Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 80 · Chapter 906

(غلاموں اور لونڈیوں کی) آزادی کے مسائل

آزاد کرنے اور اس پر برانگیختہ کرنے کا بیان

15 hadiths in this chapter

5207

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5207

Sahih

۔ (۵۲۰۷)۔ عَنْ اَبِیْ نَجِیْحِ نِ السُّلَمِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((مَنْ رَمٰی بِسَہْمٍ فِی سَبِیلِ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ فَہُوَ عِدْلُ مُحَرَّرٍ، وَمَنْ شَابَ شَیْبَۃً فِی سَبِیلِ اللّٰہِ کَانَتْ لَہُ نُورًا یَوْمَ الْقِیَامَۃِ، وَأَیُّمَا رَجُلٍ مُسْلِمٍ أَعْتَقَ رَجُلًا مُسْلِمًا، فَإِنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ جَاعِلٌ وَفَائَ کُلِّ عَظْمٍ مِنْ عِظَامِہِ عَظْمًا مِنْ عِظَامِ مُحَرَّرِہِ مِنَ النَّارِ، وَأَیُّمَا امْرَأَۃٍ مُسْلِمَۃٍ أَعْتَقَتْ امْرَأَۃً مُسْلِمَۃً، فَإِنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ جَاعِلٌ وَفَائَ کُلِّ عَظْمٍ مِنْ عِظَامِہَا عَظْمًا مِنْ عِظَامِ مُحَرَّرِہَا مِنَ النَّارِ۔)) (مسند أحمد: ۱۷۱۴۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو نجیح سلمی سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے اللہ تعالیٰ کے راستے میں ایک تیر پھینکا، اس کو آزاد شدہ غلام کے ثواب کے برابر ثواب ملے گا، جس کے اللہ کے راستے میں بال سفید ہو گئے تو یہ چیز اس کے لیے قیامت والے دن نور ہو گی، جس آدمی نے کسی مسلمان غلام کو آزاد کیا، تو اللہ تعالیٰ آزاد ہونے والی کی ہر ہڈی کے عوض آزاد کنندہ کی ہر ہڈی کو آگ سے آزاد کر دے گا، اسی طرح جس عورت نے مسلمان عورت کو آزاد کیا، تو اللہ تعالیٰ آزاد شدہ کی ہر ہڈی کے عوض آزاد کنندہ خاتون کی ہر ہڈی کو آگ سے آزاد کر دے گا۔

5208

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5208

Sahih

۔ (۵۲۰۸)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ اَعْتَقَ رَقَبَۃً مُسْلِمَۃً کَانَتْ فِکَاکَہ مِنَ النَّارِ عُضْوًا بِعُضْوٍ۔)) (مسند احمد: ۱۷۱۴۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے مسلمان گردن کو آزاد کیا، تو اس عمل سے اس کی آ گ سے آزادی ہو گی، آزاد شدہ کے ہر عضو کے بدلے آزاد کنندہ کا ہر عضو آگ سے آزاد ہو گا۔

5209

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5209

Sahih

۔ (۵۲۰۹)۔ عَنْ سَعِیدِ بْنِ مَرْجَانَۃَ، أَنَّہُ سَمِعَ أَبَا ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ یَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ أَعْتَقَ رَقَبَۃً مُؤْمِنَۃً أَعْتَقَ اللّٰہُ بِکُلِّ إِرْبٍ مِنْہُ إِرْبًا مِنَ النَّارِ حَتّٰی أَنَّہُ لَیُعْتِقُ بِالْیَدِ الْیَدَ وَبِالرِّجْلِ الرِّجْلَ وَبِالْفَرْجِ الْفَرْجَ۔)) فَقَالَ عَلِیُّ بْنُ حُسَیْنٍ: أَنْتَ سَمِعْتَ ہٰذَا مِنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌؟ فَقَالَ سَعِیدٌ: نَعَمْ، فَقَالَ عَلِیُّ بْنُ حُسَیْنٍ لِغُلَامٍ لَہُ: أَفْرَہَ غِلْمَانِہِ ادْعُ لِی مُطَرِّفًا، قَالَ: فَلَمَّا قَامَ بَیْنَ یَدَیْہِ قَالَ: اذْہَبْ فَأَنْتَ حُرٌّ لِوَجْہِ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ۔ (مسند أحمد: ۹۴۵۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے مؤمن گردن کو آزاد کیا، اللہ تعالیٰ اس کے ہر عضو کے بدلے اس کے ہر عضو کو آگ سے آزاد کر دے گا، یعنی وہ اس کے ہاتھ کے بدلے ہاتھ کو، ٹانگ کے ٹانگ کو اور شرم گاہ کے بدلے شرم گاہ کو آزاد کرے گا۔ علی بن حسین نے کہا: کیا تم نے یہ حدیث سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے سنی ہے؟ سعید نے کہا: جی ہاں، پس علی بن حسین نے اپنے سب سے زیادہ چست غلام سے کہا: مطرف کو بلاؤ، جب وہ ان کے سامنے کھڑا ہوا تو انھوں نے کہا: تو چلا جا، تو اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے آزاد ہے۔

5210

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5210

Sahih

۔ (۵۲۱۰)۔ عَنِ الْغَرِیفِ الدَّیْلَمِیِّ قَالَ: أَتَیْنَا وَاثِلَۃَ بْنَ الْأَسْقَعِ اللَّیْثِیَّ، فَقُلْنَا: حَدِّثْنَا بِحَدِیثٍ سَمِعْتَہُ مِنْ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَ: أَتَیْنَا النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی صَاحِبٍ لَنَا قَدْ أَوْجَبَ، فَقَالَ: ((أَعْتِقُوا عَنْہُ یُعْتِقِ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ بِکُلِّ عُضْوٍ عُضْوًا مِنْہُ مِنَ النَّارِ۔)) (مسند أحمد: ۱۶۱۰۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ عریف دیلمی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم سیدنا واثلہ بن اسقع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس گئے اور ان سے کہا: ہمیں کوئی ایسی حدیث بیان کرو، جو تم نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنی ہو، انھوں نے کہا: ہم ایک ایسے آدمی کا مسئلہ لے کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے، جو ایک گناہ کی وجہ سے جہنم کو اپنے حق میں واجب کر چکا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کی طرف سے ایک غلام آزاد کر دو، اللہ تعالیٰ اس آزاد شدہ کے ہر عضو کی وجہ سے اس کے ہر عضو کو جہنم سے آزاد کر دے گا۔

5211

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5211

Sahih

۔ (۵۲۱۱)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) بِنَحْوِہِ وَفِیْہِ: قَالَ: ((فَلْیُعْتِقْ رَقَبَۃً یُفْدِی اللّٰہُ بِکُلِّ عُضْوٍ مِنْھَا عُضْوًا مِنْہُ مِنَ النَّارِ۔)) (مسند أحمد: ۱۷۱۱۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند): اسی طرح کی حدیث مروی ہے، البتہ اس میں ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کو چاہیے کہ یہ ایک گردن آزاد کر دے، اللہ تعالیٰ اس گردن کے ہر عضو کو آگ سے اس کے ہر عضو کا فدیہ بنا دے گا۔

5212

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5212

Sahih

۔ (۵۲۱۲)۔ عَنْ حَکِیْمِ بْنِ حِزَامٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: اَعْتَقَتُّ فِی الْجَاھِلِیَّۃِ اَرْبَعِیْنَ مُحُرَّرًا، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَسْلَمْتَ عَلٰی مَا سَبَقَ لَکَ مِنْ خَیْرٍ۔)) (مسند أحمد: ۱۵۶۶۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا حکیم بن حزام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے جاہلیت میں چالیس غلام آزاد کیے تھے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم خیر کے جو امور سر انجام دے چکے تھے، ان سمیت اسلام لائے ہو۔

5213

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5213

Sahih

۔ (۵۲۱۳)۔ عَنْ أَبِی ذَرٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! أَیُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: ((إِیمَانٌ بِاللّٰہِ تَعَالٰی، وَجِہَادٌ فِی سَبِیلِہِ۔)) قُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! فَأَیُّ الرِّقَابِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: ((أَنْفَسُہَا عِنْدَ أَہْلِہَا وَأَغْلَاہَا ثَمَنًا۔)) قَالَ: فَإِنْ لَمْ أَجِدْ؟ قَالَ: ((تُعِینُ صَانِعًا أَوْ تَصْنَعُ لِأَخْرَقَ۔)) وَقَالَ: فَإِنْ لَمْ أَسْتَطِعْ قَالَ: ((کُفَّ أَذَاکَ عَنِ النَّاسِ، فَإِنَّہَا صَدَقَۃٌ تَصَدَّقُ بِہَا عَنْ نَفْسِکَ۔)) (مسند أحمد: ۲۱۶۵۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سوال کیا کہ کون سا عمل افضل ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جوا ب دیا: اللہ تعالیٰ پر ایمان لانا اور اس کے راستے میں جہاد کرنا۔ میں نے کہا: کون سی گردن کو آزاد کرنا افضل ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو اپنے مالکوں کے نزدیک قیمتی اور مہنگی ہو۔ میں نے کہا: اگر مجھ میں یہ عمل کرنے کی سکت نہ ہو تو؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جواب دیا: تو کسی پریشان حال کی معاونت کر دیا کرو یا کسی بے ہنر انسان کا کوئی کام کر دیا کرو۔ میں نے کہا: اگر میں یہ کارِ خیر کرنے سے بھی عاجز رہوں تو؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو تم لوگوں کو اپنے شرّ سے محفوظ رکھو‘ یہ بھی تمہارا اپنے آپ پر صدقہ ہو گا۔

5214

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5214

Sahih

۔ (۵۲۱۴)۔ عَنْ مَیْمُوْنَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَتْ: اَعْتَقْتُ جَارِیَۃً لِیْ فَدَخَلَ عَلَیَّ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَاَخْبَرْتُہُ بِعِتْقِھَا، فَقَالَ: ((آجَرَکِ اللّٰہُ، اَمَّا اَنَّکِ لَوْ اَعْطَیْتِھَا اَخْوَالَکِ کَانَ اَعْظَمَ لِاَجْرِکِ۔)) (مسند أحمد: ۲۷۳۵۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ زوجہ ٔ رسول سیدہ میمونہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے اپنی ایک لونڈی آزاد کی، جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میرے پاس تشریف لائے اور میں نے اس کی آزادی کے بارے میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بتلایا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تجھے اجر دے، لیکن اگر تونے یہ لونڈی اپنے ماموؤں کو دی ہوتی تو یہ عمل تیرے لیے بہت بڑے اجر کا باعث ہوتا۔

5215

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5215

Zaeef

۔ (۵۲۱۵)۔ عَنْ سَعْدٍ مَوْلٰی أَبِی بَکْرٍ، وَکَانَ یَخْدُمُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، وَکَانَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُعْجِبُہُ خِدْمَتُہُ، فَقَالَ: یَا أَبَا بَکْرٍ! أَعْتِقْ سَعْدًا، فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! مَا لَنَا مَاہِنٌ غَیْرُہُ؟ قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَعْتِقْ سَعْدًا أَتَتْکَ الرِّجَالُ۔)) قَالَ أَبُو دَاوُدَ: یَعْنِی السَّبْیَ۔ (مسند أحمد: ۱۷۱۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ مولائے ابو بکر سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، جو کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت کرتے تھے اور ان کی خدمت آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو پسند بھی آتی تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے ابو بکر! سعد کو آزاد کر دو۔ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس کے علاوہ ہمارا کوئی خادم نہیں ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم سعد کو آزاد کر دو، تمہارے پاس کئی بندے آئیں گے۔ امام ابو داودد طیالسی نے کہا: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مراد قیدی تھے۔

5216

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5216

Sahih

۔ (۵۲۱۶)۔ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہٗ قَالَ: ((مَنْ اَعْتَقَ رَقَبَۃً مُؤُمِنَۃً فَھِیَ فِدَاؤُہٗ مِنَ النَّارِ۔)) (مسند أحمد: ۲۲۴۶۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا معاذ بن جبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے مومن گردن کو آزاد کیا، تو یہ جہنم سے اس کا فدیہ ہو گا۔

5217

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5217

Sahih

۔ (۵۲۱۷)۔ عَنْ مَالِکِ بْنِ عَمْرٍو الْقُشَیْرِیِّ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((مَنْ أَعْتَقَ رَقَبَۃً مُسْلِمَۃً فَہِیَ فِدَاؤُہُ مِنَ النَّارِ۔قَالَ عَفَّانُ: مَکَانَ کُلِّ عَظْمٍ مِنْ عِظَامِ مُحَرِّرِہِ بِعَظْمٍ مِنْ عِظَامِہِ، وَمَنْ أَدْرَکَ أَحَدَ وَالِدَیْہِ ثُمَّ لَمْ یُغْفَرْ لَہُ فَأَبْعَدَہُ اللّٰہُ، وَمَنْ ضَمَّ یَتِیمًا مِنْ بَیْنِ أَبَوَیْنِ مُسْلِمَیْنِ، قَالَ عَفَّانُ: إِلٰی طَعَامِہِ وَشَرَابِہِ حَتّٰی یُغْنِیَہُ اللّٰہُ وَجَبَتْ لَہُ الْجَنَّۃُ۔)) (مسند أحمد: ۱۹۲۳۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا مالک بن عمرو قشیری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے مسلمان گردن آزاد کی، تو یہ آگ سے اس کا فدیہ بنے گی، عفان راوی کے الفاظ یہ ہیں: آزاد شدہ کی ہر ہڈی کے عوض آزاد کنندہ کی ہر ہڈی جہنم سے آزاد ہو جائے گی، اور جس نے اپنے والدین میں ایک کو پایا اور پھر (اس کی خدمت کر کے) اپنے آپ کو بخشوا نہ سکا تو اللہ تعالیٰ اس کو دور کر دے، اور جس نے مسلمان والدین کا یتیم بچہ کھانے اور پینے کے معاملات میں اپنے ساتھ ملا لیا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اس بچے کو غنی کر دیا، اس کے لیے جنت واجب ہو جائے گی۔

5218

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5218

Sahih

۔ (۵۲۱۸)۔ عَنِ ابْنِ مَعْقِلٍ، عَنْ عَائِشَۃَ أَنَّہَا کَانَ عَلَیْہَا رَقَبَۃٌ مِنْ وُلَدِ إِسْمَاعِیلَ، فَجَائَ سَبْیٌ مِنَ الْیَمَنِ مِنْ خَوْلَانَ، فَأَرَادَتْ أَنْ تُعْتِقَ مِنْہُمْ، فَنَہَانِی النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، ثُمَّ جَائَ سَبْیٌ مِنْ مُضَرَ مِنْ بَنِی الْعَنْبَرِ، فَأَمَرَہَا النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنْ تٰعْتِقَ مِنْہُمْ۔ (مسند أحمد: ۲۶۷۹۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ انھوں نے اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے ایک گردن آزاد کرنی تھی، جب یمن سے خولان قبیلہ کے قیدی آئے تو انھوں نے ان میں سے ایک غلام آزاد کرنا چاہا، لیکن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو منع کر دیا، پھر جب بنو عنبر سے مضر قبیلے کے قیدی آئے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو حکم دیا کہ ان قیدیوں میں سے کسی کو آزاد کر دیں۔

5219

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5219

Sahih

۔ (۵۲۱۹)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَجُلًا أَتَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِجَارِیَۃٍ سَوْدَائَ أَعْجَمِیَّۃٍ، فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! إِنَّ عَلَیَّ عِتْقَ رَقَبَۃٍ مُؤْمِنَۃٍ، فَقَالَ لَہَا رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَیْنَ اللّٰہُ؟)) فَأَشَارَتْ إِلَی السَّمَائِ بِإِصْبَعِہَا السَّبَّابَۃِ، فَقَالَ لَہَا: ((مَنْ أَنَا؟)) فَأَشَارَتْ بِإِصْبَعِہَا إِلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَإِلَی السَّمَائِ، أَیْ أَنْتَ رَسُولُ اللّٰہِ، فَقَالَ: ((أَعْتِقْہَا۔)) (مسند أحمد: ۷۸۹۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی ایک سیاہ فام عجمی لونڈی لے کر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے ایک مومن گردن کو آزاد کرنا ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے پوچھا: اللہ تعالیٰ کہاں ہے؟ اس نے جواباً انگشت ِ شہادت سے آسمان کی طرف اشارہ کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اچھا میں کون ہوں؟ اس نے جواب دیتے ہوئے پہلے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف اشارہ کیا اور پھر آسمان کی طرف، دراصل وہ یہ کہنا چاہتی تھی کہ آپ اللہ کے رسول ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کو آزاد کر دو۔

5220

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5220

Sahih

۔ (۵۲۲۰)۔ عَنْ اَبِی الدَّرْدَائِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَثَلُ الَّذِیْ یُعْتِقُ عِنْدَ الْمَوْتِ کَمَثَلِ الَّذِیْ یُھْدِیْ اِذَا شَبِعَ۔)) (مسند أحمد: ۲۸۰۸۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو درداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: موت کے وقت آزاد کرنے والے کی مثال اس آدمی کی سی ہے، جو سیر ہونے کے بعد تحفہ دیتا ہے۔

5221

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5221

Zaeef

۔ (۵۲۲۱)۔ عَنْ مَیْمُوْنَۃَ بِنْتِ سَعْدٍ مَوْلَاۃِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَتْ: سُئِلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ عَنْ وَلَدِ الزِّنَا، قَالَ: ((لَا خَیْرَ فِیْہِ، نَعْلَانِ اُجَاھِدُ بِھِمَا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ اَحَبُّ اِلَیَّ مِنْ اَنْ اُعْتِقَ وَلَدَ زِنَا۔)) (مسند أحمد: ۲۸۱۷۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدہ میمونہ بنت سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، جو کہ سے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی لونڈی تھیں، سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے زنا کے بچے کے بارے میں سوال کیا گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس میں کوئی خیر نہیں ہے، مجھے دو جوتوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرنا اس سے زیادہ پسند ہے کہ میں زنا کا بچہ آزاد کروں۔