrite are: when he speaks he lies, when he promises he breaks his word, and when he is entrusted he betrays.'" Salmān said, "Did you not ask him for clarification?" They said, "We held the Messenger of Allah ﷺ in too much awe." Salmān said, "Then I will ask him." I entered upon the Messenger of Allah ﷺ and said, "I met Abū Bakr and ʿUmar رضي الله عنهما and they were feeling deeply burdened," and I recounted what they had said. The Messenger of Allah ﷺ said: > **"I did speak to them, but I did not intend it in the manner they understood it. Rather, the hypocrite is the one who, when he speaks, tells himself inwardly that he will lie; and when he promises, tells himself inwardly that he will break his word; and when he is entrusted, tells himself inwardly that he will betray."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ منافق کی عادات میں یہ بات شامل ہے کہ جب وہ بولے ‘ تو غلط بیانی کرتا ہے ‘ جب وعدہ کرے ‘ تو اس کے خلاف کرتا ہے ‘ اور جب اُسے امین بنایا جائے ‘ تو خیانت کرتا ہے ‘‘۔ یہ دونوں حضرات ‘ جب نبی اکرم ﷺ کے پاس سے اٹھے ‘ تو دونوں پریشان تھے ‘ میری اُن دونوں حضرات سے ملاقات ہوئی ‘ تو میں نے دریافت کیا : کیا وجہ ہے ؟ میں آپ دونوں کو پریشان دیکھ رہا ہوں ‘ اُنہوں نے بتایا : اس کی وجہ وہ حدیث ہے ‘ جو ہم نے نبی اکرم ﷺ کی زبانی سنی ہے ‘ آپ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ منافق کی عادات میں یہ بات شامل ہے کہ جب وہ بولے ‘ تو غلط بیانی کرتا ہے ‘ جب وعدہ کرے ‘ تو اُس کے خلاف کرتا ہے ‘ اور جب اُسے امین بنایا جائے ‘ تو خیانت کرتا ہے ‘‘۔ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے کہا : کیا آپ دونوں نے نبی اکرم ﷺ سے سوال نہیں کیا ؟ ان دونوں حضرات نے جواب دیا : اللہ کے رسول ﷺ کی ہیبت کی وجہ سے ( ہم نے آپ ﷺ سے سوال نہیں کیا ) تو حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے کہا میں نبی اکرم ﷺ سے سوال کروں گا ‘ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : پھر میں ‘ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ‘ اور میں نے عرض کی : حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی مجھ سے ملاقات ہوئی ‘ وہ دونوں پریشان تھے ‘ پھر میں نے اُن دونوں حضرات کی بات کا ذکر کیا ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میں نے اُن دونوں سے یہ بات بیان کی تھی ، لیکن میں نے اُس کا وہ مفہوم مراد نہیں لیا تھا ، جو ان دونوں نے مراد لیا ہے ‘ اس سے مراد یہ ہے کہ منافق شخص ‘ جب کوئی بات کرتا ہے ‘ تو وہ دل میں یہ سوچ رہا ہوتا ہے کہ وہ جھوٹ بولے گا اور جب وہ کوئی وعدہ کرتا ہے ‘ تو وہ دل میں یہ سوچ رہا ہوتا ہے کہ وہ اس کی خلاف ورزی کرے گا ‘ اور جب اُسے امین بنایا جاتا ہے ‘ تو وہ دل میں یہ سوچ رہا ہوتا ہے کہ وہ خیانت کرے گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں یہ مذکور ہے : اسے ابونعمان نے ابووقاص سے روایت کیا ہے اور یہ دونوں راوی مجہول ہیں ‘ یہ بات امام ترمذی نے نقل کی ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

416

Majma al-Zawaid #416

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «ثَلَاثٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ فَهُوَ مُنَافِقٌ، وَإِنْ كَانَ فِيهِ خَصْلَةٌ فَفِيهِ خَصْلَةٌ مِنَ النِّفَاقِ: إِذَا حَدَّثَ كَذَبَ، وَإِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ، وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Masʿūd رضي الله عنه reported that the Prophet ﷺ said: > **"Three traits, whoever possesses them is a hypocrite; and whoever possesses one trait among them possesses a branch of hypocrisy: when he speaks he lies, when he is entrusted he betrays, and when he promises he breaks his word."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ تین چیزیں ، جس شخص میں ہوں گی ‘ وہ منافق ہو گا ‘ اور اگر کسی میں اُن میں سے کوئی ایک چیز ہو گی ، تو اُس میں نفاق کی خصلت ہو گی ‘ جب وہ بولے ‘ تو جھوٹ بولے ‘ جب اُسے امین بنایا جائے ‘ تو خیانت کرے اور جب کوئی وعدہ کرے ‘ تو اس کے خلاف کرے ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہیں اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

417

Majma al-Zawaid #417

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: اعْتَبِرُوا الْمُنَافِقِينَ بِثَلَاثٍ: إِذَا حَدَّثَ كَذَبَ، وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ، وَإِذَا عَاهَدَ غَدَرَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - تَصْدِيقَ ذَلِكَ فِي كِتَابِهِ: {وَمِنْهُمْ مَنْ عَاهَدَ اللَّهَ لَئِنْ آتَانَا مِنْ فَضْلِهِ} [التوبة: 75] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Masʿūd رضي الله عنه said: > **"Evaluate the hypocrites by three traits: when he speaks he lies, when he promises he breaks his word, and when he enters into a covenant he acts treacherously."** Allah, Mighty and Majestic, revealed the confirmation of that in His Book: *{And among them are those who made a covenant with Allah: "If He should give us of His bounty, we will surely give charity and be among the righteous." But when He gave them from His bounty, they were stingy with it and turned away while refusing.}* [At-Tawbah: 75–76].

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ’’ تین چیزوں کے حوالے سے منافقین کا اندازہ کر لو ! جب وہ بولے ‘ تو جھوٹ بولے ‘ جب وعدہ کرے تو خلاف ورزی کرے اور جب عہد کرے ‘ تو عہد شکنی کرے ‘ اللہ تعالیٰ نے اس کی تصدیق میں اپنی کتاب میں یہ نازل کیا ہے :’’ ان میں سے کچھ لوگ وہ ہیں ‘ جو اللہ تعالیٰ سے یہ عہد کرتے ہیں کہ اگر وہ ہمیں اپنے فضل کے تحت دیدے ‘‘۔ یہ آیت کے آخر تک ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

418

Majma al-Zawaid #418

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «مِنْ أَعْلَامِ الْمُنَافِقِ: إِذَا حَدَّثَ كَذَبَ، وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ، وَإِذَا ائْتَمَنْتَهُ خَانَكَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Saʿīd al-Khudrī رضي الله عنه said: The Messenger of Allah ﷺ said: > **"Among the signs of the hypocrite are: when he speaks he lies, when he promises he breaks his word, and when you entrust him he betrays you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ منافق کی نشانیوں میں یہ بات شامل ہے ‘ جب وہ بولے ‘ تو جھوٹ بولے ‘ جب وعدہ کرے ‘ تو خلاف ورزی کرے اور جب تم اُسے امین بناؤ ! تو وہ تمہارے ساتھ خیانت کرے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن زید بن اسلم ہے اور وہ ضعیف ہے اس کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

419

Majma al-Zawaid #419

عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «نِيَّةُ الْمُؤْمِنِ خَيْرٌ مِنْ عَمَلِهِ، وَعَمَلُ الْمُنَافِقِ خَيْرٌ مِنْ نِيَّتِهِ، وَكُلٌّ يَعْمَلُ عَلَى نِيَّتِهِ، فَإِذَا عَمِلَ الْمُؤْمِنُ عَمَلًا ثَارَ فِي قَلْبِهِ نُورٌ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ حَاتِمُ بْنُ عَبَّادِ بْنِ دِينَارٍ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Sahl ibn Saʿd al-Sāʿidī رضي الله عنه said: The Messenger of Allah ﷺ said: > **"The intention of the believer is better than his action, and the action of the hypocrite is better than his intention; and each acts according to his intention. When the believer performs a deed, light radiates in his heart."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ مؤمن کی نیت ‘ اس کے عمل سے بہتر ہوتی ہے ‘ اور منافق کا عمل ‘ اُس کی نیت سے بہتر ہوتا ہے ‘ اُن میں سے ہر ایک اپنی نیت کے مطابق عمل کرتا ہے ، لیکن جب مؤمن کوئی عمل کرتا ہے ‘ تو اُس کے دل میں نور پھیل جاتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی حاتم بن عباد بن دینار ہے ‘ میں اس سے واقف نہیں ہوں ‘ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

420

Majma al-Zawaid #420

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: «مَرَّ رَسُولُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَيِّ ابْنِ سَلُولَ وَهُوَ فِي ظِلٍّ، فَقَالَ: قَدْ غَبَّرَ عَلَيْنَا ابْنُ أَبِي كَبْشَةَ، فَقَالَ ابْنُهُ عَبْدُ اللَّهِ: وَالَّذِي أَكْرَمَكَ وَأَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَابَ، لَئِنْ شِئْتَ لَأَتَيْتُكَ بِرَأْسِهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" لَا، وَلَكِنْ بِرَّ أَبَاكَ وَأَحْسِنْ صُحْبَتَهُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَقَالَ: تَفَرَّدَ بِهِ زَيْدُ بْنُ بِشْرٍ الْحَضْرَمِيُّ. قُلْتُ: وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه said: The Messenger of Allah ﷺ passed by ʿAbdullāh ibn Ubayy ibn Salūl while he was sitting in the shade. Ibn Salūl said, "The son of Abū Kabshah has kicked up dust upon us!" His son ʿAbdullāh said, "By the One Who honored you and sent down the Book upon you, if you wish, I will bring you his head!" The Prophet ﷺ said: > **"No; rather, show filial piety to your father and treat him with good companionship."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ کا گزر ( رئیس المنافقین ) عبداللہ بن ابی بن سلول کے پاس سے ہوا ‘ جو سائے میں موجود تھا ‘ اُس نے کہا : اے ابوکبشہ کے صاحبزادے ! آپ نے ہم پر غبار ڈال دیا ہے ( بعد میں ) اس کے بیٹے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ ( جو صحابی رسول ہیں ‘ ) انہوں نے ( نبی اکرم ﷺ سے ) کہا : اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو عزت عطا کی ہے اور آپ پر کتاب نازل کی ہے ‘ اگر آپ چاہیں ، تو میں آپ کے پاس اُس کا ( یعنی اپنے باپ عبداللہ بن ابی بن سلول کا ) سر لے آتا ہوں ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جی نہیں ! تم اپنے باپ کے ساتھ نیکی کرو ! اور اُس کے ساتھ اچھے طریقے سے رہو ! ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ وہ فرماتے ہیں : زید بن بشر حضرمی اسے نقل کرنے میں منفرد ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

421

Majma al-Zawaid #421

وَعَنْ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ قَالَ: «قُلْنَا لِحُذَيْفَةَ: كَيْفَ عَرَفْتَ أَمْرَ الْمُنَافِقِينَ وَلَمْ يَعْرِفْهُ أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَلَا أَبُو بَكْرٍ وَلَا عُمَرُ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ -؟ قَالَ: إِنِّي كُنْتُ أَسِيرُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَنَامَ عَلَى رَاحِلَتِهِ، فَسَمِعْتُ نَاسًا مِنْهُمْ يَقُولُونَ: لَوْ طَرَحْنَاهُ عَنْ رَاحِلَتِهِ فَانْدَقَّتْ عُنُقُهُ فَاسْتَرَحْنَا مِنْهُ، فَسِرْتُ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَهُ، وَجَعَلْتُ أَقْرَأُ وَأَرْفَعُ صَوْتِي فَانْتَبَهَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" مَنْ هَذَا؟ "" فَقُلْتُ: حُذَيْفَةُ. قَالَ: "" مَنْ هَؤُلَاءِ؟ "". قُلْتُ: فُلَانٌ وَفُلَانٌ حَتَّى عَدَدْتُهُمْ. قَالَ: "" وَسَمِعْتَ مَا قَالُوا؟ "". قُلْتُ: نَعَمْ، وَلِذَلِكَ سِرْتُ بَيْنَكَ وَبَيْنَهُمْ. قَالَ: "" فَإِنَّ هَؤُلَاءِ فُلَانًا وَفُلَانًا "" حَتَّى عَدَّ أَسْمَاءَهُمْ "" مُنَافِقُونَ، لَا تُخْبِرَنَّ أَحَدًا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ مُجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ، وَقَدِ اخْتَلَطَ وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ.

EnglishUnverified translation

Ṣilah ibn Zufar said: We said to Ḥudhayfah رضي الله عنه, "How did you come to know the affair of the hypocrites when none of the Companions of the Messenger of Allah ﷺ knew it, neither Abū Bakr nor ʿUmar رضي الله عنهما?" Ḥudhayfah said: I was riding behind the Messenger of Allah ﷺ when he fell asleep upon his mount. I heard some men among them saying, "If we were to push him off his mount so that his neck breaks, we would be relieved of him." So I rode between them and him, and began reciting aloud, raising my voice. The Messenger of Allah ﷺ awoke and said: > **"Who is this?"** I said, "Ḥudhayfah." He asked: > **"Who are those men?"** I said, "So-and-so and so-and-so," until I had enumerated them all. He asked: > **"And did you hear what they said?"** I said, "Yes, and for that reason I rode between you and them." He ﷺ said: > **"Indeed, those—so-and-so and so-and-so [naming them]—are hypocrites; do not inform anyone about them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

صلہ بن زفر بیان کرتے ہیں : ہم نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے کہا : آپ نے منافقین کے معاملے کو کیسے پہچان لیا ؟ جبکہ نبی اکرم ﷺ کے اصحاب میں سے کوئی بھی اُسے نہیں پہچان سکا ‘ یہاں تک کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی ( اُسے نہیں پہچان سکے ) تو حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ایک مرتبہ میں ‘ نبی اکرم ﷺ کے پیچھے چلتا ہوا جا رہا تھا ‘ نبی اکرم ﷺ اپنی سواری پر سو گئے ‘ اس دوران میں نے کچھ لوگوں کو یہ کہتے ہوئے سنا : اگر ہم انہیں ( یعنی نبی اکرم ﷺ کو ) ان کی سواری سے گرا دیں ، تو ان کی گردن ٹوٹ جائے گی اور ہمیں ان سے نجات مل جائے گی تو میں اُن لوگوں اور نبی اکرم ﷺ کے درمیان چلتا رہا ‘ میں نے بلند آواز میں تلاوت شروع کر دی ‘ تو نبی اکرم ﷺ بیدار ہو گئے ‘ آپ نے دریافت کیا : کون ہے ؟ میں نے عرض کی : حذیفہ ! آپ نے دریافت کیا : یہ کون لوگ ہیں ؟ میں نے بتایا : فلاں ہے ‘ اور فلاں ہے ‘ یہاں تک کہ میں نے اُن سب کے بارے میں بتا دیا ‘ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : اُنہوں نے جو کہا ہے ‘ وہ تم نے سنا ؟ میں نے عرض کی : جی ہاں ! اسی لئے میں آپ کے اور ان لوگوں کے درمیان چل رہا ہوں ، تو آپ ﷺ نے فرمایا : وہ لوگ فلاں اور فلاں ہیں ، یہاں تک کہ نبی اکرم ﷺ نے اُن کے نام گنوائے اور فرمایا : یہ منافقین ہیں ، تم کسی کو نہ بتانا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی مجالد بن سعید ہے ‘ جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ‘ ایک جماعت نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔

422

Majma al-Zawaid #422

«وَعَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: كُنْتُ آخِذًا بِزِمَامِ نَاقَةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَقُودُ، وَعَمَّارٌ يَسُوقُ - أَوْ عَمَّارٌ يَقُودُ وَأَنَا أَسُوقُ بِهِ - إِذِ اسْتَقْبَلَنَا اثْنَا عَشَرَ رَجُلًا مُتَلَثِّمِينَ. قَالَ: "" هَؤُلَاءِ الْمُنَافِقُونَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ "". قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَا تَبْعَثُ إِلَى كُلِّ رَجُلٍ مِنْهُمْ فَتَقْتُلُهُ؟ فَقَالَ: "" أَكْرَهُ أَنْ يَتَحَدَّثَ النَّاسُ أَنَّ مُحَمَّدًا يَقْتُلُ أَصْحَابَهُ، وَعَسَى تُكْفِهُمُ الدُّبَيْلَةُ "". قُلْنَا: وَمَا الدُّبَيْلَةُ؟ قَالَ: شِهَابٌ مِنْ نَارٍ يُوضَعُ عَلَى نِيَاطِ قَلْبِ أَحَدِهِمْ فَيَقْتُلُهُ» "". قُلْتُ: فِي الصَّحِيحِ بَعْضُهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَمَةَ، وَثَّقَهُ جَمَاعَةٌ، وَقَالَ الْبُخَارِيُّ: لَا يُتَابَعُ عَلَى حَدِيثِهِ.

EnglishUnverified translation

Ḥudhayfah رضي الله عنه said: I was holding the halter of the she-camel of the Messenger of Allah ﷺ, leading it, while ʿAmmār was driving it—or ʿAmmār was leading it and I was driving it—when twelve masked men confronted us. He ﷺ said: > **"These are hypocrites until the Day of Resurrection."** I said, "O Messenger of Allah, will you not send to each man of them and have him executed?" He ﷺ said: > **"I dislike that the people should say that Muḥammad kills his companions. Perhaps the dubaylah will suffice against them."** We asked, "And what is the dubaylah?" He ﷺ said: > **"A brand of fire placed upon the aorta of the heart of one of them, which kills him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں ‘ نبی اکرم ﷺ کی اونٹنی کی لگام پکڑے ہوئے تھا ‘ اور اُسے لے کے چل رہا تھا جبکہ حضرت عمار رضی اللہ عنہ اُسے پیچھے سے ہانک رہے تھے ( راوی کو شک ہے ‘ یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) حضرت عمار رضی اللہ عنہ اُسے لے کر چل رہے تھے ‘ اور میں اُسے پیچھے سے ہانک رہا تھا ‘ اسی دوران ہمارے سامنے 12 افراد آئے ، جنہوں نے دھاٹے باندھے ہوئے تھے ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : یہ قیامت کے دن تک کے لئے منافق ہیں ‘ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ ان میں سے ہر ایک کی طرف کسی شخص کو بھیج کر انہیں قتل کیوں نہیں کروا دیتے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : مجھے یہ بات ناپسند ہے کہ لوگ یہ بات کریں کہ حضرت محمد ﷺ اپنے ساتھیوں کو قتل کروا دیتے ہیں عنقریب ” دبیلہ ‘‘ ان کے لئے کفایت کر جائے گا ‘ ہم نے عرض کی :’’ دبیلہ ‘‘ سے مراد کیا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : آگ کا انگارہ ‘ جو ان میں سے کسی ایک کے دل پر رکھا جائے گا اور اسے قتل کر دے گا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :’’ صحیح ‘‘ میں اس ( روایت ) کا کچھ حصہ منقول ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن سلمہ ہے ‘ ایک جماعت نے اُسے ثقہ قرار دیا ہے ‘ امام بخاری فرماتے ہیں : اس کی نقل کردہ حدیث کی متابعت نہیں کی جاتی ہے ۔

423

Majma al-Zawaid #423

«وَعَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَطْنَ الْوَادِي، وَأَخَذَ النَّاسُ الْعَقَبَةَ، فَجَاءَ سَبْعَةُ نَفَرٍ مُتَلَثِّمُونَ، فَلَمَّا رَآهُمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَكَانَ حُذَيْفَةُ الْقَائِدَ وَعَمَّارٌ السَّائِقَ - قَالَ: "" شُدُّوا مَا بَيْنَكُمَا "" فَلَمْ يَصْنَعُوا شَيْئًا، فَنَظَرَ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" يَا حُذَيْفَةُ، هَلْ تَدْرِي مَنِ الْقَوْمُ؟ "" قُلْتُ: مَا أَعْرِفُ مِنْهُمْ إِلَّا صَاحِبَ الْجَمَلِ الْأَحْمَرِ، فَإِنِّي أَعْلَمُ أَنَّهُ فُلَانٌ». قُلْتُ: لَهُ حَدِيثٌ فِي الصَّحِيحِ غَيْرِ هَذَا السِّيَاقِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ تَلِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، وَثَّقَهُ الْعِجْلِيُّ وَقَالَ: لَا بَأْسَ بِهِ، كَانَ يَتَشَيَّعُ وَيُدَلِّسُ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ.

EnglishUnverified translation

Ḥudhayfah رضي الله عنه said: The Messenger of Allah ﷺ took the bed of the valley while the people took the mountain pass. Seven masked individuals approached. When the Messenger of Allah ﷺ saw them—while Ḥudhayfah was leading the mount and ʿAmmār was driving it—he ﷺ said: > **"Guard what is between you two!"** They were unable to carry out their scheme. The Messenger of Allah ﷺ looked towards them and said: > **"O Ḥudhayfah, do you know who these people are?"** I said, "I do not recognize any of them except the owner of the red camel, for I know that he is so-and-so."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ وادی کے نشیبی حصے میں آئے اور لوگ گھاٹی کی طرف چلے گئے ‘ اسی دوران سات افراد آئے ‘ جو دھاٹے باندھے ہوئے تھے ‘ جب نبی اکرم ﷺ نے انہیں ملاحظہ فرمایا ‘ تو اُس وقت حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ جانور کو آگے لے کر چل رہے تھے اور حضرت عمار رضی اللہ عنہ اُسے پیچھے سے ہانک رہے تھے ‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم اپنے درمیان کی چیز کا خیال رکھنا ‘ اُن لوگوں نے کچھ بھی نہیں کیا ‘ نبی اکرم ﷺ نے اُن لوگوں کی طرف دیکھا اور پھر ارشاد فرمایا : اے حذیفہ ! کیا تم جانتے ہو ؟ یہ کون لوگ ہیں ؟ میں نے عرض کی : میں ان میں سے صرف سرخ اونٹ والے شخص کو پہچانتا ہوں ، مجھے پتا ہے کہ یہ فلاں ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) : اُن کے حوالے سے ’’ صحیح ‘‘ میں حدیث منقول ہے جو اس کے علاوہ ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی تلید بن سلیمان ہے ‘ جیسے عجلی نے ثقہ قرار دیا ہے اور یہ کہا ہے : اس میں کوئی حرج نہیں ہے ‘ اس میں تشیع پایا جاتا تھا اور یہ تدلیس کرتا تھا ‘ ایک جماعت نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔

424

Majma al-Zawaid #424

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: كَانَ بَيْنَ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ وَوَدِيعَةَ بْنِ ثَابِتٍ كَلَامٌ، فَقَالَ وَدِيعَةُ لِعَمَّارٍ: إِنَّمَا أَنْتَ عَبْدُ أَبِي حُذَيْفَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، مَا أَعْتَقَكَ بَعْدُ. قَالَ عَمَّارٌ: كَمْ كَانَ أَصْحَابُ الْعَقَبَةِ؟ قَالَ: اللَّهُ أَعْلَمُ. قَالَ: أَخْبِرْنِي عَنْ عِلْمِكَ؟ فَسَكَتَ وَدِيعَةُ. قَالَ مَنْ حَضَرَهُ: أَخْبِرْهُ عَمَّا سَأَلَكَ - وَإِنَّمَا أَرَادَ عَمَّارٌ أَنْ يُخْبِرَهُ أَنَّهُ كَانَ فِيهِمْ - قَالَ: كُنَّا نَتَحَدَّثُ أَنَّهُمْ أَرْبَعَةَ عَشَرَ رَجُلًا، فَقَالَ عَمَّارٌ: فَإِنْ كُنْتُ فِيهِمْ، فَإِنَّهُمْ خَمْسَةَ عَشَرَ. فَقَالَ وَدِيعَةُ: مَهْلًا يَا أَبَا الْيَقْظَانِ، أُنْشِدُكَ اللَّهَ أَنْ تَفْضَحَنِي الْيَوْمَ. فَقَالَ عَمَّارٌ: وَاللَّهِ مَا سَمَّيْتُ أَحَدًا وَلَا أُسَمِّيهِ أَبَدًا، وَلَكِنِّي أَشْهَدُ أَنَّ الْخَمْسَةَ عَشَرَ رَجُلًا اثْنَا عَشَرَ رَجُلًا مِنْهُمْ حِزْبُ اللَّهِ وَرَسُولِهِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُومُ الْأَشْهَادُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ - وَفِي الصَّحِيحِ طَرَفٌ مِنْهُ - وَفِيهِ الْوَاقِدِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Jābir رضي الله عنه said: There was an exchange of harsh words between ʿAmmār ibn Yāsir and Wadīʿah ibn Thābit. Wadīʿah said to ʿAmmār, "You are merely the slave of Abū Ḥudhayfah ibn al-Mughīrah; he has not yet freed you!" ʿAmmār said, "How many were the people of the mountain pass (al-ʿAqabah)?" Wadīʿah replied, "Allah knows best." ʿAmmār said, "Tell me according to what you know!" Wadīʿah fell silent. Those present said, "Answer him about what he asked you!"—for ʿAmmār intended that he disclose that he himself was among them. Wadīʿah said, "We used to discuss that they were fourteen men." ʿAmmār said, "And if you were among them, then they were fifteen." Wadīʿah said, "Go easy, O Abū al-Yaqẓān! I implore you by Allah not to humiliate me today." ʿAmmār said: > **"By Allah, I have not named anyone, nor shall I ever name anyone. But I bear witness that of the fifteen men, twelve of them are a faction against Allah and His Messenger in the life of this world and on the Day when the witnesses stand forth."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ اور ودیعہ بن ثابت کے درمیان تلخ کلامی ہو گئی تو ودیعہ نے حضرت عمار رضی اللہ عنہ سے کہا : آپ ابوحذیفہ بن مغیرہ کے غلام ہیں ‘ اور اس نے آپ کو آزاد نہیں کیا تھا ، تو حضرت عمار رضی اللہ عنہ نے فرمایا : عقبہ والے افراد کتنے تھے ؟ ( یعنی وہ لوگ ‘ جنہوں نے ایک گھاٹی میں ‘ اللہ کے رسول کو شہید کرنے کا منصوبہ بنایا تھا ‘ کیونکہ ودیعہ بھی اُن افراد میں سے ایک تھا ) ودیعہ نے جواب دیا : اللہ بہتر جانتا ہے ‘ حضرت عمار رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم مجھے اپنے علم کے حوالے سے جواب دو ! تو ودیعہ خاموش رہا ‘ حاضرین میں سے ایک صاحب نے یہ کہا : یہ ( یعنی حضرت عمار رضی اللہ عنہ ) تم سے جس چیز کے بارے میں پوچھ رہے ہیں ، تم انہیں بتا دو ! حضرت عمار رضی اللہ عنہ کا ارادہ یہ تھا کہ ودیعہ انہیں یہ بتائے گا کہ وہ بھی اُن افراد میں سے ایک تھا ، ودیعہ نے کہا : ہم یہ بات چیت کیا کرتے تھے کہ وہ چودہ افراد تھے ‘ حضرت عمار رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اگر تم بھی اُن میں ہوتے ‘ تو وہ پندرہ افراد ہوتے ‘ تو ودیعہ بولا : اے ابویقظان ! آپ ٹھہر جائیں ! میں آپ کو اللہ کا واسطہ دیتا ہوں ، آج آپ نے مجھے شرمندہ کر دیا ہے ‘ تو حضرت عمار رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اللہ کی قسم میں نے کسی کا نام نہیں لیا اور نہ ہی میں کبھی کسی کا نام لوں گا ‘ لیکن میں یہ گواہی دیتا ہوں ‘ کہ اُن 15 افراد میں سے ‘ 12 افراد ایسے ہیں ‘ جو دنیاوی زندگی میں اور اُس دن جب گواہ کھڑے ہوں گے ۔ ( وہ 12 افراد ) اللہ اور اُس کے رسول کا گروہ ہوں گے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ ’’ صحیح ‘‘ میں اس کا ایک حصہ منقول ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی واقدی ہے ‘ جو ضعیف ہے ۔

425

Majma al-Zawaid #425

وَعَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ قَالَ: «خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى غَزْوَةِ تَبُوكَ فَانْتَهَى إِلَى عَقَبَةٍ، فَأَمَرَ مُنَادِيَهُ فَنَادَى: لَا يَأْخُذَنَّ الْعَقَبَةَ أَحَدٌ ; فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَسِيرُ يَأْخُذُهَا، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَسِيرُ، وَحُذَيْفَةُ يَقُودُهُ وَعَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ يَسُوقُهُ، فَأَقْبَلَ رَهْطٌ مُتَلَثِّمِينَ عَلَى الرَّوَاحِلِ حَتَّى غَشُّوا النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَرَجَعَ عَمَّارٌ فَضَرَبَ وَجُوهَ الرَّوَاحِلِ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِحُذَيْفَةَ: "" قُدْ قُدْ "" فَلَحِقَهُ عَمَّارٌ، فَقَالَ: سُقْ سُقْ، حَتَّى أَنَاخَ، فَقَالَ لِعَمَّارٍ: هَلْ تَعْرِفُ الْقَوْمَ؟ فَقَالَ: لَا، كَانُوا مُتَلَثِّمِينَ، وَقَدْ عَرَفْتُ عَامَّةَ الرَّوَاحِلِ. قَالَ: أَتَدْرِي مَا أَرَادُوا بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ: أَرَادُوا أَنْ يَنْفِرُوا بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَيَطْرَحُوهُ مِنَ الْعَقَبَةِ. فَلَمَّا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ نَزَعَ بَيْنَ عَمَّارٍ وَبَيْنَ رَجُلٍ مِنْهُمْ شَيْءٌ مَا، يَكُونُ بَيْنَ النَّاسِ، فَقَالَ: أَنْشُدُكَ بِاللَّهِ كَمْ أَصْحَابُ الْعَقَبَةِ الَّذِينَ أَرَادُوا أَنْ يَمْكُرُوا بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ قَالَ: نَرَى أَنَّهُمْ أَرْبَعَةَ عَشَرَ. قَالَ: فَإِنْ كُنْتُ فِيهِمْ فَكَانُوا خَمْسَةَ عَشَرَ، وَيَشْهَدُ عَمَّارٌ أَنَّ اثْنَيْ عَشَرَ حِزْبًا لِلَّهِ وَرَسُولِهِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُومُ الْأَشْهَادُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abū al-Ṭufayl رضي الله عنه said: The Messenger of Allah ﷺ set out for the Expedition of Tabūk. When he reached a mountain pass, he ordered his caller to proclaim: "Let no one take the mountain pass, for the Messenger of Allah ﷺ is traveling through it." While the Messenger of Allah ﷺ was traveling—with Ḥudhayfah leading his mount and ʿAmmār ibn Yāsir driving it—a group of masked men riding mounts approached until they swarmed around the Prophet ﷺ. ʿAmmār turned back and struck the faces of their mounts. The Prophet ﷺ said to Ḥudhayfah: > **"Lead on! Lead on!"** Then ʿAmmār caught up with him, and he ﷺ said: > **"Drive on! Drive on!"** He continued until he made his mount kneel down. He ﷺ asked ʿAmmār: > **"Did you recognize the people?"** ʿAmmār replied, "No, they were masked, but I recognized most of the mounts." He ﷺ asked: > **"Do you know what they intended against the Messenger of Allah ﷺ?"** I said, "Allah and His Messenger know best." He ﷺ said: > **"They intended to startle the mount of the Messenger of Allah ﷺ so as to throw him down from the mountain pass."** Later, a disagreement arose between ʿAmmār and one of those men, as happens among people. ʿAmmār said, "I adjure you by Allah, how many were the companions of the mountain pass who plotted against the Messenger of Allah ﷺ?" The man said, "We consider that they were fourteen." ʿAmmār said, "If you were among them, then they were fifteen; and ʿAmmār bears witness that twelve of them are a faction hostile to Allah and His Messenger in the life of this world and on the Day when the witnesses arise."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوطفیل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ غزوہ تبوک کے لیے روانہ ہوئے ‘ آپ ایک گھاٹی کے پاس پہنچے ‘ تو آپ نے اعلان کرنے والے شخص کو حکم دیا ‘ تو اُس نے یہ اعلان کیا : کوئی شخص گھاٹی کی طرف نہ جائے ‘ کیونکہ اللہ کے رسول وہاں جانے لگے ہیں ، نبی اکرم ﷺ سفر کر رہے تھے ‘ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ آپ کے جانور کے آگے چل رہے تھے ‘ اور حضرت عمار رضی اللہ عنہ اسے پیچھے سے ہانک رہے تھے ‘ اسی دوران کچھ لوگ سواریوں پر سوار ہو کر آئے ‘ انہوں نے دھاٹے باندھے ہوئے تھے ‘ نبی اکرم ﷺ کو گھیر لیا ، حضرت عمار رضی اللہ عنہ مڑے اور اُنہوں نے اُن لوگوں کی سواریوں کے منہ پر مارا ‘ نبی اکرم ﷺ نے حضرت حذیفہ سے کہا : تم ( جانور کو لے کر ) چلتے رہو ! چلتے رہو ! پھر حضرت عمار رضی اللہ عنہ آپ کے پاس پہنچے ‘ تو آپ ﷺ نے فرمایا : تم ( جانور کو ہانکتے رہو ! ہانکتے رہو ! یہاں تک کہ ( ذرا آگے جا کر ) نبی اکرم ﷺ نے سواری کو بٹھا لیا آپ ﷺ نے حضرت عمار رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا : کیا تم ان لوگوں کو پہچانتے ہو ؟ حضرت عمار رضی اللہ عنہ نے عرض کی : جی نہیں ! اُنہوں نے منہ پر کپڑا لپیٹا ہوا تھا ‘ البتہ میں اُن میں سے زیادہ تر کی سواریوں کو پہچان لوں گا ‘ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کیا تم جانتے ہو ؟ وہ لوگ اللہ کے رسول کے بارے میں کیا ارادہ رکھتے تھے ؟ میں نے عرض کی : اللہ اور اُس کا رسول بہتر جانتے ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اُن کا یہ ارادہ تھا کہ وہ اللہ کے رسول کو لے جائیں گے اور انہیں گھاٹی سے نیچے گرا دیں گے ۔ ( راوی بیان کرتے ہیں : ) بعد میں ‘ ایک مرتبہ حضرت عمار رضی اللہ عنہ اور اُن لوگوں میں سے ‘ ایک شخص کے درمیان تلخ کلامی ہو گئی ، جس طرح لوگوں کے درمیان ہو جاتی ہے ‘ تو حضرت عمار رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں تمہیں اللہ کا واسطہ دے کر یہ دریافت کرتا ہوں کہ گھنٹی والے افراد کتنے تھے ؟ جنہوں نے اللہ کے رسول کو دھوکہ دینے کا ارادہ کیا تھا ‘ تو اس شخص نے کہا : ہم یہ سمجھتے ہیں کہ وہ چودہ افراد تھے ‘ حضرت عمار رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اگر تم بھی اُن میں ہو ‘ تو وہ پندرہ ہوں گے ۔ حضرت عمار رضی اللہ عنہ نے اس بات کی گواہی دی کے 12 افراد دنیاوی زندگی میں ‘ اور قیامت کے دن ‘ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کا گروہ شمار ہوں گے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

426

Majma al-Zawaid #426

قَالَ الطَّبَرَانِيُّ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، حَدَّثْنَا الزُّبَيْرُ بْنُ بَكَّارٍ، قَالَ: تَسْمِيَةُ أَصْحَابِ الْعَقَبَةِ: مُعَتِّبُ بْنُ قُشَيْرِ بْنِ مُلَيْلٍ مِنْ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ شَهِدَ بَدْرًا، وَهُوَ الَّذِي قَالَ: يَعِدُنَا مُحَمَّدٌ كُنُوزَ كِسْرَى وَقَيْصَرَ وَأَحَدُنَا لَا يَأْمَنُ عَلَى خَلَائِهِ، وَهُوَ الَّذِي قَالَ: لَوْ كَانَ لَنَا مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ مَا قُتِلْنَا هَاهُنَا. قَالَ الزُّبَيْرُ: وَهُوَ الَّذِي شَهِدَ عَلَيْهِ الزُّبَيْرُ بِهَذَا الْكَلَامِ. وَوَدِيعَةُ بْنُ ثَابِتِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ، وَهُوَ الَّذِي قَالَ: إِنَّمَا كُنَّا نَخُوضُ وَنَلْعَبُ، وَهُوَ الَّذِي قَالَ: مَالِي أَرَى قُرَّاءَنَا هَؤُلَاءِ أَرْغَبُنَا بُطُونًا وَأَجْبَنُنَا عِنْدَ اللِّقَاءِ. وَجَدُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَبْتَلَ بْنِ الْحَارِثِ مِنْ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ، وَهُوَ الَّذِي قَالَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ: يَا مُحَمَّدُ، مَنْ هَذَا الْأَسْوَدُ كَثِيرُ شَعْرٍ، عَيْنَاهُ كَأَنَّهُمَا قِدْرَانِ مِنْ صُفْرٍ، يَنْظُرُ بِعَيْنَيْ شَيْطَانِ، وَكَبِدُهُ كَبِدُ حِمَارٍ، يُخْبِرُ الْمُنَافِقِينَ بِخَبَرِكَ، وَهُوَ الْمُخْبَرُ بِخَبَرِهِ؟. وَالْحَارِثُ بْنُ يَزِيدَ الطَّائِيِّ، حَلِيفٌ لِبَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ، وَهُوَ الَّذِي سَبَقَ إِلَى الْوَشَلِ - يَعْنِي الْبِئْرَ - الَّتِي نَهَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يَسْبِقَهُ أَحَدٌ، فَاسْتَقَى مِنْهُ. وَأَوْسُ بْنُ قِبْطِيٍّ، وَهُوَ مِنْ بَنِي حَارِثَةَ، وَهُوَ الَّذِي قَالَ: إِنَّ بُيُوتَنَا عَوْرَةٌ، وَهُوَ جَدُّ يَحْيَى بْنِ سَعِيدِ بْنِ قَيْسٍ. وَالْجُلَّاسُ بْنُ سُوَيْدِ بْنِ الصَّامِتِ، وَهُوَ مِنْ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ، وَبَلَغَنَا أَنَّهُ تَابَ بَعْدَ ذَلِكَ. وَسَعْدُ بْنُ زُرَارَةَ، مِنْ بَنِي مَالِكِ بْنِ النَّجَّارِ، وَهُوَ الْمُدَّخَنُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ أَصْغَرُهُمْ سِنًّا، وَأَخْبَثُهُمْ. وَسُوَيْدٌ وَرَاعِشٌ، وَهُمَا مِنْ بَلْحُبْلَى، وَهُمَا مِمَّنْ جَهَّزَ ابْنُ أُبَيٍّ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ لِخِذْلَانِ النَّاسِ. وَقَيْسُ بْنُ عَمْرِو بْنِ فَهْدٍ. وَزَيْدُ بْنُ اللُّصَيْبِ، وَكَانَ مِنْ يَهُودِ قَيْنُقَاعَ، فَأَظْهَرَ الْإِسْلَامَ وَفِيهِ غِشُّ الْيَهُودِ وَنِفَاقُ مَنْ نَافَقَ. وَسُلَالَةُ بْنُ الْحُمَامِ، مِنْ بَنِي قَيْنُقَاعَ، فَأَظْهَرَ الْإِسْلَامَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ مِنْ قَوْلِ الزُّبَيْرِ بْنِ بَكَّارٍ كَمَا تَرَى.

EnglishUnverified translation

Al-Zubayr ibn Bakkār said: The identification of the conspirators of the mountain pass: Muʿattib ibn Qushayr ibn Mulayl, from Banū ʿAmr ibn ʿAwf, who had witnessed Badr. He was the one who said, "Muḥammad promises us the treasures of Chosroes and Caesar while none of us feels safe even to go to relieve himself!" and he was the one who said, "If we had any say in the matter, we would not have been killed here." Al-Zubayr said: And he was the one against whom al-Zubayr testified concerning these words. And Wadīʿah ibn Thābit ibn ʿAmr ibn ʿAwf; he was the one who said, "We were only conversing and playing," and he was the one who said, "I have not seen the likes of our reciters—more gluttonous, more deceitful in speech, and more cowardly upon encountering the enemy." And Jadd ibn ʿAbdillāh ibn Nabtal ibn al-Ḥārith, from Banū ʿAmr ibn ʿAwf; he was the one concerning whom Gabriel عليه السلام said: "O Muḥammad, who is this dark-skinned man with abundant hair, whose eyes are like two brass cauldrons, who looks with the eyes of a devil and whose liver is the liver of a donkey, who conveys news of you to the hypocrites, and his own news has been made known?" And al-Ḥārith ibn Yazīd al-Ṭāʾī, an ally of Banū ʿAmr ibn ʿAwf; he was the one who preceded to the spring (al-Washal) which the Messenger of Allah ﷺ had forbidden anyone to precede him to, and he drew water from it. And Aws ibn Qibṭī, from Banū Ḥārithah; he was the one who said, "Indeed, our houses are exposed," and he was the grandfather of Yaḥyā ibn Saʿīd ibn Qays. And al-Julās ibn Suwayd ibn al-Ṣāmit, from Banū ʿAmr ibn ʿAwf; and it has reached us that he repented thereafter. And Saʿd ibn Zurārah, from Banū Mālik ibn al-Najjār; he was the one who raised smoke against the Messenger of Allah ﷺ, and he was the youngest of them in age and the most wicked of them. And Suwayd and Rāʿish, both from Balḥublā; they were among those equipped by Ibn Ubayy during the Expedition of Tabūk to cause people to desert. And Qays ibn ʿAmr ibn Fahd. And Zayd ibn al-Luṣayb; he was from the Jews of Banū Qaynuqāʿ who feigned Islam while retaining the deceit of the Jews and the hypocrisy of the hypocrites. And Sulālah ibn al-Ḥumām, from Banū Qaynuqāʿ, who also feigned Islam. > **[This is the enumeration of the conspirators of the mountain pass as related by al-Zubayr ibn Bakkār.]**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام طبرانی بیان کرتے ہیں : علی بن عبدالعزیز نے ہمیں یہ بات بیان کی ہے : زبیر بن بکار بیان کرتے ہیں :’’ گھاٹی والے افراد ( جنہوں نے نبی اکرم ﷺ کو شہید کرنے کا منصوبہ بنایا تھا ‘ ) ان کے نام یہ ہیں : معتب بن قشیر بن ملیل ‘ اس کا تعلق بنو عمرو بن عوف سے ہے ‘ اس نے غزوہ بدر میں شرکت کی تھی ‘ یہ وہ شخص ہے ‘ جس نے یہ کہا تھا : حضرت محمد ﷺ ہمارے ساتھ کسری اور قیصر کے خزانوں کا وعدہ کرتے ہیں جبکہ ہم میں سے کوئی ایک اپنے خلای کے حوالے سے بھی محفوظ نہیں ہے ۔ یہی وہ شخص ہے جس نے یہ کہا تھا : اگر ہمارے بس میں ہوتا ‘ تو ہم یہاں قتل نہ ہوتے ‘ زہیر بن بکار فرماتے ہیں : اس کلام کے حوالے سے ‘ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے اسی شخص کے خلاف گواہی دی تھی ۔ ودیعہ بن ثابت بن عمرو بن عوف ‘ یہ وہ شخص ہے ‘ جس نے یہ کہا تھا : پہلے ہم کھیل کود کیا کرتے تھے ‘ اور یہی وہ شخص ہے ‘ جس نے یہ کہا تھا : کیا وجہ ہے کہ میں یہ دیکھتا ہوں کہ ہمارے یہ قاری صاحبان ‘ پیٹ کی طرف سب سے زیادہ رغبت رکھتے ہیں اور دشمن کا سامنا کرنے کے وقت سب سے زیادہ بزدل ہوتے ہیں ۔ جد بن عبداللہ بن نبتل بن حارث ‘ اس کا تعلق بنو عمرو بن عوف سے ہے ‘ یہ وہ شخص ہے جس کے بارے میں حضرت جبرائیل علیہ السلام نے یہ کہا تھا : اے حضرت محمد ﷺ ! بہت سے بالوں والا یہ شخص کون ہے ؟ جس کی آنکھیں پیتل کی ہنڈیاؤں جیسی ہیں ‘ وہ شیطان کی آنکھوں کے ساتھ دیکھتا ہے اور اس کا جگر گدھے کا جگر ہے ‘ یہ منافقین کو آپ کی خبریں پہنچاتا ہے ۔ حارث بن یزید طائی ‘ یہ بنوعمرو بن عوف کا حلیف ہے ‘ یہ وہ شخص ہے ‘ جو اس کنویں کے پاس پہلے چلا گیا تھا ، جس کے بارے میں نبی اکرم ﷺ نے منع کیا تھا کہ کوئی آپ سے پہلے وہاں تک جائے ‘ اس نے وہاں سے پانی حاصل کیا تھا ۔ اوس بن قبطی ‘ اس کا تعلق بنو حارثہ سے ہے ‘ یہ وہی شخص ہے ‘ جس نے یہ کہا تھا : ہمارے گھر پردہ کی چیز ہیں ‘ یہ یحیی بن سعید بن قیس کا دادا ہے ۔ جلاس بن سوید بن صامت ‘ اس کا تعلق بنو عمرو بن عوف سے ہے ‘ ہم تک یہ روایت پہنچی ہے کہ اس نے بعد میں توبہ کر لی تھی ۔ سعد بن زرارہ ‘ اس کا تعلق بنو مالک بن نجار سے ہے ‘ یہ وہ شخص جس نے نبی اکرم کے خلاف دھواں پھیلایا تھا ‘ یہ اُن لوگوں میں ‘ عمر میں سب سے چھوٹا تھا اور سب سے زیادہ خبیث تھا ۔ سوید اور راعش ‘ ان دونوں کا تعلق بلحبلی سے تھا ‘ یہ دونوں ان افراد میں سے ہیں ، جنہیں عبداللہ بن اُبی نے غزوہ تبوک کے موقع پر سامان فراہم کیا تھا ‘ تاکہ یہ لوگوں کو سوا کریں ۔ قیس بن عمرو بن فہد زید بن لصیب ‘ اس کا تعلق قینقاع کے یہودیوں سے تھا ‘ اور اس نے خود کو مسلمان ظاہر کیا تھا ‘ اس میں یہودیوں کا کھوٹ تھا اور منافقین کا نفاق تھا ۔ سلالہ بن حمام ‘ اس کا تعلق بنو قینقاع سے تھا ‘ اس نے خود کو مسلمان ظاہر کیا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں ‘ زبیر بن بکار کے قول کے طور پر نقل کی ہے ‘ جیسا کہ آپ ملاحظہ فرما رہے ہیں ۔

427

Majma al-Zawaid #427

وَعَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ قَالَ: «لَمَّا كَانَ غَزْوَةُ تَبُوكَ نَادَى مُنَادِي النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" إِنَّ الْمَاءَ قَلِيلٌ فَلَا يَسْبِقْنِي إِلَيْهِ أَحَدٌ ""، فَأَتَى الْمَاءَ وَقَدْ سَبَقَهُ أَقْوَامٌ، فَلَعَنَهُمْ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ السَّكَنِ عَنْ بَكْرِ بْنِ بَكَّارٍ، وَلَمْ أَرَ مَنْ تَرْجَمَهُمَا.

EnglishUnverified translation

Abū al-Ṭufayl رضي الله عنه said: During the Expedition of Tabūk, the caller of the Prophet ﷺ announced: > **"Indeed, the water is scarce, so let no one precede me to it."** Yet when he arrived at the water, some people had already preceded him to it, so he cursed them.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوطفیل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ تبوک کے موقع پر ‘ نبی اکرم ﷺ کے منادی نے یہ اعلان کیا : پانی تھوڑا ہے ‘ تو کوئی بھی شخص مجھ سے ( یعنی نبی اکرم ﷺ سے ) پہلے اُس ( چشمے ) تک نہ جائے ‘ جب نبی اکرم ﷺ اُس چشمے کے پاس تشریف لائے ‘ تو کچھ لوگ آپ ﷺ سے پہلے اُس تک پہنچ چکے تھے ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے ان لوگوں پر لعنت کی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں یہ مذکور ہے : اس کو یحیی بن محمد بن سکن نے بکر بن بکار سے روایت کیا ہے ‘ میں نے ان دونوں کے حالات ( کسی کتاب میں ) نہیں دیکھے ہیں ۔

428

Majma al-Zawaid #428

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ قَالَ: «دَخَلْتُ عَلَى أَبِي الطُّفَيْلِ فَوَجَدْتُهُ طَيِّبَ النَّفْسِ، فَقُلْتُ: لَأَغْتَنِمَنَّ ذَلِكَ مِنْهُ فَقُلْتُ: يَا أَبَا الطُّفَيْلِ، النَّفَرُ الَّذِينَ لَعَنَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَنْ هُمْ؟ سَمِّهِمْ مَنْ هُمْ؟ قَالَ: فَهَمَّ أَنْ يُخْبِرَنِي بِهِمْ، فَقَالَتْ لَهُ امْرَأَتُهُ سَوْدَةُ: مَهْ يَا أَبَا الطُّفَيْلِ، أَمَا بَلَغَكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" اللَّهُمَّ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ، فَأَيُّمَا عَبْدٍ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ دَعَوْتُ عَلَيْهِ بِدَعْوَةٍ فَاجْعَلْهَا لَهُ زَكَاةً وَرَحْمَةً» ""؟. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿUthmān ibn Khuthaym said: I visited Abū al-Ṭufayl رضي الله عنه and found him in pleasant spirits. I said to myself, "I must seize this opportunity from him." So I asked, "O Abū al-Ṭufayl, who were those men whom the Messenger of Allah ﷺ cursed? Name them for me." He was about to inform me of them, when his wife Sawdah said to him, "Restrain yourself, O Abū al-Ṭufayl! Has it not reached you that the Messenger of Allah ﷺ said: > **'O Allah, I am only a human being; so whichever servant from among the believers I invoke against, make it for him a source of purification and mercy'?"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبداللہ بن عثمان بن خثیم بیان کرتے ہیں : میں حضرت ابوطفیل رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا ‘ تو میں نے اُن کا مزاج خوشگوار پایا ‘ میں نے سوچا میں اس موقع کو غنیمت سمجھوں گا ‘ میں نے کہا : اے حضرت ابوطفیل ! وہ افراد کون تھے ؟ جن پر نبی اکرم ﷺ نے لعنت کی تھی ، آپ اُن کے نام بیان کیجیے کہ وہ کون تھے ؟ راوی بیان کرتے ہیں : اُنہوں نے مجھے اُن کے نام بیان کرنے کا ارادہ کیا ‘ تو اُن کی اہلیہ سیدہ سودہ نے اُن سے کہا : اے ابوطفیل ! آپ رُک جائیے ! کیا آپ تک یہ روایت نہیں پہنچی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ اے اللہ ! میں ایک بشر ہوں ‘ اہل ایمان میں سے ‘ جس بھی شخص کے خلاف میں دعا کر دوں ( اور وہ اس کا مستحق نہ ہو ) تو تو اُس دعائے ضرر کو اُس شخص کے حق میں ‘ پاکیزگی اور رحمت کا باعث بنا دینا ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

429

Majma al-Zawaid #429

وَعَنْ أَبِي مَسْعُودٍ قَالَ: «خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خُطْبَةً فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: "" إِنَّ مِنْكُمْ مُنَافِقِينَ، فَمَنْ سَمَّيْتُ فَلْيَقُمْ "" ثُمَّ قَالَ: "" قُمْ يَا فُلَانُ، قُمْ يَا فُلَانُ، قُمْ يَا فُلَانُ "" حَتَّى سَمَّى سِتَّةً وَثَلَاثِينَ رَجُلًا ثُمَّ قَالَ: "" إِنَّ فِيكُمْ أَوْ مِنْكُمْ، فَاتَّقُوا اللَّهَ "" قَالَ فَمَرَّ عُمَرُ عَلَى رَجُلٍ مِمَّنْ سَمَّى مُقَنَّعٍ، قَدْ كَانَ يَعْرِفُهُ، قَالَ: مَالَكَ؟ قَالَ: فَحَدَّثَهُ بِمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: بُعْدًا لَكَ سَائِرَ الْيَوْمِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ عِيَاضُ بْنُ عِيَاضٍ عَنْ أَبِيهِ، وَلَمْ أَرَ مَنْ تَرْجَمَهُمَا.

EnglishUnverified translation

Abū Masʿūd رضي الله عنه said: The Messenger of Allah ﷺ delivered a sermon to us. He praised and glorified Allah, and then said: > **"Indeed, among you are hypocrites; so whomever I name, let him stand up."** Then he said: > **"Stand up, O so-and-so! Stand up, O so-and-so! Stand up, O so-and-so!"** He continued until he had named thirty-six men. Then he said: > **"Indeed, they are among you—or from you; so fear Allah."** ʿUmar later passed by one of those men who had been named, who was covering his head and face, and whom ʿUmar recognized. ʿUmar asked, "What is the matter with you?" The man told him what the Messenger of Allah ﷺ had said. ʿUmar said, "May ruin befall you for the rest of your days!"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابومسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ہمیں خطبہ دیا ‘ آپ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کرنے کے بعد ارشاد فرمایا : تم لوگوں میں کچھ منافقین موجود ہیں ، جس بھی شخص کا میں نام لوں ‘ وہ اُٹھ جائے ( اور اُٹھ کر چلا جائے ) پھر آپ نے ارشاد فرمایا : اے فلاں ! تم کھڑے ہو جاؤ ! اے فلاں ! تم کھڑے ہو جاؤ ! اے فلاں ! تم کھڑے ہو جاؤ ! یہاں تک کہ نبی اکرم ﷺ نے 36 افراد کے نام لیے ‘ پھر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : بے شک تم میں ( راوی کو شک ہے ‘ یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) تم میں سے ( یعنی تم میں یہ لوگ منافق تھے ) راوی بیان کرتے ہیں : حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا گزر ایک ایسے شخص کے پاس سے ہوا ‘ جس کا نام نبی اکرم ﷺ نے لیا تھا اُس نے سر جھکایا ہوا تھا ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ اس کے واقف تھے ‘ اُنہوں نے دریافت کیا : تمہیں کیا ہوا ہے ؟ تو اُس نے انہیں نبی اکرم ﷺ کے ارشاد کے بارے میں بتایا ‘ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم ہمیشہ کے لیے دور ہو جاؤ ( یا تم ہمیشہ کے لیے برباد ہو گئے ) ۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عیاض بن عیاض ہے ، جس نے اسے اپنے والد سے نقل کیا ہے ( ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں نے کسی ( محدث ) کو ان دونوں کے حالات ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ۔

430

Majma al-Zawaid #430

وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «مِنْ أَصْحَابِي مَنْ لَا أَرَاهُ وَلَا يَرَانِي بَعْدَ أَنْ أَمُوتَ أَبَدًا "" قَالَ: فَبَلَغَ ذَلِكَ عُمَرَ فَأَتَاهُمَا يَشْتَدُّ - أَوْ يُسْرِعُ - فَقَالَ لَهَا: أَنْشُدُكِ اللَّهَ أَنَا مِنْهُمْ؟ قَالَتْ: لَا، وَلَا أُبَرِّئُ بَعْدَكَ أَحَدًا أَبَدًا». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِي رِوَايَةٍ أُخْرَى لِأَبِي يَعْلَى وَأَحْمَدَ عَنْهَا: «دَخَلَ عَلَيْهَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ، قَالَ: فَقَالَ: يَا أُمَّهْ، قَدْ خِفْتُ أَنْ يُهْلِكَنِي كَثْرَةُ مَالِي، أَنَا أَكْثَرُ قُرَيْشٍ مَالًا، قَالَتْ: يَا بُنَيَّ، أَنْفِقْ ; فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" إِنَّ مِنْ أَصْحَابِي مَنْ لَا يَرَانِي بَعْدَ أَنْ أُفَارِقَهُ» "" - فَذَكَرَ نَحْوَهُ وَفِيهِ عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ، وَهُوَ ثِقَةٌ يُخْطِئُ.

EnglishUnverified translation

Umm Salamah رضي الله عنها said: The Prophet ﷺ said: > **"Among those associated with me are some whom I shall never see and who shall never see me after I die."** When this reached ʿUmar, he came rushing to her and said, "I implore you by Allah, am I among them?" She replied, "No, and I will not absolve anyone after you." In another narration: ʿAbd al-Raḥmān ibn ʿAwf entered upon her and said, "O Mother, I fear that my abundant wealth will ruin me, for I am the wealthiest of Quraysh." She said, "O my son, spend in charity! For I heard the Messenger of Allah ﷺ say: > **'Indeed, among those associated with me are some who will never see me after I depart from them.'"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ میرے ساتھ والوں میں ‘ ایسا فرد بھی ہے کہ میرے مرنے کے بعد ‘ اُسے میں کبھی نہیں دیکھوں گا اور وہ مجھے کبھی نہیں دیکھے گا ‘‘۔ راوی بیان کرتے ہیں : جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اس بات کی اطلاع ملی ‘ تو وہ جلدی سے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان سے کہا : میں آپ کو اللہ کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں ‘ کیا میں ان لوگوں میں سے ایک ہوں ؟ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا : جی نہیں ! البتہ آپ کے بعد میں کسی اور کو لاتعلق قرار نہیں دوں گی ۔ یہ روایت امام احمد ‘ امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ امام ابویعلیٰ اور امام احمد کی ایک اور روایت ‘ جو اُنہوں نے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے نقل کی ہے ( اس میں یہ الفاظ ہیں : ) حضرت عبدالرحمان بن عوف رضی اللہ عنہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے اور بولے : اے امی جان ! مجھے یہ اندیشہ ہے کہ میرے مال کی کثرت مجھے ہلاکت کا شکار کر دے گی ‘ کیونکہ میرے پاس قریش میں سب سے زیادہ مال ہے ‘ تو سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : اے میرے بیٹے ! تم ( اللہ کی راہ میں ) خرچ کرو ! کیونکہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” میرے ساتھیوں میں ایک ایسا فرد بھی ہے کہ جب میں اُس سے جدا ہو جاؤں گا ‘ تو اُس کے بعد وہ مجھے کبھی نہیں دیکھے گا ‘‘ اُس کے بعد راوی نے ‘ حسب سابق حدیث ذکر کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عاصم بن بہدلہ ہے ‘ یہ ثقہ ہے ‘ لیکن غلطی کر جاتا ہے ۔

431

Majma al-Zawaid #431

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: «كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَدْ ذَهَبَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ يَلْبَسُ ثِيَابَهُ لِيَلْحَقَنِي، فَقَالَ - وَنَحْنُ عِنْدَهُ -: "" لَيَدْخُلَنَّ عَلَيْكُمْ رَجُلٌ لَعِينٌ ""، فَوَاللَّهِ مَازِلْتُ وَجِلًا أَتَشَوَّفُ خَارِجًا وَدَاخِلًا حَتَّى دَخَلَ فُلَانٌ - يَعْنِي الْحَكَمَ» -. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿAmr رضي الله عنهما said: We were sitting in the company of the Prophet ﷺ while ʿAmr ibn al-ʿĀṣ had gone to put on his garments to join me. While we were with the Prophet ﷺ, he said: > **"There shall surely enter upon you an accursed man."** By Allah, I remained anxious, watching outside and inside, until that man entered—meaning al-Ḥakam.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ‘ حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ لباس تبدیل کرنے کے لیے چلے گئے ‘ اُن کا مجھ سے آ کے ملنے کا ارادہ تھا ، ہم نبی اکرم ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ‘ آپ نے ارشاد فرمایا : ابھی تمہارے سامنے ایک ملعون شخص آئے گا ‘ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : اللہ کی قسم ! میں مسلسل پریشانی کا شکار رہا اور آنے جانے والے کا منتظر رہا ‘ یہاں تک کہ وہ شخص اندر آیا ( راوی بیان کرتے ہیں : ) ان کی مراد حکم تھا ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

432

Majma al-Zawaid #432

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «لَيَطَّلِعَنَّ عَلَيْكُمْ رَجُلٌ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى غَيْرِ سُنَّتِي - أَوْ عَلَى غَيْرِ مِلَّتِي - "" وَكُنْتُ تَرَكْتُ أَبِي فِي الْمَنْزِلِ، فَخِفْتُ أَنْ يَكُونَ هُوَ، فَاطَّلَعَ رَجُلٌ غَيْرُهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" هُوَ هَذَا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ، إِلَّا أَنَّ فِيهِ رَجُلًا لَمْ يُسَمَّ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿAmr رضي الله عنهما said: The Messenger of Allah ﷺ said: > **"There will soon appear before you a man who will be resurrected on the Day of Resurrection upon other than my Sunnah—or upon other than my religion."** I had left my father at home, so I feared that it might be him. But someone else appeared, whereupon the Messenger of Allah ﷺ said: > **"It is this one."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اُن کے حوالے سے یہ بات منقول ہے : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ ابھی تمہارے سامنے ایک ایسا شخص آئے گا ‘ جسے قیامت کے دن ‘ میری سنت ( راوی کو شک ہے ‘ یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) میرے مذہب کے علاوہ پر زندہ کیا جائے گا ‘‘۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں اپنے والد کو گھر چھو کر آیا تھا ‘ مجھے یہ اندیشہ ہوا کہ کہیں وہ مراد نہ ہوں ‘ لیکن پھر ان کی بجائے کوئی اور شخص آ گیا ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : وہ ‘ یہ ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ‘ البتہ اس کی سند میں ایک راوی کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔

433

Majma al-Zawaid #433

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «يَطْلُعُ عَلَيْكُمْ رَجُلٌ مِنْ هَذَا الْفَجِّ مِنْ أَهْلِ النَّارِ "" وَكُنْتُ تَرَكْتُ أَبِي يَتَوَضَّأُ، فَخَشِيتُ أَنْ يَكُونَ هُوَ، فَاطَّلَعَ غَيْرُهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" هُوَ هَذَا» "". وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿAmr رضي الله عنهما said: The Messenger of Allah ﷺ said: > **"There will appear before you from this mountain pass a man from the inhabitants of the Fire."** I had left my father performing ablution, so I feared that it might be him. But someone else appeared, whereupon the Messenger of Allah ﷺ said: > **"It is this one."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اُن کے حوالے سے یہ بات منقول ہے : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اس راستے سے ایک جہنمی شخص تم لوگوں کے سامنے آئے گا ‘ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں اپنے والد کو گھر وضو کرتا ہوا چھوڑ کر آیا تھا ‘ مجھے یہ اندیشہ ہوا کہ کہیں وہ نہ آ جائیں ، لیکن پھر کوئی اور شخص سامنے آ گیا ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : وہ ‘ یہ ہے ‘‘۔ اس روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

434

Majma al-Zawaid #434

وَعَنِ ابْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «أَوَّلُ مَنْ يَطْلُعُ مِنْ هَذَا الْبَابِ مِنْ أَهْلِ النَّارِ "" فَطَلَعَ فُلَانٌ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn al-Zubayr رضي الله عنهما said: The Messenger of Allah ﷺ said: > **"The first person to enter through this door is from the people of the Fire."** Then so-and-so entered.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اس دروازے سے آنے والا پہلا شخص جہنمی ہو گا “ راوی بیان کرتے ہیں : تو فلاں شخص سامنے آیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

435

Majma al-Zawaid #435

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: يَقُولُ أَحَدُهُمْ: أَبِي صَحِبَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَكَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَلَنَعْلٌ خَلِقٌ خَيْرٌ مِنْ أَبِيهِ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿAbbās رضي الله عنهما said: > **"One of them says: 'My father accompanied the Messenger of Allah ﷺ, and was with the Messenger of Allah ﷺ'—whereas a worn-out sandal is better than his father!"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : اب کوئی شخص اُٹھ کر یہ کہہ دیتا ہے : میرے والد اللہ کے رسول کے ساتھ رہے ہیں ‘ یا وہ اللہ کے رسول کے ساتھ تھے ‘ حالانکہ ایک پرانا جوتا بھی اس کے باپ سے زیادہ بہتر ہو گا ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

436

Majma al-Zawaid #436

وَعَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ أَنَّهُ قَالَ لِأَبِي الْأَعْوَرِ السُّلَمِيِّ: «وَيْحَكَ، أَلَمْ يَلْعَنْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رِعْلًا وَذَكْوَانَ وَعَمْرَو بْنَ سُفْيَانَ»؟. رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَوْفٍ، وَهُوَ ثِقَةٌ. وَذَكَرَ سَنَدًا آخَرَ إِلَى الْحَسَنِ، قَالَ: دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَيْنَا بَيْتَ فَاطِمَةَ، قَالَ: وَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَكَتَبْنَاهُ فِي أَحَادِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ فِي الْإِمْلَاءِ.

EnglishUnverified translation

Al-Ḥasan ibn ʿAlī رضي الله عنهما said to Abū al-Aʿwar al-Sulamī: > **"Woe to you! Did not the Messenger of Allah ﷺ invoke curses upon [the tribes of] Riʿl, Dhakwān, and ʿAmr ibn Sufyān?"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ بات منقول ہے : اُنہوں نے ابواعور سلمی سے یہ کہا : تمہارا ستیاناس ہو ! کیا اللہ کے رسول نے رعل اور ذکوان ( قبیلوں ) اور عمرو بن سفیان پر لعنت نہیں کی ہے ؟ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ‘ اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف عبدالرحمن بن ابوعوف نامی راوی کا معاملہ مختلف ہے ( یعنی وہ صحیح کے رجال میں سے تو نہیں ہے ‘ لیکن ) ویسے وہ ثقہ ہے ۔ انہوں نے ایک اور سند کے ساتھ ‘ حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے : وہ فرماتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ ہمارے ہاں یعنی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر تشریف لائے ...... اُس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ‘ ہم نے اسے ابن زبیر کی نقل کردہ ان احادیث میں نوٹ کیا ہے جو املاء کے طور پر نقل کی گئی ہیں ۔

437

Majma al-Zawaid #437

وَعَنْ سَفِينَةَ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ جَالِسًا، فَمَرَّ رَجُلٌ عَلَى بَعِيرٍ وَبَيْنَ يَدَيْهِ قَائِدٌ وَخَلْفَهُ سَائِقٌ، فَقَالَ: "" لَعَنَ اللَّهُ الْقَائِدَ وَالسَّائِقَ وَالرَّاكِبَ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Safīnah رضي الله عنه reported: The Prophet ﷺ was sitting when a man passed by on a camel, with a leader in front of him and a driver behind him. He ﷺ said: > **"May Allah curse the leader, the driver, and the rider."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سفینہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ بیٹھے ہوئے تھے ‘ ایک شخص اونٹ پر سوار گزرا ‘ جس کے آگے ایک شخص جانور کو چلا رہا تھا اور ایک شخص پیچھے سے اسے ہانک رہا تھا ‘ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ اس آگے سے چلانے والے ‘ پیچھے سے ہانکنے والے ‘ اور سوار شخص ( یعنی ان تینوں افراد پر ) لعنت کرے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

438

Majma al-Zawaid #438

وَعَنِ الْمُهَاجِرِ بْنِ قُنْفُذٍ، قَالَ: «رَأَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثَلَاثَةً عَلَى بَعِيرٍ، فَقَالَ: "" الثَّالِثُ مَلْعُونٌ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Muhājir ibn Qunfudh رضي الله عنه said: The Messenger of Allah ﷺ saw three people riding upon a single camel, whereupon he said: > **"The third is accursed."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت مہاجر بن قنفذ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے تین افراد کو ایک اونٹ پر سوار دیکھا ‘ تو آپ نے ارشاد فرمایا : تیسرا فرد ‘ ملعون ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

439

Majma al-Zawaid #439

وَعَنْ سَعْدِ بْنِ حُذَيْفَةَ قَالَ: قَالَ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ يَوْمَ صِفِّينَ، وَذَكَرَ أَمْرَهُمْ وَأَمْرَ الصُّلْحِ، فَقَالَ: وَاللَّهِ مَا أَسْلَمُوا، وَلَكِنِ اسْتَسْلَمُوا وَأَسَرُّوا الْكُفْرَ، فَلَمَّا رَأَوْا عَلَيْهِ أَعْوَانًا أَظْهَرُوهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَسَعْدُ بْنُ حُذَيْفَةَ لَمْ أَرَ مَنْ تَرْجَمَهُ.

EnglishUnverified translation

Saʿd ibn Ḥudhayfah reported: ʿAmmār ibn Yāsir رضي الله عنه said on the day of Ṣiffīn, mentioning their affair and the matter of reconciliation: > **"By Allah, they did not truly embrace Islam; rather, they merely surrendered and concealed disbelief. When they found supporters for it, they manifested it openly."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سعد بن حذیفہ بیان کرتے ہیں : جنگ صفین کے موقع پر ‘ حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : انہوں نے ان لوگوں کا معاملہ اور صلح کا معاملہ ذکر کرتے ہوئے ‘ یہ بات ارشاد فرمائی : اللہ کی قسم ! یہ لوگ مسلمان نہیں ہوئے ‘ انہوں نے اسلام ظاہر کیا اور کفر کو پوشیدہ رکھا ‘ جب اُنہیں اس حوالے سے مدد گار مل گئے ‘ تو اُنہوں نے اسے ظاہر کر دیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ میں نے کسی کو سعد بن حذیفہ نامی راوی کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ۔

440

Majma al-Zawaid #440

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: يُؤَذِّنُ الْمُؤَذِّنُ، وَيُقِيمُ الصَّلَاةَ قَوْمٌ، وَمَا هُمْ بِمُؤْمِنِينَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿAmr رضي الله عنهما said: > **"The caller will proclaim the call to prayer, and a people will establish the prayer, yet they are not believers."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : مؤذن ‘ اذان دیتا ہے ‘ اور پھر کچھ ایسے لوگ بھی نماز پڑھتے ہیں ‘ جو ( درحقیقت ) مؤمن نہیں ہوتے ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کی سند میں ایک ایسا شخص ہے ‘ جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ۔