Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 51 · Chapter 478

نماز جمعہ اور جمعہ کے دن کی فضیلت اور اس کے متعلقات کے ابواب

جمعہ کی اذان کا بیان جب خطیب منبر پر بیٹھ جائے، نیز اس چیز کا بیان کہ عہد نبوی میں منبر کیسا تھا

4 hadiths in this chapter

2779

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2779

Sahih

۔ (۲۷۷۹) عَنِ السَّائِبِ بْنِ یَزِیْدَ بْنِ أُخْتِ نَمِرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: لَمْ یَکُنْ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِلَّا مُؤَذِّنٌ وَاحِدٌ فِی الصَّلَوَاتِ کُلِّھَا فِی الْجُمُعَۃِ وَغَیْرِھَا یُؤَذِّنُ وَیُقِیْمُ، قَالَ: کَانَ بِلَالٌ یُؤَذِّنُ وَرَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلَی الْمِنْبَرِ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ وَیُقِیْمُ اِذَا نَزَلَ وَلِاَبِیْ بَکْرٍ وَعُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ حَتّٰی کَانَ عُثْمَانُ۔ (مسند احمد: ۱۵۸۰۷)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا سائب بن یزید سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جمعہ سمیت تمام نمازوں کے لیے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ایک مؤذن تھا، وہی اذان دیتا اور اقامت کہتا تھا، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جمعہ والے دن منبر پر تشریف فرما ہوتے تو تب سیّدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اذان دیتے اور جب اترتے تو تب وہ اقامت کہتے، سیّدنا ابو بکر اور سیّدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بھی (ایک ہی مؤذن ہوتا تھا) حتیٰ کہ سیّدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا دور آگیا۔

2780

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2780

Sahih

۔ (۲۷۸۰) وَعَنْہُ أَیْضًا قَالَ: کَانَ اَلْأَذَانُ عَلٰی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَبِی بَکْرٍ وَعُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَذَا نَیْنِ حَتّٰی کَانَ زَمَنُ عُثْمَانَ فَکَثُرَ النَّاسُ فَأَمَرَ بِالْأَذَانِ الْأَوَّلِ بِالزَّوْرَائِ۔ (مسند احمد: ۱۵۸۱۹)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا سائب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، سیّدنا ابوبکر اور سیّدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کے زمانے میں دو اذانیں ہوتی تھیں، یہاں تک کہ سیّدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا دور آ گیا اور لوگ زیادہ ہو گئے، اس لیے انھوں نے زوراء پر پہلی اذان کا حکم دے دیا۔

2781

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2781

Sahih

۔ (۲۷۸۱) عَنِ الْحَسَنِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِذَا خَطَبَ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ یُسْنِدُ ظَھْرَہُ اِلَی خَشَبَۃٍ فَلَمَّا کَثُرَ النَّاسُ قَالَ ابْنُولِیْ مِنْبَرًا أَرَادَ أَنْ یُسْمِعَہُمْ فَبَنَوْا لَہُ عَتَبَتَیْنِ فَتَحَوَّلَ مِنَ الْخَشَبَۃٍ اِلَی الْمِنْبَرِ، قَالَ: فَأَخْبَرَنِی أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ أَنَّہُ سَمِعَ الْخَشَبَۃَ تَحِنُّ حَنِیْنَ الْوَالِہِ قَالَ فَمَا زَالَتْ تَحِنُّ حَتّٰی نَزَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنِ الْمِنْبَرِ فَمَشٰی اِلَیْہَا فَاحْتَضَنَہَا فَسَکَنَتْ ۔ (مسند احمد: ۱۳۳۹۶)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب جمعہ کے دن خطبہ ارشاد فرماتے تو ایک لکڑی کے ساتھ اپنی پیٹھ کی ٹیک لگا لیتے، لیکن جب لوگ زیادہ ہوگئے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میرے لیے ایک منبر تیار کرو۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ارادہ یہ تھا کہ ان کو اپنی بات سنا سکیں، پس صحابہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے دو سیڑھیوں والا منبر تیار کیا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس لکڑی والے منبر پر منتقل ہو گئے۔ سیّدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بتلایا کہ انہوں نے (اس پہلے والی) لکڑی کے لیے انتہائی غمگین کی رونے کی سی آواز سنی، وہ لگاتار روتی رہی، یہاں تک کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم منبر سے اترے، اس کی طرف گئے اور اس کو اپنے ساتھ لگایا، سو وہ خاموش ہو گئی۔

2782

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2782

Sahih

۔ (۲۷۸۲) عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ النَّبِیّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عِنْدَ ھٰذِہِ السَّارِیَۃِ وَھِیَ یَوْمَئِذٍ جِذْعُ نَخْلَۃٍ یَعْنِی یَخْطُبُ۔ (مسند احمد: ۴۷۵۵)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس ستون کے پاس خطبہ دیتے تھے، جبکہ یہ کھجور کا تنا ہی تھی۔