Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 90 · Chapter 1016

خریدوفروخت، ذرائع آمدنی اور تجارت کے متعلقہ امور کا بیان

خریدوفروخت کرنے والوں کے مابین اختلاف ہو جانے کا بیان

5 hadiths in this chapter

5949

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5949

Sahih

۔ (۵۹۴۹)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِذَا اخْتَلَفَ الْبَیِّعَانِ (وَفِیْ لَفْظٍ: وَالسِّلْعَۃُ کمَاَ ھِیَ) وَلَیْسَ بَیْنَہُمَا بَیِّنَۃٌ فَالْقَوْلُ مَایَقُوْلُ صَاحِبُ السِّلْعَۃِ أَوَ یَتَرَادَّانِ۔)) (مسند احمد: ۴۴۴۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب خریدار اور فروخت کنندہ کا آپس میں اختلاف ہو جائے اور ان کے پاس (اپنے دعوی کی) دلیل بھی نہ ہو، جبکہ سامان ابھی تک اپنی اصلی حالت میں موجود ہو، تو سامان کے مالک کی بات پر اعتماد کیا جائے گا یا پھردونوں سودا واپس کر دیں گے۔

5950

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5950

Sahih

۔ (۵۹۵۰)۔ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ عُبَیْدٍ قَالَ: حَضَرْتُ أَبَا عُبَیْدَۃَ بْنَ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ، وَأَتَاہُ رَجُلَانِ یَتَبَایَعَانِ سِلْعَۃً، فَقَالَ: ھٰذَا اَخَذْتُ بِکَذَا وَکَذَا، وَقَالَ: ھٰذَا بعتُ بِکَذَا وَکذَا، فَقَالَ اَبُوْعُبَیْدَۃَ: اُتِیَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ مَسْعُوْدٍ فِیْمِثْلِ ھٰذَا فَقَالَ: حَضَرْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اُتِیَ فِیْ مِثْلِ ھٰذَا فأَمَرَ بِالْبَائِعَ أَنْ یُسْتَحْلَفَ ثُمَّ یُخَیِّرَ الْمُبْتَاعَ إِنْ شائَ أَخذَ وَإِنْ شائَ ترَکَ۔ (مسند احمد: ۴۴۴۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ عبدالملک بن عبید کہتے ہیں: میں ابوعبیدہ بن عبداللہ بن مسعود کے پاس موجودتھا، ان کے پاس دوآدمی آئے، انھوں نے آپس میں کچھ سامان کا سودا کیا تھا، لیکن خریدار کہتا تھا کہ اس نے اتنے میں سامان خریدا ہے، اور بیچنے والا کہتا تھا کہ اس نے تو اتنے میں فروخت کیا ہے، ابوعبیدہ نے کہا: سیدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس اسی قسم کا مسئلہ لایا گیا تھا، انھوں نے کہا: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس حاضر تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں اسی طرح کا مسئلہ پیش کیا گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فروخت کرنے والے کوحکم دیا کہ وہ اپنے دعوی پر قسم اٹھائے، پھر خریدار کو اختیار دے دیا کہ اگر وہ چاہتا ہے تو اتنے میں لے لے اور اگر چاہتا ہے تو سرے سے سودا ہی ترک کر دے۔

5951

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5951

Sahih

۔ (۵۹۵۱)۔ (وَمِنْ طرِیقٍ ثاَنٍ) قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ بنُ الْإمَامِ اَحْمَدَ: قَرَأْتُ عَلَی اَبِیْ قَالَ: اُخْبِرْتُ عَنْ ھِشَامِ بْنِ یُوْسُفَ فِی الْبَیِّعَیْنِ فِیْ حَدِیْثِ ابْنِ جُرَیْجٍ عَنْ اِسْمَاعِیْلَ بْنِ اُمَیَّۃَ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ عُبَیْدٍ وَقَالَ اَبِیْ: قَالَ حَجَّاجُ الْبَیِّعَیْنِ الْأَعْوَرُ: عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ عُبَیْدَۃَ، قَالَ: وَحَدَّثَنَا ھُثَیْمٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ اَبِیْ لَیْلٰی عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ وَلَیْسَ فِیْہِ عَنْ اَبِیْہِ۔ (مسند احمد: ۴۴۴۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) عبداللہ بن امام احمد کہتے ہیں: میں نے اپنے والدمحترم پر یہ سند پڑھی: خرید و فروخت کرنے والوں کے بارے مجھے ہشام بن یوسف سے خبر دی گئی ہے، یہ ابن جریج کی حدیث ہے، وہ اسماعیل بن امیہ سے اور وہ عبدالملک بن عبیدسے بیان کرتے ہیں، لیکن میرے باپ امام احمد نے کہا: حجاج اعور نے کہا: عبدالملک بن عبیدہ نے کہا: ہمیں ہشیم نے بیان کیا، انھوں نے کہا: ہمیں ابن ابی لیلیٰ نے قاسم بن عبدالرحمن سے بیان کیا اور انہوں نے سیدنا ابن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے بیان کیا، اس میں عَنْ اَبِیْہِ کے الفاظ نہیں ہیں۔

5952

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5952

Sahih

۔ (۵۹۵۲)۔ عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِذَا اخْتَلَفَ الْبَیِّعَانِ فَالْقَوْلُ مَاقَالَ البائعُ، وَالْمُبْتَاعُ باِلْخِیَارِ۔)) (مسند احمد: ۴۴۴۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب خرید و فروخت کرنے والے دو آدمیوں کا آپس میں اختلاف ہو جائے تو وہ بات قابل اعتماد ہو گی، جو فروخت کرنے والا کہے گا اور خرید ار کو یہ اختیار مل جائے گا کہ (وہ سودے کو برقرار رکھنا چاہتا ہے یا فسخ کرنا چاہتا ہے)۔

5953

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5953

Sahih

۔ (۵۹۵۳)۔ عَنِ الْقَاسِمِ قَالَ: اِخْتَلَفَ عَبْدُاللّٰہِ وَالْأَشْعَثُ فَقَالَ: ذَا بِعَشْرَۃٍ، وَقَالَ ذَا: بِعِشْرِینَ، قَالَ: اِجْعَلْ بَیْنِیْ وَبَیْنَکَ رَجُلًا، قَالَ: أَنْتَ بَیْنِیْ وَبَیْنَ نَفْسِکَ فَقَالَ: أَقْضِیْ بِمَا قَضٰی بِہٖرَسُوْلُاللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِذَا اخْتَلَفَ الْبَیِّعَانِ وَلَمْ یََکُنْ بَیِّنَۃٌ فَالْقَوْلُ قَوْلُ الْبَائِعِ أَوْ یَتَرَادَّانِ الْبَیْعَ۔)) (مسند احمد: ۴۴۴۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ قاسم کہتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا اشعث بن قیس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے درمیان اختلاف ہو گیا، اول الذکر نے کہا: یہ دس کا ہے، لیکن مؤخر الذکر نے کہا:یہ بیس کا ہے، سیدنا ابن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میرے اور اپنے درمیان کسی آدمی کو مقر ر کرو (تاکہ وہ فیصلہ کر دے)۔ سیدنا اشعث ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں آپ کو ہی مقرر کرتا ہوں، یہ سن کر سیدنا ابن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: تو پھر میں وہی فیصلہ کروں گا، جو رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کیاہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب لین دین کرنے والے دو آدمیوں میں اختلاف ہو جائے، جبکہ کسی کے پاس شہادت بھی نہ ہو تو فروخت کرنے والے کی بات پر اعتماد کیا جائے گا یا پھر دونوں بیع کو فسخ کر دیں گے۔