Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 80 · Chapter 908

(غلاموں اور لونڈیوں کی) آزادی کے مسائل

غلام کو اس کے جرم کے مطابق مارنے کے جواز کا اور اس مقدار سے زائد سزا دینے پر سختی کا بیان

7 hadiths in this chapter

5235

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5235

Sahih

۔ (۵۲۳۵)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، و عَنْ بَعْضِ شُیُوخِہِمْ، أَنَّ زِیَادًا مَوْلٰی عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ أَبِی رَبِیعَۃَ حَدَّثَہُمْ عَمَّنْ حَدَّثَہُ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جَلَسَ بَیْنَ یَدَیْہِ، فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! إِنَّ لِی مَمْلُوکِینَ یَکْذِبُونَنِی وَیَخُونُونَنِی وَیَعْصُونَنِی وَأَضْرِبُہُمْ وَأَسُبُّہُمْ، فَکَیْفَ أَنَا مِنْہُمْ، فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یُحْسَبُ مَا خَانُوکَ وَعَصَوْکَ وَیُکَذِّبُونَکَ وَعِقَابُکَ إِیَّاہُمْ، إِنْ کَانَ دُونَ ذُنُوبِہِمْ کَانَ فَضْلًا لَکَ عَلَیْہِمْ، وَإِنْ کَانَ عِقَابُکَ إِیَّاہُمْ بِقَدْرِ ذُنُوبِہِمْ کَانَ کَفَافًا، لَا لَکَ وَلَا عَلَیْکَ، وَإِنْ کَانَ عِقَابُکَ إِیَّاہُمْ فَوْقَ ذُنُوبِہِمْ اقْتُصَّ لَہُمْ مِنْکَ الْفَضْلُ الَّذِی بَقِیَ قِبَلَکَ۔)) فَجَعَلَ الرَّجُلُ یَبْکِی بَیْنَ یَدَیْ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَیَہْتِفُ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا لَہُ مَا یَقْرَأُ کِتَابَ اللّٰہِ {وَنَضَعُ الْمَوَازِینَ الْقِسْطَ لِیَوْمِ الْقِیَامَۃِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَیْئًا، وَإِنْ کَانَ مِثْقَالَ حَبَّۃٍ مِنْ خَرْدَلٍ أَتَیْنَا بِہَا وَکَفٰی بِنَا حَاسِبِینَ}۔)) فَقَالَ الرَّجُلُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! مَا أَجِدُ شَیْئًا خَیْرًا مِنْ فِرَاقِ ہٰؤُلَائِ یَعْنِی عَبِیدَہُ إِنِّی أُشْہِدُکَ أَنَّہُمْ أَحْرَارٌ کُلُّہُمْ۔ (مسند أحمد: ۲۶۹۳۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، ایک راوی کہتا ہے: ہمارے بعض شیوخ نے ہمیں بیان کیا کہ عبد اللہ بن عباد کے غلام زیاد سے مروی ہے اور وہ کسی صحابی سے بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے آ کر بیٹھ گیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے کچھ غلام ہیں، وہ مجھ سے جھوٹ بولتے ہیں، میرے ساتھ خیانت کرتے ہیں اور میری نافرمانی کرتے ہیں، میں پھر ان کو مارتا ہوں اور گالیاں دیتا ہوں، اب میرا اور ان کا کیا معاملہ ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے فرمایا: ان کی خیانت، نافرمانی اور جھوٹ بولنے کے جرم میں سزا دینا، اگر یہ سزا ان کے جرم سے کم ہوئی تو تیری ان پر فضیلت ہو گی، اگر یہ سزا ان کے گناہوں کے مطابق ہو گی تو معاملہ برابر سرابر ہو گا، نہ تیرے حق میں کوئی چیز ہو گی اور نہ تیری مخالفت میں، لیکن اگر یہ سزا ان کے جرم سے زیادہ ہوئی تو زائد سزا کا تجھ سے قصاص لیا جائے گا۔ یہ بات سن کر وہ آدمی، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے رونے اور چیخنے لگا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کو کیا ہو گیا ہے، کیا اس نے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان نہیں پڑھا: {وَنَضَعُ الْمَوَازِینَ الْقِسْطَ لِیَوْمِ الْقِیَامَۃِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَیْئًا وَإِنْ کَانَ مِثْقَالَ حَبَّۃٍ مِنْ خَرْدَلٍ أَتَیْنَا بِہَا وَکَفٰی بِنَا حَاسِبِینَ}… اور ہم قیامت کے دن ایسے ترازو رکھیں گے جو عین انصاف ہوں گے، پھر کسی شخص پر کچھ ظلم نہ کیا جائے گا اور اگر رائی کے ایک دانہ کے برابر عمل ہوگا تو ہم اسے لے آئیں گے اور ہم حساب لینے والے کافی ہیں۔ (سورۂ انبیاء: ۴۷) یہ سن کر اس آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے نزدیک تو یہی چیز بہتر ہے کہ میں ان غلاموں کو الگ کر دوں، اب میں آپ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ وہ سارے کے سارے آزاد ہیں۔

5236

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5236

Sahih

۔ (۵۲۳۶)۔ عَنْ أَبِی مَسْعُودٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: بَیْنَا أَنَا أَضْرِبُ مَمْلُوکًا لِی إِذَا رَجُلٌ یُنَادِی مِنْ خَلْفِی، اعْلَمْ یَا أَبَا مَسْعُودٍ اعْلَمْ یَا أَبَا مَسْعُودٍ، فَالْتَفَتُّ فَإِذَا رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((وَاللّٰہِ لَلّٰہُ أَقْدَرُ عَلَیْکَ مِنْکَ عَلٰی ہٰذَا۔)) قَالَ: فَحَلَفْتُ لَا أَضْرِبُ مَمْلُوکًا لِی أَبَدًا۔ (مسند أحمد: ۲۲۷۱۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں اپنے ایک غلام کو مار رہا تھا، پیچھے سے کسی آدمی نے مجھے آواز دی اور کہا: ابو مسعود! ہو ش کر، ابو مسعود! ہوش کر، جب میں اس کی طرف متوجہ ہوا تو کیا دیکھتا ہوں کہ وہ تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تھے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم! جتنی قدرت تجھ کو اس غلام پر حاصل ہے، اللہ تعالیٰ اس سے تجھ پر زیادہ قدرت والا ہے۔ یہ سن کر میں نے قسم اٹھائی کہ میں کبھی بھی کسی غلام کو نہیں ماروں گا۔

5237

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5237

Sahih

۔ (۵۲۳۷)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ)أَنَّہُ کَانَ یَضْرِبُ غُلَامًا لَہُ، فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((وَاللّٰہِ لَلَّہُ أَقْدَرُ عَلَیْکَ مِنْکَ عَلَیْہِ۔)) قَالَ: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ! فَإِنِّی أُعْتِقُہُ لِوَجْہِ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ۔ (مسند أحمد: ۲۲۷۰۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) سیدنا ابو مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ وہ اپنے ایک غلام کو مار رہے تھے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے فرمایا: اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ تجھ پر اس سے زیادہ قدرت والا ہے۔ انھوں نے کہا: اے اللہ کے نبی! میں اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لیے ا س کو آزاد کرتا ہوں۔

5238

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5238

Sahih

۔ (۵۲۳۸)۔ عَنْ زَاذَانَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّہُ دَعَا غُلَامًا لَہُ فَأَعْتَقَہُ فَقَالَ: مَا لِی مِنْ أَجْرِہِ مِثْلُ ہٰذَا لِشَیْئٍ رَفَعَہُ مِنَ الْأَرْضِ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((مَنْ لَطَمَ غُلَامَہُ فَکَفَّارَتُہُ عِتْقُہُ۔)) (مسند أحمد: ۴۷۸۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ زاذان کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اپنے ایک غلام کو بلایا اور اس کو آزاد کیا اور زمین سے ایک چیز اٹھاتے ہوئے اور اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: اس عمل میں اس کے بقدر بھی میرے لیے اجر نہیں ہے، کیونکہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ جس نے اپنے غلام کو تھپڑ مارا، اس کا کفارہ یہ ہے کہ وہ اس کو آزاد کر دے۔

5239

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5239

Sahih

۔ (۵۲۳۹)۔ عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ حَکَمِ نِ السُّلَمِیِّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنَہٗ فِیْ حَدِیْثٍ لَہٗ قَالَ: وَکَانَتْ لِی جَارِیَۃٌ تَرْعٰی غَنَمًا لِی فِی قِبَلِ أُحُدٍ وَالْجَوَّانِیَّۃِ، فَاطَّلَعْتُہَا ذَاتَ یَوْمٍ فَإِذَا الذِّئْبُ قَدْ ذَہَبَ بِشَاۃٍ مِنْ غَنَمِہَا، وَأَنَا رَجُلٌ مِنْ بَنِی آدَمَ آسَفُ کَمَا یَأْسَفُونَ لٰکِنِّی صَکَکْتُہَا صَکَّۃً، فَأَتَیْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَعَظَّمَ ذٰلِکَ عَلَیَّ قُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! أَفَلَا أُعْتِقُہَا؟ قَالَ: ((ائْتِنِی بِہَا)) فَأَتَیْتُہُ بِہَا فَقَالَ لَہَا: ((أَیْنَ اللّٰہُ؟)) فَقَالَتْ: فِی السَّمَائِ، قَالَ: ((مَنْ أَنَا؟)) قَالَتْ: أَنْتَ رَسُولُ اللّٰہِ، قَالَ: ((أَعْتِقْہَا فَإِنَّہَا مُؤْمِنَۃٌ۔)) وَقَالَ مَرَّۃً: ((ہِیَ مُؤْمِنَۃٌ فَأَعْتِقْہَا۔)) (مسند أحمد: ۲۴۱۶۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا معاویہ بن حکم سلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اپنی ایک حدیث بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں: میری ایک لونڈی تھی، وہ احد اور جوانیہ کی طرف میری بکریاں چراتی تھی، ایک دن جب میں نے اس پر چھاپہ مارا تو دیکھا کہ بھیڑیا ایک بکری لے گیا تھا، میں انسان ہی ہوں اور انسانوں کی طرح غصے ہوتا ہوں، اس لیے میں نے اس کو زور سے مارا، جب میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ واقعہ سنایا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس مارنے کو میرے حق میں بہت بڑا (جرم) خیال کیا، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا میں اس کو آزاد نہ کر دوں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کو میرے پاس لاؤ۔ پس میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس لے آیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے پوچھا: اللہ تعالیٰ کہاں ہے؟ اس نے کہا: آسمانوں میں ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں کون ہوں؟ اس نے کہا: آپ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کو آزاد کر دے، کیونکہ یہ مؤمنہ ہے۔ راوی نے ایک بار یوں روایت بیان کی: یہ مؤمنہ ہے، تو اس کو آزاد کر دے۔

5240

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5240

Sahih

۔ (۵۲۴۰)۔ عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ سُوَیْدٍ، قَالَ: لَطَمْتُ مَوْلًی لَنَا ثُمَّ جِئْتُ وَأَبِی فِی الظُّہْرِ فَصَلَّیْتُ مَعَہُ، فَلَمَّا سَلَّمَ أَخَذَ بِیَدِی، فَقَالَ: اِمْتَثِلْ مِنْہُ فَعَفَا ثُمَّ أَنْشَأَ یُحَدِّثُ، قَالَ: کُنَّا وَلَدَ مُقَرِّنٍ عَلَی عَہْدِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سَبْعَۃً، لَیْسَ لَنَا إِلَّا خَادِمٌ وَاحِدَۃٌ، فَلَطَمَہَا أَحَدُنَا، فَبَلَغَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((أَعْتِقُوہَا۔)) فَقَالُوْا: لَیْسَ لَنَا خَادِمٌ غَیْرُہَا، قَالَ: ((فَلْیَسْتَخْدِمُوہَا فَإِذَا اسْتَغْنَوْا فَلْیُخَلُّوا سَبِیلَہَا۔)) (مسند أحمد: ۱۵۷۹۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ معاویہ بن سوید سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے اپنے ایک غلام کو تھپڑ مارا، پھر جب میں آیا تو میرے ابو جان نمازِ ظہر پڑھا رہے تھے، میں نے ان کے ساتھ نماز پڑھی، جب انھوں نے سلام پھیرا تو میرا ہاتھ پکڑا اور غلام سے کہا: اس سے قصاص لے لو، لیکن اس نے معاف کر دیا، پھر وہ یہ حدیث بیان کرنے لگے کہ عہد ِ نبوی کی بات ہے کہ ہم سات افراد مقرن کی اولاد تھے، ہماری صرف ایک لونڈی تھی، ہم میں سے کسی نے اس کو تھپڑ مار دیا، جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اس بات کا پتہ چلا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کو آزاد کر دو۔ ہم نے کہا: جی ہماری تو صرف ایک ہی لونڈی ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر یہ لوگ اس سے خدمت کروائیں، لیکن جونہی یہ غنی ہو جائیں، اس کو آزاد کر دیں۔

5241

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5241

Sahih

۔ (۵۲۴۱)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنْ سُوَیْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ أَنَّ رَجُلًا لَطَمَ جَارِیَۃً لِآلِ سُوَیْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ، فَقَالَ لَہُ سُوَیْدٌ: أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ الصُّورَۃَ مُحَرَّمَۃٌ، لَقَدْ رَأَیْتُنِی سَابِعَ سَبْعَۃٍ مَعَ إِخْوَتِی وَمَا لَنَا إِلَّا خَادِمٌ وَاحِدٌ، فَلَطَمَہُ أَحَدُنَا فَأَمَرَنَا النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنْ نُعْتِقَہُ۔ (مسند أحمد: ۱۵۷۹۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) سیدنا سوید بن مقرن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے آلِ سوید بن مقرن کی لونڈی کو تھپڑ مار دیا، سیدنا سوید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اس سے کہا: کیا تجھے پتہ نہیں ہے کہ چہرہ حرمت والا ہوتا ہے، میں اپنے بھائیوں میں ساتواں تھا، یعنی ہم سات بھائی تھے اور ہمارے پاس صرف ایک خادمہ تھی، جب ہم میں سے ایک بھائی نے اس کو تھپڑ مار ا تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اس کو آزاد کر دیں۔