Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 74 · Chapter 797

حج افراد، حج قران اور حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان

منیٰ کی راتیں منیٰ میں بسر کرنے، ان دنوں میں جمروں کی رمی کرنے اور کچھ دوسرے امور کا بیان یوم النحر یعنی دس ذوالحجہ کے بعد والے دنوں میں کنکریاں مارنے کے وقت اور اس کے آداب کا بیان

5 hadiths in this chapter

4557

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4557

Sahih

۔ (۴۵۵۷) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: أَفَاضَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ آخِرِ یَوْمِہِ حِیْنَ صَلَّی الظَّہْرَ ثُمَّ رَجَعَ إِلٰی مِنًی فَمَکَثَ بِہَا لَیَالِیَ أَیَّامِ التَّشْرِیْقِیَرْمِی الْجَمْرَۃَ إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ کُلَّ جَمْرَۃٍ بِسَبْعِ حَصَیَاتٍ،یُکَبِّرُ مَعَ کُلِّ حَصَاۃٍ، وَیَقِفُ عِنْدَ الْأُوْلٰی وَعِنْدَ الثَّانِیَۃِ فَیُطِیْلُ الْقِیَامَ وَیَتَضَرَّعُ وَیَرْمِی الثَّالِثَۃَ لَا یَقِفُ عِنْدَھَا۔ (مسند احمد: ۲۵۰۹۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دن کے آخر میں طواف افاضہ کیا، جب نمازِ ظہر پڑھی، پھرآپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم منیٰ کو واپس چلے گئے اور ایام تشریق منیٰ میں گزارے، زوال آفتاب کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جمروں کی رمی کرتے تھے، ہر جمرہ کو سات سات کنکریاں مارتے اور ہر کنکری کے ساتھ اللہ اکبر پکارتے، پہلے اور دوسرے جمرے کے پاس کھڑے ہو کر طویل دعائیں کرتے اور گڑگڑاتے۔ پھر تیسرے جمرہ (جمرۂ عقبہ) کی رمی کرکے وہاں کھڑے نہ ہوتے تھے۔

4558

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4558

Sahih

۔ (۴۵۵۸) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: رَمٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما الْجِمَارَ عِنْدَ زَوَالِ الشَّمْسِ أَوْ بَعْدَ زَوَالِ الشَّمْسِ۔ (مسند احمد: ۲۲۳۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم زوال آفتاب کے وقت یا زوال کے بعد جمروں کی رمی کرتے تھے۔

4559

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4559

Sahih

۔ (۴۵۵۹) عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیْہِ عَنْ جَدِّہِ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَقَفَ عِنْدَ الْجَمْرَۃِ الثَّانِیَۃِ أَطْوَلَ مِمَّا وَقَفَ عِنْدَ الْجَمْرَۃِ الْأُوْلٰی ثُمَّ أَتٰی جَمْرَۃَ الْعَقَبَۃِ فَرَمَاھَا وَلَمْ یَقِفْ عِنْدَھَا۔ (مسند احمد: ۶۶۶۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پہلے جمرے کی بہ نسبت دوسرے جمرے کے پاس دعا کے لئے زیادہ دیر ٹھہرتے تھے اور پھر جمرۂ عقبہ کے پاس آ کر اس کی رمی کرتے، لیکن اس کے پاس ٹھہرتے نہیں تھے۔

4560

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4560

Sahih

۔ (۴۵۶۰) عَنِ الزُّھْرِیِّ، قَالَ: بَلَغَنَا أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ إِذَا رَمَی الْجَمْرَۃَ الْأُوْلٰی الَّتِی تَلِیْ الْمَسْجِدَ رَمَاھَا بِسَبْعِ حَصَیَاتٍیُکَبِّرُ مَعَ کُلِّ حَصَاۃٍ، ثُمَّ یَنْصَرِفُ ذَاتَ الْیَسَارِ إِلٰی بَطْنِ الْوَادِی فَیَقِفُ وَیَسْتَقْبِلُ الْقِبْلَۃَ رَافِعًا یَدَیْہِیَدْعُوْا، وَکَانَ یُطِیْلُ الْوُقُوْفَ، ثُمَّ یَرْمِی الثَّانِیَۃَ بِسَبْعِ حَصَیَاتٍ،یُکَبِّرُ مَعَ کُلِّ حَصَاۃٍ، ثُمَّ یَنْصَرِفُ ذَاتَ الْیَسَارِ إِلٰی بَطْنِ الْوَ ادِی فَیَقِفُ وَیَسْتَقْبِلُ الْقِبْلَۃَ رَافِعًا یَدَیْہِیَدْعُوْا، ثُمَّ یَمْضِی حَتّٰییَأْتِیَ الْجَمْرَۃَ الَّتِی عِنْدَ الْعَقَبَۃِ فَیَرْمِیْہَا بِسَبْعِ حَصَیَاتٍیُکَبِّرُعِنْدَ کُلِّ حَصَاۃٍ ثُمَّ یَنْصَرِفُ وَلَا یَقِفُ، قَالَ: الزُّھْرِیُّ سَمِعْتُ سَالِمًا، یُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِمِثْلِ ھٰذَا، وَکَانَ ابْنُ عُمَرَ یَفْعَلُ مِثْلَ ھٰذَا۔ (مسند احمد: ۶۴۰۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ امام زہری کہتے ہیں: ہمیں یہ حدیث پہنچی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مسجد کی طرف والے پہلے جمرہ کی رمی کرتے تو اسے سات کنکریاں مارتے اور ہر کنکری کے ساتھ اللہ اکبر کہتے، اس کے بعد بائیں جانب مڑتے اور وادی میں قبلہ رخ کھڑے ہو کر ہاتھ اٹھاکر دعا کرتے اور کافی دیر تک دعا کرتے رہتے، اس کے بعد آپ دوسرے جمرے کی رمی کرتے، اس کو بھی سات کنکریاں مارتے اور ہر کنکری کے ساتھ اللہ اکبر کہتے، پھر بائیں جانب ہٹ کر وادی میں قبلہ رخ ہو کر کھڑے ہو جاتے اور ہاتھ اٹھا کر دعا کرتے رہتے،بعد ازاں آگے بڑھتے اور جمرۂ عقبہ کے پاس پہنچ کر اسے سات کنکریاں مارتے اور ہر کنکری کے ساتھ اللہ اکبر کہتے اور وہاں سے واپس پلٹ آتے اور اس جمرہ کے پاس نہیں ٹھہرتے تھے۔ امام زہری نے کہا : میں نے سالم سے سنا، وہ یہ حدیث سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے اور وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اسی طرح بیان کرتے تھے، اور سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا عمل بھی اسی طرح ہوتا تھا۔

4561

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4561

Zaeef

۔ (۴۵۶۱) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَلَا نَبْنِیْ لَکَ بِمِنًی بَیْتًا أَوْ بِنَائً یُظِلُّکَ مِنَ الشَّمْسِ؟ فَقَالَ: ((لَا، إِنَّمَا ھُوَ مُنَاخٌ لِمَنْ سَبَقَ إِلَیْہِ۔)) (مسند احمد: ۲۶۰۵۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول!ہم آپ کے لئے منیٰ میں گھر یا کوئی خیمہ نہ لگا دیں، جو آپ کو دھوپ سے بچائے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی نہیں، منی تو اس آدمی کے لیے اونٹ بٹھانے کی جگہ ہے، جو وہاں پہلے پہنچ جائے۔