Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 1 · Chapter 6

Book of Faith

Hadith 201–240

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

201

Majma al-Zawaid #201

وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ - رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْهِ - «أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، أَيُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: "" إِيمَانٌ بِاللَّهِ، وَتَصْدِيقٌ بِهِ، وَجِهَادٌ فِي سَبِيلِهِ، وَحَجٌّ مَبْرُورٌ "". قَالَ: أُرِيدُ أَهْوَنَ مِنْ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: "" السَّمَاحَةُ وَالصَّبْرُ "" قَالَ: أُرِيدُ أَهْوَنَ مِنْ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: "" لَا تَتَّهِمِ اللَّهَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - فِي شَيْءٍ قَضَى لَكَ بِهِ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِي إِسْنَادِهِ ابْنُ لَهِيعَةَ.

EnglishUnverified translation

ʿUbādah ibn al-Ṣāmit رضي الله عنه reported: A man came to the Prophet ﷺ and asked, "O Prophet of Allah, which deed is best?" He ﷺ replied, "Faith in Allah, affirming Him as true, striving in His cause, and an accepted pilgrimage." The man said, "I desire something easier than that, O Messenger of Allah." He ﷺ said, "Generosity and patience." The man said, "I desire something easier than that, O Messenger of Allah." The Messenger of Allah ﷺ said: > **"Do not accuse Allah, Blessed and Exalted, concerning anything He has decreed for you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ‘ اُس نے دریافت کیا : اے اللہ کے نبی ! کون سا عمل زیادہ فضیلت رکھتا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالی پر ایمان رکھنا ، اُس کی تصدیق کرنا ، اُس کی راہ میں جہاد کرنا ‘ اور میرور حج ، اُس شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں اس سے زیادہ آسان چیز چاہتا ہوں ‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : نرمی ( یا سخاوت ) اور صبر ‘ اُس شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں اس سے بھی زیادہ آسان چیز چاہتا ہوں ‘ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اللہ تعالیٰ نے تمہارے بارے میں جو فیصلہ دیا ہو ‘ تو تم اُس کے حوالے سے ‘ اللہ تعالی پر اعتراض نہ کرنا ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ۔

202

Majma al-Zawaid #202

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ: «سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: "" إِيمَانٌ بِاللَّهِ وَتَصْدِيقٌ، وَجِهَادٌ فِي سَبِيلِهِ، وَحَجٌّ مَبْرُورٌ "". قَالَ: أَكْثَرْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" فَلِينُ الْكَلَامِ، وَبَذْلُ الطَّعَامِ، وَسَمَاحٌ، وَحُسْنُ خُلُقٍ "". قَالَ الرَّجُلُ: أُرِيدُ كَلِمَةً وَاحِدَةً. قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" اذْهَبْ لَا تَتَّهِمِ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - عَلَى نَفْسِكَ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِي إِسْنَادِهِ رِشْدِينُ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAmr ibn al-ʿĀṣ رضي الله عنه said: A man asked the Messenger of Allah ﷺ, "Which deed is best?" He ﷺ replied, "Faith in Allah and affirming Him as true, striving in His cause, and an accepted pilgrimage." The man said, "You have given me many things, O Messenger of Allah." The Messenger of Allah ﷺ said, "Then gentle speech, providing food, leniency, and noble character." The man said, "I desire just a single word." The Messenger of Allah ﷺ said to him: > **"Go, and do not accuse Allah, Mighty and Majestic, concerning yourself."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے نبی اکرم ﷺ سے سوال کیا : کون سا عمل زیادہ فضیلت رکھتا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالی پر ایمان رکھنا اور اس کی تصدیق کرنا ‘ اس کی راہ میں جہاد کرنا ‘ اور مبرور حج ، اُس شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ ﷺ نے زیادہ باتیں بتا دی ہیں ‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : نرم گفتگو کرنا ، کھانا کھلانا ‘ نرمی کرنا اور اچھے اخلاق ‘ اس شخص نے کہا : میں صرف ایک بات چاہتا ہوں نبی اکرم ﷺ نے اس سے فرمایا : ’’ تم جاؤ ! اور اپنی ذات کے حوالے سے ‘ اللہ تعالیٰ پر کوئی اعتراض نہ کرنا ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی رشدین ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

203

Majma al-Zawaid #203

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ: «قِيلَ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: أَيُّ الْأَدْيَانِ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ؟ قَالَ: "" الْحَنِيفِيَّةُ السَّمْحَةُ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَالْبَزَّارُ، وَفِيهِ ابْنُ إِسْحَاقَ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ وَلَمْ يُصَرِّحْ بِالسَّمَاعِ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما said: It was said to the Messenger of Allah ﷺ, "Which religion is most beloved to Allah?" He ﷺ said: > **"The upright, tolerant monotheism (*al-Ḥanīfiyyah al-Samḥah*)."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں عرض کی گئی : اللہ تعالی کے نزدیک کون سا دین سب سے زیادہ پسندیدہ ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : سیدھے راستے پر قائم سہولت والا ۔ یہ روایت امام احمد نے ‘ اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور منجم اوسط میں ‘ اور امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ابن اسحاق ہے ‘ جو تدلیس کرنے والا ہے ‘ اور اُس نے سماع کی صراحت نہیں کی ہے ۔

204

Majma al-Zawaid #204

وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِنَّ أَفْضَلَ الْإِيمَانِ أَنْ تَعْلَمَ أَنَّ اللَّهَ مَعَكَ حَيْثُمَا كُنْتَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ، وَقَالَ: تَفَرَّدَ بِهِ عُثْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ. قُلْتُ: وَلَمْ أَرَ مَنْ ذَكَرَهُ بِثِقَةٍ وَلَا جَرْحٍ.

EnglishUnverified translation

ʿUbādah ibn al-Ṣāmit رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Indeed, the most virtuous faith is to know that Allah is with you wherever you may be."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں :: نبی اکرم نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ سب سے زیادہ فضیلت والا ایمان یہ ہے کہ تم اس بات کا علم ( یعنی یقین ) رکھو ! کہ تم جہاں کہیں بھی ہو ‘ اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ ہے ""۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ، انہوں نے یہ بات بیان کی ہے : عثمان بن کثیر اسے نقل کرنے میں منفرد ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : میں نے کسی شخص کو اس کا تذکرہ توثیق یا جرح کے ہمراہ کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ۔

205

Majma al-Zawaid #205

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِنَّ أَحَبَّ الدِّينِ إِلَى اللَّهِ الْحَنِيفِيَّةُ السَّمْحَةُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْغِفَارِيُّ، مُنْكَرُ الْحَدِيثِ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Indeed, the religion most beloved to Allah is the upright, tolerant monotheism (*al-Ḥanīfiyyah al-Samḥah*)."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ دین وہ ہے جو سیدھے راستے پر قائم سہولت والا ہو ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اور اس کی سند میں ایک راوی ‘ عبداللہ بن ابراہیم غفاری ہے ‘ جو ’’ منکر الحدیث ہے ۔

206

Majma al-Zawaid #206

وَعَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَبِيهِ - أَحْسَبُهُ قَدْ ذَكَرَ جَدَّهُ - «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سُئِلَ: أَيُّ الْإِسْلَامِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: "" الْحَنِيفِيَّةُ السَّمْحَةُ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبَانَ، كَذَّابٌ وَضَّاعٌ.

EnglishUnverified translation

ʿUmar ibn ʿAbd al-ʿAzīz reported from his father, who believed he mentioned his grandfather, that: The Prophet ﷺ was asked, "Which Islam is best?" He ﷺ said: > **"The upright, tolerant monotheism (*al-Ḥanīfiyyah al-Samḥah*)."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عمر بن عبدالعزیز ‘ اپنے والد کے حوالے سے نقل کرتے ہیں : راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے ‘ انہوں نے اپنے دادا کا ذکر بھی کیا تھا ( وہ بیان کرتے ہیں : ) ’’ نبی اکرم ﷺ سے دریافت کیا گیا : کون سا اسلام زیادہ فضیلت رکھتا ہے ؟ آپ نے فرمایا : وہ ہے جو سیدھے راستے پر قائم سہولت والا ہو ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی عبدالعزیز بن ابان ہے ‘ جو کذاب اور جھوٹی روایات ایجاد کرنے والا ہے ۔

207

Majma al-Zawaid #207

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «أَشْرَفُ الْإِيمَانِ أَنْ يَأْمَنَكَ النَّاسُ، وَأَشْرَفُ الْإِسْلَامِ أَنْ يَسْلَمَ النَّاسُ مِنْ لِسَانِكَ وَيَدِكَ، وَأَشْرَفُ الْهِجْرَةِ أَنْ تَهْجُرَ السَّيِّئَاتِ، وَأَشْرَفُ الْجِهَادِ أَنْ تُقْتَلَ وَتُعْقَرَ فَرَسُكَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ، وَقَالَ: تَفَرَّدَ بِهِ مُنَبِّهٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿUmar رضي الله عنهما reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"The noblest faith is that people feel secure from you; the noblest Islam is that people are safe from your tongue and your hand; the noblest migration is that you abandon evil deeds; and the noblest Jihād is that you are slain and your horse is felled."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ سب سے زیادہ شرف والا ایمان یہ ہے : کہ لوگ تم سے محفوظ رہیں ‘ اور سب سے زیادہ شرف والا اسلام یہ ہے : کہ لوگ تمہاری زبان اور ہاتھ سے محفوظ رہیں ، اور سب سے زیادہ شرف والی ہجرت یہ ہے : کہ تم برائیوں سے لاتعلق ہو جاؤ ‘ اور سب سے زیادہ شرف والا جہاد یہ ہے : کہ تمہیں قتل کر دیا جائے اور تمہارے گھوڑے کے پاؤں کاٹ دیئے جائیں ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے وہ فرماتے ہیں : منبہ نامی رادی اسے نقل کرنے میں منفرد ہے ۔

208

Majma al-Zawaid #208

وَعَنْ أَنَسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" خَيْرُ دِينِكُمْ أَيْسَرُهُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ، وَقَالَ: تَفَرَّدَ بِهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ يَزِيدَ.

EnglishUnverified translation

Anas رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"The best of your religion is that which is easiest."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ تمہارے دین ( یعنی اعمال ) میں سب سے بہتر وہ ہے ‘ جو سب سے زیادہ آسان ہو ‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ‘ وہ فرماتے ہیں : اسماعیل بن یزید اسے نقل کرنے میں منفرد ہے ۔

209

Majma al-Zawaid #209

وَعَنْ أَبِي مُوسَى - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - «عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ سُئِلَ: أَيُّ الْإِسْلَامِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: "" مَنْ سَلِمَ النَّاسُ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ "". قِيلَ: فَأَيُّ الْجِهَادِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: "" مَنْ عُقِرَ جَوَادُهُ، وَأُهْرِيقَ دَمُهُ "". قِيلَ: فَأَيُّ الصَّلَاةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: "" طُولُ الْقُنُوتِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ. قُلْتُ: وَتَأْتِي أَحَادِيثُ مِنْ نَحْوِ هَذَا فِي فَضْلِ الْجِهَادِ وَفَضْلِ الْحَجِّ.

EnglishUnverified translation

Abū Mūsā al-Ashʿarī رضي الله عنه reported from the Prophet ﷺ that: He was asked, "Which Islam is best?" He ﷺ said, "The one from whose tongue and hand people are safe." It was asked, "Then which Jihād is best?" He ﷺ said, "The one whose horse is slain and whose blood is shed." It was asked, "Then which prayer is best?" The Prophet ﷺ said: > **"Prolonged standing in devotion (*ṭūl al-qunūt*)."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں : ’’ آپ ﷺ سے سوال کیا گیا : کون سا اسلام زیادہ فضیلت رکھتا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : جس شخص کی زبان اور ہاتھ سے لوگ محفوظ رہیں ‘ عرض کی گئی : کون سا جہاد زیادہ فضیلت رکھتا ہے ؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : جس میں آدمی کے گھوڑے کے پاؤں کاٹ دیے جائیں ‘ اور آدمی کا خون بہا دیا جائے ‘ عرض کی گئی کون سی نماز زیادہ فضیلت رکھتی ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : طویل قیام والی ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس نوعیت کی دیگر احادیث آگے چل کر ‘ جہاد کی فضیلت اور حج کی فضیلت سے متعلق ابواب میں آئیں گی ۔

210

Majma al-Zawaid #210

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ قَالَ: «أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَنْ تَبِعَكَ عَلَى هَذَا الْأَمْرِ؟ قَالَ: "" حُرٌّ وَعَبْدٌ. "" قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا الْإِسْلَامُ؟ قَالَ: "" طِيبُ الْكَلَامِ، وَإِطْعَامُ الطَّعَامِ "". قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَمَا الْإِيمَانُ؟ قَالَ: "" الصَّبْرُ وَالسَّمَاحَةُ "". قُلْتُ: فَأَيُّ الْإِسْلَامِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: "" مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ "". قُلْتُ: فَأَيُّ الْإِيمَانِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: "" خُلُقٌ حَسَنٌ "". قُلْتُ: أَيُّ الصَّلَاةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: "" طُولُ الْقُنُوتِ "". قُلْتُ: فَأَيُّ الْهِجْرَةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: "" أَنْ تَهْجُرَ السُّوءَ "". قُلْتُ: فَأَيُّ الْجِهَادِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: "" مَنْ عُقِرَ جَوَادُهُ، وَأُهُرِيقَ دَمُهُ» "". قُلْتُ: فِي الصَّحِيحِ مِنْهُ: "" مَنْ تَبِعَكَ عَلَى هَذَا الْأَمْرِ؟ "" قَالَ: "" حُرٌّ وَعَبْدٌ "". وَرَوَى ابْنُ مَاجَهْ مِنْهُ: "" أَيُّ الْجِهَادِ أَفْضَلُ؟ "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ.

EnglishUnverified translation

ʿAmr ibn ʿAbasah رضي الله عنه said: I came to the Prophet ﷺ and asked, "O Messenger of Allah, who followed you in this matter?" He ﷺ replied, "A free man and a slave." I asked, "O Messenger of Allah, what is Islam?" He ﷺ said, "Pleasant speech and feeding others." I asked, "O Messenger of Allah, what is faith?" He ﷺ said, "Patience and tolerance." I asked, "Which Islam is best?" He ﷺ said, "The one from whose tongue and hand Muslims are safe." I asked, "Which faith is best?" He ﷺ said, "Good character." I asked, "Which prayer is best?" He ﷺ said, "Prolonged standing in devotion (*ṭūl al-qunūt*)." I asked, "Which migration is best?" He ﷺ said, "That you abandon evil." I asked, "Which Jihād is best?" The Prophet ﷺ said: > **"The one whose horse is slain and whose blood is shed."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ‘ میں نے دریافت کیا : اس معاملے ( یعنی دین ) کے بارے میں آپ کی پیروی کرنے والا کون ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ایک آزاد شخص اور ایک غلام ‘ میں نے دریافت کیا : یا رسول اللہ اسلام سے مراد کیا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : پاکیزہ گفتگو کرنا اور کھانا کھلانا ‘ میں نے دریافت کیا : یا رسول اللہ ! ایمان سے مراد کیا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : صبر اور نرمی ( یا سخاوت ) میں نے دریافت کیا : کون سا اسلام افضل ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : جس شخص کی زبان اور ہاتھ سے مسلمان محفوظ ہوں ، میں نے دریافت کیا : کون سا ایمان افضل ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : اچھے اخلاق ‘ میں نے دریافت کیا : کون سی نماز افضل ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : طویل قیام والی ‘ میں نے دریافت کیا : کون سی ہجرت افضل ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : یہ کہ تم برائی سے لاتعلق ہو جاؤ ‘ میں نے دریافت کیا : کون سا جہاد افضل ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : جس میں آدمی کے گھوڑے کے پاؤں کاٹ دیئے جائیں اور اُس ( یعنی آدمی ) کا خون بہا دیا جائے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :’’ صحیح ‘‘ میں اس ( روایت ) کا یہ حصہ مذکور ہے :’’ اس معاملے ( یعنی دین ) کے بارے میں آپ کی پیروی کرنے والا کون ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ایک آزاد شخص اور ایک غلام ‘‘۔ امام ابن ماجہ نے اس روایت کا یہ حصہ نقل کیا ہے :” کون سا جہاد افضل ہے ؟“ ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی شہر بن حوشب ہے ۔

211

Majma al-Zawaid #211

وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ «أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ أَفْضَلِ الْإِيمَانِ. قَالَ: "" أَنْ تُحِبَّ لِلَّهِ، وَتُبْغِضَ لَهُ، وَتُعْمِلَ لِسَانَكَ فِي ذِكْرِ اللَّهِ "". قَالَ: وَمَاذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "" وَأَنْ تُحِبَّ لِلنَّاسِ مَا تُحِبُّ لِنَفْسِكَ، وَتَكْرَهُ لَهُمْ مَا تَكْرَهُ لِنَفْسِكَ، وَأَنْ تَقُولَ خَيْرًا أَوْ تَصْمُتَ» "". قُلْتُ: رَوَى التِّرْمِذِيُّ بَعْضَهُ بِغَيْرِ سِيَاقِهِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِي إِسْنَادِهِ ابْنُ لَهِيعَةَ.

EnglishUnverified translation

Muʿādh ibn Anas رضي الله عنه reported that he asked the Messenger of Allah ﷺ about the most virtuous faith. He ﷺ said: > **"That you love for the sake of Allah, hate for His sake, and keep your tongue employed in the remembrance of Allah."** He asked, "And what else, O Messenger of Allah?" The Prophet ﷺ said: > **"And that you love for people what you love for yourself, and dislike for them what you dislike for yourself, and that you speak good or remain silent."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معاذ بن انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے افضل ایمان کے بارے میں سوال کیا ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ( اس سے مراد ہے ) کہ تم ( کسی کے ساتھ ) اللہ تعالیٰ کے لئے محبت رکھو اور اُس کے لیے بغض رکھو ! اور اپنی زبان کو اللہ تعالیٰ کی یاد والا عمل کرواؤ ! اُنہوں نے دریافت کیا : یا رسول اللہ یہ کیسے ہو گا ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ( اس سے مراد یہ ہے : ) کہ تم لوگوں کے لیے اس چیز کو پسند کرو جو تم اپنے لیے پسند کرتے ہو اور ان کے لیے وہی چیز ناپسند کرو جو تم اپنے لیے ناپسند کرتے ہو ‘ اور تم بھلائی کی بات کہو ! ورنہ خاموش رہو ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ترمذی نے اس روایت کا کچھ حصہ اس سیاق کے بغیر نقل کیا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ۔

212

Majma al-Zawaid #212

عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «نِيَّةُ الْمُؤْمِنِ خَيْرٌ مِنْ عَمَلِهِ، وَعَمَلُ الْمُنَافِقِ خَيْرٌ مِنْ نِيَّتِهِ، وَكُلٌّ يَعْمَلُ عَلَى نِيَّتِهِ، فَإِذَا عَمِلَ الْمُؤْمِنُ عَمَلًا ثَارَ فِي قَلْبِهِ نُورٌ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ، إِلَّا حَاتِمَ بْنَ عِبَّادِ بْنِ دِينَارٍ الْجُرَشِيُّ، لَمْ أَرَ مَنْ ذَكَرَ لَهُ تَرْجَمَةً.

EnglishUnverified translation

Sahl ibn Saʿd al-Sāʿidī رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"The intention of the believer is better than his deed, and the deed of the hypocrite is better than his intention; and each person acts according to his intention. Thus, when a believer performs a deed, a radiant light shines forth in his heart."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ مؤمن کی نیت ‘ اُس کے عمل سے بہتر ہوتی ہے اور منافق کا عمل اس کی نیت سے بہتر ہوتا ہے ، ہر شخص اپنی نیت کے مطابق عمل کرتا ہے ‘ لیکن جب مؤمن کوئی عمل کرتا ہے ‘ تو اس کے دل میں نور پھیل جاتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے صرف حاتم بن عماد بن دینار جرشی کا معاملہ مختلف ہے ‘ میں نے کسی کو اس کے حالات ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ۔

213

Majma al-Zawaid #213

عَنْ أَنَسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «يَسِّرُّوا وَلَا تُعَسِّرُوا، وَسَكِّنُوا وَلَا تُنَفِّرُوا» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Anas رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Make things easy and do not make them difficult; bring tranquility and do not drive people away."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ آسانی فراہم کرو ! تنگی میں مبتلا نہ کرو ‘ تسکین فراہم کرو ‘ متنفر نہ کرو ‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

214

Majma al-Zawaid #214

وَعَنِ الْأَعْرَابِيِّ الَّذِي سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «خَيْرُ دِينِكُمْ أَيْسَرُهُ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

An unnamed Bedouin who heard the Messenger of Allah ﷺ say: > **"The best of your religion is that which is easiest."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک دیہاتی کے حوالے سے یہ بات منقول ہے : جنہوں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ تمہارے دین میں سب سے بہتر وہ ہے ‘ جو سب سے زیادہ آسان ہو ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

215

Majma al-Zawaid #215

وَعَنْ عُرْوَةَ الْفُقَيْمِيِّ قَالَ: «كُنَّا نَنْتَظِرُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَخَرَجَ رَجُلٌ يَقْطُرُ رَأْسُهُ مِنْ وُضُوءٍ أَوْ غُسْلٍ، فَصَلَّى، فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ جَعَلَ النَّاسُ يَسْأَلُونَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَعَلَيْنَا حَرَجٌ فِي كَذَا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ دِينَ اللَّهِ فِي يُسْرٍ " - ثَلَاثًا يَقُولُهَا - وَقَالَ يَزِيدُ مَرَّةً: جَعَلَ النَّاسُ يَقُولُونَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا تَقُولُ فِي كَذَا؟ مَا تَقُولُ فِي كَذَا؟ مَا تَقُولُ فِي كَذَا»؟ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَأَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ عَاصِمُ بْنُ هِلَالٍ، وَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ وَأَبُو دَاوُدَ، وَضَعَّفَهُ النَّسَائِيُّ وَغَيْرُهُ، وَغَاضِرَةُ لَمْ يَرْوِ عَنْهُ غَيْرُ عَاصِمٍ هَذَا - هَكَذَا ذَكَرَهُ الْمِزِّيُّ.

EnglishUnverified translation

ʿUrwah al-Fuqaymī رضي الله عنه said: We were waiting for the Messenger of Allah ﷺ when a man came out whose head was dripping with water from ablution or ritual bath. He led the prayer, and when he finished the prayer, the people began asking him, "O Messenger of Allah, is there any blame upon us if we do such-and-such?" The Messenger of Allah ﷺ said three times: > **"O people, indeed the religion of Allah is founded on ease."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عروہ فقیمی بیان کرتے ہیں : ہم لوگ اللہ کے رسول کا انتظار کر رہے تھے ( یعنی ہم نے انہیں پہلے نہیں دیکھا تھا ) ایک صاحب تشریف لائے ‘ جن کے سر سے وضو ‘ یا شاید غسل کی وجہ سے ‘ پانی کے قطرے چمک رہے تھے ‘ انہوں نے نماز پڑھانی شروع کی ، جب وہ نماز سے فارغ ہوئے ‘ تو لوگوں نے اُن سے سوال کرتے ہوئے کہا : اے اللہ کے رسول ! کیا اس صورت میں ہم پر کوئی گناہ ہو گا ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اے لوگو ! اللہ کا دین آسانی میں ہے ‘ یہ بات آپ ﷺ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی ‘ ( یہاں یزید نامی راوی نے ایک مرتبہ یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ) لوگوں نے یہ کہنا شروع کیا : اے اللہ کے رسول ! افلاں صورت کے بارے میں ، آپ ﷺ کیا کہتے ہیں ؟ فلاں صورت کے بارے میں آپ ﷺ کیا کہتے ہیں ؟ فلاں صورت کے بارے میں آپ ﷺ کیا کہتے ہیں ؟ یہ روایت امام احمد نے ‘ امام طبرانی نے معجم کبیر میں ‘ اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی حسن بن ہلال ہے ‘ جسے ابوحاتم اور امام ابوداؤد نے ثقہ قرار دیا ہے ‘ جبکہ امام نسائی اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ‘ حاضرہ نامی راوی سے عاصم نامی اس راوی کے علاوہ ‘ اور کسی نے روایت نقل نہیں کی ہے ‘ امام مزی نے اسی طرح اُس کا ذکر کیا ہے ۔

216

Majma al-Zawaid #216

وَعَنْ أَنَسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِنَّ هَذَا الدِّينَ مَتِينٌ، فَأَوْغِلُوا فِيهِ بِرِفْقٍ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ، إِلَّا أَنَّ خَلَفَ بْنَ مِهْرَانَ لَمْ يُدْرِكْ أَنَسًا. وَاللَّهُ أَعْلَمُ.

EnglishUnverified translation

Anas رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Indeed, this religion is firm and profound, so penetrate into it with gentleness."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ یہ دین مضبوط ہے ‘ تو تم لوگ اس میں نرمی کے ساتھ رہو ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ‘ البتہ یہ ہے کہ خلف بن مہران نامی راوی نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ‘ باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔

217

Majma al-Zawaid #217

وَعَنْ جَابِرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِنَّ هَذَا الدِّينَ مَتِينٌ، فَأَوْغِلْ فِيهِ بِرِفْقٍ، فَإِنَّ الْمُنْبَتَّ لَا أَرْضًا قَطَعَ، وَلَا ظَهْرًا أَبْقَى» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ الْمُتَوَكِّلِ أَبُو عَقِيلٍ، وَهُوَ كَذَّابٌ.

EnglishUnverified translation

Jābir رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Indeed, this religion is firm, so penetrate into it with gentleness. For verily, the traveler who exhausts his mount neither covers the terrain nor preserves his mount."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ یہ دین مضبوط ہے ‘ تو تم لوگ اس میں نرمی کے ساتھ رہو ! کیونکہ جو شخص تیزی سے سفر کرتا ہے نہ تو زمین پار کرتا ہے ‘ اور نہ ہی ( جانور پر ) گوشت کو باقی رہنے دیتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی یحییٰ بن متوکل ابوعقیل ہے اور وہ کذاب ہے ۔

218

Majma al-Zawaid #218

وَعَنْ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: «خَرَجْتُ ذَاتَ يَوْمٍ لِحَاجَةٍ، وَإِذَا أَنَا بِالنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَمْشِي بَيْنَ يَدَيَّ، فَأَخَذَ بِيَدِي فَانْطَلَقْنَا نَمْشِي جَمِيعًا، فَإِذَا نَحْنُ بَيْنَ أَيْدِينَا بِرَجُلٍ يُصَلِّي يُكْثِرُ الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَتَرَاهُ يُرَائِي؟ "" فَقُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، فَتَرَكَ يَدَهُ مِنْ يَدِي، ثُمَّ جَمَعَ يَدَيْهِ فَجَعَلَ يُصَوِّبُهُمَا وَيَرْفَعُهُمَا، وَيَقُولُ: "" عَلَيْكُمْ هَدْيًا قَاصِدًا، عَلَيْكُمْ هَدْيًا قَاصِدًا، عَلَيْكُمْ هَدْيًا قَاصِدًا، فَإِنَّهُ مَنْ يُشَادَّ هَذَا الدِّينَ يَغْلِبْهُ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.

EnglishUnverified translation

Buraydah al-Aslamī رضي الله عنه said: I went out one day on an errand, and behold, the Prophet ﷺ was walking ahead of me. He took my hand and we walked together. We came across a man praying who was excessively performing bowing and prostration. The Prophet ﷺ said, "Do you think he is showing off?" I said, "Allah and His Messenger know best." He let go of my hand, clasped his two hands together, lowering and raising them, and said: > **"Hold fast to a moderate course! Hold fast to a moderate course! Hold fast to a moderate course! For whoever tries to make this religion rigid and harsh, it will certainly overpower him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دن میں کسی کام کے سلسلے میں باہر نکلا ‘ تو میں نے دیکھا کہ نبی اکرم ﷺ مجھ سے آگے جا رہے ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے میرا ہاتھ پکڑا اور ہم ایک ساتھ چلنے لگے ‘ ہمیں اپنے سامنے ایک شخص نظر آیا ‘ جو نماز ادا کر رہا تھا اور بکثرت رکوع و سجود کر رہا تھا ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : کیا اس شخص کے بارے میں ‘ تم یہ سمجھتے ہو ؟ کہ یہ دکھاوا کر رہا ہے ؟ میں نے عرض کی : اللہ اور اُس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے میرے ہاتھ سے اپنا ہاتھ چھڑا کر اپنے دونوں ہاتھ ملا لئے ‘ انہیں نیچے کیا ، پھر انہیں بلند کیا اور پھر ارشاد فرمایا : ’’ تم پر میانہ روی کا طریقہ اختیار کرنا لازم ہے ‘ تم پر میانہ روی کا طریقہ اختیار کرنا لازم ہے ‘ تم پر میانہ روی کا طریقہ اختیار کرنا لازم ہے ‘ کیونکہ جو شخص اس دین کے بارے میں سختی سے کام لے گا ‘ یہ دین اس پر غالب آ جائے گا ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

219

Majma al-Zawaid #219

وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «الْإِسْلَامُ ذَلُولٌ، لَا يَرْكَبُ إِلَّا ذَلُولًا» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِي إِسْنَادِهِ أَبُو خَلَفٍ الْأَعْمَى، مُنْكَرُ الْحَدِيثِ.

EnglishUnverified translation

Abū Dharr رضي الله عنه reported from the Prophet ﷺ: > **"Islam is submissive and yielding; it is not mounted except by one who is compliant."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ اسلام آسان ہے اور اس پر صرف آسان شخص ہی سوار ہو سکتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ابوخلف نابینا ہے اور وہ منکرالحدیث ہے ۔

220

Majma al-Zawaid #220

وَعَنْ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «لَا تُشَدِّدُوا عَلَى أَنْفُسِكُمْ، فَإِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِتَشْدِيدِهِمْ عَلَى أَنْفُسِهِمْ، وَسَتَجِدُونَ بَقَايَاهُمْ فِي الصَّوَامِعِ وَالدِّيَارَاتِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ كَاتِبُ اللَّيْثِ، وَثَّقَهُ جَمَاعَةٌ، وَضَعَّفَهُ آخَرُونَ.

EnglishUnverified translation

Sahl ibn Ḥunayf رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Do not impose severe restrictions upon yourselves, for those who came before you perished only because of the harsh burdens they imposed upon themselves; and you will find their remnants in hermitages and monasteries."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ اپنی ذات کے حوالے سے شدت اختیار نہ کرو ! کیونکہ تم سے پہلے کے لوگ ‘ اپنی ذات کے حوالے سے شدت اختیار کرنے کی وجہ سے ہلاکت کا شکار ہو گئے اور اُن لوگوں کے بقایا جات کو تم گرجا گھروں اور مندروں میں پاؤ گے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن صالح ہے ‘ جو لیث بن سعد کا کاتب ہے ‘ ایک جماعت نے اسے ثقہ قرار دیا ہے اور دوسرے لوگوں نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔

221

Majma al-Zawaid #221

وَعَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «إِيَّاكُمْ وَالْغُلُوَّ، فَإِنَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ قَدْ غَلَا كَثِيرٌ مِنْهُمْ، حَتَّى كَانَتِ الْمَرْأَةُ الْقَصِيرَةُ تَتَّخِذُ خُقَّيْنِ مِنْ خَشَبٍ فَتَحْشُوهُمَا، ثُمَّ تُولِجُ فِيهِمَا رِجْلَيْهَا، ثُمَّ تَقُومُ إِلَى جَنْبِ الْمَرْأَةِ الطَّوِيلَةِ فَتَمْشِي مَعَهَا، فَإِذَا هِيَ قَدْ تَسَاوَتْ بِهَا، وَكَانَتْ أَطْوَلَ مِنْهَا» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ يُوسُفُ بْنُ خَالِدٍ السَّمْتِيُّ. قَالَ ابْنُ مَعِينٍ: كَذَّابٌ خَبِيثٌ.

EnglishUnverified translation

Samurah ibn Jundub رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Beware of extremism! For many among the Children of Israel fell into exaggeration, to the point that a short woman would make two wooden pattens, pad them, and insert her feet into them, then stand beside a tall woman and walk with her so that she appeared equal to her or taller than her."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ تم لوگ غلو سے بچو ! کیونکہ بنی اسرائیل میں سے بہت سے لوگوں نے غلو اختیار کیا ، یہاں تک کہ ایک چھوٹے قد کی عورت نے لکڑی کے جوتے بنوائے ‘ اور ان میں پاؤں داخل کیے ‘ پھر وہ ایک طویل القامت عورت کے ساتھ کھڑی ہوئی اور اس کے ساتھ چلنے لگی ‘ تو وہ اس کے برابر کے قد کی ‘ یا اس سے طویل محسوس ہوتی تھی ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی یوسف بن خالد سمتی ہے ، یحییٰ بن معین کہتے ہیں : یہ کذب اور خبیث ہے ۔

222

Majma al-Zawaid #222

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «سَدِّدُوا وَأَبْشِرُوا، فَإِنَّ اللَّهَ - تَعَالَى - لَيْسَ إِلَى عَذَابِكُمْ بِسَرِيعٍ، وَسَيَأْتِي قَوْمٌ لَا حُجَّةَ لَهُمْ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ بَقِيَّةٌ، وَلَكِنَّهُ صَرَّحَ بِالتَّحْدِيثِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Busr رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Adhere to the correct course and receive glad tidings, for Allah the Exalted is not hasty to punish you. And soon there will come a people who possess no valid argument."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ میانہ روی اختیار کرو ! اور یہ خوش خبری حاصل کرو کہ اللہ تعالیٰ تمہارے عذاب کی طرف جلدی کرنے والا نہیں ہے اور عنقریب ایسی قوم آئے گی ، جن کے پاس کوئی حجت نہیں ہو گی ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی بقیہ ہے ‘ لیکن اُس نے ( اس روایت میں ) تحدیث کی صراحت کی ہے ۔

223

Majma al-Zawaid #223

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: «جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَقْرَأُ الْقُرْآنَ فَلَا أَجِدُ قَلْبِي يَعْقِلُ عَلَيْهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِنَّ قَلْبَكَ حُشِيَ الْإِيمَانَ، وَإِنَّ الْإِيمَانَ يُعْطَى الْعَبْدَ قَبْلَ الْقُرْآنِ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿAmr رضي الله عنهما said: A man came to the Messenger of Allah ﷺ and said, "O Messenger of Allah, I recite the Qurʾān but I do not find my heart grasping it." The Messenger of Allah ﷺ said: > **"Verily, your heart is filled with faith, and indeed, faith is granted to a servant before the Qurʾān."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ‘ اُس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں قرآن پڑھتا ہوں ، لیکن میں اپنے دل کو ایسا نہیں پاتا ہوں ‘ کہ وہ اُس کو یاد رکھ پائے ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تمہارے دل میں ایمان بھرا ہوا ہے اور بندے کو ایمان ‘ قرآن سے پہلے دیا جاتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ابن لہیعہ ہے ۔

224

Majma al-Zawaid #224

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «الْقُلُوبُ أَرْبَعَةٌ: قَلْبٌ أَجْرَدُ فِيهِ مِثْلُ السِّرَاجِ يُزْهِرُ، وَقَلْبٌ أَغْلَفُ مَرْبُوطٌ عَلَيْهِ غِلَافُهُ، وَقَلْبٌ مَنْكُوسٌ، وَقَلْبٌ مُصَفَّحٌ ; فَأَمَّا الْقَلْبُ الْأَجْرَدُ فَقَلْبُ الْمُؤْمِنِ فِيهِ سِرَاجُهُ فِيهِ نُورُهُ، وَأَمَّا الْقَلْبُ الْأَغْلَفُ فَقَلْبُ الْكَافِرِ، وَأَمَّا الْقَلْبُ الْمَنْكُوسُ فَقَلْبُ الْمُنَافِقِ عَرَفَ ثُمَّ أَنْكَرَ، وَأَمَّا الْقَلْبُ الْمُصَفَّحُ فَقَلْبٌ فِيهِ إِيمَانٌ وَنِفَاقٌ، فَمَثَلُ الْإِيمَانِ فِيهِ كَمَثَلِ الْبَقْلَةِ يَمُدُّهَا الْمَاءُ الطَّيِّبُ، وَمَثَلُ النِّفَاقِ فِيهِ كَمَثَلِ الْقَرْحَةِ يَمُدُّهَا الْقَيْحُ وَالدَّمُ، فَأَيُّ الْمَدَّتَيْنِ غَلَبَتْ عَلَى الْأُخْرَى غَلَبَتْ عَلَيْهِ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ، وَفِي إِسْنَادِهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ.

EnglishUnverified translation

Abū Saʿīd al-Khudrī رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Hearts are of four types: an unblemished heart in which shines a blazing lamp; an encased heart bound tightly within its sheath; an inverted heart; and a divided heart.** > > **As for the unblemished heart, it is the heart of the believer wherein lies his lamp and radiance. As for the encased heart, it is the heart of the disbeliever. As for the inverted heart, it is the heart of the hypocrite who recognized the truth and then denied it. And as for the divided heart, it is a heart containing both faith and hypocrisy: the likeness of faith within it is like an herb nourished by pure water, while the likeness of hypocrisy within it is like an ulcer fed by pus and blood; whichever of the two nourishments prevails over the other will dominate it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ دل چار قسم کے ہوتے ہیں ‘ ایک وہ دل جو مجرد ہو ‘ اس میں چراغ روشن ہوتا ہے ‘ ایک وہ دل جو پردے میں ہوتا ہے ‘ اُس پر اس کا غلاف چڑھا ہوتا ہے ‘ ایک دل اوندھا ہوتا ہے ‘ اور ایک دل کشادہ ہوتا ہے ‘ جہاں تک مجرد دل کا تعلق ہے ‘ تو وہ مومن کا دل ہے جس میں اس کا چراغ موجود ہوتا ہے اور اس میں اس کی روشنی ہوتی ہے ‘ جہاں تک غلاف والے دل کا تعلق ہے ‘ تو وہ کافر کا دل ہوتا ہے ‘ جہاں تک اوندھے دل کا تعلق ہے ‘ تو وہ منافق کا دل ہوتا ہے ‘ جو ( حق کو ) پہچان لیتا ہے اور پھر انکار کر دیتا ہے ‘ جہاں تک کشادہ دل کا تعلق ہے ‘ تو وہ ایسا دل ہے ، جس میں ایمان بھی ہوتا ہے اور نفاق بھی ہوتا ہے ‘ اس میں موجود ایمان کی مثال سبزی کی مانند ہے ‘ جسے صاف پانی بڑھا دیتا ہے ‘ اور اس میں موجود نفاق کی مثال ‘ اُس زخم کی مانند ہے ‘ جس میں پیپ اور خون زیادہ ہوتا ہے ‘ تو دونوں میں سے جس کی زیادتی ، دوسرے پر غالب آ جائے ‘ وہ حالت دوسری حالت پر غالب آ جاتی ہے ‘‘ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابی سلیم ہے ۔

225

Majma al-Zawaid #225

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: «أَخَذَ بِيَدِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" يَا أَبَا أُمَامَةَ، إِنَّ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ مَنْ يَلِينُ لِي قَلْبُهُ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abū Umāmah al-Bāhilī رضي الله عنه said: The Messenger of Allah ﷺ took me by the hand and said: > **"O Abū Umāmah, indeed among the believers are those whose hearts soften with love and reverence for me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے میرا ہاتھ پکڑ کر ارشاد فرمایا : ” اے ابوامامہ ! وہ شخص بھی اہل ایمان میں شمار ہو گا ‘ جس کا دل میرے لیے نرم ہو ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

226

Majma al-Zawaid #226

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «الْمُؤْمِنُونَ فِي الدُّنْيَا عَلَى ثَلَاثَةِ أَجْزَاءٍ: الَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ ثُمَّ لَمْ يَرْتَابُوا وَجَاهَدُوا بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَالَّذِي يَأْمَنُهُ النَّاسُ عَلَى أَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ، ثُمَّ الَّذِي إِذَا أَشْرَفَ لَهُ طَمَعٌ تَرَكَهُ لِلَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ» - "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ دَرَّاجٌ، وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ، وَضَعَّفَهُ آخَرُونَ.

EnglishUnverified translation

Abū Saʿīd al-Khudrī رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"The believers in this world are in three categories: those who believe in Allah and His Messenger, then harbour no doubt, and strive with their wealth and their lives in the cause of Allah; the one from whom people feel secure regarding their wealth and their lives; and the one who, whenever an object of greed presents itself to him, renounces it for the sake of Allah, Mighty and Majestic."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ دنیا میں مومنین تین قسم کے ہوتے ہیں ( پہلی قسم ) وہ لوگ ‘ جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتے ہیں اور پھر کسی شک کا شکار نہیں ہوتے ہیں ‘ وہ اپنے اموال اور جانوں کے ہمراہ اللہ تعالی کی راہ میں جہاد کرتے ہیں ( دوسری قسم ) وہ لوگ کہ (دوسرے) لوگ اپنے اموال اور جانوں کے حوالے سے اُن سے محفوظ ہوں اور پھر ( تیسری قسم ) وہ لوگ کہ جب اُن کے سامنے لالچ کی کوئی چیز آ جائے ‘ تو وہ اللہ تعالی کی خاطر اسے ترک کر دیتے ہیں ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ’’ دراج ‘‘ ہے ‘ جس کو یحیی بن معین نے ثقہ قرار دیا ہے اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔

227

Majma al-Zawaid #227

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «لَا نَعْلَمُ شَيْئًا خَيْرًا مِنْ مِائَةٍ مِثْلِهِ إِلَّا الرَّجُلَ الْمُؤْمِنَ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالصَّغِيرِ، إِلَّا أَنَّ الطَّبَرَانِيَّ قَالَ فِي الْحَدِيثِ: "" لَا نَعْلَمُ شَيْئًا خَيْرًا مِنْ أَلْفٍ مِثْلِهِ "". وَمَدَارُهُ عَلَى أُسَامَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جَدًّا.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿUmar رضي الله عنهما reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"We know of nothing that is better than a hundred of its own kind, except for the believing man."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما وایت کرتے ہیں : : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ ہمیں ایسی کسی چیز کا علم نہیں ہے ‘ جو اپنے ہی جیسی ’’ ایک سو ‘‘ چیزوں سے زیادہ بہتر ہو ‘ البتہ مؤمن شخص کا معاملہ مختلف ہے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم صغیر میں نقل کی ہے ‘ البتہ امام طبرانی نے روایت میں یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ’’ ہمیں ایسی کسی چیز کا علم نہیں ہے ‘ جو اپنے جیسی ’’ ایک ہزار ‘‘ چیزوں سے زیادہ بہتر ہو ‘‘ اس کی سند کا مدار ‘ اسامہ بن زید بن اسلم ‘ نامی راوی پر ہے اور وہ بہت زیادہ ضعیف ہے ۔

228

Majma al-Zawaid #228

عَنْ عَائِشَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - قَالَتْ: «مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَبُوحُ بِهِ: أَنَّ أَحَدًا عَلَى إِيمَانِ جِبْرِيلَ وَمِيكَائِيلَ عَلَيْهِمَا السَّلَامُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ الْحَسَنُ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ الْجُفْرِيُّ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ لَا يُحْتَجُّ بِهِ.

EnglishUnverified translation

ʿĀʾishah رضي الله عنها said: The Messenger of Allah ﷺ would never approve or allow it to be said: > **"That anyone possesses the level of faith of Jibrīl and Mīkāʾīl, peace be upon them both."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ اس بات کو درست نہیں سمجھتے تھے کہ ( کہ یہ کہا یا سمجھا جائے ) کوئی شخص حضرت جبرائیل علیہ السلام اور حضرت میکائیل علیہ السلام کے ایمان پر ہے ( یعنی اُن جیسا ایمان رکھتا ہے ) یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی حسن بن ابوجعفر جفری ہے اور وہ متروک ہے اس سے استدلال نہیں کیا جاتا ہے ۔

229

Majma al-Zawaid #229

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «لَمَّا كَانَ لَيْلَةُ أُسْرِيَ بِي وَأَصْبَحْتُ بِمَكَّةَ فَظَعْتُ بِأَمْرِي، وَعَرَفْتُ أَنَّ النَّاسَ مُكَذِّبِيَّ، فَقَعَدْتُ مُعْتَزِلًا حَزِينًا "". فَمَرَّ بِهِ عَدُوُّ اللَّهِ أَبُو جَهْلٍ، فَجَاءَ حَتَّى جَلَسَ إِلَيْهِ فَقَالَ لَهُ كَالْمُسْتَهْزِئِ: هَلْ كَانَ مِنْ شَيْءٍ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" نَعَمْ "" قَالَ: وَمَا هُوَ؟ قَالَ: "" إِنِّي أُسْرِيَ بِي اللَّيْلَةَ "". قَالَ: إِلَى أَيْنَ؟ قَالَ: "" إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ "". قَالَ: ثُمَّ أَصْبَحْتَ بَيْنَ ظَهْرَانَيْنَا؟ قَالَ: "" نَعَمْ "" فَلَمْ يُرِهِ أَنَّهُ يُكَذِّبُهُ مَخَافَةَ أَنْ يَجْحَدَهُ الْحَدِيثَ إِنْ دَعَا قَوْمَهُ إِلَيْهِ. قَالَ: أَرَأَيْتَ إِنْ دَعَوْتُ قَوْمَكَ أَتُحَدِّثُهُمْ مَا حَدَّثْتَنِي؟ قَالَ: "" نَعَمْ "". قَالَ: هَيَّا مَعْشَرَ بَنِي كَعْبِ بْنِ لُؤَيٍّ. قَالَ: فَانْتَقَضَتْ إِلَيْهِ الْمَجَالِسُ، وَجَاءُوا حَتَّى جَلَسُوا إِلَيْهِمَا. قَالَ: حَدِّثْ قَوْمَكَ بِمَا حَدَّثْتَنِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِنِّي أُسْرِيَ بِي اللَّيْلَةَ "". قَالُوا: إِلَى أَيْنَ؟ قَالَ: "" إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ "" قَالُوا: ثُمَّ أَصْبَحْتَ بَيْنَ ظَهْرَانَيْنَا؟ قَالَ: "" نَعَمْ "". قَالَ: فَمِنْ بَيْنِ مُصَفِّقٍ، وَمِنْ بَيْنِ وَاضِعٍ يَدَهُ عَلَى رَأْسِهِ مُتَعَجِّبًا لِلْكَذِبِ زَعَمَ. قَالُوا: وَتَسْتَطِيعُ أَنْ تَنْعَتَ لَنَا الْمَسْجِدَ؟ - وَفِي الْقَوْمِ مَنْ قَدْ سَافَرَ إِلَى ذَلِكَ الْبَلَدِ وَرَأَى الْمَسْجِدَ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" فَذَهَبْتُ أَنْعَتُ، فَمَا زِلْتُ أَنْعَتُ حَتَّى الْتَبَسَ عَلَيَّ بَعْضُ النَّعْتِ "" قَالَ: "" فَجِيءَ بِالْمَسْجِدِ وَأَنَا أَنْظُرُ حَتَّى وُضِعَ دُونَ دَارِ عُقَيْلٍ - أَوْ عِقَالٍ - فَنَعَتُّهُ وَأَنَا أَنْظُرُ إِلَيْهِ. قَالَ: وَكَانَ مَعَ هَذَا نَعْتٌ لَمْ أَحْفَظْهُ "" قَالَ: فَقَالَ الْقَوْمُ: أَمَّا النَّعْتُ فَوَاللَّهِ لَقَدْ أَصَابَ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"When the night in which I was taken on the journey occurred and I awoke in Mecca, the gravity of what occurred weighed heavily upon me, and I knew that the people would accuse me of lying, so I sat apart in grief."** The enemy of Allah, Abū Jahl, passed by him, came over, and sat beside him, saying mockingly, "Has anything happened?" The Messenger of Allah ﷺ replied, "Yes." He asked, "What is it?" He ﷺ said, "I was taken on a journey by night." He asked, "To where?" He ﷺ said, "To Bayt al-Maqdis." He asked, "And then by morning you were back among us?" He ﷺ said, "Yes." Abū Jahl did not show him that he disbelieved him, fearing that he might retract the statement if he called his people to him. He said, "What do you think, if I call your people, will you tell them what you have told me?" The Messenger of Allah ﷺ said, "Yes." Abū Jahl cried out, "O congregation of Banū Kaʿb ibn Luʾayy, come here!" The assemblies gathered and came until they sat around both of them. He said, "Tell your people what you told me." The Messenger of Allah ﷺ said: > **"I was taken on a journey by night."** They asked, "To where?" He ﷺ said: > **"To Bayt al-Maqdis."** They said, "And then by morning you were back among us?" He ﷺ said, "Yes." Thereupon, some began clapping in disbelief, while others placed their hands upon their heads in astonishment at what they deemed a lie. They asked, "Can you describe the Sanctuary to us?" For among the people were those who had traveled to that land and seen the Mosque. The Messenger of Allah ﷺ said: > **"I began describing it, and I continued describing it until some details became indistinct to me. Then the Sanctuary was brought before me while I was looking at it, until it was placed near the house of ʿUqayl—or ʿIqāl—so I described it while looking directly at it."** The narrator said: Along with this were specific details of the description that I did not memorize. The people said, "As for the description, by Allah, he has described it precisely!"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جب مجھے رات کے وقت سیر کروائی گئی اور اگلے دن میں مکہ میں موجود تھا ، تو میں اپنے معاملے کے بارے میں پریشانی کا شکار ہوا ‘ اور مجھے اندازہ ہو گیا کہ لوگ مجھے جھٹلائیں گے ‘ میں الگ تھلگ ہو کر پریشان بیٹھ گیا ‘ اللہ تعالیٰ کا دشمن ابوجہل ‘ نبی اکرم ﷺ کے پاس سے گزرا ‘ تو وہ آیا اور نبی اکرم ﷺ کے پاس بیٹھ گیا ‘ اس نے مذاق اڑانے کے انداز میں ‘ نبی اکرم ﷺ سے دریافت کیا : کیا کچھ ہوا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! اُس نے دریافت کیا : وہ کیا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : گزشتہ رات مجھے سیر کروائی گئی ‘ اس نے دریافت کیا : کہاں تک ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : بیت المقدس تک ‘ اُس نے دریافت کیا : اور پھر ( اب ) آپ ہمارے درمیان بھی موجود ہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جی ہاں ! اس نے نبی اکرم ﷺ کے سامنے یہ ظاہر نہیں کیا کہ وہ آپ کی بات کو جھٹلا رہا ہے ‘ اسے یہ اندیشہ ہوا کہ اگر وہ نبی اکرم ﷺ کی قوم کو آپ ﷺ کے پاس بلا کر لایا ‘ تو کہیں نبی اکرم ﷺ اس بات کا انکار نہ کر دیں ، اس نے دریافت کیا : اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟ کہ اگر میں آپ کی قوم کو بلا کر لاؤں ، تو جو چیز آپ نے مجھے بیان کی ہے ‘ وہ آپ اُن کے سامنے بھی بیان کر دیں گے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! اس نے کہا : اے بنو کعب بن لوی ! ادھر آؤ ! تو مختلف محافل میں بیٹھے ہوئے لوگ اُس کی طرف آئے ‘ وہ لوگ آئے اور ان دونوں کے پاس بیٹھ گئے ‘ تو ابوجہل نے کہا : آپ نے جو بات مجھے بیان کی ہے ‘ وہ اپنی قوم کو بھی بیان کر دیں ‘ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : گزشتہ رات مجھے سیر کروائی گئی ‘ اُن لوگوں نے دریافت کیا : کہاں تک ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : بیت المقدس تک ‘ انہوں نے کہا : پھر آپ صبح کے وقت ( یعنی اب ) ہمارے درمیان بھی موجود ہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! تو ان میں سے کسی نے تالی بجائی ‘ کسی نے حیرانگی کا اظہار کیا اور اپنا ہاتھ اپنے سر پر رکھ لیا ‘ ان کا یہ گمان تھا کہ یہ غلط بیانی ہے ‘ انہوں نے کہا : کیا آپ ایسا کر سکتے ہیں کہ اس مسجد کا نقشہ ہمارے سامنے بیان کریں ؟ اُن لوگوں میں سے کچھ افراد نے اس شہر تک کا سفر کیا ہوا تھا اور وہ مسجد بھی دیکھی ہوئی تھی ‘ نبی اکرم ﷺ ارشاد فرماتے ہیں : میں نے اُس کا نقشہ بیان کرنا شروع کیا ‘ تو اس کو بیان کرنے کے دوران مجھے التباس ہوا ‘ نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں : تو وہ مسجد لائی گئی اور میں یہ دیکھ رہا تھا ‘ یہاں تک کہ اس مسجد کو دارعقیل کے پچھلی طرف رکھ دیا گیا ۔ راوی کو شک ہے ‘ یا شاید یہ الفاظ ہیں : دار عقال ۔ تو میں نے اُس مسجد کو دیکھ کر اُس کا نقشہ بیان کرنا شروع کر دیا ۔ راوی بیان کرتے ہیں : اس روایت میں اس ( مسجد ) کے نقشے کے الفاظ بھی تھے ‘ لیکن وہ مجھے یاد نہیں رہے ہیں ‘ راوی بیان کرتے ہیں : تو اُن لوگوں نے کہا : جہاں تک نقشے کی بات ہے ‘ تو اللہ کی قسم ! وہ انہوں نے صحیح بیان کیا ہے ۔ یہ روایت امام احمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ‘ امام طبرانی نے اسے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کیا ہے ‘ امام احمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

230

Majma al-Zawaid #230

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «لَمَّا كَانَتْ لَيْلَةُ أُسْرِيَ بِي أَتَيْتُ عَلَى رَائِحَةٍ طَيِّبَةٍ، فَقُلْتُ: يَا جِبْرِيلُ، مَا هَذِهِ الرَّائِحَةُ الطَّيِّبَةُ؟ قَالَ: هَذِهِ رَائِحَةُ مَاشِطَةِ ابْنَةِ فِرْعَوْنَ وَأَوْلَادِهَا. قُلْتُ: وَمَا شَأْنُهَا؟ قَالَ: بَيْنَا هِيَ تُمَشِّطُ ابْنَةَ فِرْعَوْنَ ذَاتَ يَوْمٍ إِذْ سَقَطَ الْمِدْرَى مِنْ يَدِهَا، فَقَالَتْ: بِسْمِ اللَّهِ، فَقَالَتْ لَهَا ابْنَةُ فِرْعَوْنَ: أَبِي؟ قَالَتْ: لَا، وَلَكِنْ رَبِّي وَرَبُّ أَبِيكِ اللَّهُ. قَالَتْ: أُخْبِرُهُ بِذَا؟ قَالَتْ: نَعَمْ، فَأَخْبَرَتْهُ فَدَعَاهَا، فَقَالَ: يَا فُلَانَةُ، وَإِنَّ لَكِ رَبًّا غَيْرِي؟ قَالَتْ: نَعَمْ، رَبِّي وَرَبُّكَ اللَّهُ. وَأَمَرَ بِنُقْرَةٍ مِنْ نُحَاسٍ فَأُحْمِيَتْ، ثُمَّ أَمَرَ أَنْ تُلْقَى هِيَ وَأَوْلَادُهَا فِيهَا. قَالَتْ لَهُ: إِنَّ لِي إِلَيْكَ حَاجَةً. قَالَ: وَمَا حَاجَتُكِ؟ قَالَتْ: أُحِبُّ أَنْ تَجْمَعَ عِظَامِي وَعِظَامَ أَوْلَادِي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ فَتَدْفِنَنَا جَمِيعًا. قَالَ: ذَلِكَ عَلَيْنَا مِنَ الْحَقِّ. قَالَ: فَأَمَرَ بِأَوْلَادِهَا فَأُلْقُوا بَيْنَ أَيْدِيهَا وَاحِدًا وَاحِدًا إِلَى أَنِ انْتَهَى ذَلِكَ إِلَى صَبِيٍّ لَهَا مُرْضَعٍ، كَأَنَّهَا تَقَاعَسَتْ مِنْ أَجْلِهِ. قَالَ: يَا أُمَّهْ، اقْتَحِمِي، فَإِنَّ عَذَابَ الدُّنْيَا أَهْوَنُ مِنْ عَذَابِ الْآخِرَةِ، فَاقْتَحَمَتْ "". قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: تَكَلَّمَ أَرْبَعَةٌ صِغَارٌ: عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ، وَصَاحِبُ جُرَيْجٍ، وَشَاهِدُ يُوسُفَ، وَابْنُ مَاشِطَةِ ابْنَةِ فِرْعَوْنَ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، وَهُوَ ثِقَةٌ، وَلَكِنَّهُ اخْتَلَطَ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"On the night I was taken on the journey, I came upon a delightful, fragrant aroma, so I said, 'O Jibrīl, what is this wonderful fragrance?' He said, 'This is the fragrance of the hairdresser of Pharaoh's daughter and her children.'** > > **I asked, 'What is her story?' He said, 'While she was combing the hair of Pharaoh's daughter one day, the comb fell from her hand, and she said: In the name of Allah! Pharaoh's daughter said to her: My father? She replied: No, rather my Lord and the Lord of your father is Allah. The daughter said: Shall I inform him of this? She replied: Yes. So she informed him, and Pharaoh summoned her and said: O so-and-so, do you have a lord other than me? She said: Yes, my Lord and your Lord is Allah.** > > **Pharaoh commanded that a copper vat be heated until it was boiling hot, and ordered that she and her children be thrown into it. She said to him: I have a request of you. He asked: What is your request? She said: I wish that you gather my bones and the bones of my children in a single cloth and bury us together. He said: That is an obligation upon us.** > > **He ordered that her children be thrown into it before her eyes, one by one, until they reached a suckling infant of hers. She seemed to hesitate because of him, but the infant said: O mother, plunge forward, for the punishment of this world is lighter than the punishment of the Hereafter! So she plunged forward.'"** Ibn ʿAbbās added: Four individuals spoke while in their infancy: ʿĪsā ibn Maryam عليه السلام, the companion of Jurayj, the witness of Yūsuf, and the infant son of the hairdresser of Pharaoh's daughter.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ جس رات مجھے سیر کروائی گئی ‘ تو میں ایک پاکیزہ خوشبو کے پاس آیا ‘ میں نے دریافت کیا : اے جبرائیل ! یہ پاکیزہ خوشبو کس کی ہے ؟ انہوں نے بتایا : یہ فرعون کی بیٹی اور اس کی اولاد کو کنگھی کرنے والی عورت کی خوشبو ہے ‘ میں نے دریافت کیا : اس کا کیا معاملہ ہے ؟ انہوں نے بتایا : ایک مرتبہ یہ عورت فرعون کی بیٹی کو کنگھی کر رہی تھی ، اس دوران اُس کے ہاتھ سے کنگھی گر گئی ، تو اُس نے کہا : اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے ‘ فرعون کی بیٹی نے اُس سے دریافت کیا : کیا تم میرے باپ کو مراد لے رہی ہو ؟ اُس عورت نے جواب دیا : جی نہیں ! میری مراد ‘ میرا اور تمہارے باپ کا پروردگار ‘ اللہ تعالیٰ ہے ‘ فرعون کی بیٹی نے کہا : کیا میں اپنے باپ کو یہ بات بتا دوں ؟ اُس عورت نے کہا : جی ہاں ! فرعون کی بیٹی نے فرعون کو یہ بات بتائی ‘ تو فرعون نے اُس عورت کو بلوا لیا اور بولا : اے فلانہ ! کیا تمہارا میرے علاوہ کوئی اور پروردگار ہے ؟ اُس عورت نے جواب دیا : جی ہاں ! میرا اور تمہارا پروردگار ‘ اللہ تعالیٰ ہے ‘ فرعون نے حکم دیا ‘ تو کچھ سیسہ پگھلایا گیا ، پھر فرعون کے حکم کے تحت اُس عورت اور اس کی اولاد کو اس میں ڈال دیا گیا ، اُس سے پہلے اس عورت نے فرعون سے کہا : مجھے تم سے ایک کام ہے ‘ فرعون نے دریافت کیا : تمہیں کیا کام ہے ؟ اس عورت نے جواب دیا : میں یہ کہتی ہوں کہ تم میری ہڈیوں اور میری اولاد کی ہڈیوں کو ایک ہی کپڑے میں جمع کر دینا اور پھر ہمیں ایک ساتھ دفن کر دینا ‘ فرعون نے کہا : یہ ہمارے ذمہ ہے ، پھر فرعون نے حکم دیا : کہ اُس کی اولاد کو ایک ‘ ایک کر کے اُس عورت کے سامنے اُس میں ڈال دیا جائے ‘ ایسا ہی کیا گیا یہاں تک کہ اُس عورت کے دودھ پیتے بچے کی باری آ گئی ‘ اس بچے کی وجہ سے وہ عورت پریشان ہوئی ، تو اس ( دودھ پیتے بچے ) نے کہا : اے امی جان ! حوصلہ رکھیں ، کیونکہ دنیا کا عذاب ‘ آخرت کے عذاب سے ہلکا ہے ‘ تو وہ عورت کود گئی ‘‘۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : کم سنی میں چار بچوں نے کلام کیا ہے : حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام نے ‘ جریج کے واقعہ والے بچے نے ‘ حضرت یوسف علیہ السلام کے گواہ نے ‘ اور فرعون کی بیٹی کو کنگھی کرنے والی عورت کے بچے نے ۔ یہ روایت امام احمد اور امام بزار نے ‘ جبکہ امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے ‘ وہ ثقہ ہے لیکن اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔

231

Majma al-Zawaid #231

وَعَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - عَنْ رَسُولِ اللَّهِ قَالَ: "" «فُرِجَ سَقْفُ بَيْتِي وَأَنَا بِمَكَّةَ، فَنَزَلَ جِبْرِيلُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَفَرَجَ صَدْرِي، ثُمَّ غَسَلَهُ مِنْ مَاءِ زَمْزَمَ، ثُمَّ جَاءَ بِطَسْتٍ مُمْتَلِئٍ حِكْمَةً وَإِيمَانًا، فَأَفْرَغَهَا فِي صَدْرِي، ثُمَّ أَطْبَقَهُ، ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِي فَعَرَجَ بِي إِلَى السَّمَاءِ، فَلَمَّا جَاءَ السَّمَاءَ الدُّنْيَا فَاسْتَفْتَحَ قَالَ: مَنْ هَذَا؟ قَالَ: جِبْرِيلُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. قَالَ: هَلْ مَعَكَ أَحَدٌ؟ قَالَ: نَعَمْ، مَعِي مُحَمَّدٌ. قَالَ: أُرْسِلَ إِلَيْهِ؟ قَالَ: نَعَمْ، فَافْتَحْ، فَلَمَّا عَلَوْنَا السَّمَاءَ الدُّنْيَا إِذَا رَجُلٌ عَنْ يَمِينِهِ أَسْوِدَةٌ، وَعَنْ يَسَارِهِ أَسْوِدَةٌ، فَإِذَا نَظَرَ قِبَلَ يَمِينِهِ تَبَسَّمَ، وَإِذَا نَظَرَ قِبَلَ يَسَارِهِ بَكَى. قَالَ: مَرْحَبًا بِالنَّبِيِّ الصَّالِحِ وَالِابْنِ الصَّالِحِ. قَالَ: قُلْتُ لِجِبْرِيلَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: مَنْ هَذَا؟ قَالَ: هَذَا آدَمُ، وَهَذِهِ الْأَسْوِدَةُ عَنْ يَمِينِهِ وَشِمَالِهِ نَسَمُ بَنِيهِ، فَأَهْلُ الْيَمِينِ هُمْ أَهْلُ الْجَنَّةِ، وَالْأَسْوِدَةُ الَّتِي عَنْ شِمَالِهِ أَهْلُ النَّارِ، فَإِذَا نَظَرَ قِبَلَ يَمِينِهِ ضَحِكَ، وَإِذَا نَظَرَ قِبَلَ شِمَالِهِ بَكَى. قَالَ: ثُمَّ عَرَجَ بِي جِبْرِيلُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى جَاءَ السَّمَاءَ الثَّانِيَةَ، فَقَالَ لِخَازِنِهَا: افْتَحْ، فَقَالَ لَهُ خَازِنُهَا مِثْلَ مَا قَالَ خَازِنُ سَمَاءِ الدُّنْيَا، فَفَتَحَ لَهُ» "". رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ مِنْ زِيَادَاتِهِ عَلَى أَبِيهِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ubayy ibn Kaʿb رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"The roof of my house was opened while I was in Mecca, and Jibrīl ﷺ descended and opened my chest, then washed it with the water of Zamzam. He then brought a golden basin filled with wisdom and faith, emptied it into my chest, and closed it up.** > > **He then took me by the hand and ascended with me to the lowest heaven. When he reached the lowest heaven, he asked for the gate to be opened. It was asked, 'Who is this?' He replied, 'Jibrīl.' It was asked, 'Is anyone with you?' He replied, 'Yes, Muḥammad is with me.' It was asked, 'Has he been sent for?' He replied, 'Yes, open.'** > > **When we ascended above the lowest heaven, behold, there was a man with vast multitudes of souls to his right and vast multitudes of souls to his left. Whenever he looked toward his right, he smiled, and whenever he looked toward his left, he wept. He said, 'Welcome to the righteous Prophet and the righteous son!' I asked Jibrīl, 'Who is this?' He replied, 'This is Adam, and these multitudes to his right and left are the souls of his offspring; those on the right are the dwellers of Paradise, and the multitudes to his left are the dwellers of the Fire. When he looks toward his right he laughs with joy, and when he looks toward his left he weeps with grief.'** > > **Then Jibrīl ascended with me until he reached the second heaven, and said to its gatekeeper, 'Open.' The gatekeeper said to him the same as the gatekeeper of the lowest heaven had said, and opened for him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں : ’’ میرے گھر کی چھت کو کھول دیا گیا ‘ میں اُس وقت مکہ میں موجود تھا ، حضرت جبرئیل علیہ السلام نازل ہوئے ‘ انہوں نے میرے سینے کو کھولا اور پھر اسے آب زمزم کے ذریعے دھویا ‘ پھر وہ ایک طشت لے کر آئے ‘ جو حکمت اور ایمان سے بھرا ہوا تھا ‘ انہوں نے میرے سینے میں ڈال دیا اور پھر اُسے بند کر دیا ، پھر انہوں نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے ساتھ لے کر آسمان کی طرف بلند ہوئے ‘ جب آسمان دنیا آیا ‘ تو انہوں نے دروازہ کھولنے کے لیے کہا : ( دوسری طرف سے ) پوچھا گیا : کون ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : جبرائیل ‘ ( دوسری طرف سے ) پوچھا گیا : کیا آپ کے ساتھ کوئی ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ! میرے ساتھ حضرت محمد ﷺ ہیں ‘ ( دوسری طرف سے ) پوچھا گیا : کیا انہیں بلوایا گیا ہے ؟ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے جواب دیا : جی ہاں ! تو دروازہ کھول دیا گیا ۔ نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں : جب ہم آسمان دنیا پر آئے ‘ تو وہاں ایک صاحب موجود تھے ‘ اُن کے دائیں طرف بھی بہت سے لوگ تھے اور بائیں طرف بھی بہت سے لوگ تھے ‘ جب وہ دائیں طرف دیکھتے تھے ، تو مسکرا دیتے تھے اور جب بائیں طرف دیکھتے تھے ‘ تو رونے لگ جاتے تھے ‘ انہوں نے ( نبی اکرم ﷺ کو مخاطب کر کے ) فرمایا : نیک نبی اور نیک بیٹے کو خوش آمدید ! نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں : میں نے جبرائیل سے دریافت کیا : یہ کون ہیں ؟ انہوں نے بتایا : یہ حضرت آدم علیہ السلام ہیں اور ان کے دائیں طرف اور بائیں طرف موجود افراد ان کی اولاد کی جانیں ہیں ‘ دائیں طرف والے لوگ جنتی ہیں اور بائیں طرف موجود افراد جہنمی ہیں ، جب یہ دائیں طرف دیکھتے ہیں ، تو ہنس پڑتے ہیں اور جب بائیں طرف دیکھتے ہیں ، تو رونے لگ جاتے ہیں ۔ نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں : پھر جبرائیل مجھے ساتھ لے کر اوپر گئے ‘ یہاں تک کہ وہ دوسرے آسمان کے پاس پہنچ گئے ‘ تو انہوں نے اس کے دربان سے کہا : دروازہ کھولو ! اُس کے دربان نے بھی وہی مکالمہ کیا ‘ جو آسمانِ دنیا کے دربان نے کیا تھا ، پھر اس نے بھی دروازہ کھول دیا ‘‘۔ یہ روایت عبداللہ نے اپنے والد ( امام احمد بن حنبل کی ’’ مسند ‘‘ پر ‘ اپنی ’’ زیادات ‘‘ میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

232

Majma al-Zawaid #232

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «رَأَيْتُ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي لَمَّا انْتَهَيْنَا إِلَى السَّمَاءِ السَّابِعَةِ، فَنَظَرْتُ فَوْقَ - قَالَ عَفَّانُ: فَوْقِي - فَإِذَا أَنَا بِرَعْدٍ وَبُرُوقٍ وَصَوَاعِقَ. قَالَ: فَأَتَيْتُ عَلَى قَوْمٍ بُطُونُهُمْ كَالْبُيُوتِ، فِيهَا الْحَيَّاتُ تُرَى مِنْ خَارِجِ بُطُونِهِمْ. قُلْتُ: مَنْ هَؤُلَاءِ يَا جِبْرِيلُ؟ قَالَ: هَؤُلَاءِ أَكَلَةُ الرِّبَا، فَلَمَّا نَزَلْتُ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا فَنَظَرْتُ أَسْفَلَ مِنِّي، فَإِذَا أَنَا بِرِيحٍ وَأَصْوَاتٍ وَدُخَانٍ، فَقُلْتُ: مَا هَذَا يَا جِبْرِيلُ؟ قَالَ: هَذِهِ شَيَاطِينُ يَحْرِفُونَ عَلَى أَعْيُنِ بَنِي آدَمَ لَا يَتَفَكَّرُوا فِي مَلَكُوتِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ، وَلَوْلَا ذَلِكَ لَرَأَوُا الْعَجَائِبَ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرَوَى ابْنُ مَاجَهْ مِنْهُ قِصَّةَ أَكَلَةِ الرِّبَا، وَفِيهِ أَبُو الصَّلْتِ لَا يُعْرَفُ، وَلَمْ يَرْوِ عَنْهُ غَيْرُ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"On the night I was taken on the journey, when we reached the seventh heaven, I looked above me and saw thunder, lightning, and thunderbolts. Then I came upon people whose bellies were like houses, filled with snakes that could be seen from outside their bellies. I said: 'Who are these, O Jibrīl?' He said: 'These are the consumers of usury (*ribā*).'** > > **When I descended to the lowest heaven, I looked beneath me and saw wind, clamorous voices, and smoke. I said: 'What is this, O Jibrīl?' He replied: 'These are the devils who hover over the eyes of the children of Adam so that they do not reflect upon the wondrous dominion of the heavens and the earth; were it not for that, they would have seen marvels.'"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ جس رات مجھے معراج کروائی گئی ‘ اس میں جب ہم ساتویں آسمان پر پہنچ گئے اور میں نے اوپر کی طرف دیکھا ( یہاں ایک راوی نے یہ لفظ نقل کیا ہے ) اپنے اوپر کی طرف دیکھا ‘ تو وہاں کڑک دار چمکتی ہوئی بجلی تھی ، نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں : میں کچھ لوگوں کے پاس آیا ‘ جن کے پیٹ کھروں کی طرح تھے اور ان میں سانپ موجود تھے جو اُن کے پیٹ کے باہر سے بھی نظر آ رہے تھے ‘ میں نے دریافت کیا : اے جبرائیل ! یہ کون لوگ ہیں ؟ انہوں نے بتایا : یہ سود کھانے والے ہیں ، جب میں نیچے کی طرف آتے ہوئے آسمان پر آیا اور میں نے اپنے نیچے دیکھا ‘ تو میرے سامنے ہوا تھی ، آوازیں تھیں اور دھواں تھا ‘ میں نے دریافت کیا : اے جبرائیل ! یہ کیا ہے ؟ انہوں نے بتایا : یہ شیاطین ہیں ‘ جو اولاد آدم کی آنکھوں کو دھوکہ دیتے ہیں ‘ ( اُن لوگوں کو ) جو لوگ آسمانوں اور زمین کی بادشاہی میں غور و فکر نہیں کرتے ہیں ‘ اور اگر ایسا نہ ہو تو وہ عجیب و غریب چیزیں دیکھیں ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ امام ابن ماجہ نے اس میں سے سود کھانے والوں کا قصہ نقل کیا ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ابوصلت ہے ‘ جو معروف نہیں ہے اور علی بن زید کے علاوہ اور کسی نے اُس سے روایت نقل نہیں کی ہے ۔

233

Majma al-Zawaid #233

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «رَأَيْتُ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي وَضَعْتُ قَدَمَيَّ حَيْثُ تُوضَعُ أَقْدَامُ الْأَنْبِيَاءِ مِنْ بَيْتِ الْمَقْدِسِ، فَعُرِضَ عَلِيَّ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَإِذَا أَقْرَبُ النَّاسِ بِهِ شَبَهًا عُرْوَةُ بْنُ مَسْعُودٍ، وَعُرِضَ عَلِيَّ مُوسَى - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَإِذَا رَجُلٌ ضَرْبٌ مِنَ الرِّجَالِ كَأَنَّهُ مِنْ رِجَالِ شَنُوءَةَ، وَعُرِضَ عَلِيَّ إِبْرَاهِيمُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَإِذَا أَقْرَبُ النَّاسِ بِهِ شَبَهًا صَاحِبُكُمْ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» - "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، وَثَّقَهُ أَحْمَدُ وَيَحْيَى وَابْنُ حِبَّانَ، وَضَعَّفَهُ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ وَغَيْرُهُ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"On the night I was taken on the journey, I saw that I placed my feet where the feet of the Prophets were placed in Bayt al-Maqdis. Then ʿĪsā ibn Maryam ﷺ was shown to me, and the person who resembles him most among people is ʿUrwah ibn Masʿūd. And Mūsā ﷺ was shown to me, and he was a man of athletic build, as though he were from the men of Shanūʾah. And Ibrāhīm ﷺ was shown to me, and the person who resembles him most among people is your companion (meaning the Prophet ﷺ himself)."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں :’’ جس رات مجھے معراج کروائی گئی ‘ میں نے دیکھا کہ میں نے بیت المقدس میں اپنے پاؤں وہیں رکھے ‘ جہاں انبیاء کرام علیہم السلام کے قدم رکھے جاتے تھے ‘ میرے سامنے حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام آئے ‘ تو لوگوں میں ان کے ساتھ سب سے زیادہ مشابہت عروہ بن مسعود رکھتا ہے ‘ میرے سامنے حضرت موسیٰ علیہ السلام آئے ‘ تو ان کا حلیہ ایسا تھا کہ وہ شنوہ قبیلے کے فرد محسوس ہوتے تھے ‘ میرے سامنے حضرت ابراہیم علیہ السلام آئے ‘ تو لوگوں میں اُن کے ساتھ سب سے زیادہ مشابہت تمہارے آقا ( یعنی نبی اکرم ) رکھتے ہیں ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عمر بن ابوسلمہ ہے ‘ امام احمد ‘ یحیی بن معین اور ابن حبان نے اس کو ثقہ قرار دیا ہے ‘ جبکہ علی بن مدینی اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔

234

Majma al-Zawaid #234

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ: «أُسْرِيَ بِالنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ، ثُمَّ جَاءَ مِنْ لَيْلَتِهِ، فَحَدَّثَهُمْ بِمَسِيرِهِ وَبِعَلَامَةِ بَيْتِ الْمَقْدِسِ وَبِعِيرِهِمْ، فَقَالَ نَاسٌ - قَالَ حَسَنٌ -: نَحْنُ نُصَدِّقُ مُحَمَّدًا بِمَا يَقُولُ، فَارْتَدُّوا كُفَّارًا، فَضَرَبَ اللَّهُ أَعْنَاقَهُمْ مَعَ أَبِي جَهْلٍ، وَقَالَ أَبُو جَهْلٍ: يُخَوِّفُنَا مُحَمَّدٌ شَجَرَةَ الزَّقُّومِ، هَاتُوا تَمْرًا وَزُبْدًا فَتَزَقَّمُوا». فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّ هِلَالَ بْنَ خَبَّابٍ قَالَ يَحْيَى الْقَطَّانُ: إِنَّهُ تَغَيَّرَ قَبْلَ مَوْتِهِ، وَقَالَ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ: لَمْ يَتَغَيَّرْ وَلَمْ يَخْتَلِطْ، ثِقَةٌ مَأْمُونٌ، وَرَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَزَادَ: قَالَ: وَرَأَى الدَّجَّالَ فِي صُورَتِهِ رُؤْيَا عَيْنٍ، لَيْسَ رُؤْيَا مَنَامٍ، وَعِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ، وَإِبْرَاهِيمَ. قَالَ: فَسُئِلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ الدَّجَّالِ، فَقَالَ: "" رَأَيْتُهُ فَيْلَمَانِيًّا، أَقْمَرَ، هِجَانًا، إِحْدَى عَيْنَيْهِ قَائِمَةٌ كَأَنَّهَا كَوْكَبٌ دُرِّيٌّ، كَأَنَّ شَعْرَهُ أَغْصَانُ شَجَرَةٍ، وَرَأَيْتُ عِيسَى شَابًّا أَبْيَضَ، جَعْدَ الرَّأْسِ، حَدِيدَ الْبَصَرِ، مُبَطَّنَ الْخَلْقِ، وَرَأَيْتُ مُوسَى أَسْحَمَ، آدَمَ، كَثِيرَ الشَّعْرِ، شَدِيدَ الْخَلْقِ، وَرَأَيْتُ إِبْرَاهِيمَ، فَلَا أَنْظُرُ إِلَى إِرْبٍ مِنْ آرَابِهِ إِلَّا نَظَرْتُ إِلَيْهِ كَأَنَّهُ صَاحِبُكُمْ. قَالَ: وَقَالَ لِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ: سَلِّمْ عَلَى أَبِيكَ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ "".

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما said: The Prophet ﷺ was taken on a night journey to Bayt al-Maqdis, and returned that very night. He told them of his journey, the landmarks of Bayt al-Maqdis, and of their trade caravans. Some people said, "We believe whatever Muḥammad says," but others apostatized into disbelief, and Allah caused their necks to be struck alongside Abū Jahl. Abū Jahl had mockingly said, "Muḥammad frightens us with the tree of Zaqqūm! Bring dates and butter, and swallow it down!" The Prophet ﷺ saw the Dajjāl with his own eyes in his true appearance—not in a dream—and he saw ʿĪsā ibn Maryam and Ibrāhīm. The Prophet ﷺ was asked about the Dajjāl, and he said: > **"I saw him as a heavily-built man, fair-skinned and pale, with one prominent eye that appeared like a shining star, and his hair was like the tangled branches of a tree. And I saw ʿĪsā as a youthful, fair man with wavy hair, sharp vision, and a slender, firm build. And I saw Mūsā as dark-skinned, of deep brown complexion, with abundant hair and a powerful physique. And I saw Ibrāhīm, and whenever I looked at any limb of his limbs, it was as if I were looking at your companion. Jibrīl عليه السلام said to me: 'Greet your forefather with peace,' so I greeted him with peace."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کو رات کے وقت بیت المقدس تک لے جایا گیا ‘ اور پھر اسی رات آپ ﷺ واپس بھی تشریف لے آئے ‘ نبی اکرم ﷺ نے لوگوں کو اپنے تشریف لے جانے کے بارے میں اور انہیں بیت المقدس کی نشانیوں اور اُن لوگوں کے اونٹوں کے بارے میں بتایا ‘ تو کچھ لوگوں نے کہا : حضرت محمد ﷺ جو کہہ رہے ہیں ، ہم اُس کے حوالے سے اُن کی تصدیق کرتے ہیں ، لیکن پھر اُس کے بعد وہ لوگ مرتد ہو کر کافر ہو گئے ‘ تو اللہ تعالیٰ نے اُن کی گردنیں ابوجہل کے ساتھ ملا دیں ابوجہل نے کہا : حضرت محمد ﷺ ہمیں اس زقوم کے درخت سے ڈراتے ہیں ، تم لوگ کھجور اور پنیر لاؤ اور ان کو چیر دو ! ‘‘....... اس کے بعد راوی نے پوری حدیث روایت کی ہے یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ‘ صرف ہلال بن خباب کا معاملہ مختلف ہے ‘ یحیی القطان کہتے ہیں : مرنے سے پہلے یہ تغیر کا شکار ہو گیا تھا ، یحیی بن معین کہتے ہیں : یہ نہ تو متغیر ہوا تھا اور نہ ہی اختلاط کا شکار ہوا تھا ‘ یہ ثقہ اور مامون ہے ۔ یہی روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس میں یہ الفاظ زائد نقل کئے ہیں : ’’ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے دجال کی اصل شکل و صورت دیکھی اور یہ دیکھنا ؟ آنکھ کے ذریعے تھا خواب میں دیکھنا نہیں تھا ، اسی طرح نبی اکرم ﷺ نے حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بھی دیکھا ‘ راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ سے دجال کے بارے میں سوال کیا گیا : تو آپ ﷺ نے فرمایا : میں نے اُسے دیکھا کہ وہ بھاری بھرکم صاف رنگ کا مالک تھا ، اُس کی ایک آنکھ موجود تھی جو چمکدار ستارے کی مانند تھی اور اس کے بال درخت کی ٹہنیوں کی مانند تھے ‘ میں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دیکھا کہ وہ گوری رنگت کے نوجوان تھے ‘ اُن کے بال ہلکے سے گھنگریالے تھے ‘ نگاہ تیز تھی ، جس مضبوط تھا اور میں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو دیکھا کہ وہ گندمی رنگت کے مالک تھے ‘ بال بہت زیادہ تھے اور جسم مضبوط تھا ، میں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بھی دیکھا ‘ میں نے اُن کے جسم کے جس حصے پر بھی نظر ڈالی ‘ تو یوں لگا جیسے وہ تمہارے آقا ( یعنی خود نبی اکرم ) ہیں ‘ نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں : جبرائیل علیہ السلام نے مجھ سے کہا : آپ اپنے جد امجد ( حضرت ابراہیم علیہ السلام ) کو سلام کریں ‘ تو میں نے انہیں سلام کیا ‘‘۔

235

Majma al-Zawaid #235

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَتَى بِفَرَسٍ، يَجْعَلُ كُلَّ خَطْوٍ مِنْهُ أَقْصَى بَصَرِهِ، فَسَارَ وَسَارَ مَعَهُ جِبْرِيلُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَتَى عَلَى قَوْمٍ يَزْرَعُونَ فِي يَوْمٍ، وَيَحْصُدُونَ فِي يَوْمٍ، كُلَّمَا حَصَدُوا عَادَ كَمَا كَانَ، فَقَالَ: يَا جِبْرِيلُ، مَنْ هَؤُلَاءِ؟ قَالَ: هَؤُلَاءِ الْمُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، تُضَاعَفُ لَهُمُ الْحَسَنَةُ بِسَبْعِمِائَةِ ضِعْفٍ، وَمَا أَنْفَقُوا مِنْ شَيْءٍ فَهُوَ يُخْلِفُهُ، ثُمَّ أَتَى عَلَى قَوْمٍ تُرْضَخُ رُءُوسُهُمْ بِالصَّخْرِ، كُلَّمَا رُضِخَتْ عَادَتْ كَمَا كَانَتْ، وَلَا يُفَتَّرُ عَنْهُمْ مِنْ ذَلِكَ شَيْءٌ. قَالَ: يَا جِبْرِيلُ، مَنْ هَؤُلَاءِ؟ قَالَ: هَؤُلَاءِ الَّذِينَ تَثَاقَلَتْ رُءُوسُهُمْ عَنِ الصَّلَاةِ، ثُمَّ أَتَى عَلَى قَوْمٍ عَلَى أَدْبَارِهِمْ رِقَاعٌ، وَعَلَى أَقْبَالِهِمْ رِقَاعٌ، يَسْرَحُونَ كَمَا تَسْرَحُ الْأَنْعَامُ إِلَى الضَّرِيعِ وَالزَّقُّومِ وَرَضْفِ جَهَنَّمَ. قَالَ: مَا هَؤُلَاءِ يَا جِبْرِيلُ؟ قَالَ: هَؤُلَاءِ الَّذِينَ لَا يُؤَدُّونَ صَدَقَاتِ أَمْوَالِهِمْ، وَمَا ظَلَمَهُمُ اللَّهُ، وَمَا اللَّهُ بِظَلَّامٍ لِلْعَبِيدِ، ثُمَّ أَتَى عَلَى قَوْمٍ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ لَحْمٌ فِي قِدْرٍ نَضِيجٌ، وَلَحْمٌ آخَرُ نِيءٌ خَبِيثٌ، فَجَعَلُوا يَأْكُلُونَ الْخَبِيثَ وَيَدَعُونَ النَّضِيجَ الطَّيِّبَ. قَالَ: يَا جِبْرِيلُ، مَنْ هَؤُلَاءِ؟ قَالَ: الرَّجُلُ مِنْ أُمَّتِكَ يَقُومُ مِنْ عِنْدِ امْرَأَتِهِ حَلَالًا، فَيَأْتِي الْمَرْأَةَ الْخَبِيثَةَ، فَيَبِيتُ مَعَهَا حَتَّى يُصْبِحَ، وَالْمَرْأَةُ تَقُومُ مِنْ عِنْدِ زَوْجِهَا حَلَالًا طَيِّبًا، فَتَأْتِي الرَّجُلَ الْخَبِيثَ فَتَبِيتُ عِنْدَهُ حَتَّى تُصْبِحَ، ثُمَّ أَتَى عَلَى رَجُلٍ قَدْ جَمَعَ حُزْمَةً عَظِيمَةً لَا يَسْتَطِيعُ حَمْلَهَا وَهُوَ يُرِيدُ أَنْ يَزِيدَ عَلَيْهَا، فَقَالَ: يَا جِبْرِيلُ، مَنْ هَذَا؟ قَالَ: هَذَا رَجُلٌ مِنْ أُمَّتِكَ عَلَيْهِ أَمَانَةُ النَّاسِ، لَا يَسْتَطِيعُ أَدَاءَهَا وَهُوَ يَزِيدُ عَلَيْهَا، ثُمَّ أَتَى عَلَى قَوْمٍ تُقْرَضُ شِفَاهُهُمْ وَأَلْسِنَتُهُمْ بِمَقَارِيضَ مِنْ حَدِيدٍ، كُلَّمَا قُرِضَتْ عَادَتْ كَمَا كَانَتْ، لَا يُفَتَّرُ عَنْهُمْ مِنْ ذَلِكَ شَيْءٌ. قَالَ: يَا جِبْرِيلُ، مَا هَؤُلَاءِ؟ قَالَ: خُطَبَاءُ الْفِتْنَةِ، ثُمَّ أَتَى عَلَى جُحْرٍ صَغِيرٍ يَخْرُجُ مِنْهُ ثَوْرٌ عَظِيمٌ، فَيُرِيدُ الثَّوْرُ أَنْ يَدْخُلَ مِنْ حَيْثُ خَرَجَ فَلَا يَسْتَطِيعُ، فَقَالَ: مَا هَذَا يَا جِبْرِيلُ؟ قَالَ: هَذَا الرَّجُلُ يَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ الْعَظِيمَةِ فَيَنْدَمُ عَلَيْهَا، فَيُرِيدُ أَنْ يَرُدَّهَا فَلَا يَسْتَطِيعُ، ثُمَّ أَتَى عَلَى وَادٍ فَوَجَدَ رِيحًا طَيِّبَةً، وَوَجَدَ رِيحَ مِسْكٍ مَعَ صَوْتٍ، فَقَالَ: مَا هَذَا؟ قَالَ: صَوْتُ الْجَنَّةِ تَقُولُ: يَا رَبِّ، ائْتِنِي بِأَهْلِي وَبِمَا وَعَدْتَنِي، فَقَدْ كَثُرَ غَرْسِي، وَحَرِيرِي، وَسُنْدُسِي، وَإِسْتَبْرَقِي، وَعَبْقَرِيِّي، وَمَرْجَانِي، وَقَصَبِي، وَذَهَبِي، وَأَكْوَابِي، وَصِحَافِي، وَأَبَارِيقِي، وَفَوَاكِهِي، وَعَسَلِي، وَثِيَابِي، وَلَبَنِي، وَخَمْرِي، ائْتِنِي بِمَا وَعَدْتَنِي. قَالَ: لَكِ كُلُّ مُسْلِمٍ وَمُسْلِمَةٍ وَمُؤْمِنٍ وَمُؤْمِنَةٍ. وَمَنْ آمَنَ بِي وَبِرُسُلِي، وَعَمِلَ صَالِحًا، وَلَمْ يُشْرِكْ بِي شَيْئًا، وَلَمْ يَتَّخِذْ مِنْ دُونِي أَنْدَادًا - فَهُوَ آمِنٌ، وَمَنْ سَأَلَنِي أَعْطَيْتُهُ، وَمَنْ أَقْرَضَنِي جَزَيْتُهُ، وَمَنْ تَوَكَّلَ عَلَيَّ كَفَيْتُهُ، إِنِّي أَنَا اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنَا، لَا خُلْفَ لِمِيعَادِي، قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ، تَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ، فَقَالَتْ: قَدْ رَضِيتُ، ثُمَّ أَتَى عَلَى وَادٍ فَسَمِعَ صَوْتًا مُنْكَرًا، فَقَالَ: يَا جِبْرِيلُ، مَا هَذَا الصَّوْتُ؟ قَالَ: هَذَا صَوْتُ جَهَنَّمَ تَقُولُ: يَا رَبِّ، ائْتِنِي بِأَهْلِي وَبِمَا وَعَدْتَنِي، فَقَدْ كَثُرَ سَلَاسِلِي، وَأَغْلَالِي، وَسَعِيرِي، وَحَمِيمِي، وَغَسَّاقِي، وَغِسْلِينِي، وَقَدْ بَعُدَ قَعْرِي، وَاشْتَدَّ حَرِّي، ائْتِنِي بِمَا وَعَدْتَنِي. قَالَ: لَكِ كُلُّ مُشْرِكٍ وَمُشْرِكَةٍ وَخَبِيثٍ وَخَبِيثَةٍ، وَكُلُّ جَبَّارٍ لَا يُؤْمِنُ بِيَوْمِ الْحِسَابِ. قَالَتْ: قَدْ رَضِيتُ. ثُمَّ سَارَ حَتَّى أَتَى بَيْتَ الْمَقْدِسِ، فَنَزَلَ فَرَبَطَ فَرَسَهُ إِلَى صَخْرَةٍ، فَصَلَّى مَعَ الْمَلَائِكَةِ، فَلَمَّا قُضِيَتِ الصَّلَاةُ قَالُوا: يَا جِبْرِيلُ، مَنْ هَذَا مَعَكَ؟ قَالَ: هَذَا مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَاتَمُ النَّبِيِّينَ. قَالُوا: وَقَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ؟ قَالَ: نَعَمْ. قَالُوا: حَيَّاهُ اللَّهُ مِنْ أَخٍ وَخَلِيفَةٍ، فَنِعْمَ الْأَخُ، وَنِعْمَ الْخَلِيفَةُ. ثُمَّ لَقُوا أَرْوَاحَ الْأَنْبِيَاءِ، فَأَثْنَوْا عَلَى رَبِّهِمْ - تَعَالَى - فَقَالَ إِبْرَاهِيمُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي اتَّخَذَنِي خَلِيلًا، وَأَعْطَانِي مُلْكًا عَظِيمًا، وَجَعَلَنِي أُمَّةً قَانِتًا، وَاصْطَفَانِي بِرِسَالَاتِهِ، وَأَنْقَذَنِي مِنَ النَّارِ، وَجَعَلَهَا عَلَيَّ بَرْدًا وَسَلَامًا، ثُمَّ إِنَّ مُوسَى - عَلَيْهِ السَّلَامُ - أَثْنَى عَلَى رَبِّهِ، فَقَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي كَلَّمَنِي تَكْلِيمًا، وَاصْطَفَانِي وَأَنْزَلَ عَلَيَّ التَّوْرَاةَ، وَجَعَلَ هَلَاكَ فِرْعَوْنَ عَلَى يَدَيَّ، وَنَجَاةَ بَنِي إِسْرَائِيلَ عَلَى يَدَيَّ، ثُمَّ إِنَّ دَاوُدَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَثْنَى عَلَى رَبِّهِ، فَقَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ لِي مُلْكًا، وَأَنْزَلَ عَلَيَّ الزَّبُورَ، وَأَلَانَ لِيَ الْحَدِيدَ، وَسَخَّرَ لِيَ الْجِبَالَ يُسَبِّحْنَ مَعِي وَالطَّيْرَ، وَآتَانِيَ الْحِكْمَةَ وَفَصْلَ الْخِطَابِ، ثُمَّ إِنَّ سُلَيْمَانَ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - أَثْنَى عَلَى رَبِّهِ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - فَقَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي سَخَّرَ لِي الرِّيَاحَ وَالْجِنَّ وَالْإِنْسَ، وَسَخَّرَ لِيَ الشَّيَاطِينَ يَعْمَلُونَ مَا شِئْتُ مِنْ مَحَارِيبَ وَتَمَاثِيلَ وَجِفَانٍ كَالْجَوَابِي وَقُدُورٍ رَاسِيَاتٍ، وَعَلَّمَنِي مَنْطِقَ الطَّيْرِ، وَأَسَالَ لِي عَيْنَ الْقِطْرِ، وَأَعْطَانِي مُلْكًا لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ مِنْ بَعْدِي، ثُمَّ إِنَّ عِيسَى - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَثْنَى عَلَى رَبِّهِ، فَقَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي عَلَّمَنِي التَّوْرَاةَ وَالْإِنْجِيلَ، وَجَعَلَنِي أُبْرِئُ الْأَكْمَهَ وَالْأَبْرَصَ، وَأُحْيِي الْمَوْتَى بِإِذْنِهِ، وَرَفَعَنِي وَطَهَّرَنِي مِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا، وَأَعَاذَنِي وَأُمِّي مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، وَلَمْ يَجْعَلْ لِلشَّيْطَانِ عَلَيْنَا سَبِيلًا. وَإِنَّ مُحَمَّدًا - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَثْنَى عَلَى رَبِّهِ، فَقَالَ: كُلُّكُمْ أَثْنَى عَلَى رَبِّهِ، وَأَنَا مُثْنٍ عَلَى رَبِّي: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَرْسَلَنِي رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ، وَكَافَّةً لِلنَّاسِ، بَشِيرًا وَنَذِيرًا، وَأَنْزَلَ عَلَيَّ الْفُرْقَانَ فِيهِ تِبْيَانُ كُلِّ شَيْءٍ، وَجَعَلَ أُمَّتِي خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ، وَجَعَلَ أُمَّتِي وَسَطًا، وَجَعَلَ أُمَّتِي هُمُ الْأَوَّلُونَ وَهُمُ الْآخِرُونَ، وَشَرَحَ لِي صَدْرِي، وَوَضَعَ عَنِّي وِزْرِي، وَرَفَعَ لِي ذِكْرِي، وَجَعَلَنِي فَاتِحًا وَخَاتَمًا، فَقَالَ إِبْرَاهِيمُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: بِهَذَا فَضَلَكُمْ مُحَمَّدٌ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. ثُمَّ أُتِيَ بِآنِيَةٍ ثَلَاثَةٍ مُغَطَّاةٍ، فَدُفِعَ إِلَيْهِ إِنَاءٌ فِيهِ مَاءٌ، فَقِيلَ لَهُ: اشْرَبْ، ثُمَّ دُفِعَ إِلَيْهِ إِنَاءٌ آخَرُ فِيهِ لَبَنٌ فَشَرِبَ حَتَّى رَوِيَ، ثُمَّ دُفِعَ إِلَيْهِ إِنَاءٌ آخَرُ فِيهِ خَمْرٌ، فَقَالَ: قَدْ رَوِيتُ، لَا أَذُوقُهُ، فَقِيلَ لَهُ: أَصَبْتَ، أَمَّا إِنَّهَا سَتُحَرَّمُ عَلَى أُمَّتِكَ، وَلَوْ شَرِبْتَهَا لَمْ يَتَّبِعْكَ مِنْ أُمَّتِكَ إِلَّا قَلِيلٌ. ثُمَّ صَعِدَ بِهِ إِلَى السَّمَاءِ، فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِيلُ فَقِيلَ: مَنْ هَذَا؟ قَالَ: جِبْرِيلُ، قِيلَ: وَمَنْ مَعَكَ؟ قَالَ: مُحَمَّدٌ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. قَالُوا: وَقَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ؟ قَالَ: نَعَمْ. قَالُوا: حَيَّاهُ اللَّهُ مِنْ أَخٍ وَخَلِيفَةٍ، فَنِعْمَ الْأَخُ وَنِعْمَ الْخَلِيفَةُ، وَنِعْمَ الْمَجِيءُ جَاءَ. فَدَخَلَ فَإِذَا بِشَيْخٍ جَالِسٍ تَامِّ الْخَلْقِ لَمْ يَنْقُصْ مِنْ خَلْقِهِ شَيْئٌ كَمَا يَنْقُصُ مِنْ خَلْقِ الْبَشَرِ، عَنْ يَمِينِهِ بَابٌ يَخْرُجُ مِنْهُ رِيحٌ طَيِّبَةٌ، وَعَنْ شِمَالِهِ بَابٌ تَخْرُجُ مِنْهُ رِيحٌ خَبِيثَةٌ، إِذَا نَظَرَ إِلَى الْبَابِ الَّذِي عَنْ يَمِينِهِ ضَحِكَ، وَإِذَا نَظَرَ إِلَى الْبَابِ الَّذِي عَنْ يَسَارِهِ بَكَى وَحَزِنَ، فَقَالَ: يَا جِبْرِيلُ، مَنْ هَذَا الشَّيْخُ؟ وَمَا هَذَانِ الْبَابَانِ؟ قَالَ: هَذَا أَبُوكَ آدَمُ، وَهَذَا الْبَابُ الَّذِي عَنْ يَمِينِهِ بَابُ الْجَنَّةِ، إِذَا رَأَى مَنْ يَدْخُلُهُ مِنْ ذُرِّيَّتِهِ ضَحِكَ وَاسْتَبْشَرَ، وَإِذَا نَظَرَ إِلَى الْبَابِ الَّذِي عَنْ شِمَالِهِ بَابِ جَهَنَّمَ مَنْ يَدْخُلُهُ مِنْ ذُرِّيَّتِهِ بَكَى وَحَزِنَ. ثُمَّ صَعِدَ إِلَى السَّمَاءِ الثَّانِيَةِ فَاسْتَفْتَحَ، فَقَالَ: مَنْ هَذَا؟ فَقَالَ: جِبْرِيلُ. قَالُوا: وَمَنْ مَعَكَ؟ قَالَ: مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالُوا: وَقَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ؟ قَالَ: نَعَمْ. قَالُوا: حَيَّاهُ اللَّهُ مِنْ أَخٍ وَخَلِيفَةٍ، فَنِعْمَ الْأَخُ وَنِعْمَ الْخَلِيفَةُ، وَنِعْمَ الْمَجِيءُ جَاءَ. فَدَخَلَ فَإِذَا هُوَ بِشَابَّيْنِ، فَقَالَ: يَا جِبْرِيلُ، مَا هَذَانِ الشَّابَّانِ؟ قَالَ: هَذَا عِيسَى وَيَحْيَى ابْنَا الْخَالَةِ، ثُمَّ صَعِدَ إِلَى السَّمَاءِ الثَّالِثَةِ، فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِيلُ، فَقَالُوا: مَنْ هَذَا مَعَكَ؟ قَالَ: مُحَمَّدٌ. قَالُوا: وَقَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ؟ قَالَ: نَعَمْ. قَالُوا: حَيَّاهُ اللَّهُ مِنْ أَخٍ وَخَلِيفَةٍ، فَنِعْمَ الْأَخُ وَنِعْمَ الْخَلِيفَةُ، وَنِعْمَ الْمَجِيءُ جَاءَ، فَدَخَلَ فَإِذَا هُوَ بِرَجُلٍ جَالِسٍ قَدْ فَضَلَ عَلَى النَّاسِ فِي الْحُسْنِ كَمَا فَضَلَ الْقَمَرُ لَيْلَةَ الْبَدْرِ عَلَى سَائِرِ الْكَوَاكِبِ، فَقَالَ: مَنْ هَذَا يَا جِبْرِيلُ؟ قَالَ: أَخُوكَ يُوسُفُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. ثُمَّ صَعِدَ إِلَى السَّمَاءِ الرَّابِعَةِ فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِيلُ، فَقَالُوا: مَنْ هَذَا مَعَكَ؟ قَالَ: مُحَمَّدٌ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. قَالُوا: وَقَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ؟ قَالَ: نَعَمْ. قَالُوا: حَيَّاهُ اللَّهُ مِنْ أَخٍ وَخَلِيفَةٍ وَنِعْمَ الْمَجِيءُ جَاءَ، فَدَخَلَ فَإِذَا هُوَ بِرَجُلٍ، فَقَالَ: يَا جِبْرِيلُ، مَنْ هَذَا الرَّجُلُ الْجَالِسُ؟ قَالَ: هَذَا أَخُوكَ إِدْرِيسُ، رَفَعَهُ اللَّهُ مَكَانًا عَلِيًّا. ثُمَّ صَعِدَ بِهِ إِلَى السَّمَاءِ الْخَامِسَةِ فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِيلُ، فَقَالُوا: مَنْ هَذَا مَعَكَ؟ قَالَ: مُحَمَّدٌ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. قَالُوا: وَقَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ؟ قَالَ: نَعَمْ. قَالُوا: حَيَّاهُ اللَّهُ مِنْ أَخٍ وَخَلِيفَةٍ فَنِعْمَ الْأَخُ وَنِعْمَ الْخَلِيفَةُ، وَنِعْمَ الْمَجِيءُ جَاءَ، فَدَخَلَ فَإِذَا هُوَ بِرَجُلٍ جَالِسٍ يَقُصُّ عَلَيْهِمْ. قَالَ: يَا جِبْرِيلُ، مَنْ هَذَا؟ وَمَنْ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ حَوْلَهُ؟ قَالَ: هَذَا هَارُونُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْمُخَلَّفُ فِي قَوْمِهِ، وَهَؤُلَاءِ قَوْمُهُ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ، ثُمَّ صَعِدَ بِهِ إِلَى السَّمَاءِ السَّادِسَةِ فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِيلُ، فَقَالُوا: مَنْ هَذَا مَعَكَ؟ قَالَ: مُحَمَّدٌ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. قَالُوا: وَقَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ؟ قَالَ: نَعَمْ. قَالُوا: حَيَّاهُ اللَّهُ مِنْ أَخٍ وَخَلِيفَةٍ، فَنِعْمَ الْأَخُ وَنِعْمَ الْخَلِيفَةُ، وَنِعْمَ الْمَجِيءُ جَاءَ، فَإِذَا هُوَ بِرَجُلٍ جَالِسٍ فَجَاوَزَهُ، فَبَكَى الرَّجُلُ، فَقَالَ: يَا جِبْرِيلُ، مَنْ هَذَا؟ قَالَ: مُوسَى - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: مَا يُبْكِيهِ؟ قَالَ: تَزْعُمُ بَنُو إِسْرَائِيلَ أَنِّي أَفْضَلُ الْخَلْقِ، وَهَذَا قَدْ خَلَفَنِي، فَلَوْ أَنَّهُ وَحْدَهُ، وَلَكِنَّ مَعَهُ كُلَّ أُمَّتِهِ. ثُمَّ صَعِدَ بِنَا إِلَى السَّمَاءِ السَّابِعَةِ فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِيلُ، فَقَالُوا: مَنْ مَعَكَ؟ قَالَ: مُحَمَّدٌ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. قَالُوا: وَقَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ؟ قَالَ: نَعَمْ. قَالُوا: حَيَّاهُ اللَّهُ مِنْ أَخٍ وَمِنْ خَلِيفَةٍ، فَنِعْمَ الْأَخُ وَنِعْمَ الْخَلِيفَةُ، وَنِعْمَ الْمَجِيءُ جَاءَ، فَإِذَا هُوَ بِرَجُلٍ أَشْمَطَ، جَالِسٍ عَلَى كُرْسِيٍّ عِنْدَ بَابِ الْجَنَّةِ، وَعِنْدَهُ قَوْمٌ جُلُوسٌ فِي أَلْوَانِهِمْ شَيْءٌ - قَالَ عِيسَى (يَعْنِي: أَبَا جَعْفَرٍ الرَّازِيَّ: وَسَمِعْتُهُ مَرَّةً يَقُولُ: سُودُ الْوُجُوهِ) - فَقَامَ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ فِي أَلْوَانِهِمْ شَيْءٌ، فَدَخَلُوا نَهَرًا يُقَالُ لَهُ: "" نِعْمَةُ اللَّهِ ""، فَاغْتَسَلُوا فِيهِ، فَخَرَجُوا وَقَدْ خَلَصَ مِنْ أَلْوَانِهِمْ شَيْءٌ، فَدَخَلُوا نَهَرًا آخَرَ يُقَالُ لَهُ: "" رَحْمَةُ اللَّهِ ""، فَاغْتَسَلُوا فِيهِ، فَخَرَجُوا وَقَدْ خَلَصَ مِنْ أَلْوَانِهِمْ شَيْءٌ، فَدَخَلُوا نَهَرًا آخَرَ، فَذَلِكَ قَوْلُهُ - تَعَالَى -: {وَسَقَاهُمْ رَبُّهُمْ شَرَابًا طَهُورًا} [الإنسان: 21]، فَخَرَجُوا وَقَدْ خَلَصَتْ أَلْوَانُهُمْ مِثْلَ أَلْوَانِ أَصْحَابِهِمْ، فَجَلَسُوا إِلَى أَصْحَابِهِمْ، فَقَالَ: يَا جِبْرِيلُ، مَنْ هَذَا الْأَشْمَطُ الْجَالِسُ؟ وَمَنْ هَؤُلَاءِ الْبِيضُ الْوُجُوهِ؟ وَمَنْ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ فِي أَلْوَانِهِمْ شَيْءٌ، فَدَخَلُوا هَذِهِ الْأَنْهَارَ فَاغْتَسَلُوا فِيهَا، ثُمَّ خَرَجُوا وَقَدْ خَلَصَتْ أَلْوَانُهُمْ؟ قَالَ: هَذَا أَبُوكَ إِبْرَاهِيمُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَوَّلُ مَنْ شَمِطَ عَلَى الْأَرْضِ، وَهَؤُلَاءِ الْقَوْمُ الْبِيضُ الْوُجُوهِ قَوْمٌ لَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ، وَهَؤُلَاءِ الَّذِينَ فِي أَلْوَانِهِمْ شَيْءٌ قَدْ خَلَطُوا عَمَلًا صَالِحًا وَآخَرَ سَيِّئًا، تَابُوا فَتَابَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ. ثُمَّ مَضَى إِلَى السِّدْرَةِ، فَقِيلَ لَهُ: هَذِهِ السِّدْرَةُ الْمُنْتَهَى، يَنْتَهِي كُلُّ أَحَدٍ مِنْ أُمَّتِكَ خَلَا عَلَى سَبِيلِكَ، وَهِيَ السِّدْرَةُ الْمُنْتَهَى، يَخْرُجُ مِنْ أَصْلِهَا أَنْهَارٌ مِنْ مَاءٍ غَيْرِ آسِنٍ، وَأَنْهَارٌ مِنْ لَبَنٍ لَمْ يَتَغَيَّرْ طَعْمُهُ، وَأَنْهَارٌ مِنْ خَمْرٍ لَذَّةٍ لِلشَّارِبِينَ، وَأَنْهَارٌ مِنْ عَسَلٍ مُصَفًّى، وَهِيَ شَجَرَةٌ يَسِيرُ الرَّاكِبُ فِي ظِلِّهَا سَبْعِينَ عَامًا، وَإِنَّ وَرَقَةً مِنْهَا مِظَلَّةُ الْخَلْقِ، فَغَشِيَهَا نُورٌ وَغَشِيَتْهَا الْمَلَائِكَةُ - قَالَ عِيسَى: فَذَلِكَ قَوْلُهُ {إِذْ يَغْشَى السِّدْرَةَ مَا يَغْشَى} [النجم: 16]- فَقَالَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - لَهُ: سَلْ، فَقَالَ: إِنَّكَ اتَّخَذْتَ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلًا، وَأَعْطَيْتَهُ مُلْكًا عَظِيمًا، وَكَلَّمْتَ مُوسَى تَكْلِيمًا، وَأَعْطَيْتَ دَاوُدَ مُلْكًا عَظِيمًا، وَأَلَنْتَ لَهُ الْحَدِيدَ، وَسَخَّرْتَ لَهُ الْجِبَالَ، وَأَعْطَيْتَ سُلَيْمَانَ مُلْكًا عَظِيمًا، وَسَخَّرْتَ لَهُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ وَالشَّيَاطِينَ وَالرِّيَاحَ، وَأَعْطَيْتَهُ مُلْكًا لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ مِنْ بَعْدِهِ، وَعَلَّمْتَ عِيسَى التَّوْرَاةَ وَالْإِنْجِيلَ، وَجَعَلْتَهُ يُبْرِئُ الْأَكْمَهَ وَالْأَبْرَصَ، وَأَعَذْتَهُ وَأُمَّهُ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، فَلَمْ يَكُنْ لَهُ عَلَيْهِمَا سَبِيلٌ، فَقَالَ لَهُ رَبُّهُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى -: "" قَدِ اتَّخَذْتُكَ خَلِيلًا وَهُوَ مَكْتُوبٌ فِي التَّوْرَاةِ: مُحَمَّدٌ حَبِيبُ الرَّحْمَنِ، وَأَرْسَلْتُكَ إِلَى النَّاسِ كَافَّةً، وَجَعَلْتُ أُمَّتَكَ هُمُ الْأَوَّلُونَ وَهُمُ الْآخِرُونَ، وَجَعَلْتُ أُمَّتَكَ لَا تَجُوزُ لَهُمْ خُطْبَةٌ حَتَّى يَشْهَدُوا أَنَّكَ عَبْدِي وَرَسُولِي، وَجَعَلْتُكَ أَوَّلَ النَّبِيِّينَ خَلْقًا وَآخِرَهُمْ بَعْثًا، وَأَعْطَيْتُكَ سَبْعًا مِنَ الْمَثَانِي وَلَمْ أُعْطِهَا نَبِيًّا قَبْلَكَ، وَأَعْطَيْتُكَ خَوَاتِيمَ سُورَةِ الْبَقَرَةِ مِنْ كَنْزٍ تَحْتَ الْعَرْشِ لَمْ أُعْطِهَا نَبِيًّا قَبْلَكَ، وَجَعَلْتُكَ فَاتِحًا وَخَاتِمًا "". وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" فَضَّلَنِي رَبِّي - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - بِسِتٍّ: قَذَفَ فِي قُلُوبِ عَدُوِّيَ الرُّعْبَ مِنْ مَسِيرَةِ شَهْرٍ، وَأُحِلَّتْ لِيَ الْغَنَائِمُ وَلَمْ تَحِلَّ لِأَحَدٍ قَبْلِي، وَجُعِلَتْ لِيَ الْأَرْضُ مَسْجِدًا وَطَهُورًا، وَأُعْطِيتُ فَوَاتِحَ الْكَلَامِ وَجَوَامِعَهُ، وَعُرِضَ عَلَيَّ أُمَّتِي ; فَلَمْ يَخْفَ عَلَيَّ التَّابِعُ وَالْمَتْبُوعُ مِنْهُمْ، وَرَأَيْتُهُمْ أَتَوْا عَلَى قَوْمٍ يَنْتَعِلُونَ الشَّعْرَ، وَرَأَيْتُهُمْ أَتَوْا عَلَى قَوْمٍ عِرَاضِ الْوُجُوهِ، صِغَارِ الْأَعْيُنِ، فَعَرَفْتُهُمْ مَا هُمْ. وَأُمِرْتُ بِخَمْسِينَ صَلَاةً، فَرَجَعَ إِلَى مُوسَى، فَقَالَ لَهُ مُوسَى: بِكَمْ أُمِرْتَ مِنَ الصَّلَاةِ؟ قَالَ: بِخَمْسِينَ صَلَاةً. قَالَ: ارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ فَسَلْهُ التَّخْفِيفَ ; فَإِنَّ أُمَّتَكَ أَضْعَفُ الْأُمَمِ، وَقَدْ لَقِيتُ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ شِدَّةً. فَرَجَعَ مُحَمَّدٌ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَأَلَ اللَّهَ التَّخْفِيفَ، فَوَضَعَ عَنْهُ عَشْرًا، فَرَجَعَ إِلَى مُوسَى، فَقَالَ لَهُ: بِكَمْ أُمِرْتَ؟ قَالَ: بِأَرْبَعِينَ صَلَاةً. قَالَ: ارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ فَسَلْهُ التَّخْفِيفَ لِأُمَّتِكَ ; فَإِنَّ أُمَّتَكَ أَضْعَفُ الْأُمَمِ، وَقَدْ لَقِيتُ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ شِدَّةً. فَرَجَعَ مُحَمَّدٌ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَأَلَهُ التَّخْفِيفَ، فَوَضَعَ عَنْهُ عَشْرًا، فَرَجَعَ إِلَى مُوسَى فَقَالَ لَهُ: بِكَمْ أُمِرْتَ؟ قَالَ: بِثَلَاثِينَ. قَالَ: ارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ فَسَلْهُ التَّخْفِيفَ لِأُمَّتِكَ ; فَإِنَّ أُمَّتَكَ أَضْعَفُ الْأُمَمِ، وَلَقَدْ لَقِيتُ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ شِدَّةً. فَرَجَعَ مُحَمَّدٌ فَسَأَلَ رَبَّهُ التَّخْفِيفَ، فَوَضَعَ عَنْهُ عَشْرًا، فَرَجَعَ إِلَى مُوسَى، فَقَالَ لَهُ: بِكَمْ أُمِرْتَ؟ قَالَ: بِعِشْرِينَ. قَالَ: ارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ فَسَلْهُ التَّخْفِيفَ عَنْ أُمَّتِكَ ; فَإِنَّ أُمَّتَكَ أَضْعَفُ الْأُمَمِ، وَقَدْ لَقِيتُ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ شِدَّةً. فَرَجَعَ مُحَمَّدٌ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَأَلَ رَبَّهُ التَّخْفِيفَ، فَوَضَعَ عَنْهُ عَشْرًا، فَرَجَعَ إِلَى مُوسَى فَقَالَ لَهُ: بِكَمْ أُمِرْتَ؟ قَالَ: بِعَشْرٍ. قَالَ: ارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ فَسَلْهُ التَّخْفِيفَ عَنْ أُمَّتِكَ ; فَإِنَّ أُمَّتَكَ أَضْعَفُ الْأُمَمِ، وَقَدْ لَقِيتُ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ شِدَّةً. فَرَجَعَ مُحَمَّدٌ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَأَلَ رَبَّهُ التَّخْفِيفَ، فَوَضَعَ عَنْهُ خَمْسًا، فَرَجَعَ إِلَى مُوسَى، فَقَالَ لَهُ: بِكَمْ أُمِرْتَ؟ قَالَ: بِخَمْسٍ. قَالَ: ارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ فَسَلْهُ التَّخْفِيفَ ; فَإِنَّ أُمَّتَكَ أَضْعَفُ الْأُمَمِ، وَقَدْ لَقِيتُ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ شِدَّةً. قَالَ: قَدْ رَجَعْتُ إِلَى رَبِّي حَتَّى اسْتَحْيَيْتُ مِنْهُ، وَمَا أَنَا بِرَاجِعٍ إِلَيْهِ، فَقِيلَ لَهُ: كَمَا صَبَرَتْ نَفْسُكَ عَلَى الْخَمْسِ ; فَإِنَّهُ يُجْزِئُ عَنْكَ بِخَمْسِينَ، يُجْزِئُ عَنْكَ كُلَّ حَسَنَةٍ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا "". قَالَ عِيسَى: بَلَغَنِي أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" كَانَ مُوسَى - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَشَدَّهُمْ عَلَيَّ أَوَّلًا، وَخَيْرَهُمْ آخِرًا» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ، إِلَّا أَنَّ الرَّبِيعَ بْنَ أَنَسٍ قَالَ: عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ أَوْ غَيْرِهِ. فَتَابِعِيُّهُ مَجْهُولٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه reported: A steed was brought to the Messenger of Allah ﷺ whose stride reached as far as its eye could see. He set out, and Jibrīl ﷺ traveled alongside him. He came upon a people who were sowing crops in a single day and harvesting them on that same day; whenever they harvested, the crops returned as they had been. He said, "O Jibrīl, who are these?" Jibrīl replied, "These are the warriors in the cause of Allah; their good deeds are multiplied seven-hundredfold, and whatever they spend, He replaces it." Then he came upon a people whose heads were being crushed with boulders; whenever they were crushed, they returned to their former state without any reprieve. He asked, "O Jibrīl, who are these?" Jibrīl replied, "These are the ones whose heads grew too heavy to perform the prescribed prayers." Then he came upon a people who had patches of cloth on their fronts and backs, wandering like livestock to graze upon thorny shrubs (*ḍarīʿ*), the bitter Zaqqūm tree, and the burning stones of Hell. He asked, "What are these, O Jibrīl?" Jibrīl said, "These are the ones who did not pay the prescribed alms on their wealth; Allah did not wrong them, and Allah is never unjust to His servants." Then he came upon a people who had before them cooked, succulent meat in a cauldron, and raw, putrid meat alongside it, yet they were eating the foul, raw meat and leaving the wholesome cooked meat. He asked, "O Jibrīl, who are these?" Jibrīl said, "This is a man from your nation who leaves his lawful wife and goes to an immoral woman, spending the night with her until morning; and a woman who leaves her lawful husband and goes to an immoral man, spending the night with him until morning." Then he came upon a man who had gathered a massive bundle of wood which he was unable to lift, yet he sought to add more onto it. He asked, "O Jibrīl, who is this?" Jibrīl said, "This is a man from your nation who bears people's trusts which he cannot fulfill, yet he keeps taking on more." Then he came upon a people whose lips and tongues were being clipped with shears of iron; whenever they were cut, they returned as they were without any reprieve. He asked, "O Jibrīl, who are these?" Jibrīl said, "These are the preachers of discord (*khuṭabāʾ al-fitnah*)." Then he came upon a tiny hole from which a huge bull emerged; the bull then tried to re-enter where it had come out from, but could not. He asked, "What is this, O Jibrīl?" Jibrīl said, "This is the man who speaks a grave, destructive word and regrets it, desiring to take it back, but he cannot." Then he came upon a valley from which emanated a delightful fragrance and the scent of musk, accompanied by a voice. He asked, "What is this?" Jibrīl said, "This is the voice of Paradise saying: 'O my Lord, bring me my inhabitants and that which You promised me, for my plantings, my silk, my fine brocade, my heavy silk, my rich carpets, my corals, my pearls, my gold, my goblets, my bowls, my pitchers, my fruits, my honey, my garments, my milk, and my pure wine have multiplied; fulfill for me what You promised me!' Allah said: 'Yours is every Muslim man and Muslim woman, every believing man and believing woman; whoever believes in Me and My Messengers, acts righteously, associates nothing with Me, and sets up no rivals beside Me is safe. Whoever asks of Me, I shall grant him; whoever lends to Me, I shall reward him; and whoever relies upon Me, I shall suffice him. Truly, I am Allah, there is no deity worthy of worship except Me; I never break My promise. Indeed, the believers have attained success; blessed is Allah, the Best of Creators.' Paradise said: 'I am well-pleased!'" Then he came upon a valley and heard a horrifying, hideous sound. He asked, "O Jibrīl, what is this sound?" Jibrīl said, "This is the voice of Hell saying: 'O my Lord, bring me my inhabitants and that which You promised me, for my chains, my shackles, my blazing fire, my boiling water, my murky discharge, and my foul pus have multiplied; my pit is deep and my heat is intense; bring me what You promised me!' Allah said: 'Yours is every polytheist man and polytheist woman, every foul man and foul woman, and every haughty tyrant who disbelieved in the Day of Reckoning.' Hell said: 'I am well-pleased!'" He continued until he reached Bayt al-Maqdis, where he dismounted, tethered his mount to a rock, and prayed alongside the angels. When the prayer concluded, the angels asked, "O Jibrīl, who is this with you?" He said, "This is Muḥammad, the Messenger of Allah ﷺ, the Seal of the Prophets." They asked, "Has he been sent for?" He said, "Yes." They said, "May Allah greet him as a brother and vicegerent; what an excellent brother, what an excellent vicegerent, and what an excellent arrival!" Then he met the souls of the Prophets, who all praised their Lord, the Exalted. Ibrāhīm ﷺ praised his Lord, saying: "Praise be to Allah Who took me as an intimate friend, granted me a magnificent dominion, made me a submissive leader, chose me for His messages, delivered me from the fire, and made it cool and peaceful for me." Then Mūsā عليه السلام praised his Lord, saying: "Praise be to Allah Who spoke directly to me, chose me, revealed the Torah to me, brought about Pharaoh's destruction at my hands, and granted deliverance to the Children of Israel through me." Then Dāwūd ﷺ praised his Lord, saying: "Praise be to Allah Who granted me a kingdom, revealed the Psalms to me, softened iron for me, subjugated the mountains and birds to glorify Him along with me, and granted me wisdom and decisive speech." Then Sulaymān عليه السلام praised his Lord, saying: "Praise be to Allah Who subjugated the winds, the jinn, and mankind for me, and subjugated the devils who fashioned whatever I wished—sanctuaries, statues, basins like reservoirs, and immovable cooking cauldrons; Who taught me the speech of birds, made a spring of molten copper flow for me, and granted me a kingdom not granted to anyone after me." Then ʿĪsā ﷺ praised his Lord, saying: "Praise be to Allah Who taught me the Torah and the Gospel, made me cure the blind and the leper, and raise the dead by His leave; Who raised me up, purified me from those who disbelieve, and protected me and my mother from the accursed Satan so that Satan had no way over us." Then Muḥammad ﷺ praised his Lord, saying: "Each of you has praised his Lord, and I praise my Lord: Praise be to Allah Who sent me as a mercy to the worlds and to all mankind as a bearer of glad tidings and a warner; Who revealed upon me the Criterion (*al-Furqān*) containing a clear exposition of all things; Who made my nation the best nation brought forth for mankind; Who made my nation a justly balanced nation, making them the first and the last; Who expanded my chest for me, removed my burden, exalted my fame, and made me the opener and the seal." Ibrāhīm ﷺ said: "By this has Muḥammad ﷺ surpassed you all!" Then three covered vessels were brought to him. A vessel containing water was offered to him, and it was said, "Drink." Then another vessel containing milk was offered to him, and he drank until his thirst was quenched. Then another vessel containing wine was offered to him, and he said, "I have quenched my thirst; I will not taste it." It was said to him, "You have chosen rightly; indeed, it will soon be forbidden to your nation, and had you drunk it, only a few of your nation would have followed you." Then he was ascended to the heavens. Jibrīl sought entry at the lowest heaven, and it was asked, "Who is this?" He said, "Jibrīl." It was asked, "Who is with you?" He said, "Muḥammad ﷺ." They asked, "Has he been sent for?" He said, "Yes." They said, "May Allah greet him as a brother and vicegerent; what an excellent brother, what an excellent vicegerent, and what an excellent arrival!" He entered, and behold, there was an elder of complete, perfect stature, lacking nothing in his creation as human creation lacks. To his right was a gate from which a delightful scent emanated, and to his left was a gate from which a foul odor emanated. When he looked to the gate on his right, he smiled, and when he looked to the gate on his left, he wept in sorrow. The Prophet ﷺ asked, "O Jibrīl, who is this elder, and what are these two gates?" Jibrīl said, "This is your forefather Adam; the gate on his right is the gate of Paradise: when he sees those of his offspring who enter it, he smiles and rejoices; and when he looks to the gate on his left, the gate of Hell: when he sees those of his offspring who enter it, he weeps and grieves." Then he ascended to the second heaven and Jibrīl sought entry. The gatekeeper asked, "Who is this?" He said, "Jibrīl." They asked, "Who is with you?" He said, "Muḥammad, the Messenger of Allah ﷺ." They asked, "Has he been sent for?" He said, "Yes." They said, "May Allah greet him as a brother and vicegerent; what an excellent brother, what an excellent vicegerent, and what an excellent arrival!" He entered, and behold, there were two young men. He asked, "O Jibrīl, who are these two youths?" Jibrīl said, "These are ʿĪsā and Yaḥyā, maternal cousins." Then he ascended to the third heaven and Jibrīl sought entry. They asked, "Who is with you?" He said, "Muḥammad." They asked, "Has he been sent for?" He said, "Yes." They welcomed him, and he entered. Behold, there sat a man endowed with beauty surpassing all people, just as the full moon surpasses all other stars. He asked, "Who is this, O Jibrīl?" Jibrīl said, "This is your brother Yūsuf ﷺ." Then he ascended to the fourth heaven and Jibrīl sought entry. He entered, and behold, there sat a man. The Prophet ﷺ asked, "O Jibrīl, who is this man sitting here?" Jibrīl said, "This is your brother Idrīs, whom Allah raised to a high station." Then he ascended to the fifth heaven and Jibrīl sought entry. He entered, and behold, there sat an elder narrating to the people. He asked, "O Jibrīl, who is this, and who are these surrounding him?" Jibrīl said, "This is Hārūn ﷺ, appointed over his people, and these around him are his people from the Children of Israel." Then he ascended to the sixth heaven and Jibrīl sought entry. He entered, and behold, there sat a man. As the Prophet ﷺ passed beyond him, the man wept. He asked, "O Jibrīl, who is this?" Jibrīl said, "Mūsā ﷺ." The Prophet ﷺ asked, "What makes him weep?" Jibrīl said, "The Children of Israel claim that I was the most favored of creation, yet this one has succeeded me; were he alone it would be one thing, but with him is his entire nation!" Then Jibrīl ascended with us to the seventh heaven and sought entry. He entered, and behold, there sat a gray-haired elder upon a throne near the gate of Paradise. Beside him sat a group of people whose complexions had some blemish. These people rose and entered a river called *Niʿmatullāh* (The Grace of Allah) and washed therein; they emerged with their complexions noticeably cleansed. Then they entered another river called *Raḥmatullāh* (The Mercy of Allah) and washed therein; they emerged with their complexions further cleansed. Then they entered yet another river—fulfilling Allah's word: {And their Lord will give them a pure drink}—and emerged with their complexions completely radiant and pure like those of their companions, and they sat beside them. The Prophet ﷺ asked, "O Jibrīl, who is this gray-haired elder sitting here? And who are these white-faced people? And who are those whose complexions had a blemish, who entered these rivers and bathed, and then emerged with their complexions purified?" Jibrīl said, "This is your forefather Ibrāhīm ﷺ, the first person whose hair grayed on earth. As for those white-faced people, they are a people who did not obscure their faith with wrongdoing. And as for those whose complexions had a blemish, they mixed a righteous deed with another that was evil; they repented, and Allah accepted their repentance." Then he proceeded to the Lote Tree (*al-Sidrah*). It was said to him, "This is the Lote Tree of the Utmost Boundary (*Sidrat al-Muntahā*); at it terminates the soul of every one of your nation who passes upon your path. From its base flow rivers of water incorruptible, rivers of milk whose taste never changes, rivers of wine delicious to those who drink, and rivers of clarified honey. It is a tree in whose shade a rider could travel for seventy years, and a single leaf of it provides shade for creation." A divine light enveloped it and angels enveloped it—which is the meaning of: {When there covered the Lote Tree that which covered it}. Allah, Blessed and Exalted, said to him: "Ask!" The Prophet ﷺ said: "You took Ibrāhīm as an intimate friend and granted him a magnificent dominion; You spoke directly to Mūsā; You granted Dāwūd a magnificent dominion, softened iron for him, and subjugated the mountains for him; You granted Sulaymān a magnificent dominion, subjugating for him jinn, men, devils, and winds, and granting him a kingdom not fitting for anyone after him; You taught ʿĪsā the Torah and the Gospel, caused him to heal the blind and leper, and protected him and his mother from the accursed Satan so that Satan had no way over them." His Lord, Blessed and Exalted, said to him: > **"I have taken you as an intimate friend—and it is written in the Torah: 'Muḥammad is the Beloved of the Most Merciful'—and I have sent you to all mankind entirely. I have made your nation the first and the last; I have ordained that no sermon is valid for them until they bear witness that you are My servant and My Messenger; I have made you the first of the Prophets in creation and the last of them in being sent; I have granted you the Seven Oft-Repeated verses (*al-Sabʿ al-Mathānī*), which I never gave to any Prophet before you; I have granted you the concluding verses of Sūrat al-Baqarah from a treasure beneath the Throne, which I never gave to any Prophet before you; and I have made you an opener and a seal."** The Messenger of Allah ﷺ said: > **"My Lord, Blessed and Exalted, favored me with six honors: He cast dread into the hearts of my enemies from a distance of a month's journey; spoils of war were made lawful for me, whereas they were never made lawful for anyone before me; the earth was made for me a place of prayer and a means of purification; I was granted the openings of concise, comprehensive speech (*jawāmiʿ al-kalim*); my nation was displayed before me, such that neither the follower nor the followed was hidden from me—and I saw them coming upon a people wearing footwear made of hair, and I saw them coming upon a people with broad faces and small eyes, and I recognized who they were; and I was commanded with fifty prayers."** The Prophet ﷺ returned to Mūsā, who asked him, "How many prayers were you commanded with?" He replied, "Fifty prayers." Mūsā said, "Return to your Lord and ask Him for a reduction, for your nation is the weakest of nations, and I have tested the Children of Israel with great severity." So Muḥammad ﷺ returned and asked Allah for a reduction, and He reduced them by ten. He returned to Mūsā, who said, "How many were you commanded with?" He said, "Forty prayers." Mūsā said, "Return to your Lord and ask Him for a reduction for your nation, for your nation is the weakest of nations, and I have experienced severity from the Children of Israel." Muḥammad ﷺ returned and asked Him for a reduction, and He reduced them by ten. He returned to Mūsā, who asked, "How many were you commanded with?" He said, "Thirty." Mūsā said, "Return to your Lord and ask Him for a reduction for your nation, for your nation is the weakest of nations, and I experienced severity from the Children of Israel." Muḥammad ﷺ returned and asked his Lord for a reduction, and He reduced them by ten. He returned to Mūsā, who asked, "How many were you commanded with?" He said, "Twenty." Mūsā said, "Return to your Lord and ask Him for a reduction for your nation, for your nation is the weakest of nations, and I experienced severity from the Children of Israel." Muḥammad ﷺ returned and asked his Lord for a reduction, and He reduced them by ten. He returned to Mūsā, who asked, "How many were you commanded with?" He said, "Ten." Mūsā said, "Return to your Lord and ask Him for a reduction for your nation, for your nation is the weakest of nations, and I experienced severity from the Children of Israel." Muḥammad ﷺ returned and asked his Lord for a reduction, and He reduced them by five. He returned to Mūsā, who asked, "How many were you commanded with?" He said, "Five." Mūsā said, "Return to your Lord and ask Him for a reduction, for your nation is the weakest of nations, and I experienced severity from the Children of Israel." The Prophet ﷺ said: > **"I have returned to my Lord until I feel ashamed before Him, and I will not return to Him again."** Thereupon, it was said to him: > **"Just as you have resigned yourself to five, they shall suffice for you as fifty; every good deed will be rewarded tenfold for you."** The Prophet ﷺ said: > **"Mūsā ﷺ was the strictest of them upon me at first, and the best of them for me in the end."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک گھوڑا لایا گیا ‘ جس کا ہر ایک قدم اتنی دور پڑتا تھا جہاں تک نگاہ جاتی تھی ‘ نبی اکرم ﷺ روانہ ہوئے ‘ حضرت جبرائیل علیہ السلام بھی آپ کے ساتھ روانہ ہوئے ‘ نبی اکرم ﷺ کچھ لوگوں کے پاس تشریف لائے ‘ جو ایک ہی دن میں پیداوار کو بوتے تھے اور ایک ہی دن میں پیداوار کاٹ لیتے تھے ‘ جب وہ اُسے کاٹ لیتے تھے ‘ تو وہ پہلے کی طرح ہو جاتی تھی ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : اے جبرائیل ! یہ کون لوگ ہیں ؟ انہوں نے بتایا : یہ اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے لوگ ہیں ، جن کی ایک نیکی کا بدلہ انہیں سات سو گنا دیا گیا ‘ اور انہوں نے جو کچھ خرچ کیا تھا ‘ اس کی جگہ مزید عطا کیا گیا ‘ پر نبی اکرم ﷺ کچھ اسے لوگوں کے پاس تشریف لائے ‘ جن کے سروں کو پتھر کے ذریعے کچلا جا رہا تھا ‘ جب کبھی ان کے سر کو کچل دیا جاتا ‘ تو وہ پھر پہلے کی طرح ہو جاتا اور اس عمل میں کوئی وقفہ نہیں تھا ‘ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : اے جبرائیل ! یہ کون لوگ ہیں ؟ انہوں نے بتایا : یہ وہ لوگ ہیں ‘ جن کے سر نماز کی ادائیگی سے بوجھل ہوتے تھے ‘ پھر نبی اکرم ﷺ کچھ لوگوں کے پاس تشریف لائے ، جن کی پشت پر پرانا کپڑا تھا اور آگے کی طرف پرانا کپڑا تھا ‘ اور وہ زقوم کے درخت اور جہنم کے انگاروں کی طرف یوں چل کر جاتے تھے ‘ جس طرح جانور چارے کی طرف چل کر جاتے ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : اے جبرائیل ! یہ کون لوگ ہیں ؟ انہوں نے بتایا : یہ وہ لوگ ہیں ، جو اپنے اموال کی زکوۃ ادا نہیں کرتے تھے ‘ اللہ تعالیٰ نے اُن پر ظلم نہیں کیا ، اور اللہ تعالیٰ بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں ہے ۔ پھر نبی اکرم ﷺ کچھ ایسے لوگوں کے پاس تشریف لائے ، جن کے سامنے ہنڈیا میں پکا ہوا پاکیزہ گوشت موجود تھا اور اس کے ساتھ کچا گوشت بھی موجود تھا ، تو وہ لوگ کچا گوشت کھا رہے تھے اور پاکیزہ پکا ہوا گوشت چھوڑ رہے تھے ‘ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : اے جبرائیل ! یہ کون لوگ ہیں ؟ اُنہوں نے بتایا : آپ کی اُمت کا ایک فرد جس کی بیوی موجود تھی ، جس کے ساتھ قربت اُس کے لئے حلال تھی ، لیکن پھر بھی وہ خبیث عورت کے پاس چلا جاتا اور اس کے ساتھ رات گزارتا تھا ‘ یہاں تک کہ صبح ہو جاتی ، اسی طرح ایک عورت جس کا شوہر موجود تھا ، جس کے ساتھ قربت ( اس کے لیے ) حلال اور پاکیزہ تھی وہ اسے چھوڑ کر چلی جاتی تھی اور خبیث شخص کے پاس چلی جاتی تھی ‘ اور اس کے پاس گزارتی یہاں تک کہ صبح ہو جاتی ، پھر نبی اکرم ﷺ ایک شخص کے پاس تشریف لائے ، جس نے بڑا سا گٹھا اکٹھا کیا ہوا تھا ، لیکن وہ اُس کو اُٹھانے کی استطاعت نہیں رکھتا تھا اور وہ اُس گٹھے میں اضافہ بھی کرنا چاہتا تھا ‘ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : اے جبرائیل ! یہ کون ہے ؟ انہوں نے بتایا : یہ آپ کی امت کا وہ فرد ہے ‘ جس کے ذمہ لوگوں کی امانت تھی ‘ یہ انہیں ادا کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا تھا ، لیکن مزید امانتیں لینا چاہتا تھا ۔ پھر نبی اکرم ﷺ کچھ ایسے لوگوں کے پاس تشریف لائے ، جن کے ہونٹ اور زبانیں لوہے کی قینچیوں کے ذریعے کاٹے جا رہے تھے ‘ جب انہیں کاٹ لیا جاتا ‘ تو وہ پہلے کی طرح ہو جاتے اور اس عمل میں کوئی وقفہ نہں تھا ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : اسے جبرائیل ! یہ کون لوگ ہیں ؟ تو انہوں نے بتایا یہ فتنہ پیدا کرنے والے خطیب ہیں ‘ پھر نبی اکرم ﷺ ایک چھوٹے سے بل کے پاس تشریف لائے ‘ جس میں سے ایک بڑا سا بیل نکلا ‘ پھر وہ بیل اس بل میں داخل ہونا چاہتا تھا ، جہاں سے وہ نکلا تھا ‘ لیکن وہ ایسا نہیں کر پا رہا تھا ‘ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : اے جبرائیل ! یہ کون ہے ؟ انہوں نے بتایا : یہ وہ شخص ہے ‘ جو ایک بڑی ( یعنی گناہ کی یا ممنوعہ ) بات کہتا تھا ‘ اور پھر اس پر ندامت کا شکار ہوتا تھا ‘ وہ اس کو واپس لینا چاہتا تھا ‘ لیکن واپس نہیں لے سکتا تھا ۔ پھر نبی اکرم ﷺ ایک وادی کے پاس تشریف لائے وہاں آپ ﷺ کو پاکیزہ خوشبو محسوس ہوئی ‘ وہاں آپ ﷺ کو مشک کی خوشبو کے ہمراہ آواز محسوس ہوئی ‘ تو آپ ﷺ نے دریافت کیا : یہ کیا ہے ؟ حضرت جبرائیل نے بتایا : یہ جنت کی آواز ہے ‘ جو یہ کہہ رہی ہے : اے میرے پروردگار ! میرے پاس میرے اہل افراد کو لے آ ! اور وہ چیز لے آ ! جس کا تو نے مجھ سے وعدہ کیا ہے ‘ کیونکہ میرے درخت ‘ میرا ریشم ‘ میرا سندس ‘ میرا استبرق ‘ میرا عبقری ‘ میرا مرجان ‘ میرا قصب ، میرا سونا میرے کوزے ‘ میرے پیالے ‘ میرے ابریق ، میرے پھل ‘ میرا شہد ‘ میرے کپڑے ‘ میرا دودھ ‘ میرا مشروب زیادہ ہو گئے ہیں ‘ تو میرے پاس وہ چیز لے آ ! جس کا تو نے میرے ساتھ وعدہ کیا ہے ‘ تو پروردگار فرماتا ہے : تمہیں ہر مسلمان مرد اور مسلمان عورت ‘ مومن مرد اور مؤمن عورت ملتے ہیں ‘ وہ لوگ جو مجھ پر اور میرے رسولوں پر ایمان لائے ‘ اور انہوں نے نیک عمل کیے ‘ انہوں نے کسی کو میرا شریک قرار نہیں دیا ‘ اور میرے علاوہ ‘ کسی کو معبود نہیں بنایا ‘ تو ایسا شخص امن والا ہو گا ‘ جو شخص مجھ سے مانگے گا ‘ میں اُسے عطا کروں گا ‘ جو مجھے قرض دے گا ‘ میں اُسے جزا دوں گا ‘ جو شخص مجھ پر توکل کرے گا ‘ میں اُس کی کفایت کروں گا ‘ بیشک میں اللہ ہوں ‘ میرے علاوہ ‘ اور کوئی معبود نہیں ہے ‘ اور میرے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کی جاتی ، تحقیق ایمان والے کامیاب ہو گئے ‘ اور اللہ تعالیٰ کی ذات برکت والی ہے ‘ جو سب سے عمدہ خالق ہے ‘ تو جنت نے کہا : میں راضی ہو گئی ہوں ۔ پھر نبی اکرم ﷺ کا گزر ‘ ایک وادی کے پاس سے ہوا ‘ جہاں سے آپ کو ناگوار آواز سنائی دی ‘ آپ نے فرمایا : اے جبرائیل یہ کس چیز کی آواز ہے ؟ انہوں نے بتایا : یہ جہنم کی آواز ہے ‘ جو یہ کہہ رہی ہے : اے میرے پروردگار ! تو میرے پاس میرے اہل افراد اور ان کو لے آ ! جن کا تو نے میرے ساتھ وعدہ کیا ہے ‘ کیونکہ میری زنجیریں ‘ میری بیڑیاں ‘ میرا بھڑکنا ‘ میرا گرم پانی ‘ میرا کھولتا ہوا پانی ‘ میرا غسلین زیادہ ہو گئے ہیں ‘ میرا گڑھا گہرا ہو گیا ہے ‘ میری تپش شدید ہو گئی ہے ‘ تو میرے پاس وہ چیز آ گئی ہے ! جس کا تو نے مجھ سے وعدہ کیا ہے ‘ تو پروردگار نے فرمایا : ہر مشرک مرد اور مشرک عورت ‘ خبیث مرد اور خبیث عورت تمہیں ملیں گے ‘ اور ہر ایسا سرکش بھی ملے گا ‘ جو یوم حساب پر ایمان نہ رکھتا ہو ‘ تو جہنم نے کہا : میں راضی ہو گئی ہوں ۔ پھر نبی اکرم ﷺ روانہ ہوئے ‘ یہاں تک کہ آپ بیت المقدس تشریف لائے ‘ وہاں آپ ﷺ سواری سے اترے ‘ آپ ﷺ نے اپنے گھوڑے کو ایک پتھر کے ساتھ باندھ دیا اور فرشتوں کے ہمراہ نماز ادا کی ‘ جب نماز مکمل ہو گئی ، تو ان حضرات نے دریافت کیا : اے جبرائیل ! آپ کے ساتھ کون ہیں ؟ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے بتایا : یہ حضرت محمد ﷺ ہیں ، جو اللہ کے رسول ہیں ‘ اور انبیاء کے سلسلے کو ختم کرنے والے ہیں انہوں نے دریافت کیا : کیا انہیں بلایا گیا ہے ؟ حضرت جبرائیل علیہ السلام علیہ نے جواب دیا : جی ہاں ! تو اُنہوں نے کہا : اللہ تعالیٰ انہیں بھائی اور خلیفہ کی طرف سے تحیت بھیجے ‘ اچھے بھائی اور اچھے خلیفہ ہیں ‘‘۔ پھر آپ ﷺ کی ملاقات ‘ انبیاء کی ارواح سے ہوئی ‘ تو انبیاء کرام نے اپنے پروردگار کی تعریف بیان کی ‘ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کہا : ہر طرح کی حمد ‘ اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے ‘ جس نے مجھے خلیل بنایا ‘ اور اس نے مجھے عظیم بادشاہی عطا کی ‘ اُس نے مجھے فرمانبردار امت ( یعنی بندہ ) بنایا ‘ اور مجھے رسالت کے لیے منتخب کیا ‘ اور اُس نے مجھے آگ سے بچا لیا ‘ اور اُس نے آگ کو میرے لئے ٹھنڈک اور سلامتی والی بنا دیا ، پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنے پروردگار کی حمد و ثنا بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا : ہر طرح کی حمد ‘ اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے ‘ جس نے میرے ساتھ کام کیا ‘ اُس نے مجھے منتخب کیا ‘ اس نے مجھ پر تورات نازل کی ‘ اُس نے میرے ذریعے فرعون کو بلاکت کا شکار کیا ‘ اور میرے ذریعے بنی اسرائیل کو نجات عطا کی ‘ پھر حضرت داؤد علیہ السلام نے اپنے پروردگار کی تعریف کرتے ہوئے یہ کہا : ہر طرح کی حمد ‘ اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے ‘ جس نے مجھے بادشاہی نصیب کی ‘ اس نے مجھ پر زبور نازل کی ‘ اُس نے میرے لیے لوہے کو نرم کر دیا ‘ اور میرے لیے پہاڑوں کو مسخر کر دیا ‘ وہ میرے ساتھ تسبیح پڑھتے تھے اور پرندے بھی ( میرے ساتھ تسبیح پڑھتے تھے ) اُس نے مجھے حکمت اور فیصلہ کرنے کی صلاحیت عطا کی ، پھر حضرت سلیمان علیہ السلام نے اپنے پروردگار کی تعریف کرتے ہوئے یہ کہا : ہر طرح کی حمد ‘ اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے ‘ جس نے میرے لیے ہواؤں ‘ جنات اور انسانوں کو مسخر کیا اس نے میرے لیے شیاطین کو مسخر کیا ‘ وہ میرے لئے وہ کام کرتے تھے ‘ جو میں چاہتا تھا ، جس کا تعلق بلند و بالا قلعوں ، مجسموں ‘ بڑے برتنوں جو تالاب کی طرح کے ہوتے تھے اور جمی ہوئی دیگوں کو بنانے کے حوالے سے تھا ۔ اُس نے مجھے پرندوں کی بولی کا علم عطا کیا ‘ اور اُس نے میرے لیے سیسہ کا چشمہ بہا دیا ‘ اس نے مجھے ایسی بادشاہی عطا کی ‘ جو میرے بعد کسی اور کو نصیب نہیں ہو گی ، پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنے پروردگار کی تعریف بیان کی اور یہ کہا : ہر طرح کی حمد ‘ اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے ، جس نے مجھے تورات اور انجیل کا علم عطا کیا ‘ اُس نے مجھے ایسا بنایا کہ میں پیدائشی اندھوں اور برص کے مریضوں کو ٹھیک کر دیتا تھا ‘ اور میں اُس کے اذن کے تحت مردوں کو زندہ کر دیتا تھا ‘ اُس نے مجھے بلندی عطا کی ‘ اور کفر کرنے والوں سے مجھے پاک کر دیا ‘ اُس نے مجھے اور میری والدہ کو مردود شیطان سے محفوظ رکھا ‘ کہ شیطان کا ہم پر کوئی بس نہیں چلتا تھا ، پھر حضرت محمد ﷺ نے اپنے پروردگار کی تعریف بیان کی اور یہ کہا : آپ سب نے ‘ اپنے پروردگار کی تعریف بیان کی ہے ‘ میں بھی اپنے پروردگار کی تعریف بیان کرتا ہوں ‘ ہر طرح کی حمد ‘ اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے ‘ جس نے مجھے تمام جہانوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا ہے ‘ اور تمام بنی نوع انسان کے لئے ‘ خوشخبری سنانے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے ‘ اُس نے مجھ پر ’’ فرقان ‘‘ ( یعنی قرآن مجید ) نازل کیا ‘ جس میں ہر چیز کا واضح بیان ہے ‘ اُس نے میری اُمت کو سب سے بہتر اُمت بنایا ہے ‘ جسے لوگوں کے لیے لایا گیا ‘ اُس نے میری امت کو درمیانی بنایا ہے ‘ اس نے میری امت کو ایسا بنایا ہے کہ وہ پہلے والے بھی ہیں اور آخر والے بھی ہیں ‘ اس نے میرے سینے کو کشادہ کیا ‘ میرے بوجھ کو ختم کر دیا ‘ میرے لیے میرے ذکر کو بلند کیا ‘ مجھے کھولنے والا اور ختم کرنے والا بنایا ‘ تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کہا : اس حوالے سے حضرت محمد ﷺ آپ سب حضرات ( یعنی انبیاء کرام علیہم السلام ) پر فضیلت رکھتے ہیں ۔ ( نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں : ) پھر میرے پاس تین برتن لائے گئے ‘ جو ڈھانپے ہوئے تھے ‘ اُن میں سے ایک برتن نبی اکرم ﷺ کی طرف بڑھایا گیا ‘ اُس میں پانی موجود تھا ‘ آپ سے کہا گیا : آپ اسے پی لیں ! پھر ایک اور برتن آپ کی طرف بڑھایا گیا ‘ اُس میں دودھ موجود تھا ‘ آپ نے اُسے پی لیا یہاں تک کہ آپ ﷺ سیر ہو گئے ، پھر ایک اور برتن آپ ﷺ کی طرف بڑھایا گیا ، اُس میں شراب موجود تھی ‘ تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : میں سیر ہو چکا ہوں ‘ میں اسے نہیں چکھوں گا ‘ تو آپ سے کہا گیا : آپ نے ٹھیک کیا ہے ‘ یہ ( شراب ) عنقریب آپ کی امت پر حرام کر دی جائے گی ‘ اگر آپ اس کو پی لیتے ، تو آپ کی امت میں سے تھوڑے سے افراد نے ہی آپ کی پیروی کرنی تھی ۔ نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں : ) پھر وہ مجھے ساتھ لے کر آسمان کی طرف بڑھے ‘ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے دروازہ کھولنے کے لیے کہا ‘ تو پوچھا گیا : کون ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : جبرائیل ! پوچھا گیا : آپ کے ساتھ کون ہیں ؟ انہوں نے جواب دیا : حضرت محمد ( ﷺ ) ان ( فرشتوں ) نے پوچھا : کیا انہیں بلوایا گیا ہے ؟ حضرت جبرائیل علیہ السلام السلام نے جواب دیا : جی ہاں ! ان ( فرشتوں ) نے کہا اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھائی اور خلیفہ کی طرف سے تحیت ہو ‘ وہ اچھے خلیفہ ہیں اور اچھے مہمان ہیں ، جو تشریف لائے ہیں ‘ نبی اکرم ﷺ داخل ہوئے ‘ تو وہاں ایک بزرگ تشریف فرما تھے ‘ جن کی تخلیق مکمل تھی ان میں ایسی کوئی کمی نہیں تھی ، جس طرح کی کوئی کمی ‘ کسی بشر کی تخلیق میں ہوتی ہے ‘ اُن کے دائیں طرف ایک دروازہ موجود تھا ، جس میں سے پاکیزہ خوشبو آ رہی تھی ‘ اور ان کے بائیں طرف بھی ایک دروازہ موجود تھا ، جس میں سے بدبو آ رہی تھی ‘ جب وہ دائیں طرف والے دروازے کو دیکھتے تھے ‘ تو ہنسنے لگتے تھے اور جب وہ بائیں طرف موجود دروازے کو دیکھتے تھے ‘ تو رونے لگ جاتے تھے اور غمگین ہو جاتے تھے ‘ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : اے جبرائیل ! یہ بزرگ کون ہیں ؟ اور یہ دو دروازے کیا ہیں ؟ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے جواب دیا : یہ آپ کے جد امجد حضرت آدم علیہ السلام ہیں ‘ اور وہ دروازہ ‘ جو ان کے دائیں طرف موجود ہے ‘ یہ جنت کا دروازہ ہے ‘ جب یہ دیکھتے ہیں کہ ان کی اولاد میں سے کوئی اس میں داخل ہو رہا ہے ‘ تو یہ ہنس پڑتے ہیں اور خوش خبری حاصل کرتے ہیں ‘ اور جب یہ اپنے بائیں طرف موجود جہنم کے دروازے کو دیکھتے ہیں کہ ان کی اولاد میں سے کوئی اس میں داخل ہو رہا ہے ‘ تو رو پڑتے ہیں اور غمگین ہو جاتے ہیں ۔ پھر وہ دوسرے آسمان کی طرف چلے گئے اور انہوں نے دروازہ کھولنے کے لیے کہا : دربان نے پوچھا : کون ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : جبرائیل ! دربان نے دریافت کیا : آپ کے ساتھ کون ہیں ؟ انہوں نے جواب دیا : حضرت محمد ( ﷺ ) جو اللہ کے رسول ہیں ( دربان فرشتوں ) نے دریافت کیا : کیا انہیں بلایا گیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ! تو ان فرشتوں نے کہا : یہ اچھے بھائی اور اچھے خلیفہ ہیں ‘ اور اچھے مہمان ہیں جو تشریف لائے ہیں ‘ وہاں دو نوجوان افراد موجود تھے ‘ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : اے جبرائیل ! یہ دو نوجوان افراد کون ہیں ؟ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے بتایا : یہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت یحیی علیہ السلام ہیں ، جو دونوں خالہ زاد بھائی ہیں ، پھر وہ تیسرے آسمان کی طرف گئے ‘ انہوں نے دروازہ کھولنے کے لیے کہا : تو دربان فرشتوں نے دریافت کیا : آپ کے ساتھ کون ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : حضرت محمد ( ﷺ ) دربان فرشتوں نے پوچھا : کیا انہیں بلایا گیا ہے ؟ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے جواب دیا : جی ہاں ! تو فرشتوں نے کہا : بھائی اور خلیفہ کی طرف سے اللہ تعالیٰ ان پر تحیت بھیجے ‘ یہ اچھے بھائی اور اچھے خلیفہ ہیں اور تشریف لانے والے اچھے فرد ہیں ‘ آپ اندر ( یعنی آسمان پر ) تشریف لائے ‘ تو وہاں ایک صاحب بیٹھے ہوئے تھے ، جنہیں خوبصورتی کے حوالے سے ‘ دیگر تمام لوگوں پر وہی فضیلت حاصل تھی ‘ جو چودھویں کے چاند کو تمام ستاروں پر حاصل ہوتی ہے ‘ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : اے جبرائیل ! یہ کون ہے ؟ انہوں نے بتایا : یہ آپ کے بھائی حضرت یوسف علیہ السلام ہیں ۔ پھر وہ چوتھے آسمان کی طرف چڑھے ‘ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے دروازہ کھولنے کے لیے کہا : تو دربان فرشتوں نے دریافت کیا : آپ کے ساتھ کون ہے ؟ انہوں نے بتایا حضرت محمد ( ﷺ ) ہیں ‘ فرشتوں نے دریافت کیا : کیا انہیں بلایا گیا ہے ؟ حضرت جبرائیل علیہ اسلام نے جواب دیا : جی ہاں ! تو فرشتوں نے کہا : بھائی اور خلیفہ کی طرف سے اللہ تعالیٰ ان پر تحیت بھیجے ۔ یہ تشریف لانے والے عمدہ فرد ہیں ‘ نبی اکرم ﷺ وہاں داخل ہوئے ‘ تو وہاں ایک صاحب موجود تھے ‘ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : اے جبرائیل ! یہ بیٹھے ہوئے صاحب کون ہیں ؟ حضرت جبرائیل نے بتایا : یہ آپ کے بھائی حضرت ادریس علیہ السلام ہیں ‘ اللہ تعال نے انہیں بلند جگہ کی طرف اٹھا لیا تھا ‘ پھر حضرت جبرائیل علیہ السلام نبی اکرم ﷺ کو ساتھ لے کر پانچویں آسمان کی طرف بڑھے ‘ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے دروازہ کھولنے کے لیے کہا ، تو دربان فرشتوں نے دریافت کیا : آپ کے ساتھ کون ہیں ؟ انہوں نے بتایا : حضرت محمد ( ﷺ ) ہیں ‘ فرشتوں نے دریافت کیا : کیا انہیں بلایا گیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ! تو فرشتوں نے کہا : اللہ تعالیٰ ان پر بھائی اور خلیفہ کی طرف سے تحیت بھیجے ‘ یہ اچھے بھائی اچھے خلیفہ ہیں اور اچھے آنے والے فرد ہیں ‘ نبی اکرم ﷺ وہاں داخل ہوئے ‘ تو وہاں ایک صاحب موجود تھے ‘ جو بیٹھے ہوئے تھے اور لوگوں کے سامنے کچھ بیان کر رہے تھے ‘ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : اے جبرائیل ! یہ کون ہیں ؟ اور جو لوگ ان کے اردگرد موجود ہیں ‘ یہ کون ہیں ؟ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے بتایا ‘ یہ حضرت ہارون علیہ السلام ہیں ، جنہیں ان کی قوم میں نائب مقرر کیا گیا تھا ‘ اور ان کے اردگرد موجود افراد ‘ ان کی قوم کے لوگ ‘ یعنی بنی اسرائیل ہیں ۔ پھر حضرت جبرائیل علیہ السلام نبی اکرم ﷺ کو ساتھ لے کر ‘ چھٹے آسمان کی طرف بلند ہوئے ، حضرت جبرائیل علیہ السلام نے دروازہ کھولنے کے لیے کہا تو انہوں نے دریافت کیا : آپ کے ساتھ کون ہیں ؟ انہوں نے بتایا : حضرت محمد ( ﷺ ) ہیں ‘ فرشتوں نے دریافت کیا : کیا انہیں بلایا گیا ہے ؟ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے جواب دیا : جی ہاں ! ان فرشتوں نے کہا : اللہ تعالیٰ بھائی اور خلیفہ کی طرف سے ان پر تحیت بھیجے ‘ یہ اچھے بھائی اور اچھے خلیفہ ہیں اور آنے والے اچھے فرد ہیں ‘ وہاں ایک صاحب بیٹھے ہوئے تھے ‘ نبی اکرم ﷺ اُن کے پاس سے گزر کر آگے گئے ‘ تو وہ صاحب رونے لگے ‘ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : اے جبرائیل یہ کون ہیں ؟ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے بتایا : یہ حضرت موسیٰ علیہ السلام ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : یہ کیوں رو رہے ہیں ؟ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا : بنی اسرائیل یہ سمجھتے ہیں کہ میں مخلوق میں سب سے زیادہ فضیلت رکھتا ہوں ‘ لیکن یہ ( یعنی نبی اکرم ) مجھے پیچھے چھوڑ رہے ہیں ‘ کاش کہ یہ تہنا ہوتے ‘ لیکن ان کے ساتھ ‘ تو ان کی پوری امت ہے ، پھر حضرت جبرائیل علیہ السلام ہمیں ساتھ لے کر ساتویں آسمان کی طرف گئے ‘ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے دروازہ کھولنے کے لیے کہا ‘ تو دربان فرشتوں نے دریافت کیا : آپ کے ساتھ کون ہیں ؟ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے جواب دیا : حضرت محمد ( ﷺ ) ہیں ‘ انہوں نے دریافت کیا : کیا انہیں بلایا گیا ہے ؟ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے جواب دیا : جی ہاں ! تو فرشتوں نے کہا : اللہ تعالیٰ بھائی اور خلیفہ کی طرف سے ان پر تحیت بھیجے یہ عمدہ بھائی اور عمدہ خلیفہ ہیں ‘ اور آنے والے عمدہ فرد ہیں ‘ وہاں ایک صاحب موجود تھے ‘ جن کے بالوں میں سفیدی تھی وہ جنت کے دروازے کے پاس ‘ ایک کرسی پر بیٹھے ہوئے تھے ‘ ان کے پاس کچھ لوگ بیٹھے ہوئے تھے ‘ جن کی رنگت میں کچھ خرابی تھی ( یہاں عیسیٰ یعنی ابوجعفر رازی نامی راوی نے بعض اوقات یہ الفاظ نقل کئے ہیں : اُن کے چیرے سیاہ تھے ) پھر وہ لوگ اٹھے جن کی رنگت میں کچھ خرابی تھی اور وہ لوگ ایک نہر میں داخل ہوئے ‘ جس کا نام ’’ نعمۃ اللہ ‘‘ تھا ‘ انہوں نے اس نہر میں غسل کیا ‘ جب وہ اس میں سے باہر آئے ‘ تو ان کی رنگت کچھ بہتر ہو چکی تھی ، پھر وہ لوگ ایک اور نہر میں داخل ہوئے ‘ جس کا نام ’’ رحمۃ اللہ ‘‘ تھا ‘ انہوں نے اس میں غسل کیا ‘ جب وہ اس میں سے باہر آئے ‘ تو ان کی رنگت کچھ بہتر ہو چکی تھی ‘ پھر وہ لوگ ایک اور نہر میں داخل ہوئے ‘ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے یہی مراد ہے :’’ اور ان کا پروردگار انہیں پاکیزہ مشروب پلائے گا ‘‘ جب وہ لوگ اس میں سے باہر آئے ‘ تو ان کے ساتھیوں کی رنگت کی طرح ‘ اُن لوگوں کی رنگت بھی ( صاف شفاف ) ہو چکی تھی ‘ وہ لوگ اپنے ساتھیوں کے پاس جا کر بیٹھ گئے ۔ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : اے جبرائیل ! یہ بیٹھے ہوئے صاحب کون ہیں ؟ اور یہ سفید رنگت والے افراد کون ہیں ؟ اور یہ لوگ کون ہیں ؟ ان کی رنگت میں کچھ خرابی تھی ‘ جو لوگ ان نہروں میں داخل ہوئے اور انہوں نے ان ( نہروں ) میں غسل کیا ، پھر جب وہ لوگ باہر آئے ‘ تو ان کی رنگت ٹھیک ہو چکی تھی ، تو حضرت جبرائیل علیہ السلام نے بتایا : یہ آپ کے جد امجد حضرت ابراہیم علیہ السلام ہیں ‘ روئے زمین پر یہ وہ پہلے فرد ہیں ، جن کے بالوں میں سفیدی آئی تھی ‘ اور یہ لوگ جن کے چہرے سفید تھے ‘ یہ وہ لوگ ہیں ‘ جنہوں نے اپنے ایمان کے ساتھ ‘ کسی ظلم کو نہیں ملایا ‘ اور وہ لوگ جن کی رنگت میں کچھ خرابی تھی ، یہ وہ لوگ ہیں ، جنہوں نے نیک اعمال اور برائیوں کو ملا دیا تھا ، پھر انہوں نے توبہ کی ‘ تو اللہ تعالیٰ نے اُن کی توبہ قبول کر لی ‘ پھر نبی اکرم ﷺ سدرہ ( یعنی سدرة المنتہی کے پاس تشریف لے گئے ‘ آپ کو بتایا گیا : یہ سدرۃ المنتہی ہے ‘ آپ کی امت کا ہر فرد جو آپ کے راستے پر چلے گا ‘ یہ سدرۃ المنتہی ہے ‘ جس کی جڑ میں سے نہریں نکلتی ہیں ‘ وہ ایک ایسا درخت ہے ‘ جس کے سائے میں سوار شخص ‘ ستر سال تک چلتا رہے ‘ اور اس کا ایک پتہ بہت سے لوگوں کو سایہ فراہم کر دے ‘ اُس ( درخت کو ) نور نے ڈھانپا ہوا تھا ‘ اور فرشتوں نے اُسے ڈھانپا ہوا تھا ‘ ( یہاں عیسیٰ نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے یہی مراد ہے :’’ جب سدرہ کو اس چیز نے ڈھانپ لیا ‘ جس نے اُس کو ڈھانپا ‘‘۔ اس وقت ‘ اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم ﷺ سے فرمایا : تم مانگو ! تو نبی اکرم ﷺ نے عرض کی : بے شک تو نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو خلیل بنایا اور انہیں عظیم بادشاہی عطا کی ‘ اور تو نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ کلام کیا ‘ اور تو نے حضرت دائود علیہ السلام کو عظیم بادشاہی عطا کی ‘ اور تو نے اُن کے لیے لوہے کو نرم کر دیا اور اُن کے لیے ‘ ایک تو نے پہاڑوں کو مسخر کر دیا ‘ تو نے حضرت سلیمان علیہ السلام کو عظیم بادشاہی عطا کی ‘ تو نے اُن کے لیے جنات ‘ انسانوں ، شیاطین اور ہواؤں کو مسخر کر دیا ‘ تو نے انہیں ایسی بادشاہی عطا کی ‘ جو ان کے بعد کسی کو نصیب نہیں ہو گی ، تو نے حضرت عیسیٰ کو تورات اور انجیل کی تعلیم دی ‘ اور انہیں ایسا بنایا کہ وہ پیدائشی اندھے اور برص کے مریض کو ٹھیک کر دیا کرتے تھے ‘ تو نے انہیں اور ان کی والدہ کو ‘ مردود شیطان سے محفوظ رکھا ‘ شیطان کو ان دونوں پر کوئی قابو نہیں تھا ‘ تو پروردگار نے نبی اکرم ﷺ سے فرمایا : ’’ میں نے تمہیں بھی خلیل بنا لیا ہے اور یہ بات تورات میں لکھی ہوئی ہے ‘ حضرت محمد ﷺ رحمان کے حبیب ہیں ‘ میں نے تمہیں تمام بنی نوع انسان کی طرف بھیجا ‘ اور تمہاری امت کو ایسا بنایا کہ وہی پہلے والے ہیں اور وہی بعد والے ہیں ‘ اور میں نے تمہاری امت کو ایسا بنایا ہے کہ اُن کے لئے خطبہ دینا اس وقت تک درست نہیں ہو گا ‘ جب تک وہ اس بات کی گواہی نہیں دیتے کہ تم میرے خاص بندے اور میرے رسول ہو ‘ میں نے تخلیق کے اعتبار سے تمہیں تمام انبیاء میں اول بنایا اور بعثت کے حوالے سے آخری بنایا ہے ‘ میں نے تمہیں ’’ سبع مثانی ‘‘ عطا کی ہیں ، جو میں نے تم سے پہلے کسی نبی کو عطا نہیں کی ہیں ‘ میں نے تمہیں عرش کے نیچے موجود خزانے سے سورہ بقرہ کی آخری آیات عطا کی ہیں ‘ جو میں نے تم سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی ہیں ‘ میں نے تمہیں کھولنے والا اور ختم کرنے والا بنایا ہے ‘‘۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : میرے پروردگار نے مجھے چھ حوالے سے فضیلت عطا کی ہے ‘ اُس نے ایک ماہ تک کے فاصلے سے ‘ میرا رعب میرے دشمن کے دل میں ڈال دیا ہے ‘ میرے لیے مال غنیمت کو حلال قرار دیا گیا ہے ‘ یہ مجھ سے پہلے کسی کے لئے حلال نہیں ہوا ‘ میرے لئے تمام روئے زمین کو جائے نماز اور طہارت کے حصول کا ذریعہ بنایا گیا ہے ‘ مجھے ابتدائی اور جامع کلمات عطا کئے گئے ہیں ، میری امت کو میرے سامنے پیش کیا گیا ‘ تو ان میں سے کوئی بھی مجھ سے مخفی نہ رہا ‘ نہ پیروی کرنے والا ‘ اور نہ ہی وہ شخص جس کی پیروی کی جاتی ہے ‘ میں نے انہیں دیکھا کہ وہ لوگ ( یعنی میری امت کے افراد ) ایسے لوگوں کے پاس پانچ جائیں گے ‘ جو بالوں سے بنا ہوا جوتا پہنتے ہوں گے ‘ اور میں نے یہ بھی دیکھا کہ وہ لوگ ایسی قوم تک پہنچیں گے ، جن کے چہرے بڑے ہوں گے اور آنکھیں چھوٹی ہوں گی ‘ تو میں نے پہچان لیا کہ انہیں کیا صورتحال پیش آئے گی ؟ مجھے پچاس نمازوں کا حکم دیا گیا ۔ ( راوی بیان کرتے ہیں : ) نبی اکرم ﷺ کا واپسی پر حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس سے گزر ہوا ‘ تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے نبی اکرم ﷺ سے دریافت کیا : آپ کو کتنی نمازوں کا حکم ملا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے بتایا : پچاس نمازوں کا ‘ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا : آپ اپنے پروردگار کے پاس واپس جائیں ‘ اور اس سے تخفیف مانگیں ! کیونکہ آپ کی امت سب سے زیادہ کمزور امت ہے اور مجھے بنی اسرائیل کی طرف سے شدت کا سامنا ہو چکا ہے ‘ تو حضرت محمد ﷺ واپس تشریف لے گئے ‘ اور اُنہوں نے اللہ تعالیٰ سے تخفیف کا سوال کیا ‘ تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو دس نمازیں معاف کر دیں ، پھر واپسی پر نبی اکرم ﷺ ، حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس سے گزرے ‘ تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے آپ سے دریافت کیا : آپ کو کتنی ( نمازوں ) کا حکم دیا گیا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : چالیس نمازوں کا ‘ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا : آپ اپنے پروردگار کے پاس واپس جائیں ‘ اور اُس سے اپنی امت کے لئے تخفیف مانگیں ، کیونکہ آپ کی اُمت سب سے زیادہ کمزور امت ہے ‘ اور میں بنی اسرائیل کی طرف سے شدت کا سامنا کر چکا ہوں ‘ نبی اکرم ﷺ واپس گئے اور اللہ تعالیٰ سے تخفیف کا سوال کیا ‘ تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو دس نمازیں مزید معاف کر دیں ‘ جب نبی اکرم ﷺ واپس حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس سے گزرے ‘ تو انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے دریافت کیا : آپ کو کتنی نمازوں کا حکم دیا گیا ہے ؟ تو نبی اکرم ﷺ نے جواب دیا : تیس کا ‘ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا : آپ اپنے پروردگار کی طرف واپس جائیں اور اس سے اپنی امت کے لئے تخفیف مانگیں ، کیونکہ آپ کی امت سب سے زیادہ کمزور امت ہے اور میں بنی اسرائیل کی طرف سے شدت کا سامنا کر چکا ہوں ‘ تو نبی اکرم ﷺ واپس تشریف لے گئے ‘ آپ نے اللہ تعالیٰ سے تخفیف کی دعا کی ‘ تو اللہ تعالیٰ نے دس نمازیں مزید معاف کر دیں ‘ جب نبی اکرم ﷺ واپس حضرت موسیٰ علیہ اسلام کے پاس آئے ‘ تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے آپ سے دریافت کیا : آپ کو کتنی ( نمازوں ) کا حکم دیا گیا ہے ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : بیس کا ‘ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا : آپ اپنے پروردگار کے پاس واپس جائیں اور اس سے اپنی امت کے لیے تخفیف مانگیں ‘ کیونکہ آپ کی امت سب سے زیادہ کمزور ہے ‘ اور میں بنی اسرائیل کی طرف سے شدت کا سامنا کر چکا ہوں ‘ نبی اکرم ﷺ واپس تشریف لے گئے ‘ آپ نے اپنے پروردگار سے تخفیف مانگی ‘ تو پروردگار نے دس نمازیں مزید معاف کر دیں ‘ جب آپ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس واپس آئے ‘ تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے آپ سے دریافت کیا : آپ کو کتنی ( نمازوں ) کا حکم دیا گیا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے جواب دیا : دس کا ‘ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا : آپ اپنے پروردگار کے پاس واپس جائیں اور اس سے اپنی امت کے لیے تخفیف مانگیں ، کیونکہ آپ کی امت سب سے زیادہ کمزور امت ہے اور میں بنی اسرائیل کی طرف سے شدت کا سامنا کر چکا ہوں ‘ حضرت محمد ﷺ واپس تشریف لے گئے ‘ اور اپنے پروردگار سے تخفیف مانگی ‘ تو اللہ تعالی نے مزید پانچ نمازیں معاف کر دیں ۔ جب آپ ﷺ واپس ‘ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس آئے ‘ تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے آپ ﷺ سے دریافت کیا : آپ کو کتنی ( نمازوں ) کا حکم دیا گیا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے جواب دیا : پانچ کا ‘ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا : آپ اپنے پروردگار کے پاس واپس جائیں اور اسے تخفیف کے لیے کہیں ! کیونکہ آپ کی امت سب سے زیادہ کمزور امت ہے ‘ اور میں بنی اسرائیل کی طرف سے سختی کا سامنا کر چکا ہوں ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میں اتنی مرتبہ اپنے پروردگار کے پاس جا چکا ہوں کہ اب مجھے اس سے حیا آتی ہے ‘ اب میں اس کی طرف نہیں جاؤں گا ‘ تو آپ ﷺ سے کہا گیا : اگر آپ پانچ نمازیں باقاعدگی سے ادا کر یں گے ‘ تو یہ آپ کی طرف سے پچاس نمازوں کی ادائیگی شمار ہو گی ‘ کیونکہ ہر نیکی کا بدلہ دس گنا ہو گا ۔ یہاں عیسیٰ نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : مجھ تک یہ روایت پہنچی ہے : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ آغاز میں ‘ حضرت موسیٰ علیہ السلام میرے لئے ‘ ان سب میں سب سے زیادہ سخت تھے ‘ لیکن ( معاملے کے ) انجام کے حوالے سے ان میں سب سے بہتر ثابت ہوئے ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ‘ البتہ ربیع بن انس نامی راوی کا معاملہ مختلف ہے ‘ وہ یہ کہتے ہیں : یہ ابوالعالیہ ‘ یا شاید کسی اور سے منقول ہے ‘ اس حوالے سے اس روایت کا تابعی مجہول ہے ۔

236

Majma al-Zawaid #236

عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ قَالَ: «قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ أُسْرِيَ بِكَ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِكَ؟ قَالَ: "" صَلَّيْتُ بِأَصْحَابِي صَلَاةَ الْعَتَمَةِ بِمَكَّةَ مُعْتِمًا، فَأَتَانِي جِبْرِيلُ بِدَابَّةٍ بَيْضَاءَ فَوْقَ الْحِمَارِ وَدُونَ الْبَغْلِ، فَاسْتَصْعَبَ عَلَيَّ، فَأَدَارَهَا بِأُذُنِهَا حَتَّى حَمَلَنِي عَلَيْهَا، فَانْطَلَقَتْ تَهْوِي بِنَا، تَضَعُ حَافِرَهَا حَيْثُ أَدْرَكَ طَرْفُهَا، حَتَّى انْتَهَيْنَا إِلَى أَرْضٍ ذَاتِ نَخْلٍ. قَالَ: انْزِلْ، فَنَزَلْتُ، ثُمَّ قَالَ: صَلِّ، فَصَلَّيْتُ، ثُمَّ رَكِبْنَا. قَالَ لِي: أَتَدْرِي أَيْنَ صَلَّيْتَ؟ قُلْتُ: اللَّهُ أَعْلَمُ. قَالَ: صَلَّيْتَ بِيَثْرِبَ، صَلَّيْتَ بِطَيْبَةَ. ثُمَّ انْطَلَقَتْ تَهْوِي، تَضَعُ حَافِرَهَا حَيْثُ أَدْرَكَ طَرْفُهَا، حَتَّى بَلَغْنَا أَرْضًا بَيْضَاءَ. قَالَ لِي: انْزِلْ، فَنَزَلْتُ، ثُمَّ قَالَ: صَلِّ فَصَلَّيْتُ، ثُمَّ رَكِبْنَا. قَالَ: أَتَدْرِي أَيْنَ صَلَّيْتَ؟ قُلْتُ: اللَّهُ أَعْلَمُ وَرَسُولُهُ. قَالَ: صَلَّيْتَ بِمَدْيَنَ صَلَّيْتَ عِنْدَ شَجَرَةِ مُوسَى. ثُمَّ انْطَلَقَتْ تَهْوِي بِنَا تَضَعُ حَافِرَهَا - أَوْ يَقَعُ حَافِرُهَا - حَيْثُ أَدْرَكَ طَرْفُهَا، ثُمَّ ارْتَفَعْنَا. قَالَ: انْزِلْ، فَنَزَلْتُ، فَقَالَ: صَلِّ فَصَلَّيْتُ ثُمَّ رَكِبْنَا فَقَالَ: أَتَدْرِي أَيْنَ صَلَّيْتَ؟ قُلْتُ: اللَّهُ أَعْلَمُ! قَالَ: صَلَّيْتَ بِبَيْتِ لَحْمٍ حَيْثُ وُلِدَ عِيسَى الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ. ثُمَّ انْطَلَقَ بِي حَتَّى دَخَلْنَا الْمَدِينَةَ مِنْ بَابِهَا الثَّامِنِ، فَأَتَى قِبْلَةَ الْمَسْجِدِ فَرَبَطَ دَابَّتَهُ، وَدَخَلْنَا الْمَسْجِدَ مِنْ بَابٍ فِيهِ تَمْثُلُ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ، فَصَلَّيْتُ مِنَ الْمَسْجِدِ حَيْثُ شَاءَ اللَّهُ - قَالَ ابْنُ زِبْرِيقٍ - ثُمَّ أُتِيتُ بِإِنَاءَيْنِ، فِي أَحَدِهِمَا لَبَنٌ وَفِي الْآخَرِ عَسَلٌ، أُرْسِلَ إِلَيَّ بِهِمَا جَمِيعًا، فَعَدَلْتُ بَيْنَهُمَا، ثُمَّ هَدَانِيَ اللَّهُ فَأَخَذْتُ اللَّبَنَ، فَشَرِبْتُ حَتَّى قَدَعْتُ بِهِ جَبِينِي، وَبَيْنَ يَدَيْ شَيْخٍ مُتَّكِئٍ، فَقَالَ: أَخَذَ صَاحِبُكَ الْفِطْرَةَ، أَوْ قَالَ: بِالْفِطْرَةِ. ثُمَّ انْطَلَقَ بِي حَتَّى أَتَيْتُ الْوَادِيَ الَّذِي بِالْمَدِينَةِ فَإِذَا جَهَنَّمُ تَنْكَشِفُ عَنْ مِثْلِ الزَّرَابِيِّ "". قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ وَجَدْتَهَا؟ قَالَ: "" مِثْلُ - وَذَكَرَ شَيْئًا ذَهَبَ عَنِّي -. ثُمَّ مَرَرْتُ بِعِيرٍ لِقُرَيْشٍ بِمَكَانِ كَذَا وَكَذَا قَدْ أَضَلُّوا بَعِيرًا لَهُمْ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِمْ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ: هَذَا صَوْتُ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ أَتَيْتُ أَصْحَابِي قَبْلَ الصُّبْحِ بِمَكَّةَ، فَأَتَانِي أَبُو بَكْرٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيْنَ كُنْتَ اللَّيْلَةَ، فَقَدِ الْتَمَسْتُكَ فِي مَكَانِكَ فَلَمْ أَجِدْكَ؟ قَالَ: إِنِّي أَتَيْتُ بَيْتَ الْمَقْدِسِ اللَّيْلَةَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُ مَسِيرَةَ شَهْرٍ، فَصِفْهُ لِي، فَفُتِحَ لِي شِرَاكٌ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ، لَا يَسْأَلُونَنِي عَنْ شَيْءٍ إِلَّا أَنْبَأْتُهُمْ عَنْهُ "". فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ، فَقَالَ الْمُشْرِكُونَ: انْظُرُوا إِلَى ابْنِ أَبِي كَبْشَةَ يَزْعُمُ أَنَّهُ أَتَى بَيْتَ الْمَقْدِسِ اللَّيْلَةَ! قَالَ: "" نَعَمْ، وَقَدْ مَرَرْتُ بِعِيرٍ لَكُمْ فِي مَكَانِ كَذَا، قَدْ أَضَلُّوا بَعِيرًا لَهُمْ بِمَكَانِ كَذَا وَكَذَا، وَأَنَا مُسَيِّرُهُمْ لَكُمْ: يَنْزِلُونَ بِكَذَا، ثُمَّ يَأْتُونَكُمْ يَوْمَ كَذَا وَكَذَا، يَقَدُمُهُمْ جَمَلٌ آدَمُ عَلَيْهِ مَسْحٌ أَسْوَدُ وَغِرَازَتَانِ سَوْدَاوَتَانِ ""، فَلَمَّا كَانَ ذَلِكَ الْيَوْمُ أَشْرَفَ النَّاسُ يَنْظُرُونَ، حَتَّى كَانَ قَرِيبًا مِنْ نِصْفِ النَّهَارِ أَقْبَلَتِ الْعِيرُ يَقْدُمُهُمْ ذَلِكَ الْجَمَلُ كَالَّذِي وَصَفَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» -. رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، إِلَّا أَنَّ الطَّبَرَانِيَّ قَالَ فِيهِ: "" قَدْ أَخَذَ صَاحِبُكَ الْفِطْرَةَ، وَإِنَّهُ لَمَهْدِيٌّ. وَقَالَ فِي وَصْفِ جَهَنَّمَ كَيْفَ وَجَدْتَهَا؟ قَالَ: مِثْلَ الْحَمَّةِ السُّخْنَةِ "". وَفِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْعَلَاءِ، وَثَّقَهُ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، وَضَعَّفَهُ النَّسَائِيُّ.

EnglishUnverified translation

Shaddād ibn Aws رضي الله عنه said: We asked, "O Messenger of Allah, how was the night journey in which you were taken?" He ﷺ said: > **"I prayed the night prayer with my companions in Mecca in late evening. Then Jibrīl came to me with a white beast, larger than a donkey and smaller than a mule. It proved difficult for me, so Jibrīl turned it by its ear until he mounted me upon it. It dashed forward with us, placing its hoof at the furthest point its eye could see, until we reached a land filled with date palms.** > > **Jibrīl said: 'Dismount,' so I dismounted. He said: 'Pray,' so I prayed. Then we mounted again. He said to me: 'Do you know where you prayed?' I said: 'Allah knows best.' He said: 'You prayed in Yathrib; you prayed in Ṭaybah.'** > > **Then it dashed forward, placing its hoof at the furthest point its eye could see, until we reached a white land. He said to me: 'Dismount,' so I dismounted. Then he said: 'Pray,' so I prayed. Then we mounted. He said: 'Do you know where you prayed?' I said: 'Allah and His Messenger know best.' He said: 'You prayed in Madyan; you prayed by the tree of Mūsā.'** > > **Then it dashed forward with us, placing its hoof at the furthest point its eye could see, until we ascended. He said: 'Dismount,' so I dismounted. He said: 'Pray,' so I prayed. Then we mounted. He said: 'Do you know where you prayed?' I said: 'Allah knows best.' He said: 'You prayed in Bethlehem, where ʿĪsā the Messiah, son of Maryam, was born.'** > > **Then he proceeded with me until we entered the city from its eighth gate. He came to the Qiblah side of the Mosque and tethered his mount, and we entered the Mosque through a gate wherein the sun and moon are depicted. I prayed in the Mosque wherever Allah willed.** > > **Then two vessels were brought to me; in one was milk and in the other was honey. Both were presented to me, and I looked between the two, then Allah guided me and I took the milk. I drank until milk moistened my forehead. Before me was an elder reclining, who said: 'Your companion has chosen the primordial nature (*al-fiṭrah*)'—or he said: 'taken to the fiṭrah.'** > > **Then he traveled with me until I came to the valley in the city, and behold, Hell was exposed like spread carpets."** We said, "O Messenger of Allah, how did you find it?" He ﷺ said, "Like..."—and he mentioned something that escaped my memory. He ﷺ continued: > **"Then I passed by a trade caravan of Quraysh at such-and-such place who had lost a camel of theirs, so I greeted them with peace, and some of them said to each other: 'This is the voice of Muḥammad ﷺ!'** > > **Then I returned to my companions in Mecca before morning. Abū Bakr came to me and said, 'O Messenger of Allah, where were you tonight? I looked for you in your place and did not find you.' I said: 'I traveled to Bayt al-Maqdis tonight.' He said: 'O Messenger of Allah, it is a journey of a month! Describe it for me.'** > > **So an aperture was opened for me as though I were looking directly at it; they did not ask me about a single thing except that I informed them of it.** > > **Abū Bakr said: 'I bear witness that you are indeed the Messenger of Allah!'** > > **The polytheists said: 'Look at the son of Abū Kabshah claiming that he traveled to Bayt al-Maqdis tonight!' The Prophet ﷺ said: 'Yes, and I passed by a caravan of yours at such-and-such place; they had lost a camel of theirs at such-and-such place, and I am describing their journey for you: they will encamp at such-and-such place, and then arrive before you on such-and-such day, led by a brownish-grey camel wearing a black woolen cloth and two black saddlebags.'** > > **When that day arrived, the people went out watching eagerly until, close to midday, the caravan appeared, led by that exact camel just as the Messenger of Allah ﷺ had described."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت شداد بن اوس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! جس رات آپ کو سیر کروائی گئی ‘ تو وہ سیر کیسے کروائی گئی ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میں نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مکہ میں عشاء کی نماز ادا کی ‘ اُس کے بعد جبرائیل میرے پاس سفید رنگ کا ایک جانور لے کر آئے ‘ جو گدھے سے کچھ بڑا تھا اور خچر سے کچھ چھوٹا تھا ‘ اُس ( جانور ) نے میرے سامنے شوخی کی ‘ تو جبرائیل نے اُس کے کان مروڑے ‘ یہاں تک کہ میں اُس پر سوار ہو گیا ‘ تو وہ ہمیں لے کر روانہ ہوا ، جس کا پاؤں وہاں پڑتا تھا جہاں تک نگاہ کام کرتی تھی ‘ یہاں تک کہ ہم ایک سرزمین پر پہنچے ‘ جہاں کھجوروں کے بہت سے باغات تھے ‘ جبرائیل نے کہا : آپ اُتریں ‘ میں اتر گیا ، پھر انہوں نے کہا : آپ نماز ادا کیجئے ! میں نے نماز ادا کی ‘ پھر ہم سوار ہو گئے ‘ انہوں نے مجھ سے دریافت کیا : کیا آپ جانتے ہیں ‘ آپ نے کہاں نماز ادا کی ہے ؟ میں نے جواب دیا : اللہ بہتر جانتا ہے ‘ انہوں نے بتایا : آپ نے یثرب میں نماز ادا کی ہے ‘ آپ نے ’’ طیبہ ‘‘ میں نماز ادا کی ہے ۔ پھر وہ جانور ہمیں لے کر روانہ ہوا ‘ اس کا ایک قدم وہاں پڑتا تھا ‘ جہاں تک اس کی نگاہ جاتی تھی ‘ یہاں تک کہ ہم لوگ ایک سفید زمین تک پہنچ گئے ‘ تو جبریل نے مجھ سے کہا : آپ اُتریں ! میں اُتر گیا ‘ پھر انہوں نے کہا آپ نماز ادا کیجئے ! میں نے نماز ادا کی ‘ پھر ہم سوار ہوئے ‘ انہوں نے دریافت کیا : کیا آپ جانتے ہیں ۔ آپ نے کہاں نماز ادا کی ہے ؟ میں نے جواب دیا : اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں ( شاید یہاں ’’ اُس کا رسول ‘‘ کے الفاظ اضافی ہیں ‘ یہ اضافہ کاتب یا کمپوزر کی غلطی ہو سکتا ہے ‘ کیونکہ اس سے پہلے کہ جملے میں ‘ اور اس کے بعد والے جملے میں صرف یہ الفاظ ہیں :’’ اللہ بہتر جانتا ہے ‘‘ ) جبرائیل نے بتایا : آپ نے ’’ مدین ‘‘ میں حضرت موسیٰ علیہ السلام والے درخت کے پاس نماز ادا کی ہے ‘ پھر وہ جانور ہمیں لے کر روانہ ہوا ‘ اُس کا ایک قدم وہاں پڑتا تھا ‘ جہاں تک اُس کی نگاہ جاتی تھی ، پھر ایک مقام پر پہنچ کر حضرت جبرائیل نے کہا : آپ نیچے اتریں ! میں نیچے اترا ! تو انہوں نے کہا : آپ نماز ادا کیجئے ! میں نے نماز ادا کی ‘ پھر ہم سوار ہو گئے ‘ اُنہوں نے دریافت کیا : کیا آپ جانتے ہیں کہ آپ نے کہاں نماز ادا کی ہے ؟ میں نے کہا : اللہ بہتر جانتا ہے ‘ انہوں نے بتایا : آپ نے ’’ بیت اللحم ‘‘ میں نماز ادا کی ہے ‘ جہاں حضرت عیسیٰ مسیح بن مریم علیہ السلام پیدا ہوئے تھے ‘ پھر وہ مجھے لے کر روانہ ہوئے ‘ یہاں تک کہ ہم آٹھویں دروازے سے شہر میں داخل ہوئے ‘ وہ مسجد کے قبلہ کی سمت والے حصے کی طرف آئے ‘ اور وہاں انہوں نے جانور کو باندھ دیا ‘ ہم مسجد میں ایسے دروازے سے داخل ہوئے ، جس میں سورج اور چاند کی تصویر تھی ، جہاں اللہ کو منظور تھا ‘ وہاں میں نے مسجد میں نماز ادا کی ۔ ( یہاں ابن زبریق نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ) پھر میرے پاس دو برتن لائے گئے اُن میں سے ایک میں دودھ تھا اور دوسرے میں شہد تھا ‘ وہ دونوں میری طرف بھیجے گئے تھے ‘ میں ان دونوں کو برابر سمجھ رہا تھا ‘ لیکن پھر اللہ تعالیٰ نے مجھے ہدایت نصیب کی ‘ تو میں نے دودھ کو حاصل کر لیا اور اسے پی لیا ‘ یہاں تک میری پیشانی پر اس کے اثرات محسوس ہوئے ۔ میرے سامنے ایک عمر رسیدہ صاحب ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے تھے ‘ انہوں نے کہا : تمہارے آقا نے فطرت کو اختیار کیا ہے ( یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ) پھر وہ مجھے ساتھ لے کر چل پڑے ‘ یہاں تک کہ میں شہر میں موجود ‘ وادی کے پاس آیا ‘ تو وہاں جہنم ہوں سامنے آئی ‘ جیسے وہ بچھوتا ہوتا ہے ۔ ( راوی بیان کرتے ہیں : ) ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ نے اُسے کیسا پایا ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : راوی کہتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے کوئی بات ذکر کی تھی ، لیکن وہ مجھے بھول گئی ہے ( پھر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ) میرا گزر فلاں مقام پر قریش کے اونٹ کے پاس سے ہوا ‘ اُن لوگوں کا اونٹ گم ہو چکا تھا ‘ میں نے اُن لوگوں کو سلام کیا ، تو اُن لوگوں میں سے ایک نے دوسرے سے کہا : یہ تو ( حضرت ) محمد ( ﷺ ) کی آواز ہے ۔ ( پھر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ) پھر میں صبح ہونے سے پہلے مکہ میں اپنے ساتھیوں کے پاس آ گیا ‘ ابوبکر میرے پاس آیا ‘ اور بولا : یا رسول الله ! گزشتہ رات آپ کہاں تھے ؟ میں آپ کی تلاش میں آپ کے گھر آیا ‘ لیکن میں نے آپ کو نہیں پایا ‘ تو میں نے ( اس کو ) بتایا : گزشتہ رات میں بیت المقدس گیا ہوا تھا ‘ اُس نے کہا : یا رسول اللہ ! وہ تو ایک ماہ کی مسافت کے فاصلے پر ہے ‘ آپ اس کا نقشہ میرے سامنے بیان کریں ( نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں : ) تو اُسے میرے سامنے پیش کیا گیا ۔ گویا میں اُس کی طرف دیکھ رہا تھا ، لوگوں نے مجھ سے جس چیز کے بارے میں بھی دریافت کیا ‘ میں نے انہیں اُس کے بارے میں بتا دیا ‘ تو ابوبکر نے کہا : میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں ، جبکہ مشرکین نے یہ کہا : تم ابوکبشہ کے صاحبزادے کی طرف دیکھو ! ان کا یہ کہنا ہے کہ یہ گزشتہ رات بیت المقدس گئے تھے ‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جی ہاں ! فلاں مقام پر میں تمہارے اونٹ کے پاس سے بھی گزرا تھا ‘ اُن لوگوں ( یعنی تمہارے اونٹوں کے چرواہوں ) نے فلاں ‘ فلاں مقام پر ‘ اپنے اونٹ کو گم کر دیا تھا ‘ میں تمہیں ان کے بارے میں بتاتا ہوں ‘ انہوں نے فلاں جگہ پر پڑاؤ کیا ہو گا اور پھر وہ فلاں ‘ فلاں دن تمہارے پاس آ جائیں گے ‘ اُن کے آگے خاکستری رنگ کا اونٹ ہو گا ، جس پر سیاہ لگام نما چیز ہو گی اور سیاہ رنگ کی دور کابین ہوں گی ۔ راوی بیان کرتے ہیں : جب وہ مخصوص دن آیا ‘ تو لوگوں نے جائزہ لینا شروع کیا ، یہاں تک کہ نصف النہار کے قریب وہ قافلہ آ گیا اور اُس کے آگے وہی اونٹ تھا ، جس طرح کے اونٹ کا نقشہ نبی اکرم ﷺ نے بیان کیا تھا ۔ یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ البتہ امام طبرانی نے اس میں یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ’’ تمہارے آقا نے فطرت کو اختیار کیا ہے ‘ بے شک یہ ہدایت کا مرکز ہیں ‘‘ اسی طرح جہنم کی صفت کے بارے میں ‘ انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ’’ صحابہ نے دریافت کیا : آپ نے اُسے کیسا پایا ؟ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : گرم پانی کے چشمے کی مانند ‘‘ اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن ابراہیم بن العلاء ہے ‘ ویسے یحیی بن معین نے اس کو ثقہ قرار دیا ہے اور امام نسائی نے ضعیف قرار دیا ہے ۔

237

Majma al-Zawaid #237

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «أُتِيتُ بِالْبُرَاقِ فَرَكِبْتُهُ، إِذَا أَتَى عَلَى جَبَلٍ ارْتَفَعَتْ رِجْلَاهُ، وَإِذَا هَبَطَ ارْتَفَعَتْ يَدَاهُ، فَسَارَ بِنَا فِي أَرْضٍ غُمَّةٍ مُنْتِنَةٍ، ثُمَّ أَفْضَيْنَا إِلَى أَرْضٍ فَيْحَاءَ طَيِّبَةٍ "". قَالَ الطَّبَرَانِيُّ: "" قُلْتُ: يَا جِبْرِيلُ، كُنَّا نَسِيرُ فِي أَرْضٍ غُمَّةٍ نَتِنَةٍ، ثُمَّ إِلَى أَرْضٍ فَيْحَاءَ طَيِّبَةٍ! فَقَالَ: تِلْكَ أَرْضُ النَّارِ، وَهَذِهِ أَرْضُ الْجَنَّةِ "". - وَقَالَ الْبَزَّارُ أَحْسَبُهُ: "" قَالَ جِبْرِيلُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: تِلْكَ أَرْضُ أَهْلِ النَّارِ، وَهَذِهِ أَرْضُ أَهْلِ الْجَنَّةِ - فَأَتَيْتُ عَلَى رَجُلٍ قَائِمٍ، فَقَالَ: مَنْ هَذَا يَا جِبْرِيلُ مَعَكَ؟ قَالَ: أَخُوكَ مُحَمَّدٌ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَرَحَّبَ وَدَعَا لِي بِالْبَرَكَةِ، فَقُلْتُ: مَنْ هَذَا يَا جِبْرِيلُ؟ قَالَ: هَذَا أَخُوكَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسِرْنَا، فَسَمِعْتُ صَوْتًا، فَأَتَيْنَا عَلَى رَجُلٍ، فَقَالَ: مَنْ هَذَا مَعَكَ؟ قَالَ: هَذَا أَخُوكَ مُحَمَّدٌ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَلَّمَ وَدَعَا لِي بِالْبَرَكَةِ، وَقَالَ: سَلْ لِأُمَّتِكَ التَّيْسِيرَ. قُلْتُ: مَنْ هَذَا يَا جِبْرِيلُ؟ قَالَ: هَذَا أَخُوكَ مُوسَى - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. قُلْتُ: عَلَى مَنْ كَانَ تَذَمُّرُهُ؟ قَالَ: عَلَى رَبِّهِ. قُلْتُ: عَلَى رَبِّهِ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَدْ عَرَفَ حِدَّتَهُ. ثُمَّ سِرْنَا فَرَأَيْتُ شَيْئًا. فَقُلْتُ: مَا هَذَا - أَوْ مَا هَذِهِ - يَا جِبْرِيلُ؟ قَالَ: هَذِهِ شَجَرَةُ أَبِيكَ إِبْرَاهِيمَ، أَدْنُ مِنْهَا. قُلْتُ: نَعَمْ ""، وَقَالَ الطَّبَرَانِيُّ: "" قُلْتُ: أَدْنُو مِنْهَا؟ قَالَ: نَعَمْ، فَدَنَوْنَا مِنْهَا، فَرَحَّبَ وَدَعَا لِي بِالْبَرَكَةِ، ثُمَّ مَضَيْنَا حَتَّى أَتَيْنَا بَيْتَ الْمَقْدِسِ، فَرَبَطْتُ الدَّابَّةَ بِالْحَلْقَةِ الَّتِي تَرْبُطُ بِهَا الْأَنْبِيَاءُ، ثُمَّ دَخَلْنَا الْمَسْجِدَ فَنُشِرَتْ لِيَ الْأَنْبِيَاءُ، مَنْ سَمَّى اللَّهُ وَمَنْ لَمْ يُسَمِّ، فَصَلَّيْتُ "". قَالَ الطَّبَرَانِيُّ: بِهِمْ. ثُمَّ اتَّفَقَا إِلَّا هَؤُلَاءِ الثَّلَاثَةَ: إِبْرَاهِيمَ، وَمُوسَى، وَعِيسَى». رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَأَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Masʿūd رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"The Burāq was brought to me and I mounted it. Whenever it climbed an ascent, its hind legs elongated, and whenever it descended, its front legs elongated. It traveled with us through a murky, foul-smelling land, and then we came out into a vast, fragrant land.** > > **I asked, 'O Jibrīl, we were traveling in a murky, putrid land, then we emerged into a vast, sweet land?' He replied, 'That was the land of the Fire, and this is the land of Paradise.'** > > **Then I came upon a man standing, who asked, 'Who is this with you, O Jibrīl?' He said, 'Your brother Muḥammad ﷺ.' He welcomed me and prayed for blessings upon me. I asked, 'Who is this, O Jibrīl?' He said, 'This is your brother ʿĪsā ibn Maryam ﷺ.'** > > **We traveled on, and I heard a voice, then we came upon a man who asked, 'Who is this with you?' Jibrīl said, 'This is your brother Muḥammad ﷺ.' He greeted me with peace, prayed for blessings upon me, and said, 'Ask for ease for your nation.' I asked, 'Who is this, O Jibrīl?' He said, 'This is your brother Mūsā ﷺ.' I asked, 'Toward whom was his vehement tone directed?' He said, 'Toward his Lord.' I said, 'Toward his Lord?' He said, 'Yes, He knows his fiery nature.'** > > **Then we traveled on and I saw something. I asked, 'What is this, O Jibrīl?' He said, 'This is the tree of your forefather Ibrāhīm; draw near to it.' We drew near to it, and he welcomed me and prayed for blessings upon me.** > > **Then we proceeded until we reached Bayt al-Maqdis. I tethered the beast to the ring to which the Prophets tethered their mounts, then we entered the Mosque, and the Prophets were gathered for me—both those Allah named and those He did not name—and I led them in prayer."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میرے پاس براق لایا گیا ‘ میں اُس پر سوار ہوا ‘ جب وہ کسی پہاڑ کے پاس آتا تھا ، تو اپنی ٹانگیں بلند کر لیتا تھا اور جب وہ نیچے کی طرف چلتا تھا ، تو اپنے ہاتھ بلند کر لیتا تھا ‘ وہ ہمیں لے کر چلتا ہوا ایک بدبودار جگہ کے پاس آیا ‘ پھر ہم ایک کشادہ اور پاکیزہ جگہ کی طرف آئے ۔ یہاں امام طبرانی نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : میں نے دریافت کیا : اے جبرائیل ! پہلے ہم ایک بدبودار جگہ کے پاس سے گزر رہے تھے ‘ پھر ہم ایک خوشبودار جگہ کی طرف آ گئے ‘ تو انہوں نے بتایا : وہ جہنم کی زمین تھی اور یہ جنت کی زمین ہے ۔ امام بزار فرماتے ہیں : میرا خیال ہے ‘ روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں : جبرائیل نے کہا : وہ اہل جہنم کی سرزمین تھی اور یہ اہل جنت کی سرزمین ہے ۔ پھر میں ایک صاحب کے پاس آیا جو کھڑے ہوئے تھے ‘ انہوں نے دریافت کیا : اے جبرائیل یہ تمہارے ساتھ کون ہیں ؟ حضرت جبرائیل نے بتایا : یہ آپ کے بھائی حضرت محمد ﷺ ہیں ‘ تو انہوں نے خوش آمدید کہتے ہوئے ‘ میرے لئے برکت کی دعا کی ‘ میں نے دریافت کیا : اے جبرائیل ! یہ کون ہیں ؟ انہوں نے بتایا : یہ آپ کے بھائی حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام ہیں ، پھر ہم روانہ ہوئے ‘ میں نے ایک آواز سنی ( جس میں کچھ تیزی تھی ) پھر ہم ایک صاحب کے پاس آئے ‘ انہوں نے دریافت کیا : یہ تمہارے ساتھ کون ہیں ؟ جبرائیل نے بتایا : یہ آپ کے بھائی حضرت محمد ﷺ ہیں ‘ تو انہوں نے سلام کیا اور میرے لئے برکت کی دعا کی اور یہ کہا : آپ اپنی امت کے لئے آسانی مانگیے گا ‘ میں نے دریافت کیا : اے جبرائیل ! یہ کون ہیں ؟ انہوں نے بتایا : یہ آپ کے بھائی حضرت موسیٰ علیہ السلام ہیں میں نے دریافت کیا : یہ تیز لہجے میں کس کے ساتھ بات کر رہے تھے ؟ انہوں نے بتایا : اپنے پروردگار کے ساتھ ‘ میں نے دریافت کیا : اپنے پروردگار کے ساتھ ؟ انہوں نے بتایا : جی ہاں ! وہ ( یعنی اُن کا پروردگار ) ان کے مزاج کی تیزی کے بارے میں جانتا ہے ‘ پھر ہم چلتے رہے ‘ میں نے ایک چیز دیکھ کر دریافت کیا : یہ کیا ہے ؟ اے جبرائیل ! ۔ یہاں ایک لفظ میں راوی کو شک ہے ۔ تو انہوں نے بتایا : یہ آپ کے جد امجد حضرت ابراہیم علیہ السلام کا درخت ہے ‘ آپ اس کے قریب ہو جائیں ! میں نے کہا : ٹھیک ہے ۔ یہاں امام طبرانی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : میں نے دریافت کیا : کیا میں اس کے قریب ہو جاؤں ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ! تو ہم اُس درخت کے قریب ہو گئے ‘ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ( مجھے ) خوش آمدید کہا اور میرے لئے برکت کی دعا کی ‘ پھر ہم روانہ ہوئے ‘ یہاں تک کہ ہم بیت المقدس آ گئے ‘ میں نے اپنا جانور اس حلقے کے ساتھ باندھا ‘ جس کے ساتھ انبیاء کرام علیہم السلام ( اپنے جانوروں کو ) باندھا کرتے تھے ‘ پھر ہم مسجد میں داخل ہوئے ‘ تو میرے سامنے تمام انبیاء کرام لائے گئے ‘ وہ بھی جن کا نام اللہ تعالیٰ نے بیان کیا ہے ‘ اور وہ بھی جن کا نام بیان نہیں کیا ہے ‘ تو میں نے نماز ادا کی ۔ یہاں امام طبرانی نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : میں نے انہیں نماز پڑھائی ، پھر وہ دونوں راوی متفق ہیں ‘ البتہ ان تین حضرات کا معاملہ مختلف ہے ‘ یعنی حضرت ابراہیم ‘ حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ علیہم السلام ۔ یہ روایت امام بزار ‘ امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

238

Majma al-Zawaid #238

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «بَيْنَا أَنَا قَاعِدٌ إِذْ جَاءَ جِبْرِيلُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَوَكَزَ بَيْنَ كَتِفَيَّ، فَقُمْتُ إِلَى شَجَرَةٍ فِيهَا كَوَكْرَيِ الطَّيْرِ، فَقَعَدَ فِي أَحَدِهِمَا، وَقَعَدْتُ فِي الْآخَرِ، فَسَمَتْ وَارْتَفَعَتْ حَتَّى سَدَّتِ الْخَافِقَيْنِ، وَأَنَا أُقَلِّبُ طَرْفِي، وَلَوْ شِئْتُ أَنْ أَمَسَّ السَّمَاءَ لَمَسِسْتُ، فَالْتَفَتَ إِلَيَّ جِبْرِيلُ كَأَنَّهُ حِلْسٌ لَاطِئٌ، فَعَرَفْتُ فَضْلَ عِلْمِهِ بِاللَّهِ عَلَيَّ، وَفُتِحَ بَابٌ مِنْ أَبْوَابِ السَّمَاءِ، وَرَأَيْتُ النُّورَ الْأَعْظَمَ، وَإِذَا دُونَ الْحِجَابِ رَفْرَفَةُ الدُّرِّ وَالْيَاقُوتِ، فَأَوْحَى إِلَيَّ مَا شَاءَ أَنْ يُوحِيَ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Mālik رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"While I was sitting, Jibrīl ﷺ came and tapped me between my shoulders. I rose and went to a tree containing what looked like two birds' nests; he sat in one of them and I sat in the other.** > > **It then grew and ascended until it spanned the horizons, while I turned my gaze; and had I wished to touch the heaven, I could have touched it. Jibrīl then looked at me as if he were a worn, flattened mat out of awe of Allah, so I recognized the superiority of his knowledge of Allah over mine.** > > **A gate of the gates of heaven was opened, and I beheld the Greatest Light, and behold, beneath the veil were shimmering drapes of pearls and rubies; then Allah revealed to me whatever He willed to reveal."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میں بیٹھا ہوا تھا ‘ اسی دوران جبرائیل آ گئے اور انہوں نے میرے دونوں کندھوں کے درمیان ہاتھ مارا ‘ تو میں اُٹھ کر ایک درخت کی طرف آیا ‘ جس میں پرندوں کے گھونسلوں کی طرح کی دو چیزیں موجود تھیں ‘ ان میں سے ایک میں وہ بیٹھ گئے اور دوسرے میں ‘ میں بیٹھ گیا ‘ وہ روانہ ہوا اور بلند ہونا شروع ہوا ‘ یہاں تک کہ اس نے زمین و آسمان کے درمیان کا فاصلہ طے کر لیا ‘ میں اپنی پلک جھپک سکتا تھا اور اگر میں آسمان کو چھونا چاہتا ‘ تو چھو سکتا تھا ‘ جبرائیل میری طرف متوجہ ہوئے ‘ تو اُن کی حالت زمین پر بچھائی جانے والی پرانی چادر کی طرح تھی ، تو مجھے اندازہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں انہیں علم کے حوالے سے مجھ پر فضیلت حاصل ہے ‘ پھر آسمان کے دروازوں میں سے ایک دروازہ کھولا گیا ‘ تو میں نے سب سے عظیم نور دیکھا اور وہاں حجاب سے پہلے موتیوں اور یاقوت کا بنا ہوا تخت تھا ‘ پھر اللہ تعالیٰ کو جو منظور تھا اُس نے وہ چیز میری طرف وحی کی ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

239

Majma al-Zawaid #239

وَعَنْ أُمِّ هَانِئٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - قَالَتْ: «بَاتَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهِ فِي بَيْتِي، فَفَقَدْتُهُ مِنَ اللَّيْلِ، فَامْتَنَعَ مِنِّي النَّوْمُ مَخَافَةَ أَنْ يَكُونَ عَرَضَ لَهُ بَعْضُ قُرَيْشٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِنَّ جِبْرِيلَ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - أَتَانِي فَأَخَذَ بِيَدِي فَأَخْرَجَنِي، فَإِذَا عَلَى الْبَيْتِ دَابَّةٌ دُونَ الْبَغْلِ وَفَوْقَ الْحِمَارِ، فَحَمَلَنِي عَلَيْهِ ثُمَّ انْطَلَقَ حَتَّى انْتَهَى إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ، فَأَرَانِي إِبْرَاهِيمَ يُشْبِهُ خَلْقُهُ خَلْقِي، وَيُشْبِهُ خُلُقِي خُلُقَهُ، وَأَرَانِي مُوسَى آدَمَ، طَوِيلًا، سَبْطَ الشَّعْرِ، يُشَبَّهُ بِرِجَالِ أَزْدِ شَنُوءَةَ، وَأَرَانِي عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ رَبْعَةً، أَبْيَضَ، يَضْرِبُ إِلَى الْحُمْرَةِ، شَبَّهْتُهُ بِعُرْوَةَ بْنِ مَسْعُودٍ الثَّقَفِيِّ، وَأَرَانِيَ الدَّجَّالَ مَمْسُوحَ الْعَيْنِ الْيُمْنَى، شَبَّهْتُهُ بِقَطَنِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى، وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أَخَرُجَ إِلَى قُرَيْشٍ فَأُخْبِرُهُمْ بِمَا رَأَيْتُ "" فَأَخَذْتُ بِثَوْبِهِ فَقُلْتُ: إِنِّي أُذَكِّرُكَ اللَّهَ، إِنَّكَ تَأْتِي قَوْمًا يُكَذِّبُونَكَ، وَيُنْكِرُونَ مَقَالَتَكَ، فَأَخَافُ أَنْ يَسْطُوا بِكَ. قَالَ: فَضَرَبَ ثَوْبَهُ مِنْ يَدِي ثُمَّ خَرَجَ إِلَيْهِمْ، فَإِذَا هُمْ جُلُوسٌ، فَأَخْبَرَهُمْ مَا أَخْبَرَنِي، فَقَامَ جُبَيْرُ بْنُ مُطْعِمٍ فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، لَوْ كُنْتَ شَابًّا كَمَا كُنْتَ، مَا تَكَلَّمْتَ بِمَا تَكَلَّمْتَ بِهِ وَأَنْتَ بَيْنَ ظَهْرَانَيْنَا، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: يَا مُحَمَّدُ، هَلْ مَرَرْتَ بِإِبِلٍ لَنَا فِي مَكَانِ كَذَا وَكَذَا؟ قَالَ: "" نَعَمْ وَاللَّهِ، قَدْ وَجَدْتُهُمْ، قَدْ أَضَلُّوا بَعِيرًا لَهُمْ فَهُمْ فِي طَلَبِهِ "". قَالَ: فَهَلْ مَرَرْتَ بِإِبِلٍ لِبَنِي فُلَانٍ؟ قَالَ: "" نَعَمْ وَجَدْتُهُمْ فِي مَكَانِ كَذَا وَكَذَا، قَدِ انْكَسَرَتْ لَهُمْ نَاقَةٌ حَمْرَاءُ، فَوَجَدْتُهُمْ وَعِنْدَهُمْ قَصْعَةٌ مِنْ مَاءٍ فَشَرِبْتُ مَا فِيهَا "". قَالُوا: أَخْبِرْنَا مَا عِدَّتُهَا وَمَا فِيهَا مِنَ الرُّعَاةِ؟ قَالَ: "" قَدْ كُنْتُ عَنْ عِدَّتِهَا مَشْغُولًا "" فَقَامَ فَأُتِيَ بِالْإِبِلِ فَعَدَّهَا وَعَلِمَ مَا فِيهَا مِنَ الرُّعَاةِ، ثُمَّ أَتَى قُرَيْشًا فَقَالَ لَهُمْ: "" سَأَلْتُمُونِي عَنْ إِبِلِ بَنِي فُلَانٍ، فَهِيَ كَذَا وَكَذَا، وَفِيهَا مِنَ الرِّعَاءِ فُلَانٌ وَفُلَانٌ، وَسَأَلْتُمُونِي عَنْ إِبِلِ بَنِي فُلَانٍ، فَهِيَ كَذَا وَكَذَا، وَفِيهَا مِنَ الرِّعَاءِ ابْنُ أَبِي قُحَافَةَ وَفُلَانٌ وَفُلَانٌ، وَهِيَ مُصَبِّحَتُكُمْ بِالْغَدَاةِ عَلَى الثَّنِيَّةِ "". قَالَ: فَقَعَدُوا إِلَى الثَّنِيَّةِ يَنْظُرُونَ، أَصَدَقَهُمْ، فَاسْتَقْبَلُوا الْإِبِلَ فَسَأَلُوا: هَلْ ضَلَّ لَكُمْ بَعِيرٌ؟ قَالُوا: نَعَمْ، فَسَأَلُوا الْآخَرَ: هَلِ انْكَسَرَتْ لَكُمْ نَاقَةٌ حَمْرَاءُ؟ قَالُوا: نَعَمْ. قَالُوا: فَهَلْ كَانَ عِنْدَكُمْ قَصْعَةٌ؟ قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَنَا وَاللَّهِ وَضَعْتُهَا فَمَا شَرِبَهَا أَحَدٌ، وَلَا هَرَاقُوهُ فِي الْأَرْضِ، وَصَدَّقَهُ أَبُو بَكْرٍ وَآمَنَ بِهِ، فَسُمِّيَ يَوْمَئِذٍ الصِّدِّيقَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ أَبِي الْمُسَاوِرِ، مَتْرُوكٌ كَذَّابٌ.

EnglishUnverified translation

Umm Hāniʾ رضي الله عنها said: The Messenger of Allah ﷺ spent the night in which he was taken on the journey in my house. I missed him during the night and sleep was kept from me out of fear that some harm had befallen him from Quraysh. When he returned, the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Jibrīl عليه السلام came to me, took me by the hand, and led me out. Outside the house was a beast smaller than a mule and larger than a donkey. He mounted me upon it and journeyed until we reached Bayt al-Maqdis.** > > **He showed me Ibrāhīm, whose appearance resembles mine and whose character resembles mine. He showed me Mūsā, a tall man of brownish complexion with straight hair, resembling the men of Azd Shanūʾah. He showed me ʿĪsā ibn Maryam, of medium height, fair-skinned with a reddish tint, whom I found resembling ʿUrwah ibn Masʿūd al-Thaqafī. And he showed me the Dajjāl, blind in his right eye, whom I found resembling Qaṭan ibn ʿAbd al-ʿUzzā. Now I intend to go out to Quraysh and inform them of what I have seen."** I took hold of his garment and said, "I adjure you by Allah! You are going to a people who will call you a liar and reject your word, and I fear that they will assault you." He freed his garment from my hand and went out to them while they were sitting in their assembly, and informed them of what he had told me. Jubayr ibn Muṭʿim stood up and said, "O Muḥammad, had you still been the young man you were, you would not have spoken what you just said while you are living among us!" A man among them asked, "O Muḥammad, did you pass by camels belonging to us at such-and-such place?" He ﷺ said: > **"Yes, by Allah, I found them; they had lost a camel of theirs and were searching for it."** The man asked, "Did you pass by the camels of Banū so-and-so?" He ﷺ said: > **"Yes, I found them at such-and-such place; a red she-camel of theirs had broken its leg, and I found them with a bowl of water, so I drank what was in it."** They said, "Tell us their exact number and the herdsmen among them." He said: > **"I was occupied with other matters than counting them."** Then he stood, and the caravan was brought before his vision, so he counted them and knew their herdsmen. He then returned to Quraysh and said to them: > **"You asked me about the camels of Banū so-and-so: they are such-and-such number, and their herdsmen are so-and-so and so-and-so. And you asked me about the camels of Banū so-and-so: they are such-and-such number, and their herdsmen are Ibn Abī Quḥāfah and so-and-so and so-and-so; and they will arrive before you tomorrow morning at the mountain pass."** The people sat waiting at the pass to see if he had spoken the truth. When the camels appeared, they asked them, "Did you lose a camel?" They replied, "Yes." They asked the others, "Did a red she-camel of yours break its leg?" They replied, "Yes." They asked, "Did you have a bowl of water?" Abū Bakr said, "By Allah, I myself placed it, and no one drank from it, nor was it spilled upon the ground!" Abū Bakr believed in him and affirmed his truthfulness, and on that day he was named *al-Ṣiddīq* (the Affirmer of Truth).

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیده ام ہانی رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : جس رات نبی اکرم ﷺ کو معراج کروائی گئی ‘ اُس رات آپ میرے ہاں ٹھہرے ہوئے تھے ‘ رات کے وقت میں نے آپ کو غیر موجود پایا ‘ تو میں اس اندیشے کے تحت ساری رات سو نہیں سکی ‘ کہ کہیں قریش میں سے کسی نے آپ کو نقصان نہ پہنچا دیا ہو ( جب نبی اکرم ﷺ تشریف لائے ) تو آپ ﷺ نے بتایا : جبرائیل میرے پاس آئے ‘ اُنہوں نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے باہر لے گئے ‘ گھر کے باہر ایک جانور موجود تھا ‘ جو خچر سے کچھ چھوٹا اور گدھے سے کچھ بڑا تھا ‘ جبرائیل نے مجھے اس پر سوار کروایا اور پھر روانہ ہو گئے ‘ یہاں تک کہ بیت المقدس پہنچ گئے ‘ انہوں نے مجھے حضرت ابراہیم علیہ السلام دکھائے ‘ اُن کی ظاہری شکل و صورت میری ظاہری شکل و صورت کے ساتھ مشابہت رکھتی ہے ‘ اور میرے اخلاق ان کے اخلاق کے ساتھ مشابہت رکھتے ہیں ‘ جبرائیل نے مجھے حضرت موسیٰ علیہ السلام دکھائے ‘ جو گندمی رنگت کے طویل القامت شخص تھے ‘ اُن کے بال گھنگریالے تھے ‘ وہ ازدشنوہ قبیلے کے افراد کے ساتھ مشابہت رکھتے تھے ‘ جبرئیل نے مجھے حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام بھی دکھائے تھے ‘ وہ درمیانے قد اور سفید رنگ کے مالک تھے ُ‘ جو سرخی مائل تھا ، میں انہیں عروہ بن مسعود ثقفی کے مشابہ قرار دے سکتا ہوں ، جبرائیل نے مجھے دجال بھی دکھایا ‘ اس کی دائیں آنکھ نہیں تھی ، میں اسے قطن بن عبدالعزیٰ کے مشابہہ قرار دے سکتا ہوں ‘ ( پھر نبی اکرم ﷺ نے سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا سے فرمایا : ) اب میں قریش کی طرف جانے لگا ہوں اور میں نے جو کچھ دیکھا ہے ‘ اُنہیں اس کے بارے میں بتاؤں گا ( سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ) میں نے آپ ﷺ کا کپڑا پکڑ لیا اور عرض کی : میں آپ کو اللہ کا واسطہ دے کر کہتی ہوں ‘ کہ اگر آپ اپنی قوم کے پاس گئے ‘ تو وہ لوگ آپ کو جھوٹا قرار دیں گے اور آپ کی بات کا انکار کریں گے ‘ تو مجھے یہ اندیشہ ہے کہ کہیں وہ آپ کو نقصان پہنچائیں ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے میرے ہاتھ سے اپنا کپڑا چھڑوایا ‘ اور ان لوگوں کے پاس تشریف لے گئے ‘ وہ لوگ بیٹھے ہوئے تھے ‘ نبی اکرم ﷺ نے انہیں بھی وہی بات بتائی ‘ جو آپ ﷺ نے مجھے بتائی تھی ، تو جبیر بن مطعم کھڑا ہوا ‘ اور بولا : اے محمد ( ﷺ ) ! کاش کہ آپ ویسے ہی جوان ہوتے ‘ جیسے پہلے تھے ‘ اور آپ نے ہمارے درمیان جو کچھ بیان کیا ہے ‘ جبکہ آپ ہمارے درمیان تھے ۔ حاضرین میں سے ایک شخص بولا : اے حضرت محمد ! کیا آپ فلاں مقام پر ہمارے اونٹوں کے پاس سے بھی گزرے تھے ؟ نبی اکرم ﷺ نے جواب دیا : جی ہاں ! اللہ کی قسم ! میں نے اُن لوگوں کو پایا کہ ان کا ایک اونٹ گم ہو گیا تھا اور وہ لوگ اُسے تلاش کر رہے تھے ‘ اس شخص نے دریافت کیا : کیا آپ بنوفلاں کے اونٹوں کے پاس سے بھی گزرے تھے ؟ نبی اکرم ﷺ نے جواب دیا : جی ہاں ! میں نے اُن لوگوں کو فلاں ‘ فلاں مقام پر پایا تھا ‘ اُن کی سرخ اونٹنی ( کر گردن ) ٹوٹ گئی تھی ‘ میں نے اُن لوگوں کو پایا کہ ان کے پاس پانی کا ایک پیالہ تھا ‘ میں نے اُس پانی کو پیا تھا ، اُن لوگوں نے کہا : آپ ہمیں یہ بتائیں کہ ان ( اونٹوں ) کی تعداد کتنی تھی ؟ اُن کے ساتھ چرواہے کتنے تھے ؟ نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں : اُس وقت تو میں نے اُن کی گنتی نہیں کی تھی ، لیکن پھر نبی اکرم ﷺ کھڑے ہوئے ‘ تو آپ کے سامنے وہ منظر آ گیا ‘ آپ نے ان اونٹوں کی گنتی کی ‘ اور ان کے ہمراہ موجود چرواہوں کا علم حاصل کیا ، پھر آپ ﷺ قریش کے پاس تشریف لائے ‘ آپ نے اُن سے فرمایا : تم نے مجھ سے بنو فلاں کے اونٹوں کے بارے میں دریافت کیا تھا ‘ تو وہ اتنے ‘ اتنے ہیں ‘ اور ان کے ساتھ اتنے چرواہے ہیں ، جو فلاں اور فلاں ہیں ، تم نے مجھ سے بنو فلاں کے اونٹوں کے بارے میں دریافت کیا تھا ‘ تو وہ اتنے ہیں اور ان کے ساتھ اتنے چرواہے ہیں ‘ ابوقحافہ کا بیٹا ہے اور فلاں اور فلاں ہے ‘ اور وہ لوگ کل صبح گھاٹی کے پاس تمہارے سامنے آ جائیں گے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : تو وہ لوگ اُس گھاٹی کے پاس بیٹھ کر جائزہ لینے لگے ‘ کہ کیا نبی اکرم ﷺ نے ان کے ساتھ سچ بیان کیا ہے ؟ اُن کے سامنے اونٹ آئے ‘ تو ان مشرکین نے اُن لوگوں سے دریافت کیا : کیا تمہارا اونٹ گم ہوا تھا ؟ اُن لوگوں نے جواب دیا : جی ہاں ! پھر دوسرے لوگوں سے ان مشرکین نے دریافت کیا : کیا تمہاری سرخ اونٹنی ( کی گردن ) ٹوٹ گئی تھی ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ! مشرکین نے دریافت کیا : کیا تمہارے پاس کوئی پیالہ تھا ؟ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا : اللہ کی قسم ! میں نے اسے رکھا تھا اور اُس میں سے کسی نے بھی نہیں پیا اور نہ ہی لوگوں نے اُسے زمین پر بہایا ( پھر بھی اُس میں سے پانی کم ہو گیا تھا ) تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس حوالے سے نبی اکرم ﷺ کی تصدیق کی اور آپ پر ایمان رکھا ‘ تو اُس دن اُن کا نام ’’ صدیق ‘‘ رکھا گیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی عبدالاعلیٰ بن ابومساور ہے ‘ جو متروک اور کذاب ہے ۔

240

Majma al-Zawaid #240

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: «خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعْدَ صَلَاةِ الصُّبْحِ فَقَالَ: "" إِنِّي رَأَيْتُ رُؤْيَا هِيَ حَقٌّ فَاعْقِلُوهَا: أَتَانِي رَجُلٌ فَأَخَذَ بِيَدِي، فَاسْتَتْبَعَنِي حَتَّى أَتَى بِي جَبَلًا طَوِيلًا وَعْرًا، فَقَالَ لِي: ارْقَهْ، فَقُلْتُ: لَا أَسْتَطِيعُ، فَقَالَ: إِنِّي سَأُسَهِّلُهُ لَكَ، فَجَعَلْتُ كُلَّمَا رَقِيَتْ قَدَمَيَّ وَضَعْتُهَا عَلَى دَرَجَةٍ، حَتَّى اسْتَوَيْنَا عَلَى سَوَاءِ الْجَبَلِ، فَانْطَلَقْنَا فَإِذَا نَحْنُ بِرِجَالٍ وَنِسَاءٍ مُشَقَّقَةٍ أَشْدَاقُهُمْ، فَقُلْتُ: مَنْ هَؤُلَاءِ؟ قَالَ: هَؤُلَاءِ الَّذِينَ يَقُولُونَ مَا لَا يَعْلَمُونَ، ثُمَّ انْطَلَقْنَا فَإِذَا نَحْنُ بِرِجَالٍ وَنِسَاءٍ مُسَمَّرَةٍ أَعْيُنُهُمْ وَآذَانُهُمْ. قُلْتُ: مَا هَؤُلَاءِ؟ قَالَ: هَؤُلَاءِ الَّذِينَ يُرُونَ أَعْيُنَهُمْ مَا لَا يَرَوْنَ، وَيُسْمِعُونَ آذَانَهُمْ مَا لَا يَسْمَعُونَ، ثُمَّ انْطَلَقْنَا فَإِذَا نَحْنُ بِنِسَاءٍ مُعَلَّقَاتٍ بِعَرَاقِيبِهِنَّ، مُصَوَّبَةٍ رُءُوسُهُنَّ، تَنْهَشُ ثُدْيَانَهُنَّ الْحَيَّاتُ. قُلْتُ: مَا هَؤُلَاءِ؟ قَالَ: هَؤُلَاءِ الَّذِينَ يَمْنَعُونَ أَوْلَادَهُنَّ مِنْ أَلْبَانِهِنَّ، ثُمَّ انْطَلَقْنَا فَإِذَا نَحْنُ بِرِجَالٍ وَنِسَاءٍ مُعَلَّقَاتٍ بِعَرَاقِيبِهِنَّ، مُصَوَّبَةٍ رُءُوسُهُنَّ، يَلْحَسْنَ مِنْ مَاءٍ قَلِيلٍ وَحَمَأٍ. قُلْتُ: مَا هَؤُلَاءِ؟ قَالَ: هَؤُلَاءِ الَّذِينَ يَصُومُونَ وَيُفْطِرُونَ قَبْلَ تَحِلَّةِ صَوْمِهِمْ، ثُمَّ انْطَلَقْنَا فَإِذَا نَحْنُ بِرِجَالٍ وَنِسَاءٍ أَقْبَحِ شَيْءٍ مَنْظَرًا، وَأَقْبَحِهِ لَبُوسًا، وَأَنْتَنِهِ رِيحًا، كَأَنَّمَا رِيحُهُمُ الْمَرَاحِيضُ. قُلْتُ: مَا هَؤُلَاءِ؟ قَالَ: هَؤُلَاءِ الزَّانُونَ وَالزُّنَاةُ، ثُمَّ انْطَلَقْنَا فَإِذَا نَحْنُ بِمَوْتَى أَشَدِّ شَيْءٍ انْتِفَاخًا، وَأَنْتَنِهِ رِيحًا. قُلْتُ: مَا هَؤُلَاءِ؟ قَالَ: هَؤُلَاءِ مَوْتَى الْكُفَّارِ، ثُمَّ انْطَلَقْنَا فَإِذَا نَحْنُ نَرَى دُخَانًا وَنَسْمَعُ عُوَاءً. قُلْتُ: مَا هَذَا؟ قَالَ: هَذِهِ جَهَنَّمُ فَدَعْهَا، ثُمَّ انْطَلَقْنَا فَإِذَا نَحْنُ بِرِجَالٍ نِيَامٍ تَحْتَ ظِلَالِ الشَّجَرِ. قُلْتُ: مَا هَؤُلَاءِ؟ قَالَ: هَؤُلَاءِ مَوْتَى الْمُسْلِمِينَ، ثُمَّ انْطَلَقْنَا فَإِذَا نَحْنُ بِجَوَارٍ وَغِلْمَانٍ يَلْعَبُونَ بَيْنَ نَهْرَيْنِ. قُلْتُ: مَا هَؤُلَاءِ؟ قَالَ: ذُرِّيَّةُ الْمُؤْمِنِينَ، ثُمَّ انْطَلَقْنَا فَإِذَا نَحْنُ بِرِجَالٍ أَحْسَنِ شَيْءٍ وَجْهًا، وَأَحْسَنِهِ لَبُوسًا، وَأَطْيَبِهِ رِيحًا، كَأَنَّ وُجُوهَهُمُ الْقَرَاطِيسُ. قُلْتُ: مَا هَؤُلَاءِ؟ قَالَ: هَؤُلَاءِ الصِّدِّيقُونَ وَالشُّهَدَاءُ وَالصَّالِحُونَ، ثُمَّ انْطَلَقْنَا فَإِذَا نَحْنُ بِثَلَاثَةِ نَفَرٍ يَشْرَبُونَ خَمْرًا وَيُغَنُّونَ، فَقُلْتُ: مَا هَؤُلَاءِ؟ قَالَ: ذَاكَ زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ، وَجَعْفَرٌ، وَابْنُ رَوَاحَةَ، فَمِلْتُ قِبَلَهُمْ، فَقَالُوا: قُدْنَا لَكَ، قُدْنَا لَكَ، ثُمَّ رَفَعْتُ رَأْسِي فَإِذَا بِثَلَاثَةِ نَفَرٍ تَحْتَ الْعَرْشِ. قُلْتُ: مَا هَؤُلَاءِ؟ قَالَ: ذَاكَ أَبُوكَ إِبْرَاهِيمُ، وَمُوسَى، وَعِيسَى، وَهُمْ يَنْتَظِرُونَكَ - صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ أَجْمَعِينَ» - "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abū Umāmah al-Bāhilī رضي الله عنه said: The Messenger of Allah ﷺ came out to us after the morning prayer and said: > **"Indeed, I saw a vision that is absolute truth, so comprehend it well:** > > **A man came to me, took me by the hand, and had me follow him until he brought me to a lofty, rugged mountain. He said to me: 'Climb it.' I said: 'I am unable to.' He said: 'I shall make it easy for you.' So whenever I lifted my foot, I placed it upon a step, until we stood level upon the summit of the mountain.** > > **We proceeded, and behold, we came upon men and women whose cheeks were torn open. I asked: 'Who are these?' He said: 'These are the ones who speak of things they do not know.'** > > **Then we proceeded, and behold, we came upon men and women whose eyes and ears were pierced and sealed. I asked: 'Who are these?' He said: 'These are the ones who claim to show their eyes what they never saw, and make their ears hear what they never heard.'** > > **Then we proceeded, and behold, we came upon women suspended by their Achilles tendons, their heads hanging downward, with serpents tearing at their breasts. I asked: 'Who are these?' He said: 'These are the women who withheld their milk from their children.'** > > **Then we proceeded, and behold, we came upon men and women suspended by their Achilles tendons, their heads hanging downward, licking small traces of muddy, foul water. I asked: 'Who are these?' He said: 'These are the ones who fast and then break their fast before the lawful time of their fast.'** > > **Then we proceeded, and behold, we came upon men and women of the most hideous appearance, the foulest clothing, and the most putrid stench, as though their odor were that of latrines. I asked: 'Who are these?' He said: 'These are the male and female fornicators.'** > > **Then we proceeded, and behold, we came upon corpses that were severely bloated and intensely foul-smelling. I asked: 'Who are these?' He said: 'These are the deceased of the disbelievers.'** > > **Then we proceeded, and behold, we saw smoke and heard howling. I asked: 'What is this?' He said: 'This is Hell, so leave it.'** > > **Then we proceeded, and behold, we came upon men sleeping peacefully beneath the shade of trees. I asked: 'Who are these?' He said: 'These are the deceased of the Muslims.'** > > **Then we proceeded, and behold, we came upon young girls and boys playing between two rivers. I asked: 'Who are these?' He said: 'These are the deceased offspring of the believers.'** > > **Then we proceeded, and behold, we came upon men possessing the most handsome faces, the finest clothing, and the sweetest fragrance, as though their faces were sheets of pure parchment. I asked: 'Who are these?' He said: 'These are the truthful (*al-Ṣiddīqūn*), the martyrs (*al-Shuhadāʾ*), and the righteous (*al-Ṣāliḥūn*).'** > > **Then we proceeded, and behold, we came upon three persons drinking wine and chanting. I asked: 'Who are these?' He said: 'That is Zayd ibn Ḥārithah, Jaʿfar, and Ibn Rawāḥah.' I inclined toward them, and they said: 'We are prepared for you, we are prepared for you!'** > > **Then I raised my head, and behold, there were three persons beneath the Throne. I asked: 'Who are these?' He said: 'That is your forefather Ibrāhīm, Mūsā, and ʿĪsā, and they are awaiting you'—may the peace and blessings of Allah be upon them all."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : صبح کی نماز کے بعد ‘ نبی اکرم ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے اور آپ نے بتایا : میں نے ایسا خواب دیکھا ہے ‘ جو حق ہے ‘ تو تم لوگ اسے یاد کر لو ! ایک شخص میرے پاس آیا ‘ اُس نے میرا ہاتھ پکڑا ‘ اور مجھے ساتھ لے کر چل پڑا ‘ یہاں تک کہ وہ ایک اونچے اور سپاٹ پہاڑ کے پاس آیا ‘ اُس نے مجھ سے کہا : آپ اس پر چڑھیں ! میں نے کہا : میں ایسا نہیں کر سکتا ، اُس نے کہا : میں اس کام کو آپ کے لیے آسان کر دوں گا ‘ جب میں نے چڑھنا شروع کیا ‘ تو میرا پاؤں کسی سیڑھی پر پڑتا تھا ‘ یہاں تک کہ ہم لوگ پہاڑ کے اوپر پہنچ گئے ‘ ہم چلتے ہوئے جا رہے تھے ‘ اس دوران ہمارے سامنے کچھ مرد اور عورتیں آئے جن کی باچھیں چیری ہوئی تھیں ، میں نے دریافت کیا : یہ کون لوگ ہیں ؟ اُس نے بتایا : یہ وہ لوگ ہیں ‘ جو وہ باتیں بیان کرتے تھے ‘ جن کا انہیں علم نہیں ہوتا تھا ، پھر ہم چلتے رہے ‘ یہاں تک کہ ہمارے سامنے کچھ مرد اور عورتیں آئے ، جن کی آنکھیں اور کان جامد تھے ‘ میں نے دریافت کیا : یہ کون لوگ ہیں ؟ اُس نے بتایا : یہ وہ لوگ ہیں ، جو اپنی آنکھوں کو وہ چیزیں دکھاتے تھے ‘ جو انہوں نے دیکھی ہوئی نہیں ہوتی تھیں ( یعنی جھوٹے خواب بیان کرتے تھے ) اور اپنے کانوں کو وہ باتیں سناتے تھے ‘ جو انہوں نے سنی ہوئی نہیں ہوتی تھیں ( یعنی کوئی بات سننے کا جھوٹا دعوی کرتے تھے ) پھر ہم چلتے رہے ‘ یہاں تک کہ ہمارے سامنے کچھ عورتیں آئیں ، جو پنڈلیوں کے بل لٹکی ہوئی تھیں ، اُن کے سر نیچے کی طرف تھے اور اُن کی چھاتیوں کو سانپ نوچ رہے تھے ‘ میں نے دریافت کیا : یہ کون ہیں ؟ فرشتے نے بتایا : یہ وہ عورتیں ہیں ‘ جو اپنی اولاد کو اپنا دودھ نہیں پلاتی تھیں ۔ ( نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں : ) پھر ہم چلتے رہے ‘ ہمارے سامنے ایسے مرد اور عورتیں آئے ‘ جو پنڈلیوں کے بل لٹکے ہوئے تھے ‘ اُن کے سر نیچے کی طرف تھے ‘ وہ تھوڑا سا پانی اور کیچڑ چاٹ رہے تھے ‘ میں نے دریافت کیا : یہ کون ہیں ؟ اس نے بتایا : یہ وہ لوگ ہیں ‘ جو روزہ رکھتے تھے اور افطاری کا وقت ہونے سے پہلے روزہ ختم کر دیتے تھے ‘ پھر ہم چلتے رہے ‘ ہمارے سامنے کچھ مرد اور عورتیں آئے جن کا منظر دیکھنے میں انتہائی برا تھا ‘ اُن کا لباس انتہائی برا تھا ‘ اُن کی بو انتہائی بدبودار تھی ‘ یوں محسوس ہوتا تھا کہ ان کی بو بیت الخلا کی بو ہو ‘ میں نے دریافت کیا : یہ کون لوگ ہیں ؟ اس نے بتایا : یہ زنا کرنے والے مرد اور زنا کرنے والی عورتیں ہیں ‘ پھر ہم چلتے رہے ‘ ہمارے سامنے کچھ مردے آئے جو بہت زیادہ پھولے ہوئے تھے اور انتہائی بدبودار تھے ‘ میں نے دریافت کیا : یہ کون لوگ ہیں ؟ اُس نے بتایا : یہ کفار کے مرے ہوئے لوگ ہیں ، پھر ہم چلتے رہے ‘ یہاں تک کہ ہم نے دھواں دیکھا اور چیخ و پکار سنی میں نے دریافت کیا : یہ کیا ہے ؟ اس نے بتایا : یہ جہنم ہے ‘ آپ اسے رہنے دیں ‘ پھر ہم چلتے رہے ‘ ہمارے سامنے کچھ افراد آئے ‘ جو ایک درخت کے سائے میں سوئے ہوئے تھے ‘ میں نے دریافت کیا : یہ کون لوگ ہیں ؟ انہوں نے بتایا : یہ مسلمانوں کے مرحومین ہیں ‘ پھر ہم چلتے رہے ‘ تو ہمارے سامنے کچھ بچے اور بچیاں آئے ‘ جو دو نہروں کے درمیان کھیل رہے تھے ‘ میں نے دریافت کیا : یہ کون ہیں ؟ اُس نے بتایا : یہ اہل ایمان کی اولاد ہیں ( یعنی مسلمانوں کے وہ بچے ہیں ، جو بچپن میں فوت ہو گئے تھے ) پھر ہم چلتے رہے ‘ تو ہمارے سامنے کچھ ایسے افراد آئے جن کے چہرے خوبصورت تھے ‘ لباس خوبصورت تھا ، خوشبو انتہائی پاکیزہ تھی ‘ اُن کے چہرے قرطاس ( اس سے مراد کاغذ بھی ہو سکتا ہے اور مصر کی مخصوص چادر بھی ہو سکتی ہے ) محسوس ہوتے تھے ‘ میں نے دریافت کیا : یہ کون ہیں ؟ اس نے بتایا : یہ صدیقین ، شہداء اور صالحین ہیں ، پھر ہم چلتے رہے ‘ ہمارے سامنے تین افراد آئے ‘ جو مشروب پی رہے تھے اور کچھ ( ترنم کے ساتھ ) پڑھ رہے تھے ‘ میں نے دریافت کیا : یہ کون ہیں ؟ اُس نے بتایا : یہ زید بن حارثہ ‘ جعفر ( طیار ) اور ابن رواحہ ہیں ، میں اُن کی طرف جانے لگا ‘ تو اُنہوں ( یعنی فرشتوں ) نے کہا : ہم آپ کو لے کر چلتے ہیں ، ہم آپ کو لے کر چلتے ہیں ۔ میں نے اپنا سر اٹھایا ‘ تو عرش کے نیچے تین افراد موجود تھے ‘ میں نے دریافت کیا : یہ کون ہیں ؟ اُس نے بتایا : یہ آپ کے جد امجد حضرت ابراہیم علیہ السلام ہیں اور حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہیں اور یہ حضرات آپ کا انتظار کر رہے ہیں ( راوی کہتے ہیں : ) اللہ تعالیٰ کی رحمتیں ان سب پر نازل ہوں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔