وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ مَرَّ بِسُوقِ الْمَدِينَةِ فَوَقَفَ عَلَيْهَا، فَقَالَ: يَا أَهْلَ السُّوقِ، مَا أَعْجَزَكُمْ؟ قَالُوا: وَمَا ذَاكَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ؟ قَالَ: ذَاكَ مِيرَاثُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُقَسَّمُ وَأَنْتُمْ هَاهُنَا، أَلَا تَذْهَبُونَ فَتَأْخُذُونَ نَصِيبَكُمْ مِنْهُ؟ قَالُوا: وَأَيْنَ هُوَ؟ قَالَ: فِي الْمَسْجِدِ، فَخَرَجُوا سِرَاعًا وَوَقَفَ أَبُو هُرَيْرَةَ لَهُمْ حَتَّى رَجَعُوا، فَقَالَ لَهُمْ: مَا لَكُمْ؟ قَالُوا: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ، فَقَدْ أَتَيْنَا الْمَسْجِدَ فَدَخَلْنَا، فَلَمْ نَرَ فِيهِ شَيْئًا يُقَسَّمُ، فَقَالَ لَهُمْ أَبُو هُرَيْرَةَ: وَمَا رَأَيْتُمْ فِي الْمَسْجِدِ أَحَدًا؟ قَالُوا: بَلَى، رَأَيْنَا قَوْمًا يُصَلُّونَ، وَقَوْمًا يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ، وَقَوْمًا يَتَذَاكَرُونَ الْحَلَالَ وَالْحَرَامَ، فَقَالَ لَهُمْ أَبُو هُرَيْرَةَ: وَيْحَكُمْ، فَذَاكَ مِيرَاثُ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.
EnglishUnverified translation
Abū Hurayrah رضي الله عنه passed by the market of Madīnah, stopped by it, and called out: "O people of the market, what renders you so helpless?" They asked, "And what is that, O Abū Hurayrah?" He said, "There is the inheritance of the Messenger of Allah ﷺ being distributed while you remain here! Will you not go and take your share of it?" They asked, "Where is it?" He replied, "In the mosque." So they rushed out hurriedly, and Abū Hurayrah waited for them until they returned. He asked them, "What happened to you?" They said, "O Abū Hurayrah, we went to the mosque and entered, but we did not see anything being distributed therein!" Abū Hurayrah asked them, "Did you not see anyone in the mosque?" They replied, "Yes, indeed; we saw people praying, people reciting the Qur'an, and people studying the lawful and the prohibited." Abū Hurayrah said to them: > **"Woe unto you! That is the true inheritance of Muḥammad ﷺ."**
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : ایک مرتبہ وہ مدینہ منورہ کے بازار سے گزر رہے تھے ‘ وہ ٹھہر گئے ‘ اور بولے : اے بازار والو ! تم لوگوں کو کس چیز نے عاجز کر دیا ہے ؟ اُن لوگوں نے دریافت کیا : اے حضرت ابوہریرہ ! کیا ہوا ؟ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اللہ کے رسول کی میراث تقسیم ہو رہی ہے اور تم لوگ یہاں موجود ہو ‘ تم لوگ جا کر اپنا حصہ کیوں نہیں وصول کرتے ہو ؟ لوگوں نے دریافت کیا : وہ کہاں ( تقسیم ہو رہی ) ہے ؟ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بتایا : مسجد میں ، تو وہ لوگ جلدی سے چلے گئے ‘ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اُن لوگوں کی خاطر وہیں ٹھہرے رہے ‘ یہاں تک کہ وہ لوگ واپس آ گئے ‘ تو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ان سے دریافت کیا : کیا ہوا ؟ اُن لوگوں نے جواب دیا : اے حضرت ابوہریرہ ! ہم لوگ مسجد گئے ‘ اُس میں داخل ہوئے ، ہمیں اُس میں کوئی چیز تقسیم ہوتی دکھائی نہیں دی ، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اُن سے دریافت کیا : کیا تم نے مسجد میں کسی کو نہیں دیکھا ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ( یعنی دیکھا ہے ) ہم نے کچھ لوگوں کو دیکھا کہ وہ نماز پڑھ رہے تھے ‘ اور کچھ لوگ قرآن پڑھ رہے تھے اور کچھ لوگ حلال اور حرام کے بارے میں مذاکرہ کر رہے تھے ‘ تو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اُن لوگوں سے فرمایا : تمہارا ستیاناس ہو ‘ یہی حضرت محمد ﷺ کی میراث ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔