Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 80 · Chapter 907

(غلاموں اور لونڈیوں کی) آزادی کے مسائل

غلاموں کے ساتھ احسان کرنے اور ان کے حق میں وصیت کرنے کا اور ان کو مارنے سے ممانعت کا بیان

13 hadiths in this chapter

5222

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5222

Zaeef

۔ (۵۲۲۲)۔ عَنْ أَبِی بَکْرٍ الصِّدِّیقِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنْ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ خَبٌّ وَلَا بَخِیلٌ وَلَا مَنَّانٌ وَلَا سَیِّئُ الْمَلَکَۃِ، وَأَوَّلُ مَنْ یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ الْمَمْلُوکُ إِذَا أَطَاعَ اللّٰہَ وَأَطَاعَ سَیِّدَہُ۔)) (مسند أحمد: ۳۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو بکر صدیق ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دھوکہ باز، بخیل، احسان جتلانے والا اور غلاموں سے برا سلوک کرنے والا جنت میں داخل نہیں ہوگا اور جنت میں سب سے پہلے داخل ہونے والا وہ غلام ہو گا، جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتا ہے اور اپنے مالک کی اطاعت کرتا ہے۔

5223

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5223

Zaeef

۔ (۵۲۲۳)۔ عَنْ أَبِی بَکْرٍ الصِّدِّیقِ، ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ سَیِّئُ الْمَلَکَۃِ۔)) فَقَالَ رَجُلٌ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! أَلَیْسَ أَخْبَرْتَنَا أَنَّ ہٰذِہِ الْأُمَّۃَ أَکْثَرُ الْأُمَمِ مَمْلُوکِینَ وَأَیْتَامًا؟ قَالَ: ((بَلٰی، فَأَکْرِمُوہُمْ کَرَامَۃَ أَوْلَادِکُمْ، وَأَطْعِمُوہُمْ مِمَّا تَأْکُلُونَ۔)) قَالُوْا: فَمَا یَنْفَعُنَا فِی الدُّنْیَا یَا رَسُولَ اللّٰہِ؟ قَالَ: ((فَرَسٌ صَالِحٌ تَرْتَبِطُہُ تُقَاتِلُ عَلَیْہِ فِی سَبِیلِ اللّٰہِ، وَمَمْلُوکٌ یَکْفِیکَ فَإِذَا صَلّٰی فَہُوَ أَخُوکَ۔)) (مسند أحمد: ۷۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو بکر صدیق ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: غلاموں سے برا سلوک کرنے والا جنت میں داخل نہیں ہو گا۔ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ نے ہمیں یہ نہیں بتایا تھا کہ یہ امت سب سے زیادہ غلاموں اور یتیموں والی ہو گی؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیوں نہیں، لیکن اپنی اولاد کی طرح ان کی عزت کرو اور جو کچھ خود کھاتے ہو، اسی میں سے ان کو کھلاؤ۔ لوگوں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! کون سی چیز ہمیں دنیا میں فائدہ دے سکتی ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک عمدہ گھوڑا ہو، جس کو تو نے اللہ کی راہ میں جہاد کرنے کے لیے باندھا ہوا ہو اور ایک غلام ہو، جو تیری ضروریات کو پورا کرے، اور اگر وہ نماز پڑھنے والا ہو، تو پھر تو تیرا بھائی ہے۔

5224

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5224

Sahih

۔ (۵۲۲۴)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِذَا جَائَ خَادِمُ أَحَدِکُمْ بِطَعَامِہِ فَلْیَبْدَأْ بِہِ، فَلْیُطْعِمْہُ أَوْ لِیُجْلِسْہُ مَعَہُ، فَإِنَّہُ وَلِیَ حَرَّہُ وَدُخَانَہُ۔)) (مسند أحمد: ۳۶۸۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب کسی کا خادم اس کا کھانا لے کر آئے اور وہ کھانے لگے تو اس کو چاہیے کہ وہ اس کو بھی کھلائے یا اس کو اپنے پاس بٹھا دے، کیونکہ اس کی گرمی اور دھواں اس نے برداشت کیا ہے۔

5225

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5225

Sahih

۔ (۵۲۲۵)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِذَا صَلَحَ خَادِمُ اَحَدِکُمْ لَہٗ طَعَامًا فَکَفَاہٗ حَرَّہٗ وَبُرْدَہٗ فَلْیُجْلِسْہٗ مَعَہٗ، فَاِنْ اَبٰی فَلْیُنَاوِلْہٗ اُکْلَۃً فِیْ یَدِہِ۔)) (مسند أحمد: ۷۵۰۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب کسی کا خادم اس کا کھانا تیار کرے تو وہی ہے، جو اس کے لیے گرمی اور سردی برداشت کرتا ہے، اس لیے مخدوم کو چاہیے کہ وہ اس کو اپنے ساتھ بٹھا لے اور اگر وہ اس طرح نہ کرے تو اس کے ہاتھ میں لقمہ پکڑا دے۔

5226

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5226

Sahih

۔ (۵۲۲۶)۔ (وَعَنْہٗ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) بِنَحْوِہِ وَفِیْہِ: ((فَاِنْ کَانَ الطَّعَامُ مَشْفُوْھًا قَلِیْلًا فَلْیَضَعْ فِیْ یَدِہِ اُکْلَۃً اَوْ اُکْلَتَیْنِ۔)) ؤ(مسند أحمد: ۷۷۱۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند)اسی طرح کی حدیث ہے، البتہ اس میں ہے: اگر کھانا تھوڑا ہو تو خادم کے ہاتھ میں ایک دو لقمے رکھ دے۔

5227

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5227

Sahih

۔ (۵۲۲۷)۔ عَنْ اَبِی الزُّبَیْرِ اَنَّہٗ سَاَلَ جَابِرًا عَنْ خَادِمِ الرَّجُلِ اِذَا کَفَاہُ الْمُشَقَّۃَ وَالْحَرَّ؟ فَقَالَ: اَمَرَنَا النَّبِیُّ اَنْ نَدْعُوْہٗ، فَاِنْ کَرِہَ اَحَدُنَا اَنْ یَطْعَمَ مَعَہٗ فَلْیُطْعِمْہٗ اُکْلَۃً فِیْ یَدِہِ۔ (مسند أحمد: ۱۴۷۸۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ ابو زبیر سے مروی ہے کہ انھوں نے سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے اس خادم کے بارے میں سوال کیا، جو مالک کو محنت اور گرمی سے کفایت کرتا ہے، انھوں نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اسے بلائیں، اگر وہ اپنے ساتھ کھانا کھلانے کو ناپسند کرتا ہے تو اس کے ہاتھ میں ایک لقمہ دے دے۔

5228

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5228

Sahih

۔ (۵۲۲۸)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ،عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لِلْمُلُوْکِ طَعَامُہٗ وَکِسْوَتُہٗ وَلَا یُکَلَّفُ مِنَ الْعَمَلِ مَالَا یُطِیْقُ۔)) (مسند أحمد: ۸۴۹۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: غلام کے لیے کھانااور لباس بذمہ مالک ہو گا اور اس کو اتنے کام کی تکلیف نہیں دی جائے گی، جس کی اس کو طاقت نہیں ہو گی۔

5229

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5229

Zaeef

۔ (۵۲۲۹)۔ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ یَزِیْدَ، عَنْ اَبِیْہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ فِیْ حَجَّۃِ الْوِدَاعِ: ((اَرِقَّائَکُمْ، اَرِقَّائَکُمْ، اَرِقَّائَکُمْ، اَطْعِمُوْا ھُمْ مِمَّا تَأْکُلُوْنَ، وَاکْسُوْھُمْ مِمَّا تَلْبَسُوْنَ، فَاِنْ جَائُ وْا بِذَنْبٍ لَا تُرِیْدُوْنَ اَنْ تَغْفِرُوْہٗ فَبِیْعُوْا عِبَادَ اللّٰہِ وَلَا تُعَذِّبُوْھُمْ)) (مسند أحمد: ۱۶۵۲۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا یزید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر فرمایا: اپنے غلاموں کا خیال رکھنا، اپنے غلاموں کا خیال رکھنا، اپنے غلاموں کا خیال رکھنا، جو کچھ خود کھاتے ہو، اسی میں سے ان کو کھلایا کرو، جو کچھ خود پہنتے ہو، ان کو بھی اسی میں سے پہناؤ، اگر وہ کوئی ایسا گناہ کر گزریں، جو تم نہ بخشنا چاہو، تو اللہ تعالیٰ کے ان بندوں کو بیچ دو اور ان کو عذاب نہ دو۔

5230

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5230

Sahih

۔ (۵۲۳۰)۔ عَنْ أَبِی ذَرٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنْ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((إِخْوَانَکُمْ، جَعَلَہُمُ اللّٰہُ قِنْیَۃً تَحْتَ أَیْدِیکُمْ، فَمَنْ کَانَ أَخُوہُ تَحْتَ یَدَیْہِ فَلْیُطْعِمْہُ مِنْ طَعَامِہِ، وَلْیَکْسُہُ مِنْ لِبَاسِہِ، وَلَا یُکَلِّفْہُ مَا یَغْلِبُہُ، فَإِنْ کَلَّفَہُ مَا یَغْلِبُہُ فَلْیُعِنْہُ عَلَیْہِ۔)) (مسند أحمد: ۲۱۷۳۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اپنے بھائیوں کی حفاظت کرو، اللہ تعالیٰ نے ان کو تمہاری ملکیت میں کر دیا ہے، پس جس کا بھائی اس کی ملکیت میں ہو تو وہ اس کو اپنے کھانے میں سے کھلائے اور اپنے کپڑوں میں سے پہنائے اور اس کو ایسے کام کا مکلَّف نہ ٹھہرائے جو اس کو مغلوب کر دے، اگر وہ اس کو مغلوب کر دینے والے کام کی تکلیف دے دے تو پھر وہ اس کی معاونت کرے۔

5231

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5231

Sahih

۔ (۵۲۳۱)۔ عَنْ أَبِی ذَرٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ لَائَ مَکُمْ مِنْ خَدَمِکُمْ فَأَطْعِمُوہُمْ مِمَّا تَأْکُلُونَ، وَاکْسُوہُمْ مِمَّا تَلْبَسُونَ، أَوْ قَالَ: تَکْتَسُونَ وَمَنْ لَا یُلَائِمُکُمْ فَبِیعُوہُ وَلَا تُعَذِّبُوا خَلْقَ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ۔)) (مسند أحمد: ۲۱۸۴۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمہارے جو خادم تمہاری طبع کے موافق ہوں تو جو کچھ خود کھاتے ہو، اس میں سے ان کو بھی کھلایا کرو اور جو کچھ خود پہنتے ہو، اس میں سے ان کو بھی پہنایا کرو، اور جو خادم تمہاری طبیعت کے موافق نہ ہو تو اس کو بیچ دیا کرو اور اللہ تعالیٰ کی مخلوق کو عذاب نہ دیا کرو۔

5232

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5232

Sahih

۔ (۵۲۳۲)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا یَقُلْ أَحَدُکُمْ اسْقِ رَبَّکَ أَطْعِمْ رَبَّکَ وَضِّئْ رَبَّکَ، وَلَا یَقُلْ أَحَدُکُمْ رَبِّی، وَلْیَقُلْ سَیِّدِی وَمَوْلَایَ، وَلَا یَقُلْ اَحَدُکُمْ عَبْدِیْ وَاَمَتِیْ وَلْیَقُلْ فَتَاتِیْ وَغُلَامِی۔)) (مسند أحمد: ۸۱۸۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی آدمی کسی غلام سے اس طرح نہ کہے: تو اپنے رب کو پانی پلا، تو اپنے رب کو کھانا کھلا، تو اپنے رب کو وضو کروا۔ اور کوئی غلام اس طرح نہ کہے: میرا رب، بلکہ وہ یوں کہے: میرا سردار اور میرا مولا، اسی طرح کوئی مالک اس طرح نہ کہے: عَبْدِیْ، اَمَتِیْ، بلکہ وہ کہے: میرا جوان، میرا غلام۔

5233

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5233

Sahih

۔ (۵۲۳۳)۔ (وَعَنْہٗ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا یَقُوْلَنَّ اَحَدُکُمْ عَبْدِیْ وَاَمَتِیْ کُلُّکُمْ عَبِیْدُ اللّٰہِ، وَکُلُّ نِسَائِکُمْ اِمَائَ اللّٰہِ، وَلٰکِنْ لِیَقُلْ غُلَامِیْ وَجَارِیَتِیْ وَفَتَایَ وَفَتَاتِیْ۔)) (مسند أحمد: ۹۹۶۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کوئی مالک یوں نہ کہے: عَبْدِیْ وَاَمَتِیْ، کیونکہ تم سارے اللہ تعالیٰ کے بندے ہو اور تمہاری تمام عورتیں اللہ تعالیٰ کی لونڈیاں ہیں۔ مالک کو یوں کہنا چاہیے: میرا غلام، میری لونڈی، میرا جوان، میری جوان۔

5234

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5234

Sahih

۔ (۵۲۳۴)۔ عَنْ أَبِی أُمَامَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَقْبَلَ مِنْ خَیْبَرَ وَمَعَہُ غُلَامَانِ، وَہَبَ أَحَدَہُمَا لِعَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ، وَقَالَ: ((لَا تَضْرِبْہُ فَإِنِّی قَدْ نُہِیْتُ عَنْ ضَرْبِ أَہْلِ الصَّلَاۃِ، وَقَدْ رَأَیْتُہُ یُصَلِّی۔)) قَالَ عَفَّانُ فِی حَدِیثِہِ: أَخْبَرَنَا أَبُو طَالِبٍ، عَنْ أَبِی أُمَامَۃَ، أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَقْبَلَ مِنْ خَیْبَرَ وَمَعَہُ غُلَامَانِ، فَقَالَ عَلِیٌّ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! أَخْدِمْنَا، قَالَ: ((خُذْ أَیَّہُمَا شِئْتَ)) قَالَ: خِرْ لِی، قَالَ: ((خُذْ ہٰذَا، وَلَا تَضْرِبْہُ فَإِنِّی قَدْ رَأَیْتُہُ یُصَلِّی مَقْبَلَنَا مِنْ خَیْبَرَ، وَإِنِّی قَدْ نُہِیْتُ۔)) وَأَعْطٰی أَبَا ذَرٍّ غُلَامًا، وَقَالَ: ((اسْتَوْصِ بِہِ مَعْرُوفًا۔)) فَأَعْتَقَہُ فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا فَعَلَ الْغُلَامُ؟)) قَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! أَمَرْتَنِی أَنْ أَسْتَوْصِیَ بِہِ مَعْرُوفًا فَأَعْتَقْتُہُ۔ (مسند أحمد: ۲۲۵۰۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو امامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خیبر سے واپس آئے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ دو غلام تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک غلام سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو دیا اور فرمایا: اس کو مارنا نہیں، کیونکہ مجھے نمازی لوگوں کو مارنے سے منع کیا گیا ہے اور میں نے اس کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔ عفان راوی کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خیبر سے واپس آئے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ دو غلام تھے، سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہمیں بھی خادم دے دیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ان میں جو چاہتے ہو، لے لو۔ لیکن سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: آپ میرے لیے پسند کریں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ لے لو، کیونکہ میں نے اس کو خیبر سے واپسی پر نماز پڑھتے ہوئے دیکھاہے اور مجھے نمازی لوگوں کو مارنے سے منع کیا گیا ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دوسر اغلام سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو دیا اور فرمایا: اس کے حق میں اچھی وصیت قبول کرنا۔ انھوں نے اس کو آزاد کر دیا، پھر جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے پوچھا کہ غلام کا کیا بنا؟ تو انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے مجھے حکم دیا تھا کہ میں اس کے حق میں نیک وصیت قبول کروں، پس اس وجہ سے میں نے اس کو آزاد کر دیا۔