Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 1 · Chapter 12

Book of Faith

Hadith 441–471

31 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

441

Majma al-Zawaid #441

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عُمَرَ فَقَالَ: يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ، أَتَخْشَى أَنْ يَتْرُكَ النَّاسُ الْإِسْلَامَ وَيَخْرُجُونَ مِنْهُ؟ قُلْتُ: لَا - إِنْ شَاءَ اللَّهُ - وَكَيْفَ يَتْرُكُونَهُ وَفِيهِمْ كِتَابُ اللَّهِ وَسُنَنُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ فَقَالَ: لَئِنْ كَانَ مِنْ ذَلِكَ شَيْءٌ لَيَكُونَنَّ بَنُو فُلَانٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd al-Raḥmān ibn ʿAwf رضي الله عنه said: I entered upon ʿUmar رضي الله عنه, and he said, "O ʿAbd al-Raḥmān ibn ʿAwf, do you fear that the people will abandon Islam and exit from it?" I said, "No, if Allah wills. How could they abandon it when among them is the Book of Allah and the Sunnahs of the Messenger of Allah ﷺ?" ʿUmar said: > **"If anything of that sort were ever to occur, it would surely be on account of Banū so-and-so."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبدالرحمان بن عوف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا ‘ تو انہوں نے فرمایا : اے عبدالرحمن بن عوف ! کیا تمہیں یہ اندیشہ ہے کہ لوگ اسلام کو ترک کر دیں گے اور اُس میں سے نکل جائیں گے ؟ میں نے جواب دیا : جی نہیں ! اگر اللہ نے چاہا ( تو ایسا نہیں ہو گا ) لوگ اسے کیسے چھوڑ سکتے ہیں ؟ جبکہ ان کے درمیان ‘ اللہ کی کتاب اور اللہ کے رسول کی سنتیں موجود ہیں ، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اگر ایسا ہی ہونا ہوتا ‘ تو بنوفلاں نے ہونا تھا ( یعنی انہوں نے کتاب و سنت کی موجودگی میں مسلمان رہنا تھا ) ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

442

Majma al-Zawaid #442

عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «كُلُّ نَفْسٍ تُحْشَرُ عَلَى هَوَاهَا، فَمَنْ هَوِيَ الْكُفْرَ فَهُوَ مَعَ الْكَفَرَةِ وَلَا يَنْفَعُهُ عَمَلُهُ شَيْئًا» "". قُلْتُ: لَهُ فِي الصَّحِيحِ: "" «يُبْعَثُ كُلُّ عَبْدٍ عَلَى مَا مَاتَ عَلَيْهِ» "" فَقَطْ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Jābir رضي الله عنه said: The Messenger of Allah ﷺ said: > **"Every soul shall be resurrected according to its inward desire; whoever desires disbelief will be gathered with the disbelievers, and his deeds will not benefit him in the least."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے فرمایا ہے : ’’ ( قیامت کے دن ) ہر شخص کو اُس کی خواہش کے مطابق اُٹھایا جائے گا ، جس شخص کی خواہش کفر ہو گی ‘ وہ کافروں کے ساتھ ہو گا ‘ اور اُس نے ( دنیا میں ظاہری طور پر ‘ مسلمانوں کی طرح کا ) جو عمل کیا ہو گا ‘ وہ اُسے کوئی فائدہ نہیں دے گا ‘‘۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : حضرت جابر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ’’ صحیح ‘‘ میں صرف یہ الفاظ منقول ہیں : ’’ ہر شخص کو اُس ( عقیدے ) کے مطابق زندہ کیا جائے گا ، جس ( عقیدہ ) پر وہ مرا تھا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

443

Majma al-Zawaid #443

وَعَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ: "" «مَنْ مَاتَ عَلَى مَرْتَبَةٍ مِنْ هَذِهِ الْمَرَاتِبِ يُبْعَثُ عَلَيْهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ فِي أَحَدِ السَّنَدَيْنِ.

EnglishUnverified translation

Faḍālah ibn ʿUbayd رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Whoever dies upon one of these states shall be resurrected upon it on the Day of Resurrection."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جو شخص ‘ ان مراتب میں سے ‘ جس بھی مرتبے پر مرے ‘ گا قیامت کے دن اُسے اُسی پر زندہ کیا جائے گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی دو اسناد میں سے ایک سند کے راوی ثقہ ہیں ۔

444

Majma al-Zawaid #444

قَالَ رَجُلٌ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ: إِنِّي أَخَافُ أَنْ أَكُونَ مُنَافِقًا، قَالَ: لَوْ كُنْتَ مُنَافِقًا مَا خِفْتَ ذَلِكَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَهُوَ مُنْقَطِعٌ.

EnglishUnverified translation

A man said to ʿAbdullāh ibn Masʿūd رضي الله عنه: "Indeed, I fear that I am a hypocrite." ʿAbdullāh ibn Masʿūd رضي الله عنه said: > **"If you were truly a hypocrite, you would never have feared that."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک شخص نے ‘ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے کہا : مجھے یہ اندیشہ ہے کہ میں منافق ہو جاؤں گا ‘ تو حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اگر تم منافق ہوتے ‘ تو تمہیں اس بات کا اندیشہ نہ ہوتا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور یہ ’’ منقطع ‘‘ ہے ۔

445

Majma al-Zawaid #445

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «قَالَ إِبْلِيسُ لِرَبِّهِ: يَا رَبِّ، أَهْبَطْتَ آدَمَ، وَقَدْ عَلِمْتُ أَنَّهُ سَيَكُونُ كِتَابٌ وَرُسُلٌ، فَمَا كِتَابُهُمْ وَرُسُلُهُمْ؟ قَالَ: رُسُلُهُمُ الْمَلَائِكَةُ، وَالنَّبِيُّونَ مِنْهُمْ، وَكُتُبُهُمُ التَّوْرَاةُ وَالْإِنْجِيلُ وَالزَّبُورُ وَالْفُرْقَانُ. قَالَ: فَمَا كِتَابِي؟ قَالَ: كِتَابُكَ الْوَشْمُ، وَقُرْآنُكَ الشِّعْرُ، وَرُسُلُكَ الْكَهَنَةُ، وَطَعَامُكَ مَالَا يُذْكَرُ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ، وَشَرَابُكَ كُلُّ مُسْكِرٍ، وَصِدْقُكَ الْكَذِبُ، وَبَيْتُكَ الْحَمَّامُ، وَمَصَايِدُكَ النِّسَاءُ، وَمُؤَذِّنُكَ الْمِزْمَارُ، وَمَسْجِدُكَ الْأَسْوَاقُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ الْأَيْلِيُّ، ضَعَّفَهُ الْعُقَيْلِيُّ. قُلْتُ: وَيَأْتِي حَدِيثُ أَبِي أُمَامَةَ فِي أَوَآخِرِ الْأَدَبِ فِي الشِّعْرِ مِثْلُ هَذَا، أَوْ أَتَمُّ - إِنْ شَاءَ اللَّهُ -.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿAbbās رضي الله عنهما said: The Messenger of Allah ﷺ said: > **"Iblīs said to his Lord: 'O Lord, You have sent down Adam to the earth, and I know that there will be scriptures and messengers; so what are their scriptures and messengers?'** > > **Allah said: 'Their messengers are the angels, and the prophets from among them; and their scriptures are the Torah, the Gospel, the Psalms, and the Furqān (the Qur'an).'** > > **Iblīs asked: 'Then what is my book?'** > > **Allah said: 'Your book is tattooing, your recitation is vain poetry, your messengers are the soothsayers, your food is whatever is not mentioned with the name of Allah, your drink is every intoxicant, your truthfulness is falsehood, your house is the bathhouse, your hunting snares are women, your caller to prayer is musical pipes, and your places of assembly are the marketplaces.'"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں :: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ ابلیس نے اپنے پروردگار کی بارگاہ میں عرض کی : اے میرے پروردگار ! تو حضرت آدم علیہ السلام کو ( زمین کی طرف اتار رہا ہے ) مجھے پتا ہے ‘ عنقریب کتابیں اور رسول آئیں گے ‘ اُن ( یعنی اولاد آدم ) کی کتابیں اور رسول کیا ہوں گے ؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اُن کے رسول فرشتے ہوں گے ‘ اُن رسولوں میں انبیاء بھی ہوں گے ‘ اُن لوگوں کی کتابیں ، تورات ‘ انجیل ‘ زبور اور فرقان ( یعنی قرآن مجید ) ہوں گی ‘ ابلیس نے دریافت کیا : میری کتاب کون سی ہو گی ؟ پروردگار نے فرمایا : تمہاری کتاب گودنا ہو گی ، تمہارا قرآن ‘ اشعار ہوں گے ‘ تمہارے رسول ‘ کاہن ہوں گے ‘ اور تمہارا کھانا ‘ ہر وہ چیز ہو گی ، جس پر اللہ کا نام ذکر نہ کیا گیا ہو ‘ اور تمہارا مشروب ‘ ہر نشہ آور چیز ہو گی ، تمہاری سچائی ، جھوٹ ہو گی ‘ تمہارا گھر ‘ حمام ہو گا تمہارے ہتھیار ‘ عورتیں ہوں گی ، تمہاری آوازیں بلند کرنے والے ‘ آلات موسیقی ہوں گے اور تمہاری مسجد ‘ بازار ہوں گے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن صالح ایلی ہے ‘ جیسے عقیلی نے ضعیف قرار دیا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث کتاب ’’ الادب “ کے آخر میں ‘ شعر سے متعلق باب میں آئے گی ‘ جو اس کی مانند ‘ یا اس سے زیادہ مکمل ہو گی ‘ ان شاء اللہ ۔

446

Majma al-Zawaid #446

وَعَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «إِذَا أَصْبَحَ إِبْلِيسُ بَعَثَ جُنُودَهُ فَيَقُولُ: مَنْ أَضَلَّ الْيَوْمَ مُسْلِمًا أَلْبَسْتُهُ التَّاجَ، فَيَجِيئُونَ فَيَقُولُ أَحَدُهُمْ: لَمْ أَزَلْ بِهِ حَتَّى طَلَّقَ امْرَأَتَهُ، فَيَقُولُ: يُوشِكُ أَنْ يَتَزَوَّجَ. وَيَجِيءُ هَذَا فَيَقُولُ: لَمْ أَزَلْ بِهِ حَتَّى عَقَّ وَالِدَيْهِ، فَيَقُولُ: يُوشِكُ أَنْ يَبِرَّ. وَيَجِيءُ هَذَا فَيَقُولُ: لَمْ أَزَلْ بِهِ حَتَّى أَشْرَكَ، فَيَقُولُ: أَنْتَ أَنْتَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، اخْتَلَطَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Mūsā al-Ashʿarī رضي الله عنه reported that the Prophet ﷺ said: > **"When morning arrives, Iblīs dispatches his troops and proclaims: 'Whoever misguides a Muslim today, I will place a crown upon his head.'** > > **They return to him, and one of them says, 'I did not cease whispering to him until he divorced his wife.' Iblīs says, 'He will soon marry again.'** > > **Another comes and says, 'I did not cease whispering to him until he was undutiful to his parents.' Iblīs says, 'He will soon treat them with kindness.'** > > **Then another comes and says, 'I did not cease whispering to him until he committed polytheism (shirk)!' Iblīs says: 'You are the one! You are the one!' and crowns him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جب صبح ہوتی ہے ‘ تو ابلیس اپنے لشکریوں کو بھیجتا ہے اور یہ کہتا ہے : آج جو کسی مسلمان کو سب سے زیادہ گمراہ کرے گا ‘ میں اُسے تاج پہناؤں گا ‘ جب وہ لوگ واپس آتے ہیں ، تو کوئی بتاتا ہے : میں ایک شخص کے ساتھ مسلسل رہا ‘ یہاں تک کہ اُس نے اپنی بیوی کو طلاق دیدی ‘ تو ابلیس کہتا ہے : ہو سکتا ہے ‘ وہ شخص دوسری شادی کر لے ‘ ایک لشکری آ کر یہ کہتا ہے : میں ایک شخص کے ساتھ مسلسل رہا ‘ یہاں تک کہ اس نے اپنے ماں باپ کی نافرمانی کی ‘ تو ابلیس کہتا ہے : ہو سکتا ہے وہ حسن سلوک شروع کر دے ‘ ایک لشکری آ کر یہ کہتا ہے : میں ایک شخص کے ساتھ مسلسل رہا ‘ یہاں تک کہ اُس نے شرک کر دیا ‘ تو ابلیس کہتا ہے : تم ہی ہو ‘ تم ہی ہو ( یعنی تم وہ شخص ہو ‘ جو اس بات کے لائق ہے کہ میں تمہیں تاج پہناؤں ) ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے ‘ جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ‘ اس کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

447

Majma al-Zawaid #447

وَعَنْ أَبِي رَيْحَانَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «إِنَّ إِبْلِيسَ يَضَعُ عَرْشَهُ عَلَى الْبَحْرِ فَيَتَشَبَّهُ بِاللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - وَدُونَهُ الْحُجُبُ، فَيَنْدُبُ جُنُودَهُ فَيَقُولُ: مَنْ لِفُلَانٍ الْآدَمِيِّ؟ فَيَقُومُ اثْنَانِ فَيَقُولُ: قَدْ أَجَّلْتُكُمَا سَنَةً، فَإِنْ أَغْوَيْتُمَاهُ وَضَعْتُ عَنْكُمَا التَّعَبَ، وَإِلَّا صَلَبْتُكُمَا "". قَالَ: فَكَانَ يَقُولُ لِأَبِي رَيْحَانَةَ: "" لَقَدْ صُلِبَ فِيكَ كَثِيرٌ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ طَلْحَةَ الْيَرْبُوعِيُّ، ضَعَّفَهُ النَّسَائِيُّ، وَذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ.

EnglishUnverified translation

Abū Rayḥānah رضي الله عنه said: The Messenger of Allah ﷺ said: > **"Indeed, Iblīs places his throne upon the sea, seeking to imitate Allah, Mighty and Majestic, with veils set before him. He summons his legions and says: 'Who will take on so-and-so among the children of Adam?' Two devils step forward, and he says: 'I grant you both a respite of one full year: if you seduce him, I will relieve you of all labor; otherwise, I will crucify you both.'"** The narrator said: Someone remarked to Abū Rayḥānah, "Indeed, many devils must have been crucified on your account!"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوریحانہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ ابلیس اپنا تخت سمندر پر رکھتا ہے ‘ اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ مشابہت ظاہر کرتا ہے ‘ حالانکہ اللہ تعالیٰ کی ذات سے پہلے بہت سے حجابات ہیں ‘ ابلیس اپنے لشکر روانہ کرتا ہے ‘ تو یہ کہتا ہے : فلاں آدمی کو کون سنبھالے گا ؟ تو اُس کے دو چیلے کھڑے ہو جاتے ہیں وہ کہتا ہے : میں تم دونوں کو ایک سال کی مہلت دیتا ہوں ‘ اگر تم دونوں نے اُسے گمراہ کر دیا ‘ تو میں تمہاری مشقت ختم کر دوں گا ‘ ورنہ میں تم دونوں کو مصلوب کر دوں گا ‘‘۔ راوی بیان کرتے ہیں : تو کسی شخص نے حضرت ابوریحانہ رضی اللہ عنہ سے کہا : آپ کی وجہ سے ‘ تو پھر بہت سے شیاطین مصلوب ہوئے ہوں گے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن طلحہ یربوعی ہے ‘ جسے امام نسائی نے ضعیف قرار دیا ہے ‘ جبکہ ابن حبان نے اس کا ذکر کتاب ’’ الثقات ‘‘ میں کیا ہے ۔

448

Majma al-Zawaid #448

عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: «كُنْتُ مَعَ أَبِي نُرِيدُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا كُنَّا بِبَعْضِ الطَّرِيقِ مَرَرْنَا بِحَيٍّ فَبِتْنَا فِيهِ، فَإِذَا الرَّاعِي قَدْ جَاءَ إِلَى أَهْلِ الْحَيِّ يَسْعَى يَقُولُ: لَسْتُ أَرْعَى لَكُمْ، فَإِنَّ الذِّئْبَ يَجِيءُ كُلَّ لَيْلَةٍ فَيَأْخُذُ شَاةً مِنَ الْغَنَمِ، وَالصَّنَمُ يَنْظُرُ لَا يُنْكِرُ وَلَا يُغَيِّرُ، فَقَالُوا: أَقِمْ عَلَيْنَا - أَحْسَبُهُ قَالَ: حَتَّى نَأْتِيَهُ - فَأَتَوْهُ، فَتَكَلَّمُوا حَوْلَهُ. قَالَ لِلرَّاعِي: أَقِمِ اللَّيْلَةَ. قَالَ: إِنِّي أُقِيمُ اللَّيْلَةَ حَتَّى نَنْظُرَ. قَالَ: فَبِتْنَا لَيْلَتَنَا، فَلَمَّا كَانَ صَلَاةُ الْغَدَاةِ إِذِ الرَّاعِي يَشْتَدُّ إِلَى أَهْلِ الْقَرْيَةِ يَقُولُ لَهُمْ: الْبُشْرَى، أَلَا تَرَوْنَ الذِّئْبَ مَرْبُوطًا بَيْنَ يَدَيِ الْغَنَمِ بِغَيْرِ وِثَاقٍ؟ فَجَاءُوا وَجِئْنَا مَعَهُمْ. قَالَ: فَقَالَ: نَعَمْ، هَكَذَا فَاصْنَعْ، فَقَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَحَدَّثَهُ أَبِي الْحَدِيثَ فَقَالَ: "" يَتَلَعَّبُ بِهِمُ الشَّيْطَانُ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَمَدَارُهُ عَلَى أَزْهَرَ بْنِ سِنَانٍ، ضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ، وَقَالَ ابْنُ عَدِيٍّ: أَحَادِيثُهُ صَالِحَةٌ لَيْسَتْ بِالْمُنْكَرَةِ جِدًّا.

EnglishUnverified translation

Muʿāwiyah ibn Qurrah reported from his father رضي الله عنه: I was with my father intending to visit the Prophet ﷺ. While on the journey, we passed by an encampment and stayed the night among them. The shepherd came running to the people of the camp, saying, "I will no longer graze your sheep for you, because a wolf comes every night and seizes a sheep from the flock, while the idol looks on, neither objecting nor changing anything!" They said, "Remain with us until we go to it." So they approached the idol, spoke around it, and then told the shepherd, "Stay tonight." He said, "I will stay tonight so we can see what happens." We spent our night there. At the morning prayer, the shepherd came running swiftly to the people of the village, saying to them, "Rejoice! Do you not see the wolf lying bound before the sheep without any rope?" They came, and we went along with them. They praised the idol, saying, "Yes, keep doing like this!" When we arrived before the Messenger of Allah ﷺ, my father related the incident to him. He ﷺ said: > **"Satan is merely playing with them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

معاویہ بن قرہ ‘ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : میں اپنے والد کے ساتھ ‘ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہونے کے ارادے سے روانہ ہوا ‘ راستے میں کسی جگہ ہمارا گزر ایک قبیلے کے پاس سے ہوا ‘ رات گزارنے کے لیے ہم وہاں ٹھہر گئے ایک چرواہا دوڑتا ہوا ‘ قبیلے کے افراد کے پاس آیا ‘ اور بولا : میں تم لوگوں کے جانور نہیں چراؤں گا ، کیونکہ روزانہ رات کے وقت بھیڑیا آتا ہے اور ایک بکری لے جاتا ہے ‘ جبکہ بت دیکھتا ہے ‘ لیکن وہ نہ تو انکار کرتا ہے ‘ اور نہ ہی کوئی تبدیلی کرتا ہے ‘ اُن لوگوں نے کہا : تم ہمارے ہاں رہو ! راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں : ہم اس بت کے پاس چلتے ہیں ‘ وہ لوگ اس بت کے پاس آئے ‘ اُنہوں نے اُس کے ارد گرد کوئی بات چیت کی ‘ پھر انہوں نے چرواہے سے کہا : آج رات ٹھہرے رہو ! اس چرواہے نے کہا : آج رات میں ٹھہر جاتا ہوں ‘ تاکہ یہ دیکھوں کہ کیا بنتا ہے ؟ راوی بیان کرتے ہیں : ہم بھی اُس رات وہاں ٹھہر گئے ‘ اگلے دن صبح کی نماز کے وقت چرواہا بھاگتا ہوا بستی والوں کی طرف آیا اور اُن سے کہنے لگا : خوشخبری ہے ! کیا تم نے دیکھا نہیں ؟ کہ بھیڑیا کسی بندش کے بغیر بکریوں کے آگے بندھا پڑا تھا ‘ پھر وہ لوگ آئے اُن کے ساتھ ہم بھی گئے ‘ راوی بیان کرتے ہیں : تو اُس نے کہا : ٹھیک ہے تم اسی طرح کرو ! راوی بیان کرتے ہیں : جب ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ‘ تو میرے والد نے نبی اکرم ﷺ کو یہ واقعہ سنایا ‘ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ شیطان ‘ ان لوگوں کے ساتھ کھلواڑ کرتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کا مدار ‘ ازہر بن سنان نامی راوی پر ہے ‘ جسے یحیی بن معین نے ضعیف قرار دیا ہے ‘ ابن عدی کہتے ہیں : اس کی نقل کردہ احادیث صالح ہیں ‘ اور زیادہ منکر نہیں ہیں ۔

449

Majma al-Zawaid #449

وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: «ذَهَبْتُ لِأُسْلِمَ حِينَ بُعِثَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَرَدْتُ أَنْ أَدْخَلَ مَعَ رَجُلَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةٍ فِي الْإِسْلَامِ، فَأَتَيْتُ الْمَاءَ حَيْثُ يَجْتَمِعُ النَّاسُ، فَإِذَا أَنَا بِرَاعِي الْقَرْيَةِ الَّذِي يَرْعَى أَغْنَامَهُمْ، فَقَالَ: لَا أَرْعَى لَكُمْ أَغْنَامَكُمْ. قَالُوا: لِمَ؟ قَالَ: يَجِيءُ الذِّئْبُ كُلَّ لَيْلَةٍ، فَيَأْخُذُ شَاةً وَصَنَمُنَا هَذَا قَائِمٌ لَا يَضُرُّ وَلَا يَنْفَعُ وَلَا يُغَيِّرُ وَلَا يُنْكِرُ. قَالَ: فَرَجَعُوا وَأَنَا أَرْجُو أَنْ يُسَلِّمُوا، فَلَمَّا أَصْبَحْنَا جَاءَ الرَّاعِي يَشْتَدُّ، مَا الْبُشْرَى؟ مَا الْبُشْرَى؟ قَدْ جِيءَ بِالذِّئْبِ فَهُوَ بَيْنَ يَدَيِ الْغَنَمِ مَقْمُوطًا، فَذَهَبْتُ مَعَهُمْ، فَقَبَّلُوهُ وَسَجَدُوا لَهُ، وَقَالُوا: هَكَذَا فَاصْنَعْ. فَدَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَحَدَّثْتُهُ هَذَا الْحَدِيثَ فَقَالَ: "" عَبَثَ بِهِمُ الشَّيْطَانُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَقَدْ تَقَدَّمَ الْكَلَامُ عَلَيْهِ قَبْلَهُ.

EnglishUnverified translation

Muʿāwiyah ibn Qurrah reported from his father رضي الله عنه: I set out to embrace Islam when the Prophet ﷺ was commissioned, wishing to enter Islam along with two or three men. I arrived at a watering place where people gathered, and met the shepherd of the village who grazed their sheep. He said, "I will not graze your sheep for you." They asked, "Why?" He said, "Every night a wolf comes and takes a sheep, while this idol of ours stands by—neither harming nor benefiting, neither altering anything nor objecting!" They went back, and I hoped they would accept Islam. The next morning, the shepherd came running, calling out, "What glad tidings! What glad tidings! The wolf has been brought and lies bound before the sheep!" I went with them, and they kissed the idol, prostrated before it, and said, "Keep doing like this!" I entered upon the Prophet ﷺ and related this story to him. He ﷺ said: > **"Satan has toyed with them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اُن سے یہ روایت منقول ہے : وہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم ﷺ کی بعثت ہوئی ، تو میں ( اسلام قبول کرنے کیلئے ) اپنے علاقے سے روانہ ہوا ‘ میرا ارادہ یہ تھا کہ میں دو ( راوی کو شک ہے ‘ یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) تین آدمیوں سمیت اسلام داخل ہوؤں گا ‘ میں ایک پانی کے تالاب وغیرہ ) کے پاس آیا ‘ جہاں لوگ اکٹھے رہ رہے تھے ‘ میرے سامنے بستی والوں کا چرواہا آیا ‘ جو ان کی بکریاں چرایا کرتا تھا ، اُس نے کہا : میں تم لوگوں کی بکریاں نہیں چراؤں گا ‘ اُن لوگوں نے دریافت کیا : وہ کیوں ؟ اُس نے کہا : روزانہ رات کے وقت بھیڑیا آتا ہے اور ایک بکری لے جاتا ہے ‘ جبکہ ہمارا صنم ( یعنی بت ) کھڑا رہتا ہے ‘ وہ نہ کوئی نقصان پہنچاتا ہے ‘ نہ کوئی فائدہ دیتا ہے ‘ نہ کوئی تبدیلی کرتا ہے ‘ نہ انکار کرتا ہے ‘ راوی بیان کرتے ہیں : وہ لوگ واپس چلے گئے ‘ مجھے یہ امید تھی کہ وہ لوگ مسلمان ہو جائیں گے ‘ اگلے دن صبح چرواہا دوڑتا ہوا آیا اور بولا : کیا خوشخبری ہے ! کیا خوشخبری ہے ! بھیڑیوں کو لایا گیا اور اب وہ بکریوں کے آگے بندھا پڑا ہے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : میں بھی اُن لوگوں کے ساتھ گیا ‘ ان لوگوں نے بت کو بوسے دیئے اور اسے سجدہ کیے اور یہ کہا : ( آئندہ ) اب تم ایسا ہی کرنا ۔ راوی بیان کرتے ہیں : جب میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کو اس واقعے کے بارے میں بتایا ‘ تو آپ نے ارشاد فرمایا : شیطان نے اُن لوگوں کے ساتھ کھلواڑ کیا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس روایت پر کلام اس سے پہلے گزر چکا ہے ۔

450

Majma al-Zawaid #450

عَنِ السَّائِبِ قَالَ: بَعَثَ مَعِي أَهْلِي بِقَدَحِ لَبَنٍ وَزُبْدٍ إِلَى آلِهَتِهِمْ، فَذَهَبْتُ بِهِ فَلَقَدْ خِفْتُ أَنْ آكُلَ مِنْهُ شَيْئًا، فَوَضَعْتُهُ إِذْ جَاءَ الْكَلْبُ فَشَرِبَ اللَّبَنَ وَأَكَلَ الزُّبْدَ وَبَالَ عَلَى الصَّنَمِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Sāʾib رضي الله عنه said: My family sent me with a bowl of milk and butter as an offering to their deities. I carried it, being terrified of consuming any of it. I placed it before the idol, when suddenly a dog came along, drank up the milk, ate the butter, and urinated upon the idol!

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سائب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میرے گھر والوں نے میرے ہاتھ دودھ کا اور پنیر کا پیالہ ‘ اپنے معبودوں کی طرف بھیجا ‘ میں اُسے ساتھ لے کر گیا ، مجھے یہ خوف تھا کہ اگر میں نے اُس میں سے کچھ کھا لیا ( تو میرا نقصان ہو جائے گا ) میں نے اُسے رکھ دیا ‘ تو ایک کتا آیا ‘ اُس نے دودھ پی لیا ‘ پنیر کھا لیا ‘ اور بت پر پیشاب بھی کر دیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

451

Majma al-Zawaid #451

وَعَنْهُ أَيْضًا: أَنَّهُ كَانَ فِيمَنْ بَنَى الْكَعْبَةَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ. قَالَ: وَلِي حَجَرٌ أَنَا نَحَتُّهُ بِيَدِي، أَعْبُدُهُ مِنْ دُونِ اللَّهِ - تَعَالَى - وَأَجِيءُ بِاللَّبَنِ الْخَاثِرِ الَّذِي أُنَفِّسُهُ عَلَى نَفْسِي فَأَصُبُّهُ عَلَيْهِ، فَيَجِيءُ الْكَلْبُ فَيَلْحَسُهُ، ثُمَّ يَشْغَرُ فَيَبُولُ. فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَهُوَ بِتَمَامِهِ فِي بِنَاءِ الْكَعْبَةِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Al-Sāʾib رضي الله عنه reported that he was among those who took part in rebuilding the Kaʿbah during the pre-Islamic period of ignorance. He said: I possessed a stone that I had carved with my own hand, and I used to worship it instead of Allah, Exalted is He. I brought thick milk that I would have begrudged even to myself, and poured it over the stone. Then a dog came, licked it up, lifted its leg, and urinated upon it! [The narrator mentioned the rest of the hadith, which appears in full under the rebuilding of the Kaʿbah.]

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اُن کے حوالے سے یہ روایت بھی منقول ہے : وہ زمانہ جاہلیت میں خانہ کعبہ کی تعمیر میں حصہ لینے والے افراد میں سے ایک تھے ‘ وہ بیان کرتے ہیں : میرے پاس ایک پتھر تھا ‘ میں نے اُسے اپنے ہاتھ کے ذریعے تراشا ‘ اور پھر اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر ‘ اُس کی عبادت کرنے لگا ‘ میں اُس کے لیے دودھ لے کر آیا ‘ میں نے اپنے اوپر ترجیح دے کر وہ دودھ اُس کے لیے مخصوص کیا تھا ‘ میں نے وہ دودھ اُس بت پر بہا دیا ‘ پھر ایک کتا آیا اور اُسے چاٹنے لگا ‘ پھر اُس نے ٹانگوں اوپر کی اور پیشاب کرنے لگا ....... اس کے بعد راوی نے پوری حدیث نقل کی ہے ‘ یہ مکمل روایت ‘ خانہ کعبہ کی تعمیر سے متعلق باب میں آئے گی ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

452

Majma al-Zawaid #452

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «إِنَّ الْمُؤْمِنَ لَيُنْضِي شَيَاطِينَهُ كَمَا يُنْضِي أَحَدُكُمْ بَعِيرَهُ فِي السَّفَرِ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Indeed, the believer wears down and exhausts his devils just as one of you exhausts his camel on a journey."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں :’’ مؤمن اپنے شیاطین کو یوں تھکا دیتا ہے ‘ جس طرح سفر کے دوران کوئی شخص اپنے اونٹ کو تھکا دیتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ۔

453

Majma al-Zawaid #453

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «إِنَّ أَوَّلَ مَنْ سَيَّبَ السَّوَائِبَ وَعَبَدَ الْأَصْنَامَ: أَبُو خُزَاعَةَ عَمْرُو بْنُ عَامِرٍ، وَإِنِّي رَأَيْتُهُ يَجُرُّ أَمْعَاءَهُ فِي النَّارِ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ الْهَجَرِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Masʿūd رضي الله عنه reported that the Prophet ﷺ said: > **"Indeed, the first person to dedicate free-roaming livestock (sawāʾib) to false deities and introduce idol worship was the father of Khuzāʿah, ʿAmr ibn ʿĀmir; and I saw him dragging his intestines in the Fire."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” سب سے پہلے بتوں کے نام پر جانور مخصوص کرنے اور بتوں کی عبادت کرنے کا آغاز ‘ خزاعہ کے جدامجد عمرو بن عامر نے کیا تھا ، میں نے اُسے دیکھا ہے کہ وہ جہنم میں اپنی آنتیں گھسیٹ رہا تھا ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم ہجری ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

454

Majma al-Zawaid #454

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «أَوَّلُ مَنْ غَيَّرَ دِينَ إِبْرَاهِيمَ عَمْرُو بْنُ لُحَيِّ بْنِ قَمْعَةَ بْنِ خِنْدِفَ أَبُو خُزَاعَةَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ صَالِحٌ مَوْلَى التَّوْأَمَةِ، وَضَعَّفَهُ بِسَبَبِ اخْتِلَاطِهِ، وَابْنُ أَبِي ذِئْبٍ سَمِعَ مِنْهُ قَبْلَ الِاخْتِلَاطِ، وَهَذَا مِنْ رِوَايَةِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ عَنْهُ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿAbbās رضي الله عنهما said: The Messenger of Allah ﷺ said: > **"The first person to alter the religion of Abraham was ʿAmr ibn Luḥayy ibn Qamʿah ibn Khindif, the forefather of Khuzāʿah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دین میں ‘ سب سے پہلے جس شخص نے تبدیلی کی ‘ وہ عمرو بن لحی بن قمعہ بن خندف ہے ‘ جو خزاعہ کا جدامجد ہے ‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی صالح مولی توامہ ہے ‘ جس کے اختلاط کی وجہ سے اسے ضعیف قرار دیا گیا ہے ‘ لیکن ابن ابوذئب نے اُس کے اختلاط کا شکار ہونے سے پہلے اس سے سماع کیا تھا اور یہ روایت بھی ان روایات میں سے ایک ہے ‘ جو ابن ابوذئب نے اُس سے نقل کی ہیں ۔

455

Majma al-Zawaid #455

وَعَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ: «كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ عَائِشَةَ، فَدَخَلَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَقَالَتْ: أَنْتَ الَّذِي تُحَدِّثُ أَنَّ امْرَأَةً عُذِّبَتْ فِي هِرَّةٍ رَبَطَتْهَا، فَلَمْ تُطْعِمْهَا وَلَمْ تَسْقِهَا؟ فَقَالَ: سَمِعْتُهُ مِنْهُ - يَعْنِي النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتْ: هَلْ تَدْرِي مَا كَانَتِ الْمَرْأَةُ؟ إِنَّ الْمَرْأَةَ مَعَ مَا فَعَلَتْ كَانَتْ كَافِرَةً، وَإِنَّ الْمُؤْمِنَ أَكْرَمُ عَلَى اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - مِنْ أَنْ يُعَذِّبَهُ فِي هِرَّةٍ، فَإِذَا حَدَّثْتَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَانْظُرْ كَيْفَ تُحَدِّثُ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿAlqamah said: We were sitting in the presence of ʿĀʾishah رضي الله عنها when Abū Hurayrah رضي الله عنه entered. She said to him, "Are you the one who narrates that a woman was punished on account of a cat which she tied up, neither feeding it nor giving it water?" He replied, "I heard it from him"—meaning the Prophet ﷺ. She said: > **"Do you know who that woman was? That woman, in addition to what she did, was a disbeliever. The believer is far too noble in the sight of Allah, Mighty and Majestic, for Him to punish him on account of a cat. Therefore, whenever you narrate from the Messenger of Allah ﷺ, be mindful of how you narrate!"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

علقمہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ‘ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ آئے ‘ تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : کیا تم یہ حدیث بیان کرتے ہو ؟ کہ ایک عورت کو بلی کی وجہ سے عذاب دیا گیا ، جس بلی کو اُس نے باندھ دیا تھا وہ عورت اُسے کچھ کھانے کے لیے نہیں دیتی تھی ‘ اور پینے کے لئے نہیں دیتی تھی ، تو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بتایا : یہ بات میں نے اُن سے سنی ہے ‘ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی مراد نبی اکرم ﷺ تھے ‘ تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : کیا تم جانتے ہو ؟ وہ عورت کون تھی ؟ اُس عورت نے جو کچھ بھی کیا ، اُس کے ہمراہ وہ کافر بھی تھی ، اور مومن ‘ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اس سے بلند حیثیت رکھتا ہے ‘ کہ اللہ تعالیٰ کسی بلی کی وجہ سے اُسے عذاب دے ‘ جب تم نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے کوئی حدیث بیان کرو ! تو اس بات کا جائزہ لے لیا کرو ! کہ تم کیا بیان کر رہے ہو ؟ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

456

Majma al-Zawaid #456

وَعَنْ أَبِي رَزِينٍ الْعُقَيْلِيِّ عَنْ عَمِّهِ قَالَ: «قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيْنَ أُمِّي؟ قَالَ: "" أُمُّكَ فِي النَّارِ "". قَالَ: قُلْتُ: فَأَيْنَ مَنْ مَضَى مِنْ أَهْلِكَ؟ قَالَ: "" أَمَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ أُمُّكَ مَعَ أُمِّي». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Razīn al-ʿUqaylī reported from his uncle رضي الله عنه: I said, "O Messenger of Allah, where is my mother?" He ﷺ said: > **"Your mother is in the Fire."** He said, "I asked: Where are those who passed away from your family?" The Messenger of Allah ﷺ said: > **"Does it not satisfy you that your mother is with my mother?"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابورزین عقیلی ‘ اپنے چچا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میری والدہ کہاں ہیں ؟ آپ نے فرمایا : تمہاری والدہ جہنم میں ہے ‘ راوی بیان کرتے ہیں : میں نے دریافت کیا : آپ کے اہل خانہ میں سے جو لوگ ( دنیا سے ) رخصت ہو چکے ہیں ‘ وہ کہاں ہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : کیا تم اس بات سے راضی نہیں ہو کہ تمہاری ماں ‘ میری ماں کے ساتھ ہو ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اس کو امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کیا ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

457

Majma al-Zawaid #457

وَعَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ: «كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَنَزَلَ وَنَحْنُ مَعَهُ قَرِيبٌ مِنْ أَلْفِ رَاكِبٍ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ وَعَيْنَاهُ تَذْرِفَانِ، فَقَامَ إِلَيْهِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَفَدَّاهُ بِالْأُمِّ وَالْأَبِ يَقُولُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَالَكَ؟ قَالَ: "" إِنِّي سَأَلْتُ رَبِّي - عَزَّ وَجَلَّ - فِي الِاسْتِغْفَارِ لِأُمِّي، فَلَمْ يَأْذَنْ لِي، فَدَمَعَتْ عَيْنَايَ رَحْمَةً لَهَا مِنَ النَّارِ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ "".

EnglishUnverified translation

Buraydah رضي الله عنه said: We were traveling with the Prophet ﷺ when he halted, and we were nearly a thousand riders with him. He prayed two rakʿahs, then turned his face towards us while tears were flowing from his eyes. ʿUmar ibn al-Khaṭṭāb stood up and said, "May my father and mother be ransomed for you, O Messenger of Allah! What has brought you to tears?" He ﷺ said: > **"I asked my Lord, Mighty and Majestic, for permission to seek forgiveness for my mother, but He did not permit me. So my eyes wept out of compassion for her from the Fire."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ ( سفر کر رہے تھے ) آپ ﷺ نے ایک جگہ پڑاؤ کیا ‘ آپ کے ساتھ ہم لوگ تقریبا ایک ہزار سوار تھے ‘ نبی اکرم ﷺ نے دو رکعت ادا کیں ، پھر آپ نے ہماری طرف رخ کیا ‘ تو آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے ‘ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اُٹھ کر آپ کے پاس آئے اور یہ کہا : میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں اور دریافت کیا : یا رسول اللہ ! آپ کو کیا ہوا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میں نے اپنے پروردگار سے اپنی والدہ کے لئے دعائے مغفرت کی اجازت مانگی تھی ، تو اس نے مجھے اجازت نہیں دی ، تو اُس خاتون کے لیے رحمت کی وجہ سے میری آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے کہ وہ جہنم میں جائیں گی ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

458

Majma al-Zawaid #458

عَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ: «كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى إِذَا كُنَّا بِوَدَّانَ أَوْ بِالْقُبُورِ سَأَلَ الشَّفَاعَةَ لِأُمِّهِ - أَحْسَبُهُ قَالَ: - فَضَرَبَ جِبْرِيلُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَدْرَهُ، وَقَالَ: لَا تَسْتَغْفِرْ لِمَنْ مَاتَ مُشْرِكًا» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَقَالَ: لَمْ يَرْوِهِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ إِلَّا مُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ. قُلْتُ: وَلَمْ أَرَ مَنْ ذَكَرَ مُحَمَّدَ بْنَ جَابِرٍ هَذَا.

EnglishUnverified translation

Buraydah رضي الله عنه said: We were with the Messenger of Allah ﷺ until we reached Waddān—or came near the graves—and he requested intercession for his mother. [The narrator said: I believe he said:] Gabriel عليه السلام struck his chest and said: > **"Do not seek forgiveness for one who died a polytheist."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ تھے ‘ یہاں تک کہ ہم ” ودان ‘‘ کے مقام پر پہنچے ( راوی کو شک ہے ‘ یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) کچھ قبروں کے پاس پہنچے ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے اپنی والدہ کے لئے شفاعت کی دعا کی ( راوی بیان کرتے ہیں : میرا خیال ہے ‘ روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں : ) تو حضرت جبرائیل علیہ السلام نے نبی اکرم ﷺ کے سینے پر ہاتھ مارا ‘ اور وہ بولے : آپ اُس کے لیے دعائے مغفرت نہ کریں ، جو مشرک ہونے کے عالم میں مر گیا تھا ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ وہ بیان کرتے ہیں ‘ اس سند کے ساتھ ‘ اس روایت کو صرف محمد بن جابر نے سماک بن حرب سے نقل کیا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) : میں یہ کہتا ہوں : میں نے کسی شخص کو محمد بن جابر نامی اس راوی کا ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ۔

459

Majma al-Zawaid #459

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمَّا أَقْبَلَ مِنْ غَزْوَةِ تَبُوكَ وَاعْتَمَرَ، فَلَمَّا هَبَطَ مِنْ ثَنِيَّةِ عُسْفَانَ، أَمَرَ أَصْحَابَهُ أَنْ يَسْتَسْنِدُوا إِلَى الْعَقَبَةِ حَتَّى أَرْجِعَ إِلَيْكُمْ، فَذَهَبَ فَنَزَلَ عَلَى قَبْرِ أُمِّهِ، فَنَاجَى رَبَّهُ طَوِيلًا، ثُمَّ إِنَّهُ بَكَى فَاشْتَدَّ بُكَاؤُهُ وَبَكَى هَؤُلَاءِ لِبُكَائِهِ، وَقَالُوا: مَا بَكَى نَبِيُّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِهَذَا الْمَكَانِ إِلَّا وَقَدْ حَدَثَ فِي أُمَّتِهِ شَيْءٌ لَا يُطِيقُهُ، فَلَمَّا بَكَى هَؤُلَاءِ، قَامَ فَرَجَعَ إِلَيْهِمْ فَقَالَ: "" مَا يُبْكِيكُمْ؟ "" قَالُوا: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، بَكَيْنَا لِبُكَائِكَ، قُلْنَا: لَعَلَّهُ حَدَثَ فِي أُمَّتِكَ شَيْءٌ لَا تُطِيقُهُ، قَالَ: "" لَا، وَقَدْ كَانَ بَعْضُهُ، وَلَكِنْ نَزَلْتُ عَلَى قَبْرٍ، فَدَعَوْتُ اللَّهَ أَنْ يَأْذَنَ لِي فِي شَفَاعَتِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَأَبَى اللَّهُ أَنْ يَأْذَنَ لِي، فَرَحِمْتُهَا وَهِيَ أُمِّي فَبَكَيْتُ، ثُمَّ جَاءَنِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَقَالَ: "" {وَمَا كَانَ اسْتِغْفَارُ إِبْرَاهِيمَ لِأَبِيهِ إِلَّا عَنْ مَوْعِدَةٍ وَعَدَهَا إِيَّاهُ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُ أَنَّهُ عَدُوٌّ لِلَّهِ تَبَرَّأَ مِنْهُ} [التوبة: 114] ""، فَتَبْرَأْ مِنْ أُمِّكَ كَمَا تَبَرَّأَ إِبْرَاهِيمُ مِنْ أَبِيهِ، فَرَحِمْتُهَا وَهِيَ أُمِّي، فَدَعَوْتُ رَبِّي أَنْ يَرْفَعَ عَنْ أُمَّتِي أَرْبَعًا فَرَفَعَ عَنْهُمُ اثْنَتَيْنِ، وَأَبَى أَنْ يَرْفَعَ عَنْهُمُ اثْنَتَيْنِ: دَعَوْتُ رَبِّي أَنْ يَرْفَعَ عَنْهُمُ الرَّجْمَ مِنَ السَّمَاءِ، وَالْغَرَقَ مِنَ الْأَرْضِ، وَأَنْ لَا يُلْبِسَهُمْ شِيَعًا، وَأَنْ لَا يُذِيقَ بَعْضَهُمْ بَأْسَ بَعْضٍ، فَرَفَعَ عَنْهُمُ الرَّجْمَ مِنَ السَّمَاءِ، وَالْغَرَقَ مِنَ الْأَرْضِ، وَأَبَى اللَّهُ أَنْ تُرْفَعَ عَنْهُمُ اثْنَتَانِ: الْقَتْلُ وَالْهَرْجُ "". وَإِنَّمَا عَدَلَ إِلَى قَبْرِ أُمِّهِ ; لِأَنَّهَا مَدْفُونَةٌ تَحْتَ كَذَا وَكَذَا، وَكَانَ عُسْفَانَ لَهُمْ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ أَبُو الدَّرْدَاءِ وَعَبْدُ الْغَفَّارِ بْنُ الْمُنِيبِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، وَمَنْ عَدَا عِكْرِمَةَ لَمْ أَعْرِفْهُمْ، وَلَمْ أَرَ مَنْ ذَكَرَهُمْ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿAbbās رضي الله عنهما said: When the Prophet ﷺ returned from the Expedition of Tabūk and performed ʿUmrah, upon descending from the mountain pass of ʿUsfān, he instructed his Companions: "Lean against the mountain pass until I return to you." He went and paused beside the grave of his mother, conversing privately with his Lord for a long time. Then he wept intensely, and the Companions wept because of his weeping. They said, "The Prophet of Allah ﷺ would not weep in this place unless something had occurred concerning his nation that he cannot bear." When they wept, he arose and returned to them, asking: > **"What makes you weep?"** They said, "O Prophet of Allah, we wept because of your weeping; we said: 'Perhaps something has occurred concerning your nation that you cannot bear.'" He ﷺ said: > **"No, though a part of it was that. Rather, I stopped beside a grave and supplicated Allah to permit me to intercede for her on the Day of Resurrection, but Allah refused to permit me. So I felt compassion for her, for she is my mother, and I wept.** > > **Then Gabriel عليه السلام came to me and recited: *{And the request of forgiveness of Abraham for his father was only because of a promise he had made to him. But when it became clear to him that he was an enemy to Allah, he disassociated himself from him.}* [At-Tawbah: 114]. Gabriel said: 'Disassociate yourself from your mother just as Abraham disassociated himself from his father.' But I felt compassion for her, for she is my mother.** > > **Then I supplicated my Lord to lift four afflictions from my nation, and He lifted two of them and refused to lift two: I asked my Lord to lift from them pelting stones from the sky and drowning into the earth, and that He not divide them into warring factions nor make some of them taste the violence of others. He lifted from them pelting stones from the sky and drowning into the earth, but Allah refused to lift two from them: bloodshed and turmoil (al-harj).'"** [The narrator noted: He only detoured to his mother's grave because she was buried under such-and-such, and ʿUsfān belonged to their maternal lineage.]

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم ﷺ غزوہ تبوک سے واپس تشریف لائے اور عمرہ کے لیے روانہ ہوئے ‘ تو جب ’’ عسفان ‘‘ نامی گھاٹی کے پاس پہنچے ‘ تو آپ نے اپنے اصحاب کو حکم دیا کہ وہ گھاٹی کے ساتھ ٹیک لگا کر رکھیں جب تک میں تم لوگوں کے پاس وقت نہیں آ جاتا ‘ نبی اکرم ﷺ تشریف لے گئے اور اپنی والدہ کی قبر کے پاس ٹھہرے ‘ آپ ﷺ نے اپنے پروردگار کی بارگاہ میں طویل مناجات کی ‘ پھر آپ رونے لگے اور بہت روئے ‘ یہاں تک کہ آپ کے رونے کی وجہ سے ‘ دوسرے لوگ بھی رونے لگے ‘ لوگوں نے دریافت کیا : اللہ کے نبی اس مقام پر کیوں روئے ہیں ؟ اس کی وجہ یہی ہو گی کہ آپ کی امت کے بارے میں کوئی ایسی چیز سامنے آئی ہو گی کہ آپ کو خود پر قابو نہیں رہا ‘ جب لوگوں نے بھی رونا شروع کیا ‘ تو نبی اکرم ﷺ اُٹھے اور اُن لوگوں کے پاس واپس تشریف لائے ‘ تو آپ نے دریافت کیا : تم لوگ کیوں رو رہے ہو ؟ اُن لوگوں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! آپ کے رونے کی وجہ سے ہم بھی رو رہے ہیں ، ہم نے کہا : ہم یہ سمجھے کہ شاید آپ کی امت کے بارے میں کوئی نئی چیز رونما ہوئی ہے ‘ جس کی آپ طاقت نہیں رکھتے ( یا جسے دیکھ کر آپ کو خود پر قابو نہیں رہا ) نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جی نہیں ! ( یعنی ایسا نہیں ہے ) لیکن اس کا کچھ حصہ ہے ‘ میں اس قبر کے پاس آیا میں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ قیامت کے دن مجھے اُن کی شفاعت کرنے کی اجازت دے ‘ تو اللہ تعالیٰ نے مجھے اجازت دینے سے انکار کر دیا ‘ تو مجھے اس خاتون پر رحم آ گیا ‘ کیونکہ وہ میری والدہ ہیں ، تو میں رونے لگ گیا پھر جبرائیل میرے پاس آئے اور بولے : ( یعنی اُنہوں نے یہ آیات تلاوت کیں : ) ’’ ابراہیم نے اپنے باپ کے لئے جو استغفار کیا تھا ‘ وہ صرف ایک وعدے کی وجہ سے تھا ، جو اُس نے اس شخص کے ساتھ کیا تھا ، لیکن جب اُس ( یعنی ابراہیم ) کے سامنے یہ بات واضح ہو گئی کہ وہ شخص ‘ اللہ کا دشمن ہے ‘ تو اُس ( یعنی ابراہیم نے ) اس شخص سے لاتعلقی اختیار کی ‘‘۔ ( حضرت جبرائیل علیہ السلام نے نبی اکرم ﷺ سے کہا : ) تو آپ ﷺ بھی اپنی والدہ سے اُسی طرح لاتعلقی اختیار کریں ، جس طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے والد سے لاتعلقی اختیار کی تھی ۔ نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں : تو مجھے اُن پر رحم آ گیا کیونکہ وہ میری والدہ ہیں ۔ آپ ﷺ نے یہ بھی ارشاد فرمایا : ) میں نے اپنے پروردگار سے دعا مانگی کہ وہ میری امت سے چار چیزیں اُٹھا لے ‘ تو اُس نے اُن لوگوں سے دو چیزیں اٹھا لیں ‘ اور دو چیزیں اُن سے اُٹھانے سے انکار کر دیا ‘ میں نے اپنے پروردگار سے دعا کی : کہ وہ اُن سے یہ اُٹھا لے کہ انہیں آسمان سے سنگسار کیا جائے ‘ یا انہیں زمین میں ڈبو ( یعنی دھنسا ) دیا جائے ( اور یہ دعا مانگی : ) کہ اللہ تعالیٰ انہیں مختلف گروہوں میں تقسیم نہ کرے ‘ اور انہیں ایک دوسرے کے ذریعے ہلاکت کا شکار نہ کرے ‘ تو اللہ تعالیٰ نے ان سے یہ چیز اٹھا لی کہ انہیں آسمان سے سنگسار کیا جائے ‘ یا زمین میں پھنسایا جائے ‘ اور اللہ تعالیٰ نے اُن سے دو چیزیں اٹھانے سے انکار کر دیا ‘ قتل اور ہرج ۔ ( راوی بیان کرتے ہیں : ) نبی اکرم ﷺ اپنی والدہ کی قبر پر جانے کے لیے عام گزرگاہ سے ہٹ گئے تھے ‘ کیونکہ آپ کی والدہ فلاں جگہ پر دفن تھیں ‘ اور یہ ’’ عسفان ‘‘ کے مقام کی بات ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں یہ مذکور ہے : اسے ابودرداء اور عبدالغفار بن غنیم نامی راویوں نے اسحاق بن عبداللہ کے حوالے سے ‘ اُن کے والد کے حوالے سے ‘ عکرمہ سے روایت کیا ہے ‘ لیکن عکرمہ کے علاوہ باقی راویوں میں سے میں کسی سے واقف نہیں ہوں ‘ اور نہ ہی میں نے کسی کو ان کا ذکر کرتے ہوئے دیکھا ہے ۔

460

Majma al-Zawaid #460

وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ الْحُصَيْنِ «أَنَّ أَبَاهُ الْحُصَيْنَ أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: أَرَأَيْتَ رَجُلًا كَانَ يُقْرِي الضَّيْفَ وَيَصِلُ الرَّحِمَ مَاتَ قَبْلَكَ، وَهُوَ أَبُوكَ؟ فَقَالَ: إِنَّ أَبِي وَأَبَاكَ وَأَنْتَ فِي النَّارِ "" فَمَاتَ حُصَيْنٌ مُشْرِكًا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿImrān ibn al-Ḥuṣayn رضي الله عنه reported: His father al-Ḥuṣayn came to the Prophet ﷺ and said, "What do you say concerning a man who used to honor the guest and maintain family ties, who died before your advent, namely your father?" The Prophet ﷺ said: > **"Indeed, my father, your father, and you will be in the Fire."** [The narrator noted: And Ḥuṣayn subsequently died as a polytheist.]

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے تھے : اُن کے والد حصین نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ‘ اور بولے : اپنے شخص کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟ جو مہمان نوازی اور صلہ رحمی کرتا تھا ‘ اور اُس کا انتقال آپ سے پہلے ہو گیا اور وہ شخص آپ کا والد ہے ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : میرا باپ ‘ تمہارا باپ اور تم جہنم میں ہو گے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : تو حصین کا انتقال مشرک ہونے کے عالم میں ہوا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

461

Majma al-Zawaid #461

وَعَنْ سَعْدٍ - يَعْنِي ابْنَ أَبِي وَقَّاصٍ -: «أَنَّ أَعْرَابِيًّا أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيْنَ أَبِي؟ قَالَ: "" فِي النَّارِ "" قَالَ: فَأَيْنَ أَبُوكَ؟ قَالَ: "" حَيْثُمَا مَرَرْتَ بِقَبْرِ كَافِرٍ، فَبَشِّرْهُ بِالنَّارِ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَزَادَ: فَأَسْلَمَ الْأَعْرَابِيُّ، فَقَالَ: لَقَدْ كَلَّفَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِعَنَاءٍ، مَا مَرَرْتُ بِقَبْرِ كَافِرٍ إِلَّا بَشَّرْتُهُ بِالنَّارِ "". وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Saʿd ibn Abī Waqqāṣ رضي الله عنه reported: A bedouin came to the Prophet ﷺ and said, "O Messenger of Allah, where is my father?" He ﷺ said: > **"In the Fire."** The bedouin asked, "Then where is your father?" He ﷺ said: > **"Wherever you pass by the grave of a disbeliever, give him the tidings of the Fire."** The bedouin later embraced Islam and said, "The Messenger of Allah ﷺ assigned me a laborious duty: I never pass by the grave of a disbeliever except that I give him the tidings of the Fire."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دیہاتی نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور بولا : یا رسول اللہ ! میرا باپ کہاں ہے ؟ آپ نے فرمایا : جہنم میں ‘ اُس نے دریافت کیا : آپ کے والد کہاں ہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم جب بھی کسی کافر کی قبر کے پاس سے گزرو ‘ تو اسے جہنم کی اطلاع دے دینا ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ امام طبرانی نے اسے معجم کبیر میں نقل کیا ہے ‘ اور انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ’’ اُس دیہاتی نے اطلاع قبول کر لیا ‘ اُس کا یہ کہنا تھا : نبی اکرم ﷺ نے مجھے ایک مشقت والے کام کا پابند کیا ہے ‘ میں جب بھی کسی کافر کی قبر کے پاس سے گزرتا ہوں ‘ تو اُسے جہنم کی اطلاع دے دیتا ہوں ‘‘۔ اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

462

Majma al-Zawaid #462

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «لَيَأْخُذَنَّ رَجُلٌ بِيَدِ أَبِيهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَلَيُقْطِعَنَّهُ نَارًا، يُرِيدُ أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ، قَالَ: فَيُنَادَى أَنَّ الْجَنَّةَ لَا يَدْخُلُهَا مُشْرِكٌ، إِنَّ اللَّهَ قَدْ حَرَّمَ الْجَنَّةَ عَلَى كُلِّ مُشْرِكٍ، قَالَ: فَيَقُولُ: أَيْ رَبِّ، أَبِي. قَالَ: فَيَتَحَوَّلُ فِي صُورَةٍ قَبِيحَةٍ وَرِيحٍ مُنْتِنَةٍ، فَيَتْرُكُهُ "" قَالَ: وَكَانَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ يَرَوْنَ أَنَّهُ إِبْرَاهِيمُ، وَلَمْ يَزِدْهُمْ رَسُولُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى ذَلِكَ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abū Saʿīd al-Khudrī رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"On the Day of Resurrection, a man will take hold of his father's hand, seeking to lead him away from the Fire, desiring to admit him into Paradise. Then it will be proclaimed: 'Indeed, Paradise is forbidden to every polytheist; Allah has forbidden Paradise to any polytheist.'** > > **He will plead: 'O my Lord, my father!'** > > **Then his father will be transformed into an abhorrent form with a foul stench, and he will abandon him."** The Companions of the Messenger of Allah ﷺ considered that this man was Abraham عليه السلام, and the Messenger of Allah ﷺ did not add anything further to that.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ قیامت کے دن ‘ ایک شخص اپنے باپ کا ہاتھ پکڑے گا ‘ تاکہ اسے جہنم میں جانے سے روک لے ‘ وہ یہ ارادہ کرے گا : کہ اُسے جنت میں داخل کرے ‘ تو یہ اعلان کیا جائے گا : جنت میں کوئی مشرک داخل نہیں ہو گا ‘ بے شک اللہ تعالیٰ نے ہر مشرک پر جنت کو حرام قرار دے دیا ہے ‘ تو وہ شخص کہے گا : اے میرے پروردگار ! میرا باپ ( یعنی اُس کا کیا بنے گا ؟ ) تو اُس کے باپ کی شکل تبدیل کر کے انتہائی بدصورت کر دی جائے گی اور اُس کی بو ‘ بدبودار ہو جائے گی ‘ تو وہ شخص اسے ( یعنی اپنے باپ کو چھوڑ دے گا ) ‘‘۔ راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے اصحاب اس بات کے قائل تھے کہ اُس شخص سے مراد ‘ حضرت ابراہیم علیہ السلام ہیں ، لیکن نبی اکرم ﷺ نے صرف وہی ارشاد فرمایا تھا ( جس کے الفاظ ہم نے نقل کر دیے ہیں ) ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

463

Majma al-Zawaid #463

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «يَلْقَى رَجُلٌ أَبَاهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيَقُولُ: يَا أَبَتِ، هَلْ أَنْتَ مُطِيعِي الْيَوْمَ؟ وَهَلْ أَنْتَ تَابِعِي الْيَوْمَ؟ فَيَقُولُ: نَعَمْ، فَيَأْخُذُ بِيَدِهِ فَيَنْطَلِقُ بِهِ حَتَّى يَأْتِيَ بِهِ اللَّهَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - وَهُوَ يَعْرِضُ الْخَلْقَ، فَيَقُولُ: أَيْ رَبِّ، إِنَّكَ وَعَدْتَنِي أَنْ لَا تُخْزِنِي، فَيُعْرِضُ اللَّهُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - عَنْهُ، ثُمَّ يَقُولُ: مِثْلَ ذَلِكَ، فَيَمْسَخُ اللَّهُ أَبَاهُ ضَبُعًا فَيَهْوِي فِي النَّارِ، فَيَقُولُ: أَبُوكَ، فَيَقُولُ: لَا أَعْرِفُكَ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه reported that the Prophet ﷺ said: > **"A man will meet his father on the Day of Resurrection and say: 'O my father, will you obey me today? Will you follow me today?'** > > **His father will reply: 'Yes.'** > > **So he will take him by the hand and proceed until he brings him before Allah, Blessed and Exalted, as He presents creation for judgment. The man will say: 'O my Lord, You promised me that You would not disgrace me!'** > > **Allah, Blessed and Exalted, will turn away from him. The man will repeat the same appeal. Then Allah will transform his father into a hyena and cast him into the Fire. The father will call: 'I am your father!' But he will reply: 'I do not know you.'"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ قیامت کے دن ‘ ایک شخص اپنے باپ کو ملے گا ‘ اور یہ کہے گا : اے ابا جان ! کیا آپ آج میری اطاعت کریں گے ؟ کیا آپ آج میری پیروی کریں گے ؟ تو اُس کا باپ جواب دے گا : جی ہاں ! تو وہ شخص اپنے باپ کا ہاتھ پکڑ کر اسے ساتھ لے کر ‘ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو گا ، جو مخلوق کی طرف متوجہ ہو گا ‘ وہ شخص کہے گا : اے میرے پروردگارا ! تو نے میرے ساتھ یہ وعدہ کیا تھا کہ تو مجھے رسوا نہیں کرے گا ‘ تو پروردگار اس شخص سے منہ پھیرے گا ‘ پھر وہ شخص اسی کی مانند بات کہے گا ‘ تو اللہ تعالیٰ اس کے باپ کو گوہ کی شکل میں مسخ کر دے گا ‘ اور پھر اسے جہنم میں ڈال دے گا ‘ اُس کا باپ کہے گا : میں تمہارا باپ ہوں ، تو وہ کہے گا : میں تمہیں نہیں پہچانتا ہوں “۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

464

Majma al-Zawaid #464

وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - «أَنَّ الْحَارِثَ بْنَ هِشَامٍ أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّكَ تَحُثُّ عَلَى صِلَةِ الرَّحِمِ، وَالْإِحْسَانِ إِلَى الْجَارِ، وَإِيوَاءِ الْيَتِيمِ، وَإِطْعَامِ الضَّيْفِ، وَإِطْعَامِ الْمِسْكِينِ، وَكُلُّ هَذَا كَانَ يَفْعَلُهُ هِشَامُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، فَمَا ظَنُّكَ بِهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" كُلُّ قَبْرٍ لَا يَشْهَدُ صَاحِبُهُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَهُوَ جَذْوَةٌ مِنَ النَّارِ، وَقَدْ وَجَدْتُ عَمِّي أَبَا طَالِبٍ فِي طِمْطَامٍ مِنَ النَّارِ، فَأَخْرَجَهُ اللَّهُ لِمَكَانِهِ مِنِّي وَإِحْسَانِهِ إِلَيَّ، فَجَعَلَهُ فِي ضِحْضَاحٍ مِنَ النَّارِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، وَهُوَ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ لَا يَحْتَجُّونَ بِحَدِيثِهِ، وَقَدْ وُثِّقَ.

EnglishUnverified translation

Umm Salamah رضي الله عنها, wife of the Prophet ﷺ, reported: Al-Ḥārith ibn Hishām came to the Prophet ﷺ on the day of the Farewell Pilgrimage and said, "O Messenger of Allah, you urge maintaining family ties, treating neighbors kindly, sheltering orphans, feeding guests, and providing for the destitute. All of this was done by Hishām ibn al-Mughīrah. What is your judgment regarding him, O Messenger of Allah?" The Messenger of Allah ﷺ said: > **"Every grave whose occupant did not testify that there is no deity worthy of worship except Allah is a blazing pit of the Fire. As for my uncle Abū Ṭālib, I found him in the deepest abyss of the Fire, but Allah brought him out on account of his standing with me and his kindness towards me, placing him in a shallow part of the Fire."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا ‘ جو نبی اکرم ﷺ کی زوجہ محترمہ ہیں ‘ وہ بیان کرتی ہیں : ’’ حارث بن ہشام ‘ حجۃ الوداع کے دن ‘ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور بولے : یا رسول اللہ ! آپ صلہ رحمی کرنے ‘ پڑوسی کے ساتھ اچھائی کرنے ‘ یتیم کی دیکھ بھال کرنے ‘ مہمان کو کھانا کھلانے ‘ غریب کو کھانا کھلانے کی ترغیب دیتے ہیں ، تو یہ سب کام تو ( میرے والد ) ہشام بن مغیرہ بھی کیا کرتے تھے ‘ یا رسول اللہ ! ان کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جس بھی قبر والا ( یعنی مرنے والوں میں سے جو بھی ) شخص اس بات کی گواہی نہیں دیتا تھا کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے تو وہ قبر جہنم کا ٹکڑا ہو گی ، میں نے اپنے چچا جناب ابوطالب کو جہنم کے سب سے گہرے حصے میں پایا ‘ اُن کی مجھ سے نسبت اور ان کے میرے ساتھ اچھے سلوک کی وجہ سے ‘ اللہ تعالیٰ نے انہیں اس مقام سے نکالا اور اُنہیں جہنم کے اوپر والے حصے میں رکھ دیا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن محمد بن عقیل ہے ‘ جو منکر الحدیث ہے ‘ لوگ اس کی حدیث سے استدلال نہیں کرتے ہیں ‘ ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔

465

Majma al-Zawaid #465

وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: قُلْتُ: «يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ عَمِّي هِشَامَ بْنَ الْمُغِيرَةِ كَانَ يُطْعِمُ الطَّعَامَ، وَيَصِلُ الرَّحِمَ، وَيَفْعَلُ وَيَفْعَلُ، فَلَوْ أَدْرَكَكَ أَسْلَمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" كَانَ يُعْطِي لِلدُّنْيَا وَحَمْدِهَا وَذِكْرِهَا، وَمَا قَالَ يَوْمًا قَطُّ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي خَطِيئَتِي يَوْمَ الدِّينِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَأَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Umm Salamah رضي الله عنها said: I said, "O Messenger of Allah, my uncle Hishām ibn al-Mughīrah used to provide food, maintain family ties, and do such-and-such; had he lived to your time, he surely would have embraced Islam." The Messenger of Allah ﷺ said: > **"He gave only for the sake of the world, its praise, and its renown; and he never once said in all his life: 'O Allah, forgive me my sins on the Day of Judgment.'"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرا چچا ہشام بن مغیرہ کھانا کھلایا کرتا تھا ‘ صلہ رحمی کرتا تھا ‘ یہ کرتا تھا ‘ اور وہ کرتا تھا ، اگر وہ آپ ﷺ کا زمانہ پا لیتا تو وہ مسلمان بھی ہو جاتا ‘ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : وہ دنیا کے لیے دنیا کی تعریف کے لیے ‘ دنیا میں چرچے کے لئے دیا کرتا تھا ‘ اُس نے کبھی ایک دن بھی یہ نہیں کہا : اے اللہ : قیامت کے دن میری خطاؤں کی مغفرت کر دینا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں .

466

Majma al-Zawaid #466

وَعَنْ سَلَمَةَ بْنِ يَزِيدَ الْجُعْفِيِّ قَالَ: «انْطَلَقْتُ أَنَا وَأَخِي وَأَبِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أُمَّنَا مُلَيْكَةَ كَانَتْ تَصِلُ الرَّحِمَ، وَتُقْرِي الضَّيْفَ وَتَفْعَلُ وَتَفْعَلُ، هَلَكَتْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَهَلْ ذَلِكَ نَافِعُهَا شَيْئًا؟ قَالَ: "" لَا "". قَالَ: قُلْنَا: فَإِنَّهَا كَانَتْ وَأَدَتْ أُخْتًا لَهَا فَهَلْ ذَلِكَ نَافِعُهَا شَيْئًا؟ قَالَ: "" الْوَائِدَةُ وَالْمَوْءُودَةُ فِي النَّارِ، إِلَّا أَنْ تُدْرِكَ الْوَائِدَةُ الْإِسْلَامَ لِيَعْفُوَ اللَّهُ عَنْهَا» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ بِنَحْوِهِ.

EnglishUnverified translation

Salamah ibn Yazīd al-Juʿfī رضي الله عنه said: My brother, my father, and I went to the Messenger of Allah ﷺ. We said, "O Messenger of Allah, our mother Mulaykah used to maintain family ties, honor the guest, and perform virtuous deeds, but she died in the pre-Islamic period of ignorance; will any of that benefit her?" He ﷺ said: > **"No."** We said, "She had saved an infant sister of hers from being buried alive; will that benefit her at all?" The Messenger of Allah ﷺ said: > **"Both the one who buries an infant alive and the infant buried alive are in the Fire, unless the one who buried her alive lived to embrace Islam and Allah pardons her."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سلمہ بن یزید جعفی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں ‘ میرے بھائی اور میرے والد ‘ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضری کے لیے روانہ ہوئے ، ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہماری والدہ ملیکہ صلہ رحمی کیا کرتی تھی ، مہمان نوازی کرتی تھی ‘ یہ کرتی تھی وہ کرتی تھی اُن کا انتقال زمانہ جاہلیت میں ہو گیا تھا ، تو کیا یہ چیز ( یعنی بھلائی کے کام کرنا ) انہیں نفع دے گی ‘ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جی نہیں ! راوی بیان کرتے ہیں : ہم نے کہا : اُس خاتون نے اپنی ایک بہن کو زندہ درگور ہونے سے بچا لیا تھا ‘ تو کیا یہ چیز انہیں کچھ فائدہ دے گی ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ’’ زندہ درگور کرنے والی ‘ زندہ درگور ہونے والی جہنم میں جائیں گے ‘ البتہ اگر زندہ درگور کرنے والی عورت اسلام کو پا لے تو ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس سے درگزر کرے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ‘ امام طبرانی نے معجم کبیر میں اس کی مانند روایت نقل کی ہے ۔

467

Majma al-Zawaid #467

وَعَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ قَالَ: قُلْتُ: «يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَبِي كَانَ يَصِلُ الرَّحِمَ، وَيَفْعَلُ كَذَا وَكَذَا. قَالَ: "" إِنَّ أَبَاكَ أَرَادَ أَمْرًا فَأَدْرَكَهُ "" - يَعْنِي الذِّكْرَ» -. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ.

EnglishUnverified translation

ʿAdī ibn Ḥātim رضي الله عنه said: I said, "O Messenger of Allah, my father used to maintain family ties and do such-and-such." The Messenger of Allah ﷺ said: > **"Indeed, your father desired a certain matter and he attained it"** — meaning worldly fame and praise.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے والد صلہ رحمی کیا کرتے تھے اور فلاں فلاں کام کرتے تھے ‘ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تمہارے والد نے ایک چیز کا ارادہ کیا اور اُس کو پا لیا ۔ ( راوی بیان کرتے ہیں : ) نبی اکرم ﷺ کی مراد ‘ تذکرہ ( یعنی شہرت تھی ) ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اس کے رجال ثقہ ہیں ‘ اسے امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کیا ہے ۔

468

Majma al-Zawaid #468

وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ «أَنَّ عَدِيَّ بْنَ حَاتِمٍ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَبِي كَانَ يَصِلُ الرَّحِمَ، وَيَحْمِلُ الْكَلَّ، وَيُطْعِمُ الطَّعَامَ. قَالَ: فَهَلْ أَدْرَكَ الْإِسْلَامَ؟ قَالَ: "" لَا "" قَالَ: "" فَإِنَّ أَبَاكَ كَانَ يُحِبُّ أَنْ يُذْكَرَ فَذُكِرَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ، وَهُوَ مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ.

EnglishUnverified translation

Sahl ibn Saʿd al-Sāʿidī رضي الله عنه reported: ʿAdī ibn Ḥātim came to the Messenger of Allah ﷺ and said, "O Messenger of Allah, my father used to maintain family ties, bear the burdens of the destitute, and feed the hungry." The Messenger of Allah ﷺ asked: > **"Did he live to witness Islam?"** ʿAdī replied, "No." He ﷺ said: > **"Indeed, your father loved to be remembered, and he was indeed remembered."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : عدی بن حاتم ‘ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور بولے : یا رسول اللہ ! میرے والد صلہ رحمی کرتے تھے ‘ دوسروں کا بوجھ اُٹھاتے تھے ‘ کھانا کھلاتے تھے ‘ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کیا انہوں نے اسلام کا زمانہ پایا ہے ؟ حضرت عدی رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : جی نہیں ! نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تمہارے والد اس چیز کو پسند کرتے تھے کہ ان کا ذکر کیا جائے ‘ تو اُن کا ذکر ہو گیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی رشدین بن سعد ہے اور وہ متروک الحدیث ہے ۔

469

Majma al-Zawaid #469

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: «ذُكِرَ حَاتِمٌ عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" ذَاكَ رَجُلٌ أَرَادَ أَمْرًا فَأَدْرَكَهُ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ عُبَيْدُ بْنُ وَاقَدٍ الْقَيْسِيُّ، ضَعَّفَهُ أَبُو حَاتِمٍ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿUmar رضي الله عنهما said: Ḥātim was mentioned in the presence of the Prophet ﷺ, whereupon he said: > **"That was a man who desired a certain thing, and he achieved it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے سامنے حاتم طائی کا ذکر کیا گیا ‘ تو آپ نے ارشاد فرمایا : وہ ایک ایسا شخص تھا ‘ جس نے ایک چیز ( یعنی شہرت کے حصول ) کا ارادہ کیا ‘ تو اُس نے اس چیز کو پا لیا ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عبید بن واقد قیسی ہے ‘ جسے ابوحاتم نے ضعیف قرار دیا ہے ۔

470

Majma al-Zawaid #470

وَعَنْ سَلَمَةَ بْنِ عَامِرٍ الضَّبِّيِّ قَالَ: «أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَبِي كَانَ يَصِلُ الرَّحِمَ، وَيَقْرِي الضَّيْفَ، وَيَفِي بِالذِّمَّةِ. قَالَ: "" وَلَمْ يُدْرِكِ الْإِسْلَامَ؟ "". قَالَ: لَا. فَلَمَّا وَلَّيْتُ، فَقَالَ: "" عَلَيَّ بِالشَّيْخِ "" قَالَ: "" يَكُونُ ذَلِكَ فِي عَقِبِكَ، فَلَنْ تَزُولُوا، وَلَنْ تَتَفَرَّقُوا أَبَدًا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.

EnglishUnverified translation

Salamah ibn ʿĀmir al-Ḍabbī رضي الله عنه said: I came to the Prophet ﷺ and said, "O Messenger of Allah, my father used to maintain family ties, honor the guest, and fulfill his covenants." He ﷺ asked: > **"And he did not live to witness Islam?"** I replied, "No." When I turned to depart, the Prophet ﷺ said: > **"Bring the elder back to me."** He ﷺ then said: > **"That virtue shall remain among your descendants; you will never lose it, nor will you ever be divided."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سلمہ بن عامر ضبی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ‘ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے والد صلہ رحمی کرتے تھے ‘ مہمان نوازی کرتے تھے ‘ ذمہ کو پورا کرتے تھے ‘ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : انہوں نے اسلام کا زمانہ نہیں پایا ؟ میں نے جواب دیا : جی نہیں ! جب میں مڑ کر جانے لگا ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اس بوڑھے کو میرے پاس لاؤ آپ نے فرمایا : یہ ( یعنی سخاوت کی عادت ) تمہارے بعد والوں میں رہے گی ، تم ہمیشہ اس پر رہو گے اور کبھی جدا نہیں ہو گے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

471

Majma al-Zawaid #471

وَعَنْ عَفِيفٍ الْكِنْدِيِّ قَالَ: «بَيْنَا نَحْنُ عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذْ أَقْبَلَ وَفْدٌ مِنَ الْيَمَنِ، فَذَكَرُوا امْرَأَ الْقَيْسِ بْنَ حُجْرٍ الْكِنْدِيَّ، وَذَكَرُوا بَيْتَيْنِ مِنْ شِعْرِهِ فِيهِمَا ذِكْرُ ضَارِجِ مَاءٍ مِنْ مِيَاهِ الْعَرَبِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" ذَاكَ رَجُلٌ مَذْكُورٌ فِي الدُّنْيَا، مَنْسِيٌّ فِي الْآخِرَةِ، شَرِيفٌ فِي الدُّنْيَا خَامِلٌ فِي الْآخِرَةِ، يَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَعَهُ لِوَاءُ الشُّعَرَاءِ يَقُودُهُمْ إِلَى النَّارِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ مِنْ طَرِيقِ سَعْدِ بْنِ فَرْوَةَ بْنِ عَفِيفٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ، وَلَمْ أَرَ مَنْ تَرْجَمَهُمْ.

EnglishUnverified translation

ʿAfīf al-Kindī رضي الله عنه said: While we were in the company of the Prophet ﷺ, a delegation from Yemen arrived. They mentioned Imruʾ al-Qays ibn Ḥujr al-Kindī and recited two lines of his poetry mentioning Ḍārij, one of the famous water springs of Arabia. The Messenger of Allah ﷺ said: > **"That is a man remembered in this world but forgotten in the Hereafter; renowned in this world but ignoble in the Hereafter. He will arrive on the Day of Resurrection carrying the banner of the poets, leading them into the Fire."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عفیف کندی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کے پاس موجود تھے ‘ یمن کا وفد آ گیا ‘ اُن لوگوں نے ( زمانہ جاہلیت کے مشہور شاعر ) امراء القیس بن حجر کندی کا ذکر کیا ‘ اُس کے اشعار میں سے دو مصرعے ذکر کیے ‘ جن میں عرب کے پانیوں میں سے ایک پانی کے چشمے کا ذکر تھا ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : وہ ایک ایسا شخص تھا ، جس کا ذکر دنیا میں ہے اور آخرت میں اُسے بھلا دیا جائے گا ‘ وہ دنیا میں معزز ہے اور آخرت میں بے عزت ہو گا ‘ جب وہ قیامت کے دن آئے گا ‘ تو اُس کے پاس شعراء کا جھنڈا ہو گا ‘ اور وہ ان ( شعراء ) کی قیادت کرتا ہوا جہنم کی طرف ( ان شعراء کو ) لے جائے گا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں ‘ سعد بن فروہ بن عفیف کے حوالے سے ‘ اُن کے والد اور دادا سے روایت کی ہے ‘ اور میں نے کسی کو ان کے حالات ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ۔