Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 8 · Chapter 79

پیشاب، مذی اور منی وغیرہ کے حکم کا بیان

بچے اور بچی کے پیشاب کا بیان

11 hadiths in this chapter

442

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #442

Sahih

۔ (۴۴۲)۔ عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ(ؓ) قَالَتْ: أَتَیْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقُلْتُ: اِنِّیْ رَأَیْتُ فِیْ مَنَامِیْ فِیْ بَیْتِیْ أَوْ حُجْرَتِیْ عُضْوًا مِنْ أَعْضَائِکَ، (وَفِیْ رِوَایَۃٍ زَیَادَۃُ فَجَزِعْتُ مِنْ ذٰلِکَ) قَالَ: ((تَلِدُ فَاطَمِۃُ اِنْ شَائَ اللّٰہُ غُلَامًا فَتَکْفُلِیْنَہُ۔)) فَوَلَدَتْ فَاطِمَۃُ حَسَنًا، فَدَفَعَتْہُ اِلَیْہَا فَأَرْضَعَتْہُ بِلَبَنِ قُثَمَ، وَأَتَیْتُ بِہِ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمًا أَزُوْرُہُ، فَأََخَذَہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَوَضَعَہُ عَلٰی صَدْرِہِ فَبَالَ عَلٰی صَدْرِہِ، فَأَصَابَ الْبَوْلُ اِزَارَہُ، فَزَخَخْتُ بِیَدِیْ عَلٰی کَتِفَیْہِ،(وَفِیْ رِوَایَۃٍ: فَضَرَبَتُ بَیْنَ کَتِفَیْہِ) فَقَالَ: ((أَوْجَعْتِ ابْنِیْ أَصْلَحَکِ اللّٰہُ۔)) أَوْ قَالَ: ((رَحِمَکِ اللّٰہُ۔)) فَقُلْتُ: أَعْطِنِیْ اِزَارَکَ أَغْسِلْہُ، فَقَالَ: ((اِنَّمَا یُغْسَلُ بَوْلُ الْجَارِیَۃِ وَیُصَبُّ عَلَی بَوْلِ الْغُلَامِ۔)) (مسند أحمد: ۲۷۴۱۶)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدہ ام فضلؓ کہتی ہیں: میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس گئی اور کہا: میں نے خواب میں اپنے گھر یا اپنے حجرے میں آپ کے اعضاء میں سے ایک عضو دیکھا ہے اور میں اس سے گھبرا گئی ہوں، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا تو سیدہ فاطمہ ؓبیٹا جنم دے گی اور تم اس کی کفالت کرو گی۔ پس سیدہ فاطمہ ؓ نے واقعی سیدنا حسنؓ کو جنم دیا اور ان کو سیدہ ام فضل کے سپرد کر دیا، انھوں نے ان کو سیدنا قثمؓ کے دودھ سے دودھ پلایا، ایک دن میں سیدنا حسنؓ کو لے کر نبی ٔ کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌کی زیارت کرنے کے لیے آپ کے پاس آئی۔ آ پ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ان کو پکڑا اور اپنے سینے پر رکھ دیا، پس بچے نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے سینے پر پیشاب کر دیا اور وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ازار تک پہنچ گیا، میں نے سیدنا حسن ؓ کے کندھوں کے درمیان اپنے ہاتھ سے مارا، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تمہاری اصلاح کرے، تم نے میرے بیٹے کو تکلیف دی ہے۔ یا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تجھ پر رحم کرے۔ پھر میں نے کہا: آپ اپنا ازار مجھے دے دیں، تاکہ میں اس کو دھو دوں، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: صرف بچی کے پیشاب کو دھویاجاتا ہے اور بچے کے پیشاب پر پانی بہا دیا جاتا ہے۔

443

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #443

Sahih

۔ (۴۴۳) (وعَنْہَا مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ بِنَحْوِہِ)۔ وَفِیْہِ: فَوَلَدَتْ حَسَنًا فَأُعْطِیْتُہُ فَأَرْضَعْتُہُ حَتَّی تَحَرَّکَ، أَوْ فَطَمْتُہُ، ثُمَّ جِئْتُ بِہِ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَجْلَسْتُہُ فِیْ حِجْرِہِ فَبَالَ،فَضَرَبْتُ بَیْنَ کَتِفَیْہِ، فَقَالَ: ((ارْفُقِیْ بِاِبْنِیْ رَحِمَکِ اللّٰہُ۔)) وَفِیْہِ أَیْضًا قَالَ: ((اِنَّمَا یُغْسَلُ بَوْلُ الْجَارِیَۃِ وَیُنْضَحُ بَوْلُ الْغُلَامِ۔)) (مسند أحمد: ۲۷۴۱۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) اسی طرح کی روایت ہے، البتہ اس میں ہے: پس سیدہ فاطمہ ؓ نے سیدنا حسن ؓ کو جنم دیا اور وہ میرے (سیدہ ام فضلؓ کے) حوالے کر دیاگیا، میں نے ان کو دودھ پلایا، یہاں تک کہ بچہ چلنے کا قابل ہو گیا یا (راوی نے کہا) میں نے دودھ چھڑوا دیا، بہرحال پھر میں اس بچے کو لے کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس آئی اور اس کو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی گود میں بٹھا دیا اور اس نے وہاں پیشاب کر دیا، میں نے اس کے کندھوں کے درمیان ضرب لگائی، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تجھ پر رحم کرے، میرے بچے کے ساتھ نرمی کرو۔ اس حدیث میں یہ بھی ہے: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: صرف بچی کے پیشاب کو دھویا جاتا ہے اور بچے کے پیشاب پر چھینٹے مارے جاتے ہیں۔

444

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #444

Sahih

۔ (۴۴۴) (وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَالِثٍ)۔ عَنْ عَطَائٍ الْخُرَاسَانِیِّ عَنْ لُبَابَۃَ أُمِّ الْفَضْلِ (ؓ) أَنَّہَا کَانَتْ تُرْضِعُ الْحَسَنَ أَوِالْحُسَیْنَ، قَالَتْ: فَجَائَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَاضْطَجَعَ فِیْ مَکَانٍ مَرْشُوْشٍ فَوَضَعَہُ عَلَی بَطْنِہِ فَبَالَ عَلَی بَطْنِہِ، فرَأَیْتُ الْبَوْلَ یَسِیْلُ عَلَی بَطْنِہِ، فَقُمْتُ اِلٰی قِرْبَۃٍ لِأَصُبَّہَا عَلَیْہِ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((یَا أُمَّ الْفَضْلِ! اِنَّ بَوْلَ الْغُلَامِ یُصَبُّ عَلَیْہِ الْمَائُ وَبَوْلُ الْجَارِیَۃِ یُغْسَلُ۔)) وَقَالَ بَہْزٌ: غَسْلًا۔ (مسند أحمد: ۲۷۴۱۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (تیسری سند)سیدہ ام فضلؓ سے مروی ہے کہ وہ سیدنا حسن یا سیدنا حسینؓ کو دودھ پلاتی تھیں، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ تشریف لائے اور چھڑکاؤ کی ہوئی ایک جگہ پر بیٹھ گئے اور ان کو اپنے پیٹ پر رکھ دیا اور انھوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پیٹ پر پیشاب کر دیا، پس میں نے دیکھا کہ پیشاب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پیٹ پر بہہ رہا تھا، میں ایک مشکیزے کی طرف گئی، تاکہ اس کا پانی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ پر بہاؤں، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اے ام فضل! بچے کے پیشاب پر پانی بہا دیا جاتا ہے اور بچی کے پیشاب کو دھویا جاتا ہے۔

445

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #445

Sahih

۔ (۴۴۵)۔ عَنْ أَبِیْ لَیْلٰیؓ قَالَ: کُنَّا عِنْدَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَجَائَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ یَحْبُوْ حَتّٰی صَعِدَ عَلٰی صَدْرِہِ فَبَالَ عَلَیْہِ، (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: حَتّٰی رَأَیْتُ بَوْلَہُ عَلٰی َبطْنِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم) قَالَ: فَابْتَدَرْنَا لِنَأْخُذَہُ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((اِبْنِیْ اِبْنِیْ۔)) وَفِیْ رِوَایَۃٍ: ((دَعُوْا اِبْنِیْ لَا تُفْزِعُوْہُ حَتَّی یَقْضِیَ بَوْلَہُ۔)) ثُمَّ دَعَا بِمَائٍ فَصَبَّ عَلَیْہِ۔ (مسند أحمد: ۱۹۲۶۶)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو لیلیؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس تھے، سیدنا حسن بن علیؓ گھسٹتے ہوئے آئے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے سینے پر چڑھ گئے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ پر پیشاب کر دیا، میں نے پیشاب کو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پیٹ پر دیکھا، پس ہم ان کو پکڑنے کے لیے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی طرف لپکے، لیکن نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: میرا بیٹا، میرا بیٹا۔ ایک روایت میں ہے: میرے بیٹے کو چھوڑ دو اور اس کو مت گھبراہٹ میں ڈالو، یہاں تک کہ یہ پیشاب پورا کر لے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے پانی منگوایا اور اس پر بہا دیا۔

446

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #446

Sahih

۔ (۴۴۶)۔عَنْ عَائِشَۃَ ؓ قَالَتْ: کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُؤْتٰی بِالصِّبْیَانِ فَیَدْعُوْ لَہُمْ، وَاِنَّہُ أُتِیَ بِصَبِیٍّ فَبَالَ عَلَیْہِ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((صُبُّوْا عَلَیْہِ الْمَائَ صَبًّا۔)) (مسند أحمد: ۲۴۶۹۶)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس بچے لائے جاتے تھے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ان کے لیے برکت کی دعا کرتے تھے، ایک دفعہ ایک بچے کو لایا گیا اور اس نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ پر پیشاب کر دیا، پس رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اس پر پانی بہا دو۔

447

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #447

Sahih

۔ (۴۴۷) (وَعَنْہَا مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ)۔ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أُتِیَ بِصَبِیٍّ لِیُحَنِّکَہُ فَأَجْلَسَہُ فِیْ حِجْرِہِ فَبَالَ عَلَیْہِ فَدَعَا بِمَائٍ فَأَتْبَعَہُ اِیَّاہُ، قَالَ وَکِیْعٌ: فَأَتْبَعَہُ اِیَّاہُ وَلَمْ یَغْسِلْہُ۔ (مسند أحمد: ۲۴۷۶۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس ایک بچے کو اس لیے لایا گیا تاکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اس کو گڑتی دیں، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اس کو اپنی گودی میں بٹھا دیا اور اس نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ پر پیشاب کر دیا، سو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے پانی منگوایا اور اس کے پیچھے لگا دیا، وکیع راوی نے کہا: پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے پانی کو اس کے پیچھے لگایا اور دھویا نہیں۔

448

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #448

Sahih

۔ (۴۴۸)۔عَنْ أُمِّ قَیْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍؓ قَالَتْ: دَخَلْتُ عَلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِاِبْنٍ لِیْ لَمْ یَطْعَمْ فَبَالَ عَلَیْہِ فَدَعَا بِمَائٍ فَرَشَّہُ عَلَیْہِ۔ (مسند أحمد: ۲۷۵۳۶)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدہ ام قیس بنت محصنؓ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں ایک بچہ لے کر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس گئی، وہ بچہ ابھی تک کھانا نہیں کھاتا تھا، اس نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ پر پیشاب کر دیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے پانی منگوایا اور اس پر چھینٹے مار دیے۔

449

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #449

Sahih

۔ (۴۴۹) (وَعَنْہَا مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ بِنَحْوِہِ)۔ وَفِیْہِ: فَوَضَعَہُ فِیْ حِجْرِہِ فَبَالَ عَلَیْہِ فَدَعَا بِمَائٍ فَنَضَحَہُ وَلَمْ یَکُنِ الصَّبِیُّ بَلَغَ أَنْ یَأْکُلَ الطَّعَامَ، قَالَ الزُّہْرِیُّ: فَمَضَتِ السُّنَّۃُ أَنْ یُرَشَّ بَوْلُ الْصَبِیِّ وَیُغْسَلَ بَوْلُ الْجَارِیَۃِ۔ (مسند أحمد: ۲۷۵۴۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) اسی طرح کی روایت ہے، البتہ اس میں ہے: پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اس بچے کو اپنی گودی میں رکھا اور اس نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ پر پیشاب کر دیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے پانی منگوا کر اس پر چھینٹے مار دیئے، یہ بچہ ابھی تک کھانا کھانے کی عمر تک نہیں پہنچا تھا۔ امام زہری نے کہا: یہی نبوی طریقہ نافذ ہو گیا کہ بچے کے پیشاب پر چھینٹے مارے جائیں گے اور بچی کے پیشاب کو دھویا جائے گا۔

450

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #450

Sahih

۔ (۴۵۰)۔عَنْ عَلِیٍّ ؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((بَوْلُ الْغُلَامِ یُنْضَحُ عَلَیْہِ وَبَوْلُ الْجَارِیَۃِ یُغْسَلُ۔)) قَالَ قَتَادَۃُ: ھٰذَا مَا لَمْ یَطْعَمَا فَاِذَا طَعِمَا غُسِلَ بَوْلُہُمَا۔ (مسند أحمد: ۵۶۳)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا علی ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: بچے کے پیشاب پر چھینٹے مارے جائیں گے اور بچی کے پیشاب کو دھویا جائے گا۔ امام قتادہ نے کہا: یہ فرق اس وقت تک ہے، جب تک وہ کھانا نہیں کھاتے، جب کھانا کھانا شروع کر دیں گے تو دونوں کے پیشاب کو دھویا جائے گا۔

451

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #451

Sahih

۔ (۴۵۱)۔ عَنْ أُمِّ کُرْزٍ الْخُزَاعِیَّۃِؓ قَالَتْ: أُتِیَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِغُلَامٍ فَبَالَ عَلَیْہِ فَأَمَرَ بِہِ فَنُضِحَ، وَأُتِیَ بِجَارِیَۃٍ فَبَالَتْ عَلَیْہِ فَأَمَرَ بِہِ فَغُسِلَ۔ (مسند أحمد: ۲۸۱۸۴)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدہ ام کرز خزاعیہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ ایک بچے کو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس لایا گیا، اس نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ پر پیشاب کر دیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے حکم دیا کہ اس پر چھینٹے مار دیئے جائیں، پھر ایک بچی کو لایا گیا، اس نے بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ پر پیشاب کر دیا، اس کے بارے میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے حکم دیا کہ (اس کو دھویا جائے)، پس اسے دھو دیا گیا۔

452

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #452

Zaeef

۔ (۴۵۲)۔عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍؓ قَالَ: جَائَ تْ أُمُّ الْفَضْلِ اِبْنَۃُ الْحَارِثِ بِأُمِّ حَبِیْبَۃَ بِنْتِ عَبَّاسٍ فَوَضَعَتْہَا فِیْ حِجْرِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَبَالَتْ، فَاخْتَلَجَتْہَا أُمُّ الْفَضْلِ ثُمَّ لَکَمَتْ بَیْنَ کَتِفَیْھَا ثُمَّ اخْتَلَجَتْہَا، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((أَعْطِیْنِیْ قَدَحًا مِنْ مَائٍ۔)) فَصَبَّہُ عَلَی مَبَالِہَا، ثُمَّ قَالَ: ((اُسْلُکُوْا الْمَائَ فِیْ سَبِیْلِ الْبَوْلِ۔)) (مسند أحمد: ۲۷۵۰)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبداللہ بن عباسؓ سے روایت ہے کہ سیدہ ام افضل بنت حارثؓ، سیدہ ام حبیبہ بنت عباسؓ کو لے کر آئیں اور اسے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی گودی میں رکھ دیا، پس اس نے پیشاب کر دیا، انھوں نے اس کو کھینچا اور اس کے کندھوں کے درمیان مکّا مارا اور پھر اس کو کھینچا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: مجھے پانی کا پیالہ دو۔ پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے پیشاب کی جگہ پر اس کو بہا دیا اور فرمایا: پیشاب کی جگہ پر پانی بہا دیا کرو۔