Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 80 · Chapter 909

(غلاموں اور لونڈیوں کی) آزادی کے مسائل

جس شخص نے اپنے غلام کا مثلہ کیا، یا اس پر زنا کی تہمت لگائی، جبکہ وہ بری ہو، اس کی سزا کا بیان

6 hadiths in this chapter

5242

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5242

Sahih

۔ (۵۲۴۲)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ زِنْبَاعًا أَبَا رَوْحٍ وَجَدَ غُلَامًا لَہُ مَعَ جَارِیَۃٍ لَہُ فَجَدَعَ أَنْفَہُ وَجَبَّہُ، فَأَتَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((مَنْ فَعَلَ ہٰذَا بِکَ؟)) قَالَ زِنْبَاعٌ، فَدَعَاہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((مَا حَمَلَکَ عَلٰی ہٰذَا؟)) فَقَالَ: کَانَ مِنْ أَمْرِہِ کَذَا وَکَذَا، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِلْعَبْدِ: ((اذْہَبْ فَأَنْتَ حُرٌّ۔)) فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! فَمَوْلٰی مَنْ أَنَا، قَالَ: ((مَوْلَی اللّٰہِ وَرَسُولِہِ)) فَأَوْصٰی بِہِ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْمُسْلِمِینَ، قَالَ: فَلَمَّا قُبِضَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جَائَ إِلٰی أَبِی بَکْرٍ، فَقَالَ: وَصِیَّۃُ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَ: نَعَمْ،نُجْرِی عَلَیْکَ النَّفَقَۃَ وَعَلٰی عِیَالِکَ، فَأَجْرَاہَا عَلَیْہِ حَتّٰی قُبِضَ أَبُو بَکْرٍ، فَلَمَّا اسْتُخْلِفَ عُمَرُ جَائَہُ، فَقَالَ: وَصِیَّۃُ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: نَعَمْ، أَیْنَ تُرِیدُ؟ قَالَ: مِصْرَ، فَکَتَبَ عُمَرُ إِلٰی صَاحِبِ مِصْرَ أَنْ یُعْطِیَہُ أَرْضًا یَأْکُلُہَا۔ (مسند أحمد: ۶۷۱۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ابو روح زِنباع نے اپنے غلام کو اپنی لونڈی کے ساتھ پایا اور اس نے اس کا ناک کاٹ دیا اور اس کے خصتین کو جڑ سے اکھاڑ دیا، جب وہ غلام، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا، تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: یہ تیرے ساتھ کس نے کیا ہے؟ اس نے کہا: زنباع نے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو بلایا اور فرمایا: تجھے ایسا کرنے پر کس چیز نے آمادہ کیا ہے؟ اس نے کہا: جی اس کا یہ یہ معاملہ ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے غلام سے فرمایا: تو چلا جا، تو آزاد ہے۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! اب میں کس کا غلام ہوں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو اللہ اور اس کے رسول کا غلام ہے۔ پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے بارے میں مسلمانوں کو وصیت کی، جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وفات پا گئے تو یہ غلام سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس آیا اور اس نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی وصیت، انھوں نے کہا: جی ٹھیک ہے، ہم تیرا اور تیرے اہل و عیال کا خرچ جاری کرتے ہیں، پھر انھوں نے یہ خرچ جاری کر دیا، جب سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ فوت ہوئے اور سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ خلیفہ بنے تو وہ اِن کے پاس آیا اور کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی وصیت، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے پوچھا: تو کہاں رہنا چاہتا ہے؟ اس نے کہا: جی مصر میں ، پس سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مصر کے امیر کو لکھا کہ وہ اس آدمی کو اتنی زمین دے دے کہ جس سے اس کے رزق کا معاملہ جاری رہے۔

5243

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5243

Sahih

۔ (۵۲۴۳)۔ (وعنہ من طریق ثان) عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ، عَنْ أَبِیہِ، عَنْ جَدِّہِ، عَنْ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ مُثِّلَ بِہِ أَوْ حُرِّقَ بِالنَّارِ فَہُوَ حُرٌّ، وَہُوَ مَوْلَی اللّٰہِ وَرَسُولِہِ۔)) قَالَ: فَأُتِیَ بِرَجُلٍ قَدْ خُصِیَ یُقَالُ لَہُ: سَنْدَرٌ، فَأَعْتَقَہُ ثُمَّ أَتٰی أَبَا بَکْرٍ بَعْدَ وَفَاۃِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَصَنَعَ إِلَیْہِ خَیْرًا، ثُمَّ أَتٰی عُمَرَ بَعْدَ أَبِی بَکْرٍ فَصَنَعَ إِلَیْہِ خَیْرًا، ثُمَّ إِنَّہُ أَرَادَ أَنْ یَخْرُجَ إِلٰی مِصْرَ فَکَتَبَ لَہُ عُمَرُ إِلٰی عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنْ اصْنَعْ بِہِ خَیْرًا، أَوْ احْفَظْ وَصِیَّۃَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیہِ۔ (مسند أحمد: ۷۰۹۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس غلام کا مثلہ کیا گیا یا اس کو آگ کے ساتھ جلایا گیا تو وہ آزاد ہو جا ئے گا اور وہ اللہ اور اس کے رسول کا غلام بن جائے گا۔ اس کے بعد سندر نامی ایسے غلام کو لایا گیا کہ جس کو خصی کر دیا گیا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کی آزاد ی کا حکم دے دیا، پھر وہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی وفات کے بعد سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس آیا، انھوں نے بھی اس کے ساتھ اچھا برتاؤ کیا، پھر وہ سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے فوت ہو جانے کے بعد سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس آیا، انھوں نے بھی اس کے ساتھ خیر والا معاملہ کیا، پھر جب اس نے مصر کی طرف چلا جانا چاہا تو سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سیدنا عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طرف لکھا کہ وہ اس شخص کے ساتھ اچھا برتاؤ کرے، یا یہ لکھا کہ وہ اس کے بارے میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی وصیت کا پاس و لحاظ رکھے۔

5244

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5244

Sahih

۔ (۵۲۴۴)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَمِعْتُ نَبِیَّ التَّوْبَۃِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((أَیُّمَا رَجُلٍ قَذَفَ مَمْلُوکَہُ وَہُوَ بَرِیئٌ مِمَّا قَالَ یُقَامُ عَلَیْہِ الْحَدُّ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ إِلَّا أَنْ یَکُونَ کَمَا قَالَ۔)) (مسند أحمد: ۹۵۶۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی ٔ توبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے فرمایا: جس آدمی نے اپنے غلام پر تہمت لگائی، جبکہ وہ اس بات سے بری ہوئی تو روزِ قیامت ایسے مالک پر حد لگائی جائے گی، الا یہ کہ غلام ایسا ہی نکلا، جیسے اس نے کہا تھا۔

5245

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5245

Zaeef

۔ (۵۲۴۵)۔ عَنْ أَبِی ذَرٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((مَنْ زَنّٰی أَمَۃً لَمْ یَرَہَا تَزْنِی جَلَدَہُ اللّٰہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ بِسَوْطٍ مِنْ نَارٍ۔)) (مسند أحمد: ۲۱۷۰۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو اپنی لونڈی کو زنا کرتے ہوئے نہ دیکھے، لیکن اس کے باوجود وہ اس پر زنا کی تہمت لگا دے تو اللہ تعالیٰ روزِ قیامت اس شخص کو آگ کا کوڑا لگائے گا۔

5246

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5246

Sahih

۔ (۵۲۴۶)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَجُلًا أَتٰی رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! إِنَّ لِی خَادِمًا یُسِیئُ وَیَظْلِمُ أَفَأَضْرِبُہُ؟ قَالَ: ((تَعْفُو عَنْہُ کُلَّ یَوْمٍ سَبْعِینَ مَرَّۃً۔))(مسند أحمد: ۵۶۳۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرا ایک غلام ہے، وہ نازیبا اور غلط حرکتیں کرتا ہے اور ظلم کرتا ہے، کیا میں اس کو مار سکتا ہوں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: روزانہ اس کو ستر بار معاف کیا کرو۔

5247

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5247

Sahih

۔ (۵۲۴۷)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: جَائَ رَجُلٌ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَمْ یُعْفٰی عَنِ الْمَمْلُوکِ؟ قَالَ: فَصَمَتَ عَنْہُ ثُمَّ أَعَادَ فَصَمَتَ عَنْہُ، ثُمَّ أَعَادَ فَقَالَ: ((یُعْفٰی عَنْہُ کُلَّ یَوْمٍ سَبْعِینَ مَرَّۃً۔)) (مسند أحمد: ۵۸۹۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) ایک آدمی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! غلام کو کتنی بار معاف کیا جائے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خاموش رہے، اس نے پھر یہی سوال دوہرایا، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خاموش رہے، جب اس نے سہ بار یہی سوال کیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہر روز ستر دفعہ معاف کیا جائے۔