Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 74 · Chapter 794

حج افراد، حج قران اور حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان

یوم النحر یعنی دس ذوالحجہ کو منی سے طواف کے لیے لوٹنا اور اسی کو طوافِ افاضہ اور طوافِ زیارت کہنے اور شام تک یہ طواف نہ کر سکنے والے کے حکم کا بیان

6 hadiths in this chapter

4540

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4540

Sahih

۔ (۴۵۴۰) عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَفَاضَ یَوْمَ النَّحْرِ ثُمَّ رَجَعَ فَصَلَّی الظُّہْرَ بِمِنًی۔ (مسند احمد: ۴۸۹۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدناعبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یوم النحر کو طوافِ افاضہ کیا، پھر واپس لوٹ آئے اور نمازِ ظہر منی میں ادا کی۔

4541

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4541

Sahih

۔ (۴۵۴۱) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَ عَائِشَۃَ قَالَا: أَفَاضَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ مِنًی لَیْلًا۔(مسند احمد: ۲۶۱۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدناعبد اللہ بن عباس اور سیدہ عائشہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے رات کو منی سے آ کر طوافِ افاضہ کیا تھا۔

4542

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4542

Sahih

۔ (۴۵۴۲)(وَعَنْہُمَا ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم زَارَ الْبَیْتَ لَیْلًا۔ (مسند احمد: ۲۶۲۳۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے رات کو بیت اللہ کا طوافِ زیارت کیا۔

4543

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4543

Sahih

۔ (۴۵۴۳)(وَعَنْہُمَا مِنْ طَرِیْقٍ ثَالِثٍ) أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَخَّرَ طَوَافَ یَوْمَ النَّحْرِ إِلَی اللَّیْلِ۔ (مسند احمد: ۲۶۱۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (تیسری سند) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یوم النحر کے طواف کو رات تک مؤخر کیا تھا۔

4544

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4544

Zaeef

۔ (۴۵۴۴) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِی أَبِی ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ قَالَ: حَدَّثَنِی أَبُوْعُبَیْدَۃَ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ زَمْعَۃَ عَنْ أَبِیْہِ وَعَنْ أُمِّہِ زَیْنَبَ بِنْتِ أَبِی سَلَمَۃَ عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا یُحَدِّثَانِہِ ذَالِکَ جَمِیْعًا، قَالَتْ: ، کَانَتْ لَیْلَتِیَ الَّتِیْیَصِیْرُ إِلَیَّ فِیْہَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَسَائَ یَوْمِ النَّحْرِ، قَالَتْ: فَصَارَ إِلَیَّ، قَالَتْ: فَدَخَلَ عَلَیَّ وَھْبُ بْنُ زَمْعَۃَ مَعَہُ رَجُلٌ مِنْ آلِ أَبِی أُمَیَّۃَ مُتَقَمِّصَیْنِ، قَالَتْ: فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِوَھْبٍ: ((ھَلْ اَفَضْتَ بَعْدُ أَبَا عَبْدِ ا للّٰہِ؟ قَالَ: لَا وَاللّٰہِ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: ((اِنْزِعْ عَنْکَ الْقَمِیْصَ)) قَالَ: فَنَزَعَہُ مِنْ رَأْسِہِ، وَنَزَعَ صَاحِبُہُ قَمِیْصَہُ مِنْ رَأْسِہِ، ثُمَّ قَالُوْا: وَلِمَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ؟ قَالَ: ((إِنَّ ھٰذَا یَوْمٌ رُخِّصَ لَکُمْ إِذَا أَنْتُمْ رَمَیْتُمُ الْجَمْرَۃَ أَنْ تَحِلُّوْا یَعْنِی مِنْ کُلِّ مَا حُرِمْتُمْ مِنْہُ إِلَّا مِنَ النِّسَائِ، فَإِذَا أَنْتُمْ أَمْسَیْتُمْ قَبْلَ أَنْ تَطُوْفُوْا بِہٰذَا الْبَیْتِ عُدْتُّمْ حُرُمًا کَہَیْئَتِکُمْ قَبْلَ أَنْ تَرْمُوْا الْجَمْرَۃَ حَتّٰی تَطُوْفُوْا بِہِ۔)) (مسند احمد: ۲۷۰۶۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں: یوم النحر کی شام کو میری رات ہونے کی وجہ سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میرے پاس آنا تھا، سو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میرے پاس آ گئے، اتنے میں سیدنا وہب بن زمعہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھی میرے پاس آگئے، جبکہ ان کے ساتھ آلِ ابو امیہ کا ایک آدمی بھی تھا، ان دونوں نے قمیصیں پہنی ہوئی تھیں، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا وہب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے فرمایا: ابوعبد اللہ! کیا تم نے طوافِ افاضہ کر لیا ہے؟ انھوں نے کہا: جی نہیں، اے اللہ کے رسول! اللہ کی قسم اٹھاتا ہوں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر قمیص اتار دو۔ انھوں نے بھی سر کی جانب سے قمیص اتار دی اور ان کے ساتھی نے بھی سر کی طرف سے قمیص اتار دی، پھر انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! بھلا اس کی وجہ کیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس دن میں ہمیں یہ رخصت دی گئی ہے کہ جب تم لوگ جمرہ کی رمی کر لو تو تم حلال ہو جاؤ گئے، یعنی تم کو جن امور سے (احرام کی وجہ سے) منع کر دیا تھا، وہ جائز ہو جائیں گے، ما سوائے بیویوں کے، لیکن جب تم شام تک بیت اللہ کا طواف ہی نہ کر سکو تو تم احرام کی اسی حالت میں لوٹ آؤ گے، جو جمرہ کی رمی سے پہلے تھی،یہاں تک کہ تم یہ طواف کر لو۔

4544

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4544

Sahih

۔ (۴۵۴۴م)قَالَ مُحَمَّدٌ قَالَ: أَبُوْ عُبَیْدَۃَ وَحَدَّثَتْنِیْ أُمُّ قَیْسٍ ابْنَۃُ مِحْصَنٍ، وَکَانَتْ جَارَۃً لَہُمْ، قَالَتْ: خَرَجَ مِنْ عِنْدِی عُکَاشَہُ بْنُ مِحْصَنٍ فِیْ نَفَرٍ مِنْ بَنِی أَسَدٍ مُتَقَمِّصِیْنَ َعَشِیَّۃَیَوْمِ النَّحْرِ، ثُمَّ رَجَعُوْا إِلَیَّ عِشَائً قُمُصُہُمْ عَلٰی أَیْدِیْہِمْیَحْمِلُوْنَہَا، قَالَتْ: فَقُلْتُ: أَیْ عُکَاشَۃُ! مَالَکُمْ خَرَجْتُمْ مُتَقَمِّصِیْنَ ثُمَّ رَجَعْتُمْ وَقُمُصُکُمْ عَلٰی أَیْدِیْکُمْ تَحْمِلُوْنَہَا؟ فَقَالَ: أَخْبَرَتْنَا أُمُّ قَیْسٍ: کَانَ ھٰذَا یَوْمًا قَدْ رُخِّصَ لَنَا فِیْہِ إِذَا نَحْنُ رَمَیْنَا الْجَمْرَۃَ حَلَلْنَا مِنْ کُلِّ مَا حَرُمْنَا مِنْہُ إِلَّا مَا کَانَ مِنَ النِّسَائِ حَتّٰی نَطُوْفَ بِالْبَیْتِ، فَإِذَا أَمْسَیْنَا وَلَمْ نَطُفْ بِہِ صِرْنَا حُرُمًا کَہَیْئَتِنَا قَبْلَ أَنْ نَرْمِیَ الْجَمْرَۃَ حَتّٰی نَطُوْفَ بِہِ وَلَمْ نَطُفْ فَجَعَلْنَا قُمُصَنَا کَمَا تَرَیْنَ۔ (مسند احمد: ۲۷۰۶۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ ابو عبیدہ کہتے ہیں: میری پڑوسن سیدہ ام قیس بنت محصن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: بنو اسد کے کچھ افراد سمیت سیدہ عکاشہ بن محصن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ میرے پاس سے نکلے، ان لوگوں نے قمیصیں پہنی ہوئی تھیں اور یہیوم النحر کی شام تھی، لیکن جب عشاء کے وقت یہ لوگ واپس آئے تو انھون نے اپنی قمیصیں اپنے ہاتھوں پر اٹھائی ہوئی تھیں۔ میں نے کہا: اے عکاشہ! کیا ہوا تم لوگوں کو، جب تم نکلے تھے تو تم نے قمیصیں پہنیں ہوئی تھیں اور جب لوٹے ہو تو تم نے اپنی قمیصیں اپنے ہاتھوں پر اٹھائی ہوئی ہیں؟ انھوں نے کہا: سیدہ ام قیس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: اس دس ذوالحجہ کے دن کو ہمیں یہ رخصت دی گئی ہے کہ جب ہم جمرہ کی رمی کر لیں تو (احرام کی وجہ سے ) ممنوعہ چیزیں ہمارے لیے حلال ہو جائیں گے، ما سوائے بیویوں کے، وہ طوافِ افاضہ کے بعد حلال ہوں گی، لیکن اگر اس طرح ہو جائے کہ شام تک ہم طواف نہ کر سکیں تو ہم احرام کی اسی حالت میں واپس آ جائیں گے، جس میں ہم جمرہ کی رمی سے پہلے تھے، پھر بیت اللہ کا طواف کر لینے تک احرام کی حالت میں ہی ٹھہریں گے۔ چونکہ ہم نے طواف نہیں کیا تھا، اس لیے ہم نے اپنی قمیصیں اس طرح کر لی ہیں، جیسا کہ تم دیکھ رہی ہو۔