Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 51 · Chapter 479

نماز جمعہ اور جمعہ کے دن کی فضیلت اور اس کے متعلقات کے ابواب

دو خطبوں، ان کی کیفیات اورآداب اور ان کے درمیان بیٹھنے کا بیان

18 hadiths in this chapter

2783

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2783

Sahih

۔ (۲۷۸۳) عَنْ أَبِی ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((کُلُّ خُطْبَۃِ لَیْسَ فِیْہَا شَہَادَۃٌ کَالْیَدِ الْجَذْمَائِ)) (مسند احمد: ۸۴۹۹)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہر وہ خطبہ، جس میں شہادت نہ ہو، کٹے ہوئے ہاتھ کی طرح ہے۔

2784

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2784

Sahih

۔ (۲۷۸۴(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلْخُطْبَۃُ الَّتِی لَیْسَ فِیْہَا شَہَادَۃٌ کَالْیَدِ الْجَذْمَائِ)) (مسند احمد: ۸۰۰۴)

اردو ترجمہ · Urdu

(دوسری سند) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس خطبہ میں شہادت نہ ہو، وہ کٹے ہوئے ہاتھ کی طرح ہے۔

2785

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2785

Sahih

۔ (۲۷۸۵) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: خَطَبَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَحَمِدَ اللّٰہِ وَأَثْنَی عَلَیْہِ بِمَا ھُوَ لَہُ أَھْلٌ، ثُمَّ قَالَ: ((أَمَّا بَعْدُ فَاِنَّ أَصْدَقَ الْحَدِیْثِ کِتَابُ اللّٰہِ، وَاِنَّ أَفْضَلَ الْھُدٰی ھُدٰی مُحَمَّدٍ ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) وَشَرَّ الْأُمُوْرِ مُحْدَثَاتُہَا وَکُلَّ بِدْعَۃٍ ضَلَالَۃٌ)) ثُمَّ یَرْفَعُ صَوْتَہُ وَتَحْمَرُّ وَجْنَتَاہُ وَیَشْتَدُّ غَضَبُہُ اِذَا ذَکَرَ السَّاعَۃَ کَأَنَّہُ مُنْذِرُ جَیْشٍ، قَالَ: ثُمَّ یَقُوْلُ: ((أَتَتْکُمُ السَّاعَۃُ، بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَۃُ ھٰکَذَا وَأَشَارَ بِاِصْبَعَیْہِ السَّبَّابَۃِ وَالْوُسْطٰی صَبَّحَتْکُمْ السَّاعَۃُ وَمَسَّتْکُمْ مَنْ تَرَکَ مَالًا فَلِأَھْلِہِ وَمَنْ تَرَکَ دَیْنًا أَوْ ضَیَاعًا فَاِلَیَّ وَعَلَیَّ۔)) وَالضَّیَاعُ یَعْنِی وَلدَہُ الْمَسَاکِیْنَ۔ (مسند احمد: ۱۴۳۸۶)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں خطبہ ارشادفرمایا، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اللہ کے لائق اس کی حمد و ثنا بیان کی، پھر فرمایا: بے شک سچی ترین بات اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے، سب سے زیادہ فضیلت والا طریقہ محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا طریقہ ہے، بدترین امور بدعات ہیں اور ہر بدعت گمراہی ہے۔ پھر جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قیامت کا ذکر کرتے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی آواز بلند ہوجاتی، رخسار سرخ ہو جاتے اور غصہ بڑھ جاتا اور یوں لگتا کہ کسی لشکر سے ڈرا رہے ہیں، پھر فرماتے :’’تمہارے پاس قیامت آ چکی ہے ، مجھے اور قیامت کو (ان دو انگلیوں کی طرح قریب قریب) بھیجا گیا ہے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شہادت والی اور درمیانی انگلیوں سے اشارہ کیا ۔’’قیامت تمہارے پاس صبح کو آ جائے گی اور شام کو آ جائے گی ، جو مال چھوڑ کر مر گیا وہ اس کے اہل (یعنی ورثاء) کو ملے گا اور جس نے قرض یا اولاد چھوڑی تو وہ میری طرف ہے اور مجھ پر ہے ۔‘‘ ’’ضَیَاع‘‘ سے مراد مسکین اولاد ہے ۔‘‘

2786

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2786

Sahih

۔ (۲۷۸۶) عَنْ عَدِیِّ بْنِ حَاتِمٍ الطَّائِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَجُلًا خَطَبَ عِنْدَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: مَنْ یُطِعِ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہُ فَقَدْ رَشَدَ وَمَنْ یَعْصِہِمَا فَقَدْ غَوٰی۔ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((بِئْسَ الْخَطِیْبُ أَنْتَ، قُلْ وَمَنْ یَعْصِ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہُ۔)) (مسند احمد: ۱۸۴۳۶)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا عدی بن حاتم طائی سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس خطاب کیا اور کہا: جس نے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کی، تحقیق وہ ہدایت پاگیا، اور جس نے ان دونوں کی نافرمانی کی، تحقیق وہ گمراہ ہوگیا۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے فرمایا: توبرا خطیب ہے، یہ کہہ اور جس نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی۔

2787

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2787

Sahih

۔ (۲۷۸۷) عَنْ أَبِی سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خَطَبَ قَائِمًا عَلٰی رِجْلَیْہِ ۔ (مسند احمد: ۱۱۲۸۳)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا ابوسعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی دونوں ٹانگوں پر کھڑے ہو کر خطبہ ارشاد فرمایا۔

2788

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2788

Sahih

۔ (۲۷۸۸) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ کَانَ یَخْطُبُ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ قَائِمًا ثُمَّ یَقْعُدُ ثُمَّ یَقُوْمُ فَیَخْطُبُ۔ (مسند احمد: ۲۳۲۲)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جمعہ کے روز کھڑے ہو کر خطبہ ارشاد فرماتے، پھر بیٹھ جاتے اور پھر کھڑے ہو کر (دوسرا) خطبہ دیتے۔

2789

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2789

Sahih

۔ (۲۷۸۹) عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَخْطُبُ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ مَرَّتَیْنِ بَیْنَہُمَا جَلْسَۃٌ۔ (مسند احمد: ۴۹۱۹)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جمعہ کے دن دو مرتبہ خطبہ ارشاد فرماتے اور ان کے درمیان ایک مرتبہ بیٹھتے تھے۔

2790

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2790

Sahih

۔ (۲۷۹۰)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَجْلِسُ بَیْنَ الْخُطْبَتَیْنِ۔ (مسند احمد: ۵۶۵۷)یَجْلِسُ (وَفِی رِوَایَۃٍ: ثُمَّ یَقْعُدُ قَعْدَۃً لَا یَتَکَلَّمُ) ثُمَّ یَقُوْمُ فَیَخْطُبُ قَائِمًا۔ قَالَ: فَقَالَ لِی جَابِرٌ: فَمَنْ نَبَّأَکَ أَنَّہُ کَانَ یَخْطُبُ قَاعِدًا فَقَدْ کَذَبَ، فَقَدْ وَاللّٰہِ صَلَّیْتُ مَعَہُ أَکْثَرَ مِنْ أَلْفَی صَلَاۃٍ۔ (مسند احمد: ۲۱۱۳۱)

اردو ترجمہ · Urdu

(دوسری سند)بے شک نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دو خطبوں کے درمیان بیٹھتے تھے۔

2791

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2791

Sahih

۔ (۲۷۹۱) عَنْ سِمَاکِ بْنِ حَرْبٍ قَالَ: نَبَّأَنِی جَابِرُ بْنُ سَمُرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّہُ رَاٰی رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خَطَبَ قَائِمًا عَلَی الْمِنْبَرِ ثُمَّ یَجْلِسُ (وَفِی رِوَایَۃٍ: ثُمَّ یَقْعُدُ قَعْدَۃً لَا یَتَکَلَّمُ) ثُمَّ یَقُوْمُ فَیَخْطُبُ قَائِمًا۔ قَالَ: فَقَالَ لِی جَابِرٌ: فَمَنْ نَبَّأَکَ أَنَّہُ کَانَ یَخْطُبُ قَاعِدًا فَقَدْ کَذَبَ، فَقَدْ وَاللّٰہِ صَلَّیْتُ مَعَہُ أَکْثَرَ مِنْ أَلْفَی صَلَاۃٍ۔ (مسند احمد: ۲۱۱۳۱)

اردو ترجمہ · Urdu

سماک بن حرب کہتے ہیں: سیّدنا جابر بن سمرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھے بتلایا کہ اس نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے منبر پر کھڑے ہو کر خطبہ دیا، پھر بیٹھ گئے اور اس بیٹھک میں کوئی کلام نہ کی، پھر کھڑے ہوئے (دوسرا) خطبہ دیا۔ پھر سیّدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھے کہا: جس نے تجھے یہ خبر دی کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بیٹھ کر خطبہ دیتے تھے، تو یقینا اس نے جھوٹ بولا ہے، اللہ کی قسم! میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ دو ہزار سے زیادہ نمازیں پڑھی ہیں۔

2792

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2792

Zaeef

۔ (۲۷۹۲)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ بِنَحْوِہِ وَفِیْہِ بَعْدَ قَوْلِہِ فَقَدْ کَذَبَ) قَالَ: وَلٰکِنَّہُ رُبَّمَا خَرَجَ وَرَأَی النَّاسَ فِی قِلَّۃٍ فَجَلَسَ ثُمَّ یَثُوبُونَ ثُمَّ یَقُوْمُ فَیَخْطُبُ قَائِمًا۔ (مسند احمد: ۲۱۱۱۲)

اردو ترجمہ · Urdu

(دوسری سند) اس میں اس نے یقینا جھوٹ بولا کے بعد یہ الفاظ ہیں: لیکن بسا اوقات ایسے ہوتا کہ آپ تشریف لاتے اور دیکھتے کہ لوگ کم ہیں، اس لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بیٹھ جاتے، حتی کہ لوگ مسجد میں آتے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کھڑے ہوتے اور کھڑے ہو کر خطبہ ارشاد فرماتے۔

2793

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2793

Sahih

۔ (۲۷۹۳) وَعَنْہُ أَیْضًا عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَۃَ قَالَ: مَا رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَطُّ یَخْطُبُ فِی الْجُمُعَۃِ اِلَّا قَائِمًا، فَمَنْ حَدَّثَکَ أَنَّہُ جَلَسَ فَکَذِّبْہُ فَاِنَّہُ لَمْ یَفْعَلْ، کَانَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَخْطُبُ ثُمَّ یَقْعُدُ ثُمَّ یَقُوْمُ فَیَخْطُبُ، کَانَ یَخْطُبُ خُطْبَتَیْنِ یَقْعُدُ بَیْنَہُمَا فِی الْجُمُعَۃِ۔ (مسند احمد: ۲۱۱۵۵)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا جابر بن سمرۃ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو کبھی نہیں دیکھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جمعہ کا خطبہ دیتے ہوں، مگر کھڑے ہو کر، اس لیے جو شخص تجھے یہ بیان کرے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بیٹھ کر خطبہ دیتے تھے تو تو اسے جھٹلا دے، کیونکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایسے نہیں کیا۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خطبہ دیتے، پھر بیٹھ جاتے، پھر کھڑے ہو کر خطبہ دیتے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جمعہ میں دو خطبے ارشاد فرماتے اور اِ ن دو کے درمیان بیٹھتے۔

2794

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2794

Sahih

۔ (۲۷۹۴) عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: صَلَّیْتُ مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَکَانَتْ صَلَاتُہُ قَصْدًا وَخُطْبَتُہُ قَصْدًا وَبِہٰذَا الْاِسْنَادِ قَالَ: کَانَتْ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خُطْبَتَانِ یَجْلِسُ بَیْنَہُمَا یَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَیُذَکِّرُ النَّاسَ۔ (مسند احمد: ۲۱۱۷۰)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا جابر بن سمرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ نماز پڑھی ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نماز بھی درمیانی ہوتی تھی اور خطبہ بھی درمیانہ ہوتا تھا۔ اسی سند کے ساتھ وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دو خطبے دیا کرتے تھے، ان کے درمیان بیٹھتے ، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان میں قرآن مجید کی تلاوت کرتے اور لوگوں کو وعظ و نصیحت کرتے تھے۔

2795

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2795

Sahih

۔ (۲۷۹۵) عَنْ وَاصِلِ بْنِ حَیَّانَ قَالَ: قَالَ أَبُو وَائِلٍ: خَطَبَنَا عَمَّارُ بْنُ یَاسِرٍ فَأَبْلَغَ وَأَوْجَزَ، فَلَمَّا نَزَلَ قُلْنَا: یَا أَبَا الْیَقْظَانِ! لَقَدْ أَبْلَغْتَ وَأَوْجَزْتَ فَلَوْ کُنْتَ تَنَفَّسْتَ؟ قَالَ: اِنِّی سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِنَّ طُولَ صَلَاۃِ الرَّجُلِ وَقِصَرَ خُطْبَتِہِ مَئِنَّۃٌ مِنْ فِقْہِہِ، فَأَطِیلُوا الصَّلَاۃَ وَاَقْصِرُوْا الْخُطْبَۃَ، فَاِنَّ مِنَ الْبَیَانِ لَسِحْرًا)) (مسند احمد: ۱۸۵۰۷)

اردو ترجمہ · Urdu

ابووائل کہتے ہیں: سیّدناعمار بن یاسر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ہمیں خطبہ دیا، وہ بہت بلیغ اور مختصر تھا، پس جب وہ منبر سے اتر ے تو ہم نے کہا: اے ابوالیقظان! یقینا آپ نے بہت بلیغ اور مختصر خطبہ دیا ہے، تھوڑا سا لمبا کردیتے، انہوں نے جواباً کہا: دراصل میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: بے شک آدمی کی نماز کا لمبا ہونا اور خطبہ کا چھوٹا ہونا اس کے سمجھدار ہونے کی علامت ہے۔ اس لیے تم لوگ نماز کو لمبا اور خطبہ کو مختصر کیا کرو، بے شک بعض بیان تو جادو ہوتے ہیں۔

2796

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2796

Zaeef

۔ (۲۷۹۶) عَنْ أَبِی رَاشِدٍ قَالَ: خَطَبَنَا عَمَّارُ بْنُ یَاسِرٍ فَتَجَوَّزَ فِی خُطْبَتِہِ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ قُرَیْشٍ لَقَدْ قُلْتَ قَوْلًا شِفَائً فَلَوْ أَنَّکَ أَطَلْتَ، فَقَالَ اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَھٰی أَنْ نُطِیْلَ الْخُطْبَۃَ ۔ (مسند احمد: ۱۹۰۹۵)

اردو ترجمہ · Urdu

ابوراشد کہتے ہیں: سیّدنا عمار بن یاسر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ہمیں مختصرسا خطبہ دیا۔ ایک قریشی آدمی نے ان کو کہا: آپ نے (دلوں کو متأثر کرنے والی) بہت اچھی باتیں کی ہیں، لیکن اگر اس خطاب کو کچھ لمبا کر دیتے (تو بہتر تھا)۔ انھوں نے کہا: بیشک رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خطبہ کو لمبا کرنے سے منع فرمایا ہے۔

2797

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2797

Sahih

۔ (۲۷۹۷) عَنِ الْحَکَمِ بْنِ حَزْنٍ الْکُلَفِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَدِمْتُ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سَابِعَ سَبْعَۃٍ أَوْ تَاسِعَ تِسْعَۃٍ، قَالَ: فَأَذِنَ لَنَا فَدَخَلْنَا فَقُلْنَا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَتَیْنَاکَ لِتَدْعُوَ لَنَا بِخَیْرٍ، قَالَ: فَدَعَا لَنَا بِخَیْرٍ وَأَمَرَ بِنَا فَأُنْزِلْنَا، وَأَمَرَ لَنَا بِشَیْئٍ مِنْ تَمْرٍ وَالشَّأْنُ اِذْ ذَاکَ دُوْنٌ، قَالَ: فَلَبِثْنَا عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَیَّامًا شَہِدْنَا فِیْہَا الْجُمُعَۃَ، فَقَامَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مُتَوَکِّئًا عَلٰی قَوْسٍ أَوْ قَالَ عَلٰی عَصًا، فَحَمِدَ اللّٰہَ وَأَثْنٰی عَلَیْہِ کَلِمَاتٍ خَفِیفَاتٍ طَیِّبَاتٍ مُبَارَکَاتٍ،ثُمَّ قَالَ: ((یَا أَیُّہَا النَّاسُ اِنَّکُمْ لَنْ تَفْعَلُوا وَلَنْ تُطِیْقُوا کُلَّ مَا أُمِرْتُمْ بِہِ وَلٰکِنْ سَدِّدُوا وَأَبْشِرُوا۔)) (مسند احمد: ۱۸۰۱۱)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا حکم بن حزن کلفی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، جن کو صحابیت کا شرف حاصل تھا، نے ہمیں بیان کرتے ہوئے کہا: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا، جبکہ میں (اپنے وفد کا) ساتواں یا نواں فرد تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں اجازت دی، پس ہم داخل ہوئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! ہم آپ کے پاس آئے ہیں تاکہ آپ ہمارے لیے خیر کی دعا کریں، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمارے لیے خیر کی دعا کی اور ہمارے بارے میں حکم دیا کہ ہمیں ایک مقام پر اتارا جائے اور کھجوروں کے ساتھ ہماری ضیافت کی جائے، جبکہ لوگوں کے حالات بھی تنگ تھے۔ پھر ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس کچھ دن کے لیے ٹھہرے رہے، اس دورانیے میں ہم نے جمعہ بھی ادا کیا،(ہم نے دیکھا کہ) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کما ن یا لاٹھی پر ٹیک لگا کر کھڑے ہوئے، اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی، بس یہ چند بابرکت اور پاکیزہ کلمات تھے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لوگو! تم (تمام احکام پر) ہر گز عمل نہیں کر سکو گے، اس لیے راہِ مستقیم پر چلتے رہو اور (لوگوں کو) خوشخبریاں سناتے رہو۔

2798

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2798

Sahih

۔ (۲۷۹۸) عَنْ یَزِیْدَ بْنِ الْبَرَائِ (بْنِ عَازِبٍ) عَنْ أَبِیْہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خَطَبَ عَلٰی قَوْسٍ أَوْ عَصًا۔ (مسند احمد: ۱۸۹۱۹)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا براء بن عازب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کمان یالاٹھی پر ٹیک لگا کر خطبہ دیا۔

2799

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2799

Sahih

۔ (۲۷۹۹) عَنْ حُصَیْنِ بْنِ عَبْدِالرَّحْمٰنِ السُّلَمِیِّ قَالَ: کُنْتُ اِلٰی جَنْبِ عُمَارَۃَ بْنِ رُؤَیْبَۃَ السُّلَمِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ وَبِشْرٌ یَخْطُبُنَا فَلَمَّا دَعَا رَفَعَ یَدَیْہِ فَقَالَ عُمَارَۃُ: یَعْنِی قَبَّحَ اللّٰہُ ھَاتَیْنِ الْیَدَیْنِ أَوِ الْیُدَیَّتَیْنِ رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ یَخْطُبُ اِذَا دَعَا یَقُوْلُ ھٰکَذَا، وَرَفَعَ السَّبَّابَۃَ وَحْدَھَا۔ (مسند احمد: ۱۷۳۵۶)

اردو ترجمہ · Urdu

حصین بن عبد الرحمن سلمی کہتے ہیں: میں سیّدنا عمارہ بن رؤیبہ سلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پہلو میں بیٹھا تھا، جبکہ بشر خطبۂ جمعہ دے رہا تھا، جب وہ دعا کرتا تو دونوں ہاتھ اٹھاتا تھا، یہ دیکھ کر سیّدنا عمارہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اللہ ان حقیر سے ہاتھوں کو برباد کرے، میں نے خود رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو خطبہ ارشاد فرماتے ہوئے دیکھا، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دعا کرتے تو اس طرح کرتے تھے، پھر انھوں نے انگشت ِ شہادت بلند کر کے وضاحت کی۔

2800

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2800

Sahih

۔ (۲۸۰۰) عَنْ أُمِّ ھِشَامٍ بِنْتِ حَارِثَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: لَقَدْ کَانَ تُنُّوْرُنَا وَتُنُّوْرُ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَاحِدًا سَنَتَیْنِ أَوْ سَنَۃً وَ بَعْضَ سَنَۃٍ وَمَا أَخَذْتُ {قٓ وَالْقُرْآنِ الْمَجِیْدِ} اِلَّا عَلٰی لِسَانِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، کَانَ یَقْرَأُ بِہَا کُلَّ یَوْمِ جُمُعَۃٍ عَلَی الْمِنْبَرِ اِذَا خَطَبَ النَّاسَ۔ (مسند احمد: ۲۸۰۰۳)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدہ ام ہشام بنت حارثہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: دو سال یا اس سے کچھ کم مدت تک کے لیے ہمارا اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا تنور ایک رہا، میں نے سورۂ ق حاصل نہیں کی، مگر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی زبان ِ مبارک سے، کیونکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہر جمعہ کو جب لوگوں کو خطبہ ارشاد فرماتے تو اس کی تلاوت کرتے تھے۔