Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 62 · Chapter 579

عذاب قبر کے ابواب

دورِ جاہلیت والے لوگوں کا قبر میں عذاب

4 hadiths in this chapter

3316

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3316

Sahih

۔ (۳۳۱۶) عَنْ أَمِّ مُبَشِّرٍ (امْرَأَۃِ زَیْدِ بْنِ حَارِثَۃَ) ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: دَخَلَ عَلَیَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَنَا فِی حَائِطٍ مِنْ حَوَائِطِ بَنِی النَّجَّارِ، فِیْہِ قُبُوْرٌ مِنْہُمْ، قَدْ مَاتُوا فِی الْجَاہِلِیَّۃِ، فَسَمِعَہُمْ وَہُمْ یُعَذَّبُوْنَ، فَخَرَجَ وَہُوَ یَقُوْلُ: ((اِسْتَعِیْذُوا بِاللّٰہِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ۔)) قَالَتْ: قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! وَإِنَّہُمْ لَیُعَذَّبُوْنَ فِی قُبُوْرِہِمْ؟ قَالَ: ((نَعَمْ عَذَابًا تَسْمَعُہُ الْبَہَائِمُ۔)) (مسند احمد: ۲۷۵۸۴)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدہ ام مبشر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میرے پاس تشریف لائے، جبکہ میں بنو نجار کے باغات میں سے ایک باغ میں تھی،اس باغ میں کچھ قبریں بھی تھیں، ان قبروں والے (قبل از اسلام یعنی) دورِ جاہلیت میں مرے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو عذاب دیئے جانے کی آوازیں سنیں، چنانچہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یہ فرماتے ہوئے نکل گئے: تم عذابِ قبر سے اللہ کی پناہ مانگا کرو۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا ان لوگوں کو قبروں میں عذاب ہورہا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی ہاں، ان کو ایسا عذاب دیا جاتا ہے کہ جو جانوروں کو سنائی دیتا ہے۔

3317

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3317

Sahih

۔ (۳۳۱۷) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: دَخَلَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَائِطًا مِنْ حِیْطَانِ الْمَدِیْنَۃِ لِبَنِی النَّجَّارِ، فَسَمِعَ صَوْتًا مِنْ قَبْرٍ، فَسَأَلَ عَنْہُ: ((مَتٰی دُفِنَ ہٰذَا؟)) فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! دُفِنَ ھٰذَا فِی الْجَاہِلِیَّۃِ، فَأَعْجَبَہُ ذَالِکَ وَقَالَ: ((لَوْ لَا أَنْ لَا تَدَافَنُوْا لَدَعَوْتُ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ أَنْ یُسْمِعَکُمْ عَذَابَ الْقَبْرِ۔)) (مسند احمد: ۱۲۰۳۰)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مدینہ منورہ میں بنو نجار کے ایک باغ میں تشریف لے گئے، وہاں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک قبر سے آواز سنی اور پوچھا کہ یہ آدمی کب دفن کیا گیا تھا؟ صحابہ نے بتایا:اے اللہ کے رسول! یہ آدمی قبل از اسلام دور جاہلیت میں دفن ہوا تھا، یہ سن کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو قدرے اطمینان ہوا اور فرمایا: اگر یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ تم مُردوں کو دفن کرنا چھوڑ دو گے تو میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا کہ وہ تمہیں عذاب قبر کی آواز سنا دے۔

3318

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3318

Sahih

۔ (۳۳۱۸)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: دَخَلَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خَرِبًا لِبَنِیْ النَّجَّارِ، وَکَانَ یَقْضِی فِیْہَا حَاجَۃً، فَخَرَجَ إِلَیْنَا مَذْعُوْرًا أَوْ فَزِعًا، وَقَالَ: ((لَوْلَا أَنْ لَا تَدَافَنُوْا لَسَأَلْتُ اللّٰہَ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی أَنْ یُسْمِعَکُمْ مِنْ عَذَابِ أَہْلِ الْقُبُوْرِ مَا أَسْمَعَنِی)) (مسند احمد: ۱۲۱۲۰)

اردو ترجمہ · Urdu

(دوسری سند) وہ کہتے ہیں: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بنو نجار کی ایک ویران سی جگہ میں داخل ہوئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وہاں قضائے حاجت کرتے تھے، ایک دن وہاں سے گھبرا کر نکلے اور فرمایا: اگر یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ تم مردوں کو دفن کرنا چھوڑ دو گے تو میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا کہ قبروں والوں کے عذاب کی جو آوازیں میں سنتا ہوں، وہ تمہیں بھی سنا دے۔

3319

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3319

Sahih

۔ (۳۳۱۹) عَنْ أَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ عَنْ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: کُنَّا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ فِیْ حَائِطٍ مِنْ حِیْطَانِ الْمَدِیْنَۃِ فِیْ أَقْبُرٍ وَہُوَ عَلٰی بَغْلَتِہٖ فَحَادَتْ بِہٖ، وَکَادَتْ أَنْ تُلْقِیَہٗ، فَقَالَ: ((مَنْ یَّعْرِفُ ہٰذِہِ الْأَقْبُرَ؟)) فَقَالَ رَجُلٌ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! قَوْمٌ ہَلَکُوْا فِیْ الْجَاہِلِیَّۃِ؟ فَقَالَ: ((لَوْلَا أَنْ لَّا تَدَافَنُوْا لَدَعَوْتُ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ یُّسْمِعَکُمْ عَذَابَ الْقَبْرِ۔)) ثُمَّ قَالَ لَنَا: ((تَعَوَّذُوْا بِاللّٰہِ مِنْ عَذَابِ جَہَنَّمَ۔)) قُلْنَا: نَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ عَذَابِ جَہَنَّمَ، ثُمَّ قَالَ: ((تَعَوَّذُوْا بِاللّٰہِ مِنْ فِتْنَۃِ الْمَسِیْحِ الدَّجَّالِ۔)) فَقُلْنَا: نَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ فِتْنَۃِ الْمَسِیْحِ الدَّجَّالِ، ثُمَّ قَالَ: ((تَعَوَّذُوْا بِاللّٰہِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ۔)) فَقُلْنَا: نَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، ثُمَّ قَالَ: ((تَعَوَّذُوْا بِاللّٰہِ مِنْ فِتْنَۃِ الْمَحْیَا وَالْمَمَاتِ۔)) فَقُلْنَا: نَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ فِتْنَۃِ الْمَحْیَا وَالْمَمَاتِ۔ (مسند احمد: ۲۱۹۹۷)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ سیّدنازید بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: ہم مدینہ کے ایک باغ میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تھے،وہاں کچھ قبریں بھی تھیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جس خچر پر سوار تھے، وہ اچانک بدکنے لگا اورقریب تھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو نیچے گرا دیتا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: ان قبروں والوں کو کون جانتا ہے؟ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ لوگ اسلام سے قبل دورِ جاہلیت میں مر گئے تھے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ تم مُردوں کو دفن کرنا چھوڑ دو گے تو میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا کہ وہ تمہیں عذابِ قبر کی آوازیں سنا دے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہم سے فرمایاـ: تم عذابِ جہنم سے اللہ کی پناہ طلب کرو۔ ہم نے کہا: ہم جہنم کے عذاب سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے ہیں۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم مسیح دجال کے فتنہ سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرو۔ ہم نے کہا: ہم مسیح دجال کے فتنہ سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے ہیں۔پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عذاب ِ قبر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرو۔ ہم نے کہا: ہم عذابِ قبر سے بھی اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے ہیں۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم زندگی اور موت کے فتنوں سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرو۔ ہم نے کہا: ہم زندگی اور موت کے فتنوں سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔