Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 90 · Chapter 1015

خریدوفروخت، ذرائع آمدنی اور تجارت کے متعلقہ امور کا بیان

بھائو مقرر کرنے کا بیان

4 hadiths in this chapter

5945

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5945

Sahih

۔ (۵۹۴۵)۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: غَـلَا السِّعْرُ عَلٰی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! لَوْ سَعَّرْتَ، فَقَالَ: ((إِنَّ اللّٰہَ ھُوَ الْخَالِقُ الْقَابِضُ الْبَاسِطُ الرَّزَّاقُ الْمُسَعِّرُ، وَإِنِّیْ لَاَرْجُوْ أَنْ اَلْقَی اللّٰہَ وَلَایَطْلُبُنِیْ أَحَدٌ بِمَظْلِمَۃٍ ظَلَمْتُہَا اِیَّاہُ فِیْ دَمٍ وَلَا مَالٍ۔)) (مسند احمد: ۱۲۶۱۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ایک دفعہ عہد ِ نبوی میں چیزوں کے نرخ بڑھ گئے، لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر آپ بھاؤ مقرر فرمادیں، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالی ہی ہے، جو پیدا کرنے والا، کمی کرنے والا، کشادگی کرنے والا، رزق دینے والا اور بھاؤ بڑھانے والاہے، میں اللہ تعالی سے یہ امید رکھتا ہوں کہ جب میں اس کو ملوں تو کوئی بھی خون اور مال کے بارے میں مجھ سے کسی قسم کی حق تلفی کامطالبہ کرنے والا نہ ہو۔

5946

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5946

Sahih

۔ (۵۹۴۶)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: غَلَا السِّعْرُ عَلٰی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالُوْا لَہُ: لَوْ قَوَّمْتَ لَنَا سِعْرَنَا، فَقَالَ: ((إِنَّ اللّٰہَ ھُوَ الْمُقَوِّمُ أَوِ الْمُسَعِّرُ إِنِّیْ لَأَرْجُوْ أَنْ أُفَارِقَکُمْ وَلَیْسَ أَحَدٌمِنْکُمْ یَطْلُبُنِیْ بِمَظْلِمَۃٍ فِیْ مَالٍ وَلَانَفْسٍ۔)) (مسند احمد: ۱۱۸۳۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ روایت ہے کہ ایک مرتبہ عہد ِ نبوی میں چیزوں کی قیمتوں میں اضافہ ہو گیا، لوگوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کہا: آپ ہمارے لئے قیمت یا بھاؤ مقرر کردیں، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ تو اللہ تعالیٰ ہی ہے جو قیمت مقرر کرتا ہے یا بھاؤ بڑھاتا ہے، میں تو یہ امید رکھتاہوں کہ جب تم سے جدا ہوں تو تم میں سے کوئی بھی اپنے مال اور جان کے بارے میں مجھ سے کسی قسم کی زیادتی کا مطالبہ کرنے والا نہ ہو۔

5947

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5947

Sahih

۔ (۵۹۴۷)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَجُلًا قَالَ: سَعِّرْ، یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: ((إِنَّمَا یَرْفَعُ اللّٰہُ وَیَخْفِضُ، إِنِّیْ لَأَرْجُوْ أَنْ اَلْقَی اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ وَلَیْسَ لِأَحَدٍ عِنْدِیْ مَظْلِمَۃٌ۔)) قَالَ آخَرُ: سَعِّرْ، فَقَالَ: ((اُدْعُوْا اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ۔)) (مسند احمد: ۸۸۳۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! بھاؤ تو مقرر کر دیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ تو صرف اللہ تعالی ہی ہے، جو بھاؤ کو چڑھا دیتا ہے اور کم کر دیتا ہے، میں تو یہ امید رکھتا ہوں کہ اللہ تعالی سے اس حال میں ملوں کہ میں نے کسی کا نقصان نہ کیا ہوا ہو۔ جب ایک دوسرے شخص نے بھی یہی بات کی کہ آپ نرخ کا تعین کر دیں، تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی کو پکارو (اور اس سے دعا کرو)۔

5948

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5948

Sahih

۔ (۵۹۴۸)۔ عَنِ الْحَسَنِ یَعْنِی الْبَصَرِیَّ قَالَ: ثَقُلَ مَعْقِلُ بْنُ یَسَارٍ فَدَخَلَ إِلَیْہِ عُبَیْدُ اللّٰہِ بْنُ زَیَادٍیَعُوْدُہُ فَقَالَ: ھَلْ تَعْلَمُ یَا مَعْقِلُ! أَنِّی سَفَکْتُ دَمًا؟ قَالَ: مَاعَلِمْتُ قَالَ: ھَلْ تَعْلَمُ اَنِّیْ دَخَلْتُ فِیْ شَیْئٍ مِنْ أَسْعَارِ الْمُسْلِمِیْنَ؟ قَالَ: مَا عَلِمْتُ، قَالَ: أَجْلِسُوْنِیْ، ثُمَّ قَالَ: اسْمَعْ یَا عُبَیْدَ اللّٰہِ! حَتّٰی أُحَدِّثَکَ شَیْئًا لَمْ أَسْمَعْہُ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَرَّۃً وَلَا مَرَّتَیْنِ، سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ دَخَلَ فِیْ شَیْئٍ مِنْ أَسْعَارِ الْمُسْلِمِیْنَ لِیُغْلِیَہُ عَلَیْہِمْ فَاِنَّ حَقًّا عَلَیاللّٰہِ تَبَارَکَ وَ تَعَالیٰ أَنْ یُقْعِدَہُ بِعُظْمٍ مِنَ النَّارِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔)) قَالَ: أَنْتَ سَمِعْتَ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ قَالَ: نَعَمْ غَیْرَ مَرَّۃٍ وَلَا مَرَّتَیْنِ۔ (مسند احمد: ۲۰۵۷۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ حسن بصری سے روایت ہے کہ جب سیدنا معقل بن یسار ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیماری کی وجہ سے بوجھل ہوگئے تو ان کے پاس عبید اللہ بن زیاد تیمارداری کے لئے آیا اور کہا: اے معقل! کیا میں نے خون ریزی کی ہے؟ انہوں نے کہا: مجھے تو معلوم نہیں ہے، اس نے پھر کہا: کیا آپ کو معلوم ہے کہ میں نے مسلمانوں کے بھا ؤمیں کسی قسم کی مداخلت کی ہو؟ انہوں نے کہا: جی مجھے تو معلوم نہیں ہے۔ پھر سیدنا معقل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: مجھے اٹھا کر بٹھاؤ، پھر انھوں نے عبیداللہ سے مخاطب ہوکر کہا: میں تجھے ایسی حدیث بیان کرتا ہوں، جو میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے ایک دو بار نہیں سنی، (بلکہ کئی دفعہ سنی ہے)، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے مسلمانوں کے بھاؤ میں مداخلت کی اور اس کو اُن پر مہنگا کردیا تو اللہ تعالیٰ پر حق ہے کہ روزِ قیامت اسے آگ کے وسیع مقام پر بٹھائے۔ عبیداللہ نے کہا: کیا آپ نے یہ بات رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنی ہے؟ انہوں نے کہا: جی کئی دفعہ، ایک دو مرتبہ نہیں۔