Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 74 · Chapter 798

حج افراد، حج قران اور حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان

اس امر کا بیان کہ اونٹوں کے چرواہوں کے لئے دو دنوں کی رمی ایک دن میں کر لینا اور ضرورت مند لوگوں کا منی کی راتیں مکہ میں گزار لینا جائز ہے

3 hadiths in this chapter

4562

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4562

Sahih

۔ (۴۵۶۲) عَنْ أَبِیْ الْبَدَّاحِ بْنِ عَاصِمِ بْنِ عَدِیٍّ عَنْ أَبِیْہِ ( ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌) قَالَ: أَرْخَصَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِرِعَائِ الإِبِلِ فِی الْبَیْتُوْتَۃِ أَنْ یَرْمُوْایَوْمَ النَّحْرِ، ثُمَّ یَجْمَعُوْا رَمْیَیَوْمَیْنِ بَعْدَ النَّحْرِ فَیَرْمُوْنَہُ فِی أَحَدِھِمَا، (قَالَ مَالِکٌ: ظَنَنْتُ أَنَّہُ فِی الْآخِرِ مِنْہُمَا) ثُمَّ یَرْمُوْنَیَوْمَ النَّفْرِ۔ (مسند احمد: ۲۴۱۸۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عاصم بن عدی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اونٹوں کے چرواہوں کو یہ رخصت دے دی کہ وہ (منی سے باہر) راتیں گزار سکتے ہیں اور وہ دس ذوالحجہ کو رمی کر کے چلے جائیں، اس کے بعد آکر دو دن کی رمی ایک دن میں کرلیں اور پھر روانگی والے دن رمی کریں۔ مالک راوی نے کہا: میرا خیال ہے کہ وہ (دس ذوالحجہ کے بعد) دوسرے دن (یعنی بارہ ذوالحجہ کو رمی کریں گے)۔

4563

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4563

Sahih

۔ (۴۵۶۳) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانً) أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَرْخَصَ لِلرِّعَائِ أَنْ یَتَعَاقَبُوْا فَیَرمُوْایَوْمَ النَّحْرِ ثُمَّ یَدَعُوْایَوْمًا وَلَیْلَۃً، ثُمَّ یَرْمُوْا الْغَدَ۔ (مسند احمد: ۲۴۱۸۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے چرواہوں کو یہ رخصت دی تھی کہ وہ باریاں مقرر کرلیں، دس ذوالحجہ کو رمی کر لیں، اس کے بعد ایک دن رات کا وقفہ کر کے اگلے دن آ کر رمی کرلیں۔

4564

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4564

Sahih

۔ (۴۵۶۴) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عُمَرَ (یَعْنِی ابْنَ عُمَر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما ) أَنَّ الْعَبَّاسَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اِسْتَأْذَنَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی أَنْ یَبِیْتَ بِمَکَّۃَ أَیَّامَ مِنًی مِنْ أَجْلِ السِّقَایَۃِ، فَرَخَّصَ لَہُ۔(مسند احمد:۴۶۹۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ سیدنا عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے حجاج کرام کو زمزم کا پانی پلانے کی وجہ سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے یہ اجازت طلب کی وہ ایام منیٰ والی راتیں مکہ میں گزار لیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو اس کی اجازت دے دی۔