Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 1 · Chapter 8

Book of Faith

Hadith 281–320

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

281

Majma al-Zawaid #281

وَعَنْ أَبِي رَزِينٍ قَالَ: «قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ يُحْيِي اللَّهُ الْمَوْتَى؟ قَالَ: "" أَوَمَا مَرَرْتَ بِوَادِي قَوْمِكَ مَحْلًا، ثُمَّ تَمُرُّ بِهِ خَضِرًا، ثُمَّ تَمُرُّ بِهِ مَحْلًا، ثُمَّ تَمُرُّ بِهِ خَضِرًا؟ كَذَلِكَ يُحْيِي اللَّهُ الْمَوْتَى» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.

EnglishUnverified translation

Abū Razīn رضي الله عنه said: I said, "O Messenger of Allah, how does Allah bring the dead back to life?" The Prophet ﷺ said: > **"Have you not passed by the valley of your people when it was barren and drought-stricken, then passed by it when it was lush and green, then passed by it when it was barren, and then passed by it when it was lush and green?"** I said, "Yes, indeed." He ﷺ said: > **"In such a manner does Allah bring the dead back to life."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابورزین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اللہ تعالیٰ مُردوں کو کیسے زندہ کرے گا ؟ آپ نے ارشاد فرمایا : کیا کبھی تمہارا گزر اپنی قوم کے علاقے میں کسی ایسی بنجر جگہ سے ہوا ہے ؟ کہ جب تم بعد میں اُس کے پاس سے گزرے ہو ‘ تو وہ سرسبز ہو چکی ہو ‘ پھر جب تم اُس کے پاس سے گزرو ‘ تو وہ بنجر ہو چکی ہو ‘ پھر تم اُس کے پاس سے گزرو ‘ تو وہ سرسبز ہو ‘ اسی طرح اللہ تعالیٰ مردوں کو زندہ کرے گا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

282

Majma al-Zawaid #282

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: "" إِنَّ رَبَّكُمْ - تَعَالَى - لَيْسَ عِنْدَهُ لَيْلٌ وَلَا نَهَارٌ، نُورُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ مِنْ نُورِ وَجْهِهِ، وَإِنَّ مِقْدَارَ يَوْمٍ مِنْ أَيَّامِكُمْ عِنْدَهُ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ سَاعَةً، وَتُعْرَضُ عَلَيْهِ أَعْمَالُكُمْ بِالْأَمْسِ أَوَّلَ النَّهَارِ الْيَوْمَ، فَيَنْظُرُ فِيهَا ثَلَاثَ سَاعَاتٍ، فَيَطَّلِعُ فِيهَا عَلَى مَا يَكْرَهُ فَيُغْضِبُهُ ذَلِكَ، فَأَوَّلُ مَنْ يَعْلَمُ غَضَبَهُ حَمَلَةُ الْعَرْشِ، يَجِدُونَهُ ثَقُلَ عَلَيْهِمْ، فَتَسْجُدُ حَمَلَةُ الْعَرْشِ وَسُرَادِقَاتِ الْعَرْشِ وَالْمَلَائِكَةُ الْمُقَرَّبُونَ وَسَائِرُ الْمَلَائِكَةِ، ثُمَّ يَنْفُخُ جِبْرِيلُ بِالْقَرْنِ، فَلَا يَبْقَى شَيْءٌ إِلَّا سَمِعَ صَوْتَهُ، فَيُسَبِّحُونَ الرَّحْمَنَ - عَزَّ وَجَلَّ - ثَلَاثَ سَاعَاتٍ، حَتَّى يَمْتَلِئَ الرَّحْمَنُ رَحْمَةً، فَتِلْكَ سِتُّ سَاعَاتٍ، ثُمَّ تُؤْتَى بِالْأَرْحَامِ فَيَنْظُرُ فِيهَا ثَلَاثَ سَاعَاتٍ، فَذَلِكَ قَوْلُهُ فِي كِتَابِهِ "" {هُوَ الَّذِي يُصَوِّرُكُمْ فِي الْأَرْحَامِ كَيْفَ يَشَاءُ} [آل عمران: 6] ""، "" {يَهَبُ لِمَنْ يَشَاءُ إِنَاثًا وَيَهَبُ لِمَنْ يَشَاءُ الذُّكُورَ - أَوْ يُزَوِّجُهُمْ ذُكْرَانًا وَإِنَاثًا وَيَجْعَلُ مَنْ يَشَاءُ عَقِيمًا إِنَّهُ عَلِيمٌ قَدِيرٌ} [الشورى: 49 - 50] "" فَتِلْكَ تِسْعُ سَاعَاتٍ، ثُمَّ يُؤْتَى بِالْأَرْزَاقِ فَيُنْظَرُ فِيهَا ثَلَاثَ سَاعَاتٍ، فَذَلِكَ قَوْلُهُ "" {يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَشَاءُ وَيَقْدِرُ} [الرعد: 26] ""، "" {كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنٍ} [الرحمن: 29] "". قَالَ: هَذَا مِنْ شَأْنِكُمْ وَشَأْنِ رَبِّكُمْ - عَزَّ وَجَلَّ - "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ أَبُو عَبْدِ السَّلَامِ. قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: مَجْهُولٌ، وَقَدْ ذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مِكْرَزٍ - أَوْ عُبَيْدُ اللَّهِ عَلَى الشَّكِّ - لَمْ أَرَ مَنْ ذَكَرَهُ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Masʿūd رضي الله عنه said: > **"Indeed, with your Lord the Exalted there is neither night nor day; the light of the heavens and the earth is from the light of His Face. The measure of a day of your days with Him is twelve hours. Your deeds of yesterday are presented before Him at the start of today; He examines them for three hours, and when He sees what He dislikes, it angers Him. The first to realize His anger are the bearers of the Throne, as they find it becoming heavy upon them. Then the bearers of the Throne, the canopies of the Throne, the proximate angels, and all other angels fall down in prostration. Gabriel then blows into the Horn such that everything hears his voice, and they glorify the Most Merciful, Mighty and Majestic is He, for three hours until the Most Merciful is filled with mercy—that makes six hours. Then the wombs are brought and He examines them for three hours; that is His saying in His Book: 'It is He who forms you in the wombs however He wills' (3:6), and 'He grants to whom He wills females and He grants to whom He wills males, or He makes them both males and females, and He renders whom He wills barren; indeed, He is Knowing and Competent' (42:49-50)—that makes nine hours. Then the provisions are brought and He examines them for three hours; that is His saying: 'Allah extends provision for whom He wills and restricts it' (13:26), and 'Every day He is bringing about a matter' (55:29). This is from your affairs and the affairs of your Lord, Mighty and Majestic is He."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : تمہارے پروردگار کے پاس رات اور دن نہیں ہوتے ہیں ، آسمانوں اور زمین کا نور ‘ اس کی ذات کے نور کے فیض کی وجہ سے ہے ‘ اور تمہارے دنوں کے حوالے سے ‘ ایک دن اُس کی بارگاہ میں بارہ گھڑیوں کا ہوتا ہے ‘ گزشتہ دن کے تمہارے اعمال ‘ آج کے دن کے ابتدائی حصے میں اُس کی بارگاہ میں پیش کیے جاتے ہیں ، تو وہ تین گھڑیوں میں اُن کا جائزہ لیتا ہے اور جب وہ ان اعمال میں کوئی ایسی چیز پاتا ہے ‘ جو اسے ناپسند ہو ‘ تو یہ چیز اسے غضبناک کر دیتی ہے ‘ اس کے غضب کے بارے میں سب سے پہلے عرش کو اُٹھانے والے فرشتوں کو علم ہوتا ہے ‘ وہ اپنے اوپر اس کا بوجھ پاتے ہیں ، تو عرش کو اٹھانے والے عرش کے پردوں کو اٹھانے والے ‘ دیگر مقرب فرشتے ‘ اور تمام فرشتے سجدہ میں چلے جاتے ہیں ، پھر حضرت جبرائیل علیہ السلام سینگ میں پھونک مارتے ہیں ‘ تو ہر چیز اُن کی آواز سنتی ہے ‘ پھر وہ سب تین گھڑیوں تک رحمن کی تسبیح بیان کرتے ہیں ، یہاں تک کہ رحمان ‘ رحمت سے بھر جاتا ہے ‘ تو یہ چھ گھڑیاں ہو گئیں ، پھر ’’ ارحام ‘‘ کو بلایا جاتا ہے ‘ تو وہ تین گھڑیوں تک ان کا جائزہ لیتا ہے ‘ اللہ تعالیٰ کی کتاب میں موجود اس آیت سے یہی مراد ہے : ’’ وہی وہ ذات ہے ‘ جو ارحام میں ‘ تمہاری صورت بناتی ہے ‘ جیسے وہ چاہتا ہے ‘‘ ( ایک اور مقام پر ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ وہ جسے چاہتا ہے ‘ بیٹیاں دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ‘ بیٹے دیتا ہے یا وہ مذکر اور مؤنث کے جوڑے بنا دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے اسے بانجھ رکھتا ہے ‘ بے شک وہ علم والا ‘ قدرت والا ہے ‘‘ ( حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ) تو یہ نو گھڑیاں ہو گئیں ، پھر رزق لائے جاتے ہیں تو وہ تین گھڑیوں تک اُن کا جائزہ لیتا ہے ‘ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے یہی مراد ہے : ’’ وہ جسے چاہتا ہے ‘ کشادہ رزق عطا کرتا ہے ‘ اور جسے چاہتا ہے ‘ تنگی کا شکار کر دیتا ہے ‘‘۔ ’’ ہر دن میں اُس کی الگ شان ہے ‘‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تو یہ تمہارا اور تمہارے پروردگار کا معاملہ ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ابوعبد السلام ہے ‘ امام ابوحاتم بیان کرتے ہیں : یہ مجہول ہے ‘ ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب ’’ الثقات ‘‘ میں کیا ہے اور عبداللہ بن مکرز نامی راوی کا ذکر شک کے ساتھ ہوا ہے ‘ کہ شاید اس کا نام عبیداللہ ہے ‘ تاہم میں نے کسی کو اس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ۔

283

Majma al-Zawaid #283

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: «بَيْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذْ مَرَّتْ سَحَابَةٌ، فَقَالَ: "" هَلْ تَدْرُونَ مَا هَذِهِ؟ "". قُلْنَا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ: "" الْعَنَانُ وَزَوَايَا الْأَرْضِ يَسُوقُهُ اللَّهُ إِلَى مَنْ لَا يَشْكُرُهُ مِنْ عِبَادِهِ وَلَا يَدْعُونَهُ، أَتَدْرُونَ مَا هَذِهِ فَوْقَكُمْ؟ "". قُلْنَا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ: "" الرَّقِيعُ، مَوْجٌ مَكْفُوفٌ، وَسَقْفٌ مَحْفُوظٌ، أَتَدْرُونَ كَمْ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهَا؟ "". قُلْنَا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ: "" مَسِيرَةُ خَمْسِمِائَةِ عَامٍ ""، ثُمَّ قَالَ: "" أَتَدْرُونَ مَا الَّتِي فَوْقَهَا؟ "" قُلْنَا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ: "" سَمَاءٌ أُخْرَى. أَتَدْرُونَ كَمْ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهَا؟ قُلْنَا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ: "" مَسِيرَةُ خَمْسِمِائَةِ عَامٍ "". حَتَّى عَدَّ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ، ثُمَّ قَالَ: "" هَلْ تَدْرُونَ مَا فَوْقَ ذَلِكَ "". قُلْنَا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ: "" الْعَرْشُ "". قَالَ: تَدْرُونَ كَمْ بَيْنَهُ وَبَيْنَ السَّمَاءِ السَّابِعَةِ؟ "" قُلْنَا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ: "" مَسِيرَةُ خَمْسِمِائَةِ عَامٍ ""، ثُمَّ قَالَ: "" أَتَدْرُونَ مَا هَذِهِ تَحْتَكُمْ؟ "" قُلْنَا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ: "" أَرْضٌ، أَتَدْرُونَ مَا تَحْتَهَا؟ "" قُلْنَا: اللَّهُ أَعْلَمُ. قَالَ: "" أَرْضٌ أُخْرَى، أَتَدْرُونَ كَمْ بَيْنَهُمَا؟ "" قُلْنَا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ: "" مَسِيرَةُ سَبْعِمِائَةِ عَامٍ ""، حَتَّى عَدَّ سَبْعَ أَرَضِينَ، ثُمَّ قَالَ: "" وَايْمُ اللَّهِ، لَوْ دَلَّيْتُمْ بِحَبْلٍ لَهَبَطَ ""، ثُمَّ قَرَأَ: "" {هُوَ الْأَوَّلُ وَالْآخِرُ وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ} [الحديد: 3]» "". قُلْتُ: رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ غَيْرَ أَنَّهُ ذَكَرَ: بَيْنَ كُلِّ أَرْضٍ وَأَرْضٍ خَمْسَمِائَةِ عَامٍ، وَهُنَا سَبْعُمِائَةِ عَامٍ، وَعِنْدَهُ أَيْضًا: "" لَوْ دَلَّيْتُمْ بِحَبْلٍ لَهَبَطَ عَلَى اللَّهِ ""، وَهُنَا لَمْ يَذْكُرِ الْجَلَالَةَ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ الْحَكَمُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، وَهُوَ مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه said: While we were with the Messenger of Allah ﷺ, a cloud passed by, so he asked: > **"Do you know what this is?"** We said, "Allah and His Messenger know best." He ﷺ said: > **"This is the ʿanān (clouds); these are the water-bearers of the earth that Allah drives to those among His servants who neither thank Him nor supplicate to Him. Do you know what is above you?"** We said, "Allah and His Messenger know best." He ﷺ said: > **"The raqīʿ (firmament): a held-back wave and a protected ceiling. Do you know how much distance is between you and it?"** We said, "Allah and His Messenger know best." He ﷺ said: > **"A journey of five hundred years. Do you know what is above that?"** We said, "Allah and His Messenger know best." He ﷺ said: > **"Another heaven. Do you know how much distance is between you and it?"** We said, "Allah and His Messenger know best." He ﷺ said: > **"A journey of five hundred years"**—until he counted seven heavens. Then he asked: > **"Do you know what is above that?"** We said, "Allah and His Messenger know best." He ﷺ said: > **"The Throne. Do you know how much distance is between it and the seventh heaven?"** We said, "Allah and His Messenger know best." He ﷺ said: > **"A journey of five hundred years."** Then he asked: > **"Do you know what is beneath you?"** We said, "Allah and His Messenger know best." He ﷺ said: > **"An earth. Do you know what is beneath it?"** We said, "Allah knows best." He ﷺ said: > **"Another earth. Do you know how much distance is between the two?"** We said, "Allah and His Messenger know best." He ﷺ said: > **"A journey of seven hundred years"**—until he counted seven earths. Then he ﷺ said: > **"By Allah, if you were to lower a rope, it would descend,"** and then he recited: > **"'He is the First and the Last, the Ascendant and the Intimate, and He is Knowing of all things' (57:3)."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کے پاس موجود تھے ‘ اس دوران بادل گزرا ‘ آپ ﷺ نے دریافت کیا : کیا تم لوگ جانتے ہو ‘ یہ کیا ہے ؟ ہم نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں ‘ آپ نے ارشاد فرمایا : یہ عنان ہے اور یہ زمین کے دور دراز کے گوشوں تک جاتا ہے ‘ اللہ تعالیٰ اسے اُن لوگوں کی طرف بھی بھیج دیتا ہے کہ اُس کے بندوں میں سے جو لوگ اُس کا شکر نہیں کرتے ہیں ‘ اور اُس کی عبادت نہیں کرتے ہیں ، کیا تم لوگ جانتے ہو ‘ اس کے اوپر کیا ہے ؟ ہم نے عرض کی : اللہ اور اُس کا رسول بہتر جانتے ہیں ‘ آپ نے فرمایا : ( اس سے اوپر ) رقیع ہے ‘ جو ایک مکفوف موج ہے اور محفوظ چھت ہے ‘ کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو ؟ کہ تمہارے اور اُس کے درمیان کتنا فاصلہ ہے ؟ ہم نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں ‘ آپ نے فرمایا : پانچ سو سال کی مسافت کا فاصلہ ہے ‘ پھر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : کیا تم جانتے ہو کہ اُس سے اوپر کیا ہے ؟ ہم نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں ‘ آپ نے فرمایا : دوسرا آسان ہے ‘ کیا تم جانتے ہو ؟ تمہارے اور اس کے درمیان کتنا فاصلہ ہے ؟ ہم نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں ‘ آپ ﷺ نے فرمایا : پانچ سو سال کی مسافت کا فاصلہ ہے ‘ یہاں تک کہ آپ نے سات آسمانوں کو شمار کروایا ‘ پھر آپ نے فرمایا : کیا تم جانتے ہو ؟ اس سے اوپر کیا ہے ؟ ہم نے عرض کی : اللہ اور اُس کا رسول بہتر جانتے ہیں ، آپ اسلام ﷺ نے فرمایا : عرش ہے ‘ آپ نے فرمایا : کیا تم جانتے ہو ؟ اُس ( یعنی عرش ) اور ساتویں آسمان کے درمیان کتنا فاصلہ ہے ؟ ہم نے عرض کی : اللہ اور اُس کا رسول بہتر جانتے ہیں ‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : پانچ سو سال کی مسافت کا ‘ پھر آپ ﷺ نے فرمایا : کیا تم لوگ جانتے ہو ؟ تمہارے نیچے کیا ہے ؟ ہم نے عرض کی : اللہ اور اُس کا رسول بہتر جانتے ہیں ، آپ نے فرمایا : زمین ہے ‘ کیا تم جانتے ہو ؟ اُس کے نیچے کیا ہے ؟ ہم نے عرض کی : اللہ بہتر جانتا ہے ‘ آپ نے فرمایا : ایک اور زمین ہے ‘ کیا تم جانتے ہو ؟ دونوں کے درمیان کتنا فاصلہ ہے ؟ ہم نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں ‘ آپ نے فرمایا : سات سو سال کی مسافت کا ‘ یہاں تک کہ آپ نے سات زمینیں شمار کروائیں ، پھر آپ نے فرمایا : اللہ کی قسم ! اگر تم کوئی رسی لٹکاؤ گے تو وہ نیچے جائے گی ، پھر آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت کی : ’’ وہی اول ہے ‘ آخر ہے ‘ ظاہر ہے ‘ باطن ہے ‘ اور وہ ہر چیز کے بارے میں علم رکھنے والا ہے ‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ترمذی نے نقل کی ہے ‘ تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : دو زمینوں کے درمیان پانچ سو سال کی مسافت کا فاصلہ ہے ‘‘ جبکہ یہاں یہ ذکر ہوا ہے کہ وہ فاصلہ سات سو سال کی مسافت کا ہے ‘ اسی طرح امام ترمذی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں ‘ اگر تم کوئی رسی لٹکاؤ گے تو وہ اللہ تعالیٰ پر جائے گی ‘‘۔ اور یہاں اسم جلالت ذکر نہیں ہوا ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی حکم بن عبدالملک ہے ‘ اور وہ متروک الحدیث ہے ۔

284

Majma al-Zawaid #284

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّهُ قَالَ: مَا بَيْنَ سَمَاءِ الدُّنْيَا وَالَّتِي تَلِيهَا مَسِيرَةُ خَمْسِمِائَةِ عَامٍ، وَمَا بَيْنَ كُلِّ سَمَاءَيْنِ خَمْسُمِائَةِ عَامٍ، وَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ السَّابِعَةِ وَالْكُرْسِيِّ مَسِيرَةُ خَمْسِمِائَةِ عَامٍ، وَمَا بَيْنَ الْكُرْسِيِّ وَالْمَاءِ خَمْسُمِائَةِ عَامٍ، وَالْعَرْشُ عَلَى الْمَاءِ، وَاللَّهُ - جَلَّ ذِكْرُهُ - عَلَى الْعَرْشِ، يَعْلَمُ مَا أَنْتُمْ عَلَيْهِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ. وَقَدْ تَقَدَّمَ بَقِيَّةُ هَذَا فِي بَابِ التَّفَكُّرِ فِي اللَّهِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Masʿūd رضي الله عنه said: > **"Between the lowest heaven and the one that follows it is the journey of five hundred years, and between every two heavens is five hundred years. Between the seventh heaven and the Kursī is the journey of five hundred years, and between the Kursī and the water is five hundred years. The Throne is upon the water, and Allah, Exalted is His mention, is above the Throne, knowing that which you are upon."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : آسمان دنیا اور اس کے بعد والے آسمان کے درمیان پانچ سو سال کی مسافت کا فاصلہ ہے اور ہر دو آسمانوں کے درمیان پانچ سو سال کی مسافت کا فاصلہ ہے ‘ ساتویں آسمان اور کرسی کے درمیان پانچ سو سال کا فاصلہ ہے ‘ کرسی اور پانی کے درمیان پانچ سو سال کا فاصلہ ہے اور عرش ‘ پانی کے اوپر ہے ‘ اور اللہ تعالیٰ عرش پر ہے ‘ اور پھر بھی وہ تمہارے بارے میں ( ہر چیز کا ) علم رکھتا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ‘ اس کا بقیہ حصہ ‘ اللہ تعالیٰ کے بارے میں غور و فکر کرنے سے متعلق باب میں ‘ پہلے گزر چکا ہے ۔

285

Majma al-Zawaid #285

عَنْ أَبِي مُوسَى - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «مَنْ عَمِلَ حَسَنَةً فَسُرَّ بِهَا، وَعَمِلَ سَيِّئَةً فَسَاءَتْهُ ; فَهُوَ مُؤْمِنٌ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ مَا خَلَا الْمُطَّلِبَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، فَإِنَّهُ ثِقَةٌ وَلَكِنَّهُ يُدَلِّسُ، وَلَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِي مُوسَى، فَهُوَ مُنْقَطِعٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Mūsā al-Ashʿarī رضي الله عنه said: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: > **"Whoever performs a good deed and is pleased by it, or commits an evil deed and is grieved by it, then he is a believer."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جو شخص کوئی نیکی کرے اور پھر اس پر خوش ہو ‘ یا کوئی برائی کرے ‘ اور وہ اُسے بری لگے ‘ تو وہ مومن ہو گا ‘‘۔ یہ روایت امام احمد ‘ امام بزار نے ‘ اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف مطلب بن عبداللہ کا معاملہ مختلف ہے ‘ وہ ثقہ ہے ‘ لیکن تدلیس کرتا ہے ‘ اور اُس نے حضرت ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہوا ‘ تو یہ روایت منقطع ہے ۔

286

Majma al-Zawaid #286

عَنْ أَبِي أُمَامَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - «أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا الْإِيمَانُ؟ قَالَ: "" إِذَا سَرَّتْكَ حَسَنَتُكَ، وَسَاءَتْكَ سَيِّئَتُكَ ; فَأَنْتَ مُؤْمِنٌ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ.

EnglishUnverified translation

Abū Umāmah رضي الله عنه reported: A man asked, "O Messenger of Allah, what is faith?" The Prophet ﷺ said: > **"If your good deed brings you joy and your evil deed brings you grief, then you are a believer."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ایمان سے مراد کیا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جب تمہاری اچھائی ‘ تمہیں اچھی لگے ‘ اور تمہاری برائی ‘ تمہیں بری لگے ‘ تو تم مؤمن ہو ‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔

287

Majma al-Zawaid #287

وَلَهُ فِي الْأَوْسَطِ أَيْضًا قَالَ: «قَالَ رَجُلٌ: مَا الْإِثْمُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "" مَا حَكَّ فِي صَدْرِكَ فَدَعْهُ "". قَالَ: فَمَا الْإِيمَانُ؟ قَالَ: "" مَنْ سَاءَتْهُ سَيِّئَتُهُ، وَسَرَّتْهُ حَسَنَتُهُ ; فَهُوَ مُؤْمِنٌ» "". وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ، إِلَّا أَنَّ فِيهِ يَحْيَى بْنَ أَبِي كَثِيرٍ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ وَإِنْ كَانَ مِنْ رِجَالِ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abū Umāmah رضي الله عنه narrated: A man asked, "What is sin, O Messenger of Allah?" He ﷺ said: > **"Whatever wavers in your chest, leave it."** The man asked, "Then what is faith?" He ﷺ said: > **"Whoever is grieved by his bad deed and pleased by his good deed, he is a believer."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

انہی کے حوالے سے معجم اوسط میں یہ روایت میں منقول ہے : وہ بیان کرتے ہیں : ایک صاحب نے دریافت کیا : یا رسول اللہ ! گناہ کیا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جو چیز تمہارے من میں کھٹکے ‘ تم اُسے چھوڑ دو ! اُس شخص نے دریافت کیا : ایمان کیا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : جس شخص کو اُس کی برائی بری لگے ‘ اور اچھائی اچھی لگے ‘ وہ مؤمن ہو گا ۔ اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، البتہ اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن ابوکثیر ہے ‘ وہ تدلیس کرتا ہے ‘ اگرچہ وہ صحیح کے رجال میں سے ہے ۔

288

Majma al-Zawaid #288

وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «مَنْ سَاءَتْهُ سَيِّئَتُهُ فَهُوَ مُؤْمِنٌ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ، وَهُوَ هَالِكٌ فِي الضَّعْفِ.

EnglishUnverified translation

ʿAlī ibn Abī Ṭālib رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Whoever is grieved by his evil deed is a believer."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ جس شخص کو اس کی برائی بری لگے ‘ وہ مؤمن ہے ‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ہے ‘ جو ضعیف ہونے کے حوالے سے ہلاکت کا شکار ہونے والا ہے ۔

289

Majma al-Zawaid #289

عَنْ أَبِي أُمَامَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - «عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" قَالَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ -: أَحَبُّ مَا يَعْبُدُنِي بِهِ عَبْدِي إِلَيَّ النُّصْحُ لِي». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زَحْرٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ، وَكِلَاهُمَا ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Umāmah رضي الله عنه reported that the Prophet ﷺ said: > **"Allah, Mighty and Majestic is He, says: 'The most beloved thing with which My servant worships Me is sincere devotion (nuṣḥ) to Me.'"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : میرا بندہ جن طریقوں سے میری عبادت کرتا ہے ‘ اُن میں میرے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ چیز یہ ہے کہ میری خیرخواہی کی جائے ( یعنی کسی کو میرا شریک قرار نہ دیا جائے ) ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں یہ مذکور ہے : کہ اسے عبیداللہ بن زحر نے علی بن یزید کے حوالے سے نقل کیا ہے اور یہ دونوں راوی ضعیف ہیں ۔

290

Majma al-Zawaid #290

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «الدِّينُ النَّصِيحَةُ "". قَالُوا: لِمَنْ؟ قَالَ: "" لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ وَلِأَئِمَّةِ الْمُؤْمِنِينَ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَقَالَ: "" وَلِأَئِمَّةِ الْمُسْلِمِينَ وَعَامَّتِهِمْ "". قَالَ أَحْمَدُ: عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ أَخْبَرَنِي مَنْ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ، وَقَالَ الطَّبَرَانِيُّ: عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فَمُقْتَضَى رِوَايَةِ أَحْمَدَ الِانْقِطَاعُ بَيْنَ عَمْرٍو وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَمَعَ ذَلِكَ فِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ ثَابِتِ بْنِ ثَوْبَانَ وَقَدْ ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ، وَقَالَ: أَحَادِيثُهُ مَنَاكِيرُ. وَرَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ، وَلَفْظُ أَبِي يَعْلَى: قَالُوا: لِمَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "" لِكِتَابِ اللَّهِ وَلِنَبِيِّهِ وَلِأَئِمَّةِ الْمُسْلِمِينَ "".

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿAbbās رضي الله عنهما reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"The religion is sincerity."** They asked, "To whom?" He ﷺ said: > **"To Allah, to His Messenger, and to the leaders of the believers."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ دین ‘ خیرخواہی کا نام ہے ‘ لوگوں نے دریافت کیا : کس کی ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ کی ‘ اُس کے رسول کی ‘ اور اہل ایمان کے حکمرانوں کی ‘‘۔ یہ روایت امام احمد ‘ امام بزار نے ‘ اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ’’ مسلمانوں کے حکمرانوں اور ان کے عام افراد کی ‘‘۔ امام احمد نے اس کی سند میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں : عمرو بن دینار سے یہ منقول ہے : وہ کہتے ہیں : مجھے اُس شخص نے یہ بات بیان کی ہے : جس نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے ‘ جبکہ امام طبرانی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں ‘ یہ روایت عمرو بن دینار کے حوالے سے ‘ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے ‘ امام احمد کی روایت کا تقاضا یہ ہے کہ عمرو بن دینار اور حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے درمیان انقطاع پایا جاتا ہے ‘ اس کے ہمراہ اس روایت کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن ثابت بن ثوبان ہے ‘ اُسے امام احمد نے ضعیف قرار دیا ہے ‘ وہ فرماتے ہیں : اس کی نقل کی ہوئی روایات منکر ہوتی ہیں ، یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ‘ امام ابویعلیٰ کے نقل کردہ الفاظ یہ ہیں :’’ لوگوں نے دریافت کیا : یا رسول اللہ ! کس کی ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : اللہ کی کتاب کی ‘ اُس کے نبی کی ‘ اور مسلمانوں کے حکمرانوں کی ‘‘۔

291

Majma al-Zawaid #291

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" أَمَرَنِي جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - بِالنُّصْحِ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْهَاشِمِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Gabriel عليه السلام commanded me to maintain sincerity."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ جبرائیل نے مجھے خیرخواہی کی ہدایت کی تھی ‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی حسن بن علی ہاشمی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

292

Majma al-Zawaid #292

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «الدِّينُ النَّصِيحَةُ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿUmar رضي الله عنهما reported that the Prophet ﷺ said: > **"The religion is sincerity."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : : ’’ دین ‘ خیرخواہی ( کا نام ) ہے ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

293

Majma al-Zawaid #293

وَعَنْ ثَوْبَانَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «رَأْسُ الدِّينِ النَّصِيحَةُ "". قَالُوا: لِمَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "" لِلَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - وَلِدِينِهِ، وَلِأَئِمَّةِ الْمُسْلِمِينَ، وَلِلْمُسْلِمِينَ عَامَّةً» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ أَيُّوبُ بْنُ سُوَيْدٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ لَا يُحْتَجُّ بِهِ.

EnglishUnverified translation

Thawbān رضي الله عنه reported that the Prophet ﷺ said: > **"The pinnacle of religion is sincerity."** They asked, "To whom, O Messenger of Allah?" He ﷺ said: > **"To Allah, Mighty and Majestic is He, to His religion, to the leaders of the Muslims, and to the generality of the Muslims."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ دین کا سر ( یعنی بنیادی تعلیم ) خیرخواہی ہے ‘ لوگوں نے دریافت کیا : یا رسول اللہ ! کس کی ؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ کی ‘ اُس کے دین کی ‘ مسلمان حکمرانوں کی اور مسلمانوں کے عام افراد کی ‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ایوب بن سوید ہے اور وہ ضعیف ہے ‘ اس سے استدلال نہیں کیا جائے گا ۔

294

Majma al-Zawaid #294

وَعَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «مَنْ لَا يَهْتَمُّ بِأَمْرِ الْمُسْلِمِينَ فَلَيْسَ مِنْهُمْ، وَمَنْ لَمْ يُصْبِحْ وَيُمْسِي نَاصِحًا لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ وَلِكِتَابِهِ وَلِإِمَامِهِ وَلِعَامَّةِ الْمُسْلِمِينَ ; فَلَيْسَ مِنْهُمْ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالصَّغِيرِ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ، ضَعَّفَهُ مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ، وَوَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ وَأَبُو زُرْعَةَ وَابْنُ حِبَّانَ.

EnglishUnverified translation

Ḥudhayfah ibn al-Yamān رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Whoever does not concern himself with the affairs of the Muslims is not of them, and whoever does not begin and end his day being sincere to Allah, to His Messenger, to His Book, to his leader, and to the generality of the Muslims, is not of them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : : ’’ جو شخص مسلمانوں کے معاملے کا اہتمام ( یعنی اس کی صحیح دیکھ بھال ) نہیں کرتا ‘ وہ ان میں سے نہیں ہے ‘ اور جو شخص ایسے عالم میں صبح یا شام نہیں کرتا کہ وہ اللہ تعالیٰ اس کے رسول ‘ اُس کی کتاب ‘ اُس کے مقرر کردہ حکمران ‘ اور عام مسلمان افراد کا خیرخواہ ہو ‘ تو وہ بھی اُن میں شمار نہیں ہو گا ‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم صغیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن ابوجعفر رازی ہے ‘ جسے محمد بن حمید نے ضعیف قرار دیا ہے ‘ جبکہ ابوحاتم ‘ ابوزرعہ اور ابن حبان نے اس کی توثیق کی ہے ۔

295

Majma al-Zawaid #295

وَعَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيِّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: «بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ رَجَعْتُ، فَدَعَانِي فَقَالَ: "" لَا أَقْبَلُ مِنْكَ حَتَّى تُبَايِعَ عَلَى النُّصْحِ لِكُلِّ مُسْلِمٍ "" فَبَايَعْتُهُ». قُلْتُ: لَهُ حَدِيثٌ فِي الصَّحِيحِ غَيْرُ هَذَا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Jarīr ibn ʿAbdillāh al-Bajalī رضي الله عنه said: I pledged allegiance to the Messenger of Allah ﷺ and then turned to leave, but he called me back and said: > **"I will not accept it from you until you pledge allegiance to show sincerity to every Muslim."** So I pledged allegiance to him upon that.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کی بیعت کی ‘ جب میں واپس مڑ گیا ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے مجھے بلوایا اور ارشاد فرمایا : میں ( اس بیعت کو ) تمہاری طرف سے ‘ اُس وقت تک قبول نہیں کروں گا ‘ جب تک تم ہر مسلمان کے لیے خیرخواہی کی بیعت نہیں کرتے ‘ راوی بیان کرتے ہیں : تو میں نے اس بات پر بھی آپ کی بیعت کر لی ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ان کے ( یعنی حضرت جریر رضی اللہ عنہ ) کے حوالے سے ’’ صحیح ‘‘ میں حدیث منقول ہے ‘ جو اس کے علاوہ ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

296

Majma al-Zawaid #296

عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «لَا يُؤْمِنُ عَبْدٌ حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ نَفْسِهِ، وَأَهْلِي أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ أَهْلِهِ، وَعِتْرَتِي أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ عِتْرَتِهِ، وَذَاتِي أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ ذَاتِهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، وَهُوَ سَيِّئُ الْحِفْظِ لَا يُحْتَجُّ بِهِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd al-Raḥmān ibn Abī Laylā reported from his father رضي الله عنه that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"No servant truly believes until I am more beloved to him than his own self, my family is more beloved to him than his own family, my lineage is more beloved to him than his own lineage, and my person is more beloved to him than his own person."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبدالرحمان بن ابولیلی ، اپنے والد کے حوالے سے ‘ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : : ’’ آدمی اس وقت تک مؤمن نہیں ہوتا ‘ جب تک میں اس کے نزدیک ‘ اس کی اپنی ذات سے زیادہ محبوب نہیں ہو جاتا ‘ اور میرے اہل بیت اُس کے نزدیک ‘ اس کے اپنے اہل خانہ سے زیادہ محبوب نہیں ہو جاتے ‘ اور میری عترت ‘ اُس کے نزدیک اس کی اپنی اولاد سے زیادہ محبوب نہیں ہو جاتی ‘ اور میری ذات اُس کے نزدیک ‘ اس کی اپنی ذات سے زیادہ محبوب نہیں ہو جاتی ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اُس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبدالرحمن بن ابولیلی ہے اور وہ خراب حافظے کا مالک ہے ‘ اُس سے استدلال نہیں کیا جائے گا ۔

297

Majma al-Zawaid #297

وَعَنْ أَنَسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «لَا يُؤْمِنُ الرَّجُلُ حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَلَدِهِ وَوَالِدِهِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، وَثَّقَهُ شُعْبَةُ وَغَيْرُهُ، وَضَعَّفَهُ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Mālik رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"A person does not truly believe until I am more beloved to him than his child, his parent, and all mankind."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ کوئی شخص اُس وقت تک مؤمن نہیں ہوتا ‘ جب تک میں ‘ اُس کے نزدیک ‘ اس کی اولاد ‘ اُس کے ماں باپ اور سب لوگوں سے زیادہ محبوب نہیں ہو جاتا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی قیس بن ربیع ہے ‘ جسے شعبہ اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ‘ جبکہ یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔

298

Majma al-Zawaid #298

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ: «أَتَى الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَتَيْتُ قَوْمًا يَتَحَدَّثُونَ، فَلَمَّا رَأَوْنِي سَكَتُوا، وَمَا ذَاكَ إِلَّا أَنَّهُمُ اسْتَثْقَلُونِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" أَقَدْ فَعَلُوهَا؟ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَا يُؤْمِنُ أَحَدُهُمْ حَتَّى يُحِبَّكُمْ لِحُبِّي، أَتَرْجُونَ أَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ بِشَفَاعَتِي وَلَا يَرْجُوهَا بَنُو عَبْدِ الْمُطَّلِبِ»؟ "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالصَّغِيرِ، وَفِيهِ أَصْرَمُ بْنُ حَوْشَبٍ وَهُوَ مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Jaʿfar رضي الله عنه said: Al-ʿAbbās ibn ʿAbd al-Muṭṭalib came to the Messenger of Allah ﷺ and said, "O Messenger of Allah, I approached some people who were conversing, but when they saw me, they fell silent; and that was only because they found my presence burdensome." The Messenger of Allah ﷺ said: > **"Have they done so? By the One in Whose Hand is my soul, none of them truly believes until he loves you for the sake of my love! Do you hope to enter Paradise through my intercession while the Banū ʿAbd al-Muṭṭalib do not hope for it?"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے اور بولے : یا رسول اللہ ! میں کچھ لوگوں کے پاس آیا ‘ جو آپس میں بات چیت کر رہے تھے ‘ جب انہوں نے مجھے دیکھا ‘ تو وہ خاموش ہو گئے ‘ ایسا صرف اس وجہ سے ہوا کہ انہوں نے مجھے بوجھ محسوس کیا ، تو نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کیا انہوں نے ایسا کیا ہے ؟ اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ‘ اُن میں سے کوئی ایک ‘ اُس وقت تک مؤمن نہیں ہو سکتا ‘ جب تک وہ مجھ سے محبت رکھنے کی وجہ سے آپ لوگوں سے محبت نہیں رکھتا ( پھر نبی اکرم ﷺ نے لوگوں کو مخاطب کر کے فرمایا : ) کیا تم لوگ یہ امید رکھتے ہو کہ میری شفاعت کی وجہ سے تم لوگ جنت میں داخل ہو جاؤ گے اور بنوعبدالمطلب کو اُس کی امید نہیں ہو گی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم صغیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کی سند میں ایک راوی اصرم بن حوشب ہے ‘ اور وہ متروک الحدیث ہے ۔

299

Majma al-Zawaid #299

وَعَنِ الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «مَنْ أَحَبَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ صَادِقًا غَيْرَ كَاذِبٍ، وَلَقِيَ الْمُؤْمِنِينَ فَأَحَبَّهُمْ، وَكَانَ أَمْرُ الْجَاهِلِيَّةِ عِنْدَهُ كَمَنْزِلَةِ نَارٍ أُلْقِيَ فِيهَا - فَقَدْ طَعِمَ طَعْمَ الْإِيمَانِ "". أَوْ قَالَ: "" فَقَدْ بَلَغَ ذُرْوَةَ الْإِيمَانِ» "". الشَّكُّ مِنْ صَفْوَانَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ شُرَيْحُ بْنُ عُبَيْدٍ، وَهُوَ ثِقَةٌ مُدَلِّسٌ، اخْتُلِفَ فِي سَمَاعِهِ مِنَ الصَّحَابَةِ لِتَدْلِيسِهِ.

EnglishUnverified translation

Al-Miqdād ibn al-Aswad رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Whoever loves Allah and His Messenger truthfully without falsehood, meets the believers and loves them, and regards the state of pre-Islamic ignorance as being cast into the Fire, has tasted the flavor of faith"**—or he said: **"has reached the pinnacle of faith."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ جو شخص جھوٹا ہوئے بغیر ‘ سچا ہونے کے طور پر ‘ اللہ اور رسول سے محبت کرتا ہے ‘ اور جب وہ اہل ایمان سے ملتا ہے ‘ تو ان سے بھی محبت کرتا ہے اور زمانہ جاہلیت کا معاملہ اس کے نزدیک آگ میں ڈالے جانے کی مانند ہو ‘ تو اس شخص نے ایمان کا ذائقہ چکھ لیا ‘‘۔ راوی کو شک ہے ‘ یا شاید یہ الفاظ ہیں : ” وہ ایمان کی چوٹی تک پہنچ جاتا ہے ‘‘ یہ شک صفوان نامی راوی کو ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اُس کی سند میں ایک راوی شریح بن عبید ہے ‘ وہ ثقہ ہے ‘ اور تدلیس کرنے والا ہے ‘ اور اس کی تدلیس کے وجہ سے ‘ اُس کے صحابہ کرام سے سماع کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے ۔

300

Majma al-Zawaid #300

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «إِنَّ لِلَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - حُرُمَاتٌ ثَلَاثٌ، مَنْ حَفِظَهُنَّ حَفِظَ اللَّهُ لَهُ أَمْرَ دِينِهِ وَدُنْيَاهُ، وَمَنْ لَمْ يَحْفَظْهُنَّ لَمْ يَحْفَظِ اللَّهُ لَهُ شَيْئًا: حُرْمَةُ الْإِسْلَامِ، وَحُرْمَتِي، وَحُرْمَةُ رَحِمِي» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمَّادٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَلَمْ أَرَ مَنْ وَثَّقَهُ.

EnglishUnverified translation

Abū Saʿīd al-Khudrī رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Indeed, Allah, Mighty and Majestic is He, has three sacred sanctities: whoever safeguards them, Allah will safeguard for him his religion and his worldly affairs; and whoever does not safeguard them, Allah will not safeguard anything for him: the sanctity of Islam, my sanctity, and the sanctity of my kinship."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ اللہ تعالیٰ کی مقرر کی ہوئی حرمتیں تین ہیں ‘ جو شخص اُن کی حفاظت کرتا ہے ‘ اللہ تعالیٰ اُس شخص کے دین اور دنیا کی حفاظت کرتا ہے ‘ اور جو شخص اُن کی حفاظت نہیں کرتا ‘ اللہ تعالیٰ بھی اُس کی کسی چیز کی حفاظت نہیں کرتا ‘ اسلام کی حرمت ‘ میری حرمت اور میرے رشتہ داروں کی حرمت ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن حماد ہے اور وہ ضعیف ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں نے کسی کو اُس کی توثیق کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ۔

301

Majma al-Zawaid #301

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «ثَلَاثٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ وَجَدَ حَلَاوَةَ الْإِيمَانِ: أَنْ يَكُونَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِمَّا سِوَاهُمَا، وَأَنْ يُحِبَّ الْعَبْدَ لَا يُحِبُّهُ إِلَّا لِلَّهِ، وَأَنْ يُلْقَى فِي النَّارِ أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْ أَنْ يَرْجِعَ فِي الْكُفْرِ بَعْدَ إِذْ أَنْقَذَهُ اللَّهُ مِنْهُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ فَضَّالُ بْنُ جُبَيْرٍ لَا يَحِلُّ الِاحْتِجَاجُ بِهِ.

EnglishUnverified translation

Abū Umāmah رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Whoever possesses three qualities will taste the sweetness of faith: that Allah and His Messenger are more beloved to him than anything else, that he loves a person solely for the sake of Allah, and that being cast into the Fire is more beloved to him than returning to disbelief after Allah has rescued him from it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ تین چیزیں جس شخص میں ہوں گی ‘ وہ ایمان کی حلاوت کو پا لے گا ‘ یہ کہ اللہ اور اُس کا رسول ‘ اس شخص کے نزدیک اُن دونوں کے علاوہ ‘ ہر ایک سے زیادہ محبوب ہوں ‘ یہ کہ وہ کسی بندے کے ساتھ محبت رکھتا ہو اور وہ اُس ( بندے ) کے ساتھ صرف اللہ تعالیٰ کے لئے محبت رکھتا ہو ‘ اور یہ کہ آگ میں ڈالا جانا ‘ اُس کے نزدیک اس سے زیادہ پسندیدہ ہو ‘ کہ وہ کفر کی طرف واپس چلا جائے ‘ اس کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے اُسے کفر سے بچا لیا ہو ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی فضال بن جبیر ہے ‘ جس سے استدلال کرنا جائز نہیں ہے ۔

302

Majma al-Zawaid #302

عَنْ أَنَسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «حُبُّ قُرَيْشٍ إِيمَانٌ، وَبُغْضُهُمْ كُفْرٌ، وَحُبُّ الْعَرَبِ إِيمَانٌ، فَمَنْ أَحَبَّ الْعَرَبَ فَقَدْ أَحَبَّنِي، وَمَنْ أَبْغَضَ الْعَرَبَ فَقَدْ أَبْغَضَنِي» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ الْهَيْثَمُ بْنُ جَمَّازٍ ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَيَحْيَى بْنُ مَعِينٍ وَالْبَزَّارُ. قُلْتُ: وَتَأْتِي أَحَادِيثُ مِنْ هَذَا الْبَابِ فِي الْمَنَاقِبِ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Mālik رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Love for Quraysh is faith, and hatred for them is disbelief. Love for the Arabs is faith; so whoever loves the Arabs has loved me, and whoever hates the Arabs has hated me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ قریش سے محبت رکھنا ایمان ہے اور اُن سے بغض رکھنا کفر ہے ‘ عربوں سے محبت رکھنا ایمان ہے ‘ جو شخص عربوں سے محبت رکھے گا ‘ وہ مجھ سے محبت رکھے گا ‘ اور جو عربوں سے بغض رکھے گا ‘ وہ مجھ سے بغض رکھے گا ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے ‘ اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ہیثم بن جماز ہے ‘ جسے امام احمد امام یحیی بن معین اور امام بزار نے ضعیف قرار دیا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس موضوع سے متعلق دیگر روایات ‘ مناقب سے متعلق باب میں آئیں گی ۔

303

Majma al-Zawaid #303

عَنْ عَمْرِو بْنِ الْجَمُوحِ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «لَا يَحِقُّ الْعَبْدُ صَرِيحَ الْإِيمَانِ حَتَّى يُحِبَّ لِلَّهِ وَيُبْغِضَ لِلَّهِ، فَإِذَا أَحَبَّ لِلَّهِ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - وَأَبْغَضَ لِلَّهِ فَقَدِ اسْتَحَقَّ الْوِلَايَةَ مِنَ اللَّهِ، إِنَّ أَوْلِيَائِي مِنْ عِبَادِي وَأَحِبَّائِي مِنْ خَلْقِي الَّذِينَ يُذْكَرُونَ بِذِكْرِي، وَأُذْكَرُ بِذِكْرِهِمْ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ، وَهُوَ مُنْقَطِعٌ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAmr ibn al-Jamūḥ رضي الله عنه heard the Prophet ﷺ say: > **"A servant does not realize pure, unadulterated faith until he loves for the sake of Allah and hates for the sake of Allah. When he loves for the sake of Allah, Blessed and Exalted is He, and hates for the sake of Allah, he becomes deserving of the alliance of Allah. Indeed, My allies among My servants and My beloved among My creation are those who are remembered when I am remembered, and I am remembered when they are remembered."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمرو بن جموح رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : اُنہوں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ بنده صریح ایمان کا حقدار اُس وقت تک نہیں ہوتا ‘ جب تک وہ اللہ تعالیٰ کے لیے کسی سے محبت نہیں رکھتا ‘ اور اللہ تعالیٰ کے لیے کسی سے بغض نہیں رکھتا ، جب وہ اللہ تعالیٰ کے لیے کسی سے محبت رکھتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے لیے کسی سے بغض رکھتا ہے ‘ تو وہ اللہ تعالی کی ولایت کا مستحق ہو جاتا ہے ( اور حدیث قدسی میں ‘ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ) ’’ میرے بندوں میں سے ‘ میرے اولیاء اور میری مخلوق میں سے ‘ میرے محبوب بندے ‘ وہ ہیں کہ میرے ذکر کے ہمراہ اُن کا ذکر کیا جاتا ہے ‘ اور اُن کے ذکر کے ہمراہ ‘ میرا ذکر کیا جاتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی کی رشدین بن سعد ہے ‘ اور وہ منقطع اور ضعیف ہے ۔

304

Majma al-Zawaid #304

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَمِقِ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «لَا يَجِدُ الْعَبْدُ صَرِيحَ الْإِيمَانِ حَتَّى يُحِبَّ لِلَّهِ وَيُبْغِضَ لِلَّهِ، فَإِذَا أَحَبَّ لِلَّهِ وَأَبْغَضَ لِلَّهِ فَقَدِ اسْتَحَقَّ الْوِلَايَةَ، وَإِنَّ أَوْلِيَائِي مِنْ عِبَادِي وَأَحِبَّائِي مِنْ خَلْقِي الَّذِينَ يُذْكَرُونَ بِذِكْرِي، وَأُذْكَرُ بِذِكْرِهِمْ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ رِشْدِينُ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAmr ibn al-Ḥamiq رضي الله عنه heard the Messenger of Allah ﷺ say: > **"A servant does not find pure faith until he loves for the sake of Allah and hates for the sake of Allah. When he loves for the sake of Allah and hates for the sake of Allah, he becomes deserving of the divine alliance. Indeed, My allies among My servants and My beloved among My creation are those who are remembered when I am remembered, and I am remembered when they are remembered."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمرو بن حمق رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ آدمی ‘ صریح ایمان کو اُس وقت تک نہیں پا سکتا ‘ جب تک وہ اللہ تعالیٰ کے لیے کسی کے ساتھ محبت نہیں رکھتا ‘ اور اللہ تعالی کے لیے کسی کے ساتھ بغض نہیں رکھتا ‘ جب وہ اللہ تعالیٰ کے لیے محبت رکھتا ہے ‘ اور اللہ تعالیٰ کے لیے بغض رکھتا ہے ‘ تو وہ ولایت کا مستحق ہو جاتا ہے ( حدیث قدسی میں ‘ اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا ہے : ) ’’ میرے بندوں میں سے ‘ میرے اولیاء اور میری مخلوق میں سے ‘ میرے محبوب بندے ‘ وہ ہیں کہ میرے ذکر کے ساتھ اُن کا ذکر کیا جاتا ہے ‘ اور اُن کے ذکر کے ساتھ میرا ذکر کیا جاتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی رشدین ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

305

Majma al-Zawaid #305

وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ أَنَّهُ «سَأَلَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ أَفْضَلِ الْإِيمَانِ، قَالَ: "" أَنْ تُحِبَّ لِلَّهِ، وَتُبْغِضَ لِلَّهِ، وَتُعْمِلَ لِسَانَكَ فِي ذِكْرِ اللَّهِ "". قَالَ: وَمَاذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "" وَأَنْ تُحِبَّ لِلنَّاسِ مَا تُحِبُّ لِنَفْسِكَ، وَتَكْرَهَ لَهُمْ مَا تَكْرَهُ لِنَفْسِكَ ""، وَزَادَ فِي رِوَايَةٍ أُخْرَى: "" وَأَنْ تَقُولَ خَيْرًا أَوْ تَصْمُتَ» "". وَفِي الْأُولَى رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ، وَفِي الثَّانِيةِ ابْنُ لَهِيعَةَ، وَكِلَاهُمَا ضَعِيفٌ. رَوَاهُمَا أَحْمَدُ.

EnglishUnverified translation

Muʿādh ibn Anas رضي الله عنه reported that he asked the Prophet ﷺ about the most excellent faith. He ﷺ said: > **"That you love for the sake of Allah, hate for the sake of Allah, and employ your tongue in the remembrance of Allah."** Muʿādh asked, "And what else, O Messenger of Allah?" He ﷺ said: > **"And that you love for people what you love for yourself, and dislike for them what you dislike for yourself."** In another narration, he added: > **"And that you speak good or remain silent."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معاذ بن انس رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : اُنہوں نے نبی اکرم ﷺ سے افضل ایمان کے بارے میں سوال کیا ‘ تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : یہ کہ تم اللہ تعالیٰ کے لئے محبت رکھو ‘ اللہ تعالیٰ کے لیے بغض رکھو ‘ اور اپنی زبان کو اللہ کے ذکر کے لیے استعمال کرو ! حضرت معاذ بن انس رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : یا رسول اللہ ! وہ کیسے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ یوں کہ تم لوگوں کے لیے وہی چیز پسند کرو ‘ جو تم اپنے لیے پسند کرتے ہو ‘ اور تم لوگوں کے لیے وہی چیز ناپسند کرو ‘ جو تم اپنے لیے ناپسند کرتے ہو ‘‘۔ ایک اور روایت میں یہ الفاظ آئے ہیں : ” اور یہ کہ تم بھلائی کی بات کہو یا پھر خاموش رہو ‘‘۔ پہلی روایت میں رشدین بن سعد ہے ‘ اور دوسری روایت میں ابن لہیعہ ہے ‘ اور یہ دونوں راوی ضعیف ہیں ‘ یہ دونوں روایات امام احمد نے نقل کی ہیں ۔

306

Majma al-Zawaid #306

وَعَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: «كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" أَيُّ عُرَى الْإِسْلَامِ أَوْثَقُ؟ "". فَقَالُوا: الصَّلَاةُ. قَالَ: "" حَسَنَةٌ، وَمَا هِيَ بِهَا؟ "" قَالُوا: صِيَامُ رَمَضَانَ. قَالَ: "" حَسَنٌ، وَمَا هُوَ بِهِ؟ "" قَالُوا: الْجِهَادُ. قَالَ: "" حَسَنٌ، وَمَا هُوَ بِهِ؟ "" قَالَ: "" إِنَّ أَوْثَقَ عُرَى الْإِيمَانِ أَنْ تُحِبَّ لِلَّهِ وَتُبْغِضَ فِي اللَّهِ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ، وَضَعَّفَهُ الْأَكْثَرُ.

EnglishUnverified translation

Al-Barāʾ ibn ʿĀzib رضي الله عنه said: We were sitting with the Prophet ﷺ when he asked: > **"Which handhold of Islam is the firmest?"** They said, "The prayer." He ﷺ said: > **"It is good, but it is not that."** They said, "Fasting Ramadan." He ﷺ said: > **"It is good, but it is not that."** They said, "Jihād." He ﷺ said: > **"It is good, but it is not that."** Then he ﷺ said: > **"Indeed, the firmest handhold of faith is that you love for the sake of Allah and hate for the sake of Allah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ‘ آپ نے دریافت کیا : اسلام کی کون سی رسی زیادہ مضبوط ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : نماز ‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : وہ اچھی ہے ‘ لیکن یہ مراد نہیں ہے ‘ لوگوں نے عرض کی : رمضان کے روزے ‘ آپ نے فرمایا : یہ بھی اچھے ہیں لیکن یہ مراد نہیں ہے ‘ لوگوں نے عرض کی : جہاد کرنا ‘ آپ نے فرمایا : یہ بھی اچھا ہے ‘ لیکن یہ مراد نہیں ہے ‘ پھر آپ نے فرمایا : اسلام کی سب سے مضبوط رسی یہ ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کے لئے محبت رکھو اور اللہ کے لیے بغض رکھو ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے ‘ جسے اکثر حضرات نے ضعیف قرار دیا ہے ۔

307

Majma al-Zawaid #307

وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: «خَرَجَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" أَتَدْرُونَ أَيُّ الْأَعْمَالِ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ؟ "" قَالَ قَائِلٌ: الصَّلَاةُ وَالزَّكَاةُ، وَقَالَ قَائِلٌ: الْجِهَادُ. قَالَ: "" إِنَّ أَحَبَّ الْأَعْمَالِ إِلَى اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - الْحُبُّ لِلَّهِ، وَالْبُغْضُ لِلَّهِ» "". قُلْتُ: عِنْدَ أَبِي دَاوُدَ طَرَفٌ مِنْهُ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ.

EnglishUnverified translation

Abū Dharr رضي الله عنه said: The Messenger of Allah ﷺ came out to us and asked: > **"Do you know which deed is most beloved to Allah?"** Someone said, "The prayer and zakāh." Another said, "Jihād." He ﷺ said: > **"Indeed, the most beloved of deeds to Allah, Mighty and Majestic is He, is loving for the sake of Allah and hating for the sake of Allah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے ‘ تو آپ نے ارشاد فرمایا : کیا تم لوگ جانتے ہو ؟ کون سا عمل ‘ اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ ہے ؟ کسی نے کہا : نماز اور زکوۃ ‘ کسی نے کہا : جہاد ‘ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ عمل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی خاطر کسی سے محبت رکھی جائے اور اللہ تعالیٰ کی خاطر کسی سے بغض رکھا جائے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابوداؤد نے اس روایت کا ایک حصہ نقل کیا ہے ‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک ایسا شخص ہے ‘ جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔

308

Majma al-Zawaid #308

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ: "" «مَنْ أَحَبَّ لِلَّهِ - وَقَالَ هَاشِمٌ -: مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَجِدَ طَعْمَ الْإِيمَانِ فَلْيُحِبَّ الْمَرْءَ لَا يُحِبُّهُ إِلَّا لِلَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ» - "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه reported that the Prophet ﷺ said: > **"Whoever loves for the sake of Allah..."** And in another narration: > **"Whoever is pleased to taste the sweetness of faith, let him love a person loving him for nothing other than Allah, Mighty and Majestic is He."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جو شخص اللہ تعالیٰ کی خاطر محبت رکھے ۔ یہاں ہاشم نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ۔ جس شخص کو یہ بات پسند ہو کہ وہ ایمان کا ذائقہ چکھ لے ‘ اُسے کسی ایسے شخص کے ساتھ محبت رکھنی چاہیے ‘ جس کے ساتھ ‘ وہ صرف اللہ تعالیٰ کی خاطر محبت رکھے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد اور امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

309

Majma al-Zawaid #309

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: «دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" يَابْنَ مَسْعُودٍ، أَيُّ عُرَى الْإِيمَانِ أَوْثَقُ؟ "" قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ: "" أَوْثَقُ عُرَى الْإِسْلَامِ: الْوِلَايَةُ فِي اللَّهِ، وَالْحُبُّ فِي اللَّهِ، وَالْبُغْضُ فِي اللَّهِ» "" فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَهُوَ بِتَمَامِهِ فِي الْعِلْمِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ، وَفِيهِ عَقِيلُ بْنُ الْجَعْدِ، قَالَ الْبُخَارِيُّ: مُنْكَرُ الْحَدِيثِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Masʿūd رضي الله عنه said: I entered upon the Prophet ﷺ, and he said: > **"O Ibn Masʿūd, which handhold of faith is the firmest?"** I said, "Allah and His Messenger know best." He ﷺ said: > **"The firmest handhold of Islam is loyalty and allegiance for the sake of Allah, love for the sake of Allah, and hatred for the sake of Allah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ‘ تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : اے ابن مسعود ! ایمان کی کون سی رسی سب سے زیادہ مضبوط ہے ؟ میں نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں ‘ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : اسلام کی سب سے مضبوط رسی اللہ تعالیٰ کے لیے دوستی رکھنا ہے ‘ اللہ تعالیٰ کے لیے محبت رکھنا ہے ‘ اور اللہ تعالیٰ کے لیے بغض رکھنا ہے ....... اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ‘ یہ مکمل روایت علم سے متعلق باب میں آئے گی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عقیل بن جعد ہے ‘ امام بخاری فرماتے ہیں : یہ منکر الحدیث ہے ۔

310

Majma al-Zawaid #310

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «مَنْ أَحَبَّ لِلَّهِ وَأَبْغَضَ لِلَّهِ، وَأَعْطَى لِلَّهِ وَمَنَعَ لِلَّهِ ; فَقَدِ اسْتَكْمَلَ الْإِيمَانَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ صَدَقَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ السَّمِينُ، ضَعَّفَهُ الْبُخَارِيُّ وَأَحْمَدُ وَغَيْرُهُمَا، وَقَالَ أَبُو حَاتِمٍ: مَحَلُّهُ الصِّدْقُ.

EnglishUnverified translation

Abū Umāmah رضي الله عنه reported that the Prophet ﷺ said: > **"Whoever loves for the sake of Allah, hates for the sake of Allah, gives for the sake of Allah, and withholds for the sake of Allah, has perfected faith."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جو شخص اللہ تعالیٰ کے لیے کسی سے محبت رکھتا ہے ‘ اللہ تعالیٰ کے لیے بغض رکھتا ہے ‘ اللہ تعالیٰ کے لیے ( کسی کو کچھ ) دیتا ہے ‘ اللہ تعالیٰ کے لیے روک لیتا ( یعنی نہیں دیتا ) ہے ‘ وہ ایمان کو مکمل کر لیتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی صدقہ بن عبداللہ سمین ہے ‘ جسے امام بخاری ‘ امام احمد اور دیگر حضرات نے ضعیف قرار دیا ہے ‘ امام ابوحاتم فرماتے ہیں : اس کا محل صدق ہے ۔

311

Majma al-Zawaid #311

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: إِنَّ مِنَ الْإِيمَانِ أَنْ يُحِبَّ الرَّجُلُ أَخَاهُ لَا يُحِبُّهُ إِلَّا لِلَّهِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِي إِسْنَادِهِ إِسْحَاقُ الدَّبَرِيُّ، وَهُوَ مُنْقَطِعٌ بَيْنَ عَبْدِ الرَّزَّاقِ وَأَبِي إِسْحَاقَ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Masʿūd رضي الله عنه said: > **"Indeed, it is part of faith that a man loves his brother, loving him for nothing other than for the sake of Allah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ارشاد فرماتے ہیں : ایمان میں یہ بات بھی شامل ہے کہ آدمی اپنے بھائی کے ساتھ یوں محبت رکھے کہ وہ اُس کے ساتھ صرف ‘ اللہ تعالیٰ کی خاطر محبت رکھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی اسحاق طبری ہے ‘ اور یہ روایت ’’ منقطع ‘‘ ہے اور یہ ’’ انقطاع ‘‘ عبدالرزاق نامی راوی اور ابواسحاق نامی راوی کے درمیان ہے ۔

312

Majma al-Zawaid #312

وَعَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ لِي: أَحِبَّ فِي اللَّهِ، وَأَبْغِضْ فِي اللَّهِ، وَوَالِ فِي اللَّهِ، وَعَادِ فِي اللَّهِ ; فَإِنَّهُ لَا تُنَالُ وِلَايَةُ اللَّهِ إِلَّا بِذَلِكَ، وَلَا يَجِدُ رَجُلٌ طَعْمَ الْإِيمَانِ - وَإِنْ كَثُرَتْ صَلَاتُهُ وَصِيَامُهُ - حَتَّى يَكُونَ كَذَلِكَ، وَصَارَتْ مُؤَاخَاةُ النَّاسِ فِي أَمْرِ الدُّنْيَا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ، وَالْأَكْثَرُ عَلَى ضَعْفِهِ. وَقَدْ تَقَدَّمَ حَدِيثُ عَمْرِو بْنِ الْحَمِقِ فِيمَنْ يَغْضَبُ لِلَّهِ وَيَرْضَى لِلَّهِ.

EnglishUnverified translation

Mujāhid reported that ʿAbdullāh ibn ʿUmar رضي الله عنهما said to him: > **"Love for the sake of Allah, hate for the sake of Allah, ally for the sake of Allah, and show enmity for the sake of Allah; for indeed, the alliance of Allah cannot be attained except through that. A man will never taste the sweetness of faith—even if his prayers and fasting are abundant—until he is like that; yet the brotherhood of the people has become based upon worldly affairs."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

مجاہد نے ‘ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ بات نقل کی ہے : اُنہوں نے مجھ سے فرمایا : اللہ تعالیٰ کی خاطر محبت رکھو ! اللہ تعالیٰ کی خاطر بغض رکھو ‘ اللہ تعالیٰ کی خاطر دوستی رکھو ‘ اللہ تعالیٰ کی خاطر دشمنی رکھو ‘ اللہ تعالیٰ کی ولایت تک صرف اس ( عمل ) کے ذریعے ہی پہنچا جا سکتا ہے ‘ اور آدمی نے خواہ کتنی ہی نمازیں پڑھی ہوں اور روزے رکھے ہوں ‘ وہ ایمان کا ذائقہ اُس وقت تک نہیں پا سکتا ‘ جب تک وہ ایسا نہیں ہو جاتا ‘ لوگوں کا بھائی چارہ ‘ تو دنیاوی معاملے کے حوالے سے ہوتا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے ‘ اکثر حضرات نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ‘ اس سے پہلے حضرت عمرو بن حمق رضی اللہ عنہ کے حوالے سے حدیث گزر چکی ہے ‘ جو اُس شخص کے بارے میں ہے ‘ جو اللہ تعالیٰ کی خاطر غضبناک ہوتا ہے ‘ اور اللہ تعالیٰ کی خاطر راضی ہوتا ہے ۔

313

Majma al-Zawaid #313

عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «ثَلَاثٌ مُهْلِكَاتٌ، وَثَلَاثٌ مُنْجِيَاتٌ، وَثَلَاثٌ كَفَّارَاتٌ، وَثَلَاثٌ دَرَجَاتٌ ; فَأَمَّا الْمُهْلِكَاتٌ: فَشُحٌّ مُطَاعٌ، وَهَوًى مُتَّبَعٌ، وَإِعْجَابُ الْمَرْءِ بِنَفْسِهِ. وَأَمَّا الْمُنْجِيَاتُ: فَالْعَدْلُ فِي الْغَضَبِ وَالرِّضَا، وَالْقَصْدُ فِي الْفَقْرِ وَالْغِنَى، وَخَشْيَةُ اللَّهِ فِي السِّرِّ وَالْعَلَانِيَةِ. وَأَمَّا الْكَفَّارَاتُ: فَانْتِظَارُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصَّلَاةِ، وَإِسْبَاغُ الْوُضُوءِ فِي السَّبَرَاتِ، وَنَقْلُ الْأَقْدَامِ إِلَى الْجَمَاعَاتِ. وَأَمَّا الدَّرَجَاتُ: فَإِطْعَامُ الطَّعَامِ، وَإِفْشَاءُ السَّلَامِ، وَالصَّلَاةُ بِاللَّيْلِ وَالنَّاسُ نِيَامٌ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَمَنْ لَا يُعْرَفُ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿUmar رضي الله عنهما reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Three things are destructive, three things are salvific, three things are expiations, and three things raise ranks. As for the destructive things: obeyed greed, followed whims, and a person's self-admiration. As for the salvific things: justice in anger and pleasure, moderation in poverty and wealth, and fear of Allah in secret and in public. As for the expiations: waiting for the next prayer after prayer, performing ablution thoroughly in severe cold, and walking to congregate prayers. As for what raises ranks: feeding others, spreading peace (salām), and praying at night while the people are asleep."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ تین چیزیں ہلاکت کا شکار کرنے والی ہیں ، تین چیزیں نجات دلانے والی ہیں ، تین چیزیں کفارہ بنے والی ہیں ، تین چیزیں درجات ( میں اضافہ کا باعث ) ہیں ‘ جہاں تک ہلاکت کا شکر کرنے والی چیزوں کا تعلق ہے ‘ تو وہ ایسی کنجوسی ہے ‘ جس کی اطاعت کی جائے ‘ اور ایسی نفسانی خواہش ہے ، جس کی پیروی کی جائے اور آدمی کا اپنے بارے میں خود پسندی کا شکار ہونا ہے ‘ جہاں تک نجات دلانے والی چیزوں کا تعلق ہے ‘ تو وہ غضب یا رضامندی کے عالم میں ( یعنی ہر حال میں ) عدل کرنا ، تنگی یا خوشحالی ( ہر حال میں ) میانہ روی اختیار کرنا ‘ پوشیدہ اور علانیہ ( ہر حال میں ) اللہ تعالیٰ سے ڈرنا ہے ‘ جہاں تک کفارہ بنے والی چیزوں کا تعلق ہے ‘ تو وہ ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا ‘ سخت سردی میں اچھی طرح وضو کرنا ‘ اور قدم اُٹھا کر ( یعنی زیادہ دور سے چل کے ) باجماعت نماز کے لیے جانا ہے ‘ جہاں تک درجات ( میں اضافہ کا باعث بننے ) والی چیزوں کا تعلق ہے ‘ تو وہ کھانا کھلانا ‘ سلام پھیلانا اور رات کے وقت ( نفل ) نماز ادا کرتا ہے ‘ جب لوگ سو رہے ہوں ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک تو ابن لہیعہ ہے اور دوسرا ایک ایسا راوی ہے ‘ جس کی شناخت نہیں ہو سکی ۔

314

Majma al-Zawaid #314

وَعَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ: "" «ثَلَاثٌ كَفَّارَاتٌ، وَثَلَاثٌ دَرَجَاتٌ، وَثَلَاثٌ مُنْجِيَاتٌ، وَثَلَاثٌ مُهْلِكَاتٌ ; فَأَمَّا الْكَفَّارَاتُ: فَإِسْبَاغُ الْوُضُوءِ فِي السَّبَرَاتِ، وَانْتِظَارُ الصَّلَوَاتِ بَعْدَ الصَّلَوَاتِ، وَنَقْلُ الْأَقْدَامِ إِلَى الْجُمُعَاتِ. وَأَمَّا الدَّرَجَاتُ: فَإِطْعَامُ الطَّعَامِ، وَإِفْشَاءُ السَّلَامِ، وَالصَّلَاةُ بِاللَّيْلِ وَالنَّاسُ نِيَامٌ. وَأَمَّا الْمُنْجِيَاتُ: فَالْعَدْلُ فِي الْغَضَبِ وَالرِّضَا، وَالْقَصْدُ فِي الْفَقْرِ وَالْغِنَى، وَخَشْيَةُ اللَّهِ فِي السِّرِّ وَالْعَلَانِيَةِ. وَأَمَّا الْمُهْلِكَاتُ: فَشُحٌّ مُطَاعٌ، وَهَوًى مُتَّبَعٌ، وَإِعْجَابُ الْمَرْءِ بِنَفْسِهِ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِبَعْضِهِ، وَقَالَ: "" إِعْجَابُ الْمَرْءِ بِنَفْسِهِ مِنَ الْخُيَلَاءِ ""، وَفِيهِ زَائِدَةُ بْنُ أَبِي الرُّقَادِ وَزِيَادٌ النُّمَيْرِيُّ، وَكِلَاهُمَا مُخْتَلَفٌ فِي الِاحْتِجَاجِ بِهِ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Mālik رضي الله عنه reported that the Prophet ﷺ said: > **"Three things are expiations, three things raise ranks, three things are salvific, and three things are destructive. As for the expiations: performing ablution thoroughly in severe cold, waiting for prayers after prayers, and walking to Friday prayers. As for what raises ranks: feeding others, spreading peace (salām), and praying at night while the people are asleep. As for the salvific things: justice in anger and pleasure, moderation in poverty and wealth, and fear of Allah in secret and in public. As for the destructive things: obeyed greed, followed whims, and a person's self-admiration."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ تین چیزیں کفارہ ہیں ، تین چیزیں درجات میں اضافہ کا باعث ہیں ، تین چیزیں نجات دلانے والی ہیں اور تین چیزیں ہلاکت کا شکار کرنے والی ہیں ، جہاں تک کفارہ بننے والی چیزوں کا تعلق ہے ‘ تو وہ سخت سردی میں اچھی طرح وضو کرنا ‘ ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا ‘ قدم اُٹھا کر ( یعنی دور سے چل کے ) جمعہ ( یا با جماعت نماز ) کی ادائیگی کے لئے جانا ہے ‘ جہاں تک درجات میں اضافہ کا باعث بننے والی چیزوں کا تعلق ہے ‘ تو وہ کھانا کھلانا ‘ سلام پھیلانا ‘ اور رات میں اُس وقت ( نفل ) نماز ادا کرنا ہے ‘ جب لوگ سو رہے ہوں ، جہاں تک نجات دلانے والی چیزوں کا تعلق ہے ‘ تو وہ غصہ اور رضامندی ( ہر حال میں ) عدل کرنا ‘ تنگی اور خوشحالی ( ہر حال میں ) میانہ روی اختیار کرنا اور پوشیدہ و علانیہ ( ہر حال میں ) اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہنا ہے ‘ جہاں تک ہلاکت کا شکار کرنے والی چیزوں کا تعلق ہے ‘ تو ایسی کنجوسی ، جس کی اطاعت کی بجائے ‘ ایسی نفسانی خواہش ، جس کی پیروی کی جائے ‘ اور آدمی کا خود پسندی کا شکار ہونا ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے امام طبرانی نے معجم اوسط میں اس کا کچھ حصہ نقل کیا ہے اور یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ’’ آدمی کا خود پسندی کا شکار ہونا ‘ تکبر کا حصہ ہے ‘‘۔ اس روایت کی سند میں ‘ ایک راوی زائدہ بن ابورقاد ہے ‘ اور ایک راوی زیاد نمیری ہے ‘ ان دونوں سے استدلال کرنے کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے ۔

315

Majma al-Zawaid #315

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " «الْمُهْلِكَاتُ ثَلَاثٌ: إِعْجَابُ الْمَرْءِ بِنَفْسِهِ، وَشُحٌّ مُطَاعٌ، وَهَوًى مُتَّبَعٌ» ".

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿAbbās رضي الله عنهما reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"The destructive things are three: a person's self-admiration, obeyed greed, and followed whims."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ ہلاکت کا شکار کرنے والی چیزیں تین ہیں ، آدمی کا خود پسندی کا شکار ہونا ، بخل کی اطاعت کیا جانا ‘ اور نفسانی خواہش کی پیروی کی جانا ‘‘۔

316

Majma al-Zawaid #316

وَعَنِ ابْنِ أَبِي أَوْفَى، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ بِمِثْلِهِ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِي سَنَدِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَابْنِ أَبِي أَوْفَى كِلَاهُمَا: مُحَمَّدُ بْنُ عَوْنٍ الْخُرَاسَانِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Abī Awfā رضي الله عنه reported that the Prophet ﷺ said something similar: > **"The destructive things are three: a person's self-admiration, obeyed greed, and followed whims."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہ نے ‘ نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے ‘ اس کی مانند روایت نقل کی ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول روایت اور حضرت ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے منقول روایت دونوں کی سند میں ‘ ایک راوی محمد بن عون خراسانی ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔

317

Majma al-Zawaid #317

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «الْحَيَاءُ مِنَ الْإِيمَانِ، وَالْإِيمَانُ فِي الْجَنَّةِ. وَالْبَذَاءُ مِنَ الْجَفَاءِ، وَالْجَفَاءُ فِي النَّارِ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ - وَفِي الصَّحِيحِ مِنْهُ: "" الْحَيَاءُ مِنَ الْإِيمَانِ "" - وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Modesty (ḥayāʾ) is from faith, and faith leads to Paradise. Vulgarity (badhāʾ) is from harshness, and harshness leads to the Fire."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے :’’ حیاء ایمان کا حصہ ہے اور ایمان ، جنت میں ہو گا ‘ اور بے حیائی ‘ جفاء کا حصہ ہے ‘ اور جفاء جہنم میں ہو گی ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ ’’ صحیح ‘‘ میں اس کا یہ حصہ منقول ہے :’’ حیاء ‘ ایمان کا حصہ ہے ‘‘ اس روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

318

Majma al-Zawaid #318

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «الْحَيَاءُ مِنَ الْإِيمَانِ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ هِشَامُ بْنُ زِيَادٍ أَبُو الْمِقْدَامِ لَا يَحِلُّ الِاحْتِجَاجُ بِهِ، ضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ، وَلَمْ يُوَثِّقْهُ أَحَدٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Salām رضي الله عنه reported that the Prophet ﷺ said: > **"Modesty is part of faith."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ حیاء ایمان کا حصہ ہے ‘‘۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ہشام بن زیاد ابومقدام ہے ‘ جس سے استدلال کرنا جائز نہیں ہے ‘ ایک جماعت نے اسے ضعیف قرار دیا ہے اور کسی نے بھی اُس کی توثیق نہیں کی ہے ۔

319

Majma al-Zawaid #319

وَعَنْ أَبِي بَكْرَةَ وَعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «الْحَيَاءُ مِنَ الْإِيمَانِ، وَالْإِيمَانُ فِي الْجَنَّةِ. وَالْبَذَاءُ مِنَ الْجَفَاءِ، وَالْجَفَاءُ فِي النَّارِ» "". قُلْتُ: حَدِيثُ أَبِي بَكْرَةَ رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ، وَرَوَاهُمَا جَمِيعًا الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالصَّغِيرِ، وَفِي مُسْنَدِهِ عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ عَبْدُ اللَّهِ عَنِ الْمَأْمُونِ، وَلَمْ أَرَ مَنْ ذَكَرَ عَبْدَ الْجَبَّارِ.

EnglishUnverified translation

Abū Bakrah and ʿImrān ibn Ḥuṣayn رضي الله عنهما reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Modesty is from faith, and faith leads to Paradise. Vulgarity is from harshness, and harshness leads to the Fire."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ اور حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ حیاء ‘ ایمان کا حصہ ہے ‘ اور ایمان ‘ جنت میں ہو گا ‘ بے حیائی ، جفاء کا حصہ ہے اور جفاء جہنم میں ہو گی ‘‘۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث کو امام ابن ماجہ نے روایت کیا ہے اور ان دونوں روایات کو امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم صغیر میں نقل کیا ہے ‘ اس کی سند میں یہ بات مذکور ہے : اسے عبدالجبار بن عبداللہ نامی راوی نے مامون کے حوالے سے نقل کیا ہے ‘ اور میں نے کسی کو عبدالجبار نامی اس راوی کا ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ۔

320

Majma al-Zawaid #320

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ: «جَاءَ قَوْمٌ بِصَاحِبِهِمْ إِلَى نَبِيِّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالُوا: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، إِنْ صَاحِبَنَا هَذَا قَدْ أَفْسَدَهُ الْحَيَاءُ، فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" إِنَّ الْحَيَاءَ مِنْ شَرَائِعِ الْإِسْلَامِ، وَإِنَّ الْبَذَاءَ مِنْ لُؤْمِ الْمَرْءِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ وَثَّقَهُمُ ابْنُ حِبَّانَ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Masʿūd رضي الله عنه said: Some people brought their companion to the Prophet of Allah ﷺ and said, "O Prophet of Allah, this companion of ours has been ruined by modesty." The Prophet of Allah ﷺ said: > **"Indeed, modesty is among the precepts of Islam, while vulgarity is from a person's vileness."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : کچھ لوگ اپنے ایک ساتھی کو لے کر نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی : اے اللہ کے نبی ! ہمارے ساتھی کو حیاء نے خراب کر دیا ہے ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : بے شک حیاء ‘ اسلامی احکام کا حصہ ہے اور بے حیائی ‘ آدمی کی کمینگی میں سے ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال کو امام ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ۔