وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمَّا أَقْبَلَ مِنْ غَزْوَةِ تَبُوكَ وَاعْتَمَرَ، فَلَمَّا هَبَطَ مِنْ ثَنِيَّةِ عُسْفَانَ، أَمَرَ أَصْحَابَهُ أَنْ يَسْتَسْنِدُوا إِلَى الْعَقَبَةِ حَتَّى أَرْجِعَ إِلَيْكُمْ، فَذَهَبَ فَنَزَلَ عَلَى قَبْرِ أُمِّهِ، فَنَاجَى رَبَّهُ طَوِيلًا، ثُمَّ إِنَّهُ بَكَى فَاشْتَدَّ بُكَاؤُهُ وَبَكَى هَؤُلَاءِ لِبُكَائِهِ، وَقَالُوا: مَا بَكَى نَبِيُّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِهَذَا الْمَكَانِ إِلَّا وَقَدْ حَدَثَ فِي أُمَّتِهِ شَيْءٌ لَا يُطِيقُهُ، فَلَمَّا بَكَى هَؤُلَاءِ، قَامَ فَرَجَعَ إِلَيْهِمْ فَقَالَ: "" مَا يُبْكِيكُمْ؟ "" قَالُوا: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، بَكَيْنَا لِبُكَائِكَ، قُلْنَا: لَعَلَّهُ حَدَثَ فِي أُمَّتِكَ شَيْءٌ لَا تُطِيقُهُ، قَالَ: "" لَا، وَقَدْ كَانَ بَعْضُهُ، وَلَكِنْ نَزَلْتُ عَلَى قَبْرٍ، فَدَعَوْتُ اللَّهَ أَنْ يَأْذَنَ لِي فِي شَفَاعَتِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَأَبَى اللَّهُ أَنْ يَأْذَنَ لِي، فَرَحِمْتُهَا وَهِيَ أُمِّي فَبَكَيْتُ، ثُمَّ جَاءَنِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَقَالَ: "" {وَمَا كَانَ اسْتِغْفَارُ إِبْرَاهِيمَ لِأَبِيهِ إِلَّا عَنْ مَوْعِدَةٍ وَعَدَهَا إِيَّاهُ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُ أَنَّهُ عَدُوٌّ لِلَّهِ تَبَرَّأَ مِنْهُ} [التوبة: 114] ""، فَتَبْرَأْ مِنْ أُمِّكَ كَمَا تَبَرَّأَ إِبْرَاهِيمُ مِنْ أَبِيهِ، فَرَحِمْتُهَا وَهِيَ أُمِّي، فَدَعَوْتُ رَبِّي أَنْ يَرْفَعَ عَنْ أُمَّتِي أَرْبَعًا فَرَفَعَ عَنْهُمُ اثْنَتَيْنِ، وَأَبَى أَنْ يَرْفَعَ عَنْهُمُ اثْنَتَيْنِ: دَعَوْتُ رَبِّي أَنْ يَرْفَعَ عَنْهُمُ الرَّجْمَ مِنَ السَّمَاءِ، وَالْغَرَقَ مِنَ الْأَرْضِ، وَأَنْ لَا يُلْبِسَهُمْ شِيَعًا، وَأَنْ لَا يُذِيقَ بَعْضَهُمْ بَأْسَ بَعْضٍ، فَرَفَعَ عَنْهُمُ الرَّجْمَ مِنَ السَّمَاءِ، وَالْغَرَقَ مِنَ الْأَرْضِ، وَأَبَى اللَّهُ أَنْ تُرْفَعَ عَنْهُمُ اثْنَتَانِ: الْقَتْلُ وَالْهَرْجُ "". وَإِنَّمَا عَدَلَ إِلَى قَبْرِ أُمِّهِ ; لِأَنَّهَا مَدْفُونَةٌ تَحْتَ كَذَا وَكَذَا، وَكَانَ عُسْفَانَ لَهُمْ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ أَبُو الدَّرْدَاءِ وَعَبْدُ الْغَفَّارِ بْنُ الْمُنِيبِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، وَمَنْ عَدَا عِكْرِمَةَ لَمْ أَعْرِفْهُمْ، وَلَمْ أَرَ مَنْ ذَكَرَهُمْ.
EnglishUnverified translation
ʿAbdullāh ibn ʿAbbās رضي الله عنهما said: When the Prophet ﷺ returned from the Expedition of Tabūk and performed ʿUmrah, upon descending from the mountain pass of ʿUsfān, he instructed his Companions: "Lean against the mountain pass until I return to you." He went and paused beside the grave of his mother, conversing privately with his Lord for a long time. Then he wept intensely, and the Companions wept because of his weeping. They said, "The Prophet of Allah ﷺ would not weep in this place unless something had occurred concerning his nation that he cannot bear." When they wept, he arose and returned to them, asking: > **"What makes you weep?"** They said, "O Prophet of Allah, we wept because of your weeping; we said: 'Perhaps something has occurred concerning your nation that you cannot bear.'" He ﷺ said: > **"No, though a part of it was that. Rather, I stopped beside a grave and supplicated Allah to permit me to intercede for her on the Day of Resurrection, but Allah refused to permit me. So I felt compassion for her, for she is my mother, and I wept.** > > **Then Gabriel عليه السلام came to me and recited: *{And the request of forgiveness of Abraham for his father was only because of a promise he had made to him. But when it became clear to him that he was an enemy to Allah, he disassociated himself from him.}* [At-Tawbah: 114]. Gabriel said: 'Disassociate yourself from your mother just as Abraham disassociated himself from his father.' But I felt compassion for her, for she is my mother.** > > **Then I supplicated my Lord to lift four afflictions from my nation, and He lifted two of them and refused to lift two: I asked my Lord to lift from them pelting stones from the sky and drowning into the earth, and that He not divide them into warring factions nor make some of them taste the violence of others. He lifted from them pelting stones from the sky and drowning into the earth, but Allah refused to lift two from them: bloodshed and turmoil (al-harj).'"** [The narrator noted: He only detoured to his mother's grave because she was buried under such-and-such, and ʿUsfān belonged to their maternal lineage.]
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم ﷺ غزوہ تبوک سے واپس تشریف لائے اور عمرہ کے لیے روانہ ہوئے ‘ تو جب ’’ عسفان ‘‘ نامی گھاٹی کے پاس پہنچے ‘ تو آپ نے اپنے اصحاب کو حکم دیا کہ وہ گھاٹی کے ساتھ ٹیک لگا کر رکھیں جب تک میں تم لوگوں کے پاس وقت نہیں آ جاتا ‘ نبی اکرم ﷺ تشریف لے گئے اور اپنی والدہ کی قبر کے پاس ٹھہرے ‘ آپ ﷺ نے اپنے پروردگار کی بارگاہ میں طویل مناجات کی ‘ پھر آپ رونے لگے اور بہت روئے ‘ یہاں تک کہ آپ کے رونے کی وجہ سے ‘ دوسرے لوگ بھی رونے لگے ‘ لوگوں نے دریافت کیا : اللہ کے نبی اس مقام پر کیوں روئے ہیں ؟ اس کی وجہ یہی ہو گی کہ آپ کی امت کے بارے میں کوئی ایسی چیز سامنے آئی ہو گی کہ آپ کو خود پر قابو نہیں رہا ‘ جب لوگوں نے بھی رونا شروع کیا ‘ تو نبی اکرم ﷺ اُٹھے اور اُن لوگوں کے پاس واپس تشریف لائے ‘ تو آپ نے دریافت کیا : تم لوگ کیوں رو رہے ہو ؟ اُن لوگوں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! آپ کے رونے کی وجہ سے ہم بھی رو رہے ہیں ، ہم نے کہا : ہم یہ سمجھے کہ شاید آپ کی امت کے بارے میں کوئی نئی چیز رونما ہوئی ہے ‘ جس کی آپ طاقت نہیں رکھتے ( یا جسے دیکھ کر آپ کو خود پر قابو نہیں رہا ) نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جی نہیں ! ( یعنی ایسا نہیں ہے ) لیکن اس کا کچھ حصہ ہے ‘ میں اس قبر کے پاس آیا میں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ قیامت کے دن مجھے اُن کی شفاعت کرنے کی اجازت دے ‘ تو اللہ تعالیٰ نے مجھے اجازت دینے سے انکار کر دیا ‘ تو مجھے اس خاتون پر رحم آ گیا ‘ کیونکہ وہ میری والدہ ہیں ، تو میں رونے لگ گیا پھر جبرائیل میرے پاس آئے اور بولے : ( یعنی اُنہوں نے یہ آیات تلاوت کیں : ) ’’ ابراہیم نے اپنے باپ کے لئے جو استغفار کیا تھا ‘ وہ صرف ایک وعدے کی وجہ سے تھا ، جو اُس نے اس شخص کے ساتھ کیا تھا ، لیکن جب اُس ( یعنی ابراہیم ) کے سامنے یہ بات واضح ہو گئی کہ وہ شخص ‘ اللہ کا دشمن ہے ‘ تو اُس ( یعنی ابراہیم نے ) اس شخص سے لاتعلقی اختیار کی ‘‘۔ ( حضرت جبرائیل علیہ السلام نے نبی اکرم ﷺ سے کہا : ) تو آپ ﷺ بھی اپنی والدہ سے اُسی طرح لاتعلقی اختیار کریں ، جس طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے والد سے لاتعلقی اختیار کی تھی ۔ نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں : تو مجھے اُن پر رحم آ گیا کیونکہ وہ میری والدہ ہیں ۔ آپ ﷺ نے یہ بھی ارشاد فرمایا : ) میں نے اپنے پروردگار سے دعا مانگی کہ وہ میری امت سے چار چیزیں اُٹھا لے ‘ تو اُس نے اُن لوگوں سے دو چیزیں اٹھا لیں ‘ اور دو چیزیں اُن سے اُٹھانے سے انکار کر دیا ‘ میں نے اپنے پروردگار سے دعا کی : کہ وہ اُن سے یہ اُٹھا لے کہ انہیں آسمان سے سنگسار کیا جائے ‘ یا انہیں زمین میں ڈبو ( یعنی دھنسا ) دیا جائے ( اور یہ دعا مانگی : ) کہ اللہ تعالیٰ انہیں مختلف گروہوں میں تقسیم نہ کرے ‘ اور انہیں ایک دوسرے کے ذریعے ہلاکت کا شکار نہ کرے ‘ تو اللہ تعالیٰ نے ان سے یہ چیز اٹھا لی کہ انہیں آسمان سے سنگسار کیا جائے ‘ یا زمین میں پھنسایا جائے ‘ اور اللہ تعالیٰ نے اُن سے دو چیزیں اٹھانے سے انکار کر دیا ‘ قتل اور ہرج ۔ ( راوی بیان کرتے ہیں : ) نبی اکرم ﷺ اپنی والدہ کی قبر پر جانے کے لیے عام گزرگاہ سے ہٹ گئے تھے ‘ کیونکہ آپ کی والدہ فلاں جگہ پر دفن تھیں ‘ اور یہ ’’ عسفان ‘‘ کے مقام کی بات ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں یہ مذکور ہے : اسے ابودرداء اور عبدالغفار بن غنیم نامی راویوں نے اسحاق بن عبداللہ کے حوالے سے ‘ اُن کے والد کے حوالے سے ‘ عکرمہ سے روایت کیا ہے ‘ لیکن عکرمہ کے علاوہ باقی راویوں میں سے میں کسی سے واقف نہیں ہوں ‘ اور نہ ہی میں نے کسی کو ان کا ذکر کرتے ہوئے دیکھا ہے ۔