Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 62 · Chapter 578

عذاب قبر کے ابواب

قبر میں کفار اور یہود کو عذاب دیے جانے کا بیان

4 hadiths in this chapter

3312

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3312

Zaeef

۔ (۳۳۱۲) عَنْ أَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یُسَلَّطُ عَلَی الْکَافِرِ فِی قَبْرِہِ تِسْعَۃٌ وَتِسْعُوْنَ تِنِّیْنًا، تَلْدَغُۃُ حَتّٰی تَقُوْمَ السَّاعَۃُ، فَلَوْ أَنَّ تِنِّیْنًا مِنْہَا نَفَخَ فِی الأَرْضِ مَا أَنْبَتَتْ خَضْرَائَ۔)) (مسند احمد: ۱۱۳۵۴)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا ابوسعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قبر میں کافر پر ننانوے اژدھے مسلط کر دیئے جاتے ہیں، جو قیامت کے قائم ہونے تک اسے ڈستے رہتے ہیں، (وہ اس قدر زہریلے ہیں کہ) اگر ان میں سے ایک اژدھا زمین پر پھونک مار دے تووہ سبزہ نہ اگا سکے۔

3313

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3313

Zaeef

۔ (۳۳۱۳) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَال: ((یُرْسَلُ عَلَی الْکَافِرِ حَیَّتَانِ، وَاحِدَۃٌ مِنْ قِبَلِ رَأْسِہٖ وَأُخْرٰی مِنْ قِبَلِ رِجْلَیْہِ تَقْرُضَانِہِ قَرْضًا، کُلَّمَا فَرَغَتَا عَادَتَا إِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ۔)) (مسند احمد: ۲۵۷۰۴)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کافر پر دو سانپ چھوڑے جاتے ہیں، ایک سر کی طرف سے اور دوسرا پاؤں کی طرف سے، دونوں اسے بار بار کاٹتے رہتے ہیں، جب وہ ایک دفعہ فارغ ہو جاتے ہیں تو دوبارہ لوٹ آتے ہیں، قیامت کے دن تک ایسے ہوتا رہتا ہے۔

3314

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3314

Sahih

۔ (۳۳۱۴) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: بَیْنَمَا نَبِیُّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی نَخْلٍ لَنَا لِأَبِیْ طَلْحَۃَ یَتَبَرَّزُ لِحَاجَتِہِ قَالَ: وَبِلَالٌ یَمْشِیْ وَرَائَ ہُ یُکَرِّمُ نَبِیَّ اللّٰہُ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنْ یَمْشِیَ إِلٰی جَنْبِہِ، فَمَرَّ نَبِیُّ اللّٰہُ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِقَبْرٍ، فَقَاَم حَتّٰی تَمَّ إِلَیْہِ بِلَالٌ، فَقَالَ: وَیْحَکَ یَا بِلَالُ! ہَلْ تَسْمَعُ مَا أَسْمَعُ؟ فَقَالَ: مَا أَسْمَعُ شَیْئاً، قَالَ: ((صَاحِبُ الْقَبْرِ یُعَذَّبُ۔)) قَالَ: فَسُئِلَ عَنْہُ فَوُجِدَ یَہُوْدِیًّا۔ (مسند احمد: ۱۲۵۵۸)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: ایک دفعہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، سیّدناابو طلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے کھجوروں کے باغ میں قضائے حاجت کے لیے گئے، سیّدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اکرام میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پیچھے پیچھے چل رہے تھے، نہ کہ پہلو بہ پہلو، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک قبر کے پاس سے گزرے اور وہاں ٹھہر گئے، یہاں تک سیّدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے قریب آ گئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بلال! تم ہلاک ہو جاؤ، جو کچھ میں سن رہا ہوں، تم بھی سن رہے ہو؟ انھوں نے کہا: میں تو کچھ نہیں سن رہا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس قبر والے کو عذاب دیا جارہا ہے۔ پھر اس کے بارے میں جب پوچھا گیاتو وہ یہودی نکلا۔

3315

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3315

Sahih

۔ (۳۳۱۵) عَنْ أَبِی أَیُّوْبَ الْأَنْصَارِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ النَّبَیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خَرَجَ بَعْدَ مَا غَرَبَتِ الشَّمْسُ فَسَمِعَ صَوْتًا فَقَالَ: ((یَہُوْدُ تُعَذَّبُ فِی قُبُوْرِہَا۔)) (مسند احمد: ۲۳۹۳۶)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا ابو ایوب انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم غروبِ آفتاب کے بعد باہر تشریف لے گئے اور کوئی آواز سن کر فرمایا: یہودیوں کو قبروں میں عذاب دیا جا رہا ہے۔