Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 1 · Chapter 2

Book of Faith

Hadith 41–80

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

41

Majma al-Zawaid #41

«وَعَنْ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ أَنَّهُ جَاءَ بِأَمَةٍ سَوْدَاءَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ عَلَيَّ رَقَبَةً مُؤْمِنَةً، فَإِنْ كُنْتَ تَرَى هَذِهِ مُؤْمِنَةً فَأُعْتِقُهَا، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَتَشْهَدِينَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ؟ "". قَالَتْ: نَعَمْ. قَالَ: "" أَتَشْهَدِينَ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ؟ "". قَالَتْ: نَعَمْ. قَالَ: أَتُؤَمِنِينَ بِالْبَعْثِ بَعْدَ الْمَوْتِ؟ "". قَالَتْ: نَعَمْ. قَالَ: "" أَعْتِقْهَا». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

A man from the Anṣār رضي الله عنه narrated: He brought a black slave girl and said, "O Messenger of Allah, I am obligated to free a believing slave. If you consider her to be a believer, I will free her." The Messenger of Allah ﷺ asked her: "Do you testify that there is no deity worthy of worship except Allah?" She said, "Yes." He asked: "Do you testify that I am the Messenger of Allah?" She said, "Yes." He asked: "Do you believe in the Resurrection after death?" She said, "Yes." The Messenger of Allah ﷺ said: > **"Free her."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک انصاری کے بارے میں یہ بات منقول ہے : وہ ایک سیاہ فام کنیز کو لے کر آیا ‘ اور عرض کی : یا رسول اللہ ! مجھ پر ایک مؤمن گردن کو آزاد کرنا لازم ہے ‘ اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ کنیز مومن ہے ‘ تو میں اسے آزاد کر دیتا ہوں ‘ نبی اکرم ﷺ نے اس کنیز سے دریافت کیا : کیا تم اس بات کی گواہی دیتی ہو ؟ کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ؟ اس نے جواب دیا : جی ہاں ! نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کیا تم اس بات کی گواہی دیتی ہو ؟ کہ میں اللہ کا رسول ہوں ؟ اس نے جواب دیا : جی ہاں ! نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کیا تم مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے پر ایمان رکھتی ہو ؟ اس نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم ﷺ نے ( اس انصاری شخص سے ) فرمایا : تم اسے آزاد کر دو !‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

42

Majma al-Zawaid #42

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ -: «أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِجَارِيَةٍ سَوْدَاءَ أَعْجَمِيَّةٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ عَلَيَّ [عِتْقَ] رَقَبَةٍ مُؤْمِنَةٍ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَيْنَ اللَّهُ؟ "" فَأَشَارَتْ بِرَأْسِهَا إِلَى السَّمَاءِ بِأُصْبُعِهَا السَّبَّابَةِ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَنْ أَنَا؟ "" فَأَشَارَتْ بِأُصْبُعِهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَإِلَى السَّمَاءِ ; أَيْ أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ. قَالَ: "" أَعْتِقْهَا». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ لَهَا: «مَنْ رَبُّكِ؟ "" فَأَشَارَتْ بِرَأْسِهَا إِلَى السَّمَاءِ، فَقَالَتْ: اللَّهُ». وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ. قُلْتُ: وَتَأْتِي أَحَادِيثُ مِنَ الطَّبَرَانِيِّ فِي هَذَا الْبَابِ فِي كِتَابِ الْعِتْقِ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه said: A man came to the Prophet ﷺ bringing a non-Arab black slave girl, and said, "O Messenger of Allah, I am obligated to free a believing slave." The Messenger of Allah ﷺ said to her: "Where is Allah?" She gestured toward the sky with her head and index finger. The Messenger of Allah ﷺ asked her: "Who am I?" She gestured with her finger toward the Messenger of Allah ﷺ and toward the sky—signifying: you are the Messenger of Allah. He ﷺ said: > **"Free her."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص ایک سیاہ فام عجمی کنیز کو ساتھ لے کر نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ‘ اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! مجھ پر ایک مؤمن گردن کو آزاد کرنا لازم ہے ‘ نبی اکرم ﷺ نے اس کنیز سے دریافت کیا : اللہ تعالیٰ کہاں ہے ؟ تو اس نے شہادت کی انگلی اور سر کے ذریعے آسمان کی طرف اشارہ کیا ، نبی اکرم ﷺ نے اس سے دریافت کیا : میں کون ہوں ؟ اس نے اپنی انگلی کے ذریعے نبی اکرم ﷺ کی طرف اور آسمان کی طرف اشارہ کیا ، یعنی یہ کہا کہ آپ اللہ کے رسول ہیں ‘ نبی اکرم ﷺ نے ( اس شخص سے ) فرمایا : تم اسے آزاد کر دو ! یہ روایت امام احمد اور امام بزار نے ‘ اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ البتہ انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ’’ نبی اکرم ﷺ نے اس سے دریافت کیا : تمہارا پروردگار کون ہے ؟ تو اس نے سر کے ذریعے آسمان کی طرف اشارہ کیا اور بولی : اللہ تعالیٰ ہے ‘‘۔ اس روایت کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ( علامہ ہیثمی کہتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : طبرانی کی نقل کردہ احادیث جو اس موضوع سے متعلق ہیں ‘ وہ غلام آزاد کرنے سے متعلق کتاب میں آئیں گی ۔

43

Majma al-Zawaid #43

وَعَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ قَالَ: «أَنْشَدَ حَسَّانُ بْنُ ثَابِتٍ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَبْيَاتًا، فَقَالَ: شَهِدْتُ بِإِذْنِ اللَّهِ أَنَّ مُحَمَّدًا ... رَسُولُ الَّذِي فَوْقَ السَّمَاوَاتِ مِنْ عَلُ وَأَنَّ أَبَا يَحْيَى وَيَحْيَى كِلَاهُمَا ... لَهُ عَمَلٌ فِي دِينِهِ مُتَقَبَّلُ وَأَنَّ أَخَا الْأَحْقَافِ إِذْ قَامَ فِيهِمُ ... يَقُومُ بِذَاتِ اللَّهِ فِيهِمْ وَيَعْدِلُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" وَأَنَا». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَهُوَ مُرْسَلٌ.

EnglishUnverified translation

Ḥabīb ibn Abī Thābit said: Ḥassān ibn Thābit رضي الله عنه recited verses of poetry before the Prophet ﷺ, saying: "I bear witness, by Allah's leave, that Muḥammad is the Messenger of the One Who is exalted high above the heavens; And that Abū Yaḥyā and Yaḥyā—both of them— have their deeds accepted in His religion; And that the brother of Al-Aḥqāf [Hūd عليه السلام], when he stood among them, stood for the sake of Allah among them with justice." The Messenger of Allah ﷺ said: > **"And I [bear witness as well]."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حبیب بن ابوثابت بیان کرتے ہیں : حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم ﷺ کو یہ اشعار سنائے : ’’ اللہ تعالی کے اذن کے تحت میں یہ گواہی دیتا ہوں کہ حضرت محمد ﷺ اس کے رسول ہیں ، جو تمام آسمانوں سے اوپر ہے اور میں اس بات کی بھی گواہی دیتا ہوں کہ یحییٰ اور یحییٰ کے والد ( شاید یہاں حضرت یحیی علیہ السلام اور حضرت زکریا علیہ السلام مراد ہیں ) ان دونوں کا عمل ‘ جو ان کے دین کے بارے میں ہے ‘ وہ مقبول ہے ‘ اور یہ کہ احتقاف سے تعلق رکھنے والے فرد ( یعنی جس نبی کو ان لوگوں کی طرف مبعوث کیا گیا ) جب وہ اُن لوگوں کے درمیان کھڑے ہوئے ‘ تو وہ اللہ تعالیٰ کی ذات کی خاطر اُن کے درمیان کھڑے ہوئے ‘ اور عدل کرتے رہے ‘‘۔ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : میں بھی ( یعنی میں بھی اس بات کی گواہی دیتا ہوں ) ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور یہ ’’ مرسل “ ہے ۔

44

Majma al-Zawaid #44

عَنْ جَابِرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: «جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: إِنَّ لِي جَارًا مُنَافِقًا يَصْنَعُ كَذَا وَكَذَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" يَقُولُ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ؟ "" قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: "" أُولَئِكَ نُهِيتُ عَنْهُمْ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِي إِسْنَادِهِ مَسَاتِيرُ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي لَيْلَى سَيِّئُ الْحِفْظِ.

EnglishUnverified translation

Jābir رضي الله عنه said: A man came to the Prophet ﷺ and said, "I have a hypocrite neighbor who does such-and-such [wicked things]." The Messenger of Allah ﷺ asked: "Does he say: 'There is no deity worthy of worship except Allah'?" He replied, "Yes." He ﷺ said: > **"Those are the ones I have been forbidden from harming."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ‘ اور بولا : میرا پڑوسی ایک منافق شخص ہے ‘ وہ اس ‘ اس طرح کے کام کرتا ہے ‘ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کیا وہ لا الہ الاللہ پڑھتا ہے ؟ اس شخص نے جواب دیا : جی ہاں ! تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ان ( یعنی کلمہ گو ) لوگوں ( کو قتل کرنے ) سے مجھے منع کیا گیا ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ’’ مستور ‘‘ راوی ہیں ‘ اور محمد بن ابولیلی نامی راوی کا حافظہ خراب ہے ۔

45

Majma al-Zawaid #45

وَعَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ «أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ حَدَّثَهُ أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ فِي مَجْلِسٍ فَسَارَّهُ يَسْتَأْذِنُهُ فِي قَتْلِ رَجُلٍ مِنَ الْمُنَافِقِينَ، فَجَهَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" أَلَيْسَ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ؟ "". قَالَ الْأَنْصَارِيُّ: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَلَا شَهَادَةَ لَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَلَيْسَ يَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ؟ "". قَالَ: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَلَا شَهَادَةَ لَهُ. قَالَ: "" أَلَيْسَ يُصَلِّي؟ "". قَالَ: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَلَا صَلَاةَ لَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أُولَئِكَ الَّذِينَ نَهَانِي اللَّهُ عَنْهُمْ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ، وَأَعَادَهُ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَدِيِّ الْأَنْصَارِيِّ حَدَّثَهُ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.

EnglishUnverified translation

ʿUbaydullāh ibn ʿAdī ibn al-Khiyār said that a man from the Anṣār رضي الله عنه narrated to him: He came to the Prophet ﷺ while he was in a gathering, and whispered to him, seeking permission to kill a certain hypocrite. The Messenger of Allah ﷺ said aloud: "Does he not testify that there is no deity worthy of worship except Allah?" The Anṣārī man said, "Yes, O Messenger of Allah, but his testimony is of no value!" The Messenger of Allah ﷺ said: "Does he not testify that Muḥammad is the Messenger of Allah?" He said, "Yes, O Messenger of Allah, but his testimony is of no value!" He ﷺ asked: "Does he not pray?" He said, "Yes, O Messenger of Allah, but his prayer is of no value!" The Messenger of Allah ﷺ said: > **"Those are the ones whom Allah has forbidden me from killing."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبیدالله بن عدی بن خیار بیان کرتے ہیں : انصار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے انہیں یہ بات بتائی : کہ ایک مرتبہ وہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ‘ نبی اکرم ﷺ اس وقت ایک محفل میں تشریف فرما تھے ‘ اس نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ سرگوشی میں بات کرتے ہوئے ‘ آپ سے ایک منافق کو قتل کرنے کی اجازت مانگی ‘ نبی اکرم ﷺ نے بلند آواز میں دریافت کیا : کیا وہ شخص اس بات کی گواہی نہیں دیتا کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ؟ اس انصاری نے جواب دیا : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! لیکن اس کی گواہی کی کوئی حیثیت نہیں ہے ‘ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کیا وہ اس بات کی گواہی نہیں دیتا ؟ کہ حضرت محمد ﷺ ‘ اللہ کے رسول ہیں ‘ اس شخص نے جواب دیا : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! لیکن اس کی گواہی کی کوئی حیثیت نہیں ہے ‘ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کیا وہ نماز نہیں پڑھتا ہے ؟ اس شخص نے جواب دیا : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! لیکن اُس کی نماز کی کوئی حیثیت نہیں ہے ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : یہ وہ ( یعنی کلمہ گو ) لوگ ہیں ، جن ( کو قتل کرنے ) سے اللہ تعالیٰ نے مجھے منع کیا ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، انہوں نے یہی روایت دوبارہ ‘ عبیداللہ بن عدی بن خیار کے حوالے سے ‘ عبداللہ بن عدی انصاری سے نقل کی ہے کہ عبداللہ بن عدی نے انہیں یہ حدیث بیان کی اور پھر انہوں نے اسی مضمون کی حدیث ذکر کی ہے ۔

46

Majma al-Zawaid #46

وَعَنْ جَرِيرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَإِذَا قَالُوهَا عَصَمُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا، وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ -». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِي إِسْنَادِهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُيَيْنَةَ، وَقَدْ ضَعَّفَهُ الْأَكْثَرُونَ، وَقَالَ ابْنُ مَعِينٍ: كَانَ مُسْلِمًا صَدُوقًا.

EnglishUnverified translation

Jarīr رضي الله عنه said: The Messenger of Allah ﷺ said: > **"I have been commanded to fight the people until they say: 'There is no deity worthy of worship except Allah.' When they say it, their blood and wealth are protected from me, except by its rightful due, and their reckoning is with Allah, Mighty and Majestic."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جریر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے :: ’’ مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں کے ساتھ اُس وقت تک جنگ کروں ‘ جب تک وہ یہ نہیں کہہ دیتے کہ اللہ تعالی کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ‘ جب وہ یہ کہہ دیں گے ‘ تو وہ اپنی جانوں اور اموال کو مجھ سے محفوظ کر لیں گے ‘ البتہ اُن کے حق کا معاملہ مختلف ہے ‘ اور اُن لوگوں کا حساب ‘ اللہ تعالٰی کے ذمہ ہو گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن عیینہ ہے ‘ اکثر محدثین نے اسے ضعیف قرار دیا ہے یحییٰ بن معین کہتے ہیں : وہ ایک سچا مسلمان تھا ۔

47

Majma al-Zawaid #47

وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَإِذَا قَالُوا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ; عَصَمُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا، وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِي إِسْنَادِهِ مُصْعَبُ بْنُ ثَابِتٍ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَالْأَكْثَرُ عَلَى تَضْعِيفِهِ.

EnglishUnverified translation

Sahl ibn Saʿd رضي الله عنه said: The Messenger of Allah ﷺ said: > **"I have been commanded to fight the people until they say: 'There is no deity worthy of worship except Allah.' When they say: 'There is no deity worthy of worship except Allah,' their blood and wealth are protected from me, except by its rightful due, and their reckoning is with Allah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : "" مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں کے ساتھ اُس وقت تک جنگ کروں ‘ جب تک وہ یہ نہیں کہہ دیتے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ‘ جب وہ لا الہ الا اللہ کہہ دیں گے ‘ تو وہ اپنی جانوں اور اموال کو مجھ سے محفوظ کر لیں گے ‘ البتہ اُن کے حق کا معاملہ مختلف ہے ‘ اور اُن لوگوں کا حساب ‘ اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہو گا “۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی مصعب بن ثابت ہے ‘ ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے جبکہ اکثر محدثین نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔

48

Majma al-Zawaid #48

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَإِذَا قَالُوهَا عَصَمُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا، وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ، إِلَّا أَنَّ فِيهِ إِسْحَاقَ بْنَ يَزِيدَ الْخَطَّابِيَّ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما said: The Messenger of Allah ﷺ said: > **"I have been commanded to fight the people until they say: 'There is no deity worthy of worship except Allah.' When they say it, their blood and wealth are protected from me, except by its rightful due, and their reckoning is with Allah, Mighty and Majestic."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں کے ساتھ اس وقت تک جنگ کروں ‘ جب تک وہ یہ نہیں کہہ دیتے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ‘ جب وہ یہ کہہ دیں گے ‘ تو وہ اپنی جانوں اور اموال کو مجھ سے محفوظ کر لیں گے ‘ البتہ اُن کے حق کا معاملہ مختلف ہے ‘ اور اُن لوگوں کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہو گا “۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ‘ البتہ اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن یزید خطابی ہے ‘ میں اُس سے واقف نہیں ہوں ۔

49

Majma al-Zawaid #49

وَعَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَإِذَا قَالُوهَا مَنَعُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا، وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَقَالَ: وَهَذَا الْحَدِيثُ لَا أَعْلَمُهُ يُرْوَى عَنْ أَنَسٍ عَنْ أَبِي بَكْرٍ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَأَحْسَبُ أَنَّ عِمْرَانَ أَخْطَأَ فِي إِسْنَادِهِ.

EnglishUnverified translation

Abū Bakr al-Ṣiddīq رضي الله عنه said: The Messenger of Allah ﷺ said: > **"I have been commanded to fight the people until they say: 'There is no deity worthy of worship except Allah.' When they say it, they shield their blood and wealth from me, except by its rightful due, and their reckoning is with Allah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : "" مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں کے ساتھ اُس وقت تک جنگ کروں ‘ جب تک وہ یہ نہیں کہہ دیتے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ‘ جب وہ یہ کہہ دیں گے ‘ تو وہ اپنی جانوں اور اموال کو مجھ سے روک لیں ( یعنی محفوظ کر لیں ) گے ‘ البتہ ان کے حق کا معاملہ مختلف ہے ‘ اور اُن لوگوں کا حساب ‘ اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہو گا ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے : وہ فرماتے ہیں : میرے علم کے مطابق ‘ یہ روایت حضرت انس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ‘ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے منقول ہونے کے طور پر ‘ صرف اسی سند کے ساتھ منقول ہے اور میں یہ سمجھتا ہوں کہ عمران نامی راوی نے اس کی سند میں غلطی کی ہے ۔

50

Majma al-Zawaid #50

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «إِذَا شَرَعَ أَحَدُكُمْ بِالرُّمْحِ إِلَى الرَّجُلِ، فَإِنْ كَانَ سِنَانُهُ عِنْدَ ثُغْرَةِ نَحْرِهِ، فَقَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ; فَلْيَرْفَعْ عَنْهُ الرُّمْحَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِي إِسْنَادِهِ الصَّلْتُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الزُّبَيْدِيُّ، لَا تَقُومُ بِهِ حُجَّةٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Masʿūd رضي الله عنه said: The Messenger of Allah ﷺ said: > **"When one of you aims a spear at a man, even if its tip is at the hollow of his throat, and he says: 'There is no deity worthy of worship except Allah,' let him lower the spear away from him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : "" جب کوئی شخص نیزے کے ذریعے کسی ( غیر مسلم ) پر حملہ آور ہو ‘ اور جب نیزے کی نوک ‘ اُس ( غیر مسلم ) کی گردن کے اوپر ہو اور اس وقت وہ لا الہ الا اللہ پڑھ لے ‘ تو مسلمان شخص کو اُس سے نیزا اُٹھا لینا چاہیے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی صلہ بن عبدالرحمن زبیدی ہے ، جس کے ذریعے حجت قائم نہیں ہوتی ۔

51

Majma al-Zawaid #51

وَعَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَإِذَا قَالُوهَا عَصَمُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا، وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ -». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.

EnglishUnverified translation

Abū Mālik al-Ashjaʿī reported from his father رضي الله عنه that he said: The Messenger of Allah ﷺ said: > **"I have been commanded to fight the people until they say: 'There is no deity worthy of worship except Allah.' When they say it, their blood and wealth are protected from me, except by its rightful due, and their reckoning is with Allah, Mighty and Majestic."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابومالک اشجعی ‘ اپنے والد کے حوالے سے بات نقل کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں کے ساتھ اس وقت تک جنگ کروں ‘ جب تک وہ لا الہ الا اللہ نہیں پڑھ لیتے ‘ جب وہ یہ پڑھ لیں گے ‘ تو وہ اپنی جانیں اور اموال مجھ سے محفوظ کر لیں گے ‘ البتہ ان کے حق کا معاملہ مختلف ہے اور ان لوگوں کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہو گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

52

Majma al-Zawaid #52

وَعَنْ أَبِي بَكْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَإِذَا قَالُوهَا عَصَمُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا، وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ -». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِيسَى الْخَزَّازُ، وَهُوَ ضَعِيفٌ لَا يُحْتَجُّ بِهِ.

EnglishUnverified translation

Abū Bakrah رضي الله عنه said: The Messenger of Allah ﷺ said: > **"I have been commanded to fight the people until they say: 'There is no deity worthy of worship except Allah.' When they say it, their blood and wealth are protected from me, except by its rightful due, and their reckoning is with Allah, Mighty and Majestic."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : "" مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں کے ساتھ اس وقت تک جنگ کروں ‘ جب تک وہ لا الہ الا اللہ نہیں پڑھ لیتے ‘ جب وہ یہ پڑھ لیں گے ‘ تو وہ اپنی جانیں اور اموال مجھ سے محفوظ کر لیں گے ‘ البتہ ان کے حق کا معاملہ مختلف ہے اور ان لوگوں کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہو گا ""۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن عیسیٰ حجاز ہے اور وہ ضعیف ہے ‘ اس سے استدلال نہیں کیا جائے گا ۔

53

Majma al-Zawaid #53

وَعَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَإِذَا قَالُوهَا عَصَمُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا، وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ، وَاخْتُلِفَ فِي الِاحْتِجَاجِ بِهِ.

EnglishUnverified translation

Samurah ibn Jundub رضي الله عنه said: The Messenger of Allah ﷺ said: > **"I have been commanded to fight the people until they say: 'There is no deity worthy of worship except Allah.' When they say it, their blood and wealth are protected from me, except by its rightful due, and their reckoning is with Allah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں کے ساتھ اس وقت تک جنگ کروں ‘ جب تک وہ لا الہ الا اللہ نہیں پڑھ لیتے ‘ جب وہ یہ پڑھ لیں گے ‘ تو وہ اپنی جانیں اور اموال مجھ سے محفوظ کر لیں گے ‘ البتہ ان کے حق کا معاملہ مختلف ہے اور ان لوگوں کا حساب ‘ اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہو گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی مبارک بن فضالہ ہے ‘ جس سے استدلال کرنے میں اختلاف کیا گیا ہے ۔

54

Majma al-Zawaid #54

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَإِذَا قَالُوهَا عَصَمُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا ""، قِيلَ: وَمَا حَقُّهَا؟ قَالَ: "" زِنًى بَعْدَ إِحْصَانٍ، أَوْ كُفْرٌ بَعْدَ إِسْلَامٍ، أَوْ قَتْلُ نَفْسٍ فَيُقْتَلُ بِهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ هَاشِمٍ الْبَيْرُوتِيُّ، وَالْأَكْثَرُ عَلَى تَوْثِيقِهِ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Mālik رضي الله عنه said: The Messenger of Allah ﷺ said: > **"I have been commanded to fight the people until they say: 'There is no deity worthy of worship except Allah.' When they say it, their blood and wealth are protected from me, except by its rightful due."** It was asked, "And what is its rightful due?" He ﷺ said: > **"Adultery after marriage, disbelief after accepting Islam, or unlawfully taking a life, for which one is executed in return."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں کے ساتھ اس وقت تک جنگ کروں ‘ جب تک وہ لا الہ الا اللہ نہیں پڑھ لیتے ‘ جب وہ یہ پڑھ لیں گے ‘ تو وہ اپنی جانیں اور اموال مجھ سے محفوظ کر لیں گے ‘ البتہ اُن کے حق کا معاملہ مختلف ہے اور ان لوگوں کا حساب ‘ اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہو گا ، عرض کی گئی : اُن کے حق سے مراد کیا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : محصن ہونے کے باوجود زنا کا ارتکاب کرنا ‘ یا اسلام قبول کر لینے کے بعد کفر اختیار کرنا ‘ یا کسی کو قتل کرنا ‘ تو اس کے عوض میں اس شخص کو قتل کر دیا جائے گا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن ہاشم بیروتی ہے ‘ اکثر محدثین نے اس کی توثیق کی ہے ۔

55

Majma al-Zawaid #55

وَعَنْ عِيَاضٍ الْأَنْصَارِيِّ رَفَعَهُ قَالَ: «إِنَّ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ كَلِمَةٌ عَلَى اللَّهِ كَرِيمَةٌ، لَهَا عِنْدَ اللَّهِ مَكَانٌ، وَهِيَ كَلِمَةٌ مَنْ قَالَهَا صَادِقًا أَدْخَلَهُ اللَّهُ بِهَا الْجَنَّةَ، وَمَنْ قَالَهَا كَاذِبًا حَقَنَتْ دَمَهُ وَأَحْرَزَتْ مَالَهُ، وَلَقِيَ اللَّهَ غَدًا فَحَاسَبَهُ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ إِنْ كَانَ تَابِعِيَّهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ.

EnglishUnverified translation

ʿIyāḍ al-Anṣārī رضي الله عنه reported in a marfūʿ narration that the Prophet ﷺ said: > **"Indeed, 'There is no deity worthy of worship except Allah' is a word noble in the sight of Allah, holding an exalted status before Him. It is a word such that whoever says it sincerely, Allah will admit him into Paradise thereby; and whoever says it deceitfully, it protects his blood and secures his wealth in this life, and when he meets Allah tomorrow, He will call him to account."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عیاض انصاری رضی اللہ عنہ مرفوع حدیث کے طور پر نقل کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : لا الہٰ الا اللہ اللہ تعلی کی بارگاہ میں معزز کلمہ ہے ‘ جسے اللہ تعالی کی بارگاہ میں بلند حیثیت حاصل ہے ‘ یہ ایک ایسا کلمہ ہے کہ جو شخص سچے دل کے ساتھ اسے پڑھ لے گا ‘ اللہ تعالی اس کی وجہ سے اسے جنت میں داخل کر دے گا ۔ اور جو شخص جھوٹ کے طور پر اسے پڑھے گا ‘ یہ کلمہ اس کی جان بچا لے گا اور اس کے مال کو محفوظ کر دے گا ‘ کل جب وہ شخص اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو گا تو اللہ تعالیٰ اس سے حساب لے گا ۔ یہ روایت امام بزار نے روایت کی ہے ‘ اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے اگرچہ اس کا تابعی عبدالرحمن بن عبداللہ بن مسعود ہیں ۔

56

Majma al-Zawaid #56

وَعَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ قَالَ: «غَزَا عُمَارَةُ بْنُ قَرْضٍ اللَّيْثِيُّ غَزَاةً لَهُ، فَمَكَثَ فِيهَا مَا شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ رَجَعَ، حَتَّى إِذَا كَانَ قَرِيبًا مِنَ الْأَهْوَازِ سَمِعَ صَوْتَ الْأَذَانِ فَقَالَ: وَاللَّهِ مَا لِي عَهْدٌ بِصَلَاةٍ بِجَمَاعَةٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ مُنْذُ ثَلَاثٍ، وَقَصَدَ نَحْوَ الْأَذَانِ يُرِيدُ الصَّلَاةَ فَإِذَا هُوَ بِالْأَزَارِقَةِ، فَقَالُوا لَهُ: مَا جَاءَ بِكَ يَا عَدُوَّ اللَّهِ؟ فَقَالَ: مَا أَنْتُمْ إِخْوَانِي. قَالُوا: أَنْتَ أَخُو الشَّيْطَانِ، لَنَقْتُلَنَّكَ. قَالَ: أَمَا تَرْضَوْنَ مِنِّي بِمَا رَضِيَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ قَالُوا: أَيُّ شَيْءٍ رَضِيَ بِهِ مِنْكَ؟ قَالَ: أَتَيْتُهُ وَأَنَا كَافِرٌ، فَشَهِدْتُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ فَخَلَّى عَنِّي. فَأَخَذُوهُ فَقَتَلُوهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ḥumayd ibn Hilāl said: ʿUmārah ibn Qard al-Laythī went out on a military campaign, remaining there for as long as Allah willed, and then returned. When he drew near al-Ahwāz, he heard the call to prayer (adhān) and said, "By Allah, it has been three days since I last prayed in congregation with Muslims." So he headed toward the sound of the adhān intending to pray, only to find that they were Azāriqah [Khārijites]. They said to him, "What has brought you, O enemy of Allah?" He said, "Are you not my brothers?" They said, "You are the brother of Satan! We will surely kill you." He said, "Will you not be pleased with me for that which the Messenger of Allah ﷺ was pleased with from me?" They asked, "What did he accept from you?" He replied, "I came to him while I was a disbeliever, and I testified that there is no deity worthy of worship except Allah and that he is the Messenger of Allah, so he spared me." Yet they seized him and martyred him.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حمید بن ہلال بیان کرتے ہیں : حضرت عمارہ بن قرض لیثی رضی اللہ عنہ ایک جنگ میں شریک ہوئے ‘ جتنا عرصہ اللہ کو منظور تھا ‘ وہ وہاں رہے ‘ پھر وہ واپس روانہ ہو گئے ‘ جب وہ اہواز کے قریب پہنچے اور انہوں نے اذان کی آواز سنی ‘ تو بولے : اللہ کی قسم ! میں نے گزشتہ تین دن سے مسلمانوں کے ساتھ باجماعت نماز ادا نہیں کی ‘ وہ اذان کی طرف چل پڑے ‘ اُن کا ارادہ ( با جماعت ) نماز ادا کرنے کا تھا ‘ لیکن وہ مسجد ’’ ازارقہ ‘‘ ( یعنی خوارج ) کی تھی ‘ اُن لوگوں نے حضرت عمارہ رضی اللہ عنہ سے کہا : اے اللہ کے دشمن ! تم کیوں آئے ہو ؟ حضرت عمارہ رضی اللہ عنہ نے کہا : کیا تم لوگ میرے بھائی یعنی مسلمان نہیں ہو ؟ اُن لوگوں نے کہا : تم شیطان کے بھائی ہو ‘ ہم تمہیں ضرور قتل کر دیں گے ‘ تو حضرت عمارہ رضی اللہ عنہ نے کہا : کیا تم میری طرف سے اُس چیز سے راضی نہیں ہو گے ‘ جس سے اللہ کے رسول راضی ہوئے تھے ؟ اُن لوگوں نے دریافت کیا : وہ کیا چیز تھی ؟ جس کی وجہ سے اللہ کے رسول ﷺ آپ سے راضی ہوئے تھے ؟ حضرت عمارہ رضی اللہ عنہ نے بتایا : جب میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ‘ تو میں کافر تھا ‘ پھر میں نے اس بات کی گواہی دی کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ‘ اور بے شک آپ ‘ اللہ کے رسول ہیں ، تو نبی اکرم ﷺ نے مجھے چھوڑ دیا تھا ۔ ( راوی کہتے ہیں : ) لیکن اُن خوارج نے انہیں پکڑ کر شہید کر دیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

57

Majma al-Zawaid #57

وَعَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَإِذَا قَالُوهَا عَصَمُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Al-Nuʿmān ibn Bashīr رضي الله عنه reported that the Prophet ﷺ said: > **"I have been commanded to fight the people until they say: 'There is no deity worthy of worship except Allah.' When they say it, their blood and wealth are protected from me, except by its rightful due."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں کے ساتھ اس وقت تک جنگ کروں جب تک وہ لا الہ الا اللہ نہیں پڑھ لیتے ‘ جب وہ لوگ یہ پڑھ لیں گے ‘ تو وہ اپنی جانیں اور اموال مجھ سے محفوظ کر لیں گے ‘ البتہ ان کے حق کا معاملہ مختلف ہے ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

58

Majma al-Zawaid #58

«وَعَنْ مُسْلِمٍ التَّمِيمِيِّ قَالَ: بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي سَرِيَّةٍ، فَلَمَّا هَجَمْنَا عَلَى الْقَوْمِ تَقَدَّمْتُ أَصْحَابِي عَلَى فَرَسٍ، فَاسْتَقْبَلَنَا النِّسَاءُ وَالصِّبْيَانُ يَضِجُّونَ، فَقُلْتُ لَهُمْ: تُرِيدُونَ أَنْ تُحْرِزُوا أَنْفُسَكُمْ؟ قَالُوا: نَعَمْ، فَقُلْتُ: قُولُوا: نَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، فَقَالُوهَا، فَجَاءَ أَصْحَابِي فَلَامُونِي وَقَالُوا: أَشْرَفْنَا عَلَى الْغَنِيمَةِ فَمَنَعْتَنَا، ثُمَّ انْصَرَفْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" أَتَدْرُونَ مَا صَنَعَ؟ لَقَدْ كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِكُلِّ إِنْسَانٍ كَذَا وَكَذَا ""، ثُمَّ أَدْنَانِي مِنْهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِي إِسْنَادِهِ الْحَارِثُ بْنُ مُسْلِمٍ، وَهُوَ مَجْهُولٌ.

EnglishUnverified translation

Muslim al-Tamīmī رضي الله عنه said: The Messenger of Allah ﷺ sent us on an expedition. When we raided the enemy, I rode ahead of my companions on horseback, and the women and children came out screaming. I said to them, "Do you wish to secure your lives?" They said, "Yes." I said, "Say: 'We testify that there is no deity worthy of worship except Allah alone, without partner, and that Muḥammad is His servant and His Messenger.'" So they said it. My companions then caught up, reproached me, and said, "We were on the verge of taking spoils of war, and you prevented us!" When we returned to the Messenger of Allah ﷺ, he said to them: > **"Do you know what he has achieved? Allah has written for him such-and-such immense reward for every single soul."** Then he ﷺ drew me close to him.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت مسلم تمیمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : اللہ کے رسول نے ہمیں ایک جنگی مہم پر روانہ کیا ‘ جب ہم نے دشمن پر حملہ کیا ‘ تو میں گھوڑے پر سوار ہو کر ‘ اپنے ساتھیوں سے آگے نکل آیا ‘ خواتین اور بچے ہمارے سامنے آئے ‘ جو چیخ و پکار کر رہے تھے ‘ میں نے اُن سے کہا : کیا تم یہ چاہتے ہو کے اپنی جانیں بچا لو ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ! میں نے کہا : پھر تم لوگ یہ کہو : ” ہم اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ اللہ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، صرف وہی ایک معبود ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے ‘ اور حضرت محمد ﷺ اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں ‘‘ ان لوگوں نے یہ کلمہ پڑھ لیا ‘ جب میرے ساتھی آئے ‘ تو انہوں نے مجھے ملامت کی اور یہ کہا : ہمیں تو غنیمت حاصل ہونے کی توقع تھی ‘ لیکن تم نے وہ ہمیں نہیں ملنے دیا ‘ ( راوی بیان کرتے ہیں : ) جب ہم لوگ واپس نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ‘ ( تو نبی اکرم ﷺ نے ) میرے ساتھیوں سے فرمایا : کیا تم لوگ یہ جانتے ہو ؟ کہ اس نے کیا کیا ہے ( یعنی اس شخص کے اس عمل کا اجر و ثواب کتنا ہو گا ؟ اللہ تعالیٰ نے ( اسلام قبول کرنے والے ) ہر ایک انسان کے بدلے میں اتنی ‘ اتنی ( نیکیاں یا اجر و ثواب ) اسے عطا کر دیا ہے ‘ راوی بیان کرتے ہیں : پھر نبی اکرم ﷺ نے مجھے اپنے قریب کیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کی سند میں ایک راوی حارث بن مسلم ہے ‘ اور وہ مجہول ہے ۔

59

Majma al-Zawaid #59

وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ مَالِكٍ اللَّيْثِيِّ قَالَ: «بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَرِيَّةً، فَأَغَارُوا عَلَى قَوْمٍ، فَشَدَّ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ، فَاتَّبَعَهُ رَجُلٌ مِنَ السَّرِيَّةِ وَمَعَهُ السَّيْفُ شَاهِرُهُ، فَقَالَ الشَّادُّ مِنَ الْقَوْمِ: إِنِّي مُسْلِمٌ، فَلَمْ يَنْظُرْ فِيمَا قَالَ، فَضَرَبَهُ فَقَتَلَهُ، فَنَمَى الْحَدِيثُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ فِيهِ قَوْلًا شَدِيدًا بَلَغَ الْقَاتِلَ، فَبَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَخْطُبُ إِذْ قَالَ الْقَاتِلُ: وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا قَالَ الَّذِي قَالَ إِلَّا تَعَوُّذًا مِنَ الْقَتْلِ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعَمَّنْ قِبَلَهُ مِنَ النَّاسِ، وَأَخَذَ فِي خُطْبَتِهِ، ثُمَّ قَالَ الثَّانِيَةَ: وَاللَّهِ مَا قَالَ الَّذِي قَالَ إِلَّا تَعَوُّذًا مِنَ الْقَتْلِ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَخَذَ فِي خُطْبَتِهِ، فَلَمْ يَصْبِرْ أَنْ قَالَ الثَّالِثَةَ: وَاللَّهِ مَا قَالَ الَّذِي قَالَ إِلَّا تَعَوُّذًا مِنَ الْقَتْلِ، فَأَقْبَلَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تُعْرَفُ الْمَسَاءَةُ فِي وَجْهِهِ، ثُمَّ قَالَ: "" إِنَّ اللَّهَ أَبَى عَلَيَّ فِيمَنْ قَتَلَ مُؤْمِنًا [قَالَهَا] ثَلَاثًا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَأَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ بَدَلَ عُقْبَةَ بْنِ مَالِكٍ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ كُلُّهُمْ.

EnglishUnverified translation

ʿUqbah ibn Mālik al-Laythī رضي الله عنه said: The Messenger of Allah ﷺ dispatched an expedition, and they raided a tribe. A man from that tribe broke away, and a man from the expedition pursued him with an unsheathed sword. The fleeing man shouted, "I am a Muslim!" but the pursuer paid no attention to his words, struck him, and killed him. News of this reached the Messenger of Allah ﷺ, and he spoke very sternly about it until word reached the killer. While the Messenger of Allah ﷺ was delivering a sermon, the killer stood up and said, "By Allah, O Messenger of Allah, he only said what he said to seek refuge from being killed!" The Messenger of Allah ﷺ turned away from him and from the people in his direction, continuing his sermon. The man said a second time, "By Allah, he only said what he said to seek refuge from being killed!" The Messenger of Allah ﷺ turned away from him again and continued his sermon. The man could not contain himself and said a third time, "By Allah, he only said what he said to seek refuge from being killed!" The Messenger of Allah ﷺ then turned toward him, distress and displeasure clearly visible upon his face, and said: > **"Indeed, Allah has refused to accept any excuse from me regarding someone who kills a believer."** He ﷺ repeated this three times.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عقبہ بن مالک لیثی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ایک جنگی مہم روانہ کی ‘ ان لوگوں نے دشمن پر حملہ کیا تو دشمن کا ایک فرد ان سے الگ ہو گیا ‘ ایک مسلمان اس کے پیچھے تلوار لہراتا ہوا گیا ، تو الگ ہونے والے اس فرد نے یہ کہا : میں مسلمان ہوں ‘ لیکن مسلمان نے اس کی بات پر دھیان نہیں دیا اور اس پر حملہ کر کے اسے قتل کر دیا ‘ جب نبی اکرم ﷺ کو اس بات کی اطلاع ملی ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے اس پر شدید ناراضگی کا اظہار کیا ‘ اس بات کی اطلاع قتل کرنے والے مسلمان کو ملی ‘ تو نبی اکرم ﷺ خطبہ ارشاد فرما رہے تھے ‘ اسی دوران اُس شخص نے کہا : یا رسول اللہ ! اللہ کی قسم ! اس ( مقتول ) شخص نے یہ بات صرف قتل سے بچنے کے لیے کہی تھی ‘ نبی اکرم ﷺ نے اس شخص سے اور اس طرف موجود افراد سے منہ پھیر لیا ‘ اور اپنا خطبہ جاری رکھا ، اس شخص نے دوسری مرتبہ پھر یہی بات کہی : اللہ کی قسم ! اس نے قتل سے بچنے کے لیے یہ بات کہی تھی ‘ نبی اکرم ﷺ نے پھر اس سے منہ پھیر لیا اور اپنا خطبہ جاری رکھا ، اس شخص سے صبر نہیں ہوا ‘ یہاں تک کہ اس نے تیسری مرتبہ یہ کہا : اللہ کی قسم ! اس نے قتل سے بچنے کے لیے یہ بات کہی تھی ، تو نبی اکرم ﷺ اس شخص کی طرف متوجہ ہوئے ، آپ کے چہرہ مبارک پر ناگواری کے آثار واضح تھے ‘ آپ نے ارشاد فرمایا : "" جو شخص کسی مومن کو قتل کر دیتا ہے ‘ اللہ تعالٰی نے اس کے بارے میں مجھے منع کیا ہے ‘‘۔ یہ بات آپ ﷺ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ امام احمد اور امام ابویعلیٰ نے بھی اسے نقل کیا ہے ‘ تاہم انہوں نے راوی کا نام حضرت عقبہ بن مالک کی بجائے ‘ حضرت عقبہ بن خالد رضی اللہ عنہ نقل کیا ہے ‘ اس روایت کے تمام رجال ثقہ ہیں ۔

60

Majma al-Zawaid #60

«وَعَنْ جُنْدُبِ بْنِ سُفْيَانَ - رَجُلٌ مِنْ بَجِيلَةَ - قَالَ: إِنِّي لَعِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِينَ جَاءَهُ بَشِيرٌ مِنْ سَرِيَّتِهِ فَأَخْبَرَهُ بِالنَّصْرِ الَّذِي نَصَرَ اللَّهُ سَرِيَّتَهُ، وَبِالْفَتْحِ الَّذِي فَتَحَ اللَّهُ لَهُمْ، وَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، بَيْنَا نَحْنُ نَطْلُبُ الْقَوْمَ وَقَدْ هَزَمَهُمُ اللَّهُ - تَعَالَى - إِذْ لَحِقْتُ رَجُلًا بِالسَّيْفِ، فَوَاقَعْتُهُ وَهُوَ يَسْعَى وَهُوَ يَقُولُ: إِنِّي مُسْلِمٌ، إِنِّي مُسْلِمٌ. قَالَ: "" فَقَتَلْتَهُ؟ "" فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّمَا تَعَوَّذَ. قَالَ: "" فَهَلَّا شَقَقْتَ عَنْ قَلْبِهِ فَنَظَرْتَ أَصَادِقٌ هُوَ أَمْ كَاذِبٌ "" قَالَ: لَوْ شَقَقْتُ عَنْ قَلْبِهِ مَا كَانَ عِلْمِي؟ هَلْ قَلْبُهُ إِلَّا بَضْعَةٌ مِنْ لَحْمٍ؟ قَالَ: "" لَا مَا فِي قَلْبِهِ تَعْلَمُ، وَلَا لِسَانَهُ صَدَّقْتَ! "" قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اسْتَغْفِرْ لِي. قَالَ: "" لَا أَسْتَغْفِرُ لَكَ "" فَمَاتَ ذَلِكَ الرَّجُلُ فَدَفَنُوهُ، فَأَصْبَحَ عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ، ثُمَّ دَفَنُوهُ فَأَصْبَحَ عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَلَمَّا رَأَوْا ذَلِكَ اسْتَحْيَوْا وَخَزُوا لِمَا لَقِيَ، فَاحْتَمَلُوهُ فَأَلْقَوْهُ فِي شِعْبٍ مِنْ تِلْكَ الشِّعَابِ». قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَأَبُو يَعْلَى، وَفِي إِسْنَادِهِ عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَهْرَامَ وَشَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ، وَقَدِ اخْتُلِفَ فِي الِاحْتِجَاجِ بِهِمَا.

EnglishUnverified translation

Jundub ibn Sufyān رضي الله عنه—a man from Bajīlah—said: I was with the Messenger of Allah ﷺ when a bearer of glad tidings arrived from one of his military detachments, informing him of the victory and conquest that Allah had granted them. The man said, "O Messenger of Allah, while we were pursuing the enemy after Allah had routed them, I caught up with a man with my sword. As I fell upon him, he ran saying: 'I am a Muslim! I am a Muslim!'" The Prophet ﷺ asked: > **"And did you kill him?"** The man said, "O Messenger of Allah, he only said it to seek refuge." He ﷺ said: > **"Why did you not tear open his heart to see whether he was truthful or lying?!"** The man said, "Even if I had torn open his heart, what would I have known? Is his heart anything more than a lump of flesh?" He ﷺ said: > **"You could not know what was in his heart, nor did you believe what his tongue declared!"** The man pleaded, "O Messenger of Allah, pray for my forgiveness!" He ﷺ said: > **"I will not pray for your forgiveness."** When that man died, they buried him, but the next morning his body was found cast out upon the surface of the earth. They buried him again, but the next morning he was again found on the surface of the earth. This occurred three times. When they saw that, they felt disgraced and ashamed at what had befallen him, so they carried him and cast him into one of those mountain ravines.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جندب بن سفیان رضی اللہ عنہ ‘ جن کا تعلق ’’ بجیلہ ‘‘ قبیلے سے ہے ‘ وہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کے پاس موجود تھا ‘ جب ایک جنگی مہم کی طرف سے خوش خبری سنانے والا ایک شخص آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کو یہ اطلاع دی : کہ اللہ تعالی نے اس جنگی مہم کی مدد کرتے ہوئے انہیں کامیابی عطا کی ہے اور انہیں فتح نصیب کر دی ہے ‘ اس شخص نے یہ بھی بتایا : یا رسول اللہ ! جب اللہ تعالیٰ نے دشمن کو پسپا کر دیا اور ہم ان کا تعاقب کر رہے تھے ‘ اس دوران میں تلوار لے کر ایک شخص کے پاس پہنچا ‘ میں اس پر حملہ کرنے لگا ‘ تو وہ دوڑ پڑا اور بولا : میں مسلمان ہوں ‘ میں مسلمان ہوں ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : تو کیا تم نے اسے قتل کر دیا ؟ اس شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! وہ بچنا چاہ رہا تھا ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم نے اس کا دل کیوں نہیں چیر دیا ؟ تاکہ تم یہ دیکھ لیتے کہ کیا وہ سچا ہے ‘ یا جھوٹا ہے ؟ اس شخص نے عرض کی : اگر میں اس کا دل چیر بھی لیتا ، تو بھی مجھے یہ پتہ نہیں چل سکتا تھا ، کیونکہ اس کا دل تو صرف گوشت کا ایک لوتھڑا ہے ‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اُس کے دل میں جو تھا ‘ نہ تو تم اس کے بارے میں جان سکتے تھے ‘ اور نہ ہی تم نے اُس کی زبان کی تصدیق کی ، اس شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ میرے لیے دعائے مغفرت کیجیے ! نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میں تمہارے لئے دعائے مغفرت نہیں کروں گا ۔ راوی بیان کرتے ہیں : جب وہ شخص مر گیا اور لوگوں نے اسے دفن کر دیا ، تو اگلے دن اس کی لاش ( قبر سے باہر ) زمین پر پڑی ہوئی تھی ‘ لوگوں نے اسے دوبارہ دفن کیا ‘ ( تو اگلے دن ) اس کی لاش پھر زمین پر پڑی ہوئی تھی ‘ ایسا تین مرتبہ ہوا ‘ جب لوگوں نے یہ صورت حال دیکھی ، تو اس شخص کے معاملے کے حوالے سے انہیں حیا محسوس ہوئی اور شرمندگی محسوس ہوئی ، تو لوگوں نے اس کی لاش اُٹھا کر ایک گڑھے میں ڈال دی ۔ ( علامہ ہیثمی کہتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ’’ صحیح ‘‘ میں اختصار کے ساتھ منقول ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں اور امام ابویعلیٰ نے بھی نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں دو راوی ‘ عبدالحمید بن بہرام اور شہر بن حوشب ہیں ‘ ان دونوں سے استدلال کرنے کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے ۔

61

Majma al-Zawaid #61

وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «عَلَى مَا أُقَاتِلُ النَّاسَ إِلَّا عَلَى الْإِسْلَامِ، وَاللَّهِ لَا أَسْتَغْفِرُ لَكَ» أَوْ كَمَا قَالَ. قُلْتُ: ذُكِرَ هَذَا فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ فِي الْفِتَنِ، وَهَذَا لَفْظُهُ. وَفِي إِسْنَادِهِ رَجُلٌ مَجْهُولٌ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ.

EnglishUnverified translation

ʿImrān ibn Ḥuṣayn رضي الله عنه said: The Messenger of Allah ﷺ said: > **"For what else do I fight the people except for Islam?! By Allah, I will not pray for your forgiveness!"** —or as he ﷺ said.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ( یعنی مذکورہ بالا روایت میں یہ الفاظ ہیں : ) ’’ میں لوگوں کے ساتھ صرف اسلام کی بنیاد پر جنگ کرتا ہوں ‘ اللہ کی قسم ! میں تمہارے لیے دعائے مغفرت نہیں کروں گا ‘‘ ( راوی بیان کرتے ہیں : ) یا جس طرح بھی آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا ۔ ( علامہ ہیثمی کہتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ بات ایک طویل حدیث میں ذکر کی گئی ہے ‘ جسے امام ابن ماجہ نے فتنوں سے متعلق باب میں نقل کیا ہے ‘ اور یہ الفاظ اُن کے نقل کردہ ہیں ، اس کی سند میں ایک مجہول شخص ہے ‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔

62

Majma al-Zawaid #62

«وَعَنْ قُطْبَةَ بْنِ قَتَادَةَ السَّدُوسِيِّ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ابْسُطْ يَدَكَ أُبَايِعْكَ عَلَى نَفْسِي وَعَلَى ابْنَتِي الْحُوَيْصَلَةِ، وَلَوْ كَذَبْتُ عَلَى اللَّهِ لَخَدَعْتُكَ، قَالَ: وَحَمَلَ عَلَيْنَا خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ، [فِي خَيْلِهِ] فَقُلْنَا: إِنَّا مُسْلِمُونَ، فَتَرَكَنَا، وَغَزَوْنَا مَعَهُ الْأُبُلَّةَ، فَفَتَحَهَا، فَمَلَأْنَا أَيْدِيَنَا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِي إِسْنَادِهِ رَجُلٌ مَجْهُولٌ وَهُوَ قَتَادَةُ الَّذِي رَوَاهُ عَنْ قُطْبَةَ لَمْ أَرَ أَحَدًا ذَكَرَهُ.

EnglishUnverified translation

Quṭbah ibn Qatādah al-Sadūsī رضي الله عنه said: I said, "O Messenger of Allah, stretch out your hand so that I may pledge allegiance to you on behalf of myself and my daughter Al-Ḥuwayṣilah; for if I were to lie against Allah, I would be deceiving you." He said: And Khālid ibn al-Walīd attacked us with his cavalry, so we said, "We are Muslims!" and he spared us. Then we participated with him in the battle of Al-Ubullah; it was conquered, and our hands were filled [with spoils of war].

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت قطبہ بن قتادہ سدوی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ اپنا دست مبارک آگے کیجیئے ‘ تاکہ میں اپنی ذات اور اپنی بیٹی ” حویصلہ "" کے حوالے سے ‘ آپ کی بیعت کر لوں ‘ اور اگر میں اللہ کی طرف جھوٹی بات منسوب کروں گا ‘ تو میں آپ کو دھوکا دوں گا ۔ حضرت قطبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے اپنے شہسواروں کے ساتھ ہم پر حملہ کیا تھا ‘ تو ہم نے کہا : ہم مسلمان ہیں ، تو انہوں نے ہمیں چھوڑ دیا ہم نے حضرت خالد رضی اللہ عنہ کے ہمراہ جنگ ’’ ابلہ ‘‘ میں حصہ لیا تھا ‘ انہیں فتح نصیب ہوئی ‘ تو انہوں نے ہمارے ہاتھ ( مال غنیمت کے ذریعے ) بھر دیے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک مجہول راوی ہے ‘ اور وہ قتادہ نامی شخص ہے ‘ جس نے حضرت قطبہ رضٰ اللہ عنہ کے حوالے سے یہ روایت نقل کی ہے ۔ ( علامہ ہیثمی کہتے ہیں : ) میں نے ایسا کوئی شخص نہیں دیکھا ، جس نے اس راوی ( قتادہ ) کا ذکر کیا ہو ۔

63

Majma al-Zawaid #63

«وَعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي ذِيَابٍ قَالَ: قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَسْلَمْتُ، وَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اجْعَلْ لِقَوْمِي مَا أَسْلَمُوا عَلَيْهِ مِنْ أَمْوَالِهِمْ، فَفَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَاسْتَعْمَلَنِي عَلَيْهِمْ، ثُمَّ اسْتَعْمَلَنِي أَبُو بَكْرٍ مِنْ بَعْدِهِ، ثُمَّ اسْتَعْمَلَنِي عُمَرُ مِنْ بَعْدِهِ». رَوَاهُ الْإِمَامُ أَحْمَدُ وَسَمَّاهُ فِي مَكَانٍ آخَرَ سَعِيدًا، وَذَكَرَ لَهُ هَذَا الْحَدِيثَ بِإِسْنَادِهِ. وَاللَّهُ أَعْلَمُ. وَفِي إِسْنَادِهِ مُنِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، وَهُوَ مَجْهُولٌ، وَقَدْ ضَعَّفَهُ الْأَزْدِيُّ أَيْضًا.

EnglishUnverified translation

Saʿd ibn Abī Dhiyāb رضي الله عنه said: I came to the Messenger of Allah ﷺ and embraced Islam. I said, "O Messenger of Allah, allow my people to keep the property and wealth they held upon embracing Islam." The Messenger of Allah ﷺ did so, and appointed me as governor over them. Subsequently, Abū Bakr appointed me after him, and then ʿUmar appointed me after him.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سعد بن ابو زیاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ‘ میں نے اسلام قبول کر لیا تو میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میری قوم کے افراد جن اموال ( یعنی زمینوں ) سمیت اسلام قبول کریں گے ‘ آپ وہ ( زمینیں ) ان لوگوں کی ملکیت رہنے دیں ، تو نبی اکرم ﷺ نے ایسا ہی کیا ‘ اور آپ ﷺ نے مجھے ان لوگوں پر عامل مقرر کر دیا ‘ نبي اکرم ﷺ کے بعد ‘ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھے عامل مقرر کیا ‘ اور اُن کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بھی مجھے ہی عامل مقرر کیا ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور دوسرے مقام پر ‘ انہوں نے راوی کا نام ’’ سعید ‘‘ ( بن ابوذیاب ) نقل کیا ہے اور اپنی سند کے ساتھ ‘ اس راوی کے حوالے سے یہی حدیث نقل کی ہے ‘ باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی منیر بن عبداللہ ہے اور وہ مجہول ہے ‘ ازدی نے بھی اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔

64

Majma al-Zawaid #64

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: «كَتَبَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى الْمُنْذِرِ بْنِ سَاوَى: "" مَنْ صَلَّى صَلَاتَنَا وَأَكَلَ ذَبِيحَتَنَا فَذَاكُمُ الْمُسْلِمُ، لَهُ ذِمَّةُ اللَّهِ وَذِمَّةُ الرَّسُولِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِي إِسْنَادِهِ الْحَسَنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْحُلْوَانِيُّ، وَلَمْ أَرَ أَحَدًا ذَكَرَهُ، وَهُوَ أَيْضًا مِنْ رِوَايَةِ أَبِي عُبَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ، وَلَمْ يَسْمَعْ مِنْهُ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Masʿūd رضي الله عنه said: The Messenger of Allah ﷺ wrote to Al-Mundhir ibn Sāwā: > **"Whoever prays our prayer and eats our slaughtered meat, then that is the Muslim; he possesses the covenant of protection from Allah and the covenant of protection from the Messenger of Allah ﷺ."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے مندر بن ساویٰ کو خط میں یہ لکھا تھا : ’’ جو شخص ہماری نماز ادا کرے ‘ اور وہ ہمارا ذبیحہ کھائے ، تو وہ مسلمان شمار ہو گا ‘ اور اُس کے لئے اللہ اور اس کے رسول کے ذمہ ( ثابت ) ہو گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کی سند میں ایک راوی حسن بن ادریس حلوانی ہے ‘ ( علامہ ہیثمی کہتے ہیں : ) میں نے کسی کو اس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ‘ نیز یہ روایت ابوعبیدہ نے اپنے والد ( حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ) سے نقل کی ہے ‘ حالانکہ انہوں ( یعنی ابوعبیدہ ) نے اپنے والد ( حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ) سے سماع نہیں کیا ہے ۔

65

Majma al-Zawaid #65

وَعَنْ جُنْدُبٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «مَنْ صَلَّى صَلَاتَنَا وَاسْتَقْبَلَ قِبْلَتَنَا وَأَكَلَ ذَبِيحَتَنَا، فَذَاكَ الْمُسْلِمُ، لَهُ ذِمَّةُ اللَّهِ وَذِمَّةُ رَسُولِهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَعُبَيْدُ بْنُ عُبَيْدَةَ التَّمَّارُ لَمْ أَقِفْ لَهُ عَلَى تَرْجَمَةٍ.

EnglishUnverified translation

Jundub رضي الله عنه said: The Messenger of Allah ﷺ said: > **"Whoever prays our prayer, faces our Qiblah, and eats our slaughtered meat, that is the Muslim; he has the covenant of protection from Allah and the covenant of protection from His Messenger."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ جو شخص ہماری نماز ادا کرے ‘ اور ہمارے قبلہ کی طرف رُخ کرے اور ہمارا ذبیحہ کھائے ‘ وہ مسلمان شمار ہو گا ، اُس کے لیے اللہ کا ‘ اور اُس کے رسول کا ذمہ ( ثابت ) ہو گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ عبید بن عبیدہ تمار ‘ نامی راوی کے حالات سے میں واقف نہیں ہو سکا ۔

66

Majma al-Zawaid #66

«وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَاعِزٍ أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" إِنَّ مَاعِزًا أَسْلَمَ أَحْرَزَ مَالَهُ، وَإِنَّهُ لَا يَجْنِي عَلَيْهِ إِلَّا يَدُهُ ""، فَبَايَعْتُ عَلَى ذَلِكَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِي إِسْنَادِهِ هُنَيْدُ بْنُ الْقَاسِمِ، وَهُوَ مَجْهُولٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Māʿiz رضي الله عنه said: He came to the Prophet ﷺ, and he ﷺ said: > **"Indeed, Māʿiz embraced Islam and thereby secured his wealth, and no crime shall be held against him except what his own hand commits."** So I pledged allegiance to him upon that.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن ماعز رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : وہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ماعز نے اسلام قبول کیا ، تو اپنا مال محفوظ کر لیا ، اب اُس کے خلاف صرف اُس کا اپنا ہاتھ ہی جنایت کرے گا ۔ راوی کہتے ہیں : تو اس بات پر ‘ میں نے نبی اکرم ﷺ کی بیعت کر لی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی ہنید بن قاسم ہے اور وہ مجہول ہے ۔

67

Majma al-Zawaid #67

«عَنْ مَالِكِ بْنِ أَحْمَرَ أَنَّهُ لَمَّا بَلَغَهُ قُدُومُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَفَدَ إِلَيْهِ، فَقَبِلَ إِسْلَامَهُ، وَسَأَلَهُ أَنْ يَكْتُبَ لَهُ كِتَابًا يَدْعُو بِهِ إِلَى الْإِسْلَامِ، فَكَتَبَ لَهُ فِي رُقْعَةٍ مِنْ أَدَمٍ: "" بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، هَذَا كِتَابٌ مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِمَالِكِ بْنِ أَحْمَرَ وَلِمَنِ اتَّبَعَهُ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، أَمَانًا لَهُمْ مَا أَقَامُوا الصَّلَاةَ، وَآتَوُا الزَّكَاةَ، وَاتَّبَعُوا الْمُسْلِمِينَ، وَجَانَبُوا الْمُشْرِكِينَ، وَأَدَّوُا الْخُمُسَ مِنَ الْمَغْنَمِ، وَسَهْمَ الْغَارِمِينَ، وَسَهْمَ كَذَا، وَسَهْمَ كَذَا - فَهُمْ آمِنُونَ بِأَمَانِ اللَّهِ وَأَمَانِ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِي إِسْنَادِهِ سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ الْجُذَامِيُّ، وَلَمْ أَقِفْ لَهُ عَلَى تَرْجَمَةٍ.

EnglishUnverified translation

Mālik ibn Aḥmar رضي الله عنه said: When news of the arrival of the Messenger of Allah ﷺ reached him, he traveled to him as part of a delegation. The Prophet ﷺ accepted his Islam, and Mālik requested that he write a document for him with which he could invite his people to Islam. So he ﷺ had written for him on a piece of leather: > **"In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful. This is a document from Muḥammad, the Messenger of Allah ﷺ, for Mālik ibn Aḥmar and for those who follow him among the Muslims: safety and protection for them as long as they establish the prayer, pay the zakāh, align with the Muslims, keep apart from the polytheists, and pay the fifth (khumus) of the war booty, the share of the indebted, and such-and-such share—then they are secure under the protection of Allah and the protection of Muḥammad, the Messenger of Allah ﷺ."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت مالک بن احمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب انہیں نبی اکرم ﷺ کی تشریف آوری کی اطلاع ملی ‘ تو وہ وفد کی شکل میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے یہ درخواست کی کہ آپ ﷺ ان کے لیے کوئی تحریر لکھوا دیں ، جس میں انہیں اسلام کی دعوت دی گئی ہو ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے اُن کے لئے چمڑے کے ٹکڑے پر یہ تحریر لکھوائی : اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے ‘ جو بڑا مہربان ‘ نہایت رحم کرنے والا ہے ‘ یہ تحریر ‘ اللہ کے رسول حضرت محمد ﷺ کی طرف سے ‘ مالک بن احمر کے لیے ‘ اور ان کی پیروی کرنے والے مسلمانوں کے لئے ہے ‘ یہ ان کے لیے امان نامہ ہے ‘ جب تک وہ نماز قائم کرتے رہیں گے ‘ زکوۃ دیتے رہیں گے ‘ مسلمانوں کی پیروی کرتے رہیں گے مشرکین سے لاتعلق رہیں گے ‘ مال غنیمت میں سے خمس ادا کریں گے ‘ غار مین کا حصہ ‘ اور فلاں حصہ ‘ اور فلاں حصہ ادا کریں گے ‘ تو یہ لوگ ‘ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملنے والی امان ‘ اور اللہ کے رسول حضرت محمد ﷺ کی طرف سے ملنے والی امان کے تحت محفوظ رہیں گئے ""۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی سعید بن منصور جزامی ہے ‘ میں اُس کے حالات سے واقف نہیں ہو سکا ۔

68

Majma al-Zawaid #68

«وَعَنْ أَبِي شَدَّادٍ - رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ ذِمَارِ مِنْ قَرْيَةٍ مِنْ قُرَى عُمَانَ - قَالَ: جَاءَنَا كِتَابُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى أَهْلِ عُمَانَ: "" سَلَامٌ، أَمَّا بَعْدُ: فَأَقِرُّوا بِشَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ، وَأَدُّوا الزَّكَاةَ، وَإِلَّا غَزَوْتُكُمْ "". قَالَ أَبُو شَدَّادٍ: فَلَمْ أَجِدْ أَحَدًا يَقْرَأُ عَلَيْنَا الْكِتَابَ حَتَّى وَجَدْنَا غُلَامًا أَسْوَدَ، فَقَرَأَ عَلَيْنَا الْكِتَابَ، فَقُلْتُ لِأَبِي شَدَّادٍ: مَنْ كَانَ عَلَى أَهْلِ عُمَانَ يَلِي أَمْرَهُمْ؟ قَالَ: إِسْوَارٌ مِنْ أَسَاوِرَةِ كِسْرَى يُقَالُ لَهُ: سُبَيْحِبَانُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَإِسْنَادُهُ لَمْ أَرَ أَحَدًا ذَكَرَهُمْ إِلَّا أَنَّ الطَّبَرَانِيَّ قَالَ: تَفَرَّدَ بِهِ مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ. قُلْتُ: وَلَيْسَ بِالتَّبُوذَكِيِّ ; لِأَنَّ هَذَا يَرْوِي عَنِ التَّابِعِينَ. وَاللَّهُ أَعْلَمُ.

EnglishUnverified translation

Abū Shaddād رضي الله عنه—a man from the people of Dhimār, a town in Oman—said: The letter of the Messenger of Allah ﷺ came to the people of Oman: > **"Peace be upon you. To proceed: Affirm the testimony that there is no deity worthy of worship except Allah and that I am the Messenger of Allah, and pay the zakāh; otherwise, I will wage war against you."** Abū Shaddād said: We could find no one to read the letter to us until we found a young black boy, and he read the letter to us. The sub-narrator asked Abū Shaddād, "Who was governing the affairs of the people of Oman at that time?" He replied, "An Aswār [commander] from among the commanders of Chosroes (Kisrā) who was called Subayḥibān."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوشداد ‘ جن کا تعلق عمان کی ایک بستی ’’ زمار سے ہے ‘ وہ بیان کرتے ہیں : ہمارے پاس نبی اکرم ﷺ کا مکتوب آیا ‘ جو اہل عمان کی طرف تھا ( اس میں یہ تحریر تھا : ) ’’ تم لوگ اس بات کی گواہی کا اقرار کرو ! کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ‘ اور میں ‘ اللہ کا رسول ہوں ، تم لوگ زکوۃ ادا کرو ! ورنہ میں تمہارے ساتھ جنگ کروں گا “۔ حضرت ابوشداد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : مجھے کوئی ایسا شخص نہیں ملا ‘ جو ہمیں وہ مکتوب پڑھ کر سناتا ‘ آخر کار ایک سیاہ فام لڑکا ملا ‘ اس نے ہمیں وہ مکتوب پڑھ کر سنایا ۔ راوی بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت ابوشداد رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا : اس وقت اہل عمان کا حکمران کون تھا ؟ انہوں نے جواب دیا : کسریٰ کی طرف سے مقرر کردہ ایک گورنر تھا ‘ جس کا نام سبیہان تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند کے حوالے سے ‘ میں نے کسی کو ان راویوں کا ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ‘ البتہ امام طبرانی نے یہ بات بیان کی ہے : موسیٰ بن اسماعیل اسے نقل کرنے میں منفرد ہے ( علامہ ہیثمی کہتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ راوی ’’ تبوذ کی ‘‘ نہیں ہے ‘ کیونکہ یہ تابعین سے روایات نقل کرتا ہے ‘ باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔

69

Majma al-Zawaid #69

«وَعَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَمِقِ قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَرِيَّةً فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّكَ بَعَثْتَنَا وَلَيْسَ لَنَا زَادٌ وَلَا لَنَا طَعَامٌ، وَلَا عِلْمَ لَنَا بِالطَّرِيقِ. قَالَ: "" إِنَّكُمْ سَتَمُرُّونَ بِرَجُلٍ صَبِيحِ الْوَجْهِ، يُطْعِمُكُمْ مِنَ الطَّعَامِ، وَيَسْقِيكُمْ مِنَ الشَّرَابِ، وَيَدُلُّكُمْ عَلَى الطَّرِيقِ، وَهُوَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ "". فَلَمَّا نَزَلَ الْقَوْمُ عَلَيَّ جَعَلَ يُشِيرُ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ، وَيَنْظُرُونَ إِلَيَّ، فَقُلْتُ: يُشِيرُ بَعْضُكُمْ إِلَى بَعْضٍ، وَتَنْظُرُونَ إِلَيَّ! فَقَالُوا: أَبْشِرْ بِبُشْرَى مِنْ عِنْدِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ ; فَإِنَّا نَعْرِفُ فِيكَ نَعْتَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرُونِي بِمَا قَالَ، فَأَطْعَمْتُهُمْ، وَسَقَيْتُهُمْ، وَزَوَّدْتُهُمْ، وَخَرَجْتُ مَعَهُمْ حَتَّى دَلَلْتُهُمْ عَلَى الطَّرِيقِ، ثُمَّ رَجَعْتُ إِلَى أَهْلِي فَأَوْصَيْتُهُمْ بِإِبِلِي، ثُمَّ خَرَجْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ: مَا الَّذِي تَدْعُو إِلَيْهِ؟ قَالَ: "" أَدْعُو إِلَى شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ، وَإِقَامِ الصَّلَاةِ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ، وَحَجِّ الْبَيْتِ، وَصَوْمِ رَمَضَانَ ""، فَقُلْتُ: إِذَا أَجَبْنَاكَ إِلَى هَذَا فَنَحْنُ آمِنُونَ عَلَى أَهْلِنَا وَأَمْوَالِنَا وَدِمَائِنَا؟ قَالَ: "" نَعَمْ ""، فَأَسْلَمْتُ وَرَجَعْتُ إِلَى قَوْمِي فَأَعْلَمْتُهُمْ بِإِسْلَامِي، فَأَسْلَمَ عَلَى يَدَيَّ بَشَرٌ كَثِيرٌ مِنْهُمْ». قُلْتُ: فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَهُوَ بِتَمَامِهِ فِي الْمَنَاقِبِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِي إِسْنَادِهِ صَخْرُ بْنُ الْحَارِثِ عَنْ عَمِّهِ، وَلَمْ أَرَ أَحَدًا ذَكَرَهُمَا. وَاللَّهُ أَعْلَمُ.

EnglishUnverified translation

ʿAmr ibn al-Ḥamiq رضي الله عنه said: The Messenger of Allah ﷺ was dispatching an expedition, and they said, "O Messenger of Allah, you are sending us out while we have neither provisions nor food, nor do we know the road." He ﷺ said: > **"You will surely pass by a man of radiant countenance who will feed you with food, give you drink, and guide you along the road; and he is from the people of Paradise."** When the troop halted at my dwelling, they began gesturing to one another and looking at me. I said, "Why are you gesturing to one another and looking at me?" They said, "Rejoice in glad tidings from Allah and His Messenger, for we recognize in you the description given by the Messenger of Allah ﷺ!" They informed me of what he had said, so I fed them, gave them drink, provided them with provisions, and went out with them until I guided them along the road. Then I returned to my family and entrusted my camels to them. Thereafter, I traveled to the Messenger of Allah ﷺ and asked, "What is it that you call to?" He ﷺ said: > **"I call to the testimony that there is no deity worthy of worship except Allah and that I am the Messenger of Allah, the establishment of prayer, the payment of zakāh, the Pilgrimage to the House, and fasting during Ramaḍān."** I asked, "If we respond to you in this, will our families, our wealth, and our blood be safe?" He ﷺ said: > **"Yes."** So I embraced Islam and returned to my people, informing them of my Islam, and a large number of them accepted Islam at my hands.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمرو بن حمق رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ ایک جنگی مہم روانہ کرنے لگے ‘ تو ان لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ ہمیں روانہ کرنے لگے ہیں ، لیکن ہمارے پاس نہ تو زاد سفر ہے ‘ اور نہ ہی اناج ہے ‘ اور نہ ہی ہمیں راستے کا علم ہے ‘ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تمہارا گزر ایک شخص کے پاس سے ہو گا ، جس کا چہرہ خوبصورت ہو گا ‘ وہ تمہیں کھانا بھی فراہم کرے گا ‘ اور مشروب بھی پلائے گا ‘ اور راستے کے بارے میں بھی بتائے گا اور وہ شخص جنتی ہو گا ، حضرت عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب ان لوگوں نے میرے پاس پڑاؤ کیا ، تو وہ ایک دوسرے کی طرف اشارہ کرنے لگے ‘ اور میری طرف دیکھنے لگے ‘ میں نے کہا : تم لوگ میری طرف دیکھ کر ایک دوسرے کو کیا اشارے کر رہے ہو ؟ ان لوگوں نے کہا : تم اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے خوش خبری قبول کرو ! کیونکہ ہمیں تمہارے اندر وہ نشانی نظر آ رہی ہے ‘ جو اللہ کے رسول نے بیان کی تھی ، پھر ان لوگوں نے مجھے نبی اکرم ﷺ کے ارشاد کے بارے میں بتایا ‘ تو میں نے انہیں کھانا فراہم کیا ، مشروب فراہم کیا ، زاد سفر دیا اور ان کے ساتھ نکل کر گیا ‘ یہاں تک کہ میں نے راستے کے بارے میں ان کی رہنمائی کی ‘ پھر میں اپنے گھر والوں کے پاس واپس آیا ‘ انہیں اپنے اونٹوں کے بارے میں ہدایات دیں ، اور پھر نبی اکرم ﷺ کی طرف روانہ ہو گیا ‘ ( آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہونے کے بعد ) میں نے دریافت کیا : آپ کس چیز کی طرف دعوت دیتے ہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : میں اس بات کی گواہی دینے کی طرف دعوت دیتا ہوں : کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ‘ اور میں ‘ اللہ کا رسول ہوں ‘ اور نماز قائم کرنے ، زکوۃ ادا کرنے ‘ بیت اللہ کا حج کرنے اور رمضان کے روزے رکھنے ( کی طرف بھی دعوت دیتا ہوں ) میں نے دریافت کیا : اگر ہم اس دعوت کو قبول کر لیتے ہیں ، تو کیا ہم اپنے اہل خانہ ‘ اپنے اموال اور اپنی جانوں کے حوالے سے محفوظ ہوں گے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! تو میں نے اسلام قبول کر لیا ، پھر میں اپنی قوم کی طرف واپس گیا اور انہیں اپنے اسلام قبول کرنے کے بارے میں بتایا ‘ تو ان میں سے بہت سے افراد نے میرے ہاتھ پر اسلام قبول کر لیا ۔ ( علامہ ہیثمی بیان کرتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے اور یہ مکمل روایت ’’ مناقب ‘‘ سے متعلق باب میں آئے گی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی صخر بن حارث ہے جس نے اپنے چچا سے یہ روایت نقل کی ہے ‘ لیکن میں نے کسی کو ان دونوں کا ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ۔

70

Majma al-Zawaid #70

«وَعَنْ عُمَيْرٍ قَالَ: جَاءَنَا كِتَابُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ إِلَى عُمَيْرٍ ذِي مَرَّانَ وَمَنْ أَسْلَمَ مِنْ هَمْدَانَ، سَلَامٌ عَلَيْكُمْ، فَإِنِّي أَحْمَدُ إِلَيْكُمُ اللَّهَ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ. أَمَّا بَعْدُ: فَإِنَّهُ قَدْ بَلَغَنَا إِسْلَامُكُمْ بَعْدَ مَقْدِمِنَا مِنْ أَرْضِ الرُّومِ، فَأَبْشِرُوا ; فَإِنَّ اللَّهَ قَدْ هَدَاكُمْ بِهِدَايَتِهِ ; فَإِنَّكُمْ إِذَا شَهِدْتُمْ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، وَأَقَمْتُمُ الصَّلَاةَ، وَأَعْطَيْتُمُ الزَّكَاةَ - فَإِنَّ لَكُمْ ذِمَّةَ اللَّهِ وَذِمَّةَ رَسُولِهِ عَلَى دِمَائِكُمْ وَأَمْوَالِكُمْ، وَعَلَى أَرْضِ الرُّومِي الَّذِي أَسْلَمْتُمْ عَلَيْهَا: سَهْلِهَا، وَغَوْرِيهَا، وَمَرَاعِيهَا، غَيْرُ مَظْلُومِينَ وَلَا مُضَيَّقٌ عَلَيْهِمْ، وَإِنَّ الصَّدَقَةَ لَا تَحِلُّ لِمُحَمَّدٍ وَلَا لِأَهْلِ بَيْتِهِ، وَإِنَّ مَالِكَ بْنَ مِرَارَةَ الرَّهَاوِيَّ قَدْ حَفِظَ الْغَيْبَ، وَأَدَّى الْأَمَانَةَ، [وَبَلَّغَ الرِّسَالَةَ]، فَآمُرُكَ يَا ذَا مَرَّانَ بِهِ خَيْرًا ; فَإِنَّهُ مَنْظُورٌ إِلَيْهِ فِي قَوْمِهِ، وَلْيُحْبِبْكُمْ رَبُّكُمْ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ مِنْ طَرِيقِ عُمَيْرِ بْنِ ذِي مَرَّانَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ، وَلَمْ أَرَ أَحَدًا ذَكَرَهُمْ بِتَوْثِيقٍ وَلَا جَرْحٍ.

EnglishUnverified translation

ʿUmayr رضي الله عنه said: The letter of the Messenger of Allah ﷺ came to us: > **"In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful. From Muḥammad, the Messenger of Allah, to ʿUmayr Dhū Marrān and whoever has embraced Islam from Hamdān. Peace be upon you. I praise Allah before you, beside Whom there is no deity worthy of worship.** > > **To proceed: News of your Islam reached us upon our return from the land of the Byzantines (al-Rūm). So rejoice, for Allah has guided you with His guidance. When you testify that there is no deity worthy of worship except Allah and that Muḥammad is the Messenger of Allah, establish prayer, and pay zakāh, then you have the covenant of protection from Allah and the covenant of protection from His Messenger over your lives, your wealth, and the land of the Byzantine upon which you accepted Islam—its plains, its lowlands, and its pastures—neither being wronged nor placed under hardship.** > > **Indeed, charity (ṣadaqah) is not lawful for Muḥammad nor for the members of his household. And Mālik ibn Murārah al-Rahāwī has faithfully guarded what was entrusted to him, discharged the trust, and conveyed the message; so I command you, O Dhū Marrān, to treat him well, for he is held in high esteem among his people. And may your Lord love you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہمارے پاس نبی اکرم ﷺ کا مکتوب آیا ( جس میں یہ تحریر تھا : ) اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے ‘ جو بڑا مہربان ‘ نہایت رحم کرنے والا ہے ‘ یہ مکتوب ‘ اللہ کے رسول ‘ حضرت محمد ﷺ کی طرف سے ‘ عمیر ذی مُران اور ہمدان سے تعلق رکھنے والے ‘ ہر اس فرد کی طرف ہے ‘ جو اسلام قبول کر چکا ہو ‘ تم لوگوں پر سلام ہو ! میں تمہارے سامنے اُس اللہ کی حمد بیان کرتا ہوں ، جس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ‘ اما بعد ! روم کی سرزمین سے ہماری واپسی پر تم لوگوں کے اسلام قبول کرنے کی اطلاع ہمیں ملی ‘ تو تم لوگ یہ خوش خبری قبول کرو ! کہ اللہ تعالی نے تمہیں اپنی ہدایت نصیب کی ہے جب تم لوگ اس بات کی گواہی دے دو گے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور حضرت محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں ، اور تم لوگ نماز قائم کرو گے ‘ اور زکوۃ ادا کرو گے ‘ تو تمہاری جانوں اور تمہارے اموال اور تمہاری وہ سرزمین جس کا تعلق روم سے ہے ‘ جس پر موجود رہتے ہوئے ‘ تم نے اسلام قبول کیا ہے ‘ اس کا آباد اور بے آباد حصہ اور اس کی چراگاہیں ان سب کے حوالے سے ‘ تم اللہ اور اس کے رسول کی پناہ میں ہو گئے ‘ نہ تمہارے ساتھ ظلم کیا جائے گا ، نہ تمہیں تنگی کا شکار کیا جائے گا ‘ محمد ( ﷺ ) اور اُن کے اہل بیت کے لیے صدقہ حلال نہیں ہے ‘ بیشک مالک بن مرارہ رہادی نے پوشیدہ چیز کی حفاظت کی ‘ اور امانت کو ادا کیا ( یعنی پیغام پہنچا دیا ) تو اے ذومران ! اُس کے بارے میں ‘ میں تمہیں بھلائی کا حکم دیتا ہوں ‘ کیونکہ وہ اپنی قوم کا ایک اہم فرد ہے ‘ تمہارا پروردگار تم سے محبت رکھے گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں عمیر بن ذی مران کے حوالے سے ‘ اُن کے والد کے حوالے سے ‘ اُن کے دادا سے نقل کی ہے اور میں نے کسی کو ان حضرات کا تذکرہ ‘ کسی توثیق یا جرح کے ہمراہ ‘ کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ۔

71

Majma al-Zawaid #71

وَعَنْ أَبِي نُعَيْمٍ قَالَ: «أَخْرَجَ إِلَيْنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَطَاءٍ الْعَامِرِيُّ كِتَابًا مِنَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: اكْتُبُوهُ، وَلَمْ يُمْلِهِ عَلَيْنَا. زَعَمَ أَنَّ ابْنَهُ الْفُجَيْعَ حَدَّثَهُ بِهِ. "" هَذَا كِتَابٌ مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِلْفُجَيْعِ وَمَنْ مَعَهُ. وَمَنْ أَسْلَمَ، وَأَقَامَ الصَّلَاةَ، وَآتَى الزَّكَاةَ، وَأَطَاعَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، وَأَعْطَى مِنَ الْمَغْنَمِ خُمُسَ اللَّهِ، وَنَصَرَ نَبِيَّ اللَّهِ، وَأَشْهَدَ عَلَى إِسْلَامِهِ، وَفَارَقَ الْمُشْرِكِينَ - فَإِنَّهُ آمِنٌ بِأَمَانِ اللَّهِ وَمُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَإِسْنَادُهُ مُنْقَطِعٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Nuʿaym said: ʿAbd al-Malik ibn ʿAṭāʾ al-ʿĀmirī brought out to us a letter from the Prophet ﷺ and said, "Transcribe it," though he did not dictate it to us. He stated that his ancestor Al-Fujayʿ رضي الله عنه had narrated it to him: > **"This is a letter from Muḥammad, the Messenger of Allah ﷺ, to Al-Fujayʿ and those with him: Whoever embraces Islam, establishes prayer, pays zakāh, obeys Allah and His Messenger, gives the fifth belonging to Allah from the war booty, aids the Prophet of Allah, bears witness to his Islam, and parts from the polytheists—he is safe under the protection of Allah and Muḥammad ﷺ."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابونعیم بیان کرتے ہیں : عبدالملک بن عطاء عمری نے ہمیں نبی اکرم ﷺ کا مکتوب نکال کر دکھایا اور بولے : تم لوگ اسے نوٹ کر لو ! انہوں نے اس کی عبارت ہمیں املاء نہیں کروائی ‘ اُن کا یہ کہنا تھا : ان کے فجیمع نے انہیں اس کے بارے میں حدیث بیان کی ہے ( اس مکتوب میں یہ تحریر تھا : ) ’’ یہ اللہ کے رسول ‘ حضرت محمد ﷺ کی طرف سے فجیمع اور اس کے ساتھیوں کے نام مکتوب ہے ‘ جس نے بھی اسلام قبول کیا ، نماز قائم کی ‘ زکوۃ ادا کی ‘ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کی ‘ مال غنیمت میں سے اللہ تعالیٰ کا پانچواں حصہ ادا کیا ‘ اللہ کے نبی کی مدد کی ‘ اس نے اپنے اسلام پر گواہ بنایا ‘ مشرکین سے لاتعلقی اختیار کی ‘ تو وہ اللہ تعالیٰ اور حضرت محمد ﷺ کی امان کے تحت محفوظ شمار ہو گا “۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند منقطع ہے ۔

72

Majma al-Zawaid #72

«وَعَنْ عُمَارَةَ بْنِ أَحْمَرَ الْمَازِنِيِّ قَالَ: كُنْتُ فِي إِبِلِي فِي الْجَاهِلِيَّةِ أَرْعَاهَا، فَأَغَارَتْ عَلَيْنَا خَيْلُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، فَجَمَعْتُ إِبِلِي وَرَكِبْتُ الْفَحْلَ فَتَفَاجَّ يَبُولُ، فَنَزَلْتُ عَنْهُ، وَرَكِبْتُ نَاقَةً، فَنَجَوْتُ عَلَيْهَا، وَاسْتَاقُوا الْإِبِلَ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَسْلَمْتُ فَرَدَّهَا عَلَيَّ، وَلَمْ يَكُونُوا اقْتَسَمُوهَا. قَالَ جَوَّابُ بْنُ عُمَارَةَ: فَأَدْرَكْتُ أَنَا وَأَخِي النَّاقَةَ الَّتِي رَكِبَهَا عُمَارَةُ يَوْمَئِذٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِي إِسْنَادِهِ قُتَيْلَةُ بِنْتُ جُمَيْعٍ عَنْ يَزِيدِ بْنِ صَيْفٍ، عَنْ أَبِيهِ. وَلَمْ أَرَ أَحَدًا تَرْجَمَهُمْ.

EnglishUnverified translation

ʿUmārah ibn Aḥmar al-Māzinī رضي الله عنه said: In the pre-Islamic days of ignorance (Jāhiliyyah), I was grazing my camels when the cavalry of the Messenger of Allah ﷺ raided us. I rounded up my camels and mounted the stud camel, but it halted and spread its legs to urinate. So I dismounted and mounted a she-camel, escaping upon it, while they drove away the camels. I then came to the Messenger of Allah ﷺ and embraced Islam, whereupon he returned the camels to me, as they had not yet distributed them as spoils. Jawwāb ibn ʿUmārah said: "My brother and I lived to see the very she-camel upon which ʿUmārah rode that day to the Messenger of Allah ﷺ."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمارہ بن احمر مازنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : زمانہ جاہلیت میں ‘ میں اپنے اونٹ چرا رہا تھا ‘ اسی دوران نبی اکرم ﷺ کے شہہ سواروں نے ہم پر حملہ کر دیا ‘ میں نے اپنے اونٹ جمع کئے اور ایک اونٹ پر سوار ہوا ‘ تو وہ پیشاب کرنے کے لئے رک گیا ، میں اس سے نیچے اترا ‘ اور اونٹنی پر سوار ہو گیا ، جس کی وجہ سے میں بچ گیا ‘ وہ لوگ میرے اونٹ ہانک کر لے گئے ‘ میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے اسلام قبول کر لیا ، تو نبی اکرم ﷺ نے میرے اونٹ مجھے واپس کر دیئے ‘ جو ان لوگوں نے ابھی تقسیم نہیں کیے تھے ۔ حضرت عمارہ رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے جواب بیان کرتے ہیں : میں نے اور میرے بھائی نے وہ اونٹنی دیکھی ہے ‘ جس پر سوار ہو کر حضرت عمارہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں قتیلہ بنت جمیع ہے ‘ جس نے یزید بن صیف کے حوالے سے ان کے والد سے یہ روایت نقل کی ہے ‘ میں نے ان میں سے کسی کے حالات ( کسی کتاب میں ) نہیں دیکھے ہیں ۔

73

Majma al-Zawaid #73

عَنْ نُعَيْمِ بْنِ قَعْنَبٍ الرِّيَاحِيِّ قَالَ: أَتَيْتُ أَبَا ذَرٍّ فَلَمْ أَجِدْهُ، وَرَأَيْتُ الْمَرْأَةَ، فَسَأَلْتُهَا فَقَالَتْ: هُوَ ذَاكَ فِي ضَيْعَةٍ لَهُ، فَجَاءَ يَقُودُ - أَوْ يَسُوقُ - بَعِيرَيْنِ، قَاطِرًا أَحَدَهُمَا فِي عَجُزِ صَاحِبِهِ، فِي عُنُقِ كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا قِرْبَةٌ، فَوَضَعَ الْقِرْبَتَيْنِ. قُلْتُ: يَا أَبَا ذَرٍّ، مَا كَانَ فِي النَّاسِ أَحَدٌ أَحَبَّ إِلَيَّ أَنْ أَلْقَاهُ مِنْكَ، وَلَا أَبْغَضَ إِلَيَّ أَنْ أَلْقَاهُ مِنْكَ، قَالَ: لِلَّهِ أَبُوكَ، وَمَا يَجْمَعُ هَذَا؟ قَالَ: قُلْتُ: إِنِّي كُنْتُ وَأَدْتُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، وَكُنْتُ أَرْجُو فِي لِقَائِكَ أَنْ تُخْبِرَنِي أَنَّ لِي تَوْبَةً وَمَخْرَجًا، وَكُنْتُ أَخْشَى فِي لِقَائِكَ أَنْ تُخْبِرَنِي أَنَّهُ لَا تَوْبَةَ لِي، فَقَالَ: أَفِي الْجَاهِلِيَّةِ؟ قُلْتُ: نَعَمْ. قَالَ: عَفَا اللَّهُ عَمَّا سَلَفَ. قُلْتُ: وَيَأْتِي بِتَمَامِهِ فِي عِشْرَةِ النِّسَاءِ. رَوَاهُ الْإِمَامُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.

EnglishUnverified translation

Nuʿaym ibn Qaʿnab al-Riyāḥī said: I came seeking Abū Dharr رضي الله عنه but did not find him. I saw a woman and asked her about him, and she said, "He is over there tending to some land of his." Then Abū Dharr arrived leading—or driving—two camels tied nose to tail, each bearing a water-skin around its neck. He put down the two water-skins. I said, "O Abū Dharr, there was no one among all people whom I desired more to meet than you, nor anyone whom I dreaded more to meet than you!" He said, "May Allah bless your father! How can both of these feelings be united in you?" I said, "I buried a daughter alive during the days of ignorance (Jāhiliyyah). In meeting you, I hoped you would tell me that there is repentance and a way out for me; yet I also feared in meeting you that you would tell me that there is no repentance for me." Abū Dharr asked: "Was that during the Jāhiliyyah?" I said, "Yes." Abū Dharr رضي الله عنه said: > **"Allah has pardoned what occurred in the past."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

نعیم بن قعنب ریاحی بیان کرتے ہیں : میں حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے ملنے کے لئے آیا ‘ تو وہ مجھے نہیں ملے ‘ میں نے ایک خاتون کو دیکھا ‘ تو اس سے دریافت کیا : تو اس خاتون نے بتایا : وہ اپنی زمین پر گئے ہوئے ہیں ، اسی دوران حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ دو اونٹوں کو ہانک کر لاتے ہوئے تشریف لے آئے ‘ اونٹ آگے پیچھے تھے اور اُن میں سے ہر ایک کی گردن میں ایک مشکیزہ تھا ، انہوں نے دونوں مشکیزے رکھ دیئے ‘ تو میں نے کہا : اے حضرت ابوذر غفاری ! مجھے دنیا میں سب سے زیادہ آپ سے ملاقات پسند ہے ‘ اور آپ سے ملاقات سب سے زیادہ ناپسند بھی ہے ‘ انہوں نے فرمایا : کیا کہہ رہے ہو بھئی ؟ یہ دونوں صورتیں کیسے جمع ہو سکتی ہیں ؟ راوی کہتے ہیں : میں نے کہا : میں نے زمانہ جاہلیت میں ایک بچی کو زندہ دفن کر دیا تھا ، تو میری یہ خواہش تھی کہ میں آپ سے ملوں اور آپ مجھے بتائیں کہ کیا میرے لئے توبہ کی گنجائش ہے ؟ اور مجھے آپ سے ملتے ہوئے یہ اندیشہ بھی تھا ‘ کہ کہیں آپ مجھے یہ نہ کہہ دیں کہ میرے لیے توبہ کی گنجائش نہیں ہے ، حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : کیا زمانہ جاہلیت میں ایسا ہوا تھا ؟ میں نے جواب دیا : جی ہاں ! تو انہوں نے فرمایا : تم نے پہلے جو کچھ کیا ‘ اللہ تعالیٰ اُس کے حوالے سے درگزر کرے ۔ ( علامہ ہیشمی بیان کرتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ مکمل روایت آگے چل کر ‘ خواتین کے ساتھ طرز سلوک سے متعلق باب میں آئے گی ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

74

Majma al-Zawaid #74

وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَجِلُّوا اللَّهَ يَغْفِرْ لَكُمْ» "". قَالَ ابْنُ ثَوْبَانَ: يَعْنِي: أَسْلِمُوا. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِي إِسْنَادِهِ أَبُو الْعَذْرَاءِ، وَهُوَ مَجْهُولٌ.

EnglishUnverified translation

Abū al-Dardāʾ رضي الله عنه said: The Messenger of Allah ﷺ said: > **"Exalt Allah, and He will forgive you."** Ibn Thawbān said: "Meaning: embrace Islam."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے فرمایا ہے :’’ اللہ تعالیٰ کا اجلال کرو ! وہ تمہاری مغفرت کر دے گا ‘‘۔ ابن ثوبان کہتے ہیں : اس سے مراد یہ ہے کہ تم لوگ اسلام قبول کرو ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی ابوعذراء ہے جو مجہول ہے ۔

75

Majma al-Zawaid #75

وَعَنْ سَلَمَةَ بْنِ نُفَيْلٍ قَالَ: «جَاءَ شَابٌّ فَقَعَدَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَنَادَى بِأَعْلَى صَوْتِهِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ مَنْ لَمْ يَدَعْ سَيِّئَةً إِلَّا عَمِلَهَا، وَلَا خَطِيئَةً إِلَّا رَكِبَهَا، وَلَا أَشْرَفَ لَهُ سَهْمٌ [فَمَا فَوْقَهُ] إِلَّا اقْتَطَعَهُ بِيَمِينِهِ، وَمَنْ لَوْ قُسِّمَتْ خَطَايَاهُ عَلَى أَهْلِ الْمَدِينَةِ لَغَمَرَتْهُمْ! فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَسْلَمْتَ؟ "" - أَوْ "" أَنْتَ مُسْلِمٌ؟ "" - قَالَ: أَمَّا أَنَا فَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ! فَقَالَ: "" اذْهَبْ، فَقَدْ بُدِّلَتْ سَيِّئَاتُكَ حَسَنَاتٍ ""، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَغَدَرَاتِي وَفَجَرَاتِي؟ قَالَ: "" وَغَدَرَاتُكَ وَفَجَرَاتُكَ "" ثَلَاثًا، فَوَلَّى الشَّابُّ، وَهُوَ يَقُولُ: اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، فَلَمْ أَزَلْ أَسْمَعُهُ يُكَبِّرُ حَتَّى تَوَارَى عَنِّي أَوْ خَفِيَ عَنِّي». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِي إِسْنَادِهِ يَاسِينُ الزَّيَّاتُ يَرْوِي الْمَوْضُوعَاتِ.

EnglishUnverified translation

Salamah ibn Nufayl رضي الله عنه said: A young man came and sat before the Messenger of Allah ﷺ, calling out at the top of his voice: "O Messenger of Allah, what do you say of a person who has committed every evil deed, perpetrated every sin, and seized everything that came within his grasp—one whose sins, if divided among the people of Madīnah, would overwhelm them all?!" The Prophet ﷺ said to him: > **"Have you embraced Islam?"** — or **"Are you a Muslim?"** He said, "As for me, I testify that there is no deity worthy of worship except Allah and that Muḥammad is the Messenger of Allah!" He ﷺ said: > **"Go, for your evil deeds have been replaced with good deeds."** The man asked, "O Messenger of Allah, even my betrayals and wicked deeds?!" He ﷺ said: > **"Even your betrayals and wicked deeds."** — repeating it three times. The young man turned away saying: "Allāhu Akbar, Allāhu Akbar (Allah is the Greatest, Allah is the Greatest)!" I continued to hear him proclaiming the takbīr until he disappeared from my view.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سلمہ بن نفیل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک نوجوان آیا اور نبی اکرم ﷺ کے سامنے بیٹھ گیا ، اس نے بلند آواز میں کہا : یا رسول اللہ ! ایسے شخص کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟ جس نے ہر برائی پر عمل کیا ہو ‘ ہر خطا کا ارتکاب کیا ہو ‘ جو بھی چیز اس کے سامنے آئی ہو ‘ وہ اس نے ہتھیا لی ہو ‘ جو ایسا شخص ہو کہ اگر اُس کی خطائیں ‘ تمام اہل مدینہ پر تقسیم کی جائیں ، تو ان سب کو ڈھانپ لیں ، نبی اکرم ﷺ نے اُس سے دریافت کیا : کیا تم نے اسلام قبول کر لیا ہے ؟ ( راوی کو شک ہے ‘ یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) کیا تم مسلمان ہو ؟ اس نے کہا : جہاں تک میرا تعلق ہے ‘ تو میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں ‘ کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ‘ اور حضرت محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم جاؤ ! تمہاری برائیاں ‘ نیکیوں میں تبدیل کر دی گئی ہیں ‘ اس نے عرض کی : میری عہد شکنیوں اور زیادتیوں کا کیا ہو گا ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تمہاری عہد شکنیاں اور زیادتیاں بھی ( نیکیوں میں تبدیل کر دی گئی ہیں ) یہ بات آپ ﷺ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی ( راوی بیان کرتے ہیں : ) وہ نوجوان مڑ گیا ‘ اور وہ جاتے ہوئے اللہ اکبر اللہ اکبر کہہ رہا تھا ، راوی بیان کرتے ہیں : میں مسلسل اسے تکبیر کہتے ہوئے سنتا رہا ‘ یہاں تک کہ وہ میری نگاہوں سے اوجھل ہو گیا ‘ ( راوی کو شک ہے ‘ یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) مجھ سے چھپ گیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی یاسین زیات ہے ‘ جو موضوع روایات نقل کرتا ہے ۔

76

Majma al-Zawaid #76

وَعَنْ أَبِي طَوِيلٍ شَطْبٍ الْمَمْدُودِ أَنَّهُ «أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: أَرَأَيْتَ مَنْ عَمِلَ الذُّنُوبَ كُلَّهَا فَلَمْ يَتْرُكْ مِنْهَا شَيْئًا وَهُوَ فِي ذَلِكَ لَمْ يَتْرُكْ حَاجَةً وَلَا دَاجَةً إِلَّا أَتَاهَا فَهَلْ لِذَلِكَ مِنْ تَوْبَةٍ؟ قَالَ: "" فَهَلْ أَسْلَمْتَ؟ "" قَالَ: أَمَّا أَنَا فَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ [وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ] وَأَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ. قَالَ: [نَعَمْ] "" تَفْعَلُ الْخَيْرَاتِ وَتَتْرُكُ السَّيِّئَاتِ فَيَجْعَلُهُنَّ اللَّهُ لَكَ خَيْرَاتٍ كُلَّهُنَّ ""، قَالَ: وَغَدَرَاتِي وِفَجَرَاتِي؟ قَالَ: "" نَعَمْ "". قَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ. فَمَا زَالَ يُكَبِّرُ حَتَّى تَوَارَى». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ، وَرِجَالُ الْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُحَمَّدِ بْنِ هَارُونَ أَبِي نَشِيطٍ، وَهُوَ ثِقَةٌ. قُلْتُ: وَيَأْتِي حَدِيثُ أَنَسٍ فِي فَضْلِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فِي الْأَذْكَارِ.

EnglishUnverified translation

Abū Ṭawīl Shaṭb al-Mamdūd رضي الله عنه said: He came to the Prophet ﷺ and said, "What do you say of a man who committed all sins, leaving none out, and during that time left no craving or impulse unfulfilled—is there any repentance for such a person?" He ﷺ asked: > **"Have you embraced Islam?"** He said, "As for me, I bear witness that there is no deity worthy of worship except Allah alone, without partner, and that you are the Messenger of Allah." He ﷺ said: > **"Yes. You must perform good deeds and abandon evil deeds, and Allah will turn all of them into good deeds for you."** The man asked, "Even my betrayals and wicked deeds?!" He ﷺ said: > **"Yes."** The man cried out, "Allāhu Akbar (Allah is the Greatest)!" and continued proclaiming the takbīr until he vanished from sight.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوطویل شطب الحمدود کے بارے میں یہ بات منقول ہے : وہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی : ایسے شخص کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟ جس نے ہر قسم کے گناہوں کا ارتکاب کیا ہو ‘ اُن میں سے کوئی بھی گناہ ترک نہ کیا ہو ‘ اور اس نے ہر قسم کی برائی کا ارتکاب کیا ہو ‘ تو کیا اس شخص کے لیے توبہ کی گنجائش ہو گی ؟ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کیا تم نے اسلام قبول کر لیا ہے ؟ اُن صاحب نے کہا : جہاں تک میرا تعلق ہے ‘ تو میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں ‘ کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ‘ صرف وہی ایک معبود ہے ‘ اُس کا کوئی شریک نہیں ہے ‘ اور بے شک آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ٹھیک ہے اب تم نیکیاں کرتے رہنا اور برائیاں چھوڑ دینا ‘ تو اللہ تعالیٰ اُن سب برائیوں کو تمہارے لئے نیکیاں بنا دے گا ‘ اس نے دریافت کیا : میری عہد شکنیوں اور زیادتیوں کو بھی ( اللہ تعالیٰ نیکیوں میں تبدیل کر دے گا ؟ ) نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جی ہاں ! اُس نے کہا : اللہ اکبر ! اُس کے بعد وہ مسلسل تکبیر کہتا رہا ‘ یہاں تک کہ وہ ( ہماری نگاہوں سے ) اوجھل ہو گیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ امام بزار نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ‘ امام بزار کے رجال صحیح کے رجال ہیں ‘ صرف محمد بن ہارون ابونشیط کا معاملہ مختلف ہیں ، ویسے وہ ثقہ ہے ۔ ( علامہ ہیثمی بیان کرتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : لا الہ الا اللہ کی فضیلت کے بارے میں ‘ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث اذکار سے متعلق باب میں آگے آئے گی ۔

77

Majma al-Zawaid #77

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ قَالَ: «أَقْبَلَ شَيْخٌ يَدَّعِمُ عَلَى عَصًا حَتَّى قَامَ بَيْنَ يَدَيِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، إِنَّ لِي غَدَرَاتٍ وَفَجَرَاتٍ، فَهَلْ يُغْفَرُ لِي؟ قَالَ: "" أَلَيْسَ تَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ؟ "". قَالَ: نَعَمْ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ. قَالَ: "" فَقَدْ غُفِرَ لَكَ غَدَرَاتُكَ وَفَجَرَاتُكَ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ، إِلَّا أَنَّهُ مِنْ رِوَايَةِ مَكْحُولٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ، فَلَا أَدْرِي أَسَمِعَ مِنْهُ أَمْ لَا.

EnglishUnverified translation

ʿAmr ibn ʿAbasah رضي الله عنه said: An old man leaning upon a staff approached until he stood before the Prophet ﷺ and said, "O Prophet of Allah, I have committed acts of betrayal and wickedness. Can I be forgiven?" He ﷺ asked: > **"Do you not testify that there is no deity worthy of worship except Allah?"** The man said, "Yes, and I testify that Muḥammad is the Messenger of Allah." He ﷺ said: > **"Your acts of betrayal and wickedness have been forgiven."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک بوڑھا شخص عصا کے سہارے چلتا ہوا آیا اور نبی اکرم ﷺ کے سامنے آ کر کھڑا ہو گیا اُس نے کہا : اے اللہ کے نبی ! میری کچھ عہد شکنیاں ہیں اور کچھ زیادتیاں ہیں ، کیا میری مغفرت ہو جائے گی ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کیا تم اس بات کی گواہی نہیں دیتے ہو ؟ کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ‘ اس نے جواب دیا : جی ہاں اور میں یہ گواہی بھی دیتا ہوں ‘ کہ حضرت محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تمہاری عہد شکنیوں اور زیادتیوں کی مغفرت ہو چکی ہے ۔ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ‘ تاہم اسے مکحول نے ‘ حضرت عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے ‘ مجھے ( یعنی علامہ ہیثمی کو ) نہیں معلوم کہ مکحول نے ‘ اُن سے سماع کیا ہے یا نہیں ؟

78

Majma al-Zawaid #78

وَعَنِ الْجَارُودِيِّ الْعَبْدِيِّ قَالَ: «أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أُبَايِعُهُ، فَقُلْتُ لَهُ: عَلَى أَنِّي إِنْ تَرَكْتُ دِينِي وَدَخَلْتُ فِي دِينِكَ لَا يُعَذِّبُنِي اللَّهُ فِي الْآخِرَةِ. قَالَ: "" نَعَمْ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Jārūd al-ʿAbdī رضي الله عنه said: I came to the Prophet ﷺ to pledge allegiance to him, and I said to him, "On condition that if I abandon my religion and enter into your religion, Allah will not punish me in the Hereafter." He ﷺ said: > **"Yes."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جارودی عبدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ‘ تاکہ آپ کی بیعت کر لوں ‘ میں نے آپ ﷺ کی خدمت میں عرض کی : میں اپنا دین چھوڑ کر ‘ آپ کے دین میں داخل ہو گیا ہوں ‘ تاکہ اللہ تعالیٰ مجھے آخرت میں عذاب نہ دے ‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جی ہاں ! ( اللہ تعالیٰ تمہیں آخرت میں عذاب نہیں دے گا ) ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

79

Majma al-Zawaid #79

عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: «مَنْ مَاتَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ قِيلَ لَهُ: ادْخُلْ مِنْ أَيِّ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ الثَّمَانِيَةِ شِئْتَ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِي إِسْنَادِهِ شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ، وَقَدْ وُثِّقَ.

EnglishUnverified translation

ʿUmar ibn al-Khaṭṭāb رضي الله عنه reported that he heard the Prophet ﷺ say: > **"Whoever dies believing in Allah and the Last Day, it will be said to him: 'Enter through whichever of the eight gates of Paradise you wish.'"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جو شخص ایسی حالت میں مرتا ہے کہ وہ اللہ تعالی اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو ‘ تو اُس سے کہا جائے گا : تم جنت کے آٹھ دروازوں میں سے ‘ جس سے چاہو ( جنت میں ) داخل ہو جاؤ ! ""۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی شہر بن حوشب ہے ، جس کی توثیق کی گئی ہے ۔

80

Majma al-Zawaid #80

عَنْ عُثْمَانَ - يَعْنِي ابْنَ عَفَّانَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: «تَمَنَّيْتُ أَنْ أَكُونَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: مَاذَا يُنْجِينَا مِمَّا يُلْقِي الشَّيْطَانُ فِي أَنْفُسِنَا، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: قَدْ سَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: "" يُنْجِيكُمْ مِنْ ذَلِكَ أَنْ تَقُولُوا مَا أَمَرْتُ بِهِ عَمِّي أَنْ يَقُولَهُ فَلَمْ يَقُلْهُ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِي إِسْنَادِهِ أَبُو الْحُوَيْرِثِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُعَاوِيَةَ، ذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ وَالْأَكْثَرُ عَلَى تَضْعِيفِهِ.

EnglishUnverified translation

ʿUthmān ibn ʿAffān رضي الله عنه said: I wished that I had asked the Messenger of Allah ﷺ: "What can save us from that which Satan casts into our souls?" Abū Bakr رضي الله عنه said, "I asked him about that, and he ﷺ said: > **'What will save you from that is to say the words which I commanded my uncle to say, but he did not say them.'"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میری یہ خواہش تھی کہ میں نے نبی اکرم ﷺ سے اس بارے میں دریافت کیا ہوتا ‘ کہ شیطان ہمارے من میں جو چیز ڈال دیتا ہے ‘ اُس سے نجات کا طریقہ کیا ہے ؟ تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بتایا : میں نے نبی اکرم ﷺ سے اس بارے میں سوال کیا تھا ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اس سے تمہیں یہ چیز نجات دلائے گی کہ تم وہ کلمہ پڑھ لو ‘ جو میں نے اپنے چچا کو ‘ ان کے انتقال کے وقت پڑھنے کا کہا تھا ‘ اور انہوں نے ایسا نہیں کیا تھا “۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ابوحویرث عبدالرحمن بن معاویہ ہے ‘ ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب "" الثقات ‘‘ میں کیا ہے ‘ تاہم زیادہ تر محدثین نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔