Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 74 · Chapter 795

حج افراد، حج قران اور حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان

دس ذوالحجہ کو قربانی، حجامت، رمی اور طواف افاضہ میں تقدیم و تاخیر کے جائز ہو نے کا بیان

6 hadiths in this chapter

4545

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4545

Sahih

۔ (۴۵۴۵) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سَأَلَہُ رَجُلٌ فِی حَجَّۃِ الْوَدَاعِ، فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَذْبَحَ، قَالَ: فَأَوْمَأَ بِیَدِہِ، وَقَالَ: ((لَا حَرَجَ۔)) وَقَالَ رَجُلٌ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! ذَبَحْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِیَ، قَالَ: فَأَوْمَأَ بِیَدِہِ لاَ حَرَجَ، قَالَ: فَمَا سُئِلَ یَوْمَئِذٍ عَنْ شَیْئٍ مِنَ التَّقْدِیْمِ وَالتَّأْخِیْرِ إِلَّا أَوْ مَأَ بِیَدِہِ وَقَالَ: ((لَا حَرَجَ۔)) (مسند احمد: ۲۶۴۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ حجۃالوداع کے موقع پر ایک آدمی نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سوال کیا: اے اللہ کے رسول! میں نے قربانی سے قبل سر منڈوالیا؟ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہاتھ سے اشارہ کیا اور فرمایا: کوئی حرج نہیں۔ ایک اور آدمی نے کہا: میں نے رمی سے پہلے قربانی کر لی ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہاتھ سے اس میں کوئی حرج نہ ہونے کا اشارہ کیا۔ اس دن ان امور کی تقدیم وتاخیر کے متعلق جس نے جو بھی بات دریافت کی، اس کے جواب میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہاتھ سے اشارہ کیا اور فرمایا: کوئی حرج نہیں ہے۔

4546

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4546

Sahih

۔ (۴۵۴۶)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنِ النَّبِیّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سُئِلَ عَنِ الذَّبْحِ وَالرَّمْیِ وَالْحَلْقِِ وَالتَّقْدِیْمِ وَالتَّأْخِیْرِ فَقَالَ: ((لَا حَرَجَ۔)) (مسند احمد: ۲۳۳۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند)آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے قربانی، رمی اور سر منڈوانے کی تقدیم وتاخیر کے بارے میں جو سوال بھی کیا گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے جواب میں فرمایا: کوئی حرج نہیں ہے۔

4547

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4547

Sahih

۔ (۴۵۴۷)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَالِثٍ) عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سُئِلَ عَمَّنْ قَدَّمَ مِنْ نُسُکِہِ شَیْئًا قَبْلَ شَیْئٍ فَجَعَلَ یَقُوْلُ: ((لَا حَرَجَ۔)) (مسند احمد: ۱۸۵۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (تیسری سند)نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے مناسکِ حج کی تقدیم وتاخیرکے متعلق جو سوال بھی کیا گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جواباً فرمایا: کوئی حرج نہیں ہے۔

4548

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4548

Sahih

۔ (۴۵۴۸)عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: أَتَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَجُلٌ فَقَالَ: إِنِّی رَمَیْتُ الْجَمْرَۃَ وَأَفَضْتُ وَلَبِسْتُ وَلَمْ أَحْلِقْ؟ قَالَ: ((فَلَا حَرَجَ فَاْحْلِقْ۔)) ثُمَّ أَتَاہُ رَجُلٌ آخَرُ فَقَالَ: إِنِّی رَمِیْتُ وَحَلَقْتَ وَلَبِسْتُ وَلَمْ أَنْحَرْ، فَقَالَ: ((لَا حَرَجَ فَانْحَرْ۔)) (مسند احمد: ۵۶۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں آیا اور اس نے کہا: میں جمرہ کی رمی اور طواف افاضہ تو کر چکا ہوں، لیکن ابھی تک میں نے سر نہیں منڈوایا اور دوسرے کپڑے پہن لیے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کوئی حرج نہیں ہے،اب سر منڈوالو۔ ایک اور آدمی آیا اور اس نے کہا: میں رمی اور سر منڈوانے سے فارغ ہو گیا ہوں اور دوسرا لباس پہن لیا ہے، لیکن ابھی تک قربانی نہیں کی؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کوئی حرج نہیں ہے، اب قربانی کر لو۔

4549

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4549

Sahih

۔ (۴۵۴۹) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَاقِفًا عَلٰی رَاحِلَتِہِ بِمِنًی، قَالَ: فَأَتَاہُ رَجُلٌ فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنِّیْ کُنْتُ أُرٰی أَنَّ الْحَلْقَ قَبْلَ الذَّبْحِ، فَحَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَذْبَحَ، فَقَالَ: ((اِذْبَحْ وَلَاحَرَجَ۔)) قَالَ: ثُمَّ جَائَ آخَرُ، فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنِّی کُنْتُ أَرٰی أَنَّ الذَّبْحَ قَبْلَ الرَّمْیِ فَذَبَحْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِیَ، قَالَ: ((فَارْمِ وَلَا حَرَجَ۔)) قَالَ: فَمَا سُئِلَ عَنْ شَیْئٍ قَدَّمَہُ رَجُلٌ قَبْلَ شَیْئٍ إِلَّا قَالَ: ((اِفْعَلْ وَلَا حَرَجَ۔)) قَالَ عَبْدُ ا لرَّزَاقِ: وَجَائَ ہُ آخَرُ فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنِّی کُنْتُ أَظُنُّ الْحَلْقَ قَبْلَ الرَّمْیِ، فَحَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِیَ، قَالَ: ((اِرْمِ وَلَا حَرَجَ۔)) (مسند احمد: ۶۸۸۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:میں نے دیکھا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم منیٰ میں اپنی سواری پر سوار تھے کہ ایک آدمی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں آیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں تو سمجھتا تھا کہ قربانی سے پہلے سر منڈاناہے، اس لیے میں نے قربانی سے پہلے منڈوا لیا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اب ذبح کرلو، اس میں تو کوئی حرج نہیں ہے۔ اتنے میں ایک اور آدمی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں آیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرا خیال تھا کہ ذبح کرنا رمی سے پہلے ہے، اس لیے میں نے رمی سے پہلے قربانی کرلی ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس میں کوئی حرج نہیں ہے، اب رمی کرلو۔ اس روز جس شخص نے ان امور کی تقدیم وتاخیر کے بارے میں جو سوال بھی کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے فرمایا: اب کر لو، کوئی حرج نہیں ہے۔ عبدالرزاق راوی نے کہا: ایک آدمی آیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں سمجھتا تھا کہ رمی سے پہلے سر منڈوانا ہے، اس لیے میں نے رمی سے پہلے سر منڈٖوالیا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اب رمی کرلو، اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔

4550

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4550

Sahih

۔ (۴۵۵۰) عَنْ جَابِرِ (بْنِ عَبْدِاللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما ) أَنَّہُ قَالَ: نَحَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَحَلَقَ وَجَلَسَ لِلنَّاسِ، فَمَا سُئِلَ عَنْ شَیْئٍ إِلَّا قَالَ: ((لَا حَرَجَ، لاَ حَرَجَ۔)) حَتّٰی جَائَ رَجُلٌ فَقَالَ: حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَنْحَرَ، قَالَ: ((لَا حَرَجَ۔)) ثُمَّ جَائَ آخَرُ فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِیَ، قَالَ: ((لَا حَرَجَ۔)) قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((عَرَفَۃُ مَوْقِفٌ وَ الْمُزَدَلِفَۃُ کُلُّہَا مَوْقِفٌ، وَمِنًی کُلُّہَا مَنْحَرٌ، وَکُلُّ فِجَاجِ مَکَّۃَ طَرِیْقٌ وَمَنْحَرٌ۔)) (مسند احمد: ۱۴۵۵۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قربانیوں سے فارغ ہو کر لوگوں کے لیے بیٹھ گئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کسی بھی امر کی تقدیم وتاخیرکے بارے میں جو سوال کیا گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جواباً فرمایا: کوئی حرج نہیں ہے، کوئی حرج نہیں ہے۔‘ یہاں تک کہ ایک آدمی نے آکر کہا: میں نے قربانی سے پہلے سر منڈوالیا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کوئی حرج نہیں۔ بعد ازاں ایک اور آدمی آیا اور اس نے کہا: میں نے رمی سے پہلے سر منڈوالیا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کوئی حرج نہیں۔ نیز رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سارا عرفہ وقوف کی جگہ ہے، سارا مزدلفہ جائے وقوف ہے اور سارا منیٰ قربان گاہ ہے اور مکہ کی تمام گلیاں راستے اور قربان گاہیں ہیں۔