Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 51 · Chapter 480

نماز جمعہ اور جمعہ کے دن کی فضیلت اور اس کے متعلقات کے ابواب

دوران خطبہ باتیں کرنے سے رکے رہنے، لیکن کسی مصلحت کے لیے امام سے بات کرنے یا امام کا بات کرنے کی رخصت اور کسی معاملے کے واقع ہو جانے کی وجہ سے خطبہ منقطع کر دینے کا بیان

10 hadiths in this chapter

2801

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2801

Zaeef

۔ (۲۸۰۱) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ تَکَلَّمَ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ وَھُوَ یَخْطُبُ فَہُوَ کَمَثَلِ الْحِمَارِ یَحْمِلُ اَسْفَارًا وَالَّذِی یَقُوْلُ لَہُ أَنْصِتْ لَیْسَ لَہُ جُمُعَۃٌ۔)) (مسند احمد: ۲۰۳۳)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو شخص جمعہ کے دن کلام کرے، جبکہ امام خطبہ دے رہا ہو تو وہ اس گدھے کی طرح ہے جس نے بہت ساری کتابیں اٹھا رکھی ہوں اور جو شخص اس کو کہے کہ خاموش ہوجاؤ، اس کا بھی کوئی جمعہ نہیں ہو گا۔

2802

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2802

Sahih

۔ (۲۸۰۲) عَنْ أَبِی ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِذَا قُلْتَ لِصَاحِبِکَ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ وَالْاِمَامُ یَخْطُبُ أَنْصِتْ فَقَدْ لَغَیْتَ۔)) قَالَ سُفْیَانُ قَالَ أَبُو الزِّنَادِ ھِیَ لُغَۃُ أَبِی ھُرَیْرَۃَ۔ (مسند احمد: ۷۳۲۸)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تو جمعہ کے دن اپنے ساتھی کو کہے، جبکہ امام خطبہ دے رہا ہو، کہ تو خاموش ہوجا تو تحقیق تو لغو کام کرے گا۔ ابوزناد نے کہا: لَغَوْتَ کو لَغَیْتَ پڑھنا سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی لغت ہے۔

2803

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2803

Sahih

۔ (۲۸۰۳)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِذَا قُلْتَ لِصَاحِبِکَ أَنْصِتْ وَالْاِمَامُ یَخْطُبُ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ فَقَدْ لَغَوْتَ۔ (مسند احمد: ۹۱۳۶)

اردو ترجمہ · Urdu

(دوسری سند)رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تو اپنے ساتھی کو جمعہ کے دن یہ کہے، جبکہ امام خطبہ دے رہا ہو، کہ تو خاموش ہوجا اور امام خطبہ دے رہا ہو، پس تحقیق تو نے لغو کام کیا۔

2804

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2804

Sahih

۔ (۲۸۰۴)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَالِثٍ) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِذَا قُلْتَ لِلنَّاسِ أَنْصِتُوا فَقَدْ أَلْغَیْتَ عَلٰی نَفْسِکَ)) (مسند احمد: ۸۲۱۸)

اردو ترجمہ · Urdu

(تیسری سند)رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تو لوگوں سے کہے کہ خاموش ہوجاؤ، تو تحقیق تو نے اپنی جان پر لغو کام کیا۔

2805

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2805

Sahih

۔ (۲۸۰۵) عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ عَنْ أُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَرَأ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ بَرَائَۃً وَھُوَ قَائِمٌ یُذَکِّرُ بِأَیَّامِ اللّٰہِ وَأُبَیُّ بْنُ کَعْبٍ وِجَاہَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَبُو الدَّرْدَائِ وَأَبُو ذَرٍّ، فَغَمَزَ أُبَیَّ بْنَ کَعْبٍ أَحَدُھُمَا فَقَالَ مَتٰی أُنْزِلَتْ ھٰذِہِ السُّوْرَۃُ یَا أُبَیُّ! فَاِنِّی لَمْ أَسْمَعْہَا اِلَّا الْآنَ؟ فَأَشَارَ اِلَیْہِ أَنِ اسْکُتْ فَلَمَّا انْصَرَفُوا، قَالَ: سَأَلْتُکَ مَتٰی أُنْزِلَتْ ھٰذِہِ السُّوْرَۃُ فَلَمْ تُخْبِرْ، قَالَ أُبِیٌّ: لَیْسَ لَکَ مِنْ صَلَاتِکَ الْیَوْمَ اِلَّا مَا لَغَوْتَ، فَذَھَبْتُ اِلَی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَذَکَرْتُ ذٰلِکَ لَہُ وَأَخْبَرْتُہُ بِالَّذِی قَالَ أُبَیٌّ فَقَالَ: ((صَدَقَ أُبَیٌّ۔)) (مسند احمد: ۲۱۶۱۱)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جمعہ والے دن سورۂ توبہ کی تلاوت کی، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کھڑے تھے اور اللہ تعالیٰ کے انعامات کے ساتھ وعظ ونصیحت کر رہے تھے۔ سیّدنا ابی بن کعب، سیّدنا ابو الدرداء اور سیّدنا ابوذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے بیٹھے ہوئے تھے، (مؤخر الذکر دو صحابہ میں سے) ایک نے سیّدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو دبایا اور پوچھا: ابی! یہ سورت کب نازل ہوئی، میں نے تو آج ہی سنی ہے؟ انھوں نے جواباً خاموش رہنے کا اشارہ کیا، جب وہ (جمعہ سے) فارغ ہو گئے تو اس صحابی نے کہا: میں نے تم سے سوال کیا تھا کہ یہ سورۃ کب نازل ہوئی ، لیکن تم نے مجھے کوئی بات نہ بتلائی۔ اب کی بار سیّدنا ابی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: آج تجھے اپنی اس نماز میں سے کچھ نہیں ملا، مگر وہی کچھ جو تو نے لغو بات کی ہے۔ یہ سن کر میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس چلا گیا اور ابی کے قول سمیت ساری بات ذکر کر دی، آگے سے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ابی نے سچ کہا۔

2806

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2806

Sahih

۔ (۲۸۰۶) عَنْ أَبِی الدَّرْدَائِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: جَلَسَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمًا عَلَی الْمِنْبَرِ فَخَطَبَ النَّاسَ وَتَلَا آیَۃً وَاِلٰی جَنْبِی أُبَیُّ بْنُ کَعْبٍ فَقُلْتُ لَہُ: یَا أُبَیُّ! مَتٰی أُنْزِلَتْ ھٰذِہِ الْآیَۃُ؟ قَالَ: فَأَبٰی أَنْ یُکَلِّمَنِی، ثُمَّ سَأَلْتُہُ فَأَبٰی أَنْ یُکَلِّمَنِی، حَتّٰی نَزَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ لِی أُبِیٌّ: مَالَکَ مِنْ جُمُعَتِکَ اِلَّا مَا لَغَیْتَ، فَلَمَّا انْصَرَفَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جِئْتُہُ فَأَخْبَرْتُہُ فَقُلْتُ: أَیْ رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنَّکَ تَلَوْتَ آیَۃً وَاِلٰی جَنْبِی أُبَیُّ بْنُ کَعْبٍ فَسَأَلْتُہُ مَتٰی أُنْزِلَتْ ھٰذِہِ الْآیَۃُ؟ فَأَبٰی أَنْ یُکَلِّمَنِیْ حَتّٰی اِذَا نَزَلْتَ زَعَمَ أُبَیٌّ أَنَّہُ مَا لَیْسَ لِی مِنْ جُمُعَتِی اِلَّا مَا لَغَیْتُ، فَقَالَ: ((صَدَقَ أُبِیٌّ، فَاِذَا سَمِعْتَ اِمَامَکَ یَتَکَلَّمُ فَأَنْصِتْ حَتّٰی یَفْرُغَ۔)) (مسند احمد: ۲۲۰۷۳)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا ابو درداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں:ایک دن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم منبر پر بیٹھے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے لوگوں کو خطبہ دیا اور بیچ میں ایک آیت بھی تلاوت کی، میرے پہلومیں سیّدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیٹھے ہوئے تھے۔ میں نے ان سے کہا: اے ابی! یہ آیت کب نازل ہوئی ہے؟لیکن انہوں نے مجھ سے کلام کرنے سے انکار کردیا، میں نے پھر سوال دوہرایا، لیکن انہوں نے مجھ سے بات کرنے سے انکار ہی کیا، جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم منبر سے اتر آئے تو سیّدنا ابی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھ سے کہا: تجھے اس جمعہ (کے ثواب) میں سے کچھ نہیں ملے گا، مگر وہی کچھ جو تو نے لغو کام کیا۔ جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بتلایا کہ اے اللہ کے رسول آپ نے (دوران خطبہ) ایک آیت تلاوت کی تھی، جبکہ میرے پہلو میں سیّدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیٹھے ہوئے تھے، اس لیے میں نے ان سے یہ پوچھا کہ یہ آیت کب نازل ہوئی تھی؟ لیکن انھوں نے مجھ سے کلام کرنے سے انکار کردیا، جب آپ اتر آئے، تو ابی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھ سے یہ کہہ دیا کہ میرے لیے جمعہ کا کوئی ثواب نہیں ہے مگر وہی کچھ جو میں نے لغو کام کیا ہے، یہ سن کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ابی نے سچ کہا ہے، جب تو اپنے امام کو سنے کہ وہ کلام کررہا ہے تو اس کے فارغ ہونے تک خاموش ہوجا۔

2807

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2807

Sahih

۔ (۲۸۰۷) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَنْزِلُ مِنَ الْمِنْبَرِ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ فَیُکَلِّمُہُ الرَّجُلُ فِی الْحَاجَۃِ فَیُکَلِّمُہُ ثُمَّ یَتَقَدَّمُ اِلٰی مُصَلَّاہُ فَیُصَلِّی۔ (مسند احمد: ۱۲۲۲۵)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب جمعہ کے دن منبر سے اترتے، تو ایک آدمی کسی حاجت کے بارے میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے گفتگو کرتا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جائے نماز کی طرف آگے بڑھتے اور نماز پڑھاتے۔

2808

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2808

Sahih

۔ (۲۸۰۸) عَنْ مُوْسَی بْنِ طَلْحَۃَ قَالَ: سَمِعْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ وَھُوَ عَلَی الْمِنْبَرِ، وَالْمُؤَذِّنُ یُقِیْمُ الصَّلَاۃَ وَھُوَ یَسْتَخْبِرُ النَّاسَ یَسْأَلُھُمْ عَنْ أَخْبَارِھِمْ وَأَسْعَارِھِمْ۔ (مسند احمد: ۵۴۰)

اردو ترجمہ · Urdu

موسیٰ بن طلحہ کہتے ہیں: میں نے سیّدنا عثمان بن عفان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو سنا، جبکہ وہ منبر پر تھے اور لوگوں سے ان کی خبروں اور نرخوں کے بارے میں معلومات لے رہے تھے اور مؤذن اقامت کہہ رہا تھا۔

2809

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2809

Sahih

۔ (۲۸۰۹) عَنْ أَبِی رِفَاعَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: اِنْتَہَیْتُ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ یَخْطُبُ فَقُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! رَجُلٌ غَرِیْبٌ جَائَ یَسْأَلُ عَنْ دِیْنِہِ لَا یَدْرِی مَا دِیْنُہُ، قَالَ فَأَقْبَلَ اِلیَّ فَأُتِیَ بِکُرْسِیٍّ فَقَعَدَ عَلَیْہِ فَجَعَلَ یُعَلِّمُنِی مِمَّا عَلَّمُہُ اللّٰہُ تَعَالیٰ، قَالَ ثُمَّ أَتٰی خُطْبَتَہُ فَأَتَمَّ آخِرَھَا ۔ (مسند احمد: ۲۱۰۳۳)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا ابورفاعہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: جب میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تک پہنچا، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خطبہ ارشاد فرما رہے تھے، تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کہا: اے اللہ کے رسول! میں ایک اجنبی آدمی ہوں، دین کے بارے میں سوال کرنے آیا ہوں، کیونکہ میں نہیں جانتا کہ میرا دین کیا ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میری طرف متوجہ ہوئے، پھر کرسی لائی گئی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس پر بیٹھ گئے اور اللہ تعالیٰ نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو جو علم دیا، اس میں سے مجھے تعلیم دینے لگے، پھر خطبہ کے لیے تشریف لے گئے اور اس کا آخری حصہ مکمل کیا۔

2810

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2810

Sahih

۔ (۲۸۱۰) عَنْ بُرَیْدَۃَ الْأَسْلَمِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَخْطُبُنَا، فَجَائَ الْحَسَنُ وَالْحُسَیْنُ عَلَیْہِمَا قَمِیْصَانٍ أَحْمَرَانِ یَمْشِیَانِ وَیَعْثُرَانِ فَنَزَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنَ الْمِنْبَرِ فَحَمَلَہُمَا فَوَضَعَھُمَا بَیْنَ یَدَیْہِ ثُمَّ قَالَ صَدَقَ اللّٰہُ وَرَسُوْلُہُ، {اِنَّمَا أَمْوَالُکُمْ وَأَوْدُلَاکُمْ فِتْنَۃٌ} نَظَرْتُ اِلَی ھٰذَیْنِ الصَّبِیَّیْنِ یَمْشِیَانِ وَیَعْثُرَانِ فَلَمْ أَصْبِرْ حَتّٰی قَطَعْتُ حَدِیْثِی وَرَفَعْتُہُمَا۔ (مسند احمد: ۲۳۳۸۳)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا بریدہ اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں:رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمیں خطبہ دے رہے تھے، اتنے میں سیّدنا حسن اور سیّدنا حسین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما آ گئے، ان پر سرخ رنگ کی دو قمیصیں تھیں، وہ چل رہے تھے اور گر رہے تھے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم منبر سے اتر پڑے، ان کو اٹھایا اور اپنے سامنے بٹھا دیا، پھرفرمایا: اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا کہ تمہارے مال اور اولاد فتنہ ہیں، میں نے ان دو بچوں کو دیکھا، یہ چلتے ہوئے گر رہے تھے، مجھ سے صبر نہ ہو سکا، اس لیے میں نے اپنی گفتگو بند کر دی اور ان کو اٹھا لیا۔۔