Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 72 · Chapter 745

احرام، اس کے مواقیت ، طریقے اور اس سے متعلقہ دوسرے احکام کے ابواب

محرم کے لیے سینگی لگوانے، سرمہ لگانے اور سر دھونے کا بیان

8 hadiths in this chapter

4259

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4259

Sahih

۔ (۴۲۵۹)عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِحْتَجَمَ وَہُوَ مُحَرِمٌ فِیْ رَأْسِہٖمِنْصُدَاعٍوَجَدَہُ۔ (مسنداحمد: ۳۵۲۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سر درد محسوس کرنے کی وجہ سے سر میں سینگی لگوائی، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم احرام کی حالت میں تھے۔

4260

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4260

Sahih

۔ (۴۲۶۰) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ بُحَیْنَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: اِحْتَجَمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِلَحْیِ جَمَلٍ مِنْ طَرِیْقِ مَکَّۃَ عَلٰی وَسَطِ رَأْسِہٖوَہُوَمُحْرِمٌ۔ (مسنداحمد: ۲۳۳۱۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن بحینہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مکہ کے راستہ میں لحی جمل کے مقام پر احرام کی حالت میں سر پر سینگی لگوائی تھی۔

4261

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4261

Sahih

۔ (۴۲۶۱)عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَہُوَ مُحْرِمٌ عَلٰی ظَہْرِ الْقَدَمِ مِنْ وَجْعٍ کَانَ بِہِ۔ (مسند احمد: ۱۲۷۱۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے احرام کی حالت میں پاؤں کی پشت پر سینگی لگوائی تھی، کیونکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اس مقام پر تکلیف تھی۔

4262

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4262

Sahih

۔ (۴۲۶۲) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِحْتَجَمَ وَہُوَ مُحَرِمٌ مِنْ وَثْیٍٔ کَانَ بِوَرِکِہِ أَوْ ظَہْرِہِ۔ (مسند احمد: ۱۴۳۳۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی پشت یا کولہے میں تکلیف تھی، اس لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سینگی لگوائی تھی، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم احرام کی حالت میں تھے۔

4263

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4263

Sahih

۔ (۴۲۶۳) عَنْ نُبَیْہِ بْنِ وَھْبٍ قَالَ: أَرْسَلَ عُمَرُ بْنُ عُبَیْدِ اللّٰہِ إِلٰی أَبَانِ بْنِ عُثْمَانَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَیَکْحُلُ عَیْنَیْہِ وَہُوَ مُحْرِمٌ أَوْ بِأَیِّ شَیْئٍیَکْحُلہُا وَہُوَ مُحْرِمٌ؟ فَأَرْسَلَ إِلَیْہِ أَنْ یَضْمِدَہَا بِالصَّبِرِ فَإِنِّی سَمِعْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌یُحَدِّثُ ذَالِکَ عَنْ رَسِوْلِ اللّٰہِ۔ (مسند احمد: ۴۹۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ نبیہ بن وہب کا بیان ہے کہ عمر بن عبید اللہ نے سیدنا ابان بن عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طرف ایک آدمی کو بھیج کر پوچھا کہ آیا وہ احرام کی حالت میں آنکھوں میں سرمہ لگا سکتے ہیں یا وہ احرام کی حالت میں آنکھوں میں کونسی چیز لگائیں؟ ابان نے واپسی جواب بھیجا کہ صَبِر لگا لیں، انھوں نے سیدنا عثمان بن عفان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو یہ بات رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے بیان کرتے ہوئے سنا تھا۔

4264

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4264

Sahih

۔ (۴۲۶۴) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنْ أَبَانِ بْنِ عُثْمَانَ أَنَّہُ حَدَّثَ عَنْ عُثْمَانَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَخَّصَ أَوْ قَالَ فِیْ الْمُحْرِمِ إِذَا اشْتَکٰی عَیْنَیْہِ أَنْ یَضْمِدَہَا بِالصَّبِرِ۔ (مسند احمد: ۴۹۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ رخصت دی ہے کہ اگر محرم کی آنکھوں میں تکلیف ہو تو وہ صَبِر لگا سکتا ہے۔

4265

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4265

Sahih

۔ (۴۲۶۵) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ حُنَیْنٍ قَالَ: کُنْتُ مَعَ ابْنِ عَبَاسٍ وَالْمِسْوَرِ بِالْأَبْوَائِ، فَتَحَدَّثْنَا حَتّٰی ذَکَرْنَا غَسْلَ الْمُحْرِمِ رَأْسَہُ، فَقَالَ الْمِسْوَرُ: لَا، وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: بَلٰی، فَأَرْسَلَنِی ابْنُ عَبَّاسٍ إِلٰی أَبِی أَیُّوْبَ (الْأَنْصَارِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌) یَقْرَأُ عَلَیْکَ ابْنُ أَخِیْکَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنِ عَبَّاسٍ السَّلَامَ وَیَسْأَلُکَ کَیْفَ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَغْسِلُ رَأْسَہُ مُحْرِمًا، قَالَ: فَوَجَدَہُ یَغْتَسِلُ بَیْنَ قَرْنَیْ بِئْرٍ قَدْ سَتَرَ عَلَیْہِ بِثَوْبٍ، فَلَمَّا اسْتَبَنْتُ بِہٖضَمَّالثَّوْبَ إِلٰی صَدْرِہِ حَتّٰی بَدَا لِیْ وَجْہُہُ وَرَأَیْتُہُ وَإِنْسَانٌ قَائِمٌ یَصُبُّ عَلٰی رَأْسِہِ الْمَائَ، قَالَ: فَأَشَارَ أَبُوْ أَیُّوْبَ بِیَدِہِ عَلٰی رَأْسِہِ جَمِیْعًا عَلٰی جَمِیْعٍ رَأْسِہٖ،َأَقْبَلَبِہِمَاوَأَدْبَرَ،فَقَالَالْمِسْوَرُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: لَا أُمَارِیْکَ أَبَدًا۔ (مسند احمد: ۲۳۹۷۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ عبد اللہ بن حنین کہتے ہیں: میں سیدنا عبد اللہ بن عباس اور سیدنا مسور ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کے ساتھ ابواء کے مقام پر تھا، ہم باتیں کر رہے تھے، دورانِ گفتگو یہ ذکر ہونے لگا کہ محرم اپنا سر دھو سکتا ہے یا نہیں؟ سیدنا مسور ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: نہیں دھو سکتا، لیکن سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: دھو سکتا ہے، پھر سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھے سیدنا ابوایوب انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ہاں بھیجا اوریہ پیغام دیا کہ ان کو کہنا کہ آپ کا بھتیجا عبد اللہ آپ کو سلام کہتاہے اور یہ پوچھتا ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم احرام کی حالت میں اپنا سر کس طرح دھویا کرتے تھے؟ جب میں وہاں پہنچا تو انہیں اس حال میں پایا کہ وہ ایک کنوئیں کے دو ستونوں کے درمیان غسل کر رہے تھے اور کپڑے سے پردہ کیا ہوا تھا، جب میں ان کے سامنے ظاہر ہوا تو انہوں نے پردے والے کپڑے کو سینہ تک نیچے کیا، سو ان کا چہرہ میرے لئے ظاہر ہوا، میں نے دیکھا کہ ایک آدمی کھڑا ہوکر ان کے سر پر پانی ڈال رہا تھا۔ (جب میں نے یہ سوال کیا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم احرام کی حالت میں اپنے سر کو کیسے دھوتے تھے؟) تو سیدنا ابو ایوب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اپنے دونوں ہاتھوں کو اکٹھاکرکے اپنے پورے سر پر آگے پیچھے پھیرا، جب میں نے واپس جا کر ساری بات ذکر کی تو سیدنا مسور ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: میں آئندہ آپ سے کوئی مباحثہ نہیں کروں گا۔

4266

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4266

Sahih

۔ (۴۲۶۶) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: اِخْتَلَفَ الْمِسْوَرُ بْنُ مَخْرَمَۃَ وَابْنُ عَبَّاسٍ فِی الْمُحْرِمِ یَغْسِلُ رَأْسَہُ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: یَغْسِلُ، وَقَالَ الْمِسْوَرُ: لَا یَغْسِلُ، فَأَرْسَلُوْنِی إِلٰی أَبِی أَیُّوْبَ فَسَأَلْتُہُ، فَصَبَّ عَلٰی رَأْسِہِ الْمَائَ ثُمَّ أَقْبَلَ بِیَدَیْہِ وَأَدْبَرَ بِہِمَا، ثُمَّ قَالَ: ہٰکَذَا رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَعَلَ۔ (مسند احمد: ۲۳۹۴۴، ۲۳۹۷۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) عبد اللہ بن حنین کہتے ہیں: سیدنا مسور بن مخرمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا اس بارے میں اختلاف ہوا کہ محرم اپنا سر دھو سکتا ہے یا نہیں؟ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: دھو سکتا ہے، لیکن سیدنا مسور ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: نہیں دھو سکتا، ان دونوں نے مجھے سیدنا ابو ایوب انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ہاں بھیجا تاکہ میں ان سے یہ مسئلہ پوچھ کر آؤں، جب میں نے ان سے جا کر پوچھا تو انہوں نے اپنے سر پر پانی ڈالا اور اپنے دونوں ہاتھوں کو آگے پیچھے گھمایا اور پھر کہا: میں نے دیکھا تھا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایسے ہی کیا تھا۔