Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 8 · Chapter 80

پیشاب، مذی اور منی وغیرہ کے حکم کا بیان

اونٹ کے پیشاب کا بیان

13 hadiths in this chapter

453

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #453

Sahih

۔ (۴۵۳)۔عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍؓ أَنَّ نَاسًا أَتَوُا النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ عُکْلٍ فَاجْتَوَوُا الْمَدِیْنَۃَ فَأَمَرَ لَہُمْ بِذَوْدِ لِقَاحٍ، فَأَمَرَہُمْ أَنْ یَشْرَبُوْا مِنْ أَبْوَالِہَا وَأَلْبَانِہَا۔ (مسند أحمد: ۱۲۶۶۷)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا انس بن مالک ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: عکل قبیلے کے کچھ لوگ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس آئے اور مدینہ کی آب و فضا کو نا موافق پایا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ان کیلئے دودھ والی اونٹنیوں کا حکم دیا اور فرمایا کہ وہ لوگ ان کا پیشاب اور دودھ پئیں۔

454

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #454

Sahih

۔ (۴۵۴)۔عَنْ سَھْلِ بْنِ حُنَیْفٍؓ قَالَ: کُنْت أَلْقٰی مِنَ الْمَذِیِّ شِدَّۃً، فَکُنْتُ أُکْثِرُ الْاِغْتِسَالِ مِنْہُ، فَسَأَلْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ ذٰلِکَ فَقَالَ: ((اِنَّمَا یُجْزِیْکَ مِنْہُ الْوُضُوْئُ۔)) فَقُلْتُ: کَیْفَ بِمَا یُصِیْبُ ثَوْبِیْ؟ فَقَالَ: ((یَکْفِیْکَ أَنْ تَأْخُذَ کَفًّا مِنْ مَائٍ فَتَمْسَحَ بِہَا مِنْ ثَوْبِکَ حَیْثُ تَرَی أَنَّہُ أَصَابَ۔)) (مسند أحمد: ۱۶۰۶۹)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا سہل بن حُنَیف ؓ کہتے ہیں: مجھے مذی کی وجہ سے بڑی مشقت ہوتی تھی اور میں اس کی وجہ سے بہت زیادہ غسل کیا کرتا تھا، ایک دن جب میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے سوال کیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تجھے تو اس سے صرف وضو کافی ہو جائے گا۔ میں نے کہا: جو کپڑے کو لگ جائے، اس کا کیا کروں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اس کے بارے میں تجھے یہ عمل کفایت کرے گا کہ تو پانی کا ایک چلّو لے اور کپڑے کے جس جس حصے پر مذی کے لگ جانے کا خیال ہو، اس کو کپڑے کے اُس حصے پر مار دے۔

455

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #455

Sahih

۔ (۴۵۵)۔عَنْ عَلِیٍّ ؓ قَالَ: کُنْتُ رَجُلًا مَذَّائً وَکُنْتُ أَسْتَحِیِیْ أَنْ أَسْأَلَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِمَکَانِ ابْنَتِہِ، فَأَمَرْتُ الْمِقْدَادَ فَسَأَلَہُ فَقَالَ: ((یَغْسِلُ ذَکَرَہُ وَأُنْثَیَیْہِ وَیَتَوَضَّأُ۔)) (مسند أحمد: ۱۰۰۹)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا علی ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں بہت زیادہ مذی والا آدمی تھا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی بیٹی (سیدہ فاطمہ ؓ) کی وجہ سے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے سوال کرنے سے شرماتا تھا، اس لیے میں نے سیدنا مقداد ؓ کو حکم دیا، پس انھوں نے سوال کیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: عضو ِ خاص اور خصیتین کو دھو کر وضو کر لیا کرے۔

456

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #456

Sahih

۔ (۴۵۶) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ بِنَحْوِہِ)۔ وَفِیْہِ: فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((تَوَضَّأْ وَانْضَحْ فَرْجَکَ۔)) (مسند أحمد: ۸۲۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) اسی طرح کی روایت ہے، البتہ اس میں ہے: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: وضو کر اور اپنی شرم گاہ پر چھینٹے مار۔

457

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #457

Sahih

۔ (۴۵۷) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَالِثٍ)۔ بِنَحْوِہِ وَفِیْہِ: فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((فِیْہِ الْوُضُوْئُ۔)) (مسند أحمد: ۸۵۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (تیسری سند) اسی طرح کی روایت ہے، البتہ اس میں ہے: پس رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اس میں وضو ہے۔

458

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #458

Sahih

۔ (۴۵۸)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ رَابِِعٍٍ)۔ بِنَحْوِہِ وَفِیْہِ: فَأَمَرْتُ رَجُلًا فَسَأَلَہُ، فَقَالَ: (تَوَضَّأْ وَاغْسِلْہُ۔)) (مسند أحمد: ۱۰۲۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (چوتھی سند) اس میں ہے: پس میں نے ایک آدمی کو حکم دیا تو اس نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے سوال کیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تو وضو کر اور اِس (شرمگاہ) کو دھو۔

459

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #459

Sahih

۔ (۴۵۹)۔وَعَنْہُ أَیْضًا قَالَ: کُنْتُ رَجُلًا مَذَّائً فَسَأَلْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((اِذَا حَذَفْتَ فَاغْتَسِلْ مِنَ الْجَنَابَۃِ، وَاِذَا لَمْ تَکُنْ حَاذِفًا فَلَا تَغْتَسِلْ۔)) (مسند أحمد: ۸۴۷)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا علی ؓ سے ہی مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں بہت زیادہ مذی والا آدمی تھا، پس میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے سوال کیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جب تو منی ٹپکائے تو جنابت کی وجہ سے غسل کر اور جب تو منی ٹپکانے والا نہ ہو تو غسل نہ کیا کر۔

460

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #460

Sahih

۔ (۴۶۰) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ بِنَحْوِہِ) وَفِیْہِ: فَقَالَ: ((اِذَا رَأَیْتَ الْمَذِیَّ فَتَوَضَّأْ وَاغْسِلْ ذَکَرَکَ وَاِذَا رَأَیْتَ فَضْخَ الْمَائِ فَاغْتَسِلْ۔)) (مسند أحمد: ۱۰۲۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) اسی طرح کی روایت بیان کی ہے، البتہ اس میں ہے: پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جب تو مذی دیکھے تو وضو کر اور اپنی شرمگاہ کو دھو لے اور جب تو پانی کا ٹپکنا یعنی منی کو دیکھے تو غسل کر۔

461

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #461

Sahih

۔ (۴۶۱) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَالِثٍ بِنَحْوِہِ)۔وفِیْہِ فَقَالَ: ((فِیْہِ الْوُضُوْئُ وَفِی الْمَنِیِّ الْغُسْلُ۔)) (مسند أحمد: ۸۹۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (تیسری سند) اسی طرح کی روایت ہے، البتہ اس میں ہے: پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اس میں تو وضو ہے، البتہ منی میں غسل ہے۔

462

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #462

Sahih

۔ (۴۶۲)۔عَنِ الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِؓ قَالَ: قَالَ لِیْ عَلِیٌّ(ؓ): سَلْ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنِ الرَّجُلِ یُلَاعِبُ أَہْلَہُ فَیَخْرُجُ مِنْہُ الْمَذِیُّ مِنْ غَیْرِ مَائِ الْحَیَاۃِ، فَلَوْ لَا أَنَّ ابْنَتَہُ تَحْتِیْ لَسَأَلْتُہُ، فَقُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اَلرَّجُلُ یُلَاعِبُ أَہْلَہُ فَیَخْرُجُ مِنْہُ الْمَذِیُّ مِنْ غَیْرِ مَائِ الْحَیَاۃِ، قَالَ: ((یَغْسِلُ فَرْجَہُ ویَتَوَضَّأُ وُضُوْئَہُ لِلصَّلَاۃِ)) (مسند أحمد: ۲۴۳۰۹)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا مقداد بن اسودؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: سیدنا علی ؓ نے مجھے کہا: تم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے اس آدمی کے بارے میں سوال کرو جو اپنی بیوی کے ساتھ کھیلتا ہے اور اس وجہ سے اس سے ماء الحیاۃ تو خارج نہیں ہوتا، البتہ مذی نکل آتی ہے، اگر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی بیٹی میری بیوی نہ ہوتی تو میں نے خود سوال کر لینا تھا۔ پس میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ایک آدمی اپنی بیوی سے کھیلتا ہے اور اس سے زندگی والا پانی تو خارج نہیں ہوتا، البتہ مذی نکل آتی ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: ایسا آدمی اپنی شرمگاہ دھو کر نماز والا وضو کر لیا کرے۔

463

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #463

Sahih

۔ (۴۶۳) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ بِنَحْوِہِ)۔ وَفِیْہِ فقَالَ (یَعْنِی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم): ((اِذَا وَجَدَ أَحَدُکُمْ ذٰلِکَ فَلْیَنْضَحْ فَرْجَہُ ویَتَوَضَّأْ وُضُوْئَ ہُ لِلصَّلٰوۃِ)) (مسند أحمد: ۲۴۳۳۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) اسی طرح کی روایت ہے، البتہ اس میں ہے: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی آدمی اس چیز کو پا لے تو وہ اپنے شرمگاہ پر پانی چھڑک لے یعنی اس کو دھو لے اور نماز والا وضو کر لے۔

464

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #464

Sahih

۔ (۴۶۴)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَالِثٍ بِنَحْوِہِ)۔ وَفِیْہِ: ((فَاِذَا وَجَدَ ذٰلِکَ أَحَدُکُمْ فَلْیَنْضَحْ فَرْجَہُ وَلْیَتَوَضَّأْ وُضُوْئَہُ لِلصَّلٰوۃِ۔)) یَعْنِیْ یْغِسِلُہُ۔ (مسند أحمد: ۲۴۳۲۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (تیسری سند) اس سند سے بھی اسی قسم کی روایت بیان کی گئی ہے، البتہ اس میں ہے: اس جگہ چھینٹے مارنے سے مراد دھونا ہے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی آدمی اس چیز کو پائے تو اپنی شرمگاہ پر چھینٹے مارے اور نماز والا وضو کرے۔

465

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #465

Sahih

۔ (۴۶۵)۔عَنْ عَطَائٍ عَنْ عَائِشِ بْنِ أَنَسٍ الْبَکْرِیِّ قَالَ: تَذَاکَرَ عَلِیٌّ وَعَمَّارٌ وَالْمِقْدَادُ الْمَذِیَّ، فَقَالَ عَلِیٌّ: اِنِّیْ رَجُلٌ مَذَّائٌ وَاِنِّیْ أَسْتَحِیِیْ أَنْ أَسْأَلَہُ مِنْ أَجْلِ ابْنَتِہِ تَحْتِیْ، فَقَالَ لِأَحَدِہِمَا، لِعَمَّارٍ أَوِ الْمِقْدَادِ: قَالَ عَطَائٌ: سَمَّاہُ لِیْ عَائِشٌ فَنَسِیْتُہُ،سَلْ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَسَأَلْتُہُ فَقَالَ: ((ذَاکَ الَّمَذِیُّ، لِیَغْسِلْ ذَاکَ مِنْہُ۔))، قُلْتُ: مَا ذَاکَ مِنْہُ؟ قَالَ: ذَکَرَہُ، وَیَتَوَضَّأُ فَیُحْسِنُ وُضُوْئَہُ أَوْ یَتَوَضَّأُ مِثْلَ وُضُوْئِہِ وَیَنْضَحُ فِیْ فَرْجِہِ أَوْ فَرْجَہُ۔ (مسند أحمد: ۲۴۳۲۶)

اردو ترجمہ · Urdu

عائش بن انس بکری کہتے ہیں: سیدنا علی، سیدنا عمار اور سیدنا مقداد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہم ‌نے مذی کے بارے میں بات چیت کی، سیدنا علی ؓ نے کہا: مجھے بہت زیادہ مذی آتی ہے اور میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے اس وجہ سے شرم محسوس کرتا ہوں کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی بیٹی میرے عقد میں ہے، پس انھوں نے سیدنا عمار یا سیدنا مقداد ؓمیں سے ایک کو کہا کہ وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے اس بارے میں سوال کرے۔ عطا کہتے ہیں: عائش نے تو کسی ایک کا نام لیا تھا، لیکن میں بھول گیا، بہرحال انھوں نے سوال کیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: یہ تو مذی ہے، اس کو چاہیے کہ اُس کو دھو لیا کرے۔ میں نے کہا: کسی چیز کو؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اپنی شرم گاہ کو، اور اچھی طرح وضو کر لیا کرے اور اپنی شرمگاہ پر چھینٹے مارے یعنی دھویا جائے۔