Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 74 · Chapter 796

حج افراد، حج قران اور حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان

یوم النحر یعنی دس ذوالحجہ کو منیٰ میں خطبہ کا بیان

6 hadiths in this chapter

4551

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4551

Sahih

۔ (۴۵۵۱) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: خَطَبَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمَ النَّحْرِ فَقَالَ: ((أَیُّیَوْمٍ أَعْظَمُ حُرْمَۃً؟)) فَقَالُوْا: یَوْمُنَا ھٰذَا، قَالَ: ((فَأَیُّ شَہْرٍ أَعْظَمُ حُرْمَۃً؟)) قَالُوْا: شَہْرُنَا ھٰذَا، قَالَ: ((أَیُّ بَلَدٍ أَعْظَمُ حُرْمَۃً؟)) قَالُوْا: بَلَدُنَا ھٰذَا، قَالَ: ((فَإِنَّ دِمَائَ کُمْ وَأَمْوَالَکُمْ عَلَیْکُمْ حَرَامٌ کَحُرْمَۃِیَوْمِکُمْ ھٰذَا فِیْ بَلَدِکُمْ ھٰذَا فِیْ شَہْرِکُمْ ھٰذَا، ھَلْ بَلَّغْتُ؟)) قَالُوْا: نَعَمْ، قَالَ: ((اَللّٰہُمَّ اشْہَدْ)) (مسند احمد: ۱۵۰۵۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں دس ذوالحجہ کو خطبہ دیا اور فرمایا: کون سا دن سب سے زیادہ حرمت والاہے؟ صحابہ نے کہا: آج کا یعنی دس ذوالحجہ کا دن۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کس مہینہ کی حرمت سب سے زیادہ ہے؟ صحابہ نے کہا: یہ ذوالحجہ کا مہینہ، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کون سا شہر سب سے زیادہ حرمت والا ہے؟ انھوں نے کہا: ہمارا یہ شہریعنی مکہ مکرمہ، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمہارے خون اور مال ایک دوسرے پر اس طرح حرام ہیں، جیسے تمہارے اس شہر اور اس مہینے میں اس دن کی حرمت ہے، کیا میں نے تم لوگوں تک اللہ تعالی کا پیغام پہنچا دیا؟ صحابہ نے کہا: جی ہاں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے اللہ! گواہ ہو جاؤ۔

4552

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4552

Sahih

۔ (۴۵۵۲) عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ حَجَّۃِ الْوَدَاعِ: ((یَا أَیُّہَا النَّاسُ! أَیُّیَوْمٍ ھٰذَا؟)) قَالُوْا: ھٰذَا یَوْمٌ حَرَامٌ، قَالَ: ((أَیُّ بَلَدٍ ھٰذَا؟)) قَالُوْا: بَلَدٌ حَرَامٌ، قَالَ: ((فَأَیُّ شَہْرٍ ھٰذَا؟)) قَالُوْا: شَہْرٌ حَرَامٌ، قَالَ: ((إِنَّ أَمْوَالَکُمْ وَ دِمَائَ کُمْ وَأَعْرَاضَکُمْ عَلَیْکُمْ حَرَامٌ کَحُرْمَۃِیَوْمِکُمْ ھٰذَا فِیْ بَلَدِکُمْ ھٰذَا فِیْ شَہْرِ کُمْ ھٰذَا۔)) ثُمَّ أَعَادَھَا مِرَارًا، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَہُ إِلَی السَّمَائِ فَقَالَ: ((اَللّٰہُمَّ ھَلْ بَلَّغْتُ؟)) مِرَارًا، قَالَ: یَقُوْلُ ابْنُ عَبَّاسٍ: وَاللّٰہِ! إِنَّہَا لَوَصِیَّۃٌ إِلٰی رَبِّہِ عَزَّوَجَلَّ، ثُمَّ قَالَ: ((أَلَافَلْیُبَلِّغِ الشَّاھِدُ الْغَائِبَ، لَاتَرْجِعُوْا بَعْدِی کُفَّارًا یَضْرِبُ بَعْضُکُمْ رِقَابَ بَعْضٍ۔)) (مسند احمد: ۲۰۳۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر فرمایا: لوگو! یہ کونسا دن ہے؟ صحابہ نے کہا: یہ حرمت والا دن ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: یہ کونسا شہر ہے؟ صحابہ نے کہا: یہ حرمت والا شہر ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پھر پوچھا: یہ کون سا مہینہ ہے؟ صحابہ نے کہا: یہ حرمت والا مہینہ ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمہارے مال، تمہارے خون اور تمہاری عزتیں ایک دوسرے پر اسی طرح حرام ہیں، جیسے اس شہر میں اور اس مہینے میں آج کے دن کی حرمت ہے۔ آپ نے یہ الفاظ متعدد مرتبہ دہرائے، اس کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے آسمان کی طرف سر اٹھاکر متعدد بار فرمایا: کیا میں نے لوگوں تک پیغام پہنچادیا ہے؟ سیدناابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہا کرتے تھے: اللہ کی قسم! یہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف سے امت کے حق میں اللہ تعالی کو وصیت تھی۔ اسکے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: خبردار ! جو لوگ اس وقت موجود ہیں، وہ یہ باتیں ان لوگوں تک پہنچادیں، جو یہاں موجود نہیں ہیں، لوگو! تم میرے بعد کافر نہ ہو جانا کہ تم ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو۔

4553

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4553

Zaeef

۔ (۴۵۵۳) عَنْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ مُعَاذٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: خَطَبَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم النَّاسَ بِمِنًی وَنَزَّلَہُمْ مَنَازِلَہُمْ، وَقَالَ: ((لِیَنْزِلِ الْمُہَاجِرُوْنَ ھَاھُنَا وَأَشَارَ إِلَی الْقِبْلَۃِ، وَالْأَنْصَارُ ھَاھُنَا وَأَشَارَ إِلَی مَیْسَرَۃِ الْقِبْلَۃِ، ثُمَّ لِیَنْزِلِ النَّاسُ حَوْلَہُمْ۔)) قَالَ: وَعَلَّمَہُمْ مَنَاسِکَہُمْ، فَفُتِحَتْ أَسْمَاعُ أَھْلِ مِنًی حَتّٰی سَمِعُوْہُ فِی مَنَازِلِہِمْ، قَالَ: فَسَمِعْتُہُ یَقُوْلُ: ((اِرْمُوْا بِمِثْلِ حَصَی الْخَذْفِ۔)) (مسند احمد: ۲۳۵۶۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ ایک صحابی بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے لوگوں کو منیٰ میں خطبہ دیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خود ان کو ان کی جگہ پر بٹھانے کے لیے فرمایا: مہاجرین یہاں بیٹھ جائیں، اس کے ساتھ ہی آپ نے قبلے کی طرف اشارہ کیا، انصار یہاں بیٹھ جائیں، اس کے ساتھ ہی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے قبلے کی بائیں جانب اشارہ کیا اور باقی لوگ ان کے ارد گرد بیٹھ جائیں۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے لوگوں کو حج کے مناسک کی تعلیم دی، اللہ تعالی نے منیٰ والوں کے کان اس حد تک کھول دیئے کہ انھوں نے اپنی اپنی جگہوں پر بیٹھے بیٹھے ہی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی باتیں سن لیں۔ میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے بھی سنا تھا: (چنے یا لوبیا وغیرہ کے دانے کے برابر) کنکریوں کا اہتمام کرو۔

4554

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4554

Sahih

۔ (۴۵۵۴) عَنِ الْھِرْمَاسِ بْنِ زِیَادٍ الْبَاھِلِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَبِی مُرْدِفِیْ خَلْفَہُ عَلٰی حِمَارٍ وَأَنَا صَغِیْرٌ، فَرَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَخْطُبُ بِمِنًی عَلٰی نَاقَتِہِ الْعَضْبَائِ۔ (مسند احمد: ۲۰۳۳۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ہرماس بن زیاد باھلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں چھوٹا تھا اور مجھے میرے والد نے اپنے پیچھے گدھے پر سوار کیا ہوا تھا، اس وقت میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو منی میں خطبہ ارشاد فرماتے ہوئے دیکھا تھا، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عضباء نامی اونٹنی پر سوار تھے۔

4555

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4555

Sahih

۔ (۴۵۵۵)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَخْطُبُیَوْمَ النَّحْرٍ بِمِنًی۔ (مسند احمد: ۱۶۰۶۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) سیدنا ہرماس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے دس ذوالحجہ کو منیٰ میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو خطبہ دیتے ہوئے سنا۔

4556

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4556

Sahih

۔ (۴۵۵۶) عَنْ مُرَّۃَ الطَّیِّبِ قَالَ: حَدَّثَنِیْ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی غُرْفَتِی ھٰذِہِ حَسِبْتُ، قَالَ: خَطَبَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمَ النَحْرِ عَلٰی نَاقَۃٍ لَہُ حَمْرَائَ مُخَضْرَمَۃٍ، فَقَالَ: ((ھٰذَا یَوْمُ النَّحْرِ وَھٰذَا یَوْمُ الْحَجِّ الْأَکْبَرِ۔)) (مسند احمد: ۱۵۹۸۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ مُرّۃطیّب سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ایک صحابی نے مجھے میرے اس کمرے میں حدیث بیان کی اور اس نے کہاکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دس ذوالحجہ کو سرخ رنگ والی اونٹنی پر سوار ہو کر خطبہ دیا، اس اونٹنی کا کان کٹا ہوا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خطبہ میں یہ بھی فرمایا تھا: آج قربانی کا دن ہے اور یہ حج اکبر کا دن ہے۔