Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 1 · Chapter 4

Book of Faith

Hadith 121–160

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

121

Majma al-Zawaid #121

«وَعَنْ رَجُلٍ مِنْ قَيْسٍ يُقَالُ لَهُ: ابْنُ الْمُنْتَفِقِ قَالَ: وُصِفَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَطَلَبْتُهُ بِمَكَّةَ، فَقِيلَ لِي: هُوَ بِمِنًى، فَطَلَبْتُهُ بِمِنًى، فَقِيلَ لِي: هُوَ بِعَرَفَاتٍ، فَانْتَهَيْتُ إِلَيْهِ، فَزَاحَمْتُ عَلَيْهِ حَتَّى خَلَصْتُ إِلَيْهِ. قَالَ: فَأَخَذْتُ بِخِطَامِ رَاحِلَةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَوْ قَالَ: بِزِمَامِهَا. قَالَ: هَكَذَا حَدَّثَ مُحَمَّدٌ - حَتَّى اخْتَلَفَتْ أَعْنَاقُ رَاحِلَتَيْنَا. قَالَ: فَمَا قَرَّعَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَوْ قَالَ: مَا غَيَّرَ عَلَيَّ، هَكَذَا حَدَّثَ مُحَمَّدٌ - قَالَ: قُلْتُ: ثِنَتَانِ أَسْأَلُكَ عَنْهُمَا: مَا يُنْجِينِي مِنَ النَّارِ؟ وَمَا يُدْخِلُنِي الْجَنَّةَ؟ قَالَ: فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى السَّمَاءِ، ثُمَّ نَكَسَ رَأْسَهُ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيَّ بِوَجْهِهِ. قَالَ: "" إِنْ كُنْتَ أَوْجَزْتَ فِي الْمَسْأَلَةِ، لَقَدْ أَعْظَمْتَ وَأَطْوَلْتَ، فَاعْقِلْ عَنِّي إِذًا: اعْبُدِ اللَّهَ، لَا تُشْرِكْ بِهِ شَيْئًا، وَأَقِمِ الصَّلَاةَ الْمَكْتُوبَةَ، وَأَدِّ الزَّكَاةَ الْمَفْرُوضَةَ، وَصُمْ رَمَضَانَ، وَمَا تُحِبُّ أَنْ يَفْعَلَهُ النَّاسُ بِكَ فَافْعَلْهُ بِهِمْ، وَمَا تَكْرَهُ أَنْ تَأْتِيَ إِلَيْكَ النَّاسُ فَذَرِ النَّاسَ مِنْهُ ""، ثُمَّ قَالَ: "" خَلِّ سَبِيلَ الرَّاحِلَةِ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِي إِسْنَادِهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي عَقِيلٍ الْيَشْكُرِيُّ، وَلَمْ أَرَ أَحَدًا رَوَى عَنْهُ غَيْرُ ابْنِهِ الْمُغِيرَةِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ.

EnglishUnverified translation

A man from Qays known as Ibn al-Muntafiq رضي الله عنه said: The description of the Messenger of Allah ﷺ was given to me, so I sought him in Mecca. I was told: "He is in Minā." I sought him in Minā and was told: "He is at ʿArafāt." I reached him and pressed through the crowd until I reached his side. I took hold of the halter of the riding camel of the Messenger of Allah ﷺ — or he said: its rein — until the necks of our mounts intertwined. The Messenger of Allah ﷺ did not rebuke me nor reprimand me. I said, "There are two questions I ask of you: What will save me from the Fire, and what will admit me into Paradise?" The Messenger of Allah ﷺ looked up toward the sky, then lowered his head, and then turned his face toward me. He said: > **"Though you were brief in your question, you have asked a momentous and profound matter! Comprehend from me then: Worship Allah and do not associate anything with Him, establish the prescribed prayer, pay the obligatory zakāh, fast Ramadan, and whatever you love for people to do to you, do it to them; and whatever you hate that people should do to you, spare people from it."** Then he ﷺ said: > **"Release the path of the riding camel."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

قیس قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایک صحابی ‘ جن کا نام ابن مخفق ہے ‘ وہ بیان کرتے ہیں : میرے سامنے نبی اکرم ﷺ کا حلیہ بیان کیا گیا ، میں نے مکہ میں آپ کو تلاش کیا ، تو مجھے بتایا گیا : آپ ﷺ منیٰ میں ہیں ‘ میں نے منیٰ میں آپ کو تلاش کیا ‘ تو مجھے بتایا گیا آپ ﷺ عرفات میں ہیں ، جب میں آپ کے پاس پہنچا ‘ تو ہجوم میں سے گزرتا ہوا ‘ آپ کے پاس آیا ، میں نے نبی اکرم ﷺ کی سواری کی لگام پکڑ لی ‘ یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ‘ یہاں تک کہ ہماری سواریوں کی گردنیں ‘ ایک دوسرے سے مل گئیں ، لیکن نہ تو نبی اکرم ﷺ نے مجھے ڈانٹا ‘ اور نہ ہی پرے کیا ‘ میں نے عرض کی : میں آپ سے دو چیزوں کے بارے میں پوچھنا چاہتا ہوں ‘ کیا چیز مجھے جہنم سے نجات دلوا سکتی ہے ؟ اور کیا چیز مجھے جنت میں داخل کروا سکتی ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے آسمان کی طرف دیکھا ، پھر اپنا سر جھکایا ‘ پھر میری طرف رُخ کیا اور ارشاد فرمایا : تم نے مختصر سوال کیا ہے ‘ لیکن یہ بڑا ( اہم ) اور طویل ( سوال ) ہے ‘ تم میری یہ بات یاد رکھنا ! تم اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو ! کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہراؤ ‘ فرض نماز ادا کرو ‘ فرض زکوۃ ادا کرو ‘ رمضان کے روزے رکھو ‘ جس چیز کے بارے میں تم یہ پسند کرتے ہو کہ لوگ تمہارے ساتھ اُس طرح کا سلوک کریں ، تو تم بھی اُن کے ساتھ اسی طرح کا سلوک کرو ‘ اور جس چیز کے بارے میں تمہیں یہ ناپسند ہو ‘ کہ لوگ تمہارے ساتھ ایسا کریں ، تو تم بھی لوگوں کے ساتھ ویسا نہ کرنا ، پھر آپ نے ارشاد فرمایا : سواری کا راستہ چھوڑ دو ! یہ روایت امام احمد نے ‘ اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن ابوعقیل ۔ یشکری ہے ‘ میں نے اُس کے بیٹے مغیرہ بن عبداللہ کے علاوہ ‘ اور کسی کو اس سے روایت نقل کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ۔

122

Majma al-Zawaid #122

وَعَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ - أَوْ عَنْ عَمِّهِ - قَالَ: «أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِعَرَفَةَ، وَأَخَذْتُ بِزِمَامِ نَاقَتِهِ أَوْ خِطَامِهَا، فَدَفَعْتُ عَنْهُ. فَقَالَ: "" دَعُوهُ، فَأَرَبٌ مَا جَاءَ بِهِ "". قُلْتُ: نَبِّئْنِي بِعَمَلٍ يُقَرِّبُنِي مِنَ الْجَنَّةِ وَيُبَاعِدُنِي مِنَ النَّارِ. قَالَ: فَرَفَعَ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ، ثُمَّ قَالَ: "" لَئِنْ كُنْتَ أَوْجَزْتَ لَقَدْ أَعْظَمْتَ وَأَطْوَلْتَ: تَعْبُدُ اللَّهَ لَا تُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا، وَتُقِيمُ الصَّلَاةَ، وَتُؤْتِي الزَّكَاةَ، وَتَحُجُّ الْبَيْتَ، وَتَصُومُ رَمَضَانَ، وَتَأْتِي إِلَى النَّاسِ مَا تُحِبُّ أَنْ يَأْتُوهُ إِلَيْكَ، وَمَا كَرِهْتَ لِنَفْسِكَ فَدَعِ النَّاسَ مِنْهُ. خَلِّ زِمَامَ النَّاقَةِ». رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ مِنْ زِيَادَاتِهِ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ بِأَسَانِيدَ وَرِجَالٍ، بَعْضُهَا ثِقَاتٌ، عَلَى ضَعْفٍ فِي يَحْيَى بْنِ عِيسَى كَثِيرٍ.

EnglishUnverified translation

Al-Mughīrah ibn Saʿd reported from his father or his uncle رضي الله عنه: I came to the Prophet ﷺ at ʿArafah and took hold of the rein or halter of his she-camel. People began pushing me away from him, but the Prophet ﷺ said: > **"Leave him, for he has come with a genuine need."** I said, "Inform me of a deed that will draw me near to Paradise and distance me from the Fire." He lifted his head toward the sky and then said: > **"Though you were concise, you have asked something momentous and profound: Worship Allah without associating anything with Him, establish prayer, pay zakāh, perform pilgrimage to the House, fast Ramadan, treat people as you would love to be treated by them, and whatever you dislike for yourself, spare people from it. Release the rein of the she-camel."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

مغیرہ بن سعد ‘ اپنے والد ‘ یا شاید اپنے چچا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : میں ‘ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں عرفہ میں حاضر ہوا ‘ میں نے آپ کی اوٹنی کی لگام پکڑ لی ( یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ) مجھے آپ سے پیچھے کیا جانے لگا ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اسے چھوڑ دو ! یہ کسی اہم کام کے سلسلے میں آیا ہو گا ۔ میں نے عرض کی : آپ مجھے ایسے عمل کے بارے میں بتائیے ‘ جو مجھے جنت کے قریب کر دے اور جو مجھے جہنم سے دور کر دے ‘ راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا ‘ اور پھر یہ ارشاد فرمایا : تم نے مختصر ‘ لیکن اہم اور طویل سوال کیا ہے ‘ تم اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو ! کسی کو اُس کا شریک نہ ٹھہراؤ ‘ تم نماز ادا کرو ‘ زکوۃ دو ‘ بیت اللہ کا حج کرو ‘ رمضان کے روزے رکھو ‘ اور لوگوں کے ساتھ وہی سلوک کرو ‘ جس کے بارے میں تم یہ پسند کرتے ہو ‘ کہ لوگ تمہارے ساتھ ایسا سلوک کریں ‘ اور اپنی ذات کے حوالے سے ‘ جس چیز کو تم ناپسند کرتے ہو ‘ تو تم لوگوں کے ساتھ بھی ویسا نہ کرو ‘ اور اب اونٹنی کی لگام چھوڑ دو ! یہ روایت ( امام احمد کے صاحبزادے ) عبداللہ نے اپنی ” زیادات ‘‘ میں نقل کی ہے ‘ اسے امام طبرانی نے معجم کبیر میں مختلف اسناد اور مختلف رادیوں کے حوالے سے نقل کیا ہے ‘ جن میں سے بعض ثقہ ہیں ، تاہم اس میں یحییٰ بن عیسیٰ کثیر نامی راوی ضعیف ہے ۔

123

Majma al-Zawaid #123

«وَعَنْ حُجَيْرٍ عَنْ أَبِيهِ - وَكَانَ يُكْنَى أَبَا الْمُنْتَفِقِ - قَالَ: أَتَيْتُ مَكَّةَ فَسَأَلْتُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالُوا: بِعَرَفَةَ، فَأَتَيْتُهُ فَذَهَبْتُ أَدْنُو مِنْهُ حَتَّى اخْتَلَفَتْ عُنُقُ رَاحِلَتِي وَعُنُقُ رَاحِلَتِهِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، نَبِّئْنِي بِمَا يُنْجِينِي مِنْ عَذَابِ اللَّهِ وَيُدْخِلُنِي جَنَّتَهُ. قَالَ: "" اعْبُدِ اللَّهَ لَا تُشْرِكْ بِهِ شَيْئًا، وَأَقِمِ الصَّلَاةَ الْمَكْتُوبَةَ، وَأَدِّ الزَّكَاةَ الْمَفْرُوضَةَ، وَحُجَّ وَاعْتَمِرْ، وَصُمْ رَمَضَانَ، وَانْظُرْ مَا تُحِبُّ النَّاسُ أَنْ يَأْتُوهُ إِلَيْكَ فَافْعَلْهُ بِهِمْ، وَمَا كَرِهْتَ أَنْ يَأْتُوهُ إِلَيْكَ فَذَرْهُمْ مِنْهُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِي إِسْنَادِهِ حُجَيْرٌ، وَهُوَ ابْنُ الصَّحَابِيِّ، وَلَمْ أَرَ مَنْ ذَكَرَهُ.

EnglishUnverified translation

Ḥujayr narrated from his father, whose kunyah was Abū al-Muntafiq رضي الله عنه: I came to Mecca and asked about the Messenger of Allah ﷺ. They said, "He is at ʿArafah." So I went to him and drew close until the neck of my mount intertwined with the neck of his mount. I said, "O Messenger of Allah, inform me of that which will save me from the punishment of Allah and admit me into His Paradise." He ﷺ said: > **"Worship Allah without associating anything with Him, establish the prescribed prayer, pay the obligatory zakāh, perform Ḥajj and ʿUmrah, fast Ramadan, and observe what you love for people to do to you and do it to them; and whatever you dislike for them to do to you, spare them from it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حجیر نے ‘ اپنے والد کا یہ بیان نقل کیا ہے ، جن کی کنیت ابو مشفق ہے ‘ وہ بیان کرتے ہیں : میں مکہ آیا ‘ میں نے نبی اکرم ﷺ کے بارے میں دریافت کیا ، تو لوگوں نے بتایا کہ آپ ﷺ عرفہ میں ہیں ، میں آیا اور نبی اکرم ﷺ کے قریب پہنچ گیا ‘ یہاں تک کہ میری اونٹنی کی گردن ‘ نبی اکرم ﷺ کی اونٹنی کی گردن سے ملنے لگی ‘ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے اس چیز کے بارے میں بتائیے ‘ جو مجھے اللہ کے عذاب سے بچا دے ‘ اور جنت میں داخل کروا دے ‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم اللہ کی عبادت کرو ! کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہراؤ ‘ فرض نماز ادا کرو ‘ فرض زکوٰۃ ادا کرو ‘ حج اور عمرہ کرو ‘ رمضان کے روزے رکھو اور اس بات کا جائزہ لو کہ تم جس چیز کو پسند کرتے ہو ‘ کہ لوگ تمہارے ساتھ ایسا کریں ، تو تم بھی لوگوں کے ساتھ ویسا ہی کرو ‘ اور جس چیز کو تم ناپسند کرتے ہو ‘ کہ لوگ تمہارے ساتھ ایسا کریں ‘ تو تم بھی لوگوں کے ساتھ ویسا نہ کرنا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ’’ حجیر “ ہیں ‘ جو صحابی کے صاحبزادے ہیں ، لیکن میں نے کسی کو اُن کا ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ۔

124

Majma al-Zawaid #124

وَعَنْ عَلِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - «عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ: "" بَعَثَ اللَّهُ يَحْيَى بْنَ زَكَرِيَّا إِلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ بِخَمْسِ كَلِمَاتٍ، فَلَمَّا بَعَثَ اللَّهُ عِيسَى قَالَ اللَّهُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى -: يَا عِيسَى، قُلْ لِيَحْيَى بْنِ زَكَرِيَّا إِمَّا أَنْ تُبَلِّغَ مَا أُرْسِلْتَ بِهِ إِلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ، وَإِمَّا أَنْ أُبَلِّغَهُمْ، فَخَرَجَ يَحْيَى حَتَّى صَارَ إِلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ فَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - يَأْمُرُكُمْ أَنْ تَعْبُدُوهُ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا، وَمَثَلُ ذَلِكَ كَمَثَلِ رَجُلٍ أَعْتَقَ رَجُلًا وَأَحْسَنَ إِلَيْهِ وَأَعْطَاهُ، فَانْطَلَقَ وَكَفَرَ نِعْمَتَهُ، وَوَالَى غَيْرَهُ. وَإِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُقِيمُوا الصَّلَاةَ، وَمَثَلُ ذَلِكَ كَمَثَلِ رَجُلٍ أَسَرَهُ الْعَدُوُّ، فَأَرَادُوا قَتْلَهُ فَقَالَ: لَا تَقْتُلُونِي، فَإِنَّ لِي كَنْزًا وَأَنَا أَفْدِي نَفْسِي، فَأَعْطَاهُمْ كَنْزَهُ وَنَجَا بِنَفْسِهِ. وَإِنَّ اللَّهَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - يَأْمُرُكُمْ أَنْ تَتَصَدَّقُوا، وَمَثَلُ ذَلِكَ كَمَثَلِ رَجُلٍ مَشَى إِلَى عَدُوِّهِ وَقَدْ أَخَذَ لِلْقِتَالِ جُنَّةً، فَلَا يُبَالِي مِنْ حَيْثُ أُتِيَ. وَإِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تَقْرَءُوا الْكِتَابَ، وَمَثَلُ ذَلِكَ كَمَثَلِ قَوْمٍ فِي حِصْنِهِمْ صَارَ إِلَيْهِمْ عَدُوُّهُمْ وَقَدْ أَعَدُّوا فِي كُلِّ نَاحِيَةٍ مِنْ نَوَاحِيَ الْحِصْنِ قَوْمًا، فَلَيْسَ يَأْتِيهِمْ عَدُوُّهُمْ مِنْ نَاحِيَةٍ مِنْ نَوَاحِي الْحِصْنِ إِلَّا وَبَيْنَ أَيْدِيهِمْ مَنْ يَدْرَؤُهُمْ عَنْهُمْ عَنِ الْحِصْنِ، فَذَلِكَ مَثَلُ مَنْ يَقْرَأُ الْقُرْآنَ لَا يَزَالُ فِي أَحْصَنِ حِصْنٍ "". وَلَمْ أَرَ فِي كِتَابِي الْخَامِسَةَ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ، إِلَّا شَيْخَ الْبَزَّارِ الْحَسَنَ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادٍ، فَإِنِّي لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

ʿAlī رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Allah sent Yaḥyā ibn Zakariyyā عليهما السلام to the Children of Israel with five commandments. When Allah sent ʿĪsā عليه السلام, Allah, Blessed and Exalted is He, said: 'O ʿĪsā, say to Yaḥyā ibn Zakariyyā: Either you convey that with which you were sent to the Children of Israel, or I shall convey it to them.' So Yaḥyā went forth until he came to the Children of Israel and said: > 'Indeed, Allah, Blessed and Exalted is He, commands you to worship Him and not associate anything with Him. The parable of that is like a man who freed a slave, treated him kindly, and gave him wealth; yet the slave departed, was ungrateful for his favor, and gave his allegiance to someone else. > And indeed, Allah commands you to establish prayer. The parable of that is like a man captured by the enemy who intended to execute him, so he pleaded: "Do not kill me, for I possess a treasure and I will ransom myself." Thus he gave them his treasure and saved himself. > And indeed, Allah, Blessed and Exalted is He, commands you to give charity. The parable of that is like a man marching toward his enemy who has taken a shield for battle, so he cares not from which side he is attacked. > And indeed, Allah commands you to recite the Scripture. The parable of that is like a group of people inside their fortress toward whom their enemy advances; they stationed defenders at every corner of the fortress, so the enemy cannot approach from any corner without defenders repelling them from the fortress. Such is the parable of the one who recites the Qur'an: he remains continuously within the most impregnable fortress.'"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا فرمان نقل کرتے ہیں :: ’’ اللہ تعالیٰ نے حضرت یحیی بن زکریا علیہما السلام کو ‘ پانچ کلمات کے ہمراہ بنی اسرائیل کی طرف بھیجا ‘ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو مبعوث کیا ‘ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اے عیسیٰ ! تم یحیی بن زکریا سے یہ کہو ! کہ میں نے تمہیں جس چیز کے ہمراہ بنی اسرائیل کی طرف بھیجا ہے ‘ یا تو تم اس کی تبلیغ کر دو ‘ یا میں انہیں تبلیغ کر دیتا ہوں ، تو حضرت یحییٰ علیہ السلام نکلے اور بنی اسرائیل کے پاس تشریف لائے اور انہوں نے فرمایا : ’’ بے شک اللہ تعالیٰ تمہیں یہ حکم دیتا ہے کہ تم اس کی عبادت کرو اور کسی کو اُس کا شریک نہ ٹھہراؤ ‘ اس کی مثال اس شخص کی مانند ہے ‘ جو کسی غلام کو آزاد کرتا ہے ‘ اس کے ساتھ اچھا سلوک کرتا ہے اسے مال وغیرہ دیتا ہے ‘ وہ غلام چلا جاتا ہے اور اس شخص کی نعمت کا انکار کر دیتا ہے اور اس شخص کی بجائے کسی اور سے تعلق قائم کر لیتا ہے ‘ اللہ تعالی تمہیں یہ بھی حکم دیتا ہے کہ تم لوگ نماز قائم کرو ! اس کی مثال اس شخص کی مانند ہے جسے دشمن قید کر لیتا ہے اور اسے قتل کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو وہ شخص یہ کہتا ہے : تم لوگ مجھے قتل نہ کرو ‘ میرے پاس خزانہ موجود ہے ‘ اور میں اپنی ذات کا فدیہ دے دوں گا ‘ تو وہ شخص ان لوگوں کو اپنا خزانہ دیتا ہے اور اپنی ذات کو نجات دلوا دیتا ہے ‘ اللہ تعالیٰ نے تمہیں یہ حکم بھی دیا ہے کہ تم لوگ صدقہ کرو اس کی مثال اس شخص کی مانند ہے ‘ جو دشمن کی طرف جاتا ہے اور جنگ کے لئے ڈھال رکھتا ہے ‘ وہ اس بات کی پروا نہیں کرتا کہ اس پر کس طرف سے حملہ ہو گا ؟ اللہ تعالی تمہیں یہ حکم دیتا ہے کہ تم لوگ کتاب کی تلاوت کرو ! اس کی مثال ان لوگوں کی مانند ہے ‘ جو اپنے قلعے میں ہوتے ہیں ‘ اُن کا دشمن ان کی طرف جاتا ہے ‘ تو ان لوگوں نے قلعے کے ہر طرف لوگ تیار رکھے ہوتے ہیں ، تو دشمن قلعہ کے جس بھی طرف سے آتا ہے ‘ اس کے سامنے ایسے افراد موجود ہوتے ہیں ، جو اسے قلعے کی طرف جانے سے روکتے ہیں ، تو یہ مثال اُس شخص کی ہے جو ‘ قرآن پڑھتا ہے ‘ تو وہ سب سے زیادہ مضبوط قلعے میں ہوتا ہے ‘‘۔ راوی بیان کرتے ہیں : میں نے اپنی تحریر میں ‘ پانچویں چیز کا ذکر نہیں پایا ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ‘ البتہ امام بزار کے استاد حسن بن محمد بن عباد کا معاملہ مختلف ہے ‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں ان سے واقف نہیں ہوں ۔

125

Majma al-Zawaid #125

وَعَنْ سُوَيْدِ بْنِ حُجَيْرٍ قَالَ: حَدَّثَنِي خَالِي، قَالَ: «لَقِيتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَيْنَ عَرَفَةَ وَالْمُزْدَلِفَةِ، فَأَخَذْتُ بِخِطَامِ نَاقَتِهِ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا يُقَرِّبُنِي مِنَ الْجَنَّةِ وَيُبَاعِدُنِي مِنَ النَّارِ؟ فَقَالَ: "" أَمَا وَاللَّهِ لَئِنْ كُنْتَ أَوْجَزْتَ الْمَسْأَلَةَ لَقَدْ أَعْظَمْتَ وَأَطْوَلْتَ: أَقِمِ الصَّلَاةَ الْمَكْتُوبَةَ، وَأَدِّ الزَّكَاةَ الْمَفْرُوضَةَ، وَحُجَّ الْبَيْتَ، وَمَا أَحْبَبْتَ أَنْ يَفْعَلَهُ النَّاسُ بِكَ فَافْعَلْهُ بِهِمْ، وَمَا كَرِهْتَ أَنْ يَفْعَلَهُ النَّاسُ بِكَ فَدَعِ النَّاسَ مِنْهُ. خَلِّ زِمَامَ النَّاقَةِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِي إِسْنَادِهِ قَزَعَةُ بْنُ سُوَيْدٍ، وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ، وَضَعَّفَهُ الْبُخَارِيُّ وَغَيْرُهُ.

EnglishUnverified translation

Suwayd ibn Ḥujayr said: My maternal uncle رضي الله عنه narrated to me: I met the Prophet ﷺ between ʿArafah and al-Muzdalifah and took hold of the halter of his she-camel. I said, "O Messenger of Allah, what will bring me close to Paradise and distance me from the Fire?" He ﷺ said: > **"By Allah, though you were brief in your question, you have asked something momentous and profound: Establish the prescribed prayer, pay the obligatory zakāh, perform pilgrimage to the House, and whatever you love that people should do to you, do it to them; and whatever you dislike that people should do to you, spare people from it. Release the rein of the she-camel."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سوید بن حجیر بیان کرتے ہیں : میرے ماموں نے مجھے یہ بات بتائی ہے : وہ کہتے ہیں : عرفہ اور مزدلفہ کے درمیان میری ملاقات نبی اکرم ﷺ سے ہوئی ‘ میں نے آپ ﷺ کی اونٹنی کی لگام پکڑ لی اور عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا چیز مجھے جنت کے قریب اور جہنم سے دور کر سکتی ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم نے سوال مختصر کیا ہے اور بات اہم اور طویل دریافت کی ہے ‘ تم فرض نماز ادا کرو ‘ فرض زکوۃ ادا کرو ‘ بیت اللہ کا حج کرو ‘ تم جو پسند کرتے ہو کہ لوگ تمہارے ساتھ ویسا کریں ، تو تم بھی اُن کے ساتھ وہی کرو ‘ اور جس چیز کے بارے میں تم یہ ناپسند کرتے ہو ‘ کہ لوگ تمہارے ساتھ ایسا کریں ، تو تم بھی لوگوں کے ساتھ ویسا نہ کرو ‘ اور اونٹنی کی لگام چھوڑ دو ! یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی قزعہ بن سوید ہے ‘ یحییٰ بن معین اور دیگر حضرات نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ‘ جبکہ امام بخاری اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔

126

Majma al-Zawaid #126

وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - «أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا عِصْمَةُ هَذَا الْأَمْرِ وَعُرَاهُ وَوَثَاقُهُ؟ قَالَ: "" أَخْلِصُوا عِبَادَةَ اللَّهِ - تَعَالَى - وَأَقِيمُوا خَمْسَكُمْ، وَأَدُّوا زَكَاةَ أَمْوَالِكُمْ طَيِّبَةً بِهَا أَنْفُسُكُمْ، وَصُومُوا شَهْرَكُمْ ; تَدْخُلُوا جَنَّةَ رَبِّكُمْ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ مَرْثَدٍ، وَلَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ.

EnglishUnverified translation

Abū al-Dardāʾ رضي الله عنه narrated: A man came to the Prophet ﷺ and said, "O Messenger of Allah, what is the safeguard of this matter [religion], its firm handhold, and its secure bond?" He ﷺ said: > **"Devote your worship purely to Allah Almighty, establish your five daily prayers, pay the zakāh on your wealth with a cheerful soul, and fast your month; you shall enter the Paradise of your Lord."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ‘ اس نے دریافت کیا : اس معاملے کی رسی اور اس کی بندش کیا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : خالص طور پر ‘ اللہ کی عبادت کرو ! پانچ نمازیں ادا کرو ، اپنی دلی خوشی کے ساتھ اپنے اموال کی زکوٰۃ ادا کرو ‘ اپنے مخصوص مہینے ( یعنی رمضان ) کے روزے رکھو ‘ اور اپنے پروردگار کی جنت میں داخل ہو جاؤ ! یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی یزید بن مرثد ہے ‘ لیکن اس نے حضرت ابودرداء رضٰ اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔

127

Majma al-Zawaid #127

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: «مَنْ لَقِيَ اللَّهَ - تَعَالَى - يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِالصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ، وَصِيَامِ رَمَضَانَ، وَالِاغْتِسَالِ مِنَ الْجَنَابَةِ - كَانَ عَبْدَ اللَّهِ حَقًّا، وَمَنِ اخْتَانَ مِنْهُنَّ شَيْئًا كَانَ عَدُوَّ اللَّهِ حَقًّا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِي إِسْنَادِهِ الْحَجَّاجُ بْنُ رِشْدِينَ بْنِ سَعْدٍ، ضَعَّفَهُ ابْنُ عَدِيٍّ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿAmr رضي الله عنهما reported that he heard the Messenger of Allah ﷺ say: > **"Whoever meets Allah Almighty on the Day of Resurrection with the five daily prayers, the fast of Ramadan, and performing the ritual bath from sexual impurity (janābah) is truly a servant of Allah; and whoever acts treacherously regarding any of them is truly an enemy of Allah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جو شخص قیامت کے دن ‘ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پانچ نمازوں ‘ رمضان کے روزوں ‘ اور غسل جنابت کرنے کے ہمراہ حاضر ہو گا ‘ وہ اللہ تعالی کا حقیقی بندہ شمار ہو گا ‘ اور جو ان میں سے ‘ کسی چیز میں خیانت کا مرتکب ہو گا ‘ وہ اللہ تعالی کا حقیقی دشمن شمار ہو گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن رشدین بن سعد ہے ، جس کو ابن عدی نے ضعیف قرار دیا ہے ۔

128

Majma al-Zawaid #128

وَعَنْ جَرِيرٍ قَالَ: «جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَأَلَهُ عَنِ الْإِسْلَامِ، فَقَالَ: "" تَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، وَتُقِيمُ الصَّلَاةَ، وَتُؤْتِي الزَّكَاةَ، وَتَصُومُ رَمَضَانَ، وَتُحِبُّ لِلنَّاسِ مَا تُحِبُّ لِنَفْسِكَ، وَتَكْرَهُ لَهُمْ مَا تَكْرَهُ لِنَفْسِكَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِي إِسْنَادِهِ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَأَةَ.

EnglishUnverified translation

Jarīr رضي الله عنه said: A man came to the Prophet ﷺ and asked him about Islam. He ﷺ said: > **"That you testify that there is no deity worthy of worship except Allah and that Muḥammad is the Messenger of Allah, establish prayer, pay zakāh, fast Ramadan, love for people what you love for yourself, and dislike for them what you dislike for yourself."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جریر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم کی خدمت میں حاضر ہوا ‘ اس نے آپ سے اسلام کے بارے میں دریافت کیا ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم اس بات کی گواہی دو ! کہ اللہ تعالٰی کے علاوہ ‘ اور کوئی معبود نہیں ہے ‘ اور حضرت محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں اور تم نماز ادا کرو ‘ زکوۃ دو ‘ رمضان کے روزے رکھو ‘ اور لوگوں کے لیے وہی چیز پسند کرو ‘ جو تم اپنے لیے پسند کرتے ہو ‘ اور اُن کے لئے وہی چیز ناپسند کرو ‘ جو تم اپنے لیے ناپسند کرتے ہو ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے ۔

129

Majma al-Zawaid #129

وَعَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «مَنْ لَمْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ شَيْئًا بَعْدَ إِذْ آمَنَ بِهِ، وَأَقَامَ الصَّلَاةَ، وَأَدَّى الزَّكَاةَ الْمَفْرُوضَةَ، وَصَامَ رَمَضَانَ، وَسَمِعَ وَأَطَاعَ، فَمَاتَ عَلَى ذَلِكَ - وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِي إِسْنَادِهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَيَّاشٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Mālik al-Ashʿarī رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Whoever does not associate anything with Allah after having believed in Him, establishes prayer, pays the obligatory zakāh, fasts Ramadan, and listens and obeys, and dies upon that state — Paradise becomes obligatory for him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابومالک اشعری رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جو شخص ‘ اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے کے بعد ‘ کسی کو اس کا شریک قرار نہ دے ‘ اور نماز قائم کرے ‘ فرض زکوٰۃ ادا کرے رمضان کے روزے رکھے ( حاکم وقت کی ) اطاعت و فرمانبرداری کرے ‘ اور پھر اسی حالت میں مر جائے ‘ اُس کے لیے جنت واجب ہو جاتی ہے “۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن اسماعیل بن عیاش ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

130

Majma al-Zawaid #130

«وَعَنْ حَكِيمِ بْنِ مُعَاوِيَةَ أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، بِمَا أَرْسَلَكَ رَبُّنَا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَنْ تَعْبُدَ اللَّهَ وَلَا تُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا، وَتُقِيمَ الصَّلَاةَ، وَتُؤْتِيَ الزَّكَاةَ، وَكُلُّ مُسْلِمٍ مِنْ مُسْلِمٍ حَرَامٌ، يَا حَكِيمُ بْنَ مُعَاوِيَةَ، هَذَا دِينُكَ أَيْنَمَا تَكُنْ يَكُفَّكَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِي إِسْنَادِهِ السَّفْرُ بْنُ نُسَيْرٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ وَرِوَايَتُهُ عَنْ حَكِيمٍ أَظُنُّهَا مُرْسَلَةٌ. وَاللَّهُ أَعْلَمُ.

EnglishUnverified translation

Ḥakīm ibn Muʿāwiyah رضي الله عنه came to the Prophet ﷺ and said, "O Messenger of Allah, with what has our Lord sent you?" The Messenger of Allah ﷺ said: > **"That you worship Allah and associate nothing with Him, establish prayer, and pay zakāh; and every Muslim is sacred to another Muslim. O Ḥakīm ibn Muʿāwiyah, this is your religion: wherever you may be, it will suffice you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت حکیم بن معاویہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : وہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی : یا رسول اللہ ! ہمارے پروردگار نے آپ کو کس چیز کے ہمراہ مبعوث کیا ہے ؟ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اس بات کے ہمراہ کہ ) کہ تم اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو ! اور کسی کو اُس کا شریک نہ ٹھہراؤ ‘ اور تم نماز قائم کرو ‘ اور زکوٰۃ ادا کرو ‘ ہر مسلمان ( یعنی اس کی جان اور مال ) دوسرے مسلمان کے لئے حرام ہے ‘ اے حکیم بن معاویہ ! یہ تمہارا دین ہے ‘ تم جہاں کہیں بھی ہو گے ‘ یہ تمہارا بچاؤ کرے گا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی حبیب بن حبیب ہے ‘ جو مزہ بن حبیب زیات کا بھائی ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

131

Majma al-Zawaid #131

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ: «قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَنْ أَقَامَ الصَّلَاةَ، وَآتَى الزَّكَاةَ، وَحَجَّ الْبَيْتَ، وَصَامَ رَمَضَانَ، وَقَرَى الضَّيْفَ - دَخَلَ الْجَنَّةَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِي إِسْنَادِهِ حَبِيبُ بْنُ حَبِيبٍ أَخُو حَمْزَةَ بْنِ حَبِيبٍ الزَّيَّاتِ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما said: The Prophet ﷺ said: > **"Whoever establishes prayer, pays zakāh, performs pilgrimage to the House, fasts Ramadan, and honors the guest shall enter Paradise."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : جو شخص نماز قائم کرے ‘ زکوٰۃ ادا کرے ‘ بیت اللہ کا حج کرے ‘ رمضان کے روزے رکھے اور مہمان نوازی کرے وہ جنت میں داخل ہو جائے گا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں روایت کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی حبیب بن حبیب ہے ‘ جو حمزہ بن حبیب زیات کا بھائی ہے ۔ اور وہ ضعیف ہے ۔

132

Majma al-Zawaid #132

وَعَنْ سَمُرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَقِيمُوا الصَّلَاةَ، وَآتُوا الزَّكَاةَ، وَحُجُّوا وَاعْتَمِرُوا، وَاسْتَقِيمُوا يَسْتَقِمْ بِكُمْ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ وَالصَّغِيرِ، وَفِي إِسْنَادِهِ عِمْرَانُ الْقَطَّانُ، وَقَدِ اسْتَشْهَدَ بِهِ الْبُخَارِيُّ وَوَثَّقَهُ أَحْمَدُ وَابْنُ حِبَّانَ، وَضَعَّفَهُ آخَرُونَ.

EnglishUnverified translation

Samurah رضي الله عنه said: The Messenger of Allah ﷺ said: > **"Establish prayer, pay zakāh, perform Ḥajj and ʿUmrah, and remain upright, and matters will remain upright for you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ نماز قائم کرو ‘ زکوٰۃ ادا کرو ‘ حج اور عمرہ کرو ‘ اور سیدھے رہو ‘ تمہارے ساتھ سیدھا رہا جائے گا ( یعنی تمہارا انجام ٹھیک ہو گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر ‘ معجم اوسط اور معجم صغیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عمران القطان ہے ‘ امام بخاری نے اس سے استشہاد کیا ہے ‘ جبکہ امام احمد اور ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ‘ لیکن دیگر حضرات نے اسے ضعیف بھی کہا ہے ۔

133

Majma al-Zawaid #133

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" سِتٌّ مَنْ جَاءَ بِوَاحِدَةٍ جَاءَ وَلَهُ عَهْدٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، تَقُولُ كُلُّ وَاحِدَةٍ مِنْهُنَّ قَدْ كَانَ يَعْمَلُ بِي: الزَّكَاةُ، وَالصَّلَاةُ، وَالْحَجُّ، وَالصِّيَامُ، وَأَدَاءُ الْأَمَانَةِ، وَصِلَةُ الرَّحِمِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِي إِسْنَادِهِ يُونُسُ بْنُ أَبِي حَثْمَةَ، وَلَمْ أَرَ أَحَدًا ذَكَرَهُ.

EnglishUnverified translation

Abū Umāmah رضي الله عنه said: The Messenger of Allah ﷺ said: > **"There are six deeds: whoever arrives with any one of them will come possessing a covenant on the Day of Resurrection, with each one of them declaring: 'He used to act upon me!' — zakāh, prayer, Ḥajj, fasting, fulfilling trusts, and maintaining ties of kinship."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے :’’ چھ چیزیں ایسی ہیں کہ جو شخص ان میں سے ایک بھی لے کر آئے گا ‘ تو وہ ایسی حالت میں آئے گا کہ قیامت کے دن اُس کے لیے عہد ہو گا ‘ ان میں سے ہر ایک چیز یہ کہے گی : یہ شخص مجھ پر عمل کیا کرتا تھا ‘ ( وہ چیزیں یہ ہیں : ) زکوٰۃ ‘ نماز ‘ حج ‘ روزہ ‘ امانت کی ادائیگی ‘ اور رشتہ داری کے حقوق کا خیال رکھنا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ‘ ایک راوی یونس بن ابو حثمہ ہے ‘ اور میں نے کسی کو اس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ۔

134

Majma al-Zawaid #134

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَمَرَ أَصْحَابَهُ عِنْدَ صَلَاةِ الْعَتَمَةِ: أَنِ احْشُدُوا لِلصَّلَاةِ غَدًا، فَإِنَّ لِي إِلَيْكُمْ حَاجَةً، فَقَالَ رُفْقَةٌ مِنْهُمْ: يَا فُلَانُ، دُونَكَ أَوَّلَ كَلِمَةٍ يَتَكَلَّمُ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَنْتَ الَّتِي تَلِيهَا، لِئَلَّا يَفُوتَهُمْ شَيْءٌ مِنْ كَلَامِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا فَرَغُوا مِنْ صَلَاتِهِمْ قَالَ: "" هَلْ حَشَدْتُمْ كَمَا أَمَرْتُكُمْ؟ "" قَالُوا: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ: "" اعْبُدُوا رَبَّكُمْ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا، هَلْ عَقَلْتُمْ هَذِهِ؟ هَلْ عَقَلْتُمْ هَذِهِ؟ هَلْ عَقَلْتُمْ هَذِهِ؟ "" قَالُوا: نَعَمْ. قَالَ: "" أَقِيمُوا الصَّلَاةَ، وَآتُوا الزَّكَاةَ. أَقِيمُوا الصَّلَاةَ، وَآتُوا الزَّكَاةَ. أَقِيمُوا الصَّلَاةَ، وَآتُوا الزَّكَاةَ. هَلْ عَقَلْتُمْ هَذِهِ؟ هَلْ عَقَلْتُمْ هَذِهِ؟ هَلْ عَقَلْتُمْ هَذِهِ؟ "" قَالُوا: نَعَمْ. قَالَ: "" اسْمَعُوا وَأَطِيعُوا، اسْمَعُوا وَأَطِيعُوا، اسْمَعُوا وَأَطِيعُوا. هَلْ عَقَلْتُمْ هَذِهِ؟ هَلْ عَقَلْتُمْ هَذِهِ؟ هَلْ عَقَلْتُمْ هَذِهِ؟ "" قَالُوا: نَعَمْ، فَكُنَّا نَرَى أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَيَتَكَلَّمُ كَلَامًا كَثِيرًا، ثُمَّ نَظَرَ فِي كَلَامِهِ، فَإِذَا هُوَ قَدْ جَمَعَ لَنَا الْأَمْرَ كُلَّهُ». قُلْتُ: عِنْدَ التِّرْمِذِيِّ بَعْضُهُ بِغَيْرِ سِيَاقِهِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِي إِسْنَادِهِ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ زِبْرِيقٍ الْحِمْصِيُّ، وَثَّقَهُ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ وَأَبُو حَاتِمٍ، وَضَعَّفَهُ النَّسَائِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ.

EnglishUnverified translation

Abū Umāmah رضي الله عنه narrated: The Messenger of Allah ﷺ commanded his Companions at the time of the night prayer (ʿIshāʾ): "Assemble for prayer tomorrow morning, for I have a need to address to you." A group among them said to one another, "O so-and-so, you take responsibility for the first statement spoken by the Messenger of Allah ﷺ, and you take responsibility for the one that follows it," so that nothing of the words of the Messenger of Allah ﷺ would escape them. When they finished their morning prayer, he ﷺ said: > **"Have you assembled as I commanded you?"** They said, "Yes, O Messenger of Allah." He ﷺ said: > **"Worship your Lord and do not associate anything with Him! Have you understood this? Have you understood this? Have you understood this?"** They said, "Yes." He ﷺ said: > **"Establish prayer and pay zakāh! Establish prayer and pay zakāh! Establish prayer and pay zakāh! Have you understood this? Have you understood this? Have you understood this?"** They said, "Yes." He ﷺ said: > **"Listen and obey! Listen and obey! Listen and obey! Have you understood this? Have you understood this? Have you understood this?"** They said, "Yes." The narrator said: We had anticipated that the Messenger of Allah ﷺ would deliver a lengthy address, but when we examined his speech, behold, he had gathered for us the entirety of religion.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ( ایک مرتبہ ) عشاء کی نماز کے وقت ‘ نبی اکرم ﷺ نے اپنے اصحاب کو حکم دیا کہ کل صبح تم نے نماز کے وقت تیار رہنا ہے ‘ مجھے تم لوگوں سے ایک کام ہے ‘ تو ان لوگوں میں سے کچھ نے یہ کہا : اے فلاں ! تم نے اس چیز کا خیال رکھنا ہے ‘ جو کلمہ نبی اکرم ﷺ سب سے پہلے ارشاد فرمائیں گے ‘ دوسرے کلمے کا خیال تم نے رکھنا ہے ‘ اُن لوگوں کا مقصد یہ تھا کہ نبی اکرم ﷺ کی گفتگو میں سے کوئی چیز رہ نہ جائے ‘ ( اگلے دن صبح ) جب وہ لوگ نماز پڑھ کر فارغ ہوئے ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کیا تم لوگ اسی طرح تیار ہو ؟ جس طرح میں نے تمہیں ہدایت کی تھی ، اُن لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم لوگ اپنے پروردگار کی عبادت کرو اور کسی کو اُس کا شریک نہ ٹھہراؤ ! کیا تمہیں یہ بات سمجھ آ گئی ہے ؟ کیا تمہیں یہ بات سمجھ آ گئی ہے ؟ کیا تمہیں یہ بات سمجھ آ گئی ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم لوگ نماز قائم کرو ‘ زکوٰۃ ادا کرو ‘ تم لوگ نماز قائم کرو ‘ زکوۃ ادا کرو ‘ تم لوگ نماز قائم کرو زکوٰۃ ادا کرو ‘ کیا تمہیں یہ بات سمجھ آ گئی ہے ؟ کیا تمہیں یہ بات سمجھ آ گئی ہے ؟ کیا تمہیں یہ بات سمجھ آ گئی ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم ﷺ نے فرمایا تم لوگ اطاعت و فرمانبرداری کرو ‘ تم لوگ اطاعت و فرمانبرداری کرو ‘ تم لوگ اطاعت و فرمانبرداری کرو ‘ کیا تمہیں یہ بات سمجھ آ گئی ہے ؟ کیا تمہیں یہ بات سمجھ آ گئی ہے ؟ کیا تمہیں یہ بات سمجھ آ گئی ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ! راوی بیان کرتے ہیں : ہم تو یہ سمجھ رہے تھے کہ نبی اکرم ﷺ طویل گفتگو کریں گے ، لیکن جب ہم نے آپ کے کلام کا جائزہ لیا ‘ تو یہ بات سامنے آئی کہ آپ ﷺ نے پورے معاملے کو ( یعنی دین کی بنیادی تعلیمات کو ) ہمارے لئے جمع کر دیا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ترمذی نے اس روایت کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ‘ لیکن وہ اس سیاق کے بغیر ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن ابراہیم بن زبریق حمصی ہے ، یحییٰ بن معین اور ابو حاتم نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ‘ جبکہ امام نسائی اور امام ابوداؤد نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔

135

Majma al-Zawaid #135

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ الْجُهَنِيِّ قَالَ: «جَاءَ رَجُلٌ مِنْ قُضَاعَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: إِنِّي شَهِدْتُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ، وَصَلَّيْتُ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ، وَصُمْتُ رَمَضَانَ وَقْتَهُ، وَآتَيْتُ الزَّكَاةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَنْ مَاتَ عَلَى هَذَا كَانَ مِنَ الصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا شَيْخِي الْبَزَّارُ، وَأَرْجُو إِسْنَادَهُ أَنَّهُ إِسْنَادٌ حَسَنٌ أَوْ صَحِيحٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAmr ibn Murrah al-Juhanī رضي الله عنه said: A man from Quḍāʿah came to the Messenger of Allah ﷺ and said, "I bear witness that there is no deity worthy of worship except Allah and that you are the Messenger of Allah, I pray the five daily prayers, I fast Ramadan during its appointed time, and I pay zakāh." The Messenger of Allah ﷺ said: > **"Whoever dies upon this is among the affirmers of truth (al-Ṣiddīqīn) and the martyrs (al-Shuhadāʾ)."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمرو بن مرہ جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : قضاعہ قبیلے سے تعلق رکھنے والا ایک شخص نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور بولا : میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ‘ اور آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں ‘ میں پانچوں نمازیں ادا کرتا ہوں ‘ رمضان کے روزے ان کے وقت پر رکھتا ہوں ‘ اور میں زکوٰۃ ادا کرتا ہوں ‘ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جو شخص ایسی حالت پر انتقال کرے گا ‘ وہ صدیقین اور شہداء میں سے ہو گا ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اور امام بزار کے دونوں استادوں کے علاوہ ‘ اس کے تمام رجال صحیح کے رجال ہیں ‘ اور مجھے یہ امید ہے کہ اس کی سند حسن ‘ یا صحیح ہو گی ۔

136

Majma al-Zawaid #136

وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" مَنْ صَامَ رَمَضَانَ، وَصَلَّى الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ، وَحَجَّ الْبَيْتَ - لَا أَدْرِي ذَكَرَ الزَّكَاةَ أَمْ لَا - كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يَغْفِرَ لَهُ "". قُلْتُ: أُخْبِرُ بِهِ النَّاسَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" ذَرِ النَّاسَ يَعْمَلُونَ، فَإِنَّ الْجَنَّةَ مِائَةُ دَرَجَةٍ، مَا بَيْنَ كُلِّ دَرَجَتَيْنِ كَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، وَالْفِرْدَوْسُ أَعْلَاهَا دَرَجَةً وَأَوْسَطُهَا، وَفَوْقَهَا عَرْشُ الرَّحْمَنِ، وَفِيهَا تَفَجَّرُ أَنْهَارُ الْجَنَّةِ، فَإِذَا سَأَلْتُمُ اللَّهَ فَسَلُوهُ الْفِرْدَوْسَ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَهُوَ مِنْ رِوَايَةِ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ مُعَاذٍ، وَلَمْ يَسْمَعْ مِنْهُ. قُلْتُ: وَتَأْتِي فِي الْبَابِ بَعْدَ هَذَا أَحَادِيثُ مِنْ هَذَا الْبَابِ أَيْضًا.

EnglishUnverified translation

Muʿādh ibn Jabal رضي الله عنه narrated that the Prophet ﷺ said: > **"Whoever fasts Ramadan, prays the five daily prayers, and performs pilgrimage to the House"** — the narrator said: I do not know whether he mentioned zakāh or not — **"it is an established right upon Allah to forgive him."** I said, "Shall I inform the people of this?" The Messenger of Allah ﷺ said: > **"Leave the people to strive in deeds! For indeed, Paradise has one hundred levels, between every two levels is a distance like that between heaven and earth; and al-Firdaws is its highest and most central level, above which is the Throne of the Most Merciful, and from it gush forth the rivers of Paradise. So when you ask Allah, ask Him for al-Firdaws."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ” جو شخص رمضان کے روزے رکھے ‘ پانچ نمازیں ادا کرے ‘ بیت اللہ کا حج کرے ( راوی کہتے ہیں : مجھے نہیں معلوم کہ انہوں نے زکوٰۃ کا ذکر کیا تھا ‘ یا نہیں کیا تھا ؟ ) تو اللہ تعالیٰ کے ذمہ یہ بات لازم ہے کہ وہ اُس شخص کی مغفرت کر دے ( حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رحمۃ اللہ علیہ ) میں نے عرض کی : میں لوگوں کو یہ بات بتا دوں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم لوگوں کو رہنے دو کہ وہ عمل کرتے رہیں ! کیونکہ جنت میں ایک سو درجات ہیں ‘ اور اُن میں سے ‘ ہر دو ‘ درجات کے درمیان ‘ اتنا فاصلہ ہے ‘ جتنا آسمان اور زمین کے درمیان ہے اور جنت الفردوس سب سے بلند اور عمدہ درجے کی ہے ‘ اُس کے اوپر ‘ رحمان کا عرش ہے ‘ اور اُسی میں سے جنت کی نہریں پھوٹتی ہیں ، ‘ جب تم اللہ تعالیٰ سے مانگو ‘ تو اُس سے جنت الفردوس ( کی دعا ) مانگو ! “۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اسے عطاء بن یسار نے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے ‘ حالانکہ انہوں نے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس کے بعد والے باب میں ‘ ایسی احادیث آئیں گی ‘ جو اس باب سے تعلق رکھتی ہیں ۔

137

Majma al-Zawaid #137

عَنْ جَرِيرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" بُنِيَ الْإِسْلَامُ عَلَى خَمْسٍ: شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَإِقَامِ الصَّلَاةِ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ، وَحَجِّ الْبَيْتِ، وَصَوْمِ رَمَضَانَ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالصَّغِيرِ، وَإِسْنَادُ أَحْمَدَ صَحِيحٌ.

EnglishUnverified translation

Jarīr رضي الله عنه said: The Messenger of Allah ﷺ said: > **"Islam is built upon five: testifying that there is no deity worthy of worship except Allah, establishing prayer, paying zakāh, performing pilgrimage to the House, and fasting Ramadan."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جریر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے ‘ اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ ‘ اور کوئی معبود نہیں ہے ‘ نماز قائم کرنا ‘ زکوۃ ادا کرنا ‘ بیت اللہ کا حج کرنا ‘ اور رمضان کے روزے رکھنا “۔ ب یہ روایت امام احمد اور امام ابویعلیٰ نے ‘ جبکہ امام طبرانی نے مجم کبیر اور مجم صغیر میں نقل کی ہے ‘ امام احمد کی سند صحیح ہے ۔

138

Majma al-Zawaid #138

وَعَنْ عُمَارَةَ بْنِ حَزْمٍ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَرْبَعٌ فَرَضَهُنَّ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - فِي الْإِسْلَامِ، فَمَنْ جَاءَ بِثَلَاثٍ لَمْ يُغْنِينَ عَنْهُ شَيْئًا حَتَّى يَأْتِيَ بِهِنَّ جَمِيعًا: الصَّلَاةُ، وَالزَّكَاةُ، وَصِيَامُ رَمَضَانَ، وَحَجُّ الْبَيْتِ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِي إِسْنَادِهِ ابْنُ لَهِيعَةَ.

EnglishUnverified translation

ʿUmārah ibn Ḥazm رضي الله عنه said: The Messenger of Allah ﷺ said: > **"There are four obligations which Allah, Mighty and Majestic, has ordained in Islam; whoever comes with three of them, they will not avail him anything until he brings them all together: prayer, zakāh, the fast of Ramadan, and pilgrimage to the House."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمارہ بن حزم رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ چار امور ہیں ، جنہیں اللہ تعالیٰ نے اسلام میں فرض قرار دیا ہے ‘ جو شخص ان میں سے تین لے آئے گا ‘ تو وہ اس کے کسی کام نہیں آئیں گے ‘ جب تک وہ اُن سب پر عمل پیرا نہیں ہوتا ، نماز ، زکوۃ ‘ رمضان کے روزے ‘ اور بیت اللہ کا حج ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے ‘ اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کی سند میں ابن لہیعہ نامی راوی ہے ۔

139

Majma al-Zawaid #139

وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" خَمْسٌ مَنْ جَاءَ بِهِنَّ مَعَ إِيمَانٍ دَخَلَ الْجَنَّةَ: مَنْ حَافَظَ عَلَى الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ، عَلَى وُضُوئِهِنَّ وَرُكُوعِهِنَّ وَسُجُودِهِنَّ وَمَوَاقِيتِهِنَّ، وَصَامَ رَمَضَانَ، وَحَجَّ الْبَيْتَ إِنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا، وَأَعْطَى الزَّكَاةَ طَيِّبَةً بِهَا نَفْسُهُ، وَأَدَّى الْأَمَانَةَ "" قِيلَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، وَمَا أَدَاءُ الْأَمَانَةِ؟ قَالَ: "" الْغُسْلُ مِنَ الْجَنَابَةِ، إِنَّ اللَّهَ لَمْ يَأْمَنِ ابْنَ آدَمَ عَلَى شَيْءٍ مِنْ دِينِهِ غَيْرِهَا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ.

EnglishUnverified translation

Abū al-Dardāʾ رضي الله عنه said: The Messenger of Allah ﷺ said: > **"There are five deeds: whoever comes with them accompanied by faith shall enter Paradise: whoever diligently observes the five daily prayers — with their ablutions, their bowings, their prostrations, and their appointed times — fasts Ramadan, performs pilgrimage to the House if he is able to find a way, pays zakāh with a cheerful soul, and fulfills the trust."** It was said, "O Prophet of Allah, what is the fulfillment of the trust?" He ﷺ said: > **"Performing the ritual bath from sexual impurity (janābah), for indeed Allah has not entrusted the son of Adam with any aspect of his religion other than it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابودرداء روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ پانچ چیزیں ہیں ‘ جو شخص ایمان کے ہمراہ انہیں لائے گا ‘ وہ جنت میں داخل ہو جائے گا ، جو شخص پانچ نمازوں کی ‘ اُن کے وضو ‘ رکوع ‘ سجدوں اور اوقات سمیت ‘ حفاظت کرے ‘ رمضان کے روزے رکھے ‘ بیت اللہ کا حج کرے ‘ اگر وہ وہاں تک جانے کی استطاعت رکھتا ہو ‘ اور اپنی خوشی کے ساتھ زکوٰۃ ادا کرے اور امانت ادا کرے ‘ عرض کی گئی : اے اللہ کے نبی ! امانت کی ادائیگی سے کیا مراد ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جنابت کے بعد غسل کرنا ‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کو انسان کے دین کے حوالے سے ‘ اس کے علاوہ اور کسی چیز کے حوالے سے اندیشہ نہیں ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند عمدہ ہے ۔

140

Majma al-Zawaid #140

«وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - قَالَ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ: وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا قَدْ رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" عُرَى الْإِسْلَامِ وَقَوَاعِدُ الدِّينِ ثَلَاثَةٌ، عَلَيْهِنَّ أُسِّسَ الْإِسْلَامُ، مَنْ تَرَكَ وَاحِدَةً مِنْهُنَّ فَهُوَ بِهَا كَافِرٌ حَلَالُ الدَّمِ: شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَالصَّلَاةُ الْمَكْتُوبَةُ، وَصَوْمُ رَمَضَانَ "". ثُمَّ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: تَجِدُهُ كَثِيرَ الْمَالِ لَا يُزَكِّي فَلَا يَزَالُ بِذَلِكَ كَافِرًا وَلَا يَحِلُّ دَمُهُ، وَتَجِدُهُ كَثِيرَ الْمَالِ لَمْ يَحُجَّ فَلَا يَزَالُ بِذَلِكَ كَافِرًا وَلَا يَحِلُّ دَمُهُ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى بِتَمَامِهِ، وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ بِلَفْظِ: "" «بُنِيَ الْإِسْلَامُ عَلَى خَمْسٍ: شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَالصَّلَاةِ، وَصِيَامِ رَمَضَانَ، فَمَنْ تَرَكَ وَاحِدَةً مِنْهُنَّ كَانَ كَافِرًا حَلَالَ الدَّمِ» "". فَاقْتَصَرَ عَلَى ثَلَاثَةٍ مِنْهَا وَلَمْ يَذْكُرْ كَلَامَ ابْنِ عَبَّاسٍ الْمَوْقُوفَ. وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما narrated that the Prophet ﷺ said: > **"The firm bonds of Islam and the foundations of religion upon which Islam is established are three; whoever abandons any one of them is an unbeliever regarding it, whose blood is lawful: testifying that there is no deity worthy of worship except Allah, the prescribed prayer, and fasting Ramadan."** Then Ibn ʿAbbās said: "You may find a person possessing abundant wealth who does not pay zakāh; he does not thereby become a disbeliever whose blood is lawful. And you may find a person possessing abundant wealth who does not perform Ḥajj; he does not thereby become a disbeliever whose blood is lawful."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ روایت منقول ہے : ( یہاں حماد بن زید نامی راوی یہ کہتے ہیں : میرے علم کے مطابق انہوں نے نبی اکرم ﷺ تک مرفوع حدیث کے طور پر یہ بات نقل کی ہو گی : ) آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے ’’ اسلام کی رسی اور دین کی بنیاد ‘ تین چیزیں ہیں ‘ جن پر اسلام کی بنیاد رکھی گئی ہے ‘ جو شخص ان میں سے کوئی ایک ترک کر دے گا ‘ تو وہ اس کی وجہ سے کافر ہو جائے گا اور اس کا خون بہانا حلال ہو گا ‘ اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ‘ فرض نماز ادا کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا “۔ پھر حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : تم کسی شخص کو پاؤ گے ‘ کہ اس کے پاس بہت سا مال ہو گا ، لیکن وہ زکوٰۃ ادا نہیں کرتا ہو گا ‘ اور اس حوالے سے وہ کافر ہو گا ، لیکن اس کا خون بہانا حلال نہیں ہو گا ‘ اسی طرح تم کسی شخص کو پاؤ گے کہ اس کے پاس بہت سا مال ہو گا ، لیکن وہ حج نہیں کرے گا ‘ تو وہ اس وجہ سے کافر ہو گا ، لیکن اس کا خون بہانا جائز نہیں ہو گا ۔ یہ روایت مکمل طور پر ‘ امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ‘ جبکہ امام طبرانی نے معجم کبیر میں ان الفاظ میں نقل کی ہے :’’ اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے ‘ اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ‘ نماز ادا کرنا رمضان کے روزے رکھنا ‘ جو شخص ان میں سے کسی ایک کو ترک کر دے گا ، تو وہ کافر ہو گا ، جس کا خون بہانا جائز ہو گا ‘‘۔ تو امام طبرانی نے صرف یہی تین باتیں ذکر کی ہیں ‘ انہوں نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا ’’ موقف ‘‘ قول نقل نہیں کیا ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

141

Majma al-Zawaid #141

وَعَنْ مَعْنِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ: «جَاءَ أَعْرَابِيٌّ فَأَخَذَ بِخِطَامِ نَاقَةِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، دُلَّنِي عَلَى عَمَلٍ يُقَرِّبُنِي مِنَ الْجَنَّةِ وَيُبَاعِدُنِي مِنَ النَّارِ، فَقَالَ: "" لَقَدْ أَوْجَزْتَ فِي الْمَسْأَلَةِ، وَلَقَدْ أَعْرَضْتَ: تَعْبُدُ اللَّهَ لَا تُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا، وَتُصَلِّي الْخَمْسَ، وَتَصُومُ رَمَضَانَ، وَمَا كَرِهْتَ أَنْ يَأْتِيَهُ النَّاسُ إِلَيْكَ فَاكْرَهْهُ لَهُمْ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِي إِسْنَادِهِ وَائِلٌ أَبُو كُلَيْبِ بْنُ وَائِلٍ، لَمْ أَرَ مَنْ ذَكَرَهُ.

EnglishUnverified translation

Maʿn ibn Yazīd رضي الله عنه said: A bedouin came and took hold of the halter of the she-camel of the Prophet ﷺ and said, "O Prophet of Allah, direct me to an action that will bring me near to Paradise and distance me from the Fire." He ﷺ said: > **"You have asked concisely, yet you have addressed something momentous: Worship Allah and associate nothing with Him, pray the five daily prayers, fast Ramadan, and whatever you dislike for people to do to you, dislike it for them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معن بن یزید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دیہاتی آیا اور اس نے نبی اکرم ﷺ کی اونٹنی کی لگام پکڑ لی اور بولا : اے اللہ کے نبی ! آپ میری رہنمائی ایسے عمل کی طرف کیجئے ‘ جو مجھے جنت کے قریب کر دے اور وہ مجھے جہنم سے دور کر دے ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تم نے مختصر سوال کیا ہے ‘ لیکن بڑی بات پوچھ لی ہے ‘ تم اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور کسی کو اُس کا شریک نہ ٹھہراؤ ‘ تم پانچ نمازیں ادا کرو ‘ تم رمضان کے روزے رکھو اور جس چیز کے بارے میں تم یہ ناپسند کرتے ہو کہ لوگ تمہارے ساتھ ایسا کریں ، تو اس چیز کو تم بھی اُن لوگوں کے لیے ناپسند کرو ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی وائل ابوکلیب بن وائل ہے ‘ میں نے کسی کو اس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ۔

142

Majma al-Zawaid #142

وَعَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَيْرٍ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي حِجَّةِ الْوَدَاعِ: "" إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللَّهِ الْمُصَلُّونَ، وَمَنْ يُقِيمُ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ الَّتِي كَتَبَهُنَّ اللَّهُ عَلَيْهِ، وَيَصُومُ رَمَضَانَ وَيَحْتَسِبُ صَوْمَهُ، وَيُؤْتِي الزَّكَاةَ مُحْتَسِبًا طَيِّبَةً بِهَا نَفْسُهُ، وَيَجْتَنِبُ الْكَبَائِرَ الَّتِي نَهَى اللَّهُ عَنْهَا "". فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِهِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَكَمِ الْكَبَائِرُ؟ قَالَ: هِيَ تِسْعٌ، أَعْظَمُهُنَّ: الْإِشْرَاكُ بِاللَّهِ، وَقَتْلُ الْمُؤْمِنِ بِغَيْرِ حَقٍّ، وَالْفِرَارُ مِنَ الزَّحْفِ، وَقَذْفُ الْمُحْصَنَةِ، وَالسِّحْرُ، وَأَكْلُ مَالِ الْيَتِيمِ، وَأَكْلُ الرِّبَا، وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ الْمُسْلِمَيْنِ، وَاسْتِحْلَالُ الْبَيْتِ الْعَتِيقِ الْحَرَامِ قِبْلَتِكُمْ، أَحْيَاءً أَمْوَاتًا، لَا يَمُوتُ رَجُلٌ لَمْ يَعْمَلْ هَؤُلَاءِ الْكَبَائِرَ، وَيُقِيمُ الصَّلَاةَ، وَيُؤْتِي الزَّكَاةَ إِلَّا رَافَقَ مُحَمَّدًا - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي بُحْبُوحَةِ جَنَّةٍ، أَبْوَابُهَا مَصَارِيعُ الذَّهَبِ» "". قُلْتُ: عِنْدَ أَبِي دَاوُدَ بَعْضُهُ. وَقَدْ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.

EnglishUnverified translation

ʿUbaydullāh ibn ʿUmayr al-Laythī reported from his father رضي الله عنه that the Messenger of Allah ﷺ said during the Farewell Pilgrimage: > **"Indeed, the allies of Allah are those who pray — whoever establishes the five daily prayers which Allah has ordained upon him, fasts Ramadan seeking Allah's reward, pays zakāh seeking reward with a cheerful soul, and avoids the major destructive sins which Allah has forbidden."** A man among his Companions asked, "O Messenger of Allah, how many are the major sins?" He ﷺ said: > **"They are nine, the greatest of which are: associating partners with Allah, killing a believer without right, fleeing from the battlefield, slandering chaste women, practicing sorcery, consuming the property of an orphan, consuming usury (ribā), disobedience to Muslim parents, and violating the sanctity of the Ancient Inviolable House — your qiblah in life and death. No man dies having avoided these major sins, while establishing prayer and paying zakāh, except that he will accompany Muḥammad ﷺ in the heart of Paradise, whose gates have leaves of pure gold."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبیداللہ بن عمیر لیثی ‘ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : حجتہ الوداع کے موقع پر نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ بے شک اللہ کے دوست نمازی ہیں ، جو شخص پانچ نمازیں ادا کرتا ہے ‘ جو اللہ تعالیٰ نے اُس پر لازم کی ہیں اور وہ رمضان کے روزے رکھتا ہے اور اپنے روزے رکھنے کے حوالے سے ثواب کی امید رکھتا ہے ‘ اور وہ ثواب کی امید رکھتے ہوئے اپنی خوشی کے ساتھ زکوٰۃ ادا کرتا ہے ‘ اور اُن کبیرہ گناہوں سے اجتناب کرتا ہے ‘ جن سے اللہ تعالیٰ نے منع کیا ہے ( تو ایسے لوگ بھی اللہ کے دوست ہیں ) ‘‘ آپ ﷺ کے اصحاب میں سے ‘ ایک صاحب نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کبیرہ گناہ کتنے ہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے جواب دیا : ’’ وہ نو ہیں ، جن میں سب سے بڑا ( گناہ ) کسی کو اللہ کا شریک قرار دینا ہے ( اور دوسرے کبیرہ گناہ یہ ہیں : ) مؤمن کو ناحق قتل کرنا ‘ میدان جنگ سے راہ فرار اختیار کرنا ‘ پاکدامن عورت پر الزام لگانا ‘ جادو کرنا ‘ یتیم کا مال کھانا ‘ سود کھانا مسلمان والدین کی نافرمانی کرنا ‘ اور بیت عقیق کی بے حرمتی کرنا ‘ جو قابل احترام ہے ‘ اور زندگی اور موت ‘ ہر حال میں . تمہارا قبلہ ہے ‘ جو شخص ایسی حالت میں انتقال کرے کہ اُس نے ان میں سے کسی کبیرہ گناہ کا ارتکاب نہ کیا ہو ‘ اور وہ شخص نماز قائم کرتا ہو ‘ اور زکوۃ ادا کرتا ہو ‘ تو ایسا شخص جنت کے درمیان میں ‘ حضرت محمد ﷺ کے ساتھ ہو گا ، جس جنت کے دروازوں کے کواڑ سونے کے بنے ہوئے ہیں ‘‘۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں کہ روایت کا کچھ حصہ امام ابوداؤد نے نقل کیا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

143

Majma al-Zawaid #143

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَلْقَيْنِ قَالَ: «أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ بِوَادِي الْقُرَى، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، بِمَا أُمِرْتَ؟ قَالَ: "" أُمِرْتُ أَنْ تَعْبُدُوا اللَّهَ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا، وَأَنْ تُقِيمُوا الصَّلَاةَ، وَتُؤْتُوا الزَّكَاةَ. قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَنْ هَؤُلَاءِ؟ قَالَ: "" الْمَغْضُوبُ عَلَيْهِمْ "" يَعْنِي: الْيَهُودَ، فَقُلْتُ: مَنْ هَؤُلَاءِ؟ قَالَ: "" الضَّالِّينَ ""، يَعْنِي: النَّصَارَى. قُلْتُ: فَلِمَنِ الْمَغْنَمُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "" لِلَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - سَهْمٌ، وَلِهَؤُلَاءِ أَرْبَعَةُ أَسْهُمٍ "". قَالَ: فَقُلْتُ: هَلْ أَحَدٌ أَحَقُّ بِالْمَغْنَمِ مِنْ أَحَدٍ؟ قَالَ: لَا، حَتَّى السَّهْمُ يَأْخُذُهُ أَحَدُكُمْ مِنْ جَنْبِهِ لَيْسَ بِأَحَقَّ بِهِ مِنْ أَحَدٍ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَإِسْنَادُهُ صَحِيحٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Shaqīq reported from a man from the Balqayn tribe رضي الله عنه: I came to the Prophet ﷺ while he was in Wādī al-Qurā and asked, "O Messenger of Allah, what have you been commanded with?" He ﷺ said: > **"I have been commanded that you worship Allah and associate nothing with Him, establish prayer, and pay zakāh."** I asked, "O Messenger of Allah, who are those who incurred divine wrath?" He ﷺ said: > **"The Jews."** I asked, "Who are the misguided?" He ﷺ said: > **"The Christians."** I asked, "To whom do the spoils of war belong, O Messenger of Allah?" He ﷺ said: > **"One share belongs to Allah, Mighty and Majestic, and four shares belong to these [soldiers]."** I asked, "Is anyone more entitled to the spoils than another?" He ﷺ said: > **"No, not even an arrow that one of you retrieves from his side; he has no greater right to it than anyone else."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبداللہ بن شقیق نے ’’ بلقین ‘‘ سے تعلق رکھنے والے ‘ ایک صحابی کا یہ بیان نقل کیا ہے : میں ‘ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ‘ آپ ﷺ اس وقت وادی قریٰ میں تھے ‘ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ کو کس بات کا حکم دیا گیا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : مجھے اس بات کا حکم دیا گیا ہے کہ تم لوگ اللہ کی عبادت کرو اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہراؤ اور تم لوگ نماز ادا کرو ‘ اور زکوۃ دو ‘ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ لوگ ( یعنی یہودی ) کون ہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ( یہ وہ لوگ ہیں ) جن پر غضب کیا گیا ، میں نے عرض کی : یہ لوگ ( یعنی عیسائی ) کون ہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ( یہ وہ لوگ ہیں ) جو گراہ ہیں ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! مال غنیمت کس کے لیے ہو گا ؟ آپ نے فرمایا : اللہ تعالی کے لیے ایک حصہ ( یعنی خمس یعنی پانچواں حصہ ) ہو گا ‘ اور چار حصے لوگوں کے لیے ہوں گے ‘ میں نے دریافت کیا : کیا کوئی ایک کسی دوسرے سے زیادہ مال غنیمت کا حقدار ہو گا ؟ آپ نے فرمایا : جی نہیں ! یہاں تک کہ جس حصے کو کوئی شخص اپنے پہلو میں لیتا ہے ‘ وہ بھی اس کے بارے میں کسی دوسرے سے زیادہ حقدار نہیں ہو گا ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کی سند صحیح ہے ۔

144

Majma al-Zawaid #144

وَعَنْ عِتْبَانَ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ مُخْلِصًا بِهِمَا، وَصَلَّى الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ ; حَرَّمَ اللَّهُ وَجْهَهُ عَلَى النَّارِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِي إِسْنَادِهِ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الصَّوَّافُ، وَهُوَ مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ.

EnglishUnverified translation

ʿItbān ibn Mālik رضي الله عنه said: The Messenger of Allah ﷺ said: > **"Whoever testifies that there is no deity worthy of worship except Allah and that I am the Messenger of Allah, being sincere in both, and prays the five daily prayers, Allah will forbid his face to the Fire."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ” جو شخص اخلاص کے ساتھ ‘ اس بات کی گواہی دے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ‘ اور بیشک میں اللہ کا رسول ہوں ‘ اور وہ پانچ نمازیں ادا کرے ‘ تو اللہ تعالیٰ اس کو جہنم پر حرام قرار دیدے گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن ابراہیم صواف ہے ‘ اور وہ متروک الحدیث ہے ۔

145

Majma al-Zawaid #145

عَنْ زَيْدٍ أَبِي سَلَّامٍ، عَنْ مَوْلًى لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" بَخٍ بَخٍ، لِخَمْسٍ، مَا أَثْقَلَهُنَّ فِي الْمِيزَانِ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، وَالْوَلَدُ الصَّالِحُ يُتَوَفَّى فَيَحْتَسِبُهُ وَالِدُهُ "". وَقَالَ: "" بَخٍ بَخٍ، لِخَمْسٍ، مَنْ لَقِيَ اللَّهَ مُسْتَيْقِنًا بِهِنَّ دَخَلَ الْجَنَّةَ: يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ وَالْبَعْثِ بَعْدَ الْمَوْتِ وَالْحِسَابِ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ

EnglishUnverified translation

Zayd Abū Sallām reported from a freed slave of the Messenger of Allah ﷺ that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"How excellent! How excellent are five things — how heavy they are on the Scale: 'Lā ilāha illallāh' (There is no deity worthy of worship except Allah), 'Allāhu Akbar' (Allah is the Greatest), 'Subḥānallāh' (Glory be to Allah), 'Al-ḥamdu lillāh' (All praise is due to Allah), and a righteous child who dies and whose parent patiently anticipates reward from Allah."** And he ﷺ said: > **"How excellent! How excellent are five things: whoever meets Allah possessing firm conviction in them shall enter Paradise: believing in Allah, the Last Day, Paradise, the Fire, the Resurrection after death, and the Reckoning."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

زید ابوسلام نے ‘ نبی اکرم ﷺ کے غلام کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے : آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ پانچ چیزوں کے کیا کہنے ؟ وہ میزان میں کتنی وزنی ہیں ؟ لا الہ الا اللہ پڑھنا ‘ اللہ اکبر پڑھنا ‘ سبحان اللہ پڑھنا ‘ الحمد اللہ پڑھنا ‘ اور وہ نیک اولاد ( جو بچپن میں ) انتقال کر جائے اور اُن کا والد اس پر ثواب کی امید رکھے “ نبی اکرم ﷺ نے یہ بھی فرمایا : ’’ پانچ چیزوں کے کیا کہنے ؟ جو شخص ان پر یقین رکھنے کے ہمراہ ‘ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو گا ‘ وہ جنت میں داخل ہو گا ‘ ( یعنی ایسا شخص کہ جو ) اللہ تعالیٰ ‘ آخرت کے دن ‘ جنت ‘ جہنم ‘ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے اور حساب پر ایمان رکھتا ہو ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

146

Majma al-Zawaid #146

وَعَنْ عُمَرَ - يَعْنِي ابْنَ الْخَطَّابِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: «مَنْ مَاتَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ قِيلَ لَهُ: ادْخُلْ مِنْ أَيِّ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ الثَّمَانِيَةِ شِئْتَ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِي إِسْنَادِهِ شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ.

EnglishUnverified translation

ʿUmar ibn al-Khaṭṭāb رضي الله عنه reported that he heard the Messenger of Allah ﷺ say: > **"Whoever dies believing in Allah and the Last Day, it will be said to him: 'Enter through whichever of the eight gates of Paradise you wish.'"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جو شخص ایسی حالت میں انتقال کرے کہ وہ اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو ‘ تو اُس سے کہا جائے گا : تم جنت کے آٹھ دروازوں میں سے ‘ جس سے چاہے ( جنت میں ) داخل ہو جاؤ ! ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی شہر بن حوشب ہے ۔

147

Majma al-Zawaid #147

«عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: جِئْتُ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَالْعَبَّاسُ جَالِسٌ عَنْ يَمِينِهِ، وَفَاطِمَةُ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - عَنْ يَسَارِهِ، فَقَالَ: "" يَا فَاطِمَةُ بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - اعْمَلِي لِلَّهِ خَيْرًا ; فَإِنِّي لَا أُغْنِي عَنْكِ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ "". قَالَ - يَعْنِي ذَلِكَ - ثَلَاثَ مَرَّاتٍ. قَالَ: "" يَا عَبَّاسُ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، يَا عَمَّ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - اعْمَلْ لِلَّهِ خَيْرًا ; فَإِنِّي لَا أُغْنِي عَنْكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا "" ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ قَالَ: "" يَا حُذَيْفَةُ، ادْنُ "" فَدَنَوْتُ، ثُمَّ قَالَ: "" يَا حُذَيْفَةُ، ادْنُ "" فَدَنَوْتُ، ثُمَّ قَالَ: "" يَا حُذَيْفَةُ، مَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ، وَآمَنَ بِمَا جِئْتُ بِهِ ; حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ النَّارَ، وَوَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ "". قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أُسِرُّ هَذَا أَوْ أُعْلِنُهُ؟ قَالَ: "" أَعْلِنْهُ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ مِنْ رِوَايَةِ قَطَرِيٍّ عَنْ سِمَاكِ بْنِ حُذَيْفَةَ، وَقَالَ الْبَزَّارُ: لَا نَعْلَمُهُ إِلَّا فِي هَذَا الْحَدِيثِ، وَقَطَرِيٌّ لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Ḥudhayfah رضي الله عنه said: I came to the Prophet ﷺ while al-ʿAbbās was sitting on his right and Fāṭimah رضي الله عنها was sitting on his left. He ﷺ said: > **"O Fāṭimah, daughter of the Messenger of Allah ﷺ, do good deeds for Allah, for I cannot avail you anything before Allah on the Day of Resurrection!"** He repeated that three times. Then he ﷺ said: > **"O ʿAbbās ibn ʿAbd al-Muṭṭalib, uncle of the Messenger of Allah ﷺ, do good deeds for Allah, for I cannot avail you anything before Allah on the Day of Resurrection!"** He repeated that three times. Then he ﷺ said: > **"O Ḥudhayfah, come near."** So I drew near. Then he said: > **"O Ḥudhayfah, come near."** So I drew near. Then he said: > **"O Ḥudhayfah, whoever testifies that there is no deity worthy of worship except Allah and that I am the Messenger of Allah, and believes in that which I have brought, Allah has forbidden him to the Fire and Paradise has become obligatory for him."** I said, "O Messenger of Allah, shall I keep this confidential or proclaim it?" He ﷺ said: > **"Proclaim it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ‘ اُس وقت حضرت عباس رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کے دائیں طرف اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا ‘ آپ ﷺ کے بائیں طرف تشریف فرما تھیں ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اے محمد کی صاحبزادی فاطمہ ! تم اللہ تعالیٰ کے لیے بھلائی کا عمل کرو ‘ کیونکہ میں قیامت کے دن ‘ اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں تمہارے کسی کام نہیں آ سکتا ، راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے یہ بات تین مرتبہ ارشاد فرمائی ‘ پھر آپ نے فرمایا ہے : اے جناب عبدالمطلب کے صاحبزادے ! جناب عباس ! اے اللہ ‘ کے رسول کے چچا ! آپ اللہ تعالیٰ کے لیے بھلائی کا عمل کریں ، کیونکہ قیامت کے دن میں اللہ تعالٰی کے مقابلے میں آپ کے کسی کام نہیں آ سکتا ‘ یہ بات آپ ﷺ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی ‘ پھر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے حذیفہ ! قریب ہو جاؤ ! میں قریب ہوا ‘ تو آپ نے پھر یہ فرمایا : اے حذیفہ ! قریب ہو جاؤ ! میں قریب ہوا تو آپ نے ارشاد فرمایا : اے حذیفہ ! جو شخص اس بات کی گواہی دے کہ اللہ کے علاوہ ‘ اور کوئی معبود نہیں ہے ‘ اور میں اللہ کا رسول ہوں ‘ اور وہ شخص اس بات پر ایمان رکھے ‘ جو میں لے کر آیا ہوں ‘ تو اللہ تعالٰی اس پر آگ کو حرام کر دے گا ‘ اور اس شخص کے لئے جنت واجب ہو جائے گی ‘ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں اس بات کو پوشیدہ رکھوں ؟ یا اس کا اعلان کر دوں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم اس کا اعلان کر دو ! یہ روایت امام بزار نے ‘ قطری نامی راوی کے حوالے سے ‘ سماک بن حذیفہ سے نقل کی ہے ‘ امام بزار فرماتے ہیں ۔ ہمیں اس راوی ( یعنی سماک بن حذیفہ ) کا علم ‘ صرف اسی روایت کے حوالے سے ہے ‘ اور قطری نامی راوی سے میں واقف نہیں ہوں ۔

148

Majma al-Zawaid #148

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: «كُنْتُ أَمْشِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي نَخْلٍ لِبَعْضِ أَهْلِ الْمَدِينَةِ، فَقَالَ: "" يَا أَبَا هُرَيْرَةَ، هَلَكَ الْمُكْثِرُونَ إِلَّا مَنْ قَالَ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا "" ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، حَثَا بِكَفَّيْهِ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ يَسَارِهِ، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، وَبَيْنَ يَدَيْهِ، "" وَقَلِيلٌ مَا هُمْ ""، ثُمَّ مَشَى سَاعَةً فَقَالَ: "" يَا أَبَا هُرَيْرَةَ، هَلْ أَدُلُّكَ عَلَى كَنْزٍ مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ؟ "" قُلْتُ: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ: "" لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ، وَلَا مَلْجَأَ مِنَ اللَّهِ إِلَّا إِلَيْهِ ""، ثُمَّ مَشَى سَاعَةً، ثُمَّ قَالَ: ""؟ "" قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ: "" فَإِنَّ حَقَّ اللَّهِ عَلَى النَّاسِ أَنْ يَعْبُدُوهُ وَلَا يُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا، فَإِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ فَحَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ لَا يُعَذِّبَهُمْ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرَوَى التِّرْمِذِيُّ مِنْهُ حَدِيثَ: "" «لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ»، وَلَهُ عِنْدَ ابْنِ مَاجَهْ: "" «الْأَكْثَرُونَ هُمُ الْأَقَلُّونَ» وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ أَثْبَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه said: I was walking with the Messenger of Allah ﷺ in a date-palm orchard belonging to one of the people of Medina, when he said: > **"O Abū Hurayrah, the possessors of abundant wealth are ruined, except for the one who spends like this, and like this, and like this"** — repeating it three times, gesturing with his cupped hands to his right, to his left, and before him — **"and how few they are!"** Then he walked for a while and said: > **"O Abū Hurayrah, shall I not direct you to a treasure from the treasures of Paradise?"** I said, "Certainly, O Messenger of Allah." He ﷺ said: > **"Lā ḥawla wa lā quwwata illā billāh, wa lā malja'a min Allāhi illā ilayh (There is no power nor might except with Allah, and there is no refuge from Allah except in Him)."** Then he walked for a while and asked: > **"Do you know what is the right of Allah upon people?"** I said, "Allah and His Messenger know best." He ﷺ said: > **"The right of Allah upon people is that they worship Him and associate nothing with Him; and when they do that, it is a duty upon Allah not to punish them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ اہل مدینہ میں سے کسی شخص کے کھجوروں کے باغ میں سے گزر رہا تھا ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اے ابوہریرہ ! ( مال و دولت کی ) کثرت والے لوگ ہلاکت کا شکار ہو جائیں گے ‘ البتہ اس شخص کا معاملہ مختلف ہے ‘ جو اس طرح اور اس طرح اور اس طرح کرے ‘ یہ بات آپ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی ‘ آپ نے دونوں ہتھیلیاں ملا کر دائیں اور بائیں طرف اور سامنے کی طرف تین مرتبہ ( خرچ کرنے کا اشارہ کیا ) اور فرمایا : لیکن ایسے لوگ کم ہیں ‘ پھر آپ کچھ دیر چلتے رہے ‘ پھر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : اے ابوہریرہ ! کیا میں جنت کے خزانوں میں سے ‘ ایک خزانہ کی طرف تمہاری رہنمائی نہ کروں ؟ میں نے عرض کی : جی ہاں ! یا رسول اللہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ( وہ یہ پڑھنا ہے : «لا حول ولا قوة الا بالله ولا ملجا من الله الا اليه» ’’ اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر کچھ بھی نہیں کیا جا سکتا ‘ اور اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں ‘ صرف اُسی کی ذات جائے پناہ ہے ‘‘۔ پھر نبی اکرم ﷺ کچھ دیر چلتے رہے ‘ پھر آپ نے فرمایا : کیا تم جانتے ہو ‘ بندوں پر اللہ تعالیٰ کا حق کیا ہے ؟ میں نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں ‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : بندوں پر اللہ تعالیٰ کا یہ حق ہے کہ بندے صرف اُسی کی عبادت کریں ‘ اور کسی کو اُس کا شریک نہ ٹھہرائیں ‘ جب وہ ایسا کر لیں گے ‘ تو اللہ تعالیٰ کے ذمہ یہ بات لازم ہو گی کہ وہ انہیں عذاب نہ دے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اس میں سے صرف «لا حول ولا قوۃ الا باللہ» کے الفاظ نقل کئے ہیں ‘ حضرت ابوہریرہ کے حوالے سے امام ابن ماجہ نے یہ روایت نقل کی ہے : ’’ کثرت والے لوگ ، قلت والے ہوں گے ‘‘۔ اس روایت کے رجال ‘ ثقہ اور ثبت ہیں ۔

149

Majma al-Zawaid #149

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: «كَانَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ رِدْفَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَا حَقُّ اللَّهِ عَلَى الْعِبَادِ؟ "" قَالَ مُعَاذٌ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" حَقُّهُ عَلَيْهِمْ أَنْ يَعْبُدُوهُ وَلَا يُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا "" قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" هَلْ تَدْرِي مَا حَقُّ الْعِبَادِ عَلَى اللَّهِ إِذَا عَبَدُوهُ وَلَمْ يُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا؟ "" قَالَ مُعَاذٌ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ: "" حَقُّهُمْ عَلَيْهِ أَنْ يُدْخِلَهُمُ الْجَنَّةَ "". قَالَ مُعَاذٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَا آتِي النَّاسَ فَأُبَشِّرَهُمْ؟! فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" لَا، دَعْهُمْ فَلْيَعْمَلُوا». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ. وَاللَّهُ أَعْلَمُ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه said: Muʿādh ibn Jabal was riding behind the Messenger of Allah ﷺ, when the Prophet ﷺ asked: > **"What is the right of Allah upon the servants?"** Muʿādh said, "Allah and His Messenger know best." The Messenger of Allah ﷺ said: > **"His right upon them is that they worship Him and associate nothing with Him."** The Prophet ﷺ then asked: > **"Do you know what is the right of the servants upon Allah when they worship Him and do not associate anything with Him?"** Muʿādh said, "Allah and His Messenger know best." He ﷺ said: > **"Their right upon Him is that He admits them into Paradise."** Muʿādh said, "O Messenger of Allah, shall I not go to the people and give them glad tidings?!" The Prophet ﷺ said: > **"No, leave them to strive in good deeds."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ( ایک مرتبہ ) حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نبی کریم کے پیچھے سواری پر بیٹھے ہوئے تجھے نبی اکرم نے دریافت کیا : اللہ تعالیٰ کا بندوں پر کیا حق ہے ؟ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں ‘ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اس کا اُن ( بندوں ) پر یہ حق ہے کہ وہ ( بندے ) اُسی کی عبادت کریں اور کسی کو اُس کا شریک نہ ٹھہرائیں ، پھر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کیا تم جانتے ہو کہ جب بندے اُس کی عبادت کریں اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہرائیں ، تو بندوں کا اللہ تعالیٰ پر کیا حق ہو گا ؟ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے عرض کی : اللہ اور اُس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اُن ( بندوں ) کا اُس پر یہ حق ہو گا کہ وہ انہیں جنت میں داخل کر دے ‘ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا میں لوگوں کے پاس جا کر انہیں خوشخبری نہ دوں ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جی نہیں ! انہیں رہنے دو ! تاکہ وہ عمل کرتے رہیں ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ‘ باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔

150

Majma al-Zawaid #150

وَعَنْ حُذَيْفَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: «كُنْتُ رِدْفَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" يَا حُذَيْفَةُ، تَدْرِي مَا حَقُّ اللَّهِ عَلَى الْعِبَادِ؟ "" قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ: "" أَنْ يَعْبُدُوهُ وَلَا يُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا ""، ثُمَّ قَالَ: "" يَا حُذَيْفَةُ "" قُلْتُ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ: "" تَدْرِي مَا حَقُّ الْعِبَادِ عَلَى اللَّهِ - تَعَالَى - إِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ؟ "" قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ: "" يَغْفِرُ لَهُمْ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ، وَسِمَاكُ بْنُ الْوَلِيدِ تَابِعِيٌّ ثِقَةٌ، وَلَا أَدْرِي سَمِعَ مِنْ حُذَيْفَةَ أَمْ لَا.

EnglishUnverified translation

Ḥudhayfah رضي الله عنه said: I was riding behind the Prophet ﷺ when he said: > **"O Ḥudhayfah, do you know what is the right of Allah upon the servants?"** I said, "Allah and His Messenger know best." He ﷺ said: > **"That they worship Him and associate nothing with Him."** Then he said: > **"O Ḥudhayfah!"** I said, "At your service, O Messenger of Allah." He ﷺ said: > **"Do you know what is the right of the servants upon Allah Almighty when they do that?"** I said, "Allah and His Messenger know best." He ﷺ said: > **"That He forgives them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں سواری پر نبی اکرم ﷺ کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا ، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : اے حذیفہ ! کیا تم جانتے ہو ؟ بندوں پر اللہ تعالیٰ کا حق کیا ہے ؟ میں نے عرض کی : اللہ اور اُس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : یہ کہ وہ ( بندے ) اُس کی عبادت کریں اور کسی کو اُس کا شریک نہ ٹھہرائیں ‘ پھر آپ نے فرمایا : اے حذیفہ ! امین نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں حاضر ہوں ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : کیا تم جانتے ہو ؟ کہ جب بندے ایسا کر لیں ، تو اُن کا اللہ تعالیٰ پر کیا حق ہو گا ؟ میں نے عرض کی : اللہ اور اُس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں ، نبی اکرم نے ارشاد فرمایا : یہ کہ وہ اُن کی مغفرت کر دے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، سماک بن ولید نامی راوی ‘ تابعی ہے اور ثقہ ہے ‘ لیکن مجھے یہ معلوم نہیں ہے کہ اُس نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے سماع کیا ہے ‘ یا نہیں کیا ہے ؟

151

Majma al-Zawaid #151

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - «عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِيمَا يَرْوِي عَنْ رَبِّهِ قَالَ: "" أَرْبَعُ خِصَالٍ: وَاحِدَةٌ مِنْهُنَّ لِي، وَوَاحِدَةٌ لَكَ، وَوَاحِدَةٌ فِيمَا بَيْنِي وَبَيْنَكَ، وَوَاحِدَةٌ فِيمَا بَيْنَكَ وَبَيْنَ عِبَادِي ; فَأَمَّا الَّتِي لِي فَتَعْبُدُنِي لَا تُشْرِكُ بِي شَيْئًا، وَأَمَّا الَّتِي لَكَ عَلَيَّ فَمَا عَمِلْتَ مِنْ خَيْرٍ جَزَيْتُكَ بِهِ، وَأَمَّا الَّتِي بَيْنِي وَبَيْنَكَ فَمِنْكَ الدُّعَاءُ وَعَلَيَّ الْإِجَابَةُ، وَأَمَّا الَّتِي بَيْنَكَ وَبَيْنَ عِبَادِي فَارْضَ لَهُمْ مَا تَرْضَى لِنَفْسِكَ» "". هَذَا لَفْظُ أَبِي يَعْلَى، وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِي إِسْنَادِهِ صَالِحٌ الْمُرِّيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَتَدْلِيسُ الْحَسَنِ أَيْضًا.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Mālik رضي الله عنه narrated from the Prophet ﷺ, who related from his Lord: > **"There are four characteristics: one of them is for Me, one is for you, one is between Me and you, and one is between you and My servants. As for the one that is for Me: you worship Me without associating anything with Me. As for the one that is for you: whatever good deed you perform, I shall reward you for it. As for the one that is between Me and you: from you is supplication and upon Me is the response. And as for the one between you and My servants: be pleased for them with that which you are pleased with for yourself."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے ( حدیث قدسی میں ) اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ چار چیزیں ہیں ، جن میں سے ایک میرے لئے ہے ( اے بندے ! ) ایک تمہارے لئے ہے ‘ ایک میرے اور تمہارے درمیان ہے ‘ اور ایک تمہارے اور میرے ( دوسرے ) بندوں کے درمیان ہے ‘ جہاں تک اس چیز کا تعلق ہے جو میرے لئے ہے ‘ تو وہ یہ ہے کہ تم میری عبادت کرو اور کسی کو میرا شریک قرار نہ دو ‘ جہاں تک اُس چیز کا تعلق ہے جو میرے ذمہ لازم ہے ( یعنی جو تمہارے لیے ہے ) وہ یہ ہے کہ تم جو بھی بھلائی کرو گے ‘ میں تمہیں اُس کی جزا دوں گا جہاں تک اُس چیز کا تعلق ہے ‘ جو میرے اور تمہارے درمیان ہے ‘ تو وہ یہ ہے : کہ دعا تمہاری طرف سے ہو گی اور اُسے قبول کرنا میرے ذمہ ہو گا ‘ جہاں تک اُس چیز کا تعلق ہے ‘ جو تمہارے اور میرے دوسرے بندوں کے درمیان ہے ‘ تو وہ یہ ہے کہ تم اُن کے لیے اسی چیز سے راضی رہو ‘ جس چیز سے تم اپنے لیے راضی ہوتے ہو “۔ روایت کے یہ الفاظ امام ابویعلیٰ کے نقل کردہ ہیں ‘ اسے امام بزار نے بھی نقل کیا ہے اس کی سند میں ایک راوی صالح مری ہے اور وہ ضعیف ہے ‘ اس روایت میں حسن نامی راوی کی ’’ تدلیس ‘‘ بھی ہے ۔

152

Majma al-Zawaid #152

وَعَنْ سَلْمَانَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" يَقُولُ اللَّهُ: يَا ابْنَ آدَمَ، ثَلَاثَةٌ خِصَالٍ: وَاحِدَةٌ لِي، وَوَاحِدَةٌ لَكَ، وَوَاحِدَةٌ بَيْنِي وَبَيْنَكَ ; فَأَمَّا الَّتِي لِي فَتَعْبُدُنِي لَا تُشْرِكُ بِي شَيْئًا، وَأَمَّا الَّتِي لَكَ فَمَا عَمِلْتَ مِنْ عَمَلٍ جَزَيْتُكَ بِهِ، فَإِنْ أَغْفِرْ فَأَنَا الْغَفُورُ الرَّحِيمُ، وَأَمَّا الَّتِي بَيْنِي وَبَيْنَكَ فَعَلَيْكَ الدُّعَاءُ وَعَلَيَّ الِاسْتِجَابَةُ وَالْعَطَاءُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِي إِسْنَادِهِ حُمَيْدُ بْنُ الرَّبِيعِ، وَثَّقَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ، لَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ، وَفِيهِ ضَعْفٌ.

EnglishUnverified translation

Salmān رضي الله عنه said: The Messenger of Allah ﷺ said: > **"Allah says: 'O son of Adam, there are three characteristics: one is for Me, one is for you, and one is between Me and you. As for the one that is for Me: you worship Me without associating anything with Me. As for the one that is for you: whatever deed you perform, I shall reward you for it, and if I forgive, then I am the Most Forgiving, the Most Merciful. And as for the one between Me and you: upon you is supplication, and upon Me is response and granting.'"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم نے ارشاد فرمایا ہے : اللہ تعالیٰ ( حدیث قدسی میں ) فرماتا ہے : ’’ اے انسان ! تین خصائل ہیں ‘ ایک میرے لیے ہے ‘ ایک تمہارے لئے ہے ‘ اور ایک میرے اور تمہارے درمیان ہے جہاں تک اُس کا تعلق ہے ‘ جو میرے لئے ہے ‘ تو وہ یہ ہے : کہ تم میری عبادت کرو ‘ اور کسی کو میرا شریک قرار نہ دو ‘ جہاں تک اُس کا تعلق ہے ‘ جو تمہارے لئے ہے ‘ تو وہ یہ ہے : کہ تم جو بھی عمل کرو گے ‘ میں تمہیں اس کی جزا دوں گا اور اگر میں مغفرت کر دوں ‘ تو میں مغفرت کرنے والا ‘ رحم کرنے والا ہوں ، جہاں تک اُس چیز کا تعلق ہے ‘ جو میرے اور تمہارے درمیان ہے ‘ تو تم پر دعا کرنا لازم ہے ‘ اور اس کو قبول کرنا اور عطا کرنا ‘ میرے ذمہ ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی حمید بن ربیع ہے ، جسے کئی حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ‘ لیکن وہ ’’ تدلیس ‘‘ کرنے والا ہے اور اُس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔

153

Majma al-Zawaid #153

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" يَقُولُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ -: لَسْتُ بِنَاظِرٍ فِي حَقِّ عَبْدِي حَتَّى يَنْظُرَ عَبْدِي فِي حَقِّي» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِي إِسْنَادِهِ سَلَّامٌ الطَّوِيلُ، وَهُوَ مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ، وَلَمْ أَرَ مَنْ وَثَّقَهُ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما said: The Messenger of Allah ﷺ said: > **"Allah, Mighty and Majestic, says: 'I do not consider the right of My servant until My servant considers My right.'"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ اللہ تعالی ( حدیث قدسی میں ) فرماتا ہے : میں اپنے بندے کے حق کی طرف ‘ اُس وقت تک نظر ( یعنی اس پر اپنا فضل ) نہیں کرتا ‘ جب تک میرا بندہ میرے حق کا جائزہ نہیں لیتا ( یعنی اسے ادا نہیں کرتا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی ’’ سلام طویل “ ہے ‘ جو متروک الحدیث ہے ‘ میں نے ایسا کوئی شخص نہیں دیکھا ، جس نے اُسے ثقہ قرار دیا ہو ۔

154

Majma al-Zawaid #154

عَنْ عُتْبَةَ بْنِ عَبْدٍ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" لَوْ أَنَّ رَجُلًا يَخِرُّ عَلَى وَجْهِهِ مِنْ يَوْمِ وُلِدَ إِلَى يَوْمِ يَمُوتُ فِي مَرْضَاةِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - لَحَقَّرَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ بَقِيَّةُ وَهُوَ مُدَلِّسٌ، وَلَكِنَّهُ صَرَّحَ بِالتَّحْدِيثِ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا.

EnglishUnverified translation

ʿUtbah ibn ʿAbd رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"If a man were to fall upon his face in prostration from the day he was born until the day he dies, seeking the pleasure of Allah, Mighty and Majestic, he would surely consider it insignificant on the Day of Resurrection."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عتبہ بن عبد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ اگر کوئی شخص اپنی پیدائش کے دن سے ‘ مرنے کے دن تک ‘ اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کے لیے ‘ اپنے چہرے کے بل گرا رہے ‘ تو قیامت کے دن ‘ وہ اس عمل کو بھی حقیر سمجھے گا ‘‘ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس میں ایک راوی بقیہ ہے ‘ اور وہ تدلیس کرنے والا ہے لیکن یہاں اس نے ’’ تحدیث ‘‘ کی صراحت کی ہے ‘ اس روایت کے باقی راویوں کی توثیق کی گئی ہے ۔

155

Majma al-Zawaid #155

وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" لَوْ أَنَّ رَجُلًا جرَّ عَلَى وَجْهِهِ مِنْ يَوْمِ وُلِدَ إِلَى يَوْمِ يَمُوتُ هَرَمًا فِي طَاعَةِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - لَحَقَّرَهُ ذَلِكَ الْيَوْمَ، وَلَوَدَّ أَنَّهُ رُدَّ إِلَى الدُّنْيَا كَيْمَا يَزْدَادَ مِنَ الْأَجْرِ وَالثَّوَابِ "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Muḥammad ibn Abī ʿAmrah رضي الله عنه — who was among the Companions of the Prophet ﷺ — said: > **"If a man were to be dragged upon his face in obedience to Allah, Mighty and Majestic, from the day he was born until the day he dies of old age, he would surely deem it insignificant on that Day, and he would desperately wish to be returned to the world so that he might increase in reward and recompense."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت محمد بن ابوعمرہ رضی اللہ عنہ ‘ جو صحابہ کرام میں سے ہیں ‘ وہ فرماتے ہیں : ’’ اگر کوئی شخص اپنی پیدائش کے دن سے لے کر ‘ بوڑھا ہونے کے بعد مرنے کے دن تک ‘ اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں اپنے چہرے کے بل چلتا رہے ‘ تو قیامت کے دن وہ اسے بھی حقیر سمجھے گا ‘ اور یہ آرزو کرے گا : کہ اُسے دنیا کی طرف واپس بھیج دیا جائے ‘ تاکہ اُس کے اجر و ثواب میں اضافہ ہو ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

156

Majma al-Zawaid #156

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «مَا فِي السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ مَوْضِعُ قَدَمٍ وَلَا شِبْرٍ وَلَا كَفٍّ، إِلَّا فِيهِ مَلَكٌ قَائِمٌ، أَوْ مَلَكٌ سَاجِدٌ، فَإِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ قَالُوا جَمِيعًا: سُبْحَانَكَ مَا عَبَدْنَاكَ حَقَّ عِبَادَتِكَ إِلَّا أَنَّا لَمْ نُشْرِكْ بِكَ شَيْئًا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ عُرْوَةُ بْنُ مَرْوَانَ قَالَ الدَّارَقُطْنِيُّ: كَانَ أُمِّيًا لَيْسَ بِالْقَوِيِّ.

EnglishUnverified translation

Jābir ibn ʿAbdillāh رضي الله عنهما said: The Messenger of Allah ﷺ said: > **"There is not in the seven heavens the space of a footstep, nor a handspan, nor a palm, except that therein is an angel standing or an angel prostrating. When the Day of Resurrection arrives, they will all say: 'Glory be to You! We have not worshipped You as You truly deserve to be worshipped, except that we have never associated anything with You.'"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ ساتوں آسمانوں میں ‘ ایک قدم جتنی ‘ یا ایک بالشت جتنی ‘ یا ایک تھیلی جتنی جگہ ( بھی خالی نہیں ہے ‘ ہر جگہ پر ) یا کوئی فرشتہ قیام کی حالت میں ‘ یا کوئی فرشتہ سجدے کی حالت میں ( عبادت کر رہا ہے ) جب قیامت کا دن ہو گا ‘ تو وہ سب یہی کہیں گے : تو ہر عیب سے پاک ہے ‘ ہم نے تیری ویسے عبادت نہیں کی ‘ جو تیری عبادت کا حق ہے ‘ تاہم ‘ ہم کسی کو تیرا شریک قرار نہیں دیتے ہیں ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی عروہ بن مروان ہے ‘ امام دارقطنی فرماتے ہیں : یہ پڑھا لکھا نہیں تھا ‘ اور قوی نہیں ہے ۔

157

Majma al-Zawaid #157

عَنْ بُرَيْدَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «لَيْسَ شَيْءٌ إِلَّا وَهُوَ أَطْوَعُ لِلَّهِ - تَعَالَى - مِنِ ابْنِ آدَمَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ بِإِسْنَادَيْنِ، وَفِيهِ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْأَشْجَعِيِّ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ سَمَّاهُ وَلَا تَرْجَمَهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Buraydah رضي الله عنه said: The Messenger of Allah ﷺ said: > **"There is nothing in existence except that it is more obedient to Allah Almighty than the son of Adam."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے :’’ ( انسان کے علاوہ ) ہر ایک چیز ‘ انسان سے زیادہ ‘ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے والی ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں ‘ دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی ابوعبیدہ بن اشجعی ہے ‘ میں نے ایسا کوئی شخص نہیں پایا ‘ جس نے اس کا ’’ نام ‘‘ بیان کیا ہو ‘ یا اس کے حالات ذکر کئے ہوں ، تاہم اس روایت کے باقی راوی ‘ صحیح کے رجال ہیں ۔

158

Majma al-Zawaid #158

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «إِنَّ الْإِيمَانَ لَيَخْلَقُ فِي جَوْفِ أَحَدِكُمْ كَمَا يَخْلَقُ الثَّوْبُ، فَسَلُوا اللَّهَ - تَعَالَى - أَنْ يُجَدِّدَ الْإِيمَانَ فِي قُلُوبِكُمْ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿAmr رضي الله عنهما said: The Messenger of Allah ﷺ said: > **"Indeed, faith wears out in the chest of one of you just as a garment wears out; so ask Allah Almighty to renew faith in your hearts."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ آدمی کے پیٹ ( یعنی سینے یا دل ) کے اندر ایمان بوسید ہو جاتا ہے ‘ جس طرح کوئی کپڑا بوسیدہ ہو جاتا ہے ‘ تو تم لوگ اللہ تعالٰی سے یہ سوال ( یعنی دعا ) کرو ! کہ وہ تمہارے دلوں میں ایمان کی تجدید کر دے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

159

Majma al-Zawaid #159

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «جَدِّدُوا إِيمَانَكُمْ "". قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَكَيْفَ نُجَدِّدُ إِيمَانَنَا؟ قَالَ: "" أَكْثِرُوا مِنْ قَوْلِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ، وَفِيهِ سُمَيْرُ بْنُ نَهَارٍ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه said: The Messenger of Allah ﷺ said: > **"Renew your faith!"** It was said, "O Messenger of Allah, how do we renew our faith?" He ﷺ said: > **"Say abundantly: 'Lā ilāha illallāh' (There is no deity worthy of worship except Allah)."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تم لوگ اپنے ایمان کی تجدید کرو ! عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! ہم اپنے ایمان کی تجدید کیسے کریں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم کثرت کے ساتھ لا الہ الا اللہ پڑھا کرو ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند عمدہ ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی سمیر بن نہار ہے ‘ امام ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔

160

Majma al-Zawaid #160

عَنْ أَنَسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: «الْإِسْلَامُ عَلَانِيَةٌ، وَالْإِيمَانُ فِي الْقَلْبِ "". قَالَ: ثُمَّ يُشِيرُ بِيَدِهِ إِلَى صَدْرِهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ. قَالَ: ثُمَّ يَقُولُ: "" التَّقْوَى هَا هُنَا، التَّقْوَى هَا هُنَا» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى بِتَمَامِهِ، وَالْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ مَا خَلَا عَلِيَّ بْنَ مَسْعَدَةَ، وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَأَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ وَأَبُو حَاتِمٍ وَابْنُ مَعِينٍ، وَضَعَّفَهُ آخَرُونَ.

EnglishUnverified translation

Anas رضي الله عنه said: The Messenger of Allah ﷺ used to say: > **"Islam is outward, while faith is in the heart."** Then he would point with his hand to his chest three times and say: > **"Taqwā (God-consciousness) is here! Taqwā is here!"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ یہ فرماتے تھے : ’’ اسلام علانیہ ہوتا ہے ‘ اور ایمان دل میں ہوتا ہے ، پھر آپ ﷺ نے اپنے سینے کی طرف اپنے دست مبارک کے ذریعے تین مرتبہ اشارہ کیا ، پھر آپ نے ارشاد فرمایا : تقویٰ یہاں ہے ‘ تقویٰ یہاں ہے ۔ یہ روایت امام احمد اور امام ابویعلیٰ نے مکمل روایت کے طور پر نقل کی ہے ‘ جبکہ امام بزار نے اسے اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے علی بن مسعدہ نامی راوی کے علاوہ ‘ اس کے تمام رجال صحیح کے رجال ہیں ‘ اور اُسے بھی ابن حبان ‘ ابوداؤد طیالسی ‘ ابو حاتم اور ابن معین نے ثقہ قرار دیا ہے ‘ جبکہ دیگر حضرات نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔