Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 1 · Chapter 3

Book of Faith

Hadith 81–120

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

81

Majma al-Zawaid #81

وَعَنْ خُزَيْمَةَ - يَعْنِي: ابْنَ ثَابِتٍ - «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" يَأْتِي الشَّيْطَانُ الْإِنْسَانَ فَيَقُولُ: مَنْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ؟ فَيَقُولُ: اللَّهُ، فَيَقُولُ: مَنْ خَلَقَ الْأَرْضَ؟ فَيَقُولُ: اللَّهُ، حَتَّى يَقُولَ: مَنْ خَلَقَ اللَّهَ؟ فَإِذَا وَجَدَ أَحَدُكُمْ ذَلِكَ فَلْيَقُلْ: آمَنْتُ بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ بِإِسْنَادٍ فِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ.

EnglishUnverified translation

Khuzaymah ibn Thābit رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Satan comes to a person and asks: 'Who created the heavens?' and he replies: 'Allah.' Then he asks: 'Who created the earth?' and he replies: 'Allah.' Until he asks: 'Who created Allah?' When any of you encounters that, let him say: 'I believe in Allah and His Messengers (Āmantu billāhi wa rusulih).'"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ شیطان انسان کے پاس آتا ہے ‘ اور کہتا ہے : آسمانوں کو کس نے پیدا کیا ہے ؟ آدمی کہتا ہے : اللہ تعالی نے ‘ شیطان کہتا ہے : زمین کو کس نے پیدا کیا ہے ؟ آدمی کہتا ہے : اللہ تعالیٰ نے ‘ یہاں تک کہ شیطان کہتا ہے : اللہ تعالی کو کس نے پیدا کیا ہے ؟ جب کوئی شخص اس طرح کی صورتحال پائے ‘ تو اُسے یہ کہنا چاہیے : میں اللہ تعالیٰ اور اُس کے رسونوں پر ایمان رکھتا ہوں ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں ‘ ایسی سند کے ساتھ نقل کی ہے ‘ جس میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ۔

82

Majma al-Zawaid #82

وَعَنْ عَائِشَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" إِنَّ أَحَدَكُمْ يَأْتِيهِ الشَّيْطَانُ فَيَقُولُ: مَنْ خَلَقَكَ؟ فَيَقُولُ: اللَّهُ، فَيَقُولُ: مَنْ خَلَقَ اللَّهَ؟ فَإِذَا وَجَدَ أَحَدُكُمْ ذَلِكَ فَلْيَقُلْ: آمَنْتُ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ، فَإِنَّ ذَلِكَ يُذْهِبُ عَنْهُ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿĀʾishah رضي الله عنها reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Indeed, Satan comes to one of you and says: 'Who created you?' and he replies: 'Allah.' Then he says: 'Who created Allah?' When any of you encounters that, let him say: 'I believe in Allah and His Messenger (Āmantu billāhi wa rasūlih),' for indeed that will dispel it from him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ تم میں سے کسی ایک کے پاس شیطان آتا ہے اور یہ کہتا ہے : تمہیں کس نے پیدا کیا ہے ؟ آدمی کہتا ہے : اللہ تعالٰی نے شیطان کہتا ہے : اللہ تعالیٰ کو کس نے پیدا کیا ہے ؟ ( نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں : ) جب کوئی شخص ایسی صورتحال پائے ، تو اسے یہ کہنا چاہیے : میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتا ہوں ، تو یہ چیز ( یعنی وسوسہ ) اُس سے دور ہو جائے گا ۔ یه روایت امام احمد ‘ امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

83

Majma al-Zawaid #83

وَعَنْ عَائِشَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - قَالَتْ: «شَكَوْا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَا يَجِدُونَ مِنَ الْوَسْوَسَةِ، وَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا نَجِدُ شَيْئًا لَوْ أَنَّ أَحَدَنَا خَرَّ مِنَ السَّمَاءِ كَانَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ أَنْ يَتَكَلَّمَ بِهِ! فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" ذَاكَ مَحْضُ الْإِيمَانِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى، بِنَحْوِهِ، إِلَّا أَنَّ لَفْظَ أَبِي يَعْلَى: أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِعَائِشَةَ: «إِنَّ أَحَدَنَا يُحَدِّثُ نَفْسَهُ بِشَيْءٍ لَوْ تَكَلَّمَ بِهِ ذَهَبَتْ آخِرَتُهُ، وَلَوْ ظَهَرَ [عَلَيْهِ] لَقُتِلَ، [قَالَ] فَكَبَّرَتْ ثَلَاثًا، ثُمَّ قَالَتْ: سُئِلَ عَنْهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَكَبَّرَ ثَلَاثًا، ثُمَّ قَالَ: "" إِنَّمَا يُخْتَبَرُ بِهَذَا الْمُؤْمِنُ». وَفِي إِسْنَادِهِ شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ.

EnglishUnverified translation

ʿĀʾishah رضي الله عنها said: They complained to the Messenger of Allah ﷺ about the whispers they experienced within themselves, saying, "O Messenger of Allah, we find thoughts within ourselves such that falling from the sky would be more beloved to any of us than uttering them!" The Prophet ﷺ said: > **"That is pure faith."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ بیان کرتی ہیں : کچھ لوگوں نے نبی اکرم ﷺ کے سامنے وسوسے آنے کے حوالے سے شکایت کی انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم ایسا خیال بھی پاتے ہیں کہ اگر ہم میں سے کوئی ایک آسمان سے گر جائے ‘ تو یہ اُس کے نزدیک اس خیال کے بارے میں بات کرنے سے زیادہ پسندیدہ ہو گا ‘ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : یہ محض ایمان ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام ابویعلیٰ نے ، اس کی مانند نقل کی ہے ‘ تاہم امام ابویعلیٰ کے الفاظ یہ ہیں : ’’ ایک شخص نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا : ہم میں سے کسی ایک شخص کو بعض اوقات ایسا خیال آتا ہے کہ اگر آدمی اُس کے بارے میں بات کر لے ‘ تو اس کی آخرت تباہ ہو جائے اور اگر وہ اُس خیال کو ظاہر کرئے تو اسے قتل کر دیا جائے راوی بیان کرتے ہیں : سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے تین مرتبہ تکبیر کہی ‘ پھر انہوں نے فرمایا : نبی اکرم ﷺ سے بھی اس بارے میں دریافت کیا گیا تھا ، تو آپ ﷺ نے تین مرتبہ تکبیر کہی تھی اور پھر یہ ارشاد فرمایا تھا : اس کے ذریعے مؤمن کا امتحان لیا جاتا ہے ۔ اس روایت کی سند میں ‘ ایک راوی شہر بن حوشب ہے ۔

84

Majma al-Zawaid #84

وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرٍ «أَنَّ عُمَرَ مَرَّ عَلَى عُثْمَانَ وَهُوَ جَالِسٌ فِي الْمَسْجِدِ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ، فَدَخَلَ عَلَى أَبِي بَكْرٍ فَاشْتَكَى ذَلِكَ إِلَيْهِ، فَقَالَ: مَرَرْتُ عَلَى عُثْمَانَ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ، فَقَالَ: أَيْنَ هُوَ؟ قَالَ: هُوَ فِي الْمَسْجِدِ قَاعِدٌ، فَانْطَلَقَا إِلَيْهِ فَقَالَ لَهُ أَبُو بَكْرٍ: مَا مَنَعَكَ أَنْ تَرُدَّ عَلَى أَخِيكَ حِينَ سَلَّمَ عَلَيْكَ؟ قَالَ: وَاللَّهِ مَا شَعَرْتُ أَنَّهُ مَرَّ بِي، وَأَنَا أُحَدِّثُ نَفْسِي فَلَمْ أَشْعُرْ أَنَّهُ سَلَّمَ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: فَمَاذَا تُحَدِّثُ نَفْسَكَ؟ قَالَ: خَلَا بِي الشَّيْطَانُ فَجَعَلَ يُلْقِي فِي نَفْسِي أَشْيَاءَ مَا أُحِبُّ أَنِّي تَكَلَّمْتُ بِهَا وَإِنَّ لِي مَا عَلَى الْأَرْضِ، قُلْتُ فِي نَفْسِي حِينَ أَلْقَى الشَّيْطَانُ ذَلِكَ فِي نَفْسِي: يَا لَيْتَنِي سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: مَا الَّذِي يُنْجِينَا مِنْ هَذَا الْحَدِيثِ الَّذِي يُلْقِي الشَّيْطَانُ فِي أَنْفُسِنَا؟ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: فَإِنِّي وَاللَّهِ لَقَدِ اشْتَكَيْتُ ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَسَأَلْتُهُ: مَا الَّذِي يُنْجِينَا مِنْ هَذَا الْحَدِيثِ الَّذِي يُلْقِي الشَّيْطَانُ فِي أَنْفُسِنَا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" يُنْجِيكُمْ مِنْ ذَلِكَ أَنْ تَقُولُوا مِثْلَ الَّذِي أَمَرْتُ بِهِ عَمِّي عِنْدَ الْمَوْتِ فَلَمْ يَفْعَلْ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَعِنْدَ أَحْمَدَ طَرَفٌ مِنْهُ، وَفِي إِسْنَادِهِ أَبُو الْحُوَيْرِثِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُعَاوِيَةَ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَالْأَكْثَرُ عَلَى تَضْعِيفِهِ. وَاللَّهُ أَعْلَمُ.

EnglishUnverified translation

Muḥammad ibn Jubayr reported: ʿUmar passed by ʿUthmān while he was sitting in the mosque and greeted him with salām, but ʿUthmān did not return the greeting. ʿUmar went to Abū Bakr and complained to him, saying, "I passed by ʿUthmān and greeted him with salām, but he did not return my greeting." Abū Bakr asked, "Where is he?" He replied, "He is sitting in the mosque." So both of them went to him, and Abū Bakr said to him, "What prevented you from returning the salām to your brother when he greeted you?" ʿUthmān said, "By Allah, I did not realize that he had passed by me. I was absorbed in my thoughts, so I did not notice him greeting me." Abū Bakr asked, "What were you pondering?" He said, "Satan isolated me and began casting thoughts into my mind such that I would rather possess nothing upon the earth than utter them. When Satan cast that into my mind, I said to myself: 'How I wish I had asked the Messenger of Allah ﷺ what can save us from these thoughts that Satan casts into our souls!'" Abū Bakr said, "By Allah, I complained of that very matter to the Messenger of Allah ﷺ and asked him: 'What can save us from these thoughts that Satan casts into our souls?' The Messenger of Allah ﷺ said: > **'What will save you from that is to say the like of what I commanded my uncle to say at the time of death, but he did not do so.'"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

محمد بن جبیر بیان کرتے ہیں : حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا گزر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس سے ہوا ‘ جو مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے ‘ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں سلام کیا ، لیکن انہوں نے جواب نہیں دیا ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور ان کے سامنے شکایت کی ‘ اور یہ بتایا کہ میں عثمان کے پاس سے گزرا تھا ، میں نے اُسے سلام کیا تھا ، لیکن اس نے مجھے جواب نہیں دیا ‘ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : وہ کہاں ہے ؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بتایا : وہ مسجد میں بیٹھا ہوا ہے ‘ یہ دونوں حضرات ‘ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس گئے ، تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اُن سے دریافت کیا : آپ کے بھائی نے جب آپ کو سلام کیا تھا ، تو آپ نے اسے جواب کیوں نہیں دیا ؟ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا : اللہ کی قسم ! مجھے تو پتہ ہی نہیں چلا کہ یہ میرے پاس سے گزرے ہیں ‘ میں اپنے خیالوں میں گم تھا ‘ اس لیے مجھے پتہ نہیں چل سکا ‘ کہ انہوں نے سلام کیا ہے ، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : آپ کن خیالوں میں گم تھے ؟ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے بتایا : جب میں اکیلا ہوتا ہوں ، تو شیطان میرے ذہن میں ایسے خیالات ڈالتا ہے کہ مجھے یہ پسند نہیں ہے ‘ کہ میں اُن کے بارے میں بات چیت کروں ‘ اگرچہ اس کے بدلے میں مجھے روئے زمین پر موجود ہر چیز مل رہی ہو ‘ جب شیطان میرے ذہن میں اس طرح کے خیال ڈالتا ہے ‘ تو میں دل میں سوچتا ہوں ، کاش میں نے نبی اکرم ﷺ سے اس بارے میں دریافت کیا ہوتا ‘ کہ شیطان ہمارے ذہنوں میں اس طرح کے خیال پیدا کرتا ہے تو اس سے کیا چیز ہمیں نجات دے سکتی ہے ؟ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ بولے : اللہ کی قسم ! میں نے نبی اکرم ﷺ کے سامنے اسی چیز کی شکایت کی تھی اور میں نے آپ ﷺ سے یہ سوال کیا تھا ، شیطان ہمارے ذہنوں میں جو خیال ڈالتا ہے ‘ کیا چیز اُس سے ہمیں نجات دے سکتی ہے ؟ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا تھا : اس سے تمہیں وہ چیز نجات دے سکتی ہے ‘ کہ تم وہ ( کلمہ ) پڑھو ‘ جو میں نے اپنے چچا کو پڑھنے کے لیے کہا تھا ‘ جب اُن کا انتقال ہونے لگا تھا ، تو انہوں نے ایسا نہیں کیا تھا ‘‘۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ‘ امام احمد نے اس کا ایک حصہ نقل کیا ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ابوحویرث عبدالرحمن بن معاویہ ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ‘ تاہم اکثر اہل علم نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ‘ باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔

85

Majma al-Zawaid #85

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: «قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ أَحَدَنَا يُحَدِّثُ نَفْسَهُ بِالشَّيْءِ الَّذِي لَأَنْ يَخِرَّ مِنَ السَّمَاءِ فَيَتَقَطَّعَ أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْ أَنْ يَتَكَلَّمَ بِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" ذَاكَ مَحْضُ الْإِيمَانِ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا يَزِيدَ بْنَ أَبَانٍ الرَّقَاشِيَّ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Mālik رضي الله عنه said: They said, "O Messenger of Allah, what do you say about one of us who experiences thoughts within himself such that falling from the sky and being dashed to pieces would be more beloved to him than speaking of them?" The Messenger of Allah ﷺ said: > **"That is pure faith."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟ کہ بعض اوقات ہم میں سے کسی ایک کو ایسا خیال آتا ہے کہ اگر وہ آسمان سے گرے اور اس کے ٹکڑے ہو جائیں ‘ تو یہ چیز اُس شخص کے نزدیک اس سے زیادہ پسندیدہ ہو گی کہ وہ اس خیال کے بارے میں کلام کرے ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : یہ محض ایمان ہے ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ‘ اس کے راوی صحیح کے رجال ہیں ‘ صرف یزید بن ابان رقاشی کا معاملہ مختلف ہے ۔

86

Majma al-Zawaid #86

وَعَنْ أَنَسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: «قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا نَكُونُ عِنْدَكَ عَلَى حَالٍ حَتَّى إِذَا فَارَقْنَاكَ نَكُونُ عَلَى غَيْرِهِ. قَالَ: "" كَيْفَ أَنْتُمْ وَنَبِيُّكُمْ؟ "" قَالُوا: أَنْتَ نَبِيُّنَا فِي السِّرِّ وَالْعَلَانِيَةِ. قَالَ: "" لَيْسَ ذَاكَ النِّفَاقَ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ، إِلَّا أَنَّ الْبَزَّارَ قَالَ: «كَيْفَ أَنْتُمْ وَرَبُّكُمْ؟ "" قَالُوا: اللَّهُ رَبُّنَا فِي السِّرِّ وَالْعَلَانِيَةِ». وَرِجَالُ أَبِي يَعْلَى رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Anas رضي الله عنه said: They said, "O Messenger of Allah, when we are in your presence, we are in a certain spiritual state; but when we depart from you, our state changes." He ﷺ asked: > **"How are you with your Prophet?"** They said, "You are our Prophet in secret and in public." He ﷺ said: > **"That is not hypocrisy."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! جب ہم آپ کے پاس ہوتے ہیں ، تو ہماری مخصوص کیفیت ہوتی ہے ‘ اور جب ہم آپ سے جدا ہوتے ہیں ، تو وہ کیفیت تبدیل ہو جاتی ہے ‘ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تمہارا ‘ اپنے نبی کے ساتھ تعلق کیسا ہے ؟ انہوں نے عرض کی : پوشیدہ اور علانیہ ( ہر حال میں ) آپ ﷺ ہمارے نبی ہیں ‘ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : یہ چیز ( یعنی کیفیات کا تبدیل ہونا ) منافقت نہیں ہے ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ‘ تاہم امام بزار کے الفاظ یہ ہیں : ’’ تمہارا اور تمہارے پروردگار کا تعلق کیسا ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : پوشیدہ اور علانیہ ( ہر حال میں ) اللہ تعالی ہمارا پروردگار ہے ‘‘۔ امام ابویعلیٰ کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

87

Majma al-Zawaid #87

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِنَّ الشَّيْطَانَ يَأْتِي أَحَدَكُمْ فَيَقُولُ: مَنْ خَلَقَ السَّمَاءَ؟ فَيَقُولُ: اللَّهُ، فَيَقُولُ: مَنْ خَلَقَ الْأَرْضَ؟ فَيَقُولُ: اللَّهُ، فَيَقُولُ: مَنْ خَلَقَ اللَّهَ؟ فَإِذَا وَجَدَ أَحَدُكُمْ ذَلِكَ فَلْيَقُلْ: آمَنْتُ بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا أَحْمَدَ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ نَافِعٍ الطَّحَّانَ شَيْخَ الطَّبَرَانِيِّ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿAmr رضي الله عنهما said: The Messenger of Allah ﷺ said: > **"Indeed, Satan comes to one of you and says: 'Who created the heaven?' and he says: 'Allah.' Then he says: 'Who created the earth?' and he says: 'Allah.' Then he says: 'Who created Allah?' When any of you encounters that, let him say: 'I believe in Allah and His Messengers (Āmantu billāhi wa rusulih).'"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ شیطان تم میں سے کسی ایک کے پاس آتا ہے ‘ اور کہتا ہے : آسمان کو کس نے پیدا کیا ہے ؟ بندہ کہتا ہے : اللہ تعالٰی نے وہ پوچھتا ہے : زمین کو کس نے پیدا کیا ہے ؟ بندہ کہتا ہے : اللہ تعالیٰ نے ‘ وہ پوچھتا ہے : اللہ تعالیٰ کو کس نے پیدا کیا ہے ؟ ( نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں : ) جب کوئی شخص یہ صورتحال پائے ‘ تو اُسے یہ کہنا چاہیے : میں اللہ تعالٰی اور اُس کے رسولوں پر ایمان رکھتا ہوں ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف احمد بن محمد بن نافع طحان کا معاملہ مختلف ہے ‘ جو امام طبرانی کے استاد ہیں ۔

88

Majma al-Zawaid #88

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «قَالَ رَجُلٌ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: إِنِّي أَجِدُ فِي نَفْسِي الشَّيْءَ لَأَنْ أَكُونَ حُمَمَةً أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَتَكَلَّمَ بِهِ، فَقَالَ: "" ذَاكَ صَرِيحُ الْإِيمَانِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا شَيْخِ الطَّبَرَانِيِّ مُنْتَصِرٍ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما said: A man said to the Prophet ﷺ, "I find thoughts within myself such that turning into charcoal would be more beloved to me than speaking of them." He ﷺ said: > **"That is plain, genuine faith."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں عرض کی : مجھے بعض اوقات ایسا خیال آتا ہے کہ میں کوئلہ بن جاؤں ‘ یہ میرے نزدیک اس سے زیادہ پسندیدہ ہو گا ‘ کہ میں اس خیال کے حوالے سے کلام کروں ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : یہ صریح ایمان ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ‘ صرف مختصر کا معاملہ مختلف ہے ‘ جو امام طبرانی کے استاد ہیں ۔

89

Majma al-Zawaid #89

وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا -: أَنَّهَا «سَمِعَتِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَسَأَلَهُ رَجُلٌ فَقَالَ: إِنِّي أُحَدِّثُ نَفْسِي بِالشَّيْءِ لَوْ تَكَلَّمْتُ بِهِ لَأَحْبَطْتُ آخِرَتِي، فَقَالَ: "" لَا يَلْقَى ذَلِكَ الْكَلَامَ إِلَّا مُؤْمِنٌ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالصَّغِيرِ، وَفِي إِسْنَادِهِ سَيْفُ بْنُ عُمَيْرَةَ، قَالَ الْأَزْدِيُّ: يَتَكَلَّمُونَ فِيهِ.

EnglishUnverified translation

Umm Salamah رضي الله عنها reported that she heard the Prophet ﷺ when a man asked him, saying, "I experience thoughts within myself such that if I spoke of them, I would ruin my Hereafter!" He ﷺ said: > **"None encounters such distress except a believer."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو سنا : ایک شخص نے آپ سے سوال کرتے ہوئے یہ کہا : میرے ذہن میں ایسا خیال آ جاتا ہے ‘ کہ اگر میں اس کے بارے میں کلام کروں ‘ تو میں اپنی آخرت کو برباد کر دوں گا ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اس طرح کی بات ( یعنی وسوسہ ) کا سامنا ‘ صرف مؤمن کرتا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم صغیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی سیف بن عمیرہ ہے ‘ ازدی کہتے ہیں : علماء نے اس کے بارے میں کلام کیا ہے ۔

90

Majma al-Zawaid #90

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي: ابْنَ مَسْعُودٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: «سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ الْوَسْوَسَةِ. فَقَالَ: "" ذَاكَ مَحْضُ الْإِيمَانِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ، وَشَيْخُ الطَّبَرَانِيِّ ثِقَةٌ. وَاللَّهُ أَعْلَمُ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Masʿūd رضي الله عنه said: The Messenger of Allah ﷺ was asked about whispers (waswasah). He ﷺ said: > **"That is pure faith."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ سے وسوسہ کے بارے میں سوال کیا گیا ، تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : یہ محض ایمان ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ‘ امام طبرانی کے استاد بھی ثقہ ہیں ‘ باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔

91

Majma al-Zawaid #91

«وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ إِنَّهُ لَيَعْرِضُ فِي نَفْسِيَ الشَّيْءُ، لَأَنْ أَكُونَ حُمَمَةً أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَتَكَلَّمَ بِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" الْحَمْدُ لِلَّهِ أَنَّ الشَّيْطَانَ قَدْ أَيِسَ أَنْ يُعْبَدَ بِأَرْضِي هَذِهِ، وَلَكِنَّهُ رَضِيَ بِالْمُحَقَّرَاتِ مِنْ أَعْمَالِكُمْ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَهُوَ مِنْ رِوَايَةِ ذَرِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ مُعَاذٍ، وَلَمْ يُدْرِكْهُ.

EnglishUnverified translation

Muʿādh ibn Jabal رضي الله عنه said: I said, "O Messenger of Allah, by the One Who sent you with the truth, a thought occurs in my mind such that burning until I become charcoal would be more beloved to me than speaking of it!" The Messenger of Allah ﷺ said: > **"Praise be to Allah that Satan has despaired of ever being worshipped in this land of mine; but he has become content with the petty shortcomings among your deeds."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اُس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے ، بعض اوقات میرے ذہن میں ایسا خیال پیدا ہوتا ہے ‘ کہ میں جل کر کوئلہ بن جاؤں ‘ یہ میرے نزدیک اس سے زیادہ پسندیدہ ہو گا کہ میں اُس خیال کے بارے میں کلام کروں ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اس بات پر ‘ ہر طرح کی حمد ‘ اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے ‘ کہ شیطان اس بات سے مایوس ہو چکا ہے ‘ کہ اب میری اس سرزمین پر اُس کی عبادت کی جائے ‘ البتہ اب وہ تمہارے اعمال میں سے ‘ معمولی سی چیزوں ( یعنی گناہوں اور کوتاہیوں ) سے بھی راضی ہو جائے گا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ یہ روایت ذر بن عبداللہ نے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے ‘ حالانکہ انہوں نے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔

92

Majma al-Zawaid #92

وَعَنْ عُمَارَةَ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ - أَوِ ابْنِ الْحَسَنِ - عَنْ عَمِّهِ: «أَنَّ النَّاسَ سَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ الْوَسْوَسَةِ الَّتِي يَجِدُهَا أَحَدُهُمْ، لَأَنْ يَسْقُطَ مِنْ عِنْدِ الثُّرَيَّا أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْ أَنْ يَتَكَلَّمَ بِهِ. قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" ذَاكَ صَرِيحُ الْإِيمَانِ، إِنَّ الشَّيْطَانَ يَأْتِي الْعَبْدَ فِيمَا دُونَ ذَلِكَ، فَإِذَا عُصِمَ مِنْهُ وَقَعَ فِيمَا هُنَالِكَ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ أَئِمَّةٌ.

EnglishUnverified translation

ʿUmārah ibn Abī al-Ḥasan (or Ibn al-Ḥasan) reported from his uncle: People asked the Messenger of Allah ﷺ about the whispers that one of them finds within himself, such that falling from the Pleiades (al-Thurayyā) would be more beloved to him than speaking of them. The Messenger of Allah ﷺ said: > **"That is plain, genuine faith. Indeed, Satan comes to the servant with matters less than that; and when he is protected against him, Satan resorts to that extreme."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عمارہ بن ابوالحسن ، یا شاید عمارہ بن حسن ‘ اپنے چچا کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں : لوگوں نے نبی اکرم ﷺ سے اس وسوسہ کے بارے میں دریافت کیا ، جس کا سامنا اُن میں سے کوئی ایک کرتا ہے ‘ کہ اس کا ثریا ستارے سے گر جانا ، اُس شخص کے نزدیک اس سے زیادہ پسندیدہ ہو گا کہ وہ شخص اُس وسوسے کے حوالے سے کلام کرے ‘ راوی بیان کرتے ہیں : تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : یہ صریح ایمان ہے ‘ بیشک شیطان ‘ بندے کے پاس ‘ اس سے کم معاملے کے بارے میں آتا ہے ‘ تو جب وہ اس سے محفوظ ہو جاتا ہے تو پھر کسی دوسرے میں مبتلا ہو جاتا ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے روایت کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ائمہ ہیں ۔

93

Majma al-Zawaid #93

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" لَا يَزَالُ النَّاسُ يَقُولُونَ: كَانَ اللَّهُ قَبْلَ كُلِّ شَيْءٍ، فَمَا كَانَ قَبْلَهُ»؟ "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ - وَلَهُ فِي الصَّحِيحِ حَدِيثٌ غَيْرُ هَذَا - وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه said: The Messenger of Allah ﷺ said: > **"People will continue to say: 'Allah existed before everything, so what existed before Him?'"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم نے ارشاد فرمایا : لوگ مسلسل یہ کہتے رہیں گے ‘ اللہ تعالیٰ ہر چیز سے پہلے تھا ، اس سے پہلے کیا تھا ؟ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ’’ صحیح ‘‘ میں اس راوی کے حوالے سے اس کے علاوہ ایک اور روایت منقول ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

94

Majma al-Zawaid #94

عَنِ ابْنِ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ: «كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَاءَ رَجُلٌ أَقْبَحُ النَّاسِ وَجْهًا، وَأَقْبَحُ النَّاسِ ثِيَابًا، وَأَنْتَنُ النَّاسِ رِيحًا، جِلْفًا جَافِيًا يَتَخَطَّى رِقَابَ النَّاسِ، فَجَلَسَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: مَنْ خَلَقَكَ؟ قَالَ: "" اللَّهُ "". قَالَ: فَمَنْ خَلَقَ السَّمَاءَ؟ قَالَ: "" اللَّهُ "". قَالَ: فَمَنْ خَلَقَ الْأَرْضَ؟ قَالَ: "" اللَّهُ "". قَالَ: فَمَنْ خَلَقَ اللَّهَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" سُبْحَانَ اللَّهِ "" - مَرَّتَيْنِ - وَأَمْسَكَ بِجَبْهَتِهِ، فَقَامَ الرَّجُلُ فَذَهَبَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" عَلَيَّ بِالرَّجُلِ "" فَطَلَبْنَاهُ فَكَأَنَّهُ لَمْ يَكُنْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" هَذَا إِبْلِيسُ جَاءَ يُشَكِّكُكُمْ فِي دِينِكُمْ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِي إِسْنَادِهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمَدِينِيُّ وَالِدُ عَلِيِّ بْنِ الْمَدِينِيِّ، وَقَدْ رَمَاهُ النَّاسُ بِالْوَضْعِ. قُلْتُ: وَتَأْتِي أَحَادِيثُ فِي بَابِ إِبْلِيسَ وَجُنُودِهِ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿUmar رضي الله عنهما said: We were with the Messenger of Allah ﷺ when there came a man who had the ugliest of faces, the foulest of garments, and the most putrid odor, rough and crude, stepping over the necks of the people until he sat directly before the Messenger of Allah ﷺ. He asked, "Who created you?" He ﷺ said: > **"Allah."** He asked, "Then who created the heaven?" He ﷺ said: > **"Allah."** He asked, "Then who created the earth?" He ﷺ said: > **"Allah."** He asked, "Then who created Allah?" The Messenger of Allah ﷺ said: > **"Subḥān Allāh (Glory be to Allah)!"** — twice, and he grasped his forehead. Then the man stood up and departed. The Messenger of Allah ﷺ said: > **"Bring the man back to me!"** So we searched for him, but it was as though he had never existed. The Messenger of Allah ﷺ said: > **"That was Iblīs; he came to cast doubt into your religion."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ہم نبی اکرم ﷺ کے پاس موجود تھے ‘ اسی دوران ایک شخص آیا جس کا چہرہ انتہائی بدصورت تھا ‘ اور اُس کا لباس بھی انتہائی برا تھا ‘ وہ انتہائی بدبودار تھا اور وہ بازو پھیلا کر چل رہا تھا ‘ وہ لوگوں کی گرد نیں پھلانگتا ہوا ‘ آ کر نبی اکرم ﷺ کے سامنے بیٹھ گیا ، اس نے دریافت کیا : آپ کو کس نے پیدا کیا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے جواب دیا : اللہ تعالیٰ نے ‘ اُس نے دریافت کیا : آسمان کو کس نے پیدا کیا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ‘ جواب دیا : اللہ تعالی نے ‘ اس نے دریافت کیا : زمین کو کس نے پیدا کیا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے جواب دیا : اللہ تعالیٰ نے ‘ اُس نے دریافت کیا : اللہ تعالیٰ کو کس نے پیدا کیا ہے ؟ تو نبی اکرم ﷺ نے دو مرتبہ سبحان اللہ کہا ‘ اور اپنی پیشانی کو پکڑ لیا ‘ ( یا شاید اُس کی پیشانی کو پکڑ لیا ) وہ شخص اُٹھا اور چلا گیا ، نبی کریم نے فرمایا : اس شخص کو میرے پاس لے کر آؤ ! راوی کہتے ہیں : ہم نے اُسے تلاش کیا ، لیکن وہ یوں ہو گیا ‘ جیسے وہ تھا ہی نہیں ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : یہ ابلیس تھا ‘ جو تمہارے دین کے بارے میں تمہیں شک کا شکار کرنے کے لئے آیا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن جعمر مدینی ہے ‘ جو علی بن مدینی کے والد ہیں ‘ لوگوں نے اُن پر حدیث ایجاد کرنے کا الزام لگایا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی کہتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ( اس نوعیت کی دوسری ) احادیث ‘ شیطان اور اُس کے لشکروں سے متعلق باب میں آئیں گی ۔

95

Majma al-Zawaid #95

عَنِ ابْنِ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" لَا يُقْبَلُ إِيمَانٌ بِلَا عَمَلٍ، وَلَا عَمَلٌ بِلَا إِيمَانٍ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِي إِسْنَادِهِ سَعِيدُ بْنُ زَكَرِيَّا، وَاخْتُلِفَ فِي ثِقَتِهِ وَجَرْحِهِ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿUmar رضي الله عنهما said: The Messenger of Allah ﷺ said: > **"Faith is not accepted without deeds, nor are deeds accepted without faith."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہا بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ عمل کے بغیر ‘ ایمان قبول نہیں ہو گا ‘ نہ ہی ایمان کے بغیر ‘ عمل قبول ہو گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سعید بن زکریا ہے ‘ اس کے ثقہ یا مجروح ہونے کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے ۔

96

Majma al-Zawaid #96

«عَنْ عَمْرِو بْنِ عَوْفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: حَفِظْتُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - اثْنَيْ عَشَرَ أَصْلًا مِنْ أُصُولِ الدِّينِ». وَفِي إِسْنَادِهِ كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، وَهُوَ ضَعِيفُ الْحَدِيثِ.

EnglishUnverified translation

ʿAmr ibn ʿAwf ibn ʿAbdillāh al-Muzanī رضي الله عنه said: "I learned and memorized twelve fundamental principles of the religion from the Messenger of Allah ﷺ."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمرو بن عوف بن عبداللہ مزنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ سے ( سن کر یا سیکھ کر ) دین کے بارہ اُصول یاد کیے تھے ۔ اس کی سند میں ‘ ایک راوی کثیر بن عبداللہ ہے اور وہ ضعیف الحدیث ہے ۔

97

Majma al-Zawaid #97

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِنَّ بَيْنَ يَدَيِ الرَّحْمَنِ لَلَوْحًا فِيهِ ثَلَاثُمِائَةٍ وَخَمْسَ عَشْرَةَ شَرِيعَةً، يَقُولُ الرَّحْمَنُ - عَزَّ وَجَلَّ -: وَعِزَّتِي وَجَلَالِي، لَا يَأْتِي عَبْدٌ مِنْ عِبَادِي لَا يُشْرِكُ بِي شَيْئًا فِيهِ وَاحِدَةٌ مِنْهَا إِلَّا دَخَلَ الْجَنَّةَ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِي إِسْنَادِهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَاشِدٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Saʿīd al-Khudrī رضي الله عنه said: The Messenger of Allah ﷺ said: > **"Indeed, before the Most Merciful (al-Raḥmān) is a Tablet containing three hundred and fifteen pathways of divine law (sharīʿah). The Most Merciful, Mighty and Majestic is He, says: 'By My Might and My Majesty! No servant among My servants comes to Me, associating nothing with Me and having fulfilled even one of them, except that he enters Paradise.'"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ رحمان کے سامنے ایک لوح موجود ہے ، جس میں تین سو پندرہ شریعتیں ہیں ، رحمان فرماتا ہے : مجھے اپنی عزت و جلال کی قسم ہے ! میرے بندوں میں سے ‘ جو بھی بندہ کسی کو میرا شریک نہیں ٹھہراتا ہو گا ‘ تو وہ ان میں سے ‘ جس کسی پر بھی عمل پیرا ہو گا ‘ وہ جنت میں داخل ہو جائے گا “۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن راشد ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

98

Majma al-Zawaid #98

وَعَنْ عُبَيْدٍ - وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ - «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" الْإِيمَانُ ثَلَاثُمِائَةٍ وَثَلَاثُونَ شَرِيعَةً، مَنْ وَافَى بِشَرِيعَةٍ مِنْهُنَّ دَخَلَ الْجَنَّةَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِي إِسْنَادِهِ عِيسَى بْنُ سِنَانٍ الْقَسْمَلِيُّ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَابْنُ خِرَاشٍ وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُبَيْدٍ لَمْ أَرَ مَنْ ذَكَرَهُ.

EnglishUnverified translation

ʿUbayd رضي الله عنه—who had the honor of companionship with the Prophet ﷺ—reported that the Prophet ﷺ said: > **"Faith comprises three hundred and thirty pathways of divine law; whoever fulfills any single pathway among them shall enter Paradise."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبید رضی اللہ عنہ ، جنہیں صحابی ہونے کا شرف حاصل ہے ‘ اُن کے حوالے سے نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان منقول ہے : ’’ ایمان کی تین سو تیس شریعتیں ہیں ، جو شخص اُن میں سے ‘ جس شریعت کو پورا کرے گا ‘ وہ جنت میں داخل ہو گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عیسیٰ بن سنان قسملی ہے ‘ جسے ابن حبان اور ابن خراش نے ثقہ قرار دیا ہے ‘ اور جمہور نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ‘ جبکہ عبدالرحمن بن عبید نامی راوی کے بارے میں ، میں نے کسی کو ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ۔

99

Majma al-Zawaid #99

وَعَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِنَّ لِلَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - مِائَةَ خُلُقٍ وَسِتَّةَ عَشَرَ خُلُقًا، مَنْ أَتَاهُ بِخُلُقٍ مِنْهَا دَخَلَ الْجَنَّةَ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى فِي الْمُسْنَدِ الْكَبِيرِ. وَفِي رِوَايَةٍ أُخْرَى: "" «مِائَةَ خُلُقٍ وَسَبْعَةَ عَشَرَ خُلُقًا» "". وَفِي إِسْنَادِهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَاشِدٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ. وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ مِنْ طَرِيقِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَاشِدٍ، وَقَالَ: «مِائَةً وَسَبْعَ عَشْرَةَ شَرِيعَةً» "".

EnglishUnverified translation

ʿUthmān ibn ʿAffān رضي الله عنه said: The Messenger of Allah ﷺ said: > **"Indeed, to Allah, Mighty and Majestic is He, belong one hundred and sixteen noble character traits; whoever comes to Him having embodied even one of them shall enter Paradise."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ اللہ تعالی کے ( مقرر کردہ ‘ یا پسندیدہ ) ایک سو سولہ اخلاق ہیں ، جو شخص اُن میں سے کسی ایک پر عمل پیرا ہو گا ‘ وہ جنت میں داخل ہو گا ‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے ” مسند کبیر ‘‘ میں نقل کی ہے ‘ ایک اور روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” ایک سو سترہ ‘ اخلاق ہیں “ ۔ اس کی سند میں موجود ایک راوی عبداللہ بن راشد ہے اور وہ ضعیف ہے ‘ امام بزار نے یہ روایت عبداللہ بن راشد کے حوالے سے نقل کی ہیں اور یہ الفاظ نقل کئے ہیں :” ایک سو سترہ شریعتیں “۔

100

Majma al-Zawaid #100

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِنَّ لِلَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - لَوْحًا مِنْ زَبَرْجَدَةٍ خَضْرَاءَ تَحْتَ الْعَرْشِ، كَتَبَ فِيهِ: أَنَا اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنَا أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ، خَلَقْتُ بِضْعَةَ عَشَرَ وَثَلَاثَمِائَةِ خُلُقٍ، مَنْ جَاءَ بِخُلُقٍ مِنْهَا مَعَ شَهَادَةِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ أُدْخِلَ الْجَنَّةَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِي إِسْنَادِهِ أَبُو ظِلَالٍ الْقَسْمَلِيُّ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَالْأَكْثَرُ عَلَى تَضْعِيفِهِ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Mālik رضي الله عنه said: The Messenger of Allah ﷺ said: > **"Indeed, to Allah, Mighty and Majestic is He, belongs a Tablet of green chrysolite beneath the Throne, upon which He has inscribed: 'I am Allah, there is no deity worthy of worship except Me, the Most Merciful of the merciful. I have created over three hundred and ten noble character traits; whoever comes with even one of them along with the testimony that there is no deity worthy of worship except Allah shall be admitted into Paradise.'"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ عرش کے نیچے موجود ‘ سبز زبرجد سے بنی ہوئی ‘ اللہ تعالیٰ کی ایک لوح ہے ‘ جس میں اُس نے یہ تحریر کیا ہے : میں اللہ ہوں ، میرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ‘ میں سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہوں میں نے تین سو دس سے کچھ زیادہ اخلاق پیدا کیے ہیں ، جو شخص لا الہ الا اللہ کی گواہی کے ہمراہ ‘ ان میں سے کوئی ایک اخلاق لے کر آئے گا ‘ میں اُسے جنت میں داخل کر دوں گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ابو ظلال قسملی ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ‘ جبکہ زیادہ تر حضرات نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔

101

Majma al-Zawaid #101

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - «عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" الْإِسْلَامُ ثَلَاثُمِائَةِ شَرِيعَةٍ وَثَلَاثَ عَشْرَةَ شَرِيعَةً، لَيْسَ مِنْهَا شَرِيعَةٌ يَلْقَى اللَّهَ بِهَا صَاحِبُهَا إِلَّا وَهُوَ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِإِسْنَادٍ فِيهِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زَحْرٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما narrated that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Islam consists of three hundred and thirteen pathways; there is not a single pathway among them with which a person meets Allah except that he will enter Paradise."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہا نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ اسلام کی تین سو تیرہ شریعتیں ہیں ‘ ان میں سے ہر ایک شریعت کا یہ عالم ہے کہ جو بھی شخص اس شریعت کے ہمراہ ‘ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو گا ‘ وہ شخص جنت میں داخل ہو گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ جو ایسی سند کے ساتھ منقول ہے ، جس میں عبیداللہ بن زحر نامی راوی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

102

Majma al-Zawaid #102

وَعَنْ عُبَيْدٍ - وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ - قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" الْإِيمَانُ ثَلَاثُمِائَةٍ وَثَلَاثُونَ شَرِيعَةً، مَنْ وَافَى بِوَاحِدَةٍ مِنْهَا دَخَلَ الْجَنَّةَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِي إِسْنَادِهِ مَجَاهِيلُ، وَالْمِنْهَالُ بْنُ بَحْرٍ وَأَبُو سِنَانٍ.

EnglishUnverified translation

ʿUbayd رضي الله عنه — who was honored with companionship of the Prophet ﷺ — said that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Faith consists of three hundred and thirty pathways; whoever fulfills any one of them shall enter Paradise."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبید رضی اللہ عنہ ‘ انہیں صحابی ہونے کا شرف حاصل ہے ‘ اُن کے حوالے سے نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان منقول ہے : ” ایمان کی تین سو تیس شریعتیں ہیں ، جو شخص اُن میں سے کسی ایک پر عمل کرے گا ‘ وہ جنت میں داخل ہو گا “۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں مجہول راوی پائے جاتے ہیں ، جیسے منہال بن بحر اور ابو سنان ۔

103

Majma al-Zawaid #103

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - «عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" الْإِيمَانُ بِضْعٌ وَسَبْعُونَ شُعْبَةً، أَرْفَعُهَا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَدْنَاهَا إِمَاطَةُ الْأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُ إِسْنَادِهِ مَسْتُورُونَ. وَاللَّهُ أَعْلَمُ.

EnglishUnverified translation

Abū Saʿīd al-Khudrī رضي الله عنه narrated that the Prophet ﷺ said: > **"Faith has seventy-odd branches: the highest of them is [the declaration that] there is no deity worthy of worship except Allah, and the lowest of them is removing a harmful object from the path."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ ایمان کے ستر سے کچھ زیادہ شعبے ہیں ، جن میں سب سے بلند تر لا الہ الا اللہ پڑھنا ہے ‘ اور سب سے معمولی ( شعبہ ) راستے سے تکلیف دہ چیز کو ہٹانا ہے ""۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ جس کی سند کے افراد مستور ہیں ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔

104

Majma al-Zawaid #104

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" الْإِسْلَامُ عَشَرَةُ أَسْهُمٍ - وَقَدْ خَابَ مَنْ لَا سَهْمَ لَهُ -: شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَهِيَ الْمِلَّةُ. وَالثَّانِيَةُ: الصَّلَاةُ، وَهِيَ الْفِطْرَةُ. وَالثَّالِثَةُ: الزَّكَاةُ، وَهِيَ الطُّهْرَةُ. وَالرَّابِعَةُ: الصَّوْمُ، وَهِيَ الْجُنَّةُ. وَالْخَامِسَةُ: الْحَجُّ، وَهِيَ الشَّرِيعَةُ. وَالسَّادِسَةُ: الْجِهَادُ، وَهِيَ الْعُرَدَةُ. وَالسَّابِعَةُ: الْأَمْرُ بِالْمَعْرُوفِ، وَهُوَ الْوَفَاءُ. وَالثَّامِنَةُ: النَّهْيُ عَنِ الْمُنْكَرِ، وَهِيَ الْحُجَّةُ. وَالتَّاسِعَةُ: الْجَمَاعَةُ، وَهِيَ الْأُلْفَةُ. وَالْعَاشِرَةُ: الطَّاعَةُ، وَهِيَ الْعِصْمَةُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ، وَفِي إِسْنَادِهِ حَامِدُ بْنُ آدَمَ، مَشْهُورٌ بِوَضْعِ الْحَدِيثِ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما said: The Messenger of Allah ﷺ said: > **"Islam consists of ten shares — and ruined is he who has no share in it: testifying that there is no deity worthy of worship except Allah, which is the foundational creed; the second is prayer, which is the innate nature; the third is zakāh, which is purification; the fourth is fasting, which is a protective shield; the fifth is Ḥajj, which is the divine ordinance; the sixth is jihād, which is fortitude and strength; the seventh is enjoining good, which is loyalty and fulfillment; the eighth is forbidding wrong, which is the conclusive proof; the ninth is the unified community, which is harmony and affection; and the tenth is obedience, which is protection and inviolability."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے :’’ اسلام کے دس حصے ہیں اور وہ شخص رُسوا ہو گیا ، ‘ جس کا ان میں سے کوئی بھی حصہ نہ ہو ‘ اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے یہ چیز ملت ہے ‘ دوسری ( چیز ) نماز ہے اور یہ فطرت ہے ‘ تیسری چیز زکوۃ ہے اور یہ پاکیزگی ہے ‘ چوتھی چیز روزہ ہے ‘ اور یہ ڈھال ہے ‘ پانچویں چیز حج ہے اور یہ مخصوص طریقہ ہے ، چھٹی چیز جہاد ہے اور یہ مضبوط پشت ہے ساتویں چیز نیکی کا حکم دینا ہے اور یہ وفا ہے ‘ پانچویں چیز برائی سے منع کرنا ہے ‘ اور یہ حجت ہے نویں چیز جماعت ہے اور یہ الفت ہے ‘ دسویں چیز اطاعت ہے اور یہ بچاؤ ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی حامد بن آدم ہے ‘ جو حدیث ایجاد کرنے کے حوالے سے معروف ہے ۔

105

Majma al-Zawaid #105

وَعَنْ عَائِشَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" ثَلَاثٌ أَحْلِفُ عَلَيْهِنَّ: لَا يَجْعَلُ اللَّهُ مَنْ لَهُ سَهْمٌ فِي الْإِسْلَامِ كَمَنْ لَا سَهْمَ لَهُ - وَأَسْهُمُ الْإِسْلَامِ ثَلَاثَةٌ: الصَّلَاةُ وَالصَّوْمُ وَالزَّكَاةُ - وَلَا يَتَوَلَّى اللَّهَ عَبْدٌ فِي الدُّنْيَا فَيُوَلِّيهِ غَيْرَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَلَا يُحِبُّ الرَّجُلُ قَوْمًا إِلَّا جَعَلَهُ اللَّهُ مَعَهُمْ، وَالرَّابِعَةُ: لَوْ حَلَفْتُ عَلَيْهَا لَرَجَوْتُ أَنْ لَا آثَمَ: لَا يَسْتُرُ اللَّهُ عَبْدًا فِي الدُّنْيَا إِلَّا سَتَرَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ، وَرَوَاهُ أَبُو يَعْلَى أَيْضًا.

EnglishUnverified translation

ʿĀʾishah رضي الله عنها narrated that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"There are three matters concerning which I swear: Allah will never treat one who has a share in Islam like one who has no share — and the foundational shares of Islam are three: prayer, fasting, and zakāh; no servant takes Allah as his Protector in this world and then Allah entrusts him to another on the Day of Resurrection; and no person loves a people except that Allah joins him with them. And as for the fourth, were I to swear upon it, I hope I would not sin: Allah does not conceal the faults of a servant in this world except that He will conceal them on the Day of Resurrection."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں : ’’ تین چیزوں پر میں حلف اُٹھا سکتا ہوں ، جس شخص کا اسلام میں کوئی حصہ ہو ‘ اللہ تعالی نے اُسے اس شخص کی مانند نہیں کیا ہے جس کا ( اسلام میں ) کوئی حصہ نہ ہو ‘ اور اسلام کے تین حصے ہیں ‘ نماز ‘ روزہ اور زکوۃ ( دوسری بات یہ ہے : ) اللہ تعالیٰ دنیا میں جس بندے کو دوست رکھتا ہے ‘ تو قیامت کے دن اُسے کسی اور کے سپرد نہیں کرے گا ‘ اور ( تیسری بات یہ ہے : ) آدمی جب کسی قوم سے محبت رکھتا ہو گا ‘ تو اللہ تعالیٰ اُسے ان لوگوں کے ساتھ کر دے گا ‘ اور اگر ایک چوتھی بات پر میں حلف اٹھاؤں ‘ تو مجھے امید ہے کہ میں گناہ گار نہیں ہوؤں گا ‘ ( اور وہ یہ ہے : کہ ) اللہ تعالی دنیا میں جس بندے کی پردہ پوشی کرتا ہے ‘ تو قیامت کے دن بھی اُس کی پردہ پوشی کرے گا ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے بھی نقل کی ہے ۔

106

Majma al-Zawaid #106

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ بِمِثْلِهِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Masʿūd رضي الله عنه narrated similar from the Prophet ﷺ: > **"There are three matters concerning which I swear: Allah will never treat one who has a share in Islam like one who has no share; no servant takes Allah as his Protector in this world and then Allah entrusts him to another on the Day of Resurrection; and no servant loves a people except that Allah joins him with them. And as for the fourth, were I to swear upon it, I hope I would not sin: Allah does not conceal the faults of a servant in this world except that He will conceal them on the Day of Resurrection."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے ‘ اس کی مانند روایت نقل کی ہے ۔

107

Majma al-Zawaid #107

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ،: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" ثَلَاثٌ لَوْ حَلَفْتُ عَلَيْهِنَّ لَبَرَرْتُ، وَالرَّابِعَةُ لَوْ حَلَفْتُ عَلَيْهَا رَجَوْتُ أَنْ لَا آثَمَ: لَا يَجْعَلُ اللَّهُ مَنْ لَهُ سَهْمٌ فِي الْإِسْلَامِ كَمَنْ لَا سَهْمَ لَهُ، وَلَا يَتَوَلَّى اللَّهُ عَبْدَهُ فِي الدُّنْيَا فَيُوَلِّيهِ غَيْرَهُ فِي الْآخِرَةِ، وَلَا يُحِبُّ عَبْدٌ قَوْمًا إِلَّا بَعَثَهُ اللَّهُ مَعَهُمْ [وَبَيْنَهُمْ]، وَالرَّابِعَةُ: لَا يَسْتُرُ اللَّهُ عَلَى عَبْدٍ فِي الدُّنْيَا إِلَّا سَتَرَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْمَعَادِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ فَضَالُ بْنُ جُبَيْرٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Umāmah رضي الله عنه said: The Messenger of Allah ﷺ said: > **"There are three matters concerning which, if I were to swear, I would certainly be truthful; and as for the fourth, if I were to swear upon it, I hope I would not sin: Allah will never treat one who has a share in Islam like one who has no share; Allah will never be the Protector of His servant in this world and then entrust him to another in the Hereafter; no servant loves a people except that Allah will resurrect him alongside them [and among them]; and the fourth: Allah does not conceal the faults of a servant in this world except that Allah will conceal them on the Day of Return."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ تین چیزوں کے بارے میں ‘ اگر میں قسم اٹھا لوں تو میں سچا ہوؤں گا ‘ اور اگر چوتھی بات کے بارے میں بھی قسم اٹھا لوں ‘ تو مجھے امید ہے کہ میں گناہ گار نہیں ہوؤں گا ( پہلی بات یہ ہے : ) جس شخص کا اسلام میں کوئی حصہ ہو ‘ اللہ تعالٰی نے اُسے اس شخص کی مانند نہیں کیا ہے ‘ جس کا اسلام میں کوئی حصہ نہ ہو ( دوسری بات یہ ہے : ) اللہ تعالیٰ جس بندے کو دنیا میں دوست بنا لے ‘ تو وہ آخرت میں اُس بندے کو کسی اور کے سپرد نہیں کرے گا ‘ ( تیسری بات یہ ہے : ) جب بندہ کسی قوم سے محبت رکھتا ہے ‘ تو اللہ تعالیٰ اسے اُن لوگوں کے ہمراہ ( اور اُن کے درمیان ) دوبارہ زندہ کرے گا ‘ ( چوتھی بات یہ ہے : ) کہ اللہ تعالیٰ دنیا میں ، جس بندے کی پردہ پوشی کرتا ہے ‘ تو قیامت کے دن بھی اللہ تعالیٰ اُس کی پردہ پوشی کرے گا “۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس میں ایک راوی فضال بن جبیر ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

108

Majma al-Zawaid #108

وَعَنْ عَلِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - «عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" الْإِسْلَامُ ثَمَانِيَةُ أَسْهُمٍ: الْإِسْلَامُ سَهْمٌ، وَالصَّلَاةُ سَهْمٌ، وَالزَّكَاةُ سَهْمٌ، وَالْحَجُّ سَهْمٌ، وَالْجِهَادُ سَهْمٌ، وَصَوْمُ رَمَضَانَ سَهْمٌ، وَالْأَمْرُ بِالْمَعْرُوفِ سَهْمٌ، وَالنَّهْيُ عَنِ الْمُنْكَرِ سَهْمٌ، وَقَدْ خَابَ مَنْ لَا سَهْمَ لَهُ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِي إِسْنَادِهِ الْحَارِثُ، وَهُوَ كَذَّابٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAlī رضي الله عنه narrated that the Prophet ﷺ said: > **"Islam consists of eight shares: Islam [the testimony of faith] is a share, prayer is a share, zakāh is a share, Ḥajj is a share, jihād is a share, the fast of Ramadan is a share, enjoining good is a share, and forbidding wrong is a share. And ruined indeed is he who has no share in it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں :’’ اسلام کے آٹھ حصے ہیں ، اسلام ( یعنی کلمہ شہادت ) ایک حصہ ہے ‘ نماز ایک حصہ ہے ‘ زکوۃ ایک حصہ ہے ‘ حج ایک حصہ ہے ، جہاد ایک حصہ ہے ‘ رمضان کے روزے ایک حصہ ہے ‘ نیکی کا حکم دینا ایک حصہ ہے ‘ برائی سے منع کرنا ایک حصہ ہے ‘ وہ شخص رسوا ہو گیا ، جس کا ( اِن میں سے ) کوئی حصہ نہ ہو ‘‘۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی حارث ہے اور وہ کذاب ہے ۔

109

Majma al-Zawaid #109

وَعَنْ حُذَيْفَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - «عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" الْإِسْلَامُ ثَمَانِيَةُ أَسْهُمٍ: الْإِسْلَامُ سَهْمٌ، وَالصَّلَاةُ سَهْمٌ، وَالزَّكَاةُ سَهْمٌ، وَحَجُّ الْبَيْتِ سَهْمٌ، وَالصِّيَامُ سَهْمٌ، وَالْأَمْرُ بِالْمَعْرُوفِ سَهْمٌ، وَالنَّهْيُ عَنِ الْمُنْكَرِ سَهْمٌ، وَالْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ سَهْمٌ، وَقَدْ خَابَ مَنْ لَا سَهْمَ لَهُ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ عَطَاءٍ، وَثَّقَهُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ḥudhayfah رضي الله عنه narrated that the Prophet ﷺ said: > **"Islam consists of eight shares: Islam [the testimony of faith] is a share, prayer is a share, zakāh is a share, pilgrimage to the House is a share, fasting is a share, enjoining good is a share, forbidding wrong is a share, and jihād in the cause of Allah is a share. And ruined indeed is he who has no share in it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں :’’ اسلام کے آٹھ حصے ہیں ‘ اسلام ( یعنی کلمہ شہادت ) ایک حصہ ہے ‘ نماز ایک حصہ ہے ‘ زکوۃ ایک حصہ ہے ‘ بیت اللہ کا حج ایک حصہ ہے ‘ روزے رکھنا ایک حصہ ہے ‘ نیکی کا حکم دینا ایک حصہ ہے ‘ برائی سے منع کرنا ایک حصہ ہے ‘ اللہ کی راہ میں جہاد کرنا ایک حصہ ہے ‘ تحقیق وہ شخص خسارے کا شکار ہو گیا ، جس کا ( ان میں سے ) کوئی حصہ نہ ہو ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی یزید بن عطاء ہے ‘ جسے امام احمد اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ‘ لیکن ایک جماعت نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ‘ اس روایت کے باقی راوی ثقہ ہیں ۔

110

Majma al-Zawaid #110

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: ثَلَاثٌ لَوْ حَلَفْتُ عَلَيْهِنَّ، فَذَكَرَهُ مَوْقُوفًا، وَإِسْنَادُهُ مُنْقَطِعٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Masʿūd رضي الله عنه said: > **"There are three matters concerning which, if I were to swear, I would certainly be truthful: Allah will not treat one who has a share in Islam like one who has no share; Allah will not protect a servant in this world and then entrust him to another in the Hereafter; and no servant loves a people except that Allah will join him with them on the Day of Resurrection."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : تین باتیں ہیں ، جن پر میں قسم اٹھا سکتا ہوں . ....... اس کے بعد مصنف نے اسے موقوف روایت کے طور پر نقل کیا ہے ‘ اور اس کی سند منقطع ہے ۔

111

Majma al-Zawaid #111

وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - «عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" إِنَّ لِلْإِسْلَامِ ضَوْءًا وَعَلَامَاتٍ كَمَنَارِ الطَّرِيقِ. وَرَأْسُهُ وَجِمَاعُهُ شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، وَإِقَامُ الصَّلَاةِ، وَإِيتَاءُ الزَّكَاةِ، وَتَمَامُ الْوُضُوءِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ.

EnglishUnverified translation

Abū al-Dardāʾ رضي الله عنه narrated that the Prophet ﷺ said: > **"Indeed, Islam possesses radiance and landmarks like guiding beacons along the road. Its apex and its comprehensive essence are testifying that there is no deity worthy of worship except Allah and that Muḥammad is His slave and Messenger, establishing the prayer, paying zakāh, and performing ablution thoroughly."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ اسلام کی مخصوص روشنی اور علامات ہیں ‘ جس طرح راستے میں مینار ہوتا ہے ‘ اس کا سرا اور مجموعہ اس بات کی گواہی دینا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ‘ اور حضرت محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں اور نماز قائم کرنا ‘ زکوٰۃ دینا اور مکمل وضو کرنا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔

112

Majma al-Zawaid #112

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ: «جَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَجْلِسًا فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَجَلَسَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَاضِعًا كَفَّيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، حَدِّثْنِي عَنِ الْإِسْلَامِ. قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" الْإِسْلَامُ أَنْ تُسْلِمَ وَجْهَكَ لِلَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - وَأَنْ تَشْهَدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ""، قَالَ: فَإِذَا فَعَلْتُ ذَلِكَ فَقَدْ أَسْلَمْتُ؟ قَالَ: "" فَإِذَا فَعَلْتَ ذَلِكَ فَقَدْ أَسْلَمْتَ ""، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ حَدِّثْنِي عَنِ الْإِيمَانِ قَالَ: "" الْإِيمَانُ أَنْ تُؤْمِنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالْكِتَابِ وَالنَّبِيِّينَ وَالْمَوْتِ وَالْحَيَاةِ بَعْدَ الْمَوْتِ، وَتُؤْمِنَ بِالْجَنَّةِ وَالنَّارِ وَالْحِسَابِ وَالْمِيزَانِ، وَتُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ كُلِّهِ خَيْرِهِ وَشَرِّهِ "". قَالَ: فَإِذَا فَعَلْتُ ذَلِكَ فَقَدْ آمَنْتُ؟ قَالَ: "" فَإِذَا فَعَلْتَ ذَلِكَ فَقَدْ آمَنْتَ "" قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ حَدِّثْنِي: مَا الْإِحْسَانُ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" الْإِحْسَانُ أَنْ تَعْمَلَ لِلَّهِ كَأَنَّكَ تَرَاهُ، فَإِنْ لَا تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ "". قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ حَدِّثْنِي: مَتَى السَّاعَةُ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" سُبْحَانَ اللَّهِ! خَمْسٌ مِنَ الْغَيْبِ لَا يَعْلَمُهُنَّ إِلَّا اللَّهُ: إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ، وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ، وَيَعْلَمُ مَا فِي الْأَرْحَامِ، وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَاذَا تَكْسِبُ غَدًا، وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ، إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ. وَلَكِنْ إِنْ شِئْتَ حَدَّثْتُكَ بِمَعَالِمَ لَهَا دُونَ ذَلِكَ "". قَالَ: أَجَلْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَحَدِّثْنِي، قَالَ: قَالَ: "" إِذَا رَأَيْتَ الْأَمَةَ وَلَدَتْ رَبَّتَهَا - أَوْ رَبَّهَا - وَرَأَيْتَ أَصْحَابَ الْبُنْيَانِ يَتَطَاوَلُونَ بِالْبُنْيَانِ، وَرَأَيْتَ الْحُفَاةَ الْجِيَاعَ الْعَالَةَ كَانُوا رُءُوسَ النَّاسِ - فَذَلِكَ مِنْ مَعَالِمِ السَّاعَةِ وَمِنْ أَشْرَاطِهَا "". قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَنْ أَصْحَابُ الْبُنْيَانِ الْحُفَاةُ الْجِيَاعُ الْعَالَةُ؟ قَالَ: "" الْعَرِيبُ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ، إِلَّا أَنَّ فِي الْبَزَّارِ: «أَنَّ جِبْرِيلَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي هَيْئَةِ رَجُلٍ شَاحِبٍ مُسَافِرٍ». وَفِي إِسْنَادِ أَحْمَدَ شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما said: The Messenger of Allah ﷺ was sitting in a gathering when Gabriel عليه السلام came to him and sat down before the Messenger of Allah ﷺ, placing the palms of his hands upon the knees of the Messenger of Allah ﷺ. He said, "O Messenger of Allah, tell me about Islam." The Messenger of Allah ﷺ said: > **"Islam is that you surrender your face [your entire being] to Allah, Mighty and Majestic, and testify that there is no deity worthy of worship except Allah alone, without partner, and that Muḥammad is His slave and His Messenger."** He asked, "If I do that, have I embraced Islam?" He ﷺ said: > **"If you do that, you have embraced Islam."** He asked, "O Messenger of Allah, tell me about faith (Īmān)." He ﷺ said: > **"Faith is that you believe in Allah, the Last Day, the angels, the Scripture, the Prophets, death, life after death, and that you believe in Paradise, the Fire, the Reckoning, the Scale, and that you believe in the divine decree entirely, both the good of it and the evil of it."** He asked, "If I do that, have I believed?" He ﷺ said: > **"If you do that, you have believed."** He asked, "O Messenger of Allah, tell me: what is excellence (Iḥsān)?" The Messenger of Allah ﷺ said: > **"Excellence is that you act for Allah as though you see Him, for even if you do not see Him, He surely sees you."** He asked, "O Messenger of Allah, tell me: when is the Hour?" The Messenger of Allah ﷺ said: > **"Glory be to Allah! Five matters belong to the unseen, which none knows except Allah: {Indeed, with Allah alone is knowledge of the Hour; He sends down the rain, and He knows what is in the wombs. No soul knows what it will earn tomorrow, and no soul knows in what land it will die. Indeed, Allah is All-Knowing, All-Aware} [Luqmān: 34]. However, if you wish, I can inform you of signs that will occur before it."** He said, "Yes, O Messenger of Allah, tell me." He ﷺ said: > **"When you see the female slave give birth to her mistress — or her master — and you see the builders competing in constructing lofty buildings, and you see the barefoot, hungry, impoverished destitute become the leaders of the people — then those are among the signs of the Hour and its portents."** He asked, "O Messenger of Allah, who are the barefoot, hungry, impoverished destitute builders?" He ﷺ said: > **"The Arab bedouins."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ ایک محفل میں تشریف فرما تھے ‘ حضرت جبرائیل علیہ السلام آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے ‘ اور اللہ کے رسول ﷺ کے سامنے بیٹھ گئے ‘ انہوں نے اپنی دونوں ہتھیلیاں ‘ نبی اکرم ﷺ کے گھٹنوں پر رکھ دیں ‘ اور بولے : یا رسول اللہ ! آپ مجھے اسلام کے بارے میں بتائیے ! نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اسلام یہ ہے کہ تم اپنے آپ کو اللہ کے سپرد کر دو ‘ اور تم اس بات کی گواہی دو کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ‘ صرف وہی ایک معبود ہے ‘ اُس کا کوئی شریک نہیں ہے ‘ اور بے شک حضرت محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں ‘ انہوں نے دریافت کیا : جب میں ایسا کر لوں گا ‘ تو میں مسلمان ہو جاؤں گا ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جب تم ایسا کرو گے ‘ تو تم مسلمان ہو گے ‘ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے ایمان کے بارے میں بتائیے ! نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ایمان یہ ہے کہ تم اللہ تعالیٰ آخرت کے دن ‘ فرشتوں ‘ کتاب ‘ انبیاء ‘ موت ‘ موت کے بعد کی زندگی پر ایمان رکھو ‘ اور تم جنت ، جہنم ‘ حساب اور میزان پر ایمان رکھو ‘ اور تم ہر قسم کی اچھی یا بری تقدیر پر ایمان رکھو ‘ انہوں نے عرض کی : جب میں ایسا کروں گا ‘ تو کیا میں مؤمن ہوؤں گا ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جب تم ایسا کرو گے تو تم مؤمن ہو گے ‘ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے بتائیے ‘ احسان سے کیا مراد ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : احسان سے مراد یہ ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کے لئے یوں عمل کرو ! گویا تم اسے دیکھ رہے ہو ‘ اور اگر تم اُسے نہیں دیکھ رہے ہو ‘ تو وہ تمہیں دیکھ رہا ہے ‘ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے بتائیے قیامت کب آئے گی ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : سبحان اللہ ! غیب سے تعلق رکھنے والی پانچ چیزیں ایسی ہیں ‘ جن کا علم ‘ صرف اللہ تعالیٰ کو ہے ( اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے : ) ” بے شک قیامت کا علم ‘ اللہ تعالی ہی کے پاس ہے ‘ وہ بارش نازل کرتا ہے ‘ اور وہ جانتا ہے کہ جو رحم میں ہے ‘ اور کوئی یہ نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کمائے گا اور کوئی یہ نہیں جانتا کہ وہ کون سی جگہ پر مرے گا ‘ بے شک اللہ تعالیٰ علم رکھنے والا ‘ خبر رکھنے والا ہے ‘‘ ( نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا : ) لیکن اگر تم چاہو ‘ تو میں اُس سے پہلے رونما ہونے والی کچھ نشانیاں تمہیں بتا دیتا ہوں ‘ انہوں نے کہا : ٹھیک ہے ‘ یا رسول اللہ ! آپ مجھے بتا دیں ‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جب تم کنیز کو دیکھو کہ اُس نے اپنی مالکن کو ( راوی کو شک ہے یا شاید یہ الفاظ تھے : ) اپنے آقا کو جنم دیا ہے ‘ یا تم عمارتیں تعمیر کرنے والوں کو دیکھو ‘ کہ وہ ایک دوسرے کے مقابلے میں ‘ طویل عمارتیں بنا رہے ہیں اور تم دیکھو کہ جن لوگوں کے پاس جوتے بھی نہیں تھے ‘ وہ بھوکے تھے ‘ تنگدست تھے ‘ وہ لوگوں کے حکمران بن گئے ہیں ، تو یہ امور قیامت ( قریب آنے ) کی علامات اور نشانیوں میں سے ہوں گے ‘ انہوں نے عرض کی : یا رسول الله ! عمارتوں والے وہ لوگ ‘ جن کے پاؤں میں جوتے بھی نہ ہوں ‘ اور جو بھوکے ہوں ‘ اور تنگ دست ہوں ، ان سے مراد کون ہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : عریب ( تنگدست ) یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے ‘ تاہم امام بزار کی روایت میں یہ الفاظ ہیں : ’’ حضرت جبرائیل علیہ السلام نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں ‘ ایک نوجوان ضرورت مند مسافر شخص کی شکل میں حاضر ہوئے ‘‘۔ امام احمد کی سند میں ‘ ایک راوی شہر بن حوشب ہے ۔

113

Majma al-Zawaid #113

وَعَنِ ابْنِ عَامِرٍ - أَوْ أَبِي عَامِرٍ أَوْ أَبِي مَالِكٍ -: «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَيْنَمَا هُوَ جَالِسٌ فِي مَجْلِسٍ فِيهِ أَصْحَابُهُ جَاءَهُ جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - فِي غَيْرِ صُورَتِهِ يَحْسَبُهُ رَجُلًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ، فَسَلَّمَ، فَرَدَّ عَلَيْهِ السَّلَامَ، ثُمَّ وَضَعَ جِبْرِيلُ يَدَهُ عَلَى رُكْبَتَيِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا الْإِسْلَامُ؟ قَالَ: "" أَنْ تُسْلِمَ وَجْهَكَ لِلَّهِ، وَتَشْهَدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، وَتُقِيمَ الصَّلَاةَ، وَتُؤْتِيَ الزَّكَاةَ "". قَالَ: فَإِذَا فَعَلْتُ ذَلِكَ فَقَدْ أَسْلَمْتُ؟ قَالَ: "" نَعَمْ "". قَالَ: ثُمَّ قَالَ: مَا الْإِيمَانُ؟ قَالَ: "" أَنْ تُؤْمِنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالْكِتَابِ وَالنَّبِيِّينَ وَالْمَوْتِ وَالْحَيَاةِ بَعْدَ الْمَوْتِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ وَالْحِسَابِ وَالْمِيزَانِ وَالْقَدَرِ كُلِّهِ خَيْرِهِ وَشَرِّهِ "". قَالَ: فَإِذَا فَعَلْتُ ذَلِكَ قَدْ آمَنْتُ؟ قَالَ: "" نَعَمْ ""، ثُمَّ قَالَ مَا الْإِحْسَانُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "" أَنْ تَعْبُدَ اللَّهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ، فَإِنْ كُنْتَ لَا تَرَاهُ فَهُوَ يَرَاكَ "". قَالَ: فَإِذَا فَعَلْتُ ذَلِكَ فَقَدْ أَحْسَنْتُ؟ قَالَ: "" نَعَمْ "". وَنَسْمَعُ رَجْعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَلَا نَرَى الَّذِي يُكَلِّمُهُ وَلَا نَسْمَعُ كَلَامَهُ. قَالَ: فَمَتَى السَّاعَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" سُبْحَانَ اللَّهِ! خَمْسٌ مِنَ الْغَيْبِ لَا يَعْلَمُهَا إِلَّا اللَّهُ: إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْأَرْحَامِ، وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَاذَا تَكْسِبُ غَدًا، وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ، إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ. وَلَكِنْ إِنْ شِئْتَ حَدَّثْتُكَ بِعَلَامَتَيْنِ تَكُونَانِ قَبْلَهَا "" قَالَ: حَدِّثْنِي قَالَ: "" إِذَا رَأَيْتَ الْأَمَةَ تَلِدُ رَبَّهَا، وَيَطُولُ أَهْلُ الْبُنْيَانِ بِالْبُنْيَانِ، وَعَادَ الْعَالَةُ الْحُفَاةُ رُءُوسَ النَّاسِ ""، قَالَ: وَمَنْ أُولَئِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "" الْعَرِيبُ "". قَالَ: ثُمَّ وَلَّى، قَالَ: فَلَمَّا لَمْ نَرَ طَرِيقَهُ قَالَ: "" سُبْحَانَ اللَّهِ! هَذَا جِبْرِيلُ جَاءَ لِيُعَلِّمَ النَّاسَ دِينَهُمْ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ مَا جَاءَنِي قَطُّ إِلَّا وَأَنَا أَعْرِفُهُ إِلَّا أَنْ تَكُونَ هَذِهِ الْمَرَّةُ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِي إِسْنَادِهِ شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿĀmir — or Abū ʿĀmir, or Abū Mālik — narrated: While the Prophet ﷺ was sitting in a gathering with his Companions, Gabriel عليه السلام came to him in an unfamiliar form, appearing like a man from among the Muslims. He gave the greeting of salām, and the Prophet ﷺ returned it. Then Gabriel placed his hand upon the knees of the Prophet ﷺ and said, "O Messenger of Allah, what is Islam?" He ﷺ said: > **"That you surrender your face to Allah, testify that there is no deity worthy of worship except Allah and that Muḥammad is His slave and Messenger, establish prayer, and pay zakāh."** He asked, "If I do that, have I embraced Islam?" He ﷺ said: > **"Yes."** Then he asked, "What is faith?" He ﷺ said: > **"That you believe in Allah, the Last Day, the angels, the Scripture, the Prophets, death, life after death, Paradise, the Fire, the Reckoning, the Scale, and the divine decree entirely, both the good of it and the evil of it."** He asked, "If I do that, have I believed?" He ﷺ said: > **"Yes."** Then he asked, "What is excellence, O Messenger of Allah?" He ﷺ said: > **"That you worship Allah as though you see Him, for if you do not see Him, He surely sees you."** He asked, "If I do that, have I attained excellence?" He ﷺ said: > **"Yes."** The narrator said: We could hear the reply of the Messenger of Allah ﷺ, but we could neither see the one speaking to him nor hear his words. He asked, "When is the Hour, O Messenger of Allah?" The Messenger of Allah ﷺ said: > **"Glory be to Allah! Five matters belong to the unseen, which none knows except Allah: {Indeed, with Allah alone is knowledge of the Hour; He sends down the rain, and He knows what is in the wombs. No soul knows what it will earn tomorrow, and no soul knows in what land it will die. Indeed, Allah is All-Knowing, All-Aware} [Luqmān: 34]. However, if you wish, I can tell you of two signs that will occur before it."** He said, "Tell me." He ﷺ said: > **"When you see the female slave give birth to her master, and the builders construct increasingly lofty buildings, and the impoverished, barefoot destitute become the leaders of the people."** He asked, "And who are they, O Messenger of Allah?" He ﷺ said: > **"The Arab bedouins."** The narrator said: Then the man turned and departed. When we could no longer see his path, the Prophet ﷺ said: > **"Glory be to Allah! That was Gabriel; he came to teach the people their religion. By the One in Whose Hand is the soul of Muḥammad, he never came to me previously without me recognizing him, except on this occasion."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابن عامر ‘ یا شاید حضرت ابوعامر ‘ یا شاید حضرت ابومالک کے حوالے سے یہ روایت منقول ہے :’’ ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ ایک محفل میں تشریف فرما تھے ‘ جس میں آپ کے اصحاب بھی موجود تھے ‘ اس دوران حضرت جبرائیل علیہ السلام انسانی شکل میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے ‘ ( دیکھنے والا ) انہیں ایک مسلمان محسوس کرتا ‘ انہوں نے سلام کیا ‘ نبی اکرم ﷺ نے انہیں سلام کا جواب دیا ، پھر حضرت جبرائیل علیہ السلام نے اپنا ہاتھ نبی اکرم ﷺ کے گھٹنوں پر رکھا اور عرض کی : یا رسول اللہ ! اسلام سے مراد کیا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : یہ کہ تم اپنا آپ ‘ اللہ تعالیٰ کے سپرد کر دو ‘ اور تم اس بات کی گواہی دو کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور حضرت محمد ﷺ اُس کے بندے اور اس کے رسول ہیں ، اور تم نماز قائم کرو ‘ اور تم زکوۃ ادا کرو ‘ انہوں نے عرض کی : جب میں ایسا کر لوں گا تو میں مسلمان ہو جاؤں گا ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جی ہاں ! انہوں نے دریافت کیا : ایمان سے مراد کیا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : یہ کہ تم اللہ تعالیٰ ‘ آخرت کے دن ‘ فرشتوں ‘ کتاب ‘ انبیاء ‘ موت ‘ موت کے بعد کی زندگی ‘ جنت ‘ جہنم ‘ کتاب ‘ میزان ‘ اور اچھی یا بری ‘ ہر قسم کی تقدیر پر ایمان رکھو ! انہوں نے دریافت کیا : جب میں ایسا کر لوں گا ‘ تو کیا میں مؤمن شمار ہوؤں گا ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جی ہاں ! پھر انہوں نے سوال کیا : یا رسول اللہ ! احسان سے مراد کیا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : یہ کہ تم اللہ تعالیٰ کی یوں عبادت کرو ‘ گویا تم اُسے دیکھ رہے ہو ‘ اور اگر تم اسے نہیں دیکھ سکتے ، تو وہ تمہیں دیکھ رہا ہے ‘ انہوں نے دریافت کیا : جب میں ایسا کر لوں گا ‘ تو کیا میں احسان کرنے والا شمار ہوؤں گا ‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جی ہاں ! راوی بیان کرتے ہیں : ہم نبی اکرم ﷺ کا جواب سن رہے تھے ‘ لیکن نبی اکرم ﷺ کے ساتھ ‘ جو شخص بات کر رہا تھا ، ہم اسے نہیں دیکھ رہے تھے ‘ اور نہ ہی اُس کا کلام سن رہے تھے ‘ اُس نے دریافت کیا : یا رسول اللہ ! قیامت کب قائم ہو گی ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : سبحان اللہ ! غیب سے تعلق رکھنے والی پانچ چیزیں ایسی ہیں ، جن کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے ( جن کا ذکر قرآن مجید میں ‘ ان الفاظ میں ہے : ) "" بے شک قیامت کا علم ‘ اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہے ‘ اور وہ بارش نازل کرتا ہے ‘ اور رحم میں جو ہے ‘ وہ اُس کو جانتا ہے ‘ کوئی یہ نہیں جانتا ‘ کہ وہ کل کیا کمائے گا ؟ اور کوئی یہ نہیں جانتا کہ وہ کون سی سرزمین پر مرے گا ؟ بیشک اللہ تعالیٰ علم رکھنے والا ‘ خبر رکھنے والا ہے "" پھر نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : لیکن اگر تم چاہو ‘ تو میں تمہیں اس کی علامات کے بارے میں بتا دیتا ہوں ‘ جو قیامت سے پہلے رونما ہوں گی ‘ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے کہا : آپ مجھے بتا دیں ! نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جب تم دیکھو کہ کنیز نے اپنے آقا کو جنم دیا ہے ‘ اور عمارتیں بنانے والے ‘ بلند عمارتیں تعمیر کر رہے ہیں اور ایسے تنگ دست لوگ ‘ جن کے پاؤں میں جوتے بھی نہیں ہوتے تھے ‘ وہ لوگوں کے حکمران بن گئے ہیں ‘ ( تو یہ قیامت قریب آ جانے کی بڑی نشانیاں ہوں گی ) انہوں نے دریافت کیا : یا رسول اللہ ! وہ کون لوگ ہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : عریب ( تنگدست ) راوی بیان کرتے ہیں : پھر وہ شخص چلا گیا ‘ ہم نے اُس کا راستہ ( یعنی اس کو جاتے ہوئے ) نہیں دیکھا ‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : سبحان اللہ ! یہ جبرائیل تھے جو لوگوں کو اُن کے دین کی تعلیم دینے کے لئے آئے تھے ‘ اُس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں محمد ( ﷺ ) کی جان ہے ‘ یہ جب بھی میرے پاس آئے ‘ تو میں نے انہیں پہچان لیا ‘ البتہ اس مرتبہ کا معاملہ مختلف ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی شہر بن حوشب ہے ۔

114

Majma al-Zawaid #114

وَعَنْ أَنَسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: «بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَالِسًا مَعَ أَصْحَابِهِ إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ عَلَيْهِ ثِيَابُ السَّفَرِ يَتَخَلَّلُ النَّاسَ، حَتَّى جَلَسَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى رُكْبَةِ رَسُولِ اللَّهِ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، مَا الْإِسْلَامُ؟ قَالَ: "" شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، وَإِقَامُ الصَّلَاةِ، وَإِيتَاءُ الزَّكَاةِ، وَصَوْمُ شَهْرِ رَمَضَانَ، وَحَجُّ الْبَيْتِ إِنِ اسْتَطَعْتَ إِلَيْهِ سَبِيلًا "". قَالَ: فَإِذَا فَعَلْتُ ذَلِكَ فَأَنَا مُسْلِمٌ؟ قَالَ: "" نَعَمْ "". قَالَ: صَدَقْتَ. فَقَالَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: انْظُرُوا هُوَ يَسْأَلُهُ وَهُوَ يُصَدِّقُهُ، كَأَنَّهُ أَعْلَمُ مِنْهُ، وَلَا يَعْرِفُونَ الرَّجُلَ، ثُمَّ قَالَ يَا مُحَمَّدُ: مَا الْإِيمَانُ؟ قَالَ: "" الْإِيمَانُ أَنْ تُؤْمِنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالْكِتَابِ وَالنَّبِيِّينَ، وَبِالْمَوْتِ، وَبِالْبَعْثِ، وَبِالْحِسَابِ، وَبِالْجَنَّةِ، وَبِالنَّارِ، وَبِالْقَدَرِ كُلِّهِ "". قَالَ: فَإِذَا فَعَلْتُ ذَلِكَ فَأَنَا مُؤْمِنٌ؟ قَالَ: "" نَعَمْ "". قَالَ: صَدَقْتَ. قَالَ: يَا مُحَمَّدُ: مَا الْإِحْسَانُ؟ قَالَ: "" أَنْ تَخْشَى اللَّهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ، فَإِنْ لَمْ تَرَهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ "". قَالَ: فَإِذَا فَعَلْتُ ذَلِكَ فَأَنَا مُحْسِنٌ؟ قَالَ: "" نَعَمْ "". قَالَ: صَدَقْتَ. قَالَ: يَا مُحَمَّدُ: مَتَى السَّاعَةُ؟ قَالَ: "" مَا الْمَسْئُولُ عَنْهَا بِأَعْلَمَ مِنَ السَّائِلِ "". وَأَدْبَرَ الرَّجُلُ فَذَهَبَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: عَلَيَّ بِالرَّجُلِ فَاتَّبَعُوهُ يَطْلُبُونَهُ فَلَمْ يَرَوْا شَيْئًا، فَعَادُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اتَّبَعْنَا الرَّجُلَ فَطَلَبْنَاهُ فَمَا رَأَيْنَا شَيْئًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" ذَاكَ جِبْرِيلُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَاءَكُمْ لِيُعَلِّمَكُمْ دِينَكُمْ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ الضَّحَّاكُ بْنُ نِبْرَاسٍ، قَالَ الْبَزَّارُ: لَيْسَ بِهِ بَأْسٌ، وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ.

EnglishUnverified translation

Anas رضي الله عنه said: While the Messenger of Allah ﷺ was sitting with his Companions, a man wearing travel garments arrived, making his way through the people until he sat directly before the Messenger of Allah ﷺ. He placed his hand upon the knee of the Messenger of Allah ﷺ and said, "O Muḥammad, what is Islam?" He ﷺ said: > **"Testifying that there is no deity worthy of worship except Allah alone, without partner, and that Muḥammad is His slave and Messenger, establishing prayer, paying zakāh, fasting the month of Ramadan, and performing pilgrimage to the House if you are able to find a way to it."** He asked, "If I do that, am I a Muslim?" He ﷺ said: > **"Yes."** He said, "You have spoken the truth." The Companions of the Messenger of Allah ﷺ remarked, "Look at him: he asks him and then confirms his truthfulness, as though he knows better than him!" Yet they did not know the man. Then he asked, "O Muḥammad, what is faith?" He ﷺ said: > **"Faith is that you believe in Allah, the Last Day, the angels, the Scripture, the Prophets, death, the Resurrection, the Reckoning, Paradise, the Fire, and the divine decree entirely."** He asked, "If I do that, am I a believer?" He ﷺ said: > **"Yes."** He said, "You have spoken the truth. O Muḥammad, what is excellence?" He ﷺ said: > **"That you fear Allah as though you see Him, for if you do not see Him, He surely sees you."** He asked, "If I do that, am I a person of excellence?" He ﷺ said: > **"Yes."** He said, "You have spoken the truth. O Muḥammad, when is the Hour?" He ﷺ said: > **"The one questioned about it knows no more than the questioner."** The man then turned away and departed. The Messenger of Allah ﷺ said: > **"Bring the man back to me!"** They went after him to seek him, but they saw nothing. They returned to the Messenger of Allah ﷺ and said, "O Messenger of Allah, we went after the man and sought him, but we found nothing." The Messenger of Allah ﷺ said: > **"That was Gabriel; he came to you to teach you your religion."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ اپنے اصحاب کے ہمراہ تشریف فرما تھے ‘ اس دوران ایک شخص آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ‘ جس پر سفر کا لباس تھا ‘ وہ لوگوں کے درمیان میں سے گزرتا ہوا آیا اور نبی اکرم ﷺ کے سامنے بیٹھ گیا ، اس نے اپنا ہاتھ نبی اکرم ﷺ کے گھٹنے پر رکھا اور بولا : اے حضرت محمد ( ﷺ ) ! اسلام سے مراد کیا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ‘ صرف وہی معبود ہے ‘ اُس کا کوئی شریک نہیں ہے اور حضرت محمد ( ﷺ ) اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں ‘ اور نماز قائم کرنا ‘ زکوۃ ادا کرنا ‘ رمضان کے مہینے کے روزے رکھنا اور بیت اللہ کا حج کرنا ‘ اگر تم وہاں تک جانے کی استطاعت رکھتے ہو ‘ اُس میں دریافت کیا : جب میں ایسا کر لوں گا ، تو کیا میں مسلمان شمار ہوؤں گا ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جی ہاں ! اس نے کہا : آپ نے ٹھیک کہا ہے ‘ نبی اکرم ﷺ کے اصحاب نے ( ایک دوسرے سے ) کہا : تم لوگ اس شخص کو دیکھو کہ یہ خود ہی نبی اکرم ﷺ سے سوال کر رہا ہے ‘ اور آپ کی تصدیق یوں کر رہا ہے ‘ جیسے یہ آپ سے زیادہ علم رکھتا ہے ‘ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اس شخص کو پہچانتے نہیں تھے ‘ اس نے کہا : اے حضرت محمد ( ﷺ ) ! ایمان سے مراد کیا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ایمان یہ ہے کہ تم اللہ تعالیٰ ‘ آخرت کے دن ‘ فرشتوں ‘ کتاب ‘ انبیاء ‘ موت دوبارہ زندہ ہونے ، حساب ‘ جنت ‘ جہنم اور ہر قسم کی تقدیر پر ایمان رکھو ‘ اُس نے دریافت کیا : جب میں ایسا کروں گا ‘ تو کیا میں مؤمن شمار ہوؤں گا ؟ نبی اکرم سلام نے فرمایا : جی ہاں ! اس نے کہا : آپ نے ٹھیک کہا ہے پھر وہ بولا : اے حضرت محمد ( ل ) ! احسان سے کیا مراد ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : یہ کہ تم اللہ تعالیٰ سے یوں ڈرو ! گویا تم اُسے دیکھ رہے ہو ‘ اور اگر تم اسے نہیں دیکھ رہے ہو ‘ تو وہ تمہیں دیکھ رہا ہے ‘ اُس نے کہا : جب میں ایسا کر لوں گا ، تو کیا میں احسان والا شمار ہوؤں گا ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جی ہاں ! اُس نے کہا : آپ نے ٹھیک کہا ہے ‘ پھر اُس نے کہا : اے حضرت محمد ( ﷺ ) قیامت کب آئے گی ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اس بارے میں ، جس سے سوال کیا گیا ہے ‘ وہ سوال کرنے والے سے زیادہ علم نہیں رکھتا ۔ ( راوی بیان کرتے ہیں : ) پھر وہ شخص مڑا اور چلا گیا ‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اس شخص کو میرے پاس لاؤ لوگ اس کے پیچھے گئے انہوں نے اسے تلاش کیا ، لیکن انہیں کچھ نظر نہیں آیا ‘ وہ لوگ واپس نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ‘ اور بولے : یا رسول اللہ ! ہم اس شخص کے پیچھے گئے ہم نے اُسے تلاش کیا ، لیکن ہمیں کچھ نظر نہیں آیا ‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : وہ جبرائیل تھے ‘ جو تمہارے پاس اس لئے آئے تھے ‘ تاکہ تمہیں تمہارے دین کی تعلیم دیں ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ضحاک بن نبراس ہے ‘ امام بزار کہتے ہیں : اس میں کوئی حرج نہیں ہے ‘ جبکہ جمہور نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔

115

Majma al-Zawaid #115

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: «أَتَى ابْنَ عُمَرَ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، إِنَّا نُسَافِرُ فَنَلْقَى أَقْوَامًا يَقُولُونَ: لَا قَدَرَ، قَالَ: فَإِذَا لَقِيتَ أُولَئِكَ فَأَخْبِرْهُمْ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ مِنْهُمْ بَرِيءٌ، كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذْ أَتَاهُ رَجُلٌ حَسَنُ الْوَجْهِ، طَيِّبُ الرِّيحِ، نَقِيُّ الثَّوْبِ، فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَدْنُو مِنْكَ؟ قَالَ: "" ادْنُهْ ""، فَدَنَا دَنْوَةً. قَالَ ذَلِكَ مِرَارًا حَتَّى اصْطَكَّتَا رُكْبَتَاهُ بِرُكْبَتَيِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا الْإِسْلَامُ؟ قَالَ: "" شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، وَإِقَامُ الصَّلَاةِ، وَإِيتَاءُ الزَّكَاةِ، وَحَجُّ الْبَيْتِ، وَصِيَامُ رَمَضَانَ، وَالْغُسْلُ مِنَ الْجَنَابَةِ "". قَالَ: فَإِذَا فَعَلْتُ ذَلِكَ فَأَنَا مُسْلِمٌ؟ قَالَ: "" نَعَمْ "". قَالَ: صَدَقْتَ، فَمَا الْإِيمَانُ؟ قَالَ: "" الْإِيمَانُ أَنْ تُؤْمِنَ بِاللَّهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ وَالْقَدَرِ خَيْرِهِ وَشَرِّهِ حُلْوِهِ وَمُرِّهِ مِنَ اللَّهِ "". قَالَ: "" فَإِذَا فَعَلْتُ ذَلِكَ فَأَنَا مُؤْمِنٌ؟ قَالَ: "" نَعَمْ "". قَالَ: صَدَقْتَ، فَمَا الْإِحْسَانُ؟ قَالَ: تَعْبُدُ اللَّهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ فَإِنْ تَكُنْ لَا تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ "". قَالَ: فَإِذَا فَعَلْتُ ذَلِكَ فَأَنَا مُحْسِنٌ؟ قَالَ: "" نَعَمْ "". قَالَ: صَدَقْتَ، قُلْنَا: مَا رَأَيْنَا رَجُلًا [أَحْسَنَ وَجْهًا وَلَا] أَطْيَبَ رِيحًا وَلَا أَشَدَّ تَوْقِيرًا لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَوْلُهُ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: صَدَقْتَ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" عَلَيَّ بِالرَّجُلِ ""، فَقُمْنَا، وَقُمْتُ أَنَا إِلَى طَرِيقٍ مِنْ طُرُقِ الْمَدِينَةِ فَلَمْ نَرَ شَيْئًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" هَلْ تَدْرُونَ مَنْ هَذَا؟ "" قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ: "" هَذَا جِبْرِيلُ يُعَلِّمُكُمْ مَنَاسِكَ دِينِكُمْ، مَا جَاءَنِي فِي صُورَةٍ قَطُّ إِلَّا عَرَفْتُهُ، إِلَّا فِي هَذِهِ الصُّورَةِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿUmar رضي الله عنهما narrated: A man came to Ibn ʿUmar and said, "O Abū ʿAbd al-Raḥmān, we travel and encounter people who claim: 'There is no divine decree (qadar).'" Ibn ʿUmar said, "When you meet those people, inform them that Ibn ʿUmar is free of them. We were with the Messenger of Allah ﷺ when a man with a handsome face, pleasant scent, and clean white garments approached. He said, 'Peace be upon you, O Messenger of Allah. May I come close to you?' He ﷺ said: > **'Come close.'** So he drew closer. He repeated this several times until his knees touched the knees of the Prophet ﷺ. He said, 'O Messenger of Allah, what is Islam?' He ﷺ said: > **'Testifying that there is no deity worthy of worship except Allah and that Muḥammad is the Messenger of Allah, establishing prayer, paying zakāh, performing pilgrimage to the House, fasting Ramadan, and performing the ritual bath after sexual impurity (janābah).'** He asked, 'If I do that, am I a Muslim?' He ﷺ said: > **'Yes.'** He said, 'You have spoken the truth. Then what is faith?' He ﷺ said: > **'Faith is that you believe in Allah, His angels, His Scriptures, His Messengers, Paradise, the Fire, and the divine decree — both its good and its evil, its sweet and its bitter — as being from Allah.'** He asked, 'If I do that, am I a believer?' He ﷺ said: > **'Yes.'** He said, 'You have spoken the truth. Then what is excellence?' He ﷺ said: > **'That you worship Allah as though you see Him, for even if you do not see Him, He surely sees you.'** He asked, 'If I do that, am I a person of excellence?' He ﷺ said: > **'Yes.'** He said, 'You have spoken the truth.' We thought: We have never seen a man more handsome of face, sweeter in scent, or showing greater reverence to the Prophet ﷺ, and yet saying to the Prophet ﷺ: 'You have spoken the truth!' Then the Prophet ﷺ said: > **'Bring the man back to me!'** We stood up, and I went out toward one of the roads of Medina, but we saw nothing. Then the Messenger of Allah ﷺ said: > **'Do you know who this was?'** They said, 'Allah and His Messenger know best.' He ﷺ said: > **'This was Gabriel, teaching you the rituals of your religion. He never came to me in any form without me recognizing him, except in this form.'**"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہا کے بارے میں یہ بات منقول ہے : ’’ ایک شخص اُن کے پاس آیا اور بولا : اے ابو عبدالرحمن ! ہم سفر کرتے ہیں ، تو ہماری ملاقات کچھ ایسے لوگوں سے ہوتی ہے ‘ جو یہ کہتے ہیں : تقدیر کی کوئی حقیقت نہیں ہے ‘ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا : جب تمہاری اُن سے ملاقات ہو ‘ تو تم انہیں بتا دینا کہ عبداللہ بن عمر کا اُن سے کوئی تعلق نہیں ہے ‘ ( پھر حضرت عبداللہ بن عمر نے یہ حدیث بیان کی : ) ایک مرتبہ ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کے پاس موجود تھے ‘ ایک شخص آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ‘ اُس کا چہرہ خوبصورت تھا ، خوشبو پاکیزہ تھی ‘ لباس صاف ستھرا تھا ، اُس نے کہا : یا رسول اللہ ! آپ کو سلام ہو ‘ کیا میں آپ کے قریب آ جاؤں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : قریب آ جاؤ ! تو وہ کچھ قریب ہو گیا ، اس نے چند مرتبہ یہی بات کی ‘ یہاں تک کہ اُس کے گھٹنے ‘ نبی اکرم ﷺ کے گھٹنوں سے مل گئے ‘ اس نے کہا : یا رسول اللہ ! اسلام سے مراد کیا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ تعالٰی کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ‘ اور حضرت محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں ‘ اور نماز قائم کرنا ‘ زکوۃ دینا ‘ بیت اللہ کا حج کرنا ‘ رمضان کے روزے رکھنا اور جنابت کے بعد غسل کرنا اس نے دریافت کیا : جب میں یہ کر لوں گا ‘ تو کیا میں مسلمان شمار ہوؤں گا ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جی ہاں ! تو اس نے کہا : آپ نے ٹھیک کہا ہے ‘ ایمان سے کیا مراد ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ایمان سے مراد یہ ہے کہ تم اللہ تعالٰی ‘ اُس کے فرشتوں ‘ اس کی کتابوں ، اس کے رسولوں ‘ جنت ‘ جہنم ، اچھی یا بری ‘ میٹھی یا کڑوی ( یعنی ہر قسم کی ) تقدیر ‘ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہونے پر ایمان رکھو ‘ اس نے دریافت کیا : جب میں ایسا کر لوں گا ‘ تو کیا میں مؤمن شمار ہوؤں گا ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جی ہاں ! اس نے کہا : آپ نے ٹھیک کہا ہے احسان سے کیا مراد ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : یہ کہ تم اللہ تعالی کی یوں عبادت کرو ‘ گویا تم اُسے دیکھ رہے ہو ‘ اور اگر تم اُسے نہیں دیکھ رہے ہو ‘ تو وہ تمہیں دیکھ رہا ہے ‘ اُس نے دریافت کیا : جب میں ایسا کروں گا ، تو کیا میں احسان والا شمار ہوؤں گا ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جی ہاں ! اُس نے کہا : آپ نے ٹھیک کہا ہے ۔ راوی کہتے ہیں : ہم نے سوچا ‘ ہم نے ایسا کوئی شخص نہیں دیکھا ‘ جو اس شخص سے زیادہ خوبصورت ‘ زیادہ پاکیزہ خوشبو والا ہو ‘ نبی اکرم ﷺ کا زیادہ احترام کرتا ہو ‘ اور پھر بھی یہ نبی اکرم ﷺ سے یہ کہہ رہا ہے : کہ آپ نے ٹھیک کہا ہے ( جب وہ شخص چلا گیا ) تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اس شخص کو میرے پاس لاؤ ! ہم اُٹھے ‘ میں بھی اُٹھ کر مدینہ منورہ کے ایک راستے کی طرف گیا ، لیکن ہمیں کچھ نظر نہیں آیا ‘ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کیا تم لوگ جانتے ہو یہ کون تھا ؟ لوگوں نے عرض کی : اللہ اور اُس کا رسول زیادہ جانتے ہیں ‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : یہ جبرائیل تھے ‘ جو تمہیں تمہارے دین کے مناسک کی تعلیم دے رہے تھے ‘ یہ جس بھی شکل میں میرے پاس آئے ‘ میں نے انہیں پہچان لیا ‘ البتہ اس صورت کا معاملہ مختلف ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

116

Majma al-Zawaid #116

عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: «خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا بَرَزْنَا مِنَ الْمَدِينَةِ إِذَا رَاكِبٌ يُوضِعُ نَحْوَنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" كَأَنَّ هَذَا الرَّاكِبَ أَتَاكُمْ ""، يُرِيدُنَا. قَالَ: فَانْتَهَى الرَّجُلُ إِلَيْنَا فَسَلَّمَ، فَرَدَدْنَا عَلَيْهِ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مِنْ أَيْنَ أَقْبَلْتَ؟ "" قَالَ: مِنْ أَهْلِي وَوَلَدِي وَعَشِيرَتِي. قَالَ: "" فَأَيْنَ تُرِيدُ؟ "" قَالَ: أُرِيدُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" فَقَدْ أَصَبْتَهُ "". قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، عَلِّمْنِي مَا الْإِيمَانُ؟ فَقَالَ: "" تَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، وَتُقِيمُ الصَّلَاةَ، وَتُؤْتِي الزَّكَاةَ، وَتَصُومُ رَمَضَانَ، وَتَحُجُّ الْبَيْتَ "". قَالَ: أَقْرَرْتُ. قَالَ: ثُمَّ إِنَّ بَعِيرَهُ دَخَلَتْ يَدُهُ فِي شَبَكَةِ جُرْذَانٍ، فَهَوَى بَعِيرُهُ وَهَوَى الرَّجُلُ، فَوَقَعَ عَلَى هَامَتِهِ فَمَاتَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" عَلَيَّ بِالرَّجُلِ "". قَالَ: فَوَثَبَ إِلَيْهِ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ وَحُذَيْفَةُ بْنُ الْيَمَانِ، فَأَقْعَدَاهُ فَقَالَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قُبِضَ الرَّجُلُ. فَأَعْرَضَ عَنْهُمَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ قَالَ لَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَمَا رَأَيْتُمَا إِعْرَاضِي عَنِ الرَّجُلِ، فَإِنِّي رَأَيْتُ مَلَكَيْنِ يَدُسَّانِ فِيهِ مِنْ ثِمَارِ الْجَنَّةِ، فَعَلِمْتُ أَنَّهُ مَاتَ جَائِعًا، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" هَذَا وَاللَّهِ مِنَ الَّذِينَ قَالَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ -: {الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ أُولَئِكَ لَهُمُ الْأَمْنُ وَهُمْ مُهْتَدُونَ} [الأنعام: 82]. قَالَ: ثُمَّ قَالَ: "" دُونَكُمْ أَخَاكُمْ "". قَالَ: فَاحْتَمَلْنَاهُ إِلَى الْمَاءِ، فَغَسَّلْنَاهُ وَحَنَّطْنَاهُ وَكَفَّنَّاهُ وَحَمَلْنَاهُ إِلَى الْقَبْرِ، فَقَالَ: "" أَلْحِدُوا، وَلَا تَشُقُّوا». وَفِي رِوَايَةٍ: "" «هَذَا مِمَّنْ عَمِلَ قَلِيلًا وَأُجِرَ كَثِيرًا» "". وَفِي رِوَايَةٍ: "" «فَدَخَلَ خُفُّ بَعِيرِهِ فِي جُحْرِ يَرْبُوعٍ» "". رَوَاهَا كُلَّهَا أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِي إِسْنَادِهِ أَبُو جَنَابٍ وَهُوَ مُدَلِّسٌ، وَقَدْ عَنْعَنَهُ. وَاللَّهُ أَعْلَمُ.

EnglishUnverified translation

Jarīr ibn ʿAbdillāh رضي الله عنه said: We set out with the Messenger of Allah ﷺ. When we emerged from Medina, behold, a rider was spurring his mount toward us. The Messenger of Allah ﷺ said: > **"It is as though this rider is heading toward you"** — meaning he intends to come to us. The man reached us and gave salām, and we returned his greeting. The Prophet ﷺ said to him: > **"From where have you come?"** He said, "From my family, my children, and my clan." He ﷺ asked: > **"And where do you intend to go?"** He said, "I intend to reach the Messenger of Allah ﷺ." He ﷺ said: > **"You have indeed reached him."** The man said, "O Messenger of Allah, teach me: what is faith?" He ﷺ said: > **"You must testify that there is no deity worthy of worship except Allah and that Muḥammad is the Messenger of Allah, establish prayer, pay zakāh, fast Ramadan, and perform pilgrimage to the House."** The man said, "I affirm this." Then suddenly, the foot of his camel stepped into a rodent's burrow, throwing the mount and throwing the man. He landed on the crown of his head and died. The Messenger of Allah ﷺ said: > **"Bring the man to me!"** ʿAmmār ibn Yāsir and Ḥudhayfah ibn al-Yamān leaped toward him, sat him up, and said, "O Messenger of Allah, the man has passed away." The Messenger of Allah ﷺ turned his face away from them both. Then the Messenger of Allah ﷺ said to them: > **"Did you not see me turning away from the man? Indeed, I saw two angels placing the fruits of Paradise into his mouth, so I knew that he died hungry."** Then the Messenger of Allah ﷺ said: > **"This man, by Allah, is among those about whom Allah, Mighty and Majestic, said: {Those who have believed and not mixed their belief with injustice - those will have security, and they are [rightly] guided} [Al-Anʿām: 82]."** Then he ﷺ said: > **"Attend to your brother."** We carried him to water, washed him, scented him, shrouded him, and carried him to the grave. He ﷺ said: > **"Dig a laḥd (niche grave) and do not dig a shaqq (open trench)."** And in another narration: > **"This is one who worked little and was rewarded immensely."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ سفر پر جانے کے لئے ) نکلے ‘ جب ہم مدینہ منورہ سے باہر آ گئے ‘ تو سامنے سے ایک سوار ہماری طرف آ رہا تھا ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : لگتا ہے ‘ یہ سوار تم لوگوں کی طرف آ رہا ہے ‘ نبی اکرم ﷺ کی مراد یہ تھی کہ وہ ہماری طرف آ رہا ہے ‘ راوی بیان کرتے ہیں : جب وہ ہمارے پاس پہنچا ‘ تو اس نے سلام کیا ‘ ہم نے اسے سلام کا جواب دیا ، نبی اکرم ﷺ نے اُس سے دریافت کیا : تم کہاں سے آ رہے ہو ؟ اُس نے جواب دیا : اپنے بیوی بچوں اور خاندان والوں کی طرف سے ‘ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : تم کہاں جا رہے ہو ؟ اُس نے عرض کی : میں اللہ کے رسول کی طرف جا رہا ہوں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم اُن تک پہنچ گئے ‘ اُس شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے تعلیم دیجیے کہ ایمان سے مراد کیا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم اس بات کی گواہی دو کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ‘ اور حضرت محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں ، تم نماز قائم کرو ‘ زکوۃ ادا کرو ‘ رمضان کے روزے رکھو اور بیت اللہ کا حج کرو ‘ اس نے کہا : میں اقرار کرتا ہوں ، راوی بیان کرتے ہیں : پھر اس کے اونٹ کا پاؤں جرذان ( ایک مخصوص قسم کے چوہے ) کی بل میں داخل ہوا ‘ تو وہ اونٹ گر گیا اور وہ آدمی بھی گر گیا ‘ وہ شخص سر کے بل گر کے انتقال کر گیا ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اس شخص کو میرے پاس لے کر آؤ ! تو حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ اور حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ تیزی سے اس کی طرف گئے ‘ اُن دونوں حضرات نے اُسے بٹھایا اور عرض کی : یا رسول اللہ ! اس کا انتقال ہو گیا ہے ‘ نبی اکرم ﷺ نے ان دونوں کی طرف سے منہ پھیر لیا ‘ پھر نبی اکرم ﷺ نے ان دونوں حضرات سے فرمایا : تم نے مجھے اس شخص کی طرف سے ‘ جو منہ پھیرتے ہوئے دیکھا ہے ‘ اس کی وجہ یہ ہے کہ میں نے دو فرشتوں کو دیکھا کہ وہ اس پر جنت کے پھل نچھاور کر رہے تھے ‘ تو مجھے اندازہ ہو گیا کہ مرتے وقت یہ بھوکا تھا ، پھر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اللہ کی قسم ! یہ ان لوگوں میں سے ایک ہے ‘ جن کے بارے میں ‘ اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا ہے : ’’ وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے اپنے ایمان کے ساتھ ظلم کو نہیں ملایا ‘ انہی لوگوں کے لیے امن ہو گا اور وہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں “۔ پھر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اپنے بھائی کی دیکھ بھال کرو ! تو ہم اس کی میت اٹھا کر پانی کے پاس لے کر گئے ‘ ہم نے اسے غسل دیا اسے خوشبو لگائی ‘ اسے کفن پہنایا ‘ پھر اس کی میت اُٹھا کر قبر کے پاس لے کر گئے ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : لحد بنانا ! شق نہ بنانا ۔ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ’’ یہ ان افراد میں سے ایک ہے ، جنہوں نے تھوڑا عمل کیا اور انہیں زیادہ اجر دیا گیا “۔ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : اُس کے اونٹ کا پاؤں یربوع ( مخصوص قسم کا چوہا ) کی بل میں داخل ہوا ۔ یہ تمام روایات امام احمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہیں ‘ اس کی سند میں ایک راوی ابوجناب ہے ‘ جو تدلیس کرتا ہے ‘ اور اس نے یہ روایت بھی ’’ عن ‘‘ کے صیغہ کے ساتھ نقل کی ہے ‘ باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔

117

Majma al-Zawaid #117

وَعَنْ جَرِيرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: «لَمَّا بُعِثَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَتَيْتُهُ لِأُبَايِعَهُ، قَالَ: "" لِأَيِّ شَيْءٍ جِئْتَنَا يَا جَرِيرُ؟ "" قُلْتُ: جِئْتُ لِأُسْلِمَ عَلَى يَدَيْكَ، فَدَعَانِي إِلَى شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ، وَتُقِيمُ الصَّلَاةَ الْمَكْتُوبَةَ، وَتُؤَدِّي الزَّكَاةَ الْمَفْرُوضَةَ، وَتُؤْمِنُ بِالْقَدَرِ خَيْرِهِ وَشَرِّهِ. قَالَ: فَأَلْقَى إِلَيَّ كِسَاءَهُ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى أَصْحَابِهِ فَقَالَ: "" إِذَا جَاءَكُمْ كَرِيمُ قَوْمٍ فَأَكْرِمُوهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِي إِسْنَادِهِ حُصَيْنُ بْنُ عُمَرَ مُجْمَعٌ عَلَى ضَعْفِهِ وَكَذِبِهِ.

EnglishUnverified translation

Jarīr رضي الله عنه said: When the Prophet ﷺ was sent, I came to him to pledge allegiance. He ﷺ said: > **"For what reason have you come to us, O Jarīr?"** I said, "I have come to embrace Islam at your hands." So he called me to testify that there is no deity worthy of worship except Allah and that I am the Messenger of Allah, to establish the prescribed prayer, to pay the obligatory zakāh, and to believe in the divine decree, both its good and its evil. Jarīr said: He ﷺ then cast his cloak to me, turned to his Companions, and said: > **"When the noble person of a people comes to you, honor him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جریر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم ﷺ کو مبعوث کیا گیا ، تو میں آپ کی بیعت کرنے کے لئے آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ‘ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : اے جریر ! تم ہمارے پاس کیوں آئے ہو ؟ میں نے عرض کی : میں اس لئے آیا ہوں تاکہ آپ کے دست اقدس پر اسلام قبول کر لوں ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے مجھے اس بات کی گواہی دینے کی دعوت دی ‘ کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ ‘ اور کوئی معبود نہیں ہے ‘ اور میں ( یعنی نبی اکرم ) اللہ کا رسول ہوں ( نبی اکرم ﷺ نے یہ بھی فرمایا : ) تم فرض نماز ادا کرنا ‘ فرض زکوۃ دینا ، اچھی اور بری ( ہر قسم کی ) تقدیر پر ایمان رکھنا ، راوی بیان کرتے ہیں : پھر نبی اکرم ﷺ نے اپنی چادر میری طرف بڑھائی ، پھر آپ ﷺ اپنے اصحاب کی طرف متوجہ ہوئے اور ارشاد فرمایا : ’’ جب کسی قوم کا کوئی معزز فرد ‘ تمہارے پاس آئے ‘ تو اس کا احترام کرو ‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی حصین بن عمر ہے ، جس کے ضعیف اور جھوٹے ہونے پر اتفاق ہے ۔

118

Majma al-Zawaid #118

وَعَنِ ابْنِ الْخَصَاصِيَةِ السَّدُوسِيِّ قَالَ: «أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أُبَايِعُهُ، فَاشْتَرَطَ عَلَيَّ: "" اشْهَدْ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، وَتُصَلِّي الْخَمْسَ، وَتَصُومُ رَمَضَانَ، وَتُؤَدِّي الزَّكَاةَ، وَتَحُجُّ الْبَيْتَ، وَتُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ "". فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَمَّا اثْنَتَانِ فَلَا أُطِيقُهُمَا: الزَّكَاةُ، فَوَاللَّهِ مَا لِي إِلَّا عَشْرُ ذَوْدٍ هُنَّ رُسُلُ أَهْلِي وَحَمُولَتُهُمْ، وَأَمَّا الْجِهَادُ فَيَزْعُمُونَ أَنَّهُ مَنْ وَلَّى الدُّبُرَ فَقَدْ بَاءَ بِغَضَبٍ مِنَ اللَّهِ، فَأَخَافُ إِذَا حَضَرَنِي قِتَالٌ خَشَعَتْ نَفْسِي فَكَرِهْتُ الْمَوْتَ، فَقَبَضَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَدَهُ وَحَرَّكَهَا، وَقَالَ: "" لَا صَدَقَةَ وَلَا جِهَادَ فَبِمَ تَدْخُلُ الْجَنَّةَ؟ "" فَبَايَعْتُهُ عَلَيْهِنَّ كُلِّهِنَّ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَاللَّفْظُ لِلطَّبَرَانِيِّ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ مُوَثَّقُونَ.

EnglishUnverified translation

Bashīr ibn al-Khaṣāṣiyyah al-Sadūsī رضي الله عنه said: I came to the Messenger of Allah ﷺ to pledge allegiance to him. He stipulated upon me: > **"Testify that there is no deity worthy of worship except Allah and that Muḥammad is His slave and Messenger, pray the five daily prayers, fast Ramadan, pay zakāh, perform pilgrimage to the House, and strive in the cause of Allah (jihād)."** I said, "O Messenger of Allah, as for two of these, I cannot endure them: zakāh, for by Allah, I possess only ten camels which provide the milk and transport for my household; and as for jihād, people claim that whoever turns his back incurs the wrath of Allah, and I fear that if battle confronts me, my soul may quail and I will dread death." The Messenger of Allah ﷺ grasped his hand, shook it, and said: > **"No charity and no jihād — by what means then will you enter Paradise?!"** So I pledged allegiance to him upon all of them.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابن خصاصیہ سدوسی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں ، آپ کی بیعت کرنے کے لئے حاضر ہوا تو آپ ﷺ نے مجھ پر یہ شرط عائد کی : کہ تم اس بات کی گواہی دو کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ ‘ اور کوئی معبود نہیں ہے ‘ اور حضرت محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں ، اور تم پانچ نمازیں ادا کرو ‘ رمضان کے روزے رکھو ‘ زکوٰۃ ادا کرو ‘ بیت اللہ کا حج کرو ‘ اور تم اللہ کی راہ میں جہاد کرو میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! دو چیزوں کی تو میں طاقت نہیں رکھتا ، زکوۃ ادا کرنے کی ‘ کیونکہ میرے پاس صرف دس اونٹ ہیں ‘ اور وہ میرے گھر والوں کے کام کاج اور سفر کے کام آتے ہیں ‘ اور دوسری چیز جہاد ہے ، کیونکہ لوگ یہ کہتے ہیں : کہ جو شخص پیٹھ پھیر کر واپس آ جاتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کا غضب ساتھ لاتا ہے ‘ تو مجھے یہ اندیشہ ہے کہ جب میں جنگ کے موقع پر موجود ہوا ‘ اور پھر میرے دل میں خوف آ گیا اور مجھے موت ناپسند ہوئی ( تو میں جہاد چھوڑ کر ‘ اللہ تعالیٰ کے غضب کا مستحق نہ بن جاؤں ) تو نبی اکرم ﷺ نے اپنی مٹھی بند کی ‘ اُسے حرکت دی ‘ اور فرمایا : نہ صدقہ ہے ‘ نہ جہاد ہے ‘ تو پھر تم کس بنیاد پر جنت میں داخل ہو گے ؟ ( راوی بیان کرتے ہیں : ) تو میں نے اُن سب باتوں پر نبی اکرم ﷺ کی بیعت کر لی ۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور مجحم اوسط میں نقل کی ہے ‘ روایت کے یہ الفاظ امام طبرانی کے ہیں ‘ اور امام احمد کے رجال کو ثقہ قرار دیا گیا ہے ۔

119

Majma al-Zawaid #119

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ «عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" مَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ مُخْلِصًا بِهِمَا، وَصَلَّى وَصَامَ، وَأَدَّى الزَّكَاةَ، وَحَجَّ الْبَيْتَ - حَرَّمَهُ اللَّهُ - تَعَالَى - عَلَى النَّارِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ مَسْعَدَةَ الْبَاهِلِيُّ، وَثَّقَهُ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ، وَضَعَّفَهُ النَّسَائِيُّ وَغَيْرُهُ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Mālik رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Whoever testifies that there is no deity worthy of worship except Allah and that I am the Messenger of Allah, being sincere in both, and prays, fasts, pays zakāh, and performs pilgrimage to the House — Allah Almighty has forbidden him to the Fire."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص اس بات کی گواہی دے کہ اللہ تعالٰی کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور میں ‘ اللہ کا رسول ہوں ، اور وہ شخص ان دونوں چیزوں کے بارے میں ‘ اخلاص کے ساتھ ( گواہی دے ) اور نماز ادا کرے ‘ روزہ رکھے ‘ زکوۃ دے ‘ بیت اللہ کا حج کرے ‘ تو اللہ تعالیٰ اس شخص کو جہنم پر حرام کر دے گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی علی بن مسعدہ باہلی ہے ‘ یحییٰ بن معین اور دیگر حضرات نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ‘ جبکہ امام نسائی اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔

120

Majma al-Zawaid #120

«وَعَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي عَامِرٍ أَنَّهُ اسْتَأْذَنَ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: أَئِتَّلِجُ؟ فَقَالَ: - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِخَادِمِهِ: "" اخْرُجِي إِلَيْهِ، فَإِنَّهُ لَا يُحْسِنُ الِاسْتِئْذَانَ، فَقُولِي لَهُ: فَلْيَقُلْ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ، أَأَدْخُلُ؟ "" قَالَ: فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ ذَلِكَ، فَقُلْتُ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ، أَأَدْخُلُ؟ قَالَ: فَأَذِنَ، - أَوْ قَالَ: فَدَخَلْتُ - فَقُلْتُ: بِمَا أَتَيْتَنَا؟ قَالَ: "" لَمْ آتِكُمْ إِلَّا بِخَيْرٍ، أَتَيْتُكُمْ أَنْ تَعْبُدُوا اللَّهَ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ - قَالَ شُعْبَةُ: وَأَحْسَبُهُ قَالَ: وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ - وَأَنْ تَدَعُوا اللَّاتَ وَالْعُزَّى، وَأَنْ تُصَلُّوا بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ خَمْسَ صَلَوَاتٍ، وَأَنْ تَصُومُوا مِنَ السَّنَةِ شَهْرًا، وَأَنْ تَحُجُّوا الْبَيْتَ، وَأَنْ تَأْخُذُوا مِنْ أَمْوَالِ أَغْنِيَائِكُمْ فَتَرُدُّوهَا عَلَى فُقَرَائِكُمْ "". قَالَ: فَقَالَ: هَلْ بَقِيَ مِنَ الْغَيْبِ شَيْءٌ لَا تَعْلَمُهُ؟ قَالَ: "" قَدْ عَلِمَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - خَيْرًا كَثِيرًا، وَإِنَّ مِنَ الْغَيْبِ مَا لَا يَعْلَمُهُ إِلَّا اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - الْخَمْسَ: إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ، وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ، وَيَعْلَمُ مَا فِي الْأَرْحَامِ، وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَاذَا تَكْسِبُ غَدًا، وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ، إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ» "". قُلْتُ: عِنْدَ أَبِي دَاوُدَ طَرَفٌ مِنْهُ. وَقَدْ رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ كُلُّهُمْ ثِقَاتٌ أَئِمَّةٌ.

EnglishUnverified translation

A man from Banū ʿĀmir asked permission to enter upon the Prophet ﷺ, saying, "May I enter?" using an improper expression. The Prophet ﷺ said to his servant girl: > **"Go out to him, for he does not know how to seek permission properly. Tell him to say: 'Peace be upon you (al-salāmu ʿalaykum), may I enter?'"** The man said: I heard him saying that, so I said, "Peace be upon you, may I enter?" The Prophet ﷺ granted permission, and I entered. I asked, "With what message have you come to us?" He ﷺ said: > **"I have not brought you anything except good. I have brought you [the command] that you worship Allah alone without partner — Shuʿbah said: I believe he said: alone without partner — that you abandon al-Lāt and al-ʿUzzā, that you pray five prayers by night and day, that you fast one month of the year, that you perform pilgrimage to the House, and that you take from the wealth of your rich and return it to your poor."** The man asked, "Does there remain anything of the unseen that you do not know?" He ﷺ said: > **"Allah, Mighty and Majestic, has known abundant good, and indeed of the unseen is that which none knows except Allah, Mighty and Majestic — the five: {Indeed, with Allah alone is knowledge of the Hour; He sends down the rain, and He knows what is in the wombs. No soul knows what it will earn tomorrow, and no soul knows in what land it will die. Indeed, Allah is All-Knowing, All-Aware} [Luqmān: 34]."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

بنو عامر سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب کے بارے میں یہ بات منقول ہے : انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے اجازت مانگتے ہوئے ‘ عرض کی : کیا میں اندر آ جاؤں ؟ نبی اکرم ﷺ نے کنیز سے فرمایا : تم باہر اس کے پاس جاؤ ‘ اسے صحیح طریقے سے اجازت لینا نہیں آتا ، تم اس سے کہو : کہ وہ یہ کہے : السلام علیکم کیا میں اندر آ جاؤں ؟ راوی کہتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سن لیا ‘ تو میں نے کہا : السلام علیکم کیا میں اندر آ جاؤں ؟ نبی اکرم ﷺ نے اجازت دے دی ‘ تو میں اندر آ گیا ، میں نے عرض کی : آپ ہمارے پاس کیا پیغام لے کر آئے ہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میں تم لوگوں کے پاس صرف بھلائی لے کر آیا ہوں ، میں تمہارے پاس ( یہ احکام ) لے کر آیا ہوں کہ تم لوگ صرف ‘ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو ‘ جس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ‘ وہ یکتا ہے ‘ اس کا کوئی شریک نہیں ہے ‘ ( یہاں شعبہ نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : میرا خیال ہے ‘ روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں : ) وہ یکتا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ہے اور تم لوگ لات اور عزیٰ کو چھوڑ دو ‘ اور تم لوگ رات اور دن میں پانچ نمازیں ادا کرو ‘ اور تم سال میں ایک ماہ روزے رکھو ‘ اور تم لوگ بیت اللہ کا حج کرو ‘ اور اپنے خوشحال لوگوں سے مال ( یعنی زکوٰۃ ) لے کر اپنے غریب لوگوں کی طرف لوٹا دو ‘ راوی بیان کرتے ہیں : انہوں نے دریافت کیا : کیا غیب میں سے کوئی ایسی چیز باقی رہ گئی ہے ‘ جس کا آپ کو علم نہ ہو ؟ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالی بہت سی بھلائی کا علم رکھتا ہے ‘ اور غیب میں سے کچھ امور ایسے ہیں ‘ جن کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے ‘ اُن میں پانچ چیزیں یہ ہیں : ( جن کا ذکر قرآن میں ہے : ) ’’ بے شک قیامت کا علم اللہ تعالی ہی کے پاس ہے ‘ اور وہ بارش نازل کرتا ہے اور وہ رحموں میں جو کچھ ہے ‘ اس کے بارے میں علم رکھتا ہے ‘ کوئی یہ نہیں جانتا کہ کل وہ کیا کمائے گا ‘ اور کوئی یہ نہیں جانتا کہ وہ کون سی سرزمین پر مرے گا ‘ بے شک اللہ تعالیٰ علم رکھنے والا ‘ خبر رکھنے والا ہے ‘‘۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس روایت کا کچھ حصہ امام ابوداؤد نے نقل کیا ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے تمام رجال ثقہ اور ائمہ ہیں ۔