Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 90 · Chapter 1014

خریدوفروخت، ذرائع آمدنی اور تجارت کے متعلقہ امور کا بیان

ذخیرہ اندوزی کی مذمت کا بیان

4 hadiths in this chapter

5941

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5941

Zaeef

۔ (۵۹۴۱)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((مَنِ احْتَکَرَ طَعَامًا أَرْبَعِیْنَ لَیْلَۃً فَقَدْ بَرِیَٔ مِنَ اللّٰہِ تَعَالیٰ وَبَرِیَٔ اللّٰہُ تَعَالیٰ مِنْہُ وَأَیُّمَا أَھْلُ عَرْصَۃٍ أَصْبَحَ فِیْہِمُ امْرَؤٌ جَائِعٌ، فَقَدْ بَرِئَتْ مِنْہُمْ ذِمَّۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی)) (مسند احمد: ۴۸۸۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے کہ نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس شخص نے چالیس راتیں ذخیرہ اندوزی کی، وہ اللہ تعالیٰ سے بری ہو گیا اور اللہ تعالیٰ اس سے بری ہو گیا اور جس گھر والوں کے پاس کوئی بھوکا آدمی ہو (اور وہ اسے کھانا نہ کھلائیں) تو ان سے بھی اللہ تعالی کی ضمانت اٹھ جاتی ہے۔

5942

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5942

Sahih

۔ (۵۹۴۲)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنِ احْتَکَرَ حُکْرَۃًیُرِیْدُ اَنْ یغِلیَ بِھَا عَلَی الْمُسْلِمِیْنَ، فَھُوَ خَاطِیئٌ۔)) (مسند احمد: ۸۶۰۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے اس ارادے سے ذخیرہ اندوزی کی کہ مسلمانوں کو مہنگائی میں مبتلا کر دیا جائے، تو وہ نافرمان ہو گا۔

5943

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5943

Sahih

۔ (۵۹۴۳)۔ عَنْ سَعِیْدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ عَنْ مَعْمَرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ الْعَدَوِیِّ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا یَحْتَکِرُ اِلَّا خَاطِیئٌ۔)) وَکَانَ سَعِیْدُ بْنُ الْمُسَیَّبِیَحْتَکِرُ الزَّیْتَ۔ (مسند احمد: ۱۵۸۵۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا معمربن عبداللہ عدوی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: خطاکارہی ذخیرہ اندوزی کرتا ہے۔ سعید بن مسیب روغن زیتون (یا ہر قسم کا تیل) ذخیرہ کرلیا کرتے تھے۔

5944

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5944

Zaeef

۔ (۵۹۴۴)۔ عَنْ اَبِیْیَحْیٰی رَجُلٍ مِنْ أَھْلِ مَکَّۃَ عَنْ فَرُّوْخَ مَوْلٰی عُثْمَانَ أَنَّ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ وَھُوَ یَوْمَئِذٍ أَمِیْرُ الْمُؤْمِنِیْنَ خَرَجَ إِلَی الْمَسْجِدِ فَرَأٰی طَعَامًا مَنْثُوْرًا، فَقَالَ: مَاھٰذَا الطَّعَامُ؟ فَقَالُوْا: طَعَامٌ جُلِبَ إِلَیْنَا، قَالَ: بَارَکَ اللّٰہُ فِیْہِ وَفِیْمَنْ جَلَبَہُ، قِیْلَ: یَا أَمِیْرَ الْمُوْمِنِیْنَ! فَاِنَّہُ قَدِ احْتُکِرَ، قَالَ: وَمَنِ احْتَکَرَہُ؟ قَالُوْا: فَرُّوْخُ مَوْلٰی عُثْمَانَ وَ فُلَانٌ مَوْلٰی عُمَرَ، فَأَرْسَلَ اِلَیْہِمَا فَدَعَاھُمَا فَقَالَ: مَاحَمَلَکُمَا عَلَی اِحْتِکَارِ طَعَامِ الْمُصَلِّیْنَ؟ قَالَ: یَا اَمِیْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ! نَشْتَرِیْ بِأَمْوَالِنَا وَنَبِیْعُ، فَقَالَ: عُمَرُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنِ احْتَکَرَ عَلَی الْمُسْلِمِیْنَ طَعَامَہُمْ ضَرَبَہُ اللّٰہُ بِالْإفْلَاسِ أَوْ بِجُذَامٍ۔)) فَقَالَ فَرُّوْخُ عِنْدَ ذٰلِکَ: یَا أَمِیْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ! أُعَاھِدُ اللّٰہَ وَأُعَاھِدُکَ أَنْ لَا أَعُوْدَ فِیْ طَعَامٍ أَبَدًا، وَأَمَّا مَوْلٰی عُمَرَ فَقَالَ: إِنَّمَا نَشْتَرِیْ بِاَمْوَالِنَا وَنَبِیْعُ، قَالَ اَبُوْ یَحْیٰی: فَلَقَدْ رَأَیْتُ مَوْلٰی عُمَرَ مَجْذُوْمًا۔ (مسند احمد: ۱۳۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ مولائے عثمان فروخ نے بیان کیا کہ ایک دن سیدنا عمربن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، جو کہ اس وقت امیر المؤمنین تھے، مسجد کی طرف نکلے اور وہاں بکھراہوا اناج دیکھا اور پوچھا: یہ اناج کیسا ہے ؟ لوگوں نے کہا: یہ اناج ہمارے لئے باہر سے لایا گیا ہے، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے پوچھا: اللہ تعالیٰ اس میں اور اس کو لانے والے میں برکت ڈالے۔ اتنے میں کسی نے کہا: اے امیر المؤمنین! یہ ذخیرہ کیا ہوا مال ہے، انھوں نے پوچھا: کس نے اسے ذخیرہ کیا ہے؟ لوگوں نے کہا: سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے غلام فروخ اور خود سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ایک غلام نے ذخیرہ کیا ہے، انھوں نے ان دونوں کو بلایا، پس وہ آ گئے، انھوں نے پوچھا: تمہیں کس چیز نے مسلمانوں کے اناج کی ذخیرہ اندوزی کرنے پر آمادہ کیا ہے؟ ان دونوں نے کہا: اے امیرالمومنین! ہم اپنے مالوں سے اسی طرح کی خریدوفروخت کرتے ہیں، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: جو شخص مسلمانوں کے اناج کی ذخیرہ اندوزی کرے گا، اللہ تعالی اس پر افلاس یا کوڑھ کو مسلط کردیں گے۔ فروخ نے تو اسی وقت کہا: اے امیرالمومنین! میں اللہ تعالیٰ سے اور پھرآپ سے عہد کرتا ہوں کہ میں آئندہ اناج میں ذخیرہ اندوزی نہیں کروں گا، لیکن سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے غلام نے کہا:ہم اپنے مالوں سے چیزیں خریدتے اور بیچتے ہیں۔ ابویحییٰ کہتے ہیں: میں نے بعد میں سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے اس غلام کو کوڑھ زدہ دیکھا تھا۔