Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 1 · Chapter 7

Book of Faith

Hadith 241–280

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

241

Majma al-Zawaid #241

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى «أَنَّ جِبْرِيلَ أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالْبُرَاقِ، فَحَمَلَهُ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَإِذَا بَلَغَ مَكَانًا مُطَأْطِئًا طَالَتْ يَدَاهَا وَقَصُرَتْ رِجْلَاهَا حَتَّى تَسْتَوِيَ بِهِ، وَإِذَا بَلَغَ مَكَانًا مُرْتَفِعًا قَصُرَتْ يَدَاهَا وَطَالَتْ رِجْلَاهَا حَتَّى تَسْتَوِيَ، ثُمَّ عَرَضَ لَهُ رَجُلٌ عَنْ يَمِينِ الطَّرِيقِ فَجَعَلَ يُنَادِيهِ: يَا مُحَمَّدُ، إِلَى الطَّرِيقِ، مَرَّتَيْنِ، فَقَالَ لَهُ جِبْرِيلُ: امْضِ وَلَا تَكَلَّمْ، ثُمَّ عَرَضَ لَهُ رَجُلٌ عَنْ يَسَارِ الطَّرِيقِ، فَقَالَ لَهُ: إِلَى الطَّرِيقِ يَا مُحَمَّدُ، فَقَالَ لَهُ جِبْرِيلُ: امْضِ وَلَا تُكَلِّمْ أَحَدًا، ثُمَّ عَرَضَتْ لَهُ امْرَأَةٌ حَسْنَاءُ جَمْلَاءُ، فَقَالَ لَهُ جِبْرِيلُ: تَدْرِي مَنِ الرَّجُلُ الَّذِي عَنْ يَمِينِ الطَّرِيقِ؟ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: لَا. قَالَ: تِلْكَ الْيَهُودُ دَعَتْكَ إِلَى دِينِهِمْ، ثُمَّ قَالَ لَهُ: تَدْرِي مَنِ الرَّجُلُ الَّذِي دَعَاكَ عَنْ يَسَارِ الطَّرِيقِ؟ قَالَ: لَا. قَالَ: تِلْكَ النَّصَارَى دَعَتْكَ إِلَى دِينِهِمْ، هَلْ تَدْرِي مَنِ الْمَرْأَةُ الْحَسْنَاءُ الْجَمْلَاءُ؟ قَالَ: تِلْكَ الدُّنْيَا دَعَتْكَ إِلَى نَفْسِهَا، ثُمَّ انْطَلَقْنَا حَتَّى أَتَيْنَا بَيْتَ الْمَقْدِسِ، فَإِذَا هُوَ بِنَفَرٍ جُلُوسٍ فَقَالُوا: مَرْحَبًا بِالنَّبِيِّ الْأُمِّيِّ، فَإِذَا فِي النَّفَرِ الْجُلُوسِ شَيْخٌ، فَقَالَ مُحَمَّدٌ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: مَنْ هَذَا؟ قَالَ: هَذَا أَبُوكَ إِبْرَاهِيمُ، ثُمَّ سَأَلَهُ مَنْ هَذَا؟ قَالَ: هَذَا مُوسَى، ثُمَّ سَأَلَهُ مَنْ هَذَا؟ قَالَ: هَذَا عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ، ثُمَّ أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَتَدَافَعُوا حَتَّى قَدَّمُوا مُحَمَّدًا - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ أَتَوْا بِأَشْرِبَةٍ، فَاخْتَارَ مُحَمَّدٌ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - اللَّبَنَ، قَالَ لَهُ جِبْرِيلُ: أَصَبْتَ الْفِطْرَةَ، ثُمَّ قِيلَ لَهُ: قُمْ إِلَى رَبِّكَ فَقَامَ فَدَخَلَ، ثُمَّ جَاءَ فَقِيلَ لَهُ: مَاذَا صَنَعْتَ؟ فَقَالَ: فُرِضَتْ عَلَى أُمَّتِي خَمْسُونَ صَلَاةً، فَقَالَ لَهُ مُوسَى: ارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ فَسَلْهُ التَّخْفِيفَ لِأُمَّتِكَ ; فَإِنَّ أُمَّتَكَ لَا تُطِيقُ هَذَا، فَرَجَعَ ثُمَّ جَاءَ، فَقَالَ لَهُ مُوسَى: مَاذَا صَنَعْتَ؟ قَالَ: رَدَّهَا إِلَى خَمْسٍ وَعِشْرِينَ صَلَاةً، فَقَالَ لَهُ مُوسَى: ارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ فَسَلْهُ التَّخْفِيفَ لِأُمَّتِكَ، فَرَجَعَ ثُمَّ جَاءَ حَتَّى رَدَّهَا إِلَى خَمْسٍ، فَقَالَ لَهُ مُوسَى: ارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ فَسَلْهُ التَّخْفِيفَ لِأُمَّتِكَ، فَقَالَ: قَدِ اسْتَحْيَيْتُ مِنْ رَبِّي مِمَّا أُرَاجِعُهُ، وَقَدْ قَالَ لِي: "" لَكَ بِكُلِّ رَدَّةٍ رَدَدْتَهَا مَسْأَلَةٌ أُعْطِيكَهَا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ هَكَذَا مُرْسَلًا، وَقَالَ: لَا يُرْوَى عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَمَعَ الْإِرْسَالِ فِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd al-Raḥmān ibn Abī Laylā reported: Jibrīl brought the Burāq to the Prophet ﷺ and carried him before him. Whenever it reached a low place, its front legs lengthened and its hind legs shortened so that he remained level; and whenever it reached an incline, its front legs shortened and its hind legs lengthened until it leveled out. Then a man appeared on the right of the path and called out twice, "O Muḥammad, come to the path!" Jibrīl said to him, "Proceed and do not speak." Then a man appeared on the left of the path and called out, "To the path, O Muḥammad!" Jibrīl said to him, "Proceed and do not speak to anyone." Then an exquisite, beautiful woman appeared before him. Jibrīl said, "Do you know who that man was on the right of the path?" The Prophet ﷺ said, "No." Jibrīl said, "That was Judaism calling you to their religion." Then he asked, "Do you know who called you on the left of the path?" He said, "No." Jibrīl said, "That was Christianity calling you to their religion. Do you know who that beautiful woman was?" He said, "That was the worldly life (*al-Dunyā*) calling you to itself." Then they proceeded until they arrived at Bayt al-Maqdis. Behold, there sat a gathering who said, "Welcome to the Unlettered Prophet!" Among them sat an elder. Muḥammad ﷺ asked, "Who is this?" Jibrīl said, "This is your forefather Ibrāhīm." Then he asked, "Who is this?" Jibrīl said, "This is Mūsā." Then he asked, "Who is this?" Jibrīl said, "This is ʿĪsā ibn Maryam." The prayer was established and they stepped back, bringing Muḥammad ﷺ forward to lead. Drinks were brought, and Muḥammad ﷺ chose milk. Jibrīl said to him, "You have chosen the primordial nature (*al-fiṭrah*)." Then it was said to him, "Stand before your Lord." He entered, and when he returned, he was asked, "What happened?" He said, "Fifty prayers were enjoined upon my nation." Mūsā said to him, "Return to your Lord and ask Him for a reduction for your nation, for your nation cannot bear this." He returned and came back. Mūsā asked, "What happened?" He said, "He reduced them to twenty-five." Mūsā said, "Return to your Lord and ask Him for a reduction." He returned and came back until He reduced them to five. Mūsā said, "Return to your Lord and ask Him for a reduction." The Prophet ﷺ said: > **"I feel ashamed before my Lord from repeatedly returning to Him, especially since He has said to me: 'For every return you made, you have an answered petition that I shall grant you.'"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبدالرحمن بن ابولیلی بیان کرتے ہیں : حضرت جبرائیل علیہ السلام نبی اکرم ﷺ کے پاس براق لے کر آئے اور نبی اکرم ﷺ کو اس پر سوار کروایا ‘ جب وہ کسی ہموار جگہ پر پہنچتا تھا ‘ تو اس کے ہاتھ لمبے ہو جاتے تھے اور ٹانگیں چھوٹی ہو جاتی تھیں ، اور جب کوئی بلند جگہ آتی تھی ، تو اس کے ہاتھ چھوٹے ہو جاتے تھے اور ٹانگیں لمبی ہو جاتی تھیں ، یہاں تک کہ وہ سیدھا ہو جاتا تھا ، پھر نبی اکرم ﷺ کے سامنے دائیں طرف ایک شخص آیا ‘ اس نے آپ کو پکار کر کہا : اے حضرت محمد ! اس طرف آئیے ! اُس نے دو مرتبہ یہ کہا ‘ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے نبی اکرم ﷺ سے کہا : آپ چلتے رہیے اور کلام نہ کریں ! پھر راستے کے بائیں طرف ‘ نبی اکرم ﷺ کے سامنے ایک شخص آیا ‘ اور اُس نے یہ کہا : اے حضرت محمد ! اس طرف آئیے ! حضرت جبرائیل نے آپ ﷺ سے کہا : آپ چلتے رہیے ! اور کسی کے ساتھ کلام نہ کریں ! پھر ایک حسین و جمیل عورت نبی اکرم ﷺ کے سامنے آئی ‘ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے نبی اکرم ﷺ سے دریافت کیا : کیا آپ جانتے ہیں کہ راستے کے دائیں طرف جو شخص تھا ‘ وہ کون تھا ؟ نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا : جی نہیں ! حضرت جبرائیل علیہ السلام نے بتایا : وہ یہودی تھے ‘ جو آپ کو اپنے دین کی طرف دعوت دے رہے تھے ‘ پھر حضرت جبرائیل نے آپ سے دریافت کیا : کیا آپ جانتے ہیں ‘ وہ شخص کون تھا ؟ جو راستے کے بائیں طرف آپ کو بلا رہا تھا ‘ نبی اکرم ﷺ نے جواب دیا : جی نہیں ! حضرت جبرائیل نے بتایا : وہ عیسائی تھے ‘ جو آپ کو اپنے دین کی طرف بلا رہے تھے کیا آپ جانتے ہیں ؟ وہ حسین و جمیل عورت کون تھی ؟ حضرت جبرائیل نے بتایا : وہ دنیا تھی ، جو آپ کو اپنی طرف بلا رہی تھی ‘ پھر ہم چلتے رہے ‘ یہاں تک کہ ہم بیت المقدس آ گئے ‘ وہاں کچھ افراد بیٹھے ہوئے تھے ‘ انہوں نے کہا : ” امی نبی ‘‘ کو خوش آمدید ! ان بیٹھے ہوئے لوگوں کے درمیان ایک عمر رسیدہ صاحب بھی تھے ‘ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : یہ کون ہیں ؟ تو حضرت جبرائیل نے بتایا : یہ آپ کے جد امجد حضرت ابراہیم علیہ السلام ہیں ، پھر نبی اکرم ﷺ نے اُن سے دریافت کیا : یہ کون ہیں ؟ حضرت جبرائیل نے بتایا : یہ حضرت موسیٰ علیہ السلام ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے ان سے دریافت کیا : یہ کون ہیں ؟ تو انہوں نے بتایا : یہ حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام ہیں ، پھر نماز کھڑی ہوئی ‘ تو ان حضرات نے نبی اکرم ﷺ کو ( امامت کے لئے ) آگے کر دیا ۔ پھر فرشتے کچھ مشروب لے کر آئے ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے دودھ کو اختیار کیا ‘ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے کہا : آپ نے فطرت کی پیروی کی ہے ‘ پھر آپ سے کہا گیا : آپ اُٹھ کر اپنے پروردگار کی بارگاہ میں حاضر ہوں ‘ آپ اُٹھے اور اندر داخل ہو گئے ‘ جب آپ تشریف لائے تو آپ سے دریافت کیا گیا : آپ نے کیا کیا ( یعنی آپ کے ساتھ کیا معاملہ پیش آیا ؟ ) تو آپ ﷺ نے فرمایا : میری امت پر پچاس نمازیں فرض کی گئی ہیں ، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے آپ سے کہا : آپ اپنے پروردگار کے پاس واپس جائیں اور اس سے اپنی امت کے لیے تخفیف مانگیں ! کیونکہ آپ کی امت اس کی طاقت نہیں رکھے گی ، آپ واپس تشریف لے گئے ‘ جب آپ آئے ‘ تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے آپ سے دریافت کیا : کیا بنا ؟ آپ نے بتایا : پروردگار نے انہیں پچیس میں تبدیل کر دیا ہے ‘ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے آپ سے کہا : آپ اپنے پروردگار کے پاس واپس جایئے اور اُس سے اپنی امت کے لئے تخفیف مانگیے ! نبی اکرم ﷺ واپس گئے ‘ پھر آئے ‘ یہاں تک کہ پروردگار نے جب پانچ نمازیں فرض کر دیں ، تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے آپ سے کہا : آپ اپنے پروردگار کے پاس واپس جائیں اور اس سے اپنی امت کے لئے تخفیف مانگیں ! تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : بار ‘ بار جانے کی وجہ سے ‘ اب مجھے اپنے پروردگار سے حیا آتی ہے جبکہ پروردگار نے مجھے یہ فرما دیا ہے : ’’ میں نے جب بھی تمہیں واپس کیا ‘ تو ہر مرتبہ کے عوض میں ‘ ایک سوال کا حق دیتا ہوں جو میں پورا کروں گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اسی طرح ’’ مرسل ‘‘ روایت کے طور پر نقل کی ہے ‘ وہ فرماتے ہیں : ابن ابولیلی کے حوالے سے یہ روایت اس سند کے ساتھ منقول ہے ‘ ایک تو اس میں ’’ ارسال ‘‘ پایا جاتا ہے دوسرا اس میں ایک راوی محمد بن عبدالرحمن بن ابی لیلی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

242

Majma al-Zawaid #242

وَعَنْ صُهَيْبِ بْنِ سِنَانٍ قَالَ: «لَمَّا عُرِضَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْمَاءُ ثُمَّ الْخَمْرُ ثُمَّ اللَّبَنُ، أَخَذَ اللَّبَنَ، فَقَالَ لَهُ جِبْرِيلُ: أَصَبْتَ (أَخَذْتَ) الْفِطْرَةَ، وَبِهَا غُذِّيَتْ كُلُّ دَابَّةٍ، وَلَوْ أَخَذْتَ الْخَمْرَ غَوِيتَ وَغَوِيَتْ أُمَّتُكَ، وَكُنْتَ مِنْ أَهْلِ هَذِهِ، وَأَشَارَ بِيَدِهِ إِلَى الْوَادِي الَّذِي يُقَالُ لَهُ: وَادِي جَهَنَّمَ، فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ فَإِذَا هُوَ يَلْتَهِبُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ.

EnglishUnverified translation

Ṣuhayb ibn Sinān رضي الله عنه said: When water, then wine, and then milk were presented to the Messenger of Allah ﷺ, he took the milk. Jibrīl said to him: > **"You have attained the primordial nature (*al-fiṭrah*) by which every creature is nourished. Had you taken the wine, you would have gone astray and your nation would have gone astray, and you would have been of the dwellers of this"—and he pointed toward the valley known as the Valley of Hell; I looked toward it and behold, it was blazing with fire.**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت صہیب بن سنان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ( معراج کی رات ) جب نبی اکرم ﷺ کے سامنے پانی ‘ پھر شراب اور پھر دودھ پیش کیا گیا ‘ تو آپ نے دودھ لے لیا ‘ حضرت جبرائیل نے آپ سے کہا : آپ فطرت تک پہنچ گئے ہیں ‘ اسی کے ذریعے ہر جانور کو غذا دی جاتی ہے ‘ اگر آپ شراب لے لیتے ‘ تو آپ بھی گمراہ ہو جاتے ‘ اور آپ کی اُمت بھی گمراہ ہو جاتی ‘ اور پھر آپ نے یہاں کا رہنے والا ہو جانا تھا ‘ انہوں نے اپنے ہاتھ کے ذریعے ’’ وادی ‘‘ کی طرف اشارہ کیا ‘ جس کا نام وادی جہنم تھا ‘ میں نے اُس کی طرف نظر کی ‘ تو وہ بھڑک رہی تھی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ۔

243

Majma al-Zawaid #243

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ قُرْطٍ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهِ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى، فَلَمَّا رَجَعَ كَانَ بَيْنَ الْمَقَامِ وَزَمْزَمَ، جِبْرِيلُ عَنْ يَمِينِهِ، وَمِيكَائِيلُ عَنْ يَسَارِهِ، فَطَارَا بِهِ حَتَّى بَلَغَ السَّمَاوَاتِ السَّبْعَ، فَلَمَّا رَجَعَ قَالَ: "" سَمِعْتُ تَسْبِيحًا فِي السَّمَاوَاتِ الْعُلَى مَعَ تَسْبِيحٍ كَثِيرٍ، سَبَّحَتِ السَّمَاوَاتُ الْعُلَى مِنْ ذِي الْمَهَابَةِ مُشْفِقَاتٍ لِذِي الْعُلَا بِمَا عَلَا سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مِسْكِينُ بْنُ مَيْمُونٍ، ذَكَرَ لَهُ الذَّهَبِيُّ هَذَا الْحَدِيثَ، وَقَالَ: إِنَّهُ مُنْكَرٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd al-Raḥmān ibn Qurṭ رضي الله عنه reported: On the night the Messenger of Allah ﷺ was taken on the journey to al-Masjid al-Aqṣā, when he returned he was between the Maqām of Ibrāhīm and Zamzam, with Jibrīl on his right and Mīkāʾīl on his left. They flew with him until he reached the seven heavens. When he returned, he ﷺ said: > **"I heard glorification in the highest heavens amidst many hymns of praise: 'The highest heavens glorify the Possessor of Awe, in fearful reverence of the Possessor of Sublimity by virtue of His supreme transcendence; glorified and exalted is He!'"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبدالرحمن بن قرط رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جس رات نبی اکرم ﷺ کو مسجد اقصیٰ کی طرف سیر کروائی گئی ‘ جب آپ واپس آئے ‘ تو آپ مقام ابراہیم اور زم زم کے کنویں کے درمیان کھڑے ہوئے ‘ حضرت جبرائیل آپ کے دائیں طرف تھے اور حضرت میکائیل آپ کے بائیں طرف تھے ‘ یہ دونوں حضرات آپ ﷺ کو ساتھ لے کر پرواز کر گئے ‘ یہاں تک کہ آپ ساتوں آسمانوں تک پہنچ گئے ‘ جب آپ واپس تشریف لائے ‘ تو آپ نے بتایا : میں نے اوپر کے آسمانوں میں بہت سی تسبیح کے ہمراہ یہ تسبیح بھی سنی ‘ ’’ اوپر والے آسمان ہیبت والی ذات کی تسبیح بیان کرتے ہیں ‘ بلندی والی ذات سے ڈرتے ہوئے ‘ اُس کے حوالے سے جو بلندی اُسے حاصل ہے ‘ وہ ہر عیب سے پاک ہے اور بلند و برتر ہے ‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی مسکین بن میمون ہے ‘ امام ذہبی نے اس کے حوالے سے یہ روایت ذکر کی ہے اور یہ کہا ہے : یہ منکر ہے ۔

244

Majma al-Zawaid #244

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «لَمَّا أُسْرِيَ بِي، انْتَهَيْتُ إِلَى سِدْرَةِ الْمُنْتَهَى، فَإِذَا نَبِقُهَا أَمْثَالُ الْقِلَالِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ زَيْنَبُ بِنْتُ سُلَيْمَانَ بْنِ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، لَمْ أَرَ مَنْ ذَكَرَهَا.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما said: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: > **"When I was taken on the night journey, I reached the Lote Tree of the Utmost Boundary (*Sidrat al-Muntahā*), and behold, its lote-fruits were like large water jars (*al-qilāl*)."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : جب مجھے سیر کروائی گئی ‘ تو میں سدرۃ المنتہی تک پہنچا ‘ تو اُس کے پتے گھڑوں کی مانند ( یعنی بڑے ) تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک خاتون زینب بنت سلیمان بن علی بن عبداللہ بن عباس ہیں ‘ میں نے کسی کو اُن کا ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ۔

245

Majma al-Zawaid #245

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَسْعَدَ بْنِ زُرَارَةَ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي، فَانْتَهَيْتُ إِلَى قَصْرٍ مِنْ لُؤْلُؤَةٍ يَتَلَأْلَأُ نُورًا، وَأُعْطِيتُ ثَلَاثًا: إِنَّكَ سَيِّدُ الْمُرْسَلِينَ، وَإِمَامُ الْمُتَّقِينَ، وَرَسُولُ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَقَائِدُ الْغُرِّ الْمُحَجَّلِينَ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ هِلَالٌ الصَّيْرَفِيُّ عَنْ أَبِي كَثِيرٍ الْأَنْصَارِيِّ. لَمْ أَرَ مَنْ ذَكَرَهُمَا.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Asʿad ibn Zurārah رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"On the night I was taken on the journey, I reached a palace of pearl glistening with light, and I was granted three honors: 'Indeed, you are the Master of the Messengers, the Leader of the God-fearing, the Messenger of the Lord of the worlds, and the Leader of those with radiant faces, hands, and feet from ablution.'"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ جس رات مجھے سیر کروائی گئی ‘ تو میں موتیوں کے بنے ہوئے ایک محل تک آیا ‘ جس کا نور جھلملا رہا تھا ، مجھے تین چیزیں دی گئیں ( اور یہ کہا گیا : ) تم تمام رسولوں کے سردار اور تمام پرہیز گار لوگوں کے امام ہو ‘ تمام جہانوں کے پروردگار کے رسول ہو ‘ اور چمکدار پیشانی والوں کے قائد ہو ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں یہ مذکور ہے : اس کو ہلال صیرفی نے ابوکثیر انصاری سے نقل کیا ہے ‘ میں نے کسی کو ان دونوں کا ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ۔

246

Majma al-Zawaid #246

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: "" «مَرَرْتُ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي بِالْمَلَأِ الْأَعْلَى وَجِبْرِيلُ كَالْحِلْسِ الْبَالِي مِنْ خَشْيَةِ اللَّهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Jābir رضي الله عنه reported that the Prophet ﷺ said: > **"On the night I was taken on the journey, I passed by the Exalted Assembly (*al-Malaʾ al-Aʿlā*), and Jibrīl was like a worn, flattened mat out of the fear and awe of Allah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں رحمۃ علیہ ( نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ) ’’ جس رات مجھے سیر کروائی گئی ‘ ( اُس رات میں ) میں فرشتوں کے گروہ کے پاس سے گزرا ‘ تو جبرائیل ‘ اللہ تعالیٰ کی خشیت کی وجہ سے وہ پرانی چادر کی مانند تھے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

247

Majma al-Zawaid #247

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" رَأَيْتُ رَبِّي - عَزَّ وَجَلَّ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"I saw my Lord, Mighty and Majestic."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میں نے اپنے پروردگار کا دیدار کیا ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

248

Majma al-Zawaid #248

وَعَنْ عِكْرِمَةَ: "" {وَمَا جَعَلْنَا الرُّؤْيَا الَّتِي أَرَيْنَاكَ إِلَّا فِتْنَةً لِلنَّاسِ} [الإسراء: 60] "". قَالَ: شَيْءٌ أُرِيَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْيَقَظَةِ، رَآهُ بِعَيْنَيْهِ حِينَ ذُهِبَ بِهِ إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ مَوْقُوفًا عَلَى عِكْرِمَةَ، وَفِيهِ ابْنُ إِسْحَاقَ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ.

EnglishUnverified translation

ʿIkrimah said regarding the verse: *{And We made not the vision which We showed you except as a test for people}* [al-Isrāʾ: 60]: > **"It was something shown to the Prophet ﷺ in a wakeful state, which he saw with his own eyes when he was taken to Bayt al-Maqdis."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عکرمہ کے حوالے سے یہ روایت منقول ہے ( اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے : ) ’’ وہ خواب جو ہم نے تمہیں دکھایا ہے ‘ انہیں ہم نے لوگوں کے لئے آزمائش بنایا ہے ‘‘ عکرمہ فرماتے ہیں : یہ وہ چیز ہے ‘ جو نبی اکرم ﷺ کو بیداری کے دوران دکھائی گئی تھی ، آپ نے اسے اپنی ظاہری آنکھوں کے ساتھ دیکھا تھا ‘ یہ اُس وقت کی بات ہے ‘ جب آپ کو بیت المقدس لے جایا گیا تھا ۔ یہ روایت امام احمد نے عکرمہ پر ’’ موقوف ‘‘ روایت کے طور پر نقل کی ہے اور اس میں ایک راوی ابن اسحاق ہے اور وہ تدلیس کرنے والا ہے ۔

249

Majma al-Zawaid #249

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: «إِنَّ مُحَمَّدًا - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَأَى رَبَّهُ مَرَّتَيْنِ: مَرَّةً بِبَصَرِهِ، وَمَرَّةً بِفُؤَادِهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ، خَلَا جَهْوَرِ بْنِ مَنْصُورٍ الْكُوفِيِّ، وَجَهْوَرُ بْنُ مَنْصُورٍ ذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما used to say: > **"Indeed, Muḥammad ﷺ saw his Lord twice: once with his physical eyes, and once with his heart."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ بات منقول ہے : وہ یہ فرماتے تھے : حضرت محمد ﷺ نے اپنے پروردگار کو دو مرتبہ دیکھا ہے ‘ ایک مرتبہ اپنی بصارت کے ساتھ ‘ اور ایک مرتبہ دل کے ساتھ ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف جمہور بن منصور کوفی کا معاملہ مختلف ہے ‘ اس کا ذکر ابن حبان نے کتاب ’’ الثقات ‘‘ میں کیا ہے ۔

250

Majma al-Zawaid #250

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «نَظَرَ مُحَمَّدٌ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى رَبِّهِ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى -. قَالَ عِكْرِمَةُ: فَقُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: نَظَرَ مُحَمَّدٌ إِلَى رَبِّهِ؟ قَالَ: نَعَمْ، جَعَلَ الْكَلَامَ لِمُوسَى، وَالْخُلَّةَ لِإِبْرَاهِيمَ، وَالنَّظَرَ لِمُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» -. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الْعَدَنِيُّ، رَوَى ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ تَوْثِيقَهُ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الطَّهْرَانِيِّ، وَقَدْ ضَعَّفَهُ النَّسَائِيُّ وَغَيْرُهُ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما said: "Muḥammad ﷺ gazed upon his Lord, Blessed and Exalted." ʿIkrimah said: I asked Ibn ʿAbbās, "Did Muḥammad gaze upon his Lord?" He replied: > **"Yes. Allah granted direct speech to Mūsā, intimate friendship (*al-khullah*) to Ibrāhīm, and the direct vision to Muḥammad ﷺ."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ بات منقول ہے : وہ فرماتے ہیں : ’’ حضرت محمد ﷺ نے اپنے پروردگار کو دیکھا ہے ‘‘۔ عکرمہ بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے دریافت کیا : کیا حضرت محمد ﷺ نے اپنے پروردگار کو دیکھا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ! اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے لیے کلام ‘ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لیے خلت ( یعنی خلیل ہونا ) اور حضرت محمد ﷺ کے لیے دیدار مخصوص کیا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی حفص بن عمر عدنی ہے ‘ ابن ابوحاتم نے ابوعبداللہ طبرانی کے حوالے سے اس کی توثیق نقل کی ہے ‘ جبکہ امام نسائی اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔

251

Majma al-Zawaid #251

عَنْ أَنَسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - «عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" سَأَلْتُ جِبْرِيلَ: هَلْ تَرَى رَبَّكَ؟ قَالَ: إِنَّ بَيْنِي وَبَيْنَهُ سَبْعِينَ حِجَابًا مِنْ نُورٍ، لَوْ رَأَيْتُ أَدْنَاهَا لَاحْتَرَقْتُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ قَائِدٌ الْأَعْمَشُ. قَالَ أَبُو دَاوُدَ: عِنْدَهُ أَحَادِيثُ مَوْضُوعَةٌ، وَذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ وَقَالَ: يَهِمُ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Mālik رضي الله عنه reported that the Prophet ﷺ said: > **"I asked Gabriel: 'Do you see your Lord?' He replied: 'Indeed, between Him and me are seventy veils of light; were I to see the nearest of them, I would be incinerated.'"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : : ’’ میں نے جبرائیل سے دریافت کیا : کیا تم نے اپنے پروردگار کو دیکھا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : میرے اور اس کے درمیان نور کے 70 حجاب ہیں ، اگر میں اُن میں سے ( اپنی طرف والے ) سب سے قریب والے ( حجاب ) کو دیکھ لوں ‘ تو میں جل جاؤں ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس میں اعمش کو ساتھ لے کر چلنے والا شخص موجود ہے ‘ امام ابوداؤود فرماتے ہیں : اس سے موضوع احادیث منقول ہیں ‘ ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب ’’ الثقات ‘‘ میں کیا ہے اور انہوں نے یہ کہا ہے : یہ وہم کا شکار ہو جاتا ہے ۔

252

Majma al-Zawaid #252

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو وَسَهْلِ بْنِ سَعْدٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «دُونَ اللَّهِ سَبْعُونَ أَلْفَ حِجَابٍ مِنْ نُورٍ وَظُلْمَةٍ، مَا تَسْمَعُ نَفْسٌ شَيْئًا مِنْ حِسِّ تِلْكَ الْحُجُبِ إِلَّا زَهَقَتْ نَفْسُهَا» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو وَسَهْلٍ أَيْضًا، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ لَا يُحْتَجُّ بِهِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿAmr and Sahl ibn Saʿd رضي الله عنهما reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Before Allah are seventy thousand veils of light and darkness; no soul hears anything of the murmur of those veils without its soul departing."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ اور حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ اللہ تعالیٰ کی ذات سے پہلے نور اور ظلمت کے ستر ہزار حجاب ہیں ، جو بھی شخص ان حجابوں میں سے کسی کی آہٹ بھی سنے گا ‘ اُس کی جان رخصت ہو جائے گی ‘‘۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے امام طبرانی نے اسے معجم کبیر میں ، حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ اور حضرت سہل رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ہی نقل کیا ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ہے ‘ جس سے استدلال نہیں کیا جاتا ہے ۔

253

Majma al-Zawaid #253

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - «أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، هَلِ احْتَجَبَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - عَنْ خَلْقِهِ بِشَيْءٍ غَيْرِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ؟ قَالَ: "" نَعَمْ، بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْمَلَائِكَةِ الَّذِينَ حَوْلَ الْعَرْشِ سَبْعُونَ حِجَابًا مِنْ نُورٍ، وَسَبْعُونَ حِجَابًا مِنْ نَارٍ، وَسَبْعُونَ حِجَابًا مِنْ ظُلْمَةٍ، وَسَبْعُونَ حِجَابًا مِنْ رَفَارِفِ الْإِسْتَبْرَقِ، وَسَبْعُونَ حِجَابًا مِنْ رَفَارِفِ السُّنْدُسِ، وَسَبْعُونَ حِجَابًا مِنْ دُرٍّ أَبْيَضَ، وَسَبْعُونَ حِجَابًا مِنْ دُرٍّ أَحْمَرَ، وَسَبْعُونَ حِجَابًا مِنْ دُرٍّ أَصْفَرَ، وَسَبْعُونَ حِجَابًا مِنْ دُرٍّ أَخْضَرَ، وَسَبْعُونَ حِجَابًا مِنْ ضِيَاءٍ اسْتَضَاءَهَا مِنْ ضَوْءِ النَّارِ وَالنُّورِ، وَسَبْعُونَ حِجَابًا مِنْ ثَلْجٍ، وَسَبْعُونَ حِجَابًا مِنْ مَاءٍ، وَسَبْعُونَ حِجَابًا مِنْ غَمَامٍ، وَسَبْعُونَ حِجَابًا مِنْ بَرَدٍ، وَسَبْعُونَ حِجَابًا مِنْ عَظَمَةِ اللَّهِ الَّتِي لَا تُوصَفُ "" قَالَ: فَأَخْبِرْنِي عَنِ الْمَلَكِ الَّذِي يَلِيهِ؟ قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" أَصْدَقْتُ فِيمَا أَخْبَرْتُكَ يَا يَهُودِيُّ؟ "" قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: "" فَإِنَّ الْمَلَكَ الَّذِي يَلِيهِ إِسْرَافِيلُ، ثُمَّ جِبْرِيلُ، ثُمَّ مِيكَائِيلُ، ثُمَّ مَلَكُ الْمَوْتِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِمْ أَجْمَعِينَ» - "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبْدُ الْمُنْعِمِ بْنُ إِدْرِيسَ، كَذَّبَهُ أَحْمَدُ، وَقَالَ ابْنُ حِبَّانَ: كَانَ يَضَعُ الْحَدِيثَ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه narrated: A man came to the Prophet ﷺ and asked, "O Muḥammad, has Allah, Mighty and Majestic is He, veiled Himself from His creation with anything other than the heavens and the earth?" The Prophet ﷺ said: > **"Yes, between Him and the angels who are around the Throne are seventy veils of light, seventy veils of fire, seventy veils of darkness, seventy veils of brocade hangings (istabraq), seventy veils of fine silk hangings (sundus), seventy veils of white pearls, seventy veils of red pearls, seventy veils of yellow pearls, seventy veils of green pearls, seventy veils of luminescence illuminated by the radiance of fire and light, seventy veils of snow, seventy veils of water, seventy veils of clouds, seventy veils of hail, and seventy veils of Allah's indescribable Majesty."** The man said, "Then inform me of the angel closest to Him." The Prophet ﷺ said: > **"Have I spoken the truth in what I informed you, O Jewish man?"** The man replied, "Yes." The Prophet ﷺ said: > **"The angel closest to Him is Isrāfīl, then Gabriel, then Michael, then the Angel of Death—may Allah bless them all."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور بولا : اسے حضرت محمد ( ﷺ ) ! کیا اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق سے آسمانوں اور زمین کے علاوہ ‘ کسی اور چیز کے ذریعے بھی حجاب کیا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے جواب دیا : جی ہاں ! اُس کی ذات اور اس کے اردگرد موجود فرشتوں کے درمیان نور کے 70 حجاب ہیں آگ کے 70 حجاب ہیں ‘ ظلمت کے 70 حجاب ہیں ‘ استبرق کے رفرف کے 70 حجاب ہیں ‘ سندس کے رفرف کے 70 حجاب ہیں ۔ سفید قیمتی پتھر کے 70 حجاب ہیں ، سرخ قیمتی پتھر کے 70 حجاب ہیں ‘ زرد قیمتی پتھر کے 70 حجاب ہیں ، سبز قیمتی پتھر کے 70 حجاب ہیں ‘ روشنی کے 70 حجاب ہیں ، جس سے آگ اور نور دونوں روشنی حاصل کرتے ہیں ‘ برف کے 70 حجاب ہیں ‘ پانی کے 70 حجاب ہیں ، بادل کے 70 حجاب ہیں ‘ اولوں کے 70 حجاب ہیں ‘ اور اللہ تعالیٰ کی عظمت کے 70 حجاب ہیں ، جن کی صفت بیان نہیں کی جا سکتی ہے ‘ اس شخص نے کہا : آپ مجھے اس فرشتے کے بارے میں بتائیے ! جو اُس کے قریب ہے ‘ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اسے یہودی ! میں نے تمہیں جو بیان کیا ہے ‘ کیا میں نے سچ کہا ہے ؟ اس نے جواب دیا : جی ہاں ! تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اس کے سب سے زیادہ قریب اسرافیل ہے ‘ پھر جبرائیل ہے ‘ پھر میکائیل ہے اور پھر ملک الموت ( یعنی عزرائیل ) ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عبدالمنعم بن ادریس ہے ‘ جسے امام احمد نے جھوٹا قرار دیا ہے اور ابن حبان کہتے ہیں : یہ حدیث ایجاد کرتا ہے ۔

254

Majma al-Zawaid #254

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «إِنَّ لِلَّهِ مَلَكًا لَوْ قِيلَ لَهُ: الْتَقِمِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرَضِينَ السَّبْعَ بِلُقْمَةٍ، لَفَعَلَ، تَسْبِيحُهُ: سُبْحَانَكَ حَيْثُ كُنْتَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ، وَقَالَ: تَفَرَّدَ بِهِ وَهْبُ بْنُ رِزْقٍ. قُلْتُ: وَلَمْ أَرَ مَنْ ذَكَرَ لَهُ تَرْجَمَةً.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿAbbās رضي الله عنهما said: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: > **"Indeed, Allah has an angel who, if it were said to him, 'Swallow the seven heavens and the seven earths in a single morsel,' he would do so. His glorification is: 'Glory be to You wherever You are.'"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ اللہ تعالیٰ کا ایک فرشتہ ایسا ہے کہ اگر اُسے یہ کہا جائے : کہ تم ساتوں آسمانوں اور ساتوں زمینوں کو ایک لقمے کے طور پر نگل جاؤ ! تو وہ ایسا کر لے گا ‘ اُس کی تسبیح کے کلمات یہ ہیں : ” تو ہر عیب سے پاک ہے ‘ تو جہاں کہیں بھی ہے ‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ وہ فرماتے ہیں : وہب بن رزق نامی راوی اس کو نقل کرنے میں منفرد ہے ‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : میں نے کسی کو اس راوی کے حالات ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ۔

255

Majma al-Zawaid #255

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «أُذِنَ لِي أَنْ أُحَدِّثَ عَنْ مَلَكٍ مِنْ حَمَلَةِ الْعَرْشِ، رِجْلَاهُ فِي الْأَرْضِ السُّفْلَى، وَعَلَى قَرْنِهِ الْعَرْشُ، وَبَيْنَ شَحْمَةِ أُذُنِهِ وَعَاتِقِهِ خَفَقَانُ الطَّيْرِ سَبْعَمِائَةِ سَنَةٍ، يَقُولُ ذَلِكَ الْمَلَكُ: سُبْحَانَكَ حَيْثُ كُنْتَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَقَالَ: تَفَرَّدَ بِهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُنْكَدِرِ. قُلْتُ: هُوَ وَأَبُوهُ ضَعِيفَانِ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Mālik رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"I have been permitted to speak about one of the angels carrying the Throne: his two feet are in the lowest earth, the Throne rests upon his horn, and between his earlobe and his shoulder is the distance flown by a bird in seven hundred years. That angel says: 'Glory be to You wherever You are.'"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ مجھے یہ اجازت دی گئی کہ میں عرش کو اُٹھانے والے فرشتوں میں سے ‘ رشتے کے بارے میں ‘ بات چیت کر سکتا ہوں اس فرشتے کے دونوں پاؤں سب سے نیچے والی زمین میں ہیں ‘ اور اس کے سینگ پر عرش ہے ‘ اس کے کان کی لو سے ‘ لے کر گردن تک کے درمیان اتنا فاصلہ ہے ‘ جتنا فاصلہ کوئی پرندہ سات سو سال میں طے کرتا ہے ‘ وہ فرشتہ یہ کہتا ہے : ” تو ہر عیب سے پاک ہے ‘ تو جہاں کہیں بھی ہے ‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ وہ فرماتے ہیں : عبداللہ بن منکدر اسے نقل کرنے میں منفرد ہے ‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : وہ اور اُس کا باپ دونوں ضعیف ہیں ۔

256

Majma al-Zawaid #256

وَعَنْ جَابِرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «أُذِنَ لِي أَنْ أُحَدِّثَ عَنْ مَلَكٍ مِنْ مَلَائِكَةِ اللَّهِ مِنْ حَمَلَةِ الْعَرْشِ، مَا بَيْنَ شَحْمَةِ أُذُنِهِ إِلَى عَاتِقِهِ مَسِيرَةُ سَبْعِينَ عَامًا» "". قُلْتُ: رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ خَلَا قَوْلَهُ: سَبْعِينَ عَامًا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Jābir رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"I have been permitted to speak about an angel from among the angels of Allah who bear the Throne: between his earlobe and his shoulder is the journey of seventy years."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ مجھے یہ اجازت دی گئی کہ میں عرش کو اٹھانے والے ‘ اللہ تعالیٰ کے فرشتوں میں سے کسی فرشتے کے بارے میں بیان کروں ‘ اس فرشتے کی کان کی لو سے لے کر ‘ اُس کی گردن کے درمیان تک ‘ ستر برس کی مسافت کا فاصلہ ہے ‘‘۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابوداؤد نے بھی نقل کی ہے ‘ تاہم انہوں نے 70 برس کے الفاظ نقل نہیں کیے ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

257

Majma al-Zawaid #257

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «أُذِنَ لِي أَنْ أُحَدِّثَ عَنْ مَلَكٍ قَدْ مَزَقَتْ رِجْلَاهُ الْأَرْضَ السَّابِعَةَ، وَالْعَرْشُ عَلَى مَنْكِبَيْهِ وَهُوَ يَقُولُ: سُبْحَانَكَ أَيْنَ كُنْتَ وَأَيْنَ تَكُونُ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"I have been permitted to speak about an angel whose feet have penetrated the seventh earth, while the Throne rests upon his shoulders, and he says: 'Glory be to You wherever You were and wherever You are.'"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ مجھے یہ اجازت دی گئی کہ میں اس فرشتے کے بارے میں بیان کروں ‘ جس کے پاؤں ساتویں زمین میں ہیں ‘ اور عرش اس کے کندھوں پر ہے ‘ اور وہ یہ کہتا ہے : ’’ تو ہر عیب سے پاک ہے ‘ تو جہاں کہیں بھی تھا اور جہاں کہیں ہو گا ‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

258

Majma al-Zawaid #258

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «أَتَانِي مَلَكٌ لَمْ يَنْزِلْ إِلَى الْأَرْضِ قَبْلَهَا قَطُّ بِرِسَالَةٍ مِنْ رَبِّي، فَوَضَعَ رِجْلَهُ فَوْقَ السَّمَاءِ الدُّنْيَا، وَرِجْلَهُ فِي الْأَرْضِ يُقِلُّهَا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ صَدَقَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ التِّنِّيسِيُّ، وَالْأَكْثَرُ عَلَى تَضْعِيفِهِ، وَقَدْ وَثَّقَهُ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ وَدُحَيْمٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"An angel came to me who had never descended to the earth before, bearing a message from my Lord; he placed one foot above the lowest heaven and his other foot in the earth, barely contained by it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ ایک فرشتہ میرے پاس آیا ‘ جو اس سے پہلے کبھی زمین کی طرف نازل نہیں ہوا تھا ‘ وہ میرے پروردگار کا پیغام لایا تھا ‘ اُس نے اپنا ایک پاؤں آسمان دنیا کے اوپر رکھا اور ایک پاؤں زمین میں رکھا ، کیونکہ زمین اُس کے لئے تھوڑی پڑ رہی تھی ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی صدقہ بن عبدالله تنیسی ہے ‘ زیادہ تر حضرات نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ‘ تاہم یحییٰ بن معین اور دحیم نے اُس کی توثیق کی ہے ۔

259

Majma al-Zawaid #259

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «إِنَّ فِي السَّمَاءِ مَلَكًا يُقَالُ لَهُ: إِسْمَاعِيلُ، عَلَى سَبْعِينَ أَلْفِ مَلَكٍ، كُلٌّ مِنْهُمْ عَلَى سَبْعِينَ أَلْفَ مَلَكٍ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ، وَفِيهِ أَبُو هَارُونَ، وَاسْمُهُ عِمَارَةُ بْنُ جُوَيْنٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًا.

EnglishUnverified translation

Abū Saʿīd al-Khudrī رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Indeed, in the heaven there is an angel called Ismāʿīl, commanding seventy thousand angels, each of whom commands seventy thousand angels."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ آسمان میں ایک فرشتہ ہے ‘ جس کا نام ” اسماعیل ‘‘ ہے ‘ وہ ستر ہزار فرشتوں کا نگران ہے ‘ اور ان ( ستر ہزار فرشتوں ) میں سے ہر ایک ( فرشتہ ‘ مزید ) ستر ہزار فرشتوں کا نگران ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ابوبارون ہے ‘ اس کا نام عمارہ بن جوین ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔

260

Majma al-Zawaid #260

عَنِ ابْنِ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «تَفَكَّرُوا فِي آلَاءِ اللَّهِ، وَلَا تَفَكَّرُوا فِي اللَّهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ الْوَازِعُ بْنُ نَافِعٍ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿUmar رضي الله عنهما reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Contemplate the blessings and bounties of Allah, and do not contemplate the essence of Allah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کے بارے میں غور و فکر کرو ! اللہ تعالیٰ کے بارے میں غور و فکر نہ کرو ! ‘‘۔ یہی روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی وازع بن نافع ہے اور وہ متروک ہے ۔

261

Majma al-Zawaid #261

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يُكْفَرَ بِاللَّهِ جَهْرًا، وَذَلِكَ عِنْدَ كَلَامِهِمْ فِي رَبِّهِمْ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَقَالَ: لَمْ يَرْوِهِ عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ إِلَّا إِسْمَاعِيلُ بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ. قُلْتُ: وَلَمْ أَرَ مَنْ ذَكَرَ إِسْمَاعِيلَ وَلَا الَّذِي رَوَى عَنْهُ، وَهُوَ إِسْحَاقُ بْنُ زُرَيْقٍ. قُلْتُ: وَتَأْتِي أَحَادِيثُ بِمَقْلُوبِهَا.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"The Hour will not be established until Allah is openly disbelieved in, and that will occur when people dispute speculatively concerning their Lord."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی ‘ جب تک اللہ تعالیٰ کا کھلے عام انکار نہیں کیا جائے گا اور ایسا اس وقت ہو گا ‘ جب لوگ اپنے پروردگار کے بارے میں کلام کریں گے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ وہ فرماتے ہیں : امام اوزاعی کے حوالے سے ‘ یہ روایت صرف اسماعیل بن یحیی نے نقل کی ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : میں نے ایسا کوئی شخص نہیں دیکھا ‘ جس نے اسماعیل کا ذکر کیا ہو ‘ اور نہ ہی کوئی ایسا شخص دیکھا ہے ، جس نے اُس سے روایت نقل کی ہو اور وہ اسحاق بن زریق ہے ‘ میں یہ کہتا ہوں : مقلوب روایات آگے آئیں گی ۔

262

Majma al-Zawaid #262

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «لَيْسَ شَيْءٌ أَكْرَمُ عَلَى اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - مِنَ الْمُؤْمِنِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ تَمَّامٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿAmr رضي الله عنهما reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"There is nothing more noble and honored in the sight of Allah, Mighty and Majestic is He, than the believer."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ‘ کوئی بھی چیز ‘ مؤمن سے زیادہ معزز نہیں ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی عبیداللہ بن تمام ہے اور وہ انتہائی ہے ۔

263

Majma al-Zawaid #263

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - «عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ نَظَرَ إِلَى الْكَعْبَةِ فَقَالَ: "" لَقَدْ شَرَّفَكِ اللَّهُ وَكَرَّمَكِ وَعَظَّمَكِ، وَالْمُؤْمِنُ أَعْظَمُ حُرْمَةً مِنْكِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿAmr رضي الله عنهما reported: The Prophet ﷺ looked at the Kaʿbah and said: > **"Allah has indeed ennobled you, honored you, and magnified you, yet the sanctity of the believer is greater than yours."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں : ’’ آپ ﷺ نے خانہ کعبہ کی طرف دیکھا اور یہ ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ نے تجھے شرف عطا کیا ہے ‘ بزرگی عطا کی ہے اور عظمت عطا کی ہے ، لیکن مؤمن کی حرمت تم سے زیادہ ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں یہ مذکور ہے : یہ عمرو بن شعیب کے حوالے سے ‘ اُن کے والد کے حوالے سے ‘ اُن کے دادا سے منقول ہے ۔

264

Majma al-Zawaid #264

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: «لَمَّا افْتَتَحَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَكَّةَ اسْتَقْبَلَهَا بِوَجْهِهِ، وَقَالَ: "" أَنْتِ حَرَامٌ، مَا أَعْظَمَ حُرْمَتَكِ وَأَطْيَبَ رِيحَكِ! وَأَعْظَمُ حُرْمَةً عِنْدَ اللَّهِ مِنْكِ الْمُؤْمِنُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ مِحْصَنٍ، وَهُوَ كَذَّابٌ يَضَعُ الْحَدِيثَ.

EnglishUnverified translation

Jābir رضي الله عنه said: When the Prophet ﷺ conquered Makkah, he turned to face it and said: > **"You are sacred; how magnificent is your sanctity and how delightful is your fragrance! Yet greater in sanctity with Allah than you is the believer."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم ﷺ نے مکہ فتح کیا ‘ تو اس کی طرف رخ کر کے ارشاد فرمایا : ’’ تم قابل احترام ہو ‘ تمہاری حرمت کتنی زیادہ ہے ؟ تمہاری خوشبو کتنی پاکیزہ ہے ؟ لیکن اللہ تعالیٰ کے نزدیک مؤمن کی حرمت تم سے بھی زیادہ ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن محصن ہے اور وہ کذاب ہے ‘ جو حدیث ایجاد کرتا ہے ۔

265

Majma al-Zawaid #265

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «إِنَّ الْمَلَائِكَةَ قَالَتْ: يَا رَبَّنَا، أَعْطَيْتَ بَنِي آدَمَ الدُّنْيَا يَأْكُلُونَ فِيهَا وَيَشْرَبُونَ وَيَلْبَسُونَ، وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَلَا نَأْكُلُ وَلَا نَلْهُو، فَكَمَا جَعَلْتَ لَهُمُ الدُّنْيَا، فَاجْعَلْ لَنَا الْآخِرَةَ، فَقَالَ: لَا أَجْعَلُ صَالِحَ ذَرِّيَّةِ مَنْ خَلَقْتُ بِيَدِي كَمَنْ قُلْتُ لَهُ: كُنْ، فَكَانَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَالِدٍ الْمِصِّيصِيُّ، وَهُوَ كَذَّابٌ مَتْرُوكٌ، وَفِي سَنَدِ الْأَوْسَطِ طَلْحَةُ بْنُ زَيْدٍ، وَهُوَ كَذَّابٌ أَيْضًا.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿAmr رضي الله عنهما reported that the Prophet ﷺ said: > **"The angels said: 'O our Lord, You gave the Children of Adam the world where they eat, drink, and clothe themselves, while we glorify You with Your praise, neither eating nor engaging in amusement; so just as You made the world for them, grant us the Hereafter.' He said: 'I will not make the righteous offspring of the one I created with My Hand like those to whom I said: "Be," and they were.'"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ فرشتوں نے عرض کی : اے ہمارے پروردگار ! تو نے اولاد آدم کو دنیا عطا کر دی ‘ وہ اس میں کھاتے ہیں ‘ پیتے ہیں ‘ لباس پہنتے ہیں ‘ اور ہم تیری حمد کے ہمراہ ‘ تیری تسبیح بیان کرتے ہیں ‘ ہم نہ کھاتے ہیں ‘ نہ غافل ہوتے ہیں ، مگر جس طرح تو نے اُن کے لئے دنیا بنائی ہے ‘ ہمارے لئے آخرت مقرر کر دے ! تو پروردگار نے فرمایا : جس ( یعنی حضرت آدم علیہ السلام ) کو میں نے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا ہے اُس کی نیک اولاد کو ‘ میں اُن کی مانند نہیں کروں گا ، جن ( فرشتوں ) سے میں نے یہ کہا : ہو جاؤ ! تو وہ ہو گئے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن عبداللہ بن خالد مصیصی ہے اور وہ کذاب اور متروک ہے ‘ معجم اوسط کی سند میں ایک راوی طلحہ بن زید ہے اور وہ بھی کذاب ہے ۔

266

Majma al-Zawaid #266

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «مَا مِنْ شَيْءٍ أَكْرَمُ عَلَى اللَّهِ - جَلَّ ذِكْرُهُ - يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ بَنِي آدَمَ "" قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَلَا الْمَلَائِكَةُ؟ قَالَ: "" وَلَا الْمَلَائِكَةُ، إِنَّ الْمَلَائِكَةَ مَجْبُورُونَ، بِمَنْزِلَةِ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ تَمَّامٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿAmr رضي الله عنهما reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"There is nothing more noble in the sight of Allah, Exalted is His mention, on the Day of Resurrection than the Children of Adam."** It was said, "O Messenger of Allah, not even the angels?" The Prophet ﷺ said: > **"Not even the angels; indeed, the angels are compelled to obedience, in the manner of the sun and the moon."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ قیامت کے دن ‘ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اولاد آدم سے زیادہ معزز اور کوئی چیز نہیں ہو گی ، عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! فرشتے بھی نہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : فرشتے بھی نہیں ‘ کیونکہ فرشتے پابند ہیں ‘ وہ سورج اور چاند کی طرح ( حکم کے پابند ) ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عبیداللہ بن تمام ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

267

Majma al-Zawaid #267

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «قَالَ اللَّهُ: عَبْدِي الْمُؤْمِنُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ بَعْضِ مَلَائِكَتِي» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ أَبُو الْمُهَزِّمِ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ، وَهُوَ عِنْدَ ابْنِ مَاجَهْ مِنْ قَوْلِهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «الْمُؤْمِنُ أَكْرَمُ عَلَى اللَّهِ مِنْ بَعْضِ مَلَائِكَتِهِ» "".

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Allah says: 'My believing servant is more beloved to Me than some of My angels.'"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : میرا مؤمن بندہ ‘ میرے نزدیک میرے بعض فرشتوں سے زیادہ محبوب ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ابومہزم ہے اور وہ متروک ہے ‘ یہ روایت امام ابن ماجہ نے نبی اکرم ﷺ کے ان الفاظ کے طور پر نقل کی ہے : ’’ مؤمن ‘ اللہ تعالیٰ کے نزدیک ‘ اس کے بعض فرشتوں سے زیادہ معزز ہے ‘‘۔

268

Majma al-Zawaid #268

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَقُولُ: "" «إِنَّ اللَّهَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - أَضَنُّ بِمَوْتِ عَبْدِهِ الْمُؤْمِنِ مِنْ أَحَدِكُمْ بِكَرِيمَةِ مَالِهِ حَتَّى يَقْبِضَهُ عَلَى فِرَاشِهِ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادِ بْنِ أَنْعَمَ، ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَأَكْثَرُ النَّاسِ، وَرَجَّحَهُ بَعْضُهُمْ عَلَى ابْنِ لَهِيعَةَ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿAmr رضي الله عنهما reported that the Prophet ﷺ used to say: > **"Indeed, Allah, Blessed and Exalted is He, is more reluctant concerning the death of His believing servant than any one of you is with his most prized possession, until He takes his soul upon his bed."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ اللہ تعالیٰ کو اپنے مومن بندے کی موت کے حوالے سے اس سے زیادہ الجھن ہوتی ہے ‘ جتنی تم میں سے کسی ایک شخص کو اپنے عمدہ مال کے حوالے سے ہوتی ہے ‘ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اسے اس کے بستر پر موت دے دیتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن زیاد بن انعم ہے ‘ جس کو امام احمد اور زیادہ تر لوگوں نے ضعیف قرار دیا ہے ‘ تاہم بعض حضرات نے اسے ابن لہیعہ پر ترجیح دی ہے ۔

269

Majma al-Zawaid #269

عَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سُئِلَ: أَيُّ النَّاسِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: "" مُؤْمِنٌ بَيْنَ كَرِيمَيْنِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ مُعَاوِيَةُ بْنُ يَحْيَى، أَحَادِيثُهُ مَنَاكِيرُ.

EnglishUnverified translation

Kaʿb ibn Mālik رضي الله عنه reported: The Prophet ﷺ was asked, "Which of the people is most excellent?" He ﷺ said: > **"A believer between two noble parents."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ سے سوال کیا گیا : لوگوں میں افضل کون ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : وہ مؤمن جو دو معزز افراد کے درمیان ہو ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی معاویہ بن یحیی ہے ‘ اس کی نقل کردہ احادیث منکر ہیں ۔

270

Majma al-Zawaid #270

عَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «الْمُؤْمِنُ غِرٌّ كَرِيمٌ، وَالْفَاجِرُ خِبٌّ لَئِيمٌ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ يُوسُفُ بْنُ السَّفَرِ، وَهُوَ كَذَّابٌ.

EnglishUnverified translation

Kaʿb ibn Mālik رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"The believer is unsuspecting and noble, while the wicked transgressor is deceitful and vile."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ مؤمن معزز اور کریم ہوتا ہے ‘ جبکہ فاجر دھوکے باز اور کمینہ ہوتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی یوسف بن سفر ہے اور وہ کذاب ہے ۔

271

Majma al-Zawaid #271

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «مَثَلُ الْمُؤْمِنِ كَمَثَلِ الْعَطَّارِ، إِنْ جَالَسْتَهُ نَفْعَكَ، وَإِنْ مَاشَيْتَهُ نَفْعَكَ، وَإِنْ شَارَكْتَهُ نَفْعَكَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿUmar رضي الله عنهما reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"The likeness of the believer is that of a perfume seller: if you sit with him he benefits you, if you walk with him he benefits you, and if you partner with him he benefits you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ مؤمن کی مثال عطار کی مانند ہے ‘ اگر تم اُس کے ساتھ بیٹھو گے ‘ تو وہ تمہیں نفع پہنچائے گا ‘ اگر تم اس کے ساتھ چلو گے ‘ تو وہ تمہیں نفع پہنچائے گا ‘ اگر تم اُس کے ساتھ شراکت کرو گے ‘ تو وہ تمہیں نفع پہنچائے گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے اور وہ تدلیس کرنے والا ہے ۔

272

Majma al-Zawaid #272

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «مَثَلُ الْمُؤْمِنِ مَثَلُ النَّخْلَةِ، مَا أَتَاكَ مِنْهَا نَفَعَكَ» "". قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ خَلَا قَوْلِهِ: "" مَا أَتَاكَ مِنْهَا نَفَعَكَ "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ، وَسُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ ضَعِيفٌ فِيمَا رَوَاهُ عَنِ الزُّهْرِيِّ، وَلَمْ يَرْوِ هَذَا عَنِ الزُّهْرِيِّ. قُلْتُ: وَتَأْتِي أَحَادِيثُ فِي "" مَثَلُ الْمُؤْمِنِ مَثَلُ الْخَامَةِ "" وَغَيْرِ ذَلِكَ، بَعْضُهَا فِي الْمَرَضِ وَثَوَابِهِ وَفِي الْجَنَائِزِ، وَبَعْضُهَا فِي الْأَدَبِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿUmar رضي الله عنهما reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"The likeness of the believer is that of a date palm: whatever comes to you from it benefits you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ مؤمن کی مثال کھجور کے درخت کی مانند ہے ‘ اُس میں سے جو بھی چیز تمہارے پاس آئے گی ‘ وہ تمہیں نفع پہنچائے گی ‘‘۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ حدیث ’’ صحیح ‘‘ میں منقول ہے ‘ تاہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں : ’’ اس میں سے جو چیز تمہارے پاس آئے گی ‘ وہ تمہیں نفع پہنچائے گی ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ‘ سفیان بن حسین نامی راوی ‘ زہری سے جو روایات نقل کرتا ہے ‘ اُن میں اُسے ضعیف قرار دیا گیا ہے ‘ اور یہ روایت اُس نے زہری سے نقل نہیں کی ہے ۔ علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : مؤمن کی مثال کھجور کے درخت کی مانند ہونے کے حوالے سے روایات آگے آئیں گی ‘ ان میں سے کچھ بیماری اور اُس کے ثواب سے متعلق باب میں ہوں گی ‘ کچھ جنائز سے متعلق باب میں ہوں گی اور بعض ادب سے متعلق باب میں ہوں گی ۔

273

Majma al-Zawaid #273

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: «سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَحْكِي عَنْ مُوسَى - عَلَيْهِ السَّلَامُ - عَلَى الْمِنْبَرِ، قَالَ: "" وَقَعَ فِي نَفْسِهِ: هَلْ يَنَامُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ -؟ فَأَرْسَلَ اللَّهُ إِلَيْهِ مَلَكًا، فَأَرَّقَهُ ثَلَاثًا، ثُمَّ أَعْطَاهُ قَارُورَتَيْنِ، فِي كُلِّ يَدٍ قَارُورَةٌ، وَأَمَرَهُ أَنْ يَحْتَفِظَ بِهِمَا، قَالَ: فَجَعَلَ يَنَامُ وَتَكَادُ يَدَاهُ تَلْتَقِيَانِ، ثُمَّ يَسْتَيْقِظُ فَيَحْبِسُ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى، حَتَّى نَامَ نَوْمَةً، فَاصْطَفَقَتْ يَدَاهُ فَانْكَسَرَتِ الْقَارُورَتَانِ. قَالَ: فَضَرَبَ اللَّهُ لَهُ مَثَلَهُ: أَنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - لَوْ كَانَ يَنَامُ لَمْ تَسْتَمْسِكِ السَّمَاءُ وَالْأَرْضُ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ أُمَيَّةُ بْنُ شِبْلٍ، ذَكَرَهُ الذَّهَبِيُّ فِي الْمِيزَانِ، وَلَمْ يَذْكُرْ أَنَّ أَحَدًا ضَعَّفَهُ، وَإِنَّمَا ذَكَرَ لَهُ هَذَا الْحَدِيثَ وَضَعَّفَهُ بِهِ. وَاللَّهُ أَعْلَمُ. قُلْتُ: ذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه said: I heard the Messenger of Allah ﷺ upon the minbar speaking about Moses عليه السلام, saying: > **"It crossed his mind: 'Does Allah sleep?' So Allah sent an angel to him who kept him awake for three nights. Then he gave him two glass bottles, one in each hand, and commanded him to safeguard them. He began to doze off, and his two hands almost collided, so he would awaken and hold one away from the other, until he dozed off heavily, his hands struck together, and both bottles shattered."** The Prophet ﷺ said: > **"Allah struck a parable for him that if Allah were to sleep, the heavens and the earth would not hold together."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا : آپ ﷺ منبر پر ‘ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں یہ بات بیان کر رہے تھے : ’’ ایک مرتبہ ان کے ذہن میں خیال آیا ‘ کیا اللہ تعالیٰ سوتا ہے ؟ تو اللہ تعالیٰ نے ایک فرشتے کو اُن کی طرف بھیجا ‘ اس نے تین دن انہیں بیدار رکھا ، پھر اس نے انہیں شیشے کے دو بوتلیں دیں ‘ ان کے ہر ایک ہاتھ میں ایک بوتل رکھ دی ‘ اور انہیں یہ ہدایت کی کہ وہ ان دونوں کی حفاظت کریں ، جب انہیں اونگھ آنے لگتی ‘ اور اُن کے ہاتھ سے بوتل گرنے لگتی ، تو وہ بیدار ہو جاتے اور انہیں ایک دوسرے کے ساتھ نہ ٹکرانے دیتے ‘ آخر کار انہیں نیند آ گئی ‘ اُن کے ہاتھ ملے اور دونوں بوتلیں ٹوٹ گئیں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تو یوں اللہ تعالیٰ نے اُن کے سامنے مثال بیان کی کہ اگر اللہ تعالیٰ سو جائے تو آسمان اور زمین اپنی جگہ پر قائم نہیں رہیں گے ‘‘۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی امیہ بن شبل ہے ‘ امام ذہبی نے اس کا ذکر ’’ میزان الاعتدال ‘‘ میں کیا ہے ‘ لیکن انہوں نے یہ ذکر نہیں کیا کہ کسی نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ‘ انہوں نے اس راوی کے حوالے سے یہ حدیث نقل کی ہے اور اس راوی کی وجہ سے اس حدیث کو ضعیف قرار دیا ہے ‘ باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ابن حبان نے اس راوی کا ذکر کتاب ” الثقات ‘‘ میں کیا ہے ۔

274

Majma al-Zawaid #274

عَنْ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - «أَنَّ امْرَأَةً أَتَتِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتْ: ادْعُ اللَّهَ أَنْ يُدْخِلَنِي الْجَنَّةَ. فَعَظَّمَ الرَّبَّ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - وَقَالَ: "" إِنَّ كُرْسِيَّهُ وَسِعَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ، وَإِنَّ لَهُ أَطِيطًا كَأَطِيطِ الرَّحْلِ الْجَدِيدِ إِذَا رُكِبَ مِنْ ثِقَلِهِ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿUmar ibn al-Khaṭṭāb رضي الله عنه reported: A woman came to the Prophet ﷺ and said, "Supplicate to Allah that He admits me to Paradise." The Prophet ﷺ magnified the Lord, Blessed and Exalted is He, and said: > **"Indeed, His Kursī encompasses the heavens and the earth, and indeed it groans like the groaning of a new camel saddle when mounted due to the heaviness."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک خاتون نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور بولی : آپ اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کریں کہ وہ مجھے جنت میں داخل کر دے ! تو نبی اکرم ﷺ نے اللہ تعالیٰ کی عظمت بیان کرتے ہوئے یہ بات ارشاد فرمائی : ’’ اُس کی کرسی نے آسمانوں اور زمین کو گھیرا ہوا ہے ‘ اور اُس میں سے یوں آواز آتی ہے ‘ جس طرح کسی نئے پالان پر سوار ہوا جائے ‘ تو بوجھ کی وجہ سے ( اس پالان میں سے ) آواز آتی ہے ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

275

Majma al-Zawaid #275

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «يَأْخُذُ الْجَبَّارُ سَمَاوَاتِهِ وَأَرْضَهُ بِيَدِهِ - وَقَبَضَ يَدَهُ، وَجَعَلَ يَقْبِضُهَا وَيَبْسُطُهَا - ثُمَّ يَقُولُ: أَنَا الْجَبَّارُ، أَنَا الْمَلِكُ، أَيْنَ الْجَبَّارُونَ؟ أَيْنَ الْمُتَكَبِّرُونَ؟ "". قَالَ: وَيَمِيلُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ، حَتَّى نَظَرْتُ إِلَى الْمِنْبَرِ يَتَحَرَّكُ مِنْ أَسْفَلِ شَيْءٍ مِنْهُ، حَتَّى إِنِّي لَأَقُولُ: أَسَاقِطٌ هُوَ بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» -؟. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَقَالَ: هَكَذَا رَوَاهُ يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، فَقَالَ: عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، وَقَالَ غَيْرُهُ: عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿAmr ibn al-ʿĀṣ رضي الله عنهما said: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: > **"The Compeller will take His heavens and His earth in His Hand—and the Prophet clenched his hand, opening and closing it—then He will say: 'I am the Compeller! I am the King! Where are the tyrants? Where are the arrogant?'"** ʿAbdullāh said: The Messenger of Allah ﷺ swayed to his right and to his left until I looked at the minbar shaking from its very base, to the point that I wondered: "Will it collapse with the Messenger of Allah ﷺ?"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ ( قیامت کے دن ) ’’ جبار ‘‘ ( یعنی اللہ تعالیٰ ) آسمانوں اور زمین کو اپنے ہاتھ میں لے گا ‘ اور پھر ہاتھ کو بند کر لے گا ‘ وہ اُسے بند کرے گا ‘ کھولے گا اور پھر یہ فرمائے گا : میں زبردست ہوں ، میں بادشاہ ہوں ‘ خود کو زبردست کہنے والے کہاں ہیں ؟ تکبر کرنے والے کہاں ہیں ؟ راوی بیان کرتے ہیں : یہ ارشاد فرماتے ہوئے ‘ نبی اکرم ﷺ دائیں ‘ بائیں ہلنے لگے ‘ یہاں تک کہ میں نے منبر کی طرف دیکھا کہ وہ نبی اکرم ﷺ کے نیچے حرکت کر رہا تھا اور میں یہ سوچ رہا تھا کہ کیا یہ منبر ‘ نبی اکرم ﷺ سمیت گر تو نہیں جائے گا ؟‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ وہ بیان کرتے ہیں : یحیی بن بکیر نے اسے اسی طرح روایت کیا ہے اور یہ کہا ہے : یہ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے منقول ہے ‘ جبکہ دیگر راویوں نے یہ بات نقل کی ہے : یہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول ہے ‘ اس روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

276

Majma al-Zawaid #276

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «يَطْوِي اللَّهُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - السَّمَاوَاتِ فَيَأْخُذُهُنَّ بِيَمِينِهِ، وَيَطْوِي الْأَرْضَ فَيَأْخُذُهَا بِيَدِهِ الْأُخْرَى، ثُمَّ يَقُولُ: أَنَا الْمَلِكُ، أَيْنَ الْمُلُوكُ؟» "" قَالَ عُمَرُ بْنُ حَمْزَةَ: فَحَدَّثْتُ بِهِ عِكْرِمَةَ، فَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. قَالَ: ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ سَالِمٍ هَذَا عَنِ ابْنِ عُمَرَ. قُلْتُ: رَوَاهُ الْبَزَّارُ هَكَذَا، وَحَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ فِي الصَّحِيحِ بِغَيْرِ سِيَاقِهِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿUmar رضي الله عنهما reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Allah will roll up the heavens and take them in His Right Hand, and He will roll up the earth and take it in His other Hand, then He will say: 'I am the Sovereign! Where are the kings?'"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ اللہ تعالیٰ تمام آسمانوں کو لپیٹے گا اور پھر انہیں دائیں ہاتھ میں پکڑ لے گا ‘ وہ زمین کو لپیٹے گا اور اُسے دوسرے ہاتھ میں پکڑ لے گا پھر وہ یہ فرمائے گا : میں بادشاہ ہوں ( دنیا کے ) بادشاہ کہاں ہیں ؟“۔ عمر بن حمزہ نامی راوی بیان کرتے ہیں : میں نے یہ حدیث عکرمہ کو بیان کی ‘ تو انہوں نے بتایا : نبی اکرم ﷺ نے یہ ارشاد فرمایا ہے ‘ اُس کے بعد انہوں نے اس روایت کی مانند حدیث بیان کی ‘ جو سالم نامی راوی کے حوالے سے ‘ حضرت عبداللہ بن عمر رضی رضی اللہ عنہما سے منقول اس حدیث کی مانند ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام بزار نے اسی طرح نقل کی ہے اور حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول حدیث ’’ صحیح ‘‘ میں اس سیاق کے بغیر منقول ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

277

Majma al-Zawaid #277

وَعَنْ نُعَيْمِ بْنِ هَمَّارٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «الْمِيزَانُ بِيَدِ الرَّحْمَنِ يَرْفَعُ أَقْوَامًا وَيَضَعُ آخَرِينَ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Nuʿaym ibn Hammār رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"The Scale is in the Hand of the Most Merciful; He raises some peoples and lowers others."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت نعیم بن ہمار رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ زان ‘ رحمن کے ہاتھ میں ہے ‘ وہ کچھ قوموں کو سر بلندی عطا کرتا ہے اور کچھ کو پستی دیتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

278

Majma al-Zawaid #278

وَعَنْ عَائِشَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «إِنَّ اللَّهَ يَضْحَكُ مِنْ يَأْسِ عِبَادِهِ وَقُنُوطِهِمْ وَقُرْبِ الرَّحْمَةِ مِنْهُمْ ""، فَقُلْتُ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَوَيَضْحَكُ رَبُّنَا؟ قَالَ: "" نَعَمْ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، إِنَّهُ لَيَضْحَكُ! "". قُلْتُ: فَلَا يُعْدِمُنَا خَيْرًا إِذَا ضَحِكَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ جَارِحَةُ بْنُ مُصْعَبٍ (*)، وَهُوَ مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ.

EnglishUnverified translation

ʿĀʾishah رضي الله عنها said: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: > **"Indeed, Allah laughs at the despair and hopelessness of His servants, while His mercy is so near to them."** I said, "May my father and mother be sacrificed for you, O Messenger of Allah! Does our Lord laugh?" He ﷺ said: > **"Yes, by the One in Whose Hand is my soul, He indeed laughs!"** I said, "Then He will never deprive us of good when He laughs."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ اللہ تعالیٰ اس بات پر ہنس پڑتا ہے کہ اس کے بندے مایوس اور ناامید ہو جاتے ہیں ‘ اور رحمت اُن کے کتنے قریب ہوتی ہے میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ‘ کیا ہمارا پروردگار ہنستا بھی ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ‘ وہ ہنستا بھی ہے ‘ تو میں نے عرض کی : اگر وہ ہنستا ہے ‘ تو پھر وہ ہمیں بھلائی سے محروم نہیں رکھے گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی جاریہ بن مصعب ہے اور وہ متروک الحدیث ہے ۔

279

Majma al-Zawaid #279

وَعَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «إِنَّ اللَّهَ - تَعَالَى - لَا يُغْلَبُ وَلَا يُخْلَبُ، وَلَا يُنَبَّأُ بِمَا لَا يَعْلَمُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ يُوسُفَ الصَّنْعَانِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ.

EnglishUnverified translation

Muʿāwiyah ibn Abī Sufyān رضي الله عنه said: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: > **"Indeed, Allah the Exalted cannot be overcome, nor can He be deceived, nor can He be informed of anything He does not already know."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے سنا ہے : ” بے شک اللہ تعالیٰ مغلوب نہیں ہوتا ‘ اور اسے دھوکہ نہیں دیا جا سکتا ‘ اور اسے کسی ایسی چیز کے بارے میں خبر نہیں دی جاتی ‘ جو وہ نہ جانتا ہو ( یعنی وہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے ) ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی یزید بن یوسف سنانی ہے ‘ وہ ضعیف اور متروک الحدیث ہے ۔

280

Majma al-Zawaid #280

وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «رَبُّنَا سَمِيعٌ بَصِيرٌ "" وَأَشَارَ بِيَدِهِ إِلَى عَيْنَيْهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَلَهُ طُرُقٌ تَأْتِي فِي سُورَةِ النُّورِ، وَفِي إِسْنَادِهِ ابْنُ لَهِيعَةَ.

EnglishUnverified translation

ʿUqbah ibn ʿĀmir رضي الله عنه said: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: > **"Our Lord is All-Hearing, All-Seeing."** And he pointed with his hand toward his eyes.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ ہمارا پروردگار سنے والا اور دیکھنے والا ہے ‘‘ راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے اپنے دست مبارک کے ذریعے اپنی آنکھوں کی طرف اشارہ کر کے یہ بات ارشاد فرمائی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کے مختلف طرق سورہ نور سے متعلق باب میں آئیں گے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ۔