Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 1 · Chapter 5

Book of Faith

Hadith 161–200

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

161

Majma al-Zawaid #161

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «الْمُؤْمِنُونَ فِي الدُّنْيَا ثَلَاثَةُ أَجْزَاءٍ: الَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ ثُمَّ لَمْ يَرْتَابُوا وَجَاهَدُوا بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَالَّذِي يَأْمَنُهُ النَّاسُ عَلَى أَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ، ثُمَّ الَّذِي إِذَا أَشْرَفَ لَهُ طَمَعٌ تَرَكَهُ لِلَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ -». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ دَرَّاجٌ وَقَدْ وُثِّقَ، وَضَعَّفَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ.

EnglishUnverified translation

Abū Saʿīd al-Khudrī رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"The believers in the world are of three categories: those who believe in Allah and His Messenger, then never doubt, and strive with their wealth and their lives in the cause of Allah; the one whom people trust with their wealth and their lives; and the one who, when greed presents itself to him, abandons it for the sake of Allah, Mighty and Majestic."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ دنیا میں ایمان والے تین قسم کے ہیں ‘ وہ لوگ ‘ جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے اور پھر کسی شک کا شکار نہیں ہوئے ‘ اور انہوں نے اپنے اموال اور اپنی جانوں کے ہمراہ ‘ اللہ کی راہ میں جہاد کیا ( اور دوسری قسم ‘ وہ اہل ایمان ہیں ) کہ دوسرے لوگ اپنے اموال اور اپنی جانوں کے حوالے سے اُن سے محفوظ ہوں ( اور تیسری قسم ‘ وہ اہل ایمان ہیں ) کہ جب کوئی لالچ کی چیز ‘ ان کے سامنے آئے ‘ تو وہ اللہ کی رضا کے لیے اُسے ترک کر دیں ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ’’ دراج ‘‘ ہے ، جس کی توثیق کی گئی ہے ‘ تاہم ایک سے زیادہ افراد نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔

162

Majma al-Zawaid #162

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" بِحَسْبِ امْرِئٍ مِنَ الْإِيمَانِ أَنْ يَقُولَ: رَضِيتُ بِاللَّهِ رِبًّا، وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولًا، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَقَالَ: لَمْ يَرْوِهِ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ إِلَّا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَيْرٍ. قُلْتُ: ذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما said: The Messenger of Allah ﷺ said: > **"It is sufficient faith for a person that he says: 'I am pleased with Allah as my Lord, with Muḥammad as my Messenger, and with Islam as my religion.'"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں :: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ ایمان کے حوالے سے آدمی کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ یہ کہے : کہ میں اللہ تعالٰی کے پروردگار ہونے ‘ حضرت محمد ( ﷺ ) کے رسول ہونے اور اسلام کے دین ہونے سے راضی ہوں ( یعنی ان پر ایمان رکھتا ہوں ) ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور انہوں نے یہ بات بیان کی ہے : یہ روایت ہشام بن عروہ کے حوالے سے صرف محمد بن عمیر نے نقل کی ہے ۔ ( علامہ ہیثمی کہتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ابن حبان نے اس راوی کا تذکرہ کتاب ’’ الثقات ‘‘ میں کیا ہے ۔

163

Majma al-Zawaid #163

«وَعَنْ جَابِرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: أَمَرَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سُحَيْمًا أَنْ يُؤَذِّنَ فِي النَّاسِ أَنْ "" لَا يَدْخُلَ الْجَنَّةَ إِلَّا مُؤْمِنٌ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Jābir رضي الله عنه said: The Prophet ﷺ commanded Suḥaym to proclaim among the people: > **"None shall enter Paradise except a believer."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے حضرت سحیم رضی اللہ عنہ کو یہ حکم دیا : کہ وہ لوگوں کے درمیان یہ اعلان کر دیں : ’’ جنت میں ‘ صرف مؤمن ہی داخل ہو گا ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

164

Majma al-Zawaid #164

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - قَسَّمَ بَيْنَكُمْ أَخْلَاقَكُمْ كَمَا قَسَّمَ بَيْنَكُمْ أَرْزَاقَكُمْ، وَإِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - يُعْطِي الدُّنْيَا مَنْ يُحِبُّ وَمَنْ لَا يُحِبُّ، وَلَا يُعْطِي الدِّينَ إِلَّا مَنْ أَحَبَّ، فَمَنْ أَعْطَاهُ الدِّينَ فَقَدْ أَحَبَّهُ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا يُسْلِمُ عَبْدٌ حَتَّى يُسْلِمَ قَلْبُهُ وَلِسَانُهُ، وَلَا يُؤْمِنُ حَتَّى يَأْمَنَ جَارُهُ بَوَائِقَهُ "". قُلْتُ: وَمَا بَوَائِقُهُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ؟ قَالَ: "" غِشُّهُ وَظُلْمُهُ، وَلَا يَكْسِبُ مَالًا مِنْ حَرَامٍ فَيُنْفِقُ مِنْهُ فَيُبَارَكُ لَهُ فِيهِ، وَلَا يَتَصَدَّقُ مِنْهُ فَيُقْبَلُ مِنْهُ، وَلَا يَتْرُكُهُ خَلْفَ ظَهْرِهِ إِلَّا كَانَ زَادَهُ إِلَى النَّارِ، إِنَّ اللَّهَ لَا يَمْحُو السَّيِّئَ بِالسَّيِّئِ، وَلَكِنَّهُ يَمْحُو السَّيِّئَ بِالْحَسَنِ، إِنَّ الْخَبِيثَ لَا يَمْحُو الْخَبِيثَ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُ إِسْنَادِهِ بَعْضُهُمْ مَسْتُورٌ، وَأَكْثَرُهُمْ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Masʿūd رضي الله عنه said: The Messenger of Allah ﷺ said: > **"Indeed, Allah, Mighty and Majestic, has distributed your character among you just as He has distributed your provision among you. And indeed, Allah, Mighty and Majestic, gives worldly wealth to whom He loves and to whom He does not love, but He does not grant religion except to whom He loves. So whoever has been granted religion by Him, He has loved him. By the One in Whose Hand is my soul, no servant has truly embraced Islam until his heart and tongue submit, and he does not truly believe until his neighbor is safe from his harmful conduct (bawāʾiq)."** I asked, "And what is his harmful conduct, O Prophet of Allah?" He ﷺ said: > **"His deceit and his oppression. A person does not acquire wealth from unlawful means and spend from it and have it blessed for him; nor does he give charity from it and have it accepted from him; nor does he leave it behind his back except that it will be his provision heading to the Fire. Indeed, Allah does not erase evil with evil, but rather He erases evil with good; indeed, the foul does not erase the foul."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ بے شک اللہ تعالیٰ نے تمہارے درمیان تمہارے اخلاق اُسی طرح تقسیم کیے ہیں ، جس طرح اُس نے تمہارے درمیان تمہارا رزق تقسیم کیا ہے ‘ بے شک اللہ تعالیٰ دنیا اسے بھی عطا کرتا ہے ‘ جسے وہ پسند کرتا ہے اور اُسے بھی عطا کرتا ہے ‘ جسے وہ پسند نہیں کرتا ہے ‘ لیکن وہ دین صرف اُسے عطا کرتا ہے ‘ جسے وہ پسند کرتا ہے ، تو جس شخص کو وہ دین عطا کر دے ( تو اس کا مطلب یہ ہو گا : ) کہ وہ اُسے پسند کرتا ہے ‘ اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ‘ کوئی بندہ اس وقت تک مسلمان نہیں ہوتا ‘ جب تک اُس کا دل اور زبان مسلمان نہیں ہوتے ( یا سلامت نہیں رہتے ) اور وہ اُس وقت تک مؤمن نہیں ہوتا ‘ جب تک اُس کا پڑوی اُس کی زیادتی سے محفوظ نہ ہو ‘ میں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! اُس کی زیادتیوں سے مراد کیا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اس کا دھوکہ دینا اور ظلم کرنا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ( نبی اکرم ﷺ نے مزید ارشاد فرمایا : ) ایسا نہیں ہوتا کہ آدمی نے حرام طور پر مال کمایا ہو ‘ اور پھر اس میں سے ( اللہ کی راہ میں ) خرچ کیا ہو ‘ تو اس کے لیے اُس مال میں برکت ڈال دی گئی ہو ‘ یا اُس شخص نے اُس مال میں سے صدقہ کیا ہو ‘ تو وہ اُس کی طرف سے قبول ہو جائے ‘ اگر وہ ایسا مال اپنے پیچھے چھوڑ کر جاتا ہے ‘ تو وہ مال جہنم کی طرف جانے کے لیے اُس کا زاد سفر ہو گا ‘ بے شک اللہ تعالٰی برائی کو برائی کے ذریعے نہیں مٹاتا ہے ‘ بلکہ وہ برائی کو ‘ اچھائی کے ذریعے مٹاتا ہے ‘ کیونکہ خبیث چیز کسی خبیث چیز کو نہیں مٹاتی ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند کے بعض راوی مستور ہیں ‘ جبکہ زیادہ تر ثقہ ہیں ۔

165

Majma al-Zawaid #165

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" لَا يَسْتَقِيمُ إِيمَانُ عَبْدٍ حَتَّى يَسْتَقِيمَ قَلْبُهُ، وَلَا يَسْتَقِيمُ قَلْبُهُ حَتَّى يَسْتَقِيمَ لِسَانُهُ، وَلَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ حَتَّى يَأْمَنَ جَارُهُ بَوَائِقَهُ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِي إِسْنَادِهِ عَلِيُّ بْنُ مَسْعَدَةَ وَثَّقَهُ جَمَاعَةٌ، وَضَعَّفَهُ آخَرُونَ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Mālik رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"The faith of a servant will not become upright until his heart becomes upright, and his heart will not become upright until his tongue becomes upright; and a servant will not enter Paradise until his neighbor is safe from his harmful conduct."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ بندے کا ایمان اُس وقت تک ٹھیک نہیں ہوتا ‘ جب تک اُس کا دل ٹھیک نہ ہو ‘ اور اُس کا دل اُس وقت تک ٹھیک نہیں ہوتا ، جب تک اُس کی زبان ٹھیک نہ ہو ‘ اور آدمی اُس وقت تک جنت میں داخل نہیں ہو گا ، جب تک اُس کا پڑوسی اُس کی زیادتیوں سے محفوظ نہ ہو ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی علی بن مسعدہ ہے ‘ جسے ایک جماعت نے ثقہ قرار دیا ہے اور دیگر حضرات نے اس کو ضعیف قرار دیا ہے ۔

166

Majma al-Zawaid #166

«وَعَنْ أَبِي رَزِينٍ الْعُقَيْلِيِّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ يُحْيِي اللَّهُ الْمَوْتَى؟ قَالَ: "" أَمَرَرْتَ بِأَرْضٍ مِنْ أَرْضِكَ مُجْدِبَةً، ثُمَّ مَرَرْتَ بِهَا مُخْصِبَةً؟ "" قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: "" كَذَلِكَ النُّشُورُ "". قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا الْإِيمَانُ؟ قَالَ: "" أَنْ تَشْهَدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، وَأَنْ يَكُونَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَحَبَّ إِلَيْكَ مِمَّا سِوَاهُمَا، وَأَنْ تَحْتَرِقَ فِي النَّارِ أَحَبُّ إِلَيْكَ مِنْ أَنْ تُشْرِكَ بِاللَّهِ، وَأَنْ تُحِبَّ غَيْرَ ذِي نَسَبٍ لَا تُحِبُّهُ إِلَّا لِلَّهِ، فَإِذَا كُنْتَ كَذَلِكَ فَقَدْ دَخَلَ حُبُّ الْإِيمَانِ فِي قَلْبِكَ كَمَا دَخَلَ حُبُّ الْمَاءِ لِلظَّمْآنِ فِي الْيَوْمِ الْقَائِظِ. قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ لِي بِأَنْ أَعْلَمَ أَنِّي مُؤْمِنٌ؟ قَالَ: "" مَا مِنْ أُمَّتِي - أَوْ هَذِهِ الْأُمَّةِ - عَبْدٌ يَعْمَلُ حَسَنَةً فَيَعْلَمُ أَنَّهَا حَسَنَةً، وَأَنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - جَازِيهِ بِهَا خَيْرًا، وَلَا يَعْمَلُ سَيِّئَةً وَيَسْتَغْفِرُ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - مِنْهَا، وَيَعْلَمُ أَنَّهُ يَغْفِرُ - إِلَّا وَهُوَ مُؤْمِنٌ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِي إِسْنَادِهِ سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى، وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَأَبُو حَاتِمٍ، وَضَعَّفَهُ آخَرُونَ.

EnglishUnverified translation

Abū Razīn al-ʿUqaylī رضي الله عنه said: I came to the Messenger of Allah ﷺ and asked, "O Messenger of Allah, how does Allah bring the dead to life?" He ﷺ said: > **"Have you ever passed by a barren valley in your land, and then passed by it later when it was lush and fertile?"** He said, "Yes." He ﷺ said: > **"Thus is the Resurrection."** He asked, "O Messenger of Allah, what is faith?" He ﷺ said: > **"That you testify that there is no deity worthy of worship except Allah alone, without partner, and that Muḥammad is His slave and Messenger; that Allah and His Messenger are more beloved to you than anything else; that being burned in the fire is more beloved to you than associating partners with Allah; and that you love an unrelated person loving him solely for the sake of Allah. When you are like that, the love of faith will have entered your heart just as the love of water enters the thirsty person on a scorching day."** I asked, "O Messenger of Allah, how can I know that I am a believer?" He ﷺ said: > **"There is no servant from my nation — or this nation — who performs a good deed and knows that it is good and that Allah, Mighty and Majestic, will reward him for it with good, nor does he commit an evil deed and seeks forgiveness from Allah, Mighty and Majestic, knowing that He forgives — except that he is indeed a believer."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابورزین عقیلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں اللہ کے رسول ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ‘ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اللہ تعالیٰ مردوں کو کیسے زندہ کرے گا ؟ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کیا کبھی تمہارا گزر ‘ اپنے علاقے میں کسی ایسی زمین کے پاس سے ہوا ہے ؟ جو پہلے بنجر تھی اور پھر جب تم اُس کے پاس سے گزرے ‘ تو وہ سرسبز و شاداب ہو چکی ہو ؟ حضرت ابورزین رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : جی ہاں ! نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اسی طرح ( انسانوں کو ) دوبارہ زندہ کیا جائے گا ‘ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ایمان سے مراد کیا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : یہ کہ تم اس بات کی گواہی دو کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ‘ صرف وہی معبود ہے ‘ اُس کا کوئی شریک نہیں ہے اور حضرت محمد ﷺ اس کے بندے اور اُس کے رسول ہیں ، اور یہ کہ اللہ اور اُس کا رسول ‘ تمہارے نزدیک ان دونوں کے علاوہ ‘ ہر ایک سے زیادہ محبوب ہوں ‘ اور یہ کہ تم آگ میں جل جاؤ یہ تمہارے نزدیک اس سے زیادہ پسندیدہ ہو ‘ کہ تم کسی کو اللہ کا شریک قرار دو ‘ اور یہ کہ تم کسی ایسے شخص کے ساتھ محبت رکھو ‘ جو نسب والا نہ ہو ( یعنی جس کے ساتھ کوئی نسبی تعلق نہ ہو ) تم صرف اللہ تعالیٰ کی خاطر ‘ اُس سے محبت رکھو ! جب تم ایسے ہو جاؤ گے ‘ تو ایمان کی محبت تمہارے دل میں یوں داخل ہو جائے گی ، جیسے سخت گرم دن میں ‘ پانی کی محبت پیاسے شخص ( کے دل میں ) داخل ہو جاتی ہے ‘ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں یہ بات کیسے جان سکتا ہوں کہ میں مؤمن ہوں ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : میری امت کا ( راوی کو شک ہے ‘ یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) اس امت کا جو بھی شخص نیکی کرے ‘ اور وہ یہ جانتا ہو کہ یہ نیکی ہے ‘ اور اللہ تعالیٰ اُسے اس کی جزائے خیر عطا کرے گا ‘ یا جو شخص کسی برائی کا ارتکاب کرے اور پھر اُس کے حوالے سے ‘ اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرے ‘ اور وہ یہ بات جانتا ہو کہ اللہ تعالیٰ ہی مغفرت کر سکتا ہے ‘ تو ایسا شخص مؤمن ہو گا ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن موسیٰ ہے ‘ جسے یحییٰ بن معین اور ابوحاتم نے ثقہ قرار دیا ہے ‘ جبکہ دیگر حضرات نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔

167

Majma al-Zawaid #167

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ قَالَ: «أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَنْ مَعَكَ عَلَى هَذَا الْأَمْرِ؟ قَالَ: "" حُرٌّ وَعَبْدٌ "" قُلْتُ: مَا الْإِسْلَامُ؟ قَالَ: "" طِيبُ الْكَلَامِ، وَإِطْعَامُ الطَّعَامِ "". قُلْتُ: مَا الْإِيمَانُ؟ قَالَ: "" الصَّبْرُ وَالسَّمَاحَةُ "". قَالَ: قُلْتُ: أَيُّ الْإِسْلَامِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: "" مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ "" قُلْتُ: أَيُّ الْإِيمَانِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: "" خُلُقٌ حَسَنٌ "". قُلْتُ: أَيُّ الصَّلَاةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: "" طُولُ الْقُنُوتِ "". قُلْتُ: أَيُّ الْهِجْرَةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: أَنْ تَهْجُرَ مَا كَرِهَ رَبُّكَ». قُلْتُ: رَوَى مُسْلِمٌ مِنْهُ: مَنْ مَعَكَ عَلَى هَذَا الْأَمْرِ؟ قَالَ: حُرٌّ وَعَبْدٌ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِي إِسْنَادِهِ شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ، وَقَدْ وُثِّقَ عَلَى ضَعْفٍ فِيهِ.

EnglishUnverified translation

ʿAmr ibn ʿAbasah رضي الله عنه said: I came to the Messenger of Allah ﷺ and asked, "O Messenger of Allah, who is with you in this matter?" He ﷺ said: > **"A free man and a slave."** I asked, "What is Islam?" He ﷺ said: > **"Pleasant speech and providing food."** I asked, "What is faith?" He ﷺ said: > **"Patience and generosity."** I asked, "Which Islam is best?" He ﷺ said: > **"The one from whose tongue and hand Muslims are safe."** I asked, "Which faith is best?" He ﷺ said: > **"Noble character."** I asked, "Which prayer is best?" He ﷺ said: > **"Lengthy standing in devotion."** I asked, "Which emigration (hijrah) is best?" He ﷺ said: > **"That you abandon what your Lord dislikes."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ۔ میں اللہ کے رسول کی خدمت میں حاضر ہوا ‘ میں نے دریافت کیا : دین میں آپ ﷺ کا ساتھ دینے والے کون ہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے جواب دیا : ایک آزاد شخص اور ایک غلام ‘ میں نے دریافت کیا : اسلام سے مراد کیا ہے ؟ ( یعنی اسلام کی بنیادی تعلیمات کیا ہیں ؟ ) نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اچھی گفتگو کرنا اور کھانا کھلانا ‘ میں نے دریافت کیا : ایمان سے مراد کیا ہے ؟ نبی اکرم نے جواب دیا : صبر اور نرمی ، میں نے دریافت کیا : اسلام میں ( کون سا شخص ) سب سے بہتر ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جس کی زبان اور ہاتھ سے ( دوسرے ) مسلمان سلامت رہیں ‘ میں نے دریافت کیا : ایمان ( یعنی مؤمن کی ) کون کسی چیز سب سے زیادہ فضیلت رکھتی ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اچھے اخلاق ‘ میں نے دریافت کیا : کون سی نماز زیادہ فضیلت رکھتی ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : طویل قیام والی ‘ میں نے دریافت کیا : کون سی ہجرت زیادہ فضیلت رکھتی ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : یہ کہ تم اس چیز سے لاتعلق ہو جاؤ ‘ جو تمہارے پروردگار کو ناپسند ہو ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : کہ امام مسلم نے اس روایت میں سے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ’’ اس دین میں آپ کے ساتھ کون ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ایک آزاد شخص اور ایک غلام ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی شہر بن حوشب ہے ‘ اس میں موجود ضعف کے باوجود اس کو ثقہ قرار دیا گیا ہے ۔

168

Majma al-Zawaid #168

وَعَنْ أَنَسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" الْمُؤْمِنُ مَنْ أَمِنَهُ النَّاسُ، وَالْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ، وَالْمُهَاجِرُ مَنْ هَجَرَ السُّوءَ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ عَبْدٌ لَا يَأْمَنُ جَارُهُ بَوَائِقَهُ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا عَلِيَّ بْنَ زَيْدٍ، وَقَدْ شَارَكَهُ فِيهِ حُمَيْدٌ وَيُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ.

EnglishUnverified translation

Anas رضي الله عنه said: The Messenger of Allah ﷺ said: > **"The believer is the one whom people trust, the Muslim is the one from whose tongue and hand Muslims are safe, and the emigrant (muhājir) is the one who abandons evil. By the One in Whose Hand is my soul, no servant will enter Paradise whose neighbor is not safe from his harmful conduct."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں :: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ مومن وہ ہے ‘ جس سے لوگ امان میں ہوں ‘ اور مسلمان وہ ہے ‘ جس کی زبان اور ہاتھ سے مسلمان سلامت ( یعنی محفوظ ‘ رہیں ‘ اور مہاجر وہ ہے ‘ جو برائی سے لاتعلق ہو جائے ‘ اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ‘ ایسا بندہ جنت میں داخل نہیں ہو گا ‘ جس کا پڑوسی اُس کی زیادتیوں سے محفوظ نہ ہو ‘‘۔ یہ روایت امام احمد ‘ امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ‘ صرف علی بن زید کا معاملہ مختلف ہے ‘ اس روایت کے بارے میں حمید اور یونس بن عبید نے اس کی مشارکت کی ہے ۔

169

Majma al-Zawaid #169

وَعَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذٍ، عَنْ أَبِيهِ، «عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" إِنَّ السَّالِمَ مَنْ سَلِمَ النَّاسُ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِي إِسْنَادِهِ ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ زَبَّانَ، وَكِلَاهُمَا ضَعِيفٌ، وَقَدْ وَثَّقَ زَبَّانَ أَبُو حَاتِمٍ، وَرَوَاهُ زَبَّانُ أَيْضًا فَقَالَ: الْمُسْلِمُ، بَدَلَ: السَّالِمِ. وَلَيْسَ فِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ.

EnglishUnverified translation

Sahl ibn Muʿādh narrated from his father رضي الله عنه that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Indeed, the one who attains safety [or the true Muslim] is he from whose tongue and hand people are safe."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سہل بن معاذ ‘ اپنے والد کے حوالے سے ‘ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ سلامتی والا وہ ہے ‘ جس کی زبان اور ہاتھ سے لوگ محفوظ رہیں ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں یہ مذکور ہے کہ اسے ابن لبیعہ نے زبان سے روایت کیا ہے اور یہ دونوں ضعیف ہیں ‘ زبان کو ابوحاتم نے ثقہ قرار دیا ہے ‘ زبان نے ہی یہ روایت لفظ ’’ سالم ‘‘ کی جگہ لفظ ’’ مسلم ‘‘ کے ساتھ نقل کی ہے ‘ لیکن اس روایت کی سند میں ابن لہیعہ نہیں ہے ۔

170

Majma al-Zawaid #170

وَعَنْ أَنَسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سُئِلَ عَنِ الْمُؤْمِنِ قَالَ: "" مَنْ أَمِنَهُ جَارُهُ، وَلَا يَخَافُ بَوَائِقَهُ» "" فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ، وَالْأَكْثَرُ عَلَى تَوْثِيقِهِ.

EnglishUnverified translation

Anas رضي الله عنه said: The Prophet ﷺ was asked about the believer, and he said: > **"The one whose neighbor is safe from him and does not fear his harmful conduct."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ سے مؤمن کے بارے میں سوال کیا گیا ، تو آپ نے ارشاد فرمایا : جس سے اُس کا پڑوسی محفوظ ہو اور جس کی زیادتی کا ( اُس کے پڑوسی کو ) خوف نہ ہو ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث نقل کی ہے ‘ اسے امام ابویعلیٰ نے روایت کیا ہے اور اس کی سند میں ایک راوی مبارک بن فضالہ ہے ‘ اکثر حضرات نے اُس کی توثیق کی ہے ۔

171

Majma al-Zawaid #171

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ: «دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى عُمَرَ وَمَعَهُ أُنَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَقَالَ: "" أَمُؤْمِنُونَ أَنْتُمْ؟ "" فَسَكَتُوا، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَقَالَ عُمَرُ فِي آخِرِهِمْ: نَعَمْ نُؤْمِنُ عَلَى مَا أَتَيْتَنَا بِهِ، وَنَحْمَدُ اللَّهَ فِي الرَّخَاءِ، وَنَصْبِرُ عَلَى الْبَلَاءِ، وَنُؤْمِنُ بِالْقَضَاءِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مُؤْمِنُونَ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَلَهُ فِي الْكَبِيرِ: «فَقَالَ عُمَرُ فِي آخِرِهِمْ: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" وَمِمَّ ذَاكَ؟ "" فَقَالَ عُمَرُ: نَرْجُو ثَوَابًا مِنَ اللَّهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مُؤْمِنُونَ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ». وَفِي إِسْنَادِهِ يُوسُفُ بْنُ مَيْمُونٍ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ، وَالْأَكْثَرُ عَلَى تَضْعِيفِهِ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما said: The Messenger of Allah ﷺ entered upon ʿUmar while several of his Companions were with him. He ﷺ asked: > **"Are you believers?"** They remained silent. He repeated it three times. At the end, ʿUmar said, "Yes, we believe in that which you have brought to us, we praise Allah in prosperity, we show patience in adversity, and we believe in the divine decree." The Messenger of Allah ﷺ said: > **"You are believers, by the Lord of the Kaʿbah!"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس : بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لائے ‘ آپ ﷺ کے ساتھ آپ ﷺ کے کچھ اصحاب بھی تھے ‘ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کیا تم لوگ مؤمن ہو ؟ تو وہ لوگ خاموش رہے ‘ ایسا تین مرتبہ ہوا ‘ آخری مرتبہ میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : جی ہاں ! اہم اس چیز پر ایمان رکھتے ہیں ‘ جو آپ ہمارے پاس لے کر آئے ہیں ‘ ہم خوشحالی پر اللہ کی حمد بیان کرتے ہیں اور آزمائش پر صبر سے کام لیتے ہیں اور تقدیر کے فیصلے پر ایمان رکھتے ہیں ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ ( تم لوگ ) مؤمن ہو رب کعبہ کی قسم ! ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ جبکہ معجم کبیر کی روایت میں یہ الفاظ ہیں : ’’ اُن میں سے آخری مرتبہ میں ‘ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : وہ کیسے ؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : ہم اللہ تعالیٰ سے ثواب کی امید رکھتے ہیں ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ( تم لوگ ) مؤمن ہو رب کعبہ کی قسم ! اس کی سند میں ایک راوی یوسف بن میمون ہے اسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے اکثر حضرات نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔

172

Majma al-Zawaid #172

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِذَا سُئِلَ أَحَدُكُمْ: أَمُؤْمِنٌ؟ فَلَا يَشُكَّ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِي إِسْنَادِهِ أَحْمَدُ بْنُ بُدَيْلٍ، وَثَّقَهُ النَّسَائِيُّ وَأَبُو حَاتِمٍ، وَضَعَّفَهُ آخَرُونَ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Zayd al-Anṣārī رضي الله عنه said: The Messenger of Allah ﷺ said: > **"When one of you is asked: 'Are you a believer?' let him not express doubt."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن زید انصاری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں :: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے :: ’’ جب تم میں کسی سے یہ پوچھا جائے : کیا تم مومن ہو ؟ تو وہ شخص شک کا اظہار نہ کرے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی احمد بن بدیل ہے ‘ جسے امام نسائی اور ابو حاتم نے ثقہ قرار دیا ہے ‘ جبکہ دیگر حضرات نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔

173

Majma al-Zawaid #173

وَعَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ: إِنِّي مُؤْمِنٌ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: قُلْ إِنِّي فِي الْجَنَّةِ، لَكِنَّا آمَنَّا بِاللَّهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAlqamah reported: A man said in the presence of ʿAbdullāh [ibn Masʿūd رضي الله عنه], "Indeed, I am a believer." ʿAbdullāh said: > **"Why do you not also say: 'Indeed, I am in Paradise'? Rather, we say: 'We have believed in Allah, His angels, His Scriptures, and His Messengers.'"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

علقمہ بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی موجودگی میں ‘ ایک شخص نے یہ کہہ دیا : بے شک میں مومن ہوں حضرت عبداللہ نے فرمایا : تم یہ بھی کہہ دو : بے شک میں جنتی ہوں ‘ لیکن ہم ( تو یہ کہتے ہیں : ) ہم اللہ تعالی اس کے فرشتوں اُس کی کتابوں ‘ اور اُس کے رسولوں پر ایمان رکھتے ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

174

Majma al-Zawaid #174

وَعَنْ عُثْمَانَ بْنِ سُهَيْلِ بْنِ حُنَيْفٍ قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَبْلَ أَنْ يَقْدُمَ مِنْ مَكَّةَ يَدْعُو النَّاسَ إِلَى الْإِيمَانِ بِاللَّهِ وَتَصْدِيقًا بِهِ قَوْلًا بِلَا عَمَلٍ، وَالْقِبْلَةُ إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ، فَلَمَّا هَاجَرَ إِلَيْنَا نَزَلَتِ الْفَرَائِضُ وَنَسَخَتِ الْمَدِينَةُ مَكَّةَ، وَالْقَوْلَ فِيهَا، وَنَسَخَ الْبَيْتُ الْحَرَامُ بَيْتَ الْمَقْدِسِ، فَصَارَ الْإِيمَانُ قَوْلًا وَعَمَلًا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِي إِسْنَادِهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

ʿUthmān ibn Suhayl ibn Ḥunayf رضي الله عنه said: Before the Messenger of Allah ﷺ arrived from Mecca, he used to call the people to faith in Allah and belief in Him as a statement without stipulated actions, while the qiblah was toward Bayt al-Maqdis (Jerusalem). When he migrated to us, the religious obligations were revealed; Medina abrogated Mecca and the previous condition of mere verbal affirmation, and the Sacred House (the Kaʿbah) abrogated Bayt al-Maqdis. Thus faith became both statement and action.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عثمان بن سہیل بن حنیف رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے مکہ سے ( مدینہ منورہ ) تشریف لانے سے پہلے آپ ﷺ لوگوں کو اللہ پر ایمان لانے کی دعوت دیتے تھے اور قول کے ذریعے اُس کی تصدیق کرنے ( کی دعوت دیتے تھے ) اس میں عمل کی شرط نہیں ہوتی تھی ‘ اس وقت قبلہ ‘ بیت المقدس تھا ‘ جب نبی اکرم ﷺ ہجرت کر کے ہماری طرف تشریف لے آئے ‘ اور فرائض کے احکام نازل ہو گئے ‘ تو مدینہ نے مکہ ( یعنی وہاں کے احکام ) کو منسوخ کر دیا اور اس بارے میں قول ( یعنی ایمان کے لیے عمل کی شرط کے بغیر ‘ صرف زبانی اقرار کافی ہونے کے حکم کو منسوخ کر دیا گیا ) اور بیت الحرام ( کے قبلہ ہونے کے حکم نے ) بیت المقدس کو منسوخ کر دیا ‘ تو ایمان ‘ قول اور عمل ( کے مجموعہ کا نام ) ہو گیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ( راویوں کی ) ایک جماعت ایسی ہے ‘ جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

175

Majma al-Zawaid #175

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" ثَلَاثٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ وَجَدَ حَلَاوَةَ الْإِيمَانِ: أَنْ يَكُونَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِمَّا سِوَاهُمَا، وَأَنْ يُحِبَّ الْمَرْءَ لَا يُحِبُّهُ إِلَّا لِلَّهِ، وَأَنْ لَا يَرْجِعُ فِي الْكُفْرِ بَعْدَ إِذْ أَنْقَذَهُ اللَّهُ مِنْهُ كَمَا يَكْرَهُ أَنْ يُلْقَى فِي النَّارِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ فَضَالُ بْنُ جُبَيْرٍ، لَا يَحِلُّ الِاحْتِجَاجُ بِهِ.

EnglishUnverified translation

Abū Umāmah رضي الله عنه said: The Messenger of Allah ﷺ said: > **"There are three qualities: whoever possesses them will taste the sweetness of faith: that Allah and His Messenger are more beloved to him than anything else, that he loves a person loving him solely for the sake of Allah, and that he hates returning to disbelief after Allah has rescued him from it just as he hates being cast into the Fire."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ تین چیزیں ، جس شخص میں موجود ہوں گی ‘ وہ ایمان کی حلاوت کو پا لے گا ‘ ایک یہ کہ اللہ اور اس کا رسول اس کے نزدیک ‘ ان دونوں کے علاوہ ‘ ہر ایک سے زیادہ محبوب ہوں ‘ اور یہ کہ وہ کسی شخص کے ساتھ صرف ‘ اللہ تعالی کی خاطر محبت رکھے ‘ اور یہ کہ جب اللہ تعالٰی نے اُسے کفر سے بچا لیا ہے ‘ تو وہ کفر کی طرف واپس نہ جائے ( وہ کفر کی طرف واپس جانے کو ) اسی طرح ناپسند کرے ، جس طرح وہ آگ میں ڈالے جانے کو ناپسند کرتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی فضال بن جبیر ہے ‘ جس سے استدلال کرنا جائز نہیں ہے ۔

176

Majma al-Zawaid #176

وَعَنْ قَتَادَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: ثَلَاثٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ يَجِدُ بِهِنَّ حَلَاوَةَ الْإِيمَانِ: تَرْكُ الْمِرَاءِ فِي الْحَقِّ، وَالْكَذِبِ فِي الْمِزَاحِةِ، وَيَعْلَمُ أَنَّ مَا أَصَابَهُ لَمْ يَكُنْ لِيُخْطِئَهُ، وَأَنَّ مَا أَخْطَأَهُ لَمْ يَكُنْ لِيُصِيبَهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَقَتَادَةُ لَمْ يَسْمَعْ مِنَ ابْنِ مَسْعُودٍ ..

EnglishUnverified translation

Qatādah reported that Ibn Masʿūd رضي الله عنه said: > **"There are three qualities; whoever possesses them will find through them the sweetness of faith: abandoning arguing even when one is in the right, abandoning lying even in jest, and knowing that whatever has befallen him could never have missed him, and whatever has missed him could never have befallen him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

قتادہ بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :’’ تین چیزیں جس میں ہوں گی ‘ وہ اُن کی وجہ سے ایمان کی حلاوت پا لے گا حق کے بارے میں بحث ( کو ترک کرنا ) مذاق کے طور پر جھوٹ بولنے کو ترک کرنا اور اس بات کا یقین رکھنا کہ جو چیز آدمی کو ملنی ہے ‘ وہ اُسے ملے بغیر نہیں رہے گی ‘ اور جو چیز اسے نہیں ملنی ہے ‘ وہ ( کسی صورت میں ) نہیں ملے گی ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اور قتادہ نامی راوی نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔

177

Majma al-Zawaid #177

وَعَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ نَوْفَلِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ فَقُلْنَا: حَدِّثْنَا بِمَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" ثَلَاثٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ حُرِّمَ عَلَى النَّارِ وَحُرِّمَتِ النَّارُ عَلَيْهِ: إِيمَانٌ بِاللَّهِ، وَحُبُّ اللَّهِ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - وَأَنْ يُلْقَى فِي النَّارِ فَيَحْتَرِقَ أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْ أَنْ يَرْجِعَ إِلَى الْكُفْرِ» "". قُلْتُ: لَهُ فِي الصَّحِيحِ حَدِيثٌ بِغَيْرِ هَذَا السِّيَاقِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى، وَنَوْفَلُ بْنُ مَسْعُودٍ لَمْ أَرَ مَنْ ذَكَرَ لَهُ تَرْجَمَةً، إِلَّا أَنَّ الْمِزِّيَّ قَالَ فِي تَرْجَمَةِ يَحْيَى الْقَطَّانِ: رَوَى عَنْ نَوْفَلِ بْنِ مَسْعُودٍ صَاحِبِ أَنَسٍ.

EnglishUnverified translation

Yaḥyā ibn Saʿīd reported from Nawfal ibn Masʿūd, who said: We entered upon Anas ibn Mālik رضي الله عنه and said, "Narrate to us what you heard from the Messenger of Allah ﷺ." He said: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: > **"There are three qualities; whoever possesses them is forbidden to the Fire and the Fire is forbidden to him: faith in Allah, love for Allah Blessed and Exalted, and that being cast into the fire and burnt is more beloved to him than returning to disbelief."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

یحییٰ بن سعید نے نوفل بن مسعود کا یہ بیان نقل کیا ہے : ہم لوگ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ہم نے کہا : آپ ہمیں کوئی ایسی حدیث بیان کیجیے ! جو آپ نے نبی اکرم ﷺ کی زبانی سنی ہو ‘ تو انہوں نے فرمایا : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ تین چیزیں ، جس شخص میں ہوں گی ‘ اُسے آگ پر حرام قرار دیدیا جائے گا ‘ اور آگ کو اُس پر حرام قرار دیدیا جائے گا اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھنا ‘ اللہ تعالیٰ سے محبت رکھنا ‘ اور آگ میں ڈالے جا کر ’ جل جانا ‘ اُس کے نزدیک اس سے زیادہ پسندیدہ ہو ‘ کہ وہ کفر کی طرف واپس چلا جائے ‘‘۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اُن کے حوالے سے ’’ صحیح ‘‘ میں یہ حدیث مذکور ہے ‘ لیکن وہ اس سیاق کے بغیر ہے ۔ یہ روایت امام احمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ‘ اور نوفل بن مسعود کے بارے میں ، میں نے کسی کو نہیں دیکھا ‘ کہ کسی نے اُس کے حالات ذکر کئے ہوں ، صرف امام مزی نے یحییٰ القطان کے حالات میں یہ بات کہی ہے : انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کے شاگرد نوفل بن مسعود سے روایات نقل کی ہیں ۔

178

Majma al-Zawaid #178

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" ثَلَاثٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ فَقَدْ ذَاقَ طَعْمَ الْإِيمَانِ: مَنْ كَانَ لَا شَيْءَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ، وَمَنْ كَانَ أَنْ يُحْرَقَ فِي النَّارِ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ أَنْ يَرْتَدَّ عَنْ دِينِهِ، وَمَنْ كَانَ يُحِبُّ لِلَّهِ وَيُبْغِضُ لِلَّهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالصَّغِيرِ، وَهُوَ فِي الصَّحِيحِ خَلَا قَوْلِهِ: "" وَيُبْغِضُ لِلَّهِ ""، وَفِي إِسْنَادِهِ أَبُو الْحُوَيْرِثِ، ضَعَّفَهُ مَالِكٌ وَابْنُ مَعِينٍ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Mālik رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"There are three qualities; whoever possesses them has tasted the flavor of faith: he to whom nothing is more beloved than Allah and His Messenger; he to whom being burned in the fire is more beloved than apostatizing from his religion; and he who loves for the sake of Allah and hates for the sake of Allah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ تین چیزیں ، جس شخص میں ہوں گی ‘ وہ ایمان کا ذائقہ چکھ لے گا ‘ وہ شخص کہ کوئی بھی چیز اُس کے نزدیک ‘ اللہ اور اُس کے رسول سے زیادہ محبوب نہ ہو ‘ اور وہ شخص کہ جس کے نزدیک آگ میں جل جانا اس سے زیادہ محبوب ہو کہ وہ اپنے دین ( یعنی اسلام ) کو چھوڑ دے ‘ اور وہ شخص جو اللہ تعالیٰ کی خاطر ( کسی سے ) محبت رکھتا ہو اور اللہ تعالٰی کی خاطر ( کسی سے ) بغض رکھتا ہو ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم صغیر میں نقل کی ہے ‘ اور یہ ’’ صیح ‘‘ میں بھی منقول ہے ‘ صرف یہ الفاظ نہیں ہیں :"" وہ اللہ تعالیٰ کی خاطر بغض رکھتا ہو ‘‘ اس کی سند میں ایک راوی ابوحویرث ہے ‘ جسے امام مالک اور یحییٰ بن معین نے ضعیف قرار دیا ہے ‘ جبکہ ابن حبان نے اُسے ثقہ قرار دیا ہے ۔

179

Majma al-Zawaid #179

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: «قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَنِ الْمُسْلِمُ؟ قَالَ: "" مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ فَضَالُ بْنُ جُبَيْرٍ لَا يَحِلُّ الِاحْتِجَاجُ بِهِ.

EnglishUnverified translation

Abū Umāmah رضي الله عنه reported: A man asked, "O Messenger of Allah, who is the Muslim?" He ﷺ said: > **"The one from whose tongue and hand the Muslims are safe."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے دریافت کیا : یا رسول اللہ ! مسلمان کون ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : وہ جس کی زبان اور ہاتھ سے ( دوسرے ) مسلمان سلامت ( یعنی محفوظ ) رہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی فضال بن جبیر ہے ‘ جس سے استدلال کرنا جائز نہیں ہے ۔

180

Majma al-Zawaid #180

وَعَنْ بِلَالِ بْنِ الْحَارِثِ الْمُزَنِيِّ عَنِ «النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.

EnglishUnverified translation

Bilāl ibn al-Ḥārith al-Muzanī رضي الله عنه reported that the Prophet ﷺ said: > **"The Muslim is the one from whose tongue and hand the Muslims are safe."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت بلال بن حارث مزنی رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ مسلمان وہ ہے ‘ جس کی زبان اور ہاتھ سے ‘ ( دوسرے ) مسلمان محفوظ رہیں ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

181

Majma al-Zawaid #181

وَعَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ حِجَّةِ الْوَدَاعِ: "" وَالْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ إِنْ شَاءَ اللَّهُ.

EnglishUnverified translation

Faḍālah ibn ʿUbayd رضي الله عنه said: The Messenger of Allah ﷺ said on the day of the Farewell Pilgrimage: > **"And the Muslim is the one from whose tongue and hand the Muslims are safe."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : حجتہ الوداع کے دن نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اور مسلمان وہ ہے ‘ جس کی زبان اور ہاتھ سے ( دوسرے ) مسلمان محفوظ رہیں ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہو گی ‘ اگر اللہ نے چاہا ۔

182

Majma al-Zawaid #182

عَنِ ابْنِ عُمَرَ «عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" خَمْسٌ مِنَ الْإِيمَانِ، مَنْ لَمْ يَكُنْ فِيهِ شَيْءٌ مِنْهَا فَلَا إِيمَانَ لَهُ: التَّسْلِيمُ لِأَمْرِ اللَّهِ، وَالرِّضَا بِقَضَاءِ اللَّهِ، وَالتَّفْوِيضُ إِلَى أَمْرِ اللَّهِ، وَالتَّوَكُّلُ عَلَى اللَّهِ، وَالصَّبْرُ عِنْدَ الصَّدْمَةِ الْأُولَى. وَلَمْ يَطْعَمِ امْرٌؤٌ حَقِيقَةَ الْإِسْلَامِ حَتَّى يَأْمَنَهُ النَّاسُ عَلَى دِمَائِهِمْ وَأَمْوَالِهِمْ ""، فَقَالَ قَائِلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ الْإِسْلَامِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: "" مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ، عَلَامَاتٌ كَمَنَارِ الطَّرِيقِ: شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَإِقَامُ الصَّلَاةِ، وَإِيتَاءُ الزَّكَاةِ، وَالْحُكْمُ بِكِتَابِ اللَّهِ وَطَاعَةُ النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ، وَالتَّسْلِيمُ عَلَى بَنِي آدَمَ إِذَا لَقِيتُمُوهُمْ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ سَعِيدُ بْنُ سِنَانٍ وَلَا يُحْتَجُّ بِهِ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿUmar رضي الله عنهما reported that the Prophet ﷺ said: > **"Five qualities are of faith; whoever possesses none of them has no faith: submission to the command of Allah, contentment with the decree of Allah, consigning affairs to the command of Allah, reliance upon Allah, and patience at the first stroke of calamity. And no person tastes the reality of Islam until people feel safe from him regarding their blood and their wealth."** A man asked, "O Messenger of Allah, which aspect of Islam is best?" He ﷺ replied: > **"The one from whose tongue and hand the Muslims are safe. Its signs are like guideposts along the road: testifying that there is no deity worthy of worship except Allah, establishing prayer, paying zakāh, judging by the Book of Allah, obeying the Unlettered Prophet, and greeting the children of Adam whenever you meet them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں :: ’’ پانچ چیزیں ایمان میں سے ہیں ، جس شخص میں ان میں سے کوئی چیز نہیں ہو گی ‘ اُس کا ایمان نہیں ہو گا ‘ اللہ تعالی کے حکم کو تسلیم کرنا ‘ اللہ تعالی کے ( یعنی تقدیر کے ) فیصلے سے راضی رہنا ‘ معاملات کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کرنا ‘ اللہ تعالیٰ پر توکل کرنا اور صدمے کے آغاز میں صبر کرنا آدمی اسلام کی حقیقت تک اُس وقت تک نہیں پہنچ سکتا ‘ جب تک لوگ اپنی جانوں اور اموال کے حوالے سے ‘ اُس سے محفوظ نہ ہوں ‘‘ ایک صاحب نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کون سا اسلام زیادہ فضیلت رکھتا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ’’ اُس شخص کا ‘ جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ ہوں ‘ راستے کے نشان کی طرح ‘ اس کی کچھ علامات ہیں اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ تعالی کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ‘ نماز قائم کرنا ‘ زکوۃ ادا کرنا ‘ اللہ کی کتاب کے مطابق فیصلہ دینا ‘ امی نبی ( ﷺ ) کی فرمانبرداری کرنا ‘ اور جب بنی نوع انسان ( میں سے کسی سے بھی ) تمہاری ملاقات ہو ‘ تو انہیں سلام کرنا ‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی سعید بن سنان ہے ، جس سے استدلال نہیں کیا جائے گا ۔

183

Majma al-Zawaid #183

عَنْ عَمَّارٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" ثَلَاثٌ مِنَ الْإِيمَانِ: الْإِنْفَاقُ مِنَ الْإِقْتَارِ، وَبَذْلُ السَّلَامِ لِلْعَالَمِ، وَالْإِنْصَافُ مِنْ نَفْسِكَ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ، إِلَّا أَنَّ شَيْخَ الْبَزَّارِ لَمْ أَرَ مَنْ ذَكَرَهُ، وَهُوَ الْحَسَنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْكُوفِيُّ.

EnglishUnverified translation

ʿAmmār رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Three things are from faith: spending despite scarcity, extending greetings of peace to all people, and observing fairness against one's own self."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمار رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں :: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ تین چیزیں ایمان کا حصہ ہیں ‘ تنگ دستی کے باوجود خرچ کرنا ، سب لوگوں کو سلام کرنا ‘ اور اپنی طرف سے انصاف کرنا ‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ‘ البتہ میں نے کسی کو امام بزار کے استاد کا تذکرہ کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ‘ اور وہ استاد حسن بن عبداللہ کوفی ہیں ۔

184

Majma al-Zawaid #184

«وَعَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: ثَلَاثُ خِلَالٍ مَنْ جَمَعَهُنَّ فَقَدْ جَمَعَ خِلَالَ الْإِيمَانِ، فَقَالَ لَهُ بَعْضُ أَصْحَابِهِ: يَا أَبَا الْيَقْظَانِ، مَا هَذِهِ الْخِلَالُ الَّتِي زَعَمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: مَنْ جَمَعَهُنَّ فَقَدْ جَمَعَ الْإِيمَانَ؟ فَقَالَ عَمَّارُ عِنْدَ ذَلِكَ: سَمِعْتُهُ يَقُولُ: "" الْإِنْفَاقُ مِنَ الْإِقْتَارِ، وَالْإِنْصَافُ مِنْ نَفْسِكَ، وَبَذْلُ السَّلَامِ لِلْعَالَمِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ الْقَاسِمُ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAmmār ibn Yāsir رضي الله عنه said: "Whoever combines three traits has combined the characteristics of faith." One of his companions asked him, "O Abū al-Yaqẓān, what are these traits about which you stated that the Messenger of Allah ﷺ said: 'Whoever combines them has combined faith'?" ʿAmmār replied, "I heard him ﷺ say: > **"Spending despite scarcity, observing fairness against one's own self, and extending greetings of peace to all people."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : تین خصائل جو شخص جمع کر لے گا ‘ وہ ایمان کے خصائل جمع کر لے گا ‘ اُن کے ساتھیوں میں سے کسی نے اُن سے دریافت کیا : اے ابوالیقظان ! وہ خصائل کیا ہیں ؟ جن کے بارے میں آپ کا یہ کہنا ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے کہ جو انہیں جمع کر لے گا ‘ وہ ایمان کو جمع کر لے گا ‘ تو اُس وقت حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ( یعنی وہ خصائل درج ذیل ہیں : ) ’’ تنگدستی کے وقت خرچ کرنا ‘ اپنی ذات کی طرف سے انصاف کرنا ‘ اور سب کو سلام کرنا “۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی قاسم ابوعبدالرحمن ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

185

Majma al-Zawaid #185

وَعَنْ أَنَسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" ثَلَاثٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ اسْتَوْجَبَ الثَّوَابَ وَاسْتَكْمَلَ الْإِيمَانَ: خُلُقٌ يَعِيشُ بِهِ فِي النَّاسِ، وَوَرَعٌ يَحْجِزُهُ عَنْ مَحَارِمِ اللَّهِ، وَحِلْمٌ يَرُدُّهُ عَنْ جَهْلِ الْجَاهِلِ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ الْبَزَّارُ: حَدَّثَ بِأَحَادِيثَ لَا يُتَابِعُ عَلَيْهَا.

EnglishUnverified translation

Anas رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"There are three qualities; whoever possesses them has merited the reward and perfected faith: noble character by which he lives among people, piety that restrains him from the prohibitions of Allah, and forbearance that turns him away from the foolishness of the ignorant."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ تین چیزیں جس شخص میں ہوں گی ‘ وہ ثواب کو واجب کر دے گا اور ایمان کو مکمل کر لے گا ‘ ( ایسے اچھے ) اخلاق ‘ جن کے ہمراہ وہ لوگوں کے ساتھ برتاؤ کرے ‘ پرہیزگاری ‘ جو اُسے اللہ تعالیٰ کی حرام قرار دی ہوئی چیزوں سے بچا کے رکھے ‘ اور بردباری ‘ جو اُسے ( کسی ) جاہل کے خلاف جہالت ( کا مظاہرہ ) نہ کرنے دے “۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن سلیمان ہے ‘ امام بزار فرماتے ہیں ۔ اس نے ایسی احادیث روایت کی ہیں ، جن کی متابعت نہیں کی گئی ہے ۔

186

Majma al-Zawaid #186

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: " «لَا يَسْتَقِيمُ إِيمَانُ عَبْدٍ حَتَّى يَسْتَقِيمَ قَلْبُهُ وَلَا يَسْتَقِيمُ قَلْبُهُ حَتَّى يَسْتَقِيمَ لِسَانُهُ وَلَا يُدْخُلُ الْجَنَّةَ حَتَّى يَأْمَنَ جَارُهُ بَوَائِقَهُ» " رَوَاهُ أَحْمَدُ وَفِيهِ: عَلِيُّ بَنُ مَسْعَدَةَ، وَثَّقَهُ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ، وَضَعَّفَهُ النَّسَائِيُّ وَغَيْرُهُ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Mālik رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"The faith of a servant will not be upright until his heart is upright, and his heart will not be upright until his tongue is upright, and he will not enter Paradise until his neighbor is safe from his evil conduct."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ بندے کا ایمان ‘ اُس وقت تک ٹھیک نہیں ہوتا ‘ جب تک اُس کا دل ٹھیک نہیں ہوتا اور اُس کا دل اس وقت تک ٹھیک نہیں ہوتا جب تک اُس کی زبان ٹھیک نہیں ہوتی ‘ اور وہ اُس وقت تک جنت میں داخل نہیں ہو گا ‘ جب تک اُس کا پڑوسی اُس کی زیادتیوں سے محفوظ نہ ہو ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی علی بن مسعدہ ہے ‘ جسے یحییٰ بن معین اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ‘ جبکہ امام نسائی اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔

187

Majma al-Zawaid #187

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي: ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «لَا إِيمَانَ لِمَنْ لَا أَمَانَةَ لَهُ، وَلَا دِينَ لِمَنْ لَا عَهْدَ لَهُ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَا يَسْتَقِيمُ دِينُ عَبْدٍ حَتَّى يَسْتَقِيمَ لِسَانُهُ، ولا يَسْتَقِيمُ لِسَانُهُ حَتَّى يَسْتَقِيمَ قَلْبُهُ، وَلَا يُدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنْ لَا يَأْمَنُ جَارُهُ بَوَائِقَهُ " قِيلَ: مَا الْبَوَائِقُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: " غِشُّهُ وَظُلْمُهُ، وَأَيَّمَا رَجُلٌ أَصَابَ مَالًا مِنْ حَرَامٍ، وَأَنْفَقَ مِنْهُ لَمْ يُبَارَكْ لَهُ فِيهِ، وَإِنْ تَصَدَّقَ لَمْ يُقْبَلْ، وَمَا بَقِيَ فَزَادُهُ إِلَى النَّارِ، وَإِنَّ الْخَبِيثَ لَا يُكَفِّرُ الْخَبِيثَ، وَلَكِنَّ الطَّيِّبَ يُكَفِّرُ» " رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ: حُصَيْنُ بْنُ مَذْعُورٍ، عَنْ فَرَسٍ التِّيمِيِّ، وَلَمْ أَرَ مَنْ ذَكَرَهُمَا.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Masʿūd رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"He who cannot be trusted has no faith, and he who does not keep his covenant has no religion. By the One in Whose Hand is the soul of Muḥammad, the religion of a servant will not be upright until his tongue is upright, and his tongue will not be upright until his heart is upright, and he will not enter Paradise whose neighbor is not safe from his evil conduct."** It was asked, "What is his evil conduct (*al-bawāʾiq*), O Messenger of Allah?" He ﷺ replied: > **"His deceit and his injustice. And whichever man acquires wealth through unlawful means and spends from it, no blessing is placed in it for him; if he gives it in charity, it is not accepted; and whatever remains of it is his provision toward the Fire. Verily, evil does not expiate evil, but good expiates evil."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : اُس شخص کا ایمان نہیں ، جس کی امانت نہ ہو ‘ اور اُس شخص کا دین نہیں ، جس کا عہد نہ ہو ‘ اُس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں محمد کی جان ہے ، آدمی کا دین اس وقت تک ٹھیک نہیں ہوتا ‘ جب تک اُس کی زبان ٹھیک نہ ہو ‘ اور اُس کی زبان اُس وقت تک ٹھیک نہیں ہوتی ‘ جب تک اُس کا دل ٹھیک نہ ہو اور آدمی اُس وقت تک جنت میں داخل نہیں ہو گا ‘ جب تک اُس کا پڑوسی اس کی زیادتیوں سے محفوظ نہ ہو ‘ عرض کی گئی : اُس کی زیادتیوں سے کیا مراد ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اس کا دھوکہ دینا اور ظلم کرنا ‘ ( آپ ﷺ نے یہ بھی ارشاد فرمایا : ) جو شخص حرام طور پر مال حاصل کرے اور پھر اُس میں سے خرچ کرے ‘ تو اُس کے لیے اُس مال میں برکت نہیں رکھی جائے گی ‘ اور اگر وہ ( اس مال کو ) صدقہ کرے گا ‘ تو وہ قبول نہیں ہو گا ‘ اور جو مال بچ جائے گا ‘ وہ جہنم کی طرف جانے کے لیے اُس کا زاد سفر ہو گا ‘ بیشک خبیث کسی خبیث کو ختم نہیں کرتا ‘ بلکہ پاکیزہ چیز ( خبیث چیز ) کو ختم کرتی ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں یہ مذکور ہے کہ اسے حصین بن مذعور نے فرس تیمی سے نقل کیا ہے اور میں نے کسی کو ان دونوں کا ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ۔

188

Majma al-Zawaid #188

وَعَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ: قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ: الصَّبْرُ نِصْفُ الْإِيمَانِ، وَالْيَقِينُ الْإِيمَانُ كُلُّهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿAlqamah reported that ʿUbaydullāh said: > **"Patience is half of faith, and certainty is the whole of faith."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

علقمہ بیان کرتے ہیں : عبیداللہ فرماتے ہیں : ’’ صبر ‘ نصف ایمان ہے اور یقین ‘ مکمل ایمان ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

189

Majma al-Zawaid #189

«عَنِ الْحَارِثِ بْنِ مَالِكٍ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّهُ مَرَّ بِالنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ لَهُ: "" كَيْفَ أَصْبَحْتَ يَا حَارِثَةُ؟ "" قَالَ: أَصْبَحْتُ مُؤْمِنًا حَقًّا. قَالَ: "" انْظُرْ مَا تَقُولُ ; فَإِنَّ لِكُلِّ قَوْلٍ حَقِيقَةً، فَمَا حَقِيقَةُ إِيمَانِكَ؟ "" قَالَ: عَزَفَتْ نَفْسِي عَنِ الدُّنْيَا، فَأَسْهَرْتُ لَيْلِي، وَأَظْمَأْتُ نَهَارِي، وَكَأَنِّي أَنْظُرُ عَرْشَ رَبِّي بَارِزًا، وَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى أَهْلِ الْجَنَّةِ يَتَزَاوَرُونَ فِيهَا، وَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى أَهْلِ النَّارِ يَتَضَاغَوْنَ فِيهَا. قَالَ: "" يَا حَارِثَةُ، عَرَفْتَ فَالْزَمْ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ، وَفِيهِ مَنْ يَحْتَاجُ إِلَى الْكَشْفِ عَنْهُ.

EnglishUnverified translation

Al-Ḥārith ibn Mālik al-Anṣārī رضي الله عنه reported that he passed by the Prophet ﷺ, who asked him, "How are you this morning, O Ḥārithah?" He replied, "I have entered the morning as a true believer." The Prophet ﷺ said, "Consider well what you say, for every statement has a reality. What is the reality of your faith?" He said, "My soul has detached itself from the worldly life, so I stay awake through my night in worship and keep thirsty through my day in fasting. It is as though I am gazing at the Throne of my Lord openly, as though I am looking at the people of Paradise visiting one another therein, and as though I am looking at the people of the Fire clamoring and howling therein." The Prophet ﷺ said: > **"O Ḥārithah, you have attained true knowledge, so remain steadfast upon it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت حارث بن مالک انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ اُن کا گزر ‘ نبی اکرم ﷺ کے پاس سے ہوا ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : اے حارثہ ! تم نے کس حال میں صبح کی ہے ( یا تمہاری کیفیت کیا ہوتی ہے ؟ ) تو حضرت حارثہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : میں نے ایسی حالت میں صبح کی ( یا میری کیفیت یہ ہے : ) کہ میں حقیقی مؤمن ہوں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم اس بات کا جائزہ لو ! کہ تم کیا کہہ رہے ہو ؟ ہر قول کی کوئی حقیقت ہوتی ہے تو تمہارے ایمان کی حقیقت کیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : میں نے اپنے آپ کو دنیا سے لاتعلق کر لیا ہے ‘ اور میں رات بھر جاگتا ہوں ( یعنی عبادت کرتا رہتا ہوں ) اور دن کو پیاسا رہتا ہوں ( یعنی نفلی روزہ رکھتا ہوں ) اور مجھے یوں لگتا ہے جیسے میں اپنے پروردگار کے عرش کو دیکھ رہا ہوں ‘ اور مجھے یوں لگتا ہے جیسے میں اہل جنت کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ ایک دوسرے سے ملاقات کر رہے ہیں ‘ اور مجھے یوں لگتا ہے جیسے میں اہل جہنم کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ اُس ( جہنم ) میں چیخ و پکار کر رہے ہیں نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم نے معرفت حاصل کر لی ہے ‘ تو اس کا دھیان رکھنا ! یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ‘ اور اس میں ایسے راوی بھی ہیں ، جن کی تحقیق کی ضرورت ہے ۔

190

Majma al-Zawaid #190

وَعَنْ أَنَسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَقِيَ رَجُلًا يُقَالُ لَهُ: حَارِثَةُ، فِي بَعْضِ سِكَكِ الْمَدِينَةِ، فَقَالَ: "" كَيْفَ أَصْبَحْتَ يَا حَارِثَةُ؟ "" قَالَ: أَصْبَحْتُ مُؤْمِنًا حَقًّا. قَالَ: "" إِنَّ لِكُلِّ إِيمَانٍ حَقِيقَةً، فَمَا حَقِيقَةُ إِيمَانِكَ؟ "" قَالَ: عَزَفَتْ نَفْسِي عَنِ الدُّنْيَا، فَأَظْمَأْتُ نَهَارِي، وَأَسْهَرْتُ لَيْلِي، وَكَأَنِّي بِعَرْشِ رَبِّي بَارِزًا، وَكَأَنِّي بِأَهْلِ الْجَنَّةِ فِي الْجَنَّةِ يَتَنَعَّمُونَ فِيهَا، وَكَأَنِّي بِأَهْلِ النَّارِ فِي النَّارِ يُعَذَّبُونَ. فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَصَبْتَ فَالْزَمْ، مُؤْمِنٌ نَوَّرَ اللَّهُ قَلْبَهُ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ يُوسُفُ بْنُ عَطِيَّةَ لَا يُحْتَجُّ بِهِ.

EnglishUnverified translation

Anas رضي الله عنه reported that the Prophet ﷺ met a man named Ḥārithah in one of the alleyways of Medina and said, "How are you this morning, O Ḥārithah?" He replied, "I have entered the morning as a true believer." The Prophet ﷺ said, "Indeed, for every faith there is a reality; so what is the reality of your faith?" He said, "My soul has turned away from the worldly life, so I keep my day thirsty and my night awake. It is as though I see the Throne of my Lord visibly, as though I see the people of Paradise rejoicing in their bliss therein, and as though I see the people of the Fire being tormented in the Fire." The Prophet ﷺ said: > **"You have spoken rightly, so hold firmly to it—a believer whose heart Allah has illuminated."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کی ملاقات مدینہ منورہ کی کسی گلی میں ‘ ایک صاحب سے ہوئی ، جن کا نام حارثہ تھا ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا ہے : اے حارثہ ! تم نے کس حال میں صبح کی ہے ؟ انہوں نے عرض کی : میں نے حقیقی مومن ہونے کے عالم میں صبح کی ہے ‘ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ہر ایمان کی کوئی حقیقت ہوتی ہے ‘ تو تمہارے ایمان کی حقیقت کیا ہے ؟ انہوں نے عرض کی : میرا من دنیا سے اچاٹ ہو گیا ہے ‘ تو میں دن میں پیاسا رہتا ہوں اور رات میں جاگتا رہتا ہوں ‘ مجھے یوں محسوس ہوتا ہے کہ میرے پروردگار کا عرش میرے سامنے ہے اور یوں محسوس ہوتا ہے کہ میں اہل جنت کو ‘ جنت میں نعمتوں سے لطف اندوز ہوتے ہوئے دیکھ رہا ہوں ‘ اور اہل جہنم کو ‘ جہنم میں عذاب کا شکار ہوتے دیکھ رہا ہوں ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم ٹھیک ہو ! اس کا دھیان رکھنا ‘ ( تم ایک ایسے ) مؤمن ہو ‘ جس کے دل کو اللہ تعالیٰ نے نور عطا کیا ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی یوسف بن عطیہ ہے ، جس سے استدلال نہیں کیا جاتا ہے ۔

191

Majma al-Zawaid #191

عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - «عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" لَا يَبْلُغُ عَبْدٌ حَقِيقَةَ الْإِيمَانِ حَتَّى يَعْلَمَ أَنَّ مَا أَصَابَهُ لَمْ يَكُنْ لِيُخْطِئَهُ، وَمَا أَخْطَأَهُ لَمْ يَكُنْ لِيُصِيبَهُ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَقَالَ: إِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Abū al-Dardāʾ رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"A servant does not attain the reality of faith until he knows that whatever has befallen him could never have missed him, and whatever has missed him could never have befallen him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ بن نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ بندہ ایمان کی حقیقت تک اُس وقت تک نہیں پہنچ سکتا ‘ جب تک وہ یہ نہیں جان لیتا کہ جو چیز اسے ملنی ہے وہ ملے بغیر نہیں رہے گی ‘ اور جو چیز اسے نہیں ملنی ہے ‘ وہ اسے کبھی نہیں ملے گی ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ وہ فرماتے ہیں : اس کی سند حسن ہے ۔

192

Majma al-Zawaid #192

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَمِقِ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" لَا يَحِقُّ الْعَبْدُ حَقِيقَةَ الْإِيمَانِ حَتَّى يَغْضَبَ لِلَّهِ، وَيَرْضَى لِلَّهِ، فَإِذَا فَعَلَ ذَلِكَ اسْتَحَقَّ حَقِيقَةَ الْإِيمَانِ، وَإِنَّ أَحْبَابِي وَأَوْلِيَائِي الَّذِينَ يُذْكَرُونَ بِذِكْرِي، وَأُذْكَرُ بِذِكْرِهِمْ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ، وَالْأَكْثَرُ عَلَى تَضْعِيفِهِ.

EnglishUnverified translation

ʿAmr ibn al-Ḥamiq رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"A servant does not genuinely realize the reality of faith until he becomes angry for the sake of Allah and is pleased for the sake of Allah. When he does that, he becomes deserving of the reality of faith. And indeed, My beloved ones and My close allies are those who are remembered when I am remembered, and I am remembered when they are remembered."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمرو بن حمق رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ بندہ ‘ ایمان کی حقیقت کا حقدار ‘ اُس وقت تک نہیں ہوتا ‘ جب تک وہ اللہ تعالٰی کے لئے غضب ناک نہیں ہوتا ‘ اور اللہ تعالٰی کے لئے راضی نہیں ہوتا ‘ جب وہ ایسا کر لیتا ہے ‘ تو وہ ایمان کی حقیقت کا مستحق بن جاتا ہے ( اللہ تعالٰی حدیث قدسی میں فرماتا ہے : ) ’’ میرے محبوب بندے اور میرے ولی وہ ہیں ، جن کا ذکر ‘ میرے ذکر کے ساتھ کیا جاتا ہے ‘ اور میرا ذکر ‘ اُن کے ذکر کے ساتھ کیا جاتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی رشدین بن سعد ہے ‘ زیادہ تر حضرات نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔

193

Majma al-Zawaid #193

عَنْ عُمَيْرِ بْنِ قَتَادَةَ «أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ الصَّلَاةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: "" طُولُ الْقُنُوتِ "". قَالَ: أَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: "" جُهْدُ الْمُقِلِّ "". قَالَ: أَيُّ الْمُؤْمِنِينَ أَكْمَلُ إِيمَانًا؟ قَالَ: "" أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ سُوَيْدٌ أَبُو حَاتِمٍ، اخْتُلِفَ فِي ثِقَتِهِ وَضَعْفِهِ، وَتَأْتِي أَحَادِيثُ مِنْ هَذَا بَعْدُ.

EnglishUnverified translation

ʿUmayr ibn Qatādah reported: A man asked, "O Messenger of Allah, which prayer is best?" He ﷺ replied, "The one with prolonged standing (*ṭūl al-qunūt*)." He asked, "Which charity is best?" He ﷺ replied, "The effort of one of little means." He asked, "Which of the believers is most complete in faith?" The Prophet ﷺ said: > **"Those of them who are best in character."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمیر بن قتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک صاحب نے دریافت کیا : یا رسول اللہ ! کون سی نماز زیادہ فضیلت رکھتی ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : طویل قیام والی ‘ اُس نے دریافت کیا : کون سا صدقہ زیادہ فضیلت رکھتا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تنگ دست کا محنت کر کے ( دیا جانے والا صدقہ ) اس شخص نے دریافت کیا : اہل ایمان میں ‘ سب سے زیادہ کامل ایمان کس کا ہوتا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جس کے اخلاق سب سے زیادہ اچھے ہوں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی سوید ابو حاتم ہے ‘ جس کے ثقہ یا ضعیف ہونے کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے ‘ اس کے بعد بھی ‘ اُس کے حوالے سے کچھ احادیث آئیں گی ۔

194

Majma al-Zawaid #194

عَنْ جَابِرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَكْمَلُ الْمُؤْمِنِينَ إِيمَانًا أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ أَبُو أَيُّوبَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، وَلَا أَعْرِفُهُ.

EnglishUnverified translation

Jābir رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"The most complete of the believers in faith are those best in character."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے :: ’’ اہل ایمان میں ‘ سب سے زیادہ کامل ایمان اُس کا ہے ، جس کے اخلاق سب سے اچھے ہوں “۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں یہ مذکور ہے کہ اسے ابوایوب نے محمد بن منکدر سے نقل کیا ہے اور میں اس راوی سے واقف نہیں ہوں ۔

195

Majma al-Zawaid #195

عَنْ أَنَسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِنَّ أَكْمَلَ النَّاسِ إِيمَانًا أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا، وَإِنَّ حُسْنَ الْخُلُقِ لَيَبْلُغُ دَرَجَةَ الصَّوْمِ وَالصَّلَاةِ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Anas رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Indeed, the most complete of people in faith are those best in character; and indeed, good character reaches the rank of fasting and prayer."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ اہل ایمان میں ‘ سب سے زیادہ کامل ایمان اُس شخص کا ہے جس کے اخلاق سب سے اچھے ہوں اور اچھے اخلاق کی وجہ سے آدمی ‘ نماز اور روزے کے درجہ تک پہنچ جاتا ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

196

Majma al-Zawaid #196

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَكْمَلُ الْمُؤْمِنِينَ إِيمَانًا أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا، الْمُوَطَّئُونَ أَكْنَافًا، الَّذِينَ يَأْلَفُونَ وَيُؤْلَفُونَ، وَلَا خَيْرَ فِيمَنْ لَا يَأْلَفُ وَلَا يُؤْلَفُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَقَالَ: لَمْ يَرْوِهِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُيَيْنَةَ إِلَّا يَعْقُوبُ بْنُ أَبِي عَبَّادٍ الْقُلْزُمِيُّ، وَلَمْ أَرَ مَنْ ذَكَرَهُ.

EnglishUnverified translation

Abū Saʿīd al-Khudrī رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"The most complete of the believers in faith are those best in character, who are accommodating and gentle, who show affection and are shown affection; and there is no good in one who neither shows affection nor is shown affection."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ اہل ایمان میں سب سے زیادہ کامل ایمان اُس کا ہے ‘ جس کا اخلاق سب سے اچھا ہو ‘ وہ لوگ جو ( دوسروں سے الفت رکھتے ہیں ‘ اور اُن سے اُلفت رکھی جاتی ہے ‘ اور ایسے شخص میں کوئی بھلائی نہیں ہے جو الفت نہیں رکھتا ہو ‘ اور جس سے اُلفت نہیں رکھی جاتی ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ وہ فرماتے ہیں محمد بن علی نامی راوی کے حوالے سے ‘ اسے صرف یعقوب بن ابوعباد قلزمی نے روایت کیا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی کہتے ہیں : ) اور میں نے ایسا کوئی شخص نہیں دیکھا ، جس نے اُس کا ذکر کیا ہو ۔

197

Majma al-Zawaid #197

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «ثَلَاثٌ مِنْ أَخْلَاقِ الْإِيمَانِ: مَنْ إِذَا غَضِبَ لَمْ يُدْخِلْهُ غَضَبُهُ فِي بَاطِلٍ، وَمَنْ إِذَا رَضِيَ لَمْ يُخْرِجْهُ رِضَاهُ مِنْ حَقٍّ، وَمَنْ إِذَا قَدِرَ لَمْ يَتَعَاطَ مَا لَيْسَ لَهُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ، وَفِيهِ بِشْرُ بْنُ الْحُسَيْنِ، وَهُوَ كَذَّابٌ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Mālik رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Three qualities are of the ethics of faith: one whose anger does not lead him into falsehood, whose pleasure does not lead him away from the truth, and who, when capable, does not take what is not rightfully his."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ تین چیزیں ‘ ایمان کے اخلاق میں سے ہیں ‘ جو شخص غضبناک ہو تو اُس کا غضب اُسے باطل میں داخل نہ کروا دے ‘ اور جو شخص راضی ہو ‘ تو اُس کی رضامندی اُسے حق سے نہ نکال دے ‘ اور ایسا شخص کہ جب وہ قدرت رکھتا ہو ‘ تو وہ چیز نہ لے ‘ جس کا اُسے حق نہ ہو ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی بشر بن حسین ہے اور وہ کذاب ہے ۔

198

Majma al-Zawaid #198

وَعَنْ جَابِرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: «سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ الْإِيمَانِ، قَالَ: "" الصَّبْرُ وَالسَّمَاحَةُ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ يُوسُفُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Jābir رضي الله عنه said: The Messenger of Allah ﷺ was asked about faith, and he said: > **"Patience and generosity."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ سے ایمان کے بارے میں دریافت کیا گیا : تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : صبر اور نری ( یا سخاوت ) ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی یوسف بن محمد بن منکدر ہے اور وہ متروک ہے ۔

199

Majma al-Zawaid #199

عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ قَالَ: «قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا الْإِسْلَامُ؟ قَالَ: "" أَنْ يُسْلِمَ قَلْبُكَ، وَأَنْ يَسْلَمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِكَ وَيَدِكَ "". قَالَ: فَأَيُّ الْإِسْلَامِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: "" الْإِيمَانُ "". قَالَ: وَمَا الْإِيمَانُ؟ قَالَ: "" أَنْ تُؤْمِنَ بِاللَّهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ وَالْبَعْثِ بَعْدَ الْمَوْتِ "". قَالَ: فَأَيُّ الْإِيمَانِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: "" الْهِجْرَةُ "". قَالَ: مَا الْهِجْرَةُ؟ قَالَ: "" أَنْ تَهْجُرَ السُّوءَ "". قَالَ: فَأَيُّ الْهِجْرَةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: "" الْجِهَادُ "". قَالَ: وَمَا الْجِهَادُ؟ قَالَ: "" أَنْ تُقَاتِلَ الْكُفَّارَ إِذَا لَقِيتَهُمْ "". قَالَ: فَأَيُّ الْجِهَادِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: "" مَنْ عُقِرَ جَوَادُهُ، وَأُهْرِيقَ دَمُهُ» "". قُلْتُ: وَهُوَ يَأْتِي بِتَمَامِهِ فِي فَضْلِ الْحَجِّ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ بِنَحْوِهِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAmr ibn ʿAbasah رضي الله عنه said: A man asked, "O Messenger of Allah, what is Islam?" He ﷺ replied, "That your heart surrenders to Allah, and that the Muslims are safe from your tongue and hand." The man asked, "Then which Islam is best?" He ﷺ said, "Faith." The man asked, "And what is faith?" He ﷺ said, "That you believe in Allah, His angels, His Books, His Messengers, and the resurrection after death." The man asked, "Then which faith is best?" He ﷺ said, "Migration (*hijrah*)." The man asked, "What is migration?" He ﷺ said, "That you abandon evil." The man asked, "Then which migration is best?" He ﷺ said, "Jihād." The man asked, "And what is Jihād?" He ﷺ said, "That you fight the disbelievers when you encounter them." The man asked, "Then which Jihād is best?" The Prophet ﷺ said: > **"The one whose horse is slain and whose blood is shed."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اسلام سے مراد کیا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : یہ کہ تمہارا دل فرمانبردار ہو ‘ اور تمہاری زبان اور ہاتھ سے ( دوسرے ) مسلمان محفوظ ہوں ‘ اس شخص نے دریافت کیا : کون سا اسلام زیادہ فضیلت رکھتا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ایمان ‘ اُس نے دریافت کیا : ایمان سے مراد کیا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : یہ کہ تم اللہ تعالیٰ اس کے فرشتوں ، اُس کی کتابوں ، اُس کے رسولوں ‘ اور مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے پر ایمان رکھو ! اس شخص نے دریافت کیا : کون سا ایمان زیادہ فضیلت رکھتا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ہجرت ‘ اُس نے دریافت کیا : ہجرت سے مراد کیا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : یہ کہ تم برائی سے لاتعلق ہو جاؤ ! اُس نے دریافت کیا : کہ کون سی ہجرت زیادہ فضیلت رکھتی ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جہاد ‘ اُس نے دریافت کیا : جہاد سے مراد کیا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کہ جب تمہارا کفار سے سامنا ہو ‘ تو تم اُن کے ساتھ جنگ کرو ! اُس نے دریافت کیا : کون سا جہاد زیادہ فضیلت رکھتا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جس میں گھوڑے کے پاؤں کاٹ دیئے جائیں اور آدمی کا خون بہا دیا جائے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت آگے چل کر ‘ جج کی فضیلت سے متعلق باب میں ، مکمل روایت کے طور پر آئے گی ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ امام طبرانی نے معجم کبیر میں اس کی مانند روایت نقل کی ہے اور اس روایت کے رجال ثقہ ہیں ۔

200

Majma al-Zawaid #200

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: «بَيْنَمَا نَحْنُ نَسِيرُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذْ سَمِعَ الْقَوْمَ وَهُمْ يَقُولُونَ: أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِيمَانٌ بِاللَّهِ، وَجِهَادٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَحَجٌّ مَبْرُورٌ ""، ثُمَّ سَمِعَ نِدَاءً فِي الْوَادِي يَقُولُ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" وَأَنَا أَشْهَدُ وَأَشْهَدُ أَلَّا يَشْهَدَ بِهَا أَحَدٌ إِلَّا بَرِئَ مِنَ الشِّرْكِ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ مُوَثَّقُونَ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Salām رضي الله عنه said: While we were journeying with the Messenger of Allah ﷺ, he heard the people asking, "Which deeds are best, O Messenger of Allah?" The Messenger of Allah ﷺ said, "Faith in Allah, striving in the cause of Allah, and an accepted pilgrimage (*ḥajj mabrūr*)." Then he heard a caller in the valley proclaiming: "I testify that there is no deity worthy of worship except Allah, and that Muḥammad is the Messenger of Allah." The Messenger of Allah ﷺ said: > **"And I testify, and I testify that no one bears witness to it except that he is free from polytheism (*shirk*)."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ہم نبی اکرم ﷺ کے ساتھ چلتے ہوئے جا رہے تھے کہ اسی دوران آپ نے کچھ لوگوں کو سنا ‘ جو یہ کہہ رہے تھے : یا رسول اللہ ! کون سا عمل زیادہ فضیلت رکھتا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالی پر ایمان رکھنا ‘ اللہ کی راہ میں جہاد کرنا اور مبرور حج ‘ پھر آپ ﷺ نے وادی میں کسی شخص کو بلند آواز میں یہ کہتے ہوئے سنا : میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالی کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ‘ اور حضرت محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میں بھی اس بات کی گواہی دیتا ہوں اور میں اس بات کی بھی گواہی دیتا ہوں کہ جو شخص اس کلمے کے حوالے سے گواہی دے گا ‘ وہ شرک سے لاتعلق ہو جائے گا ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور امام احمد کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔