Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 72 · Chapter 746

احرام، اس کے مواقیت ، طریقے اور اس سے متعلقہ دوسرے احکام کے ابواب

احرام کی حالت میں گرمی وغیرہ سے بچنے کے لئے سایہ کرنے، مرد کا سر کو اور عورت کا چہرہ کو ڈھانپنے اور محرم کا اپنے خادم کو مارنے کا بیان

5 hadiths in this chapter

4267

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4267

Sahih

۔ (۴۲۶۷) عَنْ أُمِّ الْحُصَیْنِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: حَجَجْتُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَجَّۃَ الْوَدَاعِ فَرَأَیْتُ أُسَامَۃَ بْنَ زَیْدٍ وَبِلَالًا وَأَحَدُہُمَا آخِذٌ بِخِطَامِ نَاقَۃِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَالآخَرُ رَافِعٌ ثَوْبَہُ یَسْتُرُہُ مِنَ الْحَرِّ حَتّٰی رَمٰی جَمْرَۃَ الْعَقَبَۃِ۔ (مسند احمد: ۲۷۸۰۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدہ ام حصین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے حجۃ الوداع کے موقع پر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ حج کیا، میں نے سیدنا اسامہ بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو دیکھا، ان میں سے ایک نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اونٹنی کی مہار پکڑی ہوئی تھی اور دوسرا اپناکپڑا اٹھا کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو گرمی سے بچانے کے لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر سایہ کر رہا تھا، یہاں تک کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جمرۂ عقبہ کو کنکریاں ماریں۔

4268

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4268

Zaeef

۔ (۴۲۶۸) عَنْ أَبِی أُمَامَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌عَمَّنْ رَاَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَاحَ إِلٰی مِنًییَوْمَ التَّرْوِیَۃِ وَإِلٰی جَانِبِہِ بِلَالٌ، بِیَدِہِ عُوْدٌ عَلَیْہِ ثَوْبٌ یُظَلِّلُ بِہِ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۲۲۶۶۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدناابوامامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، ایک ایسے آدمی سے روایت کرتے ہیں، جس نے دیکھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ترویہ والے دن (یعنی آٹھ ذوالحجہ کو) منیٰ کی طرف روانہ ہوئے اورسیدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پہلو میں تھے، ان کے ہاتھ میں ایک لکڑی تھی، اس پر ایک کپڑا تھا، جس سے وہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اوپر سایہ کر رہے تھے۔

4269

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4269

Sahih

۔ (۴۲۶۹) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما فِی الرَّجُلِ الَّذِیْ وَقَصَتْہُ نَاقَتُۃُ وَہُوَ مُحْرِمٌ فَمَاتَ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((وَلَا تُخَمِّرُوْا رَأْسَہُ، فَإِنَّہُ یُبْعَثُیَوْمَ الْقِیَامَۃِ مُلَبِّیًا۔)) (مسند احمد: ۱۸۵۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اس آدمی کا واقعہ بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں، جسے اس کی اونٹنی نے گرا دیا تھا اور وہ فوت ہو گیا تھا،کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے بارے میں فرمایا تھا: اس کا سر نہ ڈھانپنا، کیونکہ اس کو قیامت کے دن اس حال میں اٹھایا جائے گا کہ یہ تلبیہ کہہ رہا ہو گا۔

4270

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4270

Zaeef

۔ (۴۲۷۰) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: کَانَ الرُّکْبَانُ یَمُرُّوْنَ بِنَا وَنَحْنُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مُحْرِمَاتٌ، فَإِذَا حَاذَوْا بِنَا، أَسْدَلَتْ إِحْدَانَا جِلْبَابَہَا مِنْ رَأْسِہَا عَلٰی وَجْہِہَا، فَإِذَا جَازُوْنَا کَشَفْنَاہُ۔ (مسند احمد: ۲۴۵۲۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدہ عائشہ صدیقہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ احرام کی حالت میں تھیں، جب قافلے ہمارے پاس سے گزرتے تو ہم اپنی چادریں سروں سے چہروں کے اوپر کر لیتیں اور جب وہ گزر جاتے تو ہم چہرے سے چادریں ہٹا لیتیں۔

4271

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4271

Sahih

۔ (۴۲۷۱) عَنْ أَسْمَائَ بِنْتِ أَبِی بَکْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حُجَّاجًا حَتّٰی إِذَا کُنَّا بِالْعَرْجِ، نَزَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَجَلَسَتْ عَائِشَۃُ إِلٰی جَنْبِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَجَلَسْتُ إِلٰی جَنْبِ أَبِی وَکَانَتْ زِمَالَۃُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَزِمَالَۃُ أَبِی بَکْرٍ وَاحِدَۃً مَعَ غُلَامِ أَبِیْ بَکْرٍ، فَجَلَسَ أَبُوْ بَکْرٍ یَنْتَظِرُہُ أَنْ یَطْلُعَ عَلَیْہِ فَطَلَعَ وَلَیْسَ مَعَہُ بَعِیْرٌ، فَقَالَ: أَیْنَ بَعِیْرُکَ؟ قَالَ: قَدْ أَضْلَلْتُہُ الْبَارِحَۃَ ،فَقَالَ أَبُوْ بَکْرٍ: بَعِیْرٌ وَاحِدٌ تُضِلُّہُ؟ فَطَفِقَ یَضْرِبُہُ وَرَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَتَبَسَّمُ، وَیَقُوْلُ: ((اُنْظُرُوْا إِلٰی ھٰذَا الْمُحْرِمِ وَمَا یَصْنَعُ۔)) (مسند احمد: ۲۷۴۵۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدہ اسماء بنت ابی بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی معیت میں حج کے لئے روانہ ہوئے، جب ہم مقام عرج پر پہنچے تو سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ،رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پہلو میں بیٹھ گئیں اور میں اپنے والد کے پہلو میں بیٹھ گئی، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی سواری اور سامان وغیرہ سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے غلام کی تحویل میں تھے، سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیٹھے غلام کا انتظار کر رہے تھے، لیکن جب وہ آیا تو اس کے پاس اونٹ نہیں تھا، جب انھوں نے اس سے پوچھا کہ اونٹ کہاں ہے؟ اس نے کہا: وہ تو رات کو گم ہو گیا تھا، یہ سن کر سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو غصہ آ گیا اور کہنے لگے: ایک ہی اونٹ تھا، وہ بھی تم نے گم کر دیا،یہ کہہ کر اسے مارنے بھی لگ گئے،جبکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دیکھ کر مسکرا رہے تھے اور یہ فرما رہے تھے: دیکھویہ احرام کی حالت میں ہے اور کیا کر رہا ہے۔