Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 72 · Chapter 743

احرام، اس کے مواقیت ، طریقے اور اس سے متعلقہ دوسرے احکام کے ابواب

تلبیہ کے دورانیہ اور نمازوں کے بعد تلبیہ پکارنے کا بیان

7 hadiths in this chapter

4237

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4237

Sahih

۔ (۴۲۳۷)وَعَنْہُ أَیْضًا ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَبّٰی دُبُرَ الصَّلَاۃِ۔ (مسند احمد: ۲۵۷۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نماز کے بعد تلبیہ پکارا۔

4238

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4238

Sahih

۔ (۴۲۳۸) عَنِ ابْنِ سَخْبَرَۃَ قَالَ: غَدَوْنَا مَعَ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌مِنْ مِنًی إِلٰی عَرَفَاتٍ، فَکَانَ یُلَبِّی، قَالَ: وَکَانَ عَبْدُ اللّٰہِ رَجُلًا آدَمَ، لَہُ ضَفْرَانِ عَلَیْہِ مَسْحَۃُ أَہْلِ الْبَادِیَۃ، فَاجْتَمَعَ عَلَیْہِ غَوْغَائُ مِنْ غَوْغَائِ النَّاسِ، قَالُوْا: یَا أَعْرَابِیُّ! إِنَّ ھٰذَا الْیَوْمَ لَیْسَیَوْمَ تَلْبِیَۃٍ إِنَّمَا ہُوَ یَوْمُ تَکْبِیْرٍ، قَالَ: فَعِنْدَ ذَالِکَ اِلتَفَتَ إِلَیَّ فَقَالَ: أَجَہِلَ النَّاسُ أَمْ نَسُوْا؟ وَالَّذِیْ بَعَثَ مُحَمَّدًا ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِالْحَقِّ لَقَدْ خَرَجْتُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَمَا تَرَکَ التَّلْبِیَۃَ حَتّٰی رَمَی جَمْرَۃَ الْعَقَبَۃِ إِلَّا أَنْ یُخْلِطَہاَ بِتَکْبِیْرٍ أَوْ تَہْلِیْلٍ۔ (مسند احمد: ۳۹۶۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ ابن سنجرہ کہتے ہیں: ہم سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ منیٰ سے عرفات کو گئے، وہ تلبیہ پکارتے جارہے تھے، سیدنا ابن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا رنگ گندمی تھا،ان کے سر پر دو لٹیں تھیں اور ان کا حلیہ دیہاتیوں کا سا تھا، ان کے تلبیہ کی آواز سن کر عام سادہ سے لوگوں نے شور مچا دیا اور کہنے لگے: ارے دیہاتی! آج تلبیہ کا دن نہیں ہے، تکبیرات کا دن ہے۔ یہ سن کر سیدنا ابن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے میری طرف دیکھا اور کہا: لوگوں کو سرے سے علم نہیں تھا یایہ بھول گئے ہیں؟ اس ذات کی قسم، جس نے محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو حق کے ساتھ مبعوث کیا، میں خود رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ جا رہا تھا،آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جمرۂ عقبہ کی رمی تک تلبیہ ترک نہیں کیا تھا، البتہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس دوران اللہ اکبر اور لا الہ الا اللہ بھی کہہ لیتے۔

4239

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4239

Sahih

۔ (۴۲۳۹) عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: غَدَوْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِلٰی عَرَفَاتٍ، مِنَّا الْمُکَبِّرُ وَمِنَّا الْمُلَبِّیْ۔ (مسند احمد: ۴۷۳۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے کہ جب ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ عرفات کو جا رہے تھے، تو ہم میں سے کوئی تکبیر کہہ رہا تھا اور کوئی تلبیہ پکار رہا تھا۔

4240

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4240

Sahih

۔ (۴۲۴۰) ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَفَاضَ مِنْ عَرَفَاتٍ وَرِدْفُہُ أُسَامَۃُ، وَأَفَاضَ مِنْ جَمْعٍ، وَرِدْفُہُ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ، قَالَ: وَلَبّٰی حَتّٰی رَمٰی جَمْرَۃَ الْعَقَبَۃِ۔ (مسند احمد: ۱۸۶۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عرفات سے روانہ ہوئے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پیچھے سواری پر سیدنا اسامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سوار تھے اور جب مزدلفہ سے روانہ ہوئے تو سیدنا فضل بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پیچھے سواری پر سوار تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جمرۂ عقبہ کی رمی تک تلبیہ پکارتے رہے۔

4241

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4241

Sahih

۔ (۴۲۴۱) عَنْ عِکْرِمَۃَ قَالَ: وَقَفْتُ مَعَ الْحُسَیْنِ، فَلَمْ أَزَلْ أَسْمَعُہُ یَقُوْلُ لَبَّیْکَ حَتّٰی رَمَی الْجَمْرَۃَ، فَقُلْتُ: یَا أَبَا عَبْدِاللّٰہِ! مَا ہٰذَا الْإِہْلَالُ؟ قَالَ: سَمِعْتُ عَلِیَّ بْنَ أَبِیْ طَالِبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌یُہِلُّ حَتَّی انْتَہٰی إِلٰی الْجَمْرَۃِ وَحَدَّثَنِیْ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَہْلَّ حَتَّی انْتَہٰی إِلَیْہَا۔ (مسند احمد: ۱۳۳۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ عکرمہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا حسین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ وقوف کیا اور میں نے سنا کہ وہ جمرۂ عقبہ کی رمی تک تلبیہ پکارتے رہے، میں نے عرض کیا: ابو عبد اللہ! یہ تلبیہ کیسا؟ انہوں نے کہا: میں نے سیدنا علی بن ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو سنا تھا کہ وہ جمرۂ عقبہ کی رمی تک تلبیہ پکارتے رہے، نیز سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے یہ بیان کیا تھا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جمرۂ العقبہ تک تلبیہ پکارا تھا۔

4242

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4242

Sahih

۔ (۴۲۴۲) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: أَفَضْتُ مَعَ الْحُسَیْنِ بْنِ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما مِنَ الْمُزْدَلِفَۃِ فَلَمْ أَزَلْ أَسْمَعُہُ یُلَبِّیْ حَتّٰی رَمٰی جَمْرَۃَ الْعَقَبَۃِ، فَسَأَلْتُہُ فَقَالَ: أَفَضْتُ مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَلَمْ أَزَلْ أَسْمَعْہُ یُلَبِّیْ حَتّٰی رَمٰی جَمْرَۃَ الْعَقَبَۃِ۔ (مسند احمد: ۹۱۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ دوسری سند: عکرمہ کہتے ہیں: میں سیدنا حسین بن علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی معیت میں مزدلفہ سے آ رہا تھا، میں نے سنا کہ جمرۂ عقبہ کی رمی تک وہ تلبیہ پکارتے رہے، جب میں نے ان سے اس کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: میں اپنے والد سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی معیت میں مزدلفہ سے چلاتھا، وہ جمرۂ عقبہ کی رمی تک تلبیہ پکارتے رہے تھے، اورانہوں نے یہ بتلایا تھا کہ جب وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ مزدلفہ سے چلا تھا تو یہ دیکھا تھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بھی جمرۂ عقبہ کی رمی تک تلبیہ پکارتے رہے تھے۔

4243

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4243

Sahih

۔ (۴۲۴۳) عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَبّٰییَوْمَ النَّحْرِ حَتّٰی رَمٰی جَمْرَۃَ الْعَقَبَۃِ۔ (مسند احمد: ۱۸۰۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا فضل بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دس ذوالحجہ کو جمرۂ عقبہ کی رمی تک تلبیہ پکارتے رہے تھے۔