Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 72 · Chapter 744

احرام، اس کے مواقیت ، طریقے اور اس سے متعلقہ دوسرے احکام کے ابواب

محرم کے لئے جائز اور ناجائز امور کا بیان محرم کا سلے ہوئے کپڑے اتار دینے کا بیان اور اس امر کی وضاحت کہ کون سے کپڑے اور خوشبو اس کے لیے ناجائز ہے

15 hadiths in this chapter

4244

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4244

Sahih

۔ (۴۲۴۴) عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما أَنَّ رَجُلًا قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! مَا یَلْبَسُ الْمُحَرِمُ أَوْ قَالَ: مَا یَتْرُکُ الْمُحْرِمُ، فَقَالَ: ((لَا یَلْبَسُ الْقَمِیْصَ وَلَا السَّرَاوِیْلَ وَلَا الْعِمَامَۃَ وَلَا الْخُفَّیْنِ إِلَّا أَنْ لَا یَجِدَ نَعْلَیْنِ، فَمَنْ لَمْ یَجِدْ نَعْلَیْنِ فَلْیَلْبَسْہُمَا، أَسْفَلَ مِنَ الْکَعْبَیْنِ وَلَا الْبُرْنُسَ، وَلَا شَیْئًا مِنَ الثِّیَابِ مَسَّہُ وَرْسٌ وَلَا زَعْفَرَانٌ۔)) (مسند احمد: ۴۴۸۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، ایک آدمی نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! محرم کس قسم کا لباس پہن سکتا ہے؟ یا اس نے کہا کہ محرم کس قسم کا لباس نہیں پہن سکتا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ قمیص، شلوار، پگڑی اور موزے نہیں پہن سکتا، ہاں اگر اسے جوتے دستیاب نہ ہوں تو موزوں کو ٹخنوں سے نیچے تک (کاٹ کر) پہن سکتا ہے، اسی طرح کوٹ یا برانڈی نہیں پہن سکتا اور وہ کپڑے بھی نہیں پہن سکتا، جس کو ورس اور زعفران کی خوشبو لگی ہو ئی ہو۔

4245

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4245

Sahih

۔ (۴۲۴۵) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ بِنَحْوِہِ وَزَادَ فِیْہِ) وَلَا تَنْتَقِبُ الْمَرْأَۃُ الْحَرَامُ، وَلَا تَلْبَسُ الْقُفَّازَیْنِ۔ (مسند احمد: ۶۰۰۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) یہ حدیث بھی سابقہ حدیث کی مانند ہے، البتہ اس میں یہ الفاظ زائد ہیں: اور احرام والی عورت نہ نقاب اوڑھے اور نہ دستانے پہنے۔

4246

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4246

Sahih

۔ (۴۲۴۶) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَالِثٍ) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا یَلْبَسُ الْمُحْرِمُ الْبُرْنُسَ وَلَا الْقَمِیْصَ وَلَا الْعِمَامَۃَ وَلَا السَّرَاوِیْلَ وَلَا الْخُفَّیْنِ إِلَّا أَنْ یَضْطَرَّ،یَقْطَعُہُ مِنْ عِنْدِ الْکَعْبَیْنِ، وَلَا یَلْبَسَ ثَوْبًا مَسَّہُ الْوَرْسُ، وَلَا الزَعْفَرَانُ إِلَّا أَنْ یَکُوْنَ غَسِیْلًا۔ (مسند احمد: ۵۰۰۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (تیسری سند) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: محرم کوٹ یا برانڈی، قمیص، پگڑی، شلوار اور موزے نہیں پہن سکتا، اگر جوتے دستیاب نہ ہوں تو موزوں کو ٹخنوں سے نیچے تک کاٹ کر استعمال کر سکتا ہے، نیز وہ کپڑا بھی نہیں پہن سکتا، جس کو ورس یا زعفران خوشبو لگی ہوئی ہو، الّا یہ کہ وہ دھو لیا جائے۔

4247

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4247

Sahih

۔ (۴۲۴۷) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ رَابِعٍ) قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ عَلٰی ہٰذَا الْمِنْبَرِ وَہُوَ یَنْہَی النَّاسَ إِذَا أَحْرَمُوْا عَمَّا یُکْرَہُ لَہُمْ: ((لَا تَلْبَسُوْا الْعَمَائِمَ)) فَذَکَرَ نَحْوَہُ۔ (مسند احمد: ۴۸۶۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (چوتھی سند) سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اس منبر پر فرماتے ہوئے سنا، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لوگوں کو احرام کے دوران ان امور سے منع کر رہے تھے، جو ان کے لیے ناپسند کیے جاتے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: احرام کی حالت میں پگڑیاں نہ باندھا کرو،…۔ باقی حدیث سابقہ حدیث کی مانند ہے۔

4248

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4248

Sahih

۔ (۴۲۴۸) عَنْ عطَاَئٍ أَنَّہُ کَانَ لَا یَرٰی بَأْسًا أَنْ یُحْرِمَ الرَّجُلُ فِیْ ثَوْبٍ مَصْبُوْغٍ بِزَعْفَرَانٍ قَدْ غُسِلَ لَیْسَ فِیْہِ نَفْضٌ وَلَا رَدْعٌ۔ (مسند احمد: ۳۳۱۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ عطاء سے روایت ہے وہ اس بات میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے کہ محرم زعفران سے رنگے ہوئے کپڑے کو اس طرح دھو کر استعمال کرے کہ نہ تو اس میں اتنا رنگ رہے کہ وہ جسم کو لگے اور نہ اس میں اس کی خوشبو رہے۔

4249

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4249

Sahih

۔ (۴۲۴۹) عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسِ رضی اللہ عنہ عَنِ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مِثْلُہُ ۔ (مسند احمد : ۳۳۱۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ عکرمہ سے روایت ہے کہ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اسی قسم کی ایک حدیث بیان کی ہے۔

4250

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4250

Sahih

۔ (۴۲۵۰)عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((إِذَا لَمْ یَجِدِ الْمُحْرِمُ النَّعْلَیْنِ فَلْیَلْبَسِ الْخُفَّیْنِ وَلْیَقْطَعْہُمَا أَسْفَلَ مِنَ الْکَعْبَیْنِ۔)) (مسند احمد: ۴۴۵۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب محرم کو جوتے دستیاب نہ ہوں تو وہ موزے پہن لے، لیکن ٹخنوں کے نیچے سے ان کو کاٹ دے۔

4251

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4251

Sahih

۔ (۴۲۵۱) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: خَطَبَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَقَالَ: ((إِذَا لَمْ یَجِدِ الْمُحْرِمُ إِزَارًا فَلْیَلْبَسِ السَّرَاوِیْلَ، وَإِذَا لَمْ یَجِدِ النَّعْلَیْنِ فَلْیَلْبَسِ الْخُفَّیْنِ۔)) (مسند احمد: ۱۸۴۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خطبہ دیا اور فرمایا: جب محرم کو چادر دستیاب نہ ہو تو وہ شلوار پہن سکتا ہے اور اسی طرح جب جوتے دستیاب نہ ہوں تو وہ موزے پہن سکتا ہے۔

4252

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4252

Sahih

۔ (۴۲۵۲) وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلُہُ۔ (مسند احمد: )

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدناجابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اسی طرح کی ایک حدیث بیان کی ہے۔

4253

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4253

Sahih

۔ (۴۲۵۳) عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ: حَدَّثَنِی نَافِعٌ وَکَانَتِ أمْرَأَتُہُ أُمَّ وَلَدٍ لِعَبْدِاللّٰہِ بْنِ عُمَرَ حَدَّثَتْہُ أَنَّ عَبْدَاللّٰہِ بْنَ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما ابْتَاعَ جَارِیَۃً بِطَرِیْقِ مَکَّۃَ فَأَعْتَقَہَا وَأَمَرَہَا أَنْ تَحُجَّ مَعَہُ فَابْتَغٰی لَہَا نَعْلَیْنِ فَلَمْ یَجِدْہُمَا، فَقَطَعَ لَہَا خُفَّیْنِ أَسْفَلَ مِنَ الْکَعْبَیْنِ، قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ فَذَکَرْتُ ذَالِکَ لِابْنِ شِہَابٍ فَقَالَ: حَدَّثَنِی سَالِمٌ أَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ، کَانَ یَصْنَعُ ذَالِکَ،ثُمَّ حَدَّثَتْہُ صَفِیَّۃُ بِنْتُ أَبِی عُبَیْدٍ أَنَّ عَائِشَۃَ حَدَّثْتْہَا أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہٖوَصَحْبِہِ وَسَلَّمَ کَانَ یُرَخِّصُ لِلنِّسَائِ فِی الْخُفَّیْنِ ثُمَّ تَرَکَہُ۔ (مسند احمد: ۲۴۵۶۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ امام نافع ، جن کی بیوی سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی ام ولد تھی، بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مکہ مکرمہ کے راستے میں ایک لونڈی خریدی اور اسے آزاد کر کے اس کو حکم دیا کہ وہ ان کے ساتھ حج کرے، پھر سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اس کے لئے جوتے تلاش کئے، لیکن وہ نہ ملے، اس لیے انہوں نے موزوں کو ٹخنوں کے نیچے سے کاٹ دیا۔ ابن اسحاق کہتے ہیں: جب میں نے اس بات کا ابن شہاب سے ذکر کیا تو انہوں نے کہا کہ سالم نے اس کو بیان کیا ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ایسے ہی کیا کرتے تھے، لیکن بعد میں جب صفیہ بنت ابی عبید نے ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو بتلایا کہ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے تو یہ بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خواتین کے لئے موزوں کی اجازت دیا کرتے تھے، یہ سن کر سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے یہ عمل ترک کر دیا تھا۔

4254

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4254

Sahih

۔ (۴۲۵۴)عَنْ نَافِعٍ قَالَ: وَجَدَ ابْنُ عُمَرَ الْقُرَّ، وَہُوَ مُحْرِمٌ فَقَالَ: أَلْقِ عَلَیَّ ثَوْبًا، فَأَلْقَیْتُ عَلَیْہِ بُرْنُسًا فَأَخَّرَہُ، وَقَالَ: تُلْقِیْ عَلَیَّ ثَوْبًا قَدْ نَھٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہٖوَصَحْبِہِ وَسَلَّمَ أَنْ یَلْبَسَہُ الْمُحْرِمُ۔ (مسند احمد: ۴۸۵۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ امام نافع کہتے ہیں: سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو احرام کی حالت میں شدید سردی محسوس ہونے لگی، اس لیے انھوں نے کہا: مجھ پر کوئی کپڑا ڈالو، میں نے ان کے اوپر کوٹ ڈال دیا،لیکن انہوں نے اسے ہٹا دیا اور کہا: تم مجھ پر ایسا کپڑا ڈال رہے ہو کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے محرم کو جس کو پہننے سے منع فرمایا تھا۔

4255

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4255

Sahih

۔ (۴۲۵۵) عَنْ عَطَائٍ أَنَّ صَفْوَانَ بْنَ یَعْلَی بْنِ أُمَیَّۃَ أَخْبَرَہُ أَنَّ یَعْلٰی کَانَ یَقُوْلُ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: لَیْتَنِی أَرَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حِیْنَیُنْزَلُ عَلَیْہِ، قَالَ: فَلَمَّا کَانَ بِالْجِعْرَانَۃِ وَعَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ثَوْبٌ قَدْ أُظِلَّ بِہِ، مَعَہُ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِہِ، مِنْہُمْ عُمَرُ إِذْ جَائَ ہُ رَجُلٌ، عَلَیْہِ جُبَّۃٌ مُتَضَمِّخًا بِطِیْبٍ (وَفِیْ لَفْظٍ: وَہُوَ مُتَضَمِّخٌ بِخَلُوْقٍ وَعَلَیْہِ مُقَطَّعَاتٌ) قَالَ: فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! کَیْفَ تَرٰی فِی رَجُلٍ أَحْرَمَ بِعُمْرَۃٍ فِیْ جُبَّۃٍ بَعْدَ مَا تَضَمَّخَ بِطِیْبٍ فَنَظَرَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سَاعَۃً ثُمَّ سَکَتَ، فَجَائَ ہُ الْوَحْیُ، فَأَشَارَ عُمَرُ إِلٰییَعْلٰی أَنْ تَعَالَ۔ فَجَائَ ہُ یَعْلٰی فَأَدْخَلَ رَأْسَہُ (وَفِیْ لَفْظٍ قَالَ: فَأَدْخَلْتُ رَأْسِی مَعَہُمْ فِیْ السِّتْرِ) فَإِذَا النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مُحْمَرُّ الْوَجْہِ یَغِطُّ کَذَالِکَ سَاعَۃً ثُمَّ سُرِّیَ عَنْہُ، فَقَالَ: ((أَیْنَ الَّذِیْ سَأَلَنِی عَنِ الْعُمْرَۃِ آنِفًا؟)) فَالْتُمِسَ الرَّجُلُ فَأُتِیَ بِہِ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَمَّا الطِّیْبُ الَّذِیْ بِکَ فَاغْسِلْہُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، وَأَمَّا الْجُبْۃُ، فَانْزِعْہَا ثُمَّ اصْنَعْ فِیْ عُمْرَتِکَ کَمَا تَصْنَعُ فِیْ حَجَّتِک۔)) (مسند احمد: ۱۸۱۱۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ صفوان بن یعلی بن امیہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنایعلی، سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا کرتے تھے کہ میری خواہش ہے کہ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر وحی نازل ہو رہی ہو تو میں اس کیفیت میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھوں۔ بعد میں ایک دن جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جعرانہ مقام میں تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اوپر ایک کپڑے سے سایہ کیا گیا تھا، صحابہ بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تھے، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھی موجود تھے، اسی دوران ایک آدمی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں آیا، جبکہ اس نے ایک جبہ پہنا ہوا تھا اور اس سے خوشبو آ رہی تھی، اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس آدمی کے متعلق آپ کا کیا خیال ہے جس نے اچھی طرح خوشبو ملنے کے بعد جبہ میں عمرہ کا احرام باندھا ہو؟ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کچھ دیر اس کی طرف دیکھا اور پھر خاموش ہو گئے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر وحی کا نزول شروع ہو گیا، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سیدنایعلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طرف اشارہ کیا کہ ادھر آؤ، چنانچہ سیدنایعلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آئے اور اپنا سر کپڑے کے اندر داخل کر لیا، انھوں نے دیکھا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا چہرۂ مبارک سرخ ہو رہا تھا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خراٹے لے رہے تھے، کچھ دیریہی کیفیت رہی، بعد ازاں یہ زائل ہو گئی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی ابھی عمرہ کے بارے میں پوچھ رہا تھا، وہ کہاں ہے؟ جب اس شخص کو تلاش کرکے لایا گیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم پر جو خوشبو لگی ہوئی ہے، اسے تین دفعہ اچھی طرح دھو ڈالو، اور یہ جبہ اتار دو اور عمرہ کے لئے باقی سارے کام اسی طرح کرو جیسے حج میں کرتے ہو۔

4256

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4256

Sahih

۔ (۴۲۵۶) (وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنِ عَطَائٍ عَنْ یَعْلَی بْنِ أُمَیَّۃَ قَالَ: جَائَ أَعْرَابِیٌّ إِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَعَلَیْہِ جُبَّۃٌ وَعَلَیْہِ رَدْعٌ مِنْ زَعْفَرَانٍ، فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنِّی أَحْرَمْتُ فِیْمَا تَرٰی وَالنَّاسُ یَسْخَرُوْنَ مِنِّی، وَأَطْرَقَ ہُنَیْہَۃً، قَالَ: ثُمَّ دَعَاہُ فَقَالَ: ((اِخْلَعْ عَنْکَ ہٰذِہِ الْجُبَّۃَ وَاغْسِلْ عَنْکَ ہٰذَا الزَّعْفَرَانَ وَاصْنَعْ فِیْ عُمْرَتِکَ کَمَا تَصْنَعُ فِیْ حَجَّتِکَ۔)) (مسند احمد: ۱۸۱۲۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) سیدنایعلی بن امیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک اعرابی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں آیا، جبکہ اس نے جبہ پہنا ہوا تھا اور اس پر زعفران کی خوشبو کے نشانات واضح تھے، اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ مجھے جس حال میں دیکھ رہے ہیں، میں نے اسی حالت میں احرام باندھا ہے، جبکہ لوگ مجھ سے مذاق کر رہے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کچھ دیر کے لیے سر جھکا لیا اور پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس شخص کو بلایا اور اس سے فرمایا: تم یہ جبہ اتار دو اور اس زعفران کو دھو ڈالو اورعمرہ میں باقی کام اسی طرح انجام دو، جیسے حج میں کرتے ہو۔

4257

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4257

Sahih

۔ (۴۲۵۷) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما أَنَّ رَجُلاً کَانَ مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَوَقَصَتْہُ نَاقَتُہُ وَہُوَ مُحْرِمٌ فَمَاتَ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِغْسِلُوْہُ بِمَائٍ وَسِدْرٍ، وَکَفِّنُوْہُ فِی ثَوْبَیْہِ، وَلَا تُمِسُّوْہُ بِطِیْبٍ وَلَا تُخَمِّرُوْا رَأْسَہُ فَإِنَّہُ یُبْعَثُیَوْمَ الْقِیَامَۃِ مُلَبِّیًا۔)) (مسند احمد: ۱۸۵۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی (حج کے سفر میں) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تھا، اسے اس کی اونٹنی نے گرایا اور وہ اس وجہ سے احرام کی حالت میں ہی فوت ہو گیا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اسے پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دے کر اس کے انہی دو کپڑوں میں کفن دے دو اور اسے خوشبو لگاؤ نہ اس کا سر ڈھانپو، کیونکہ اسے قیامت کے دن اس حال میں اٹھایا جائے گا کہ یہ تلبیہ پکار رہا ہو گا۔

4258

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4258

Zaeef

۔ (۴۲۵۸) عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَدَّہِنُ عِنْدَ اْلإِحْرَامِ بِالزَّیْتِ غَیْرِ الْمُقَتَّتِ۔ (مسند احمد: ۴۷۸۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم احرام باندھتے وقت ایسا تیل لگایا کرتے تھے، جو خوشبو والا نہیں ہوتا تھا۔